986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 11)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

(ماضی)
رات میں جب وہ اپنے کمرے میں تو کتاب کا خیال آیا
اس نے وہ کتاب اٹھائی اور اسے کھولا
“This is the book about which there is no doubt
A guidance for those conscious of Allah”
(Surah Al Baqra…..)
اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
اس نے برابر صفحہ پر نظر ڈالی
” You alone we worship, you alone we ask for help”
اس نے وہ کتاب بند کردی
اس کے ہاتھ کانپنے لگے
” تو فضا نے مجھے…..” اس نے خود کلامی کی
(اس میں تمہاری ہر پریشانی کا حل ہے)
فضا کا جملہ اسے یاد آیا
اس نے کانپتے ہاتھوں سے ایک بار پھر کتاب کھولی
” And your Lord say, cal upon me i will respond to you”
اس نے پھر آخر کھولا کتاب کا
“And we removed from you your burden”
اس نے پھر ورق پلٹے
” So be patient, verily the promise of Allah is true”
اس نے کتاب بند کردی
اس کی سانسیں تیز رفتار میں بھاگ رہی تھی
ایسی حالت پہلے کبھی نہ ہوئی تھی
اس کے پسینے چھوٹنے لگے اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں
اور وہ آیات اس کے کانوں سے بار بار ٹکرانے لگیں
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
ہر طرف خاموشی چھائی تھی
رات کے اندھیرے میں چاند کی روشنی جگمگا رہی تھی
ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
اور اتنی ٹھند میں بھی وہ باہر لان میں وہ کرسی پر بیٹھی چاند کو تک رہی تھی
وہ اپنی زندگی پر نظر ثانی کرنے لگی
(تم ایک ہندو ہو اور ایک ہندو لڑکی سے تو میں شادی نہیں کر سکتا نا)
آنسوں اس کی آنکھ سے گرے
اس نے آنکھیں بند کرلیں
( میں تم سے محبت نہیں کرتا)
زین کے جملے اسے یاد آرہے تھے
تبھی اسے اپنے کاندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا
اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی اور پلٹ کر دیکھا
وہ اس کے بلکل قریب کھڑا تھا
” What the hell”
اس نے فوراً کھڑے ہوتے ہی کہا
وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا
” کیا بدتمیزی تھی یہ آپ نے مجھے ہاتھ کیسے لگایا؟”
وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی
” دیکھو میں نے آواز دی تھی مگر آپ نے جواب نہیں دیا تھا
مجھے لگا آپ رو رہی ہیں تو….”
وہ کہتے کہتے رکا
” تو کیا؟”
وہ غصہ میں تھی
“آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں ” وہ صفائی دینا چاہتا تھا
مگر اس کا غصہ دیکھ اسے بھی غصہ آرہا تھا
وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا
پری اسے دور جاتا دیکھ رہی تھی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ وائیوا دے کر آئی تھی وہ سیڑھی اتر رہی تھی کہ اسے سر ٹیس اٹھتی محسوس ہوئی اس نے ایک دم دیوار کا سہارا لیا
تبھی زین کی نظر اس پر پڑی وہ اس کے قریب آیا
” کیا ہوا فضا؟” زین نے پریشانی سے پوچھا
فضا نے سر ہوتی آنکھوں سے اسے گھورا
” تم نے پری کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا زین”
فضا نے غصہ سے کہا
” دیکھو فضا یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے اگر تم میری insult نا کرتی تو میں پری کو نشانہ نہیں بناتا”
” کتنے گھٹیا انسان ہو تم کسی معصوم کے دل سے کھیل رہے ہو ارے تم تو نفرت کے بھی قابل نہیں اور پری تم پر….”
وہ کہتے کہتے رکی
” دیکھو فضا میں اس سے معافی مانگ لوں گا میں جانتا ہوں میری غلطی ہے مگر میں نے صرف تمہیں پانے کے لیے کیا صحیح غلط جو بھی کیا”
“میں تمہیں کبھی نہیں مل سکتی اور اگر مجھ سے اتنی ہی محبت تھی تو ڈائیوورس کیوں دی مجھے؟”
فضا نے چیخ کر کہا
” ڈائیوورس؟” زین الجھا
” ہاں میں ہی فضا احمد ہوں جسے تم نے دوسال پہلے طلاق دے دی اور اب چاہ کر بھی مجھ سے تمہاری شادی دوبارہ نہیں ہو سکتی”
” نہیں ایسا نہیں ہو سکتا” زیں کا چہرہ سرخ پڑنے لگا
” مجھے تو ویسے بھی تم میں کوئی انٹریسٹ نہیں تھا مگر پری اسے کیوں دکھ پہنچایا تم نے؟”
فضا نے اس کا گریبان پکڑا
” زین اپنے حواس میں نہیں تھا
وہ کیا جلد بازی میں غلطی کر بیٹھا اسے آج احساس ہوا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
” پری پری” زین اس کے پاس بھاگتا ہوا آیا
“ہاں” پری نے مسکرا کر کہا
کل تم نے کوئی جواب نہیں دیا؟”
” کیسا جواب؟”
” کل فون پر”
” کیا؟”
” اچھا چھوڑو آؤ نا میرے پاس بیٹھو یہاں”
زین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
تبھی فضا وہاں آگئی
” زین میرا ہاتھ چھوڑو”
پری نے کہا
” ہاتھ چھوڑو اس کا”
فضا نے گھورتے ہوئے کہا
” کیوں؟ تمہیں کیا پروبلم ہے؟”
زین نے کہا
” تم…..” فضا کچھ کہتی اس سے پہلے ہی حمزہ وہاں آگیا
“زین چل یار دیر ہو رہی ہے” حمزہ نے کہا
زین نے پری کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ایک گھوری کے ساتھ وہاں سے چلا گیا
فضا نے پری کو خفگی سے دیکھا
اور بنا کچھ کہے پلٹ گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” یہ کیا ہورہا تھا؟”
حمزہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پوچھا
” کیا؟”
” تو پری کے ساتھ…. کیا چل کیا رہا ہے؟”
” کچھ نہیں”
” تو تو فضا کوپسند کرتا تھا پھر پری؟”
” فضا نے مجھے insultکیا ہے بار بار اب اسے میں وہی تکلیف دونگا جو اس نے مجھے دی”
” کیا مطلب؟”
” پری کے ساتھ مجھے دیکھ کر اسے تکلیف تو ہوگی”
” لیکن یار پری کے ساتھ تو ٹھیک نہیں کر رہا ہ تیرا اور فضا کامعاملہ ہے پریکے دل سے مت کھیل”
” میں اسے بتا دونگا وقت آنے پر”
” مگر….”
“چھوڑ تو بتا۔۔۔۔”
زین نے بات کو بدلتے ہوئے کہا
اور حمزہ خاموش ہوگیا
وہ سمجھ گیا تھا کہ زین ٹھیک نہیں کر رہا
اور ہوا بھی ایسا ہی پری زین کے جال میں پھنستی چلی گئی فضا کے لاکھ منا کرنے پر بھی وہ زین سے دور نہیں ہوئی اور محبت کے اس اسٹیج پر پہنچ گئی جہاں سے مڑنا مشکل تھا