986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 04)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

” زین اور حمزہ کہاں ہیں کلاس میں تو ساتھ تھے” فضا نے یہاں وہاں ڈھونڈتے ہوئے کہا
“میم سنجیدہ نے بلایا تھا” پری نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا
” کیوں؟” فضا چونکی
” پتا نہیں پھر کوئی الٹی سیدھی حرکت کردی ہوگی”
پری نے مسکرارتے ہوئے کہا
” یہ لوگ نہیں سدھریں گے”
فضا نے ہنستے ہوئے کہا
“چلو لائبریری سے بک لینی ہے مجھے”
پری نے کہا اور لائبریری طرف چل دی دونوں
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” مگر میم میں نے تو کچھ نہیں…..” حمزہ نے کہا
” اور آپ زین آپ کو بھی ذرا مینرز نہیں ہیں “
زین بوکھلایا
” مگر میم آپ ہماری بات ….. ” زین نے کچھ کہنا چاہا
” یہ فائل اٹھاؤ یہ کل تک کمپلیٹ کر کے لے آنا”
وہ کہتی ہوئی چیئر پر بیٹھ گئی
وہ دونوں ایک دوسرے کو تک رہے تھے
” Zain can you hear me?”
وہ جھنجھلائی
” Yes میم”
زین بوکھلایا اور ٹیبل سے فائل اٹھائی
اور وہ دونوں آفس سے باہر آگئے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” پتا ہے فضا ہم لوگوں میں جو مر جاتا ہے نا اسے جلا دیا جاتا ہے”
پری نے فضا کو دیکھتے ہوئے بتایا
فضا خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی
” مجھے آگ سے بہت ڈر لگتا ہے فضا میں نہیں چاہتی کہ مجھے جلایا جائے “
پری نے سنجیدگی سے کہا
” تمہیں کبھی جلایا نہیں جائے گا پری اگر تم ایک کام کرو تو….”
فضا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
” کیا؟” پری نے حیرانی سے پوچھا
پھر فضا نے کچھ ایسا کہ دیا تھا کہ پری برداشت نہیں کر پائی
یا شاید وہ کرنا نہیں چاہتی تھی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” پاپا مسجد کیا ہوتی ہے؟”
ایک سات سالا بچی نے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“وہ مسلمانوں کی عبادت کی جگہ ہے بیٹا”
اس آدمی نے پیار سے کہا
“عبادت کیا ہوتی ہے؟”
بچی نے پھر سوال کیا
” جیسے ہم پوجا کرتے ہیں مسلمان عبادت کرتے ہیں”
اس نے سمجھایا
” پاپا مجھے بھی مسجد دیکھنی ہے”
بچی نے ضد کی
” نہیں بیٹا ہم وہاں نہیں جاتے ہم مندر جاتے ہیں میں کل تمہیں مندر لے جاؤں گا ٹھیک ہے میرا بیٹا”
اس نے پیار سے کہا
“پاپا ہم مسلمان کیوں نہیں ہیں؟”
بچی نے پھر سوال کیا
اس بار اس شخص کے چہرے پر ناگواری گزری
” بس زیادہ سوال نہیں کرتے جاؤ اپنے کمرے میں”
بچی منہ بنا کر کمرے کی طرف بھاگ گئی
سامنے مسجد پر نظر پڑتے ہی اسے بچپن کے وہ سوال یاد آئے جو اس نے اپنے باپ سے کیے تھے
فجر کی آذان ہونے ہی والی تھی
وہ اٹھی اور مسجد کی طرف چل دی
مسجد کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اس کے پاؤں میں ٹھنڈک محسوس ہوئی
ماربل کی صاف شفاف سیڑھیاں جو سردی کے باعث ٹھنڈی ہوچکی تھی
اس نے مسجد میں قدم رکھا
(پاپا مسجد کیا ہوتی ہے؟)
اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی
اس نے ایک پل کے لیے آنکھیں بند کی
آنسوں کے چھوٹے چھوٹے قطرے آنکھوں سے گرنے لگے
وہ مسجد میں قدم رکھ چکی تھی
ہر طرف خاموشی تھی
ایک بزرگ بیٹھا تھا زمین پر شاید
آذان کے ٹائم کا انتظار کر رہا تھا
ایک کم عمر لڑکا تھا جو تھوڑی دور زمین پر دری بچھا رہا تھا
اس کی نظر سامنے نل پر پڑی جہاں وضو کرنے کی جگہ تھی
وہ وہاں بیٹھ کر وضو کرنے لگی
جب اس کی نظر بازو پر پڑی تو اسے شدت سے رونا آیا
مگر کب تک روتی اس نے فوراً آسمان کی طرف دیکھا
جہاں اندھیرا تھا
آنسوؤں نے چہرہ بھگو دیا
(مجھے آگ سے بہت ڈر لگتا ہے فضا میں نہیں چاہتی مجھے جلایا جائے)
اسے اپنا جملہ یاد آیا
اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا وہ لفظ جو اس کی کلائی پر لکھا گیا تھا
اس نے نل کے نیچے ہاتھ رکھ دیا
ایک درد ناک جلن کا احساس ہوا
مگر اس سے کہیں زیادہ تکلیف اس کی روح کو ہوئی تھی
اس سے کہیں زیادہ گہرے زخم اس کے دل پر لگے تھے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” اتنی Insult میری کبھی نہیں ہوئی جتنی آج ہوئی ہے”
زین نے غصہ سے کہا
” مگر یار ہم دونوں نے مل کر اسے کمپلیٹ کیا تھا پھر میم نے کیوں کہا کہ یہ کمپلیٹ نہیں”
حمزہ نے تجسس سے کہا
اسے فوراً خیال ایا
اس نے فائل کھولی
اور اسے سب سمجھ آگیا تھا