Mera Ishq Novel By Irsa Rao NovelR50461 Mera Ishq (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 16)
Mera Ishq Novel By Irsa Rao
(ماضی)
وہ کمرے میں سو رہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا آہٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی سامنے راہول کھڑا تھا
” تم اس وقت؟” پری اٹھ بیٹھی
” تو کیا سوچا تم نے؟” وہ چل کر اس کے قریب آیا
“کس بارے میں؟” پری حیران ہوئی
” مجھ سے شادی کے بارے میں”
” کیا بکواس ہے یہ جاؤ یہاں سے”
” جانے کے لیے نہیں آیا میں یہاں”راہول نے اس کے گال کو چھوتے ہوئے کہا
” کیا بدتمیزی ہے یہ پیچھے ہٹو” پری نے اس کے گال پر تپھڑ جھڑ دیا
اس کا خون خول اٹھا
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی” اس نے پری کے بال پکڑتے ہوئے کہا
” چھوڑو راہول مجھے” پری چیخی
“عزت سے شادی کے لیے منا رہا ہوں تو تمہیں سمجھ نہیں آرہا مجھے دوسرا راستہ بھی آتا ہے” اس نے غصہ سے کہا اور پری کو بیڈ پر گرا کر اس پر جھکا
” پیچھے ہٹو راہول میں پاپا کو بتاؤں گی تمہارا پاپا” وہ چیخ رہی تھی
” پاپا کو تو تب بتاؤ گی جب وہ ہوں گے گھر” راہول نے مسکراتے ہوئے کہا
پری کی آنکھ سے آنسوں گرنے لگے اس نے آنکھیں بند کرلیں
” یا اللہ میری مدد کر ” اس کے دل نے بے ساختہ کہا
تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور پیچھے ہٹ گیا
وہ اٹھ کر دروازے کی طرف گیا
پری یک دم اٹھ کر پیچھے ہوئی
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے مدھو پھوپھو تھی
وہ اسے ہاتھ سے کھینچتی باہر لے گئی اور دروازہ بند کردیا
” تمہارا دماغ خراب ہے راہول کیا کر رہے تھے تم؟” انھوں نے باہر آتے ہی غصہ سے کہا
پری بھاگتی ہوئی دروازے پر گئی اور اندر سے لوک کیا
اور وہیں زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
” یا اللہ اور کتنی آزمائشیں؟ مجھے یہاں سے آزاد کردے اللہ”
وہ روتی روتی دعا کرنے لگی
❤️❤️❤️❤️
(حال)
اس کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو کمرے میں پایا
اس نے یہاں وہاں دیکھا پھر فضا کے خیال آیا وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا وال کلاک کو دیکھا جو رات کے11بجا رہی تھی
” فضا؟ میں میں سو کیسے گیا مجھے سونا نہیں تھا مجھے فضا کے پاس جانا تھا”
وہ اٹھا اور کمرے سے باہر بھاگا
وہ دروازے کی طرف بڑھا کہ حمزہ کی آواز پر رک گیا
” کہاں جا رہا ہے؟” حمزہ نے کہا
” وہ فضا حمزہ میں یہاں کیسے مجھے فضا کے پاس جانا ہے” زین نے کہا
“کوئی فائدہ نہیں اس کی تدفین ہو چکی ” حمزہ نے بتایا
” کیا؟ تو نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟” وہ غصہ سے کہنے لگا
” کیونکہ میں نے ہی تجھے سلایا تھا”
” کیا؟ “
” ہاں تو بہت ڈسٹرب تھا میں نے نیند کی دوا….” حمزہ بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کا گریبان پکڑ لیا
” کیوں کیا تو نے ایسا ایک آخری ملاقات بھی تو نے……”
یہ کہتے ہی اس کی آواز بھر آئی اس کے الفاظ ہلق میں ہی رہ گئے
” تو کیا کرتا جانے دیتا تجھے وہاں تاکہ تو تماشہ کرسکے”
حمزہ نے اپنا کالر چھڑواتے ہوئے کہا
” اور لوگ تجھے تو ترس کھانے والی نگاہ سے دیکھتے ساتھ میں اس دنیا سے جانے والی اس باکردار لڑکی فضا کے نام پر بھی انگلی اٹھاتے یہی چاہتا ہے تو؟” حمزہ نے غصہ سے کہا
زین دم بخود اسے دیکھ رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
(حال)
وہ پورے راستے خاموش رہی شہروز نے بہت بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ خاموش رہی
وہ اداس تھی دکھی تھی
” آپ کچھ بول کیوں نہیں رہی اچھا کچھ کھائیں گی آپ”
شہروز نے کہا
اس نے نفی میں سر ہلایا
” آپ نےصبح سے کچھ بھی نہیں کھایا پلیز کچھ کھا لیں میں سامنے اس بیکری سے کچھ خرید کر لاتا ہوں” شہروز نے گاڑی روکتے ہوئے کہا
” نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا” پری نے کہا
شہروز نے لمحہ بھر اسے دیکھا پھر گاڑی سےاترگیا
وہ ویسے ہی خاموشی سے بیٹھی رہی
تھوڑی دیر بعد وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گیا اس کے ہاتھ میں شاپر تھا
پری اسی طرح بیٹھی رہی شہروز نے ایک نظر اسے گور سے دیکھا سرخ نم سوجی آنکھیں گھنی ہنوز پلکیں صاف رنگت
مگر اترا ہوا چہرہ وہ چاہ کر بھی مسکرا نہیں سکتی تھی
فضا اس کی پوری دنیا تھی جس نے اس کا ہر وقت ہرحال میں ساتھ دیا ہر رشتے سے بڑھ کر تھی
” یہ میں آپ کے لیے لایا ہوں کھالیں” اس نے شاپر اس کی طرف بڑھایا
اس نے ایک نظر شہروز کو دیکھا
” مجھے بھوک نہیں” کہ کر باہر دیکھنے لگی
” تھوڑا سا پلیز” شہروز نے پھر کہا
” آپ کو سمجھ نہیں آرہی مجھے بھوک نہیں ہے مجھے نہیں کھانا کچھ بھی” اس نے تلخ لہجے میں کہا اور آنسوں پھر سے اس کی آنکھوں سے گرنے لگے اس نے منہ موڑ لیا
اورپھر سے سسکیاں لے کر رونے لگی
شہروز نے بنا کوئی جواب دیے گاڑی اسٹارٹ کرلی
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
وہ کمرے میں لیٹا تھا تھا نیند اوجھل تھی آنسوں آنکھوں سے گر رہے تھے
“میں بہت برا ہوں….. بہت برا…… خود غرضی کے اس مقام پر پہنچ گیا تھا میں جہاں میں نے کسی کا خیال نہیں کیا سب کو دکھ پہنچایا فضا کو پری کو…..”
وہ کہتے کہتے رکا
” پری” اس کے دماغ میں خیال آیا
“ہاں میں پری سے معافی مانگوں گا تبھی مجھے سکون ملے گا مگر وہ…..وہ مجھے معاف نہیں کرے گی”
زین نے خود کلامی کی
جانے کتنی ہی دیر وہ خود سے باتیں کرتا رہا۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
(ماضی)
کتنے ہی دن وہ اس قید میں رہی اسےبھوکا رکھاجاتا پیاسا رکھا جاتا مارا جاتا الغرض کہ ہر ممکن کوشش کرتے اسے اسلام سے پھیرانے کی مگر وہ مضبوط بنی رہی
کبھی کبھی بہت روتی ہارجاتی مگر ہمت نہیں ہاری
وہاں فضا بھی بہت پریشان تھی کہ پری یونیورسٹی نہیں آرہی مگر انتظار کے سوا کیا کر سکتی تھی
راہول نے راکیش کے سامنے پری کے لیے پسندیدگی ظاہر کی
تو انہیں ہاں ہی کرنی پڑی
جلد از جلد ان کی شادی کردینا چاہتے تھے وہ
پری کو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا
وہ راہول سے شادی نہیں کر سکتی تھی
دو دن بعد اس کی اور راہول کی شادی تھی
وہ کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی جب دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا
اس نے جب سلام پھر کے جب اس طرف نظر کی تو مدھو پھوپھو کھڑی تھی
” تجھے کہا تھا نا کہ یہ نماز وغیرہ پڑھنا چھوڑ دے تو ایک ہندو لڑکی ہے”
” میں مسلمان ہوں اور مرتے دم تک رہوں گی” اس نے غصہ سے کہا
” اچھا راہول سے ایک بار شادی ہوجائے تیری دیکھتی ہوں تو یہ زبان کیسے چلاتی ہے”
” میں راہول سے شادی کبھی نہیں کرونگی”
” میں بھی دیکھوں گی کیسے نہیں کرو گی تمہیں مسلمان سے واپس ہندو نہیں بنایا تو کہنا” انھوں نے غصہ سے کہا اور باہر نکل گئی
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
گھر پہنچ کر بھی اس نے کچھ نہیں کھایا اور سیدھا کمرے میں چلی گئی
وہ بیڈ پر بیٹھی پھر سے رونے لگی
” مجھے تیری ضرورت ہے فضا پلیز واپس آجا”
اس نے بےبسی سے کہا
” تو جانتی تھی میرا تیرے سوا کوئی نہیں”
اس نے چہرہ ہاتھو میں چھپا لیا
(میں ہوں نا تیرے ساتھ ہر موڑ پر کبھی تجھے اکیلہ نہیں چھوڑوں گی)
اس کے کانوں سے فضا کا جملہ ٹکرایا
“فضا تو نے تو کہا تھا ہر موڑ پر ساتھ ہوگی پھر کیوں نچلی گئی یار میں اکیلی ہوگئی آج میں اکیلی ہوگئی”
وہ مسلسل روتی چلی گئی…..
