Mera Ishq Novel By Irsa Rao NovelR50461 Mera Ishq (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 17)
Mera Ishq Novel By Irsa Rao
(ماضی)
” یا اللہ مجھے یہاں سے آزاد کروا دے میں راہول سے شادی نہیں کرسکتی
یااللہ میں ہمت دے میں تھک گئی ہوں مجھ سے اور برداشت نہیں ہوتا مجھے یہاں سے آزاد کروادے اللہ”
وہ رو رو کر دعا کر رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی
“کرلے دعائیں جتنی کرنا چاہتی ہے مگر تجھے میں ہندو بنا کر ہی رہوں گی” وہ قریب آکر کہنے لگی
پری کھڑی ہوگئی
” میں مسلمان ہوں اور مروں گی بھی مسلمان ہی”
پری نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
اتنا سننا تھا کہ اس نے اسے بالوں سے پکڑا اور کمرے سے باہر لے گئی
جہاں وہ اسے لے کر گئی وہاں سامنے آگ جل رہی تھی
اس نے پری کو دھکا دیا اور پری زمین پر جا گری
اس نے اس آگ سے ایک دھہکتی روڈ نکالی
جس پر عوم لکھا تھا
وہ اس کے ہاتھ پر ہمیشہ کے لیے لکھ دینا چاہتی تھی کہ وہ ایک ہندو گھرانے سے ہے
وہ روتی رہی منت کرتی رہی مگر وہ ظالم عورت نہیں
آج ظلم کی انتہا ہوگئی تھی اور اس نے پاس پڑے گلدان سے
اس کو مارا اور فرار ہوگئی
شاید اس کی دعائیں اللہ نے سن لی تھی بیشک وہ سب کی سننے والا ہے…
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
“حمزہ” وہ پانی کی بوتل ہاتھ میں لیے کھڑا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا زین کھڑا تھا
” پری کہاں ہے؟” زین نے پوچھا
” مجھے نہیں پتا” حمزہ نے لاپرواہی سے کہا
اور پانی گلاس میں ڈالنے لگا
” حمزہ مجھے بتا دے مجھے پتا ہے توجانتا ہے”
” نہیں جانتا”
“تو جانتا ہے”
” کیوں پوچھ رہا ہے تو تاکہ اسے اور ععزیت دے سکے؟”
“میں اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں حمزہ”
“کس بات کی؟ اسے رولانے کے لیے؟ محبت کا ناٹک کرنے کے لیے؟ یا اسے بے سہارا چھوڑنے کے لیے؟”
حمزہ نے تلخ لہجے میں کہا
“میں ہر گناہ کی معافی مانگ لونگا حمزہ بس ایک بار ایک بار بتا دے یار مجھے سکون مل جائے گا فضا مجھے معاف کردے گی اور…..”
” میں نہیں بتا سکتا تجھے ” اتنا کہ کر حمزہ اپنے کمرے میں چلا گیا
اور زین کی آنکھوں میں نمی تیر آئی
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ لان میں بیٹھی تھی کہ شہروز آکر وہاں بیٹھ گیا
” کیا کر رہی ہو؟”
” کچھ نہیں”
“اچھا ایک بات پوچھوں؟”
” پوچھیں”
“کیا اب تمہیں مجھ پر اعتبار ہے یا نہیں؟”
” سوری “
“کس لیے؟”
“میں نے اپ کو غلط سمجھا تھا “
” چلو تمہیں احساس تو ہوا”شہروز نے مسکرا کرکہا
وہ خاموش تھی
تبھی ملازمہ وہاں آئی اور چائے کے کپ رکھ کر چلی گئی
” چائے پیو” شہروز نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا
پری ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا رہی تھی کہ شہروز کی نظر اس کی کلائی پر پڑی
جہاں کچھ لکھا تھا وہ حیرانی سے دیکھ رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
وہ اپنے کمرے میں لیٹا تھا مگر نیند اس سے ناراض تھی
(تم نے جو پری کے ساتھ کیا وہ ٹھیک نہیں کیا) فضا کا جملہ اسے یاد آیا
(مجھے تمہارے کی ضرورت ہے زین )
(میں نے تم پر اعتبار کیا اور تم پیار کا ناٹک کر رہے تھے میرے ساتھ)
پری کا وہ تھپڑ اسے یاد آیا
اس نے بے ساختہ اپنے گال کو چھوا
” میں نے سب کو برباد کردیا میں بہت برا ہوں” اس نے خود کلامی کی
زین ہر رات جاگ کر گزارتا اسے سکون نہیں آرہا تھا
فضا کے جانے بعد زین میں بہت تبدیلی آگئی تھی
وہ کسی سے ملنا ملانا کم ہی کرتا
ہنسنا مسکرانا جیسے اسے آتا ہی نہیں تھا
وہ ہر وقت خود کو کوستا رہتا شاید اسے ملال تھا پچھتاوا تھا
یک رات وہ سوچوں سے تنگ ہوگیا تھا اس نے نیند کی گولیا اٹھائی اور کھالی…..
مگر حمزہ ٹائم پر چارجر لینے آگیا تھا اس کے کمرے میں
وہ اسے ہسپتال لے کر گیا
جان تو اس کی بچ گئی مگر زین خود کو ختم کردینا چاہتا تھا
حمزہ ہر وقت پریشان رہتا وہ زہنی طور پر ٹھیک نہیں تھا
اس نے پری کو بھی بتایا مگر اس نے ناگواری ظاہر کی
زین پری کا اور فضا کا خود کو قصور وار سمجھتا
جو کافی حد تک ٹھیک تھا اس نے 3 ندگیاں تباہ کردی تھی
