986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 02)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

احمد صاحب کا بزنس دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا تھا
جب فضا پیدا ہوئی تو سب بہت خوش تھے
اسماء(احمد صاحب کی بیوی) کا ایک ہی بھائی تھا روحیل۔ جو اسلام آباد میں رہتا تھا
ماں باپ کے انتقال کے بعد بس ایک بھائی ہی تھا جس سے اس کا مائیکہ آباد تھا ان دونوں بہن بھائیوں میں بہت محبت تھی
البتہ نغمہ کچھ اکھڑ مزاج کی خاتون تھی جو اپنی نند اسماء کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتی تھی
مالی طورپر بھی روہیل کچھ کم نہیں تھا
روحیل کی شادی کو سات سال ہو گئے تھے مگر کوئی اولاد نہیں تھی
سات سال بعد اللہ نے نغمہ کی گود بھر دی
وہ سب بہت خوش تھے
کیونکہ جہاں نغمہ کو اللہ نے بیٹے سے نوازہ تھا وہیں
اسماء کو بھی اللہ نے اپنی رحمت سے نوازہ تھا جس کا نام احمد صاحب نے فضا رکھا
دونوں گھروں میں خوشیوں کا سما تھا
روحیل کے بیٹے کا نام بھی اسماء نے ہی رکھا تھا
“شاہ زین” جو سب کو پسند آیا تھا سوائے نغمہ کے۔
دن ایسے ہی گزرتے جا رہے تھے ایک دن روحیل کے دماغ میں ہی یہ خیال آیا وہ اپنے بیٹے کے لیے فضا کا ہاتھ مانگے
مگر اسماء نے یہ کہ کر بات ٹال دی کہ ابھی تو چھوے ہیں دونوں….
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
پرینکا ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی جو نا صرف خوبصورت تھی بلکہ اخلاق میں اعلیٰ درجے پر تھی
راہول اس کی پھوپھو کا بیٹا تھا جو طلاق کے بعد اپنے بھائی (پرکاش) کے گھر ہی رہتی تھی
پرکاش ورمہ ایک بہترین سرجن تھے
ان کی دو ہی اولاد تھی ایک بیٹی پرینکا اور بیٹا سونیل
سونیل انجینئرنگ کر رہا تھا کراچی یونیورسٹی سے اس لیے وہ ہوسٹل ہی ہوتا تھا
پرینکا حیدرآباد میڈیکل یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی
جہاں ان چاروں کی دوستی ہوئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
جب وہ بارہ سال کے ہوئے تو روحیل نے دوبارہ ضد کی فضا اور شاہ کے رشتے کے لیے
اور اس بار اسماء اور احمد روحیل کو منا نہیں کر سکے
اور انھوں نے رشتہ قبول کرلیا
کچھ ہی دنوں میں روحیل کو بیرون ملک سےایک بہت بڑی کی آفر آئی جس کے لیے اس نے بہت انتظار کیا تھا
اسےوہاں جانا تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ وہ فضا اور شاہ کا نکاح کردیں
اسما نے بہت منا کیا مگر وہ بضد تھا کہ میں پتا نہیں کتنے سال میں لوٹوں واپس
بہر حال ان دانوں کا نکاح کروادیا گیا
اور کچھ دنوں بعد روحیل ملک سے باہر چلا گیا
اس بیچ نغمہ نے زیادہ کوئی رابطہ نہیں کیا ان سے جب کیا تو بے دلی سے
کچھ عرسے بعد وہ لوگ مکمل طور پر ملک سے باہر شفٹ ہوگئے وہاں جا کر روحیل نے بہت پیسہ کمایا
اور آج تک دوبارہ کبھی رابطہ نہیں کیا
وہ کہاں ہے کیسا ہے کسی کو نہیں پتا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ لوگ یونیورسٹی میں اکٹھے ہی پڑھتے کوئی بھی لیکچر وہ مس نہیں کرتے تھے
البتہ زین ہر وقت مستی مزاق کر کے انہیں ہنساتا اور انہیں بھی شامل کر لیتا
پرینکا مسلم نہیں تھی مگر انہوں نے کبھی فرق نہیں سمجھا وہ ہمیشہ ہی اسے اپنی دوستی سے ہی خوش کردیتے
ہاں مگر وہ آہستہ آہستہ دن گزرنے کے ساتھ زین کو پسند کرنے لگی
زین ہوسٹل میں ہی رہتا تھا
وہ اس کی فیملی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے
اس سے کوئی بھی پوچھتا وہ بس مختصر سا جواب دیتا اور مزاق میں اڑا دیتا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
فضا اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی اسے بچپن سے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا
اور کی بھی بہت محنت وہ پڑھائی سے کبھی بھاگتی نہیں تھی
لیکن ایک کسک تھی اس کے دل میں
شاہ سے نکاح جو اس کا فیصلہ
اس سے بنا پوچھے ہوگیا تھا
اس کے ماں باپ اس کے نکاح کی کبھی بات نہیں کرتے تھے
وہ اب اپنے کئی سال پہلے کے فیصلے پر پچھتا رہے تھے
مگر فضا کی سوچ بس وہیں اٹکی کہ اس کا نکاح ہوچکا
اس شخص نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا
وہ سوچتی کہ کیا اسے کبھی اسے مجھے دیکھنے کی دلچسپی نہیں پیدا ہوئی
یا شاید یہ فیصلہ اس کے لیے بھی عذاب ہی بنا جیسے میرے لیے