Mera Ishq Novel By Irsa Rao NovelR50461 Mera Ishq (Episode 05)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 05)
Mera Ishq Novel By Irsa Rao
اس نے سن کے پاس آتے ہی اس کا گریبان پکڑا
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری اسائمنٹ سے پیج پھاڑنے کی”
زین غرایا
بدلے میں حسن کا قہقہہ گونجا
” میں نے کہا تھا نا میرے اور فضا کے بیچ میں مت آنا کبھی”
حسن نے اپنا کالر چھڑواتے ہوئے کہا
” تجھے لیکن سمجھ نہیں آیا تھا ” زین نے سرخ آنکھوں سے کہا
” تیری ہمت کیسے ہوئی فضا کا نام بھی لینے کی”
زین دھاڑا
” کیوں تیری بہن لگتی ہے کیا وہ؟”
حسن نے اس کی ٹون میں جواب دیا
” میں اس کا جو بھی لگتا ہوں تو اس سے دور رہ بس “
زین اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کہنے لگا
” نہیں رہوں گا دور تو کیا کرلے گا؟ ارے تیری طرح ڈرپوک نہیں ہوں میں اس ے محبت کرتا ہوں کسی سے ڈرتا نہیں کہنے سے
تیری طرح چھپ کر بری نظر نہیں رکھتا دوستے کی آڑ میں”
اس نے غصہ سے کہا
اور اس بار زین اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پایا
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور ایک زور دار مکہ اس کی ناک پر رسید کیا
حسن گرتے گرتے بچا اس کی ناک سے خون بہنے لگا
وہ تیزی سے زین کی طرف آیا اور اسے گریبان سے پکڑ ا
وہ ہاتھ اٹھا ہی رہا تھا مارنے کے لیے کہ فضا کی آواز پر رک گیا
” بند کرو یہ تماشہ تم دونوں Just stop it”
فضا نے غصے سے کہا
وہ رک گیا اور زین کو گھوری کے ساتھ چھوڑ دیا
“حسن تمہاری ناک سے خون بہ رہا ہے ” فضا نے گھبرا کر کہا
” خیر تم دونوں لائق نہیں ہو بات بھی کرنے کے اور نا ہی میری ہمدردی کے”
فضا نے چبا کر کہا
اور پلٹ کر تیزی سے وہاں سے نکل گئی
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ کونے میں جاکر نماز پڑھنے لگی فجر کی جماعت میں ابھی 15 نٹ تھے
دور بیٹھا بابا اسے دیکھ رہا تھا
شاید وہ پہلی لڑکی تھی جو مسجد میں یو نماز ادا کر رہی تھی
اس نے نماز ادا کی دعا مانگی کتنی ہی دیر وہ روتی رہی اور پھر یک دم اٹھ کھڑی ہوئی
اسے یاد آگیا تھا کہ جماعت کا ٹائم ہوگیا ہے
وہ آنسوں صاف کرتی باہر نکل گئی
سورج نکلنے سے پہلے اسے وہاں سے دور جانا تھا
اس نے جیسے ہی مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے قدم رکھا
کسی نے اس کے قدموں میں چپل رکھ دی
اس نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا
وہی بزرگ تھا جو مسجد میں بیٹھا تھا
وہ مسکرا رہا تھا
” پہن لو بیٹا تمہارے پاؤں میں چوٹ لگی ہے”
بزرگ نے کہا
اس نے یک دم اپنے پاؤ کو دیکھا انگوٹھے پر چوٹ لگی تھی
جس کا اسے پتا ہی نہیں چلا
چلتا بھی کیسے اس کے جسم پر ایسے بہت سے زخم تھے
اس نے بنا کچھ کہے وہ مردانہ چپل پہن لی
آنسوں پھر سے بہنے لگے
” بابا میرے لیے دعا کرنا ” وہ بس اتنا کہ سکی
بابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
” اللہ تمہاری مشکلیں آسان کرے خوش رہو”
کہ کر بابا مسجد کی جانب چل دیا اور وہ اپنے راستے
جس کا اسے نہیں پتا تھا اب کہا لے جائے گا
❤️❤️❤️❤️❤️
“فضا میری بات سنو” زین اس کے پیچھے بھاگا
وہ تیز قدموں سے سیڑھی اتر رہی تھی
” میری بات سنو یار” زین نے فضا کا بازو پکڑا
” میرا ہاتھ چھوڑو”
اس نے غصہ سے کہا
” میری بات سنو فضا” زین نے پھر دوہرایا
” میرا ہاتھ چھوڑو”
اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا
” میں تم سے پیار کرتا ہوں” زین نے کہا
تبھی ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر پڑا
❤️❤️❤️❤️
وہ صوفے پر بیٹھی جوگرز کھول رہی تھی
“آگئی تم” راہول نے اسے دیکھتے ہی کہا
” تمہیں کیا لگتا ہے راہول؟” اس نے اسی پوزیشن میں کہا
“ارے میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا”
راہول نے بیٹھتے ہوئے کہا
” کھانا کھایا تم نے؟”
” ابھی تو آئی ہوں کھاؤں گی ابھی”
” میں نے بھی نہیں کھایا”
کیوں تم نے کیوں نہیں کھایا؟”
“ویسے ہی”
“آسٹریلیا میں لیٹ ہی کھانا کھاتے ہو کیا؟”
“نہیں ٹائم سے کھاتا ہوں بس یہاں آکر روٹین خراب ہوجاتی ہے”
” اچھا سارا دن تو سوتے ہو روٹین تو خراب ہوگی ہی نا”
” ہاں یہ بھی “
“Exams کب ہیں”
راہول نے پھر سوال کیا
“Next week”
اس نے اٹھتے ہوئے جواب دیا
“میں فریش ہوکر آتی”
کہ کر وہ روم کی طرف چل دی
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
” ماما مجھے لڑکی پسند آگئی یہاں یونیورسٹی میں میں پھو پھو کی بیٹی کو طلاق دینا چاہتا ہوں”
زین نے دو ٹوک کہا
” مگر بیٹا تمہارے پاپا نہیں مانیں گے” نغمہ نے کہا
” زبردستی کے رشتے نہیں ہوتے ماما میں اب اسلام آباد آؤں تو آپ پیپرز تیار رکھیے گا”
زین نے فیصلہ سنایا
نغمہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ کمرے میں لیٹی تھی روت گہری تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی
” (پری تو اسلام قبول کرلے)
اسے فضا کا جملہ یاد آیا
” کیا میرا مذہب سہی نہیں؟ کیا میں غلط راستے پر ہوں؟”
اس کے زہن میں ہزاروں سوال آئے
