Mera Ishq Novel By Irsa Rao NovelR50461 Mera Ishq (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 13)
Mera Ishq Novel By Irsa Rao
(ماضی)
وہ کینٹین میں اکیلی بیٹھی تھی آج فضا نہیں آئی تھی
وہ اداس تھی زین کی باتوں سے اسے دکھ پہنچا تھا
ایک آنسوں اس کی آنکھ سے گرا
تبھی زین کی آواز آئی اس نےجلدی سے آنسوں صاف کیے
“Hey pari what’s going on?”
اس نےچہک کر کہا
اور پاس آکر بیٹھ گیا
تبھی زین کی نظر اس کی سرخ آنکھوں پر پڑی
” پری تم روئی ہو؟”
زین نے پوچھا
” نہیں ” پری نےمختصر جواب دیا
اسے کل کاواقعہ یاد آیا
” کیا یہ میری وجہ سے اوہ گوڈ یہ کچھ زیادہ ہی سیریس ہوگئی ہے زین تجھے یہڈرامہ ختم کرنا ہوگا”
اس نے دلمیں سوچا
” پری کل کے لیے سوری یار” زین نے شرمندگی سے کہا
“تم سوری کیوں بول رہے ہو؟”
” کل میں تھوڑاڈسٹرب تھا تو… Am sorry”
زین نے پھر کہا
“Its ok”
پری نے کہا
“اب مسکراؤ” زین نے کہا اور وہ مسکرا دی
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
وہ جب نیچے آئی تو ملازمہ اس سے ٹکرائی
” کیا ہوا اتنی جلدی میں کیوں ہو؟”
پری نے پوچھا
” وہ یہ چھوٹے صاحب کو ٹیوب دینی تھی”
ملازمہ نے کہا
تبھی ندا بیگم نے ملازمہ کو پکارا
” یہ آپ چھوٹے صاحب کو دے آئیں میں آتی ہوں “
ملازمہ نے اس کے ہاتھ میں ٹیوب پکڑائی
” نہیں میں نہیں دے کر آسکتی…سنو”
پری نے کہا مگر اس سے پہلے ہی وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی
وہ ٹیوب کو ہاتھ میں لیے دیکھ رہی تھی
پھر شہروز کے کمرے کی طرف رخ کیا
دل میں بہت سی دعائیں مانگتی وہ کمرے کے دروازے پر پہنچی
مرے ہاتھوں سے دروازہ نوک کیا
“کم ان” اندر سے بھاری آواز ابھری
ڈرتے ڈرتے اس نے دروازہ کھولا
وہ سامنے ہی شیشے کے آگے کھڑا تھا
جینس پر بنیان پہنے وہ شیشے میں دیکھ رہا تھا پری کا عکس شیشے میں دکھ رہا تھا
وہ فیروزی کلر کی فراک پر دوپٹے کا حجاب بنائے
تھوڑا سادروازہ کھولے کھڑی تھی
اس کے چہرے پر غصہ کی لہر دوڑی
اس نے پلٹ کر دیکھا
“یہ میں…. وہ….ٹیوب دینے آئی تھی”
پری نے جلدی سے آگے بڑھ کر ٹیوب بیڈ پر پھینکی
اور جانے لگی کہ اس کو اپنے ہاتھ پر گرفت محسوس ہوئی
اس نے پلٹ کر دیکھا اس کا ہاتھ شہروز کے ہاتھ میں تھا
یک دم اس کی آنکھوں میں خوف طاری ہوا
” کہاں جا رہی ہو؟ یہ جو ہاتھ جلایا ہے تم نے میرا اس کی سزا کون بھگتے گا؟”
شہروز نے سنجیدگی سے کہا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
پری کی نظر اس کے بازو پر پڑی جو واقع جل گیا تھا
لال نشان واضع ہو رہے تھے
” Am sorry”
پری نے بازو دیکھتے ہوئے کہا
” سوری سے کیا ہوگا؟ٹیوب لگاؤ یہاں بیٹھ کر”
شہروز نے ہنسی کو دباتے ہوئے کہا
“مجھے جانے دیں” پری نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگی
” ایسے تو نہیں جانے دونگا تمہیں” اس نے دروازے کے سامنے آتے ہوئے کہا
” دیکھیں مجھے جانے دیں”
پری نے گھبرا کر کہا
پری کی آنکھوں میں نمی تیر آئی
شہروز نے اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تو اسے اپنی غلطی کااحساس ہوا
” میں صرف مزاق کر رہا تھا تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو”
اس نے آگے بڑھتے ہوئے کہا
پری کی آنکھوں آنسؤں کے ساتھ خوف تھا
“مجھے جانے دیں پلیز”
پری منت کرنے کرنے لگی
” تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو میری ایک بار بات سنو”
شہروز نے کہا
مگر وہ اسے دھکادے کر دروازے کی طرف بھاگی
اس نےجلدی سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
وہ کوریڈور میں چکر لگا رہا تھا
کہ ڈاکٹر کے بلانے پر وہ ان کے پاس گیا
“آپ ان کے ساتھ ہیں”
ڈاکٹر نے پوچھا
“جی”
زین نے کہا
” دیکھیے ہمیں ارجنٹلی آپریشن کرنا ہوگا پیشنٹ کو برین ہیمبریج ہے “
ڈاکٹرنے کہا
زین نے بے یقینی سے ڈاکٹر کو دیکھا
“دیکھیے آپ لوگوں کو پہلے ہی انہیں یہاں لے آنا چاہیے تھا “
ڈاکٹر نے اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے کہا
“But she was perfectly alright”
زین نے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے کہا
“اس بیماری میں پہلے سر درد کے سمپٹمس ہوتے ہیں اگنور کرنے وجہ سے ان کے دماغ کی نس پھٹ گئی ہے ہمیں فوراً اپریشن کرنا ہوگا”
زین کو ایک دم یاد آیا کئی بار وہ سر کو اچانک پکڑتی
مگر وہ اگنور کر دیتی
” آپ باہر ساری فورمیلٹیز پوری کریں ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے”
ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہوئے کہا
زین مرے قدموں سے باہر آیا اور کال کر کے حمزہ کو بتایا کہ فضا کے گھر بھی انفارم کرے…
❤️❤️❤️❤️❤️
(ماضی)
“زین ہم ڈاکٹر بنتے ہی پہلے شادی کریں گے اور….”
پری کہ رہی تھی کہ زین نے بات کاٹی
” شادی؟……میں تم سے شادی نہیں کر رہا”
زین نے ایک دم کہا
” زین”
پری حیرانی سے اسے دیکھنے لگی
“تم ایک ہندو لڑکی ہو…. میں ایک ہندو لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا”
زین نے جان چھڑانی چاہی
” مگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو نا”
پری نے کہا
“لیکن شادی کیسے کر سکتا ہوں خود سوچو میں مسلم ہوں”
زین نے سمجھایا
پری یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی
” Please try to understand”
زین نے پھر کہا
اور کھڑا ہوگیا اور وہاں سے چلا گیا
پری حیرانی سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی
❤️❤️❤️❤️
(ماضی)
وہ فضا کے گھر جب آئی تو کسی عورت کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
اس نے دروازہ کھولا عورتوں کا کافی رش تھا
سامنے کمرے سے وہ آواز آرہی تھی
وہ حیران تھی
وہ چلتی ہوئی اندر گئی زمین پر کافی عورتیں بیٹھی تھیں
اسے فضا کہیں نظر نہیں آرہی تھی
کہ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
جس نے اس کے پاؤں وہیں جما دیے
ترجمہ
“اللہ جس کو چاہتا ہے چن کر اپنی طرف کھینچ لیتا ہے”
(القرآن)
“یعنی وہ لوگ جو ایمان لائیں اللہ پر اور ان کے نبی پر وہ خوش نصیب ہیں کیوں کہ انہیں اللہ نے اپنی طرف بلا لیا ہے اسلام زبردستی کا مذہب نہیں تم خود آؤ گے اس کی طرف اللہ کی طرف”
وہ وہیں بیٹھی سن رہی تھی
وہ عورت بیان کر رہی تھی
“اگر تمہیں زرا سا بھی اندازہ ہوجائے کہ اللہ تمہارے معاملات کس طرح سیدھے کرتا ہے تو مانو تمہارا دل اللہ کی محبت سے پھٹ جائے”
وہ بیان سنتی چلی گئی اس کو وہ سب باتیں سمجھنے میں وقت نہیں لگا اس کا دل اسلام کی طرف کھچتا چلا گیا
میلاد ختم ہوئی تو وہ سب عورتیں سلام کرنے لگی
وہ آہستہ قدموں سےسامنے بیٹھی عورت کے پاس جا رہی تھی
(اللہ جس کو چاہتا ہے چن کر اپنی طرف کھینچ لیتا ہے)
اس کے دل نے بے ساختہ کہا
“اگر کوئی چیز ہمیں بہت عزیز ہو تو کیا وہ ہمیں مل جائے گی اگر ہم اللہ سے مانگیں تو؟”
اس نے اس عورت کو مخاطب کر کے کہا
وہ عورت مسکرا دی
“ہو سکتا ہے ایک چیز تمہیں ناگوار گزرے اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ایک چیز تمہیں بہت پسند ہو وہ تمہارے لیے بہتر نا ہو بےشک اللہ سب جانتا ہے تم کچھ بھی نہیں جانتے”
پری اس کی بات سن کر حیران رہ گئی
“یہ میں نہیں کہ رہی قرآن کہ رہا ہے
سورت البقرہ کا ترجمہ ہے روز قرآن پڑھو ہر مسلہ کا حل مل جائے گا”
اس عورت نے کہا
اتنے میں فضا وہاں آگئی
“تم کب آئی پری؟” فضا نے کہا
“میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں فضا”
پری نے اسے کہا
اور فضا اس کی بات پر حیران رہ گئی
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
آپریشن کتنی ہی دیر سے چل رہا تھا سب باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے
اسماء ،احمد حمزہ سب پریشان تھے
اسماء کا رو رو کر حال برا تھا
“پھوپھو کچھ کھا لیں آپ نے کب سے کچھ نہیں کھایا”
زین نے اسماء کے پاس بیٹھ کر کہا
اسماء نے اسے حیرانی سے دیکھا
” میں شاہ زین”
“شاہ زین تم یہاں؟”
” پھوپھو مجھ سے غلطی ہوگئ مجھے معاف کردیں”
زین کی آنکھوں میں آنسوں تھے
” تم…..”وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی ڈاکٹر باہر آیا سب اس کی طرف بھاگے
” کیا ہوا ڈاکٹر صاحب میری بیٹی…..”
احمد صاحب نے کہا
“Am sorry”
ڈاکٹر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا
زین کو اپنے پاؤں تلے زہین نکلتی محسوس ہوئی
جاری ہے
