986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 03)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

” نن….نہیں پھوپھو نہیں پلیز……” وہ منت کر رہی تھی مگر وہ اس کے قریب تر آتی جا رہی تھی
اس کے ہاتھ میں سلاخ نما روڈ تھی جو دہکتے ہوئی آگ سے نکالی گئی تھی جس پر “عوم” لکھا تھا جس کا مطلب وہ شاید اچھے سے جانتی تھی
وہ پیچھے کھسکتی جا رہی تھی مگر وہ عورت اس کے قریب آتی جا رہی
مزید پیچھے وہ کھسک نہیں سکی شاید پیچھے دیوار تھی
اس عورت نے اس کا بازو پکڑ لیا
وہ چھڑوانے نا کام کوشش کرنے لگی
مگر وہ عورت تب تک اس کے بازو پر وہ دہکتا ہوا روڈ رکھ چکی تھی
اس کے منہ سے چیخ نکلی
وہ دہکتی ہوئی روڈ اس کے گوشت کو جلا رہی تھی
اسے اپنے ہاتھ پر جلن محسوس ہورہی تھی
جلنے کا درد کیسا ہوتا یہ وہ آج سمجھ چکی تھی
آنسؤں سے اس کا چہرہ تر تھا
اس نے پاس پڑا ایک گلدان اٹھایا اور پوری قوت سے
اس عورت کے سر پر دے مارا
اس عورت نے یک دم اس کا ہاتھ چھوڑا
سر سے خون نکل رہا تھا
اور وہ وہیں فرش پر گر گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ کلاس سے باہر آئی تو حمزہ نے کہا
“چلو کینٹین چلتے ہیں”
” کیوں آج تم کوئی ٹریٹ دے رہے ہو کیا؟” پری نے کہا
” اتنی اچھی شکل ہے تم لوگوں کی؟” اس نے سوال داغاجس پر زین کا قہقہہ گونجا
فضا اور پری ایک دوسرے کو دیکھنے لگی
اور دونوں کے چہرے پر غصہ کے اثرات نمودار ہوئے
“Come on am just kidding”
حمزہ نے ہنسی روکتے ہوئے کہا
“Be careful for the next time”
فضا نے انگلی اٹھا کر کہا
جسے وہ مکمل طور پر نظر انداز کرتے
یہاں وہاں دیکھنے لگا
جس سے انہیں اور تپ چڑھی
” اوہ ہیلو تجھے بول رہی تھی فضا” زین نے یاد دلایا
“Oh really! “
اس نے حیرانی سے کہا
اس بار پھر زین اپنی روک نہیں سکا
اور اس بار چاروں کے ہی قہقہے گونجے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ فوراً وہاں سے اٹھ کر بھاگی اس نے دوبارہ
فرش پر گری اس عورت کو دیکھنا تک گوارا نہیں کیا اور تیزی سے کمرے سے نکلی
وہ بھاگتی ہوئی باہر آئی وہاں کوئی نہیں تھا
وہ گیٹ تک گئی جہاں گیٹ لوکڈ تھا اگر وہ کھولنے کی
کوشش کرتی تو پکڑی جاتی
وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی
پھر لان کی طرف رکھی
کرسی پر اس کی نظر پڑی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” تم سب اپنا اپنا aim بتاؤ” پری نے شرارت سے کہا
“تمہارا کیا ہے؟”فضا نے پوچھا
” ہممم….میرا….. ڈاکٹر بننا” اس نے کچھ دیر سوچ کر کہا
” وہ تو تم بن ہی رہی ہو کچھ نیا بتاؤ” حمزہ نے کہا
” میں بہت ساراپیسہ کمانا چاہتی ہوں میں چاہتی ہوں ساری دنیا میرے آگے جھک جائے اور میں سب پر حکومت کروں”
پری نے خوش ہوتے ہوئے کہا
اس کی بات پر سب کھلکھلا کر ہنس دیے
” تمہاری لائف کا مقصد کیا ہے؟” پری نےحمزہ سے پوچھا
“میں بیرون ملک میڈیکل یونیورسٹی کا visit کرنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں میں وہاں professor بن جاؤں”
حمزہ نے یک دم کہا
اور پھر سب خاموشی سے اسے دیکھنے لگے
پھر یک دم ہی سب ہنسنے لگے
“اچھا تم بتاؤ فضا”
پری ہنسی کو روکتے ہوئے فضا کو کہا
” میں ایسے کئی چیزوں اور رشتوں سے چھٹکارا چاہتی ہوں
جنہوں نے ہمیشہ مجھے تکلیف دی ہے بس میں چاہتی ہوں کہ میں قید سے رہا ہوجاؤں…..ہممم freedom”
اس نے ہوا میں بازوں پھیلائے اور آنکھیں بند کرلی
زین یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظر اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھی
جیسے وہ اپنی بانہیں پھیلائے ہوا میں سانس لے رہی تھی
زین اس میں کھو سا گیا تھا
اسے حوش تب آیا
جب حمزہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی
” اوہ مسٹر آپ سے پوچھ رہے ہیں بتانا پسند کریں گے؟” حمزہ نے کہا
” کیا؟” زین نے حیرانی سے کہا
“لو بھئی ساری مووی ختم ہوگئی اورجناب پوچھ رہے ہیں ہیرو کب آئے گا”
حمزہ نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا
” بھئی اپنا Aim بتاؤ اور کیا”
پری نے اکتا کر کہا
” میرا…..؟” زین سوچنے لگا
” نہیں میرا” حمزہ نے چڑاتے ہوئے کہا
” اس کو کوئی چپ کرواؤ یہ مار کھا لے گا مجھ سے”
زین نے گھورتے ہوئے کہا
” اچھا چھوڑو نا تم بتاؤ” پری نے کہا
” میرا….. میں Love marraige کروں” اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا
بدلے میں سب کے قہقہے گونجے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ کودنے میں کامیاب ہوگئی تھی مگر کودنے کی وجہ سے
پاؤں میں جھٹکا لگا اور وہ کراہ اٹھی
پھر آہستہ آہستہ اٹھنے کی کوشش کی
رات کے اس پہر وہاں کوئی نہیں تھا
وہ تیز تیز قدم بڑھاتی رہی
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جا رہی ہے؟
کیوں جا رہی ہے؟
جانتی تھی تو بس اتنا کہ وہ صراطِ مستقیم پر چل رہی ہے
جو راستہ سیدھا اسے جنت تک لے جائے گا
وہ بھاگتے بھاگتے تھک چکی تھی
وہ پاس پڑے ایک پتھر پر بیٹھ گئی
اور اپنی زندگی پر نظر ثانی کرنے لگی
” (میں چاہتی ہوں ساری دنیا میرے آگے جھک جائے اور میں سب پر حکومت کروں)
اسے یک دم اپنا جملہ یاد آیا
پھر اس نے اپنے بازو کو دیکھا جس پر ” عوم” لکھا گیا تھا
بازو پر کافی سوجن تھی
اس ہاتھ سے لفظ کو چھوا تو ایک درد کی لہر جسم میں سرائیت کر گئی
آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے
وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی روتی رہی
مگر وہاں اسے چپ کروانے والا کوئی بھی نہیں تھا