986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 07)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

“حمزہ پلیز یار فرینڈز ہی تو کام آتے ہیں”
فضا نے کہا
” ٹھیک ہے فرینڈ ہونے کے ناطے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں”
حمزہ نے کہا
“صرف کچھ ٹائم کی بات ہے پھر میں کوئی انتظام کر لوں گی”
پری نے کہا
” کیسی باتیں کر رہی ہو ہم بہت پورانے فرینڈز ہیں
ایسے بول کر شرمندہ تو مت کرو”
حمزہ نے سنجیدگی سے کہا
“اب چلو میں تمہیں وہاں چھوڑ آتا ہوں اس سے پہلے کہ پولیس یہاں آئے”
حمزہ نے کہا
” ہاں چلو ” پری کھڑی ہوئی
” پری یہ کچھ پیسے رکھ لو کام آئیں گے”
فضا نے اس کی طرف پیسے بڑھائے
” نہیں فضا تمہارے بہت پہلے ہی مجھ پر احسان ہیں”
پری نے کہا
” دوستی کو احسان کہ رہی ہو اور ویسے بھی یہ مدد میں نے نہیں اللہ نے کی ہے تمہاری “
فضا نے کہا
پری نے پیسے پکڑ لیے اور فضا کے گلے لگ گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ لان میں بیٹھے تھے کہ زین نے یک دم کہا
” مما پیپرز تیار کروائے”
” ہاں مگر ….”
” لائیں دیں سائن کر کے اس رشتے سے چھٹکارا حاصل کرتا ہوں”
” مگر تمہارے پاپا “
” پاپا کو زندگی نہیں گزارنی مجھے گزارنی ہےپہلے ہی انھوں نے میری زندگی کا غلط فیصلہ کردیا اب مزید میں نہیں نبھاؤں گا”
” میں تو کبھی بھی خوش نہیں تھی اس رشتے سے مگر تمہارے پاپا سنتے کہاں ہیں میری”
” آپ جائیں پیپرز لے کر آئیں “
” اچھا لاتی ہوں”
وہ اٹھ کر چلی گئی
” اب تو اس رشتے سے بھی جان چھڑوا رہا ہوں صرف تمہارے لیے فضا بس تم میری ہو جاؤ”
زین نے دل میں سوچا
” یہ لو ” نغمہ نے ٹیبل پر پین اور پیپرز رکھے
وہ ٹیبل پر پڑے ان پیپرز کو گھور رہا تھا
پھر ایک دم پین اٹھایا اور پیپرز پر دستخط کرنے لگا
دستخط کر کے نغمہ کی طرف بڑھائے
” یہ لیں اور بھیج دینا پھوپھو کے گھر ویسے بھی انھوں نے کبھی ہمیں مڑ کر نہیں دیکھا”
زین نے بے رخی سے کہا
اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
نغمہ کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آگئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” حمزہ ایک کام کرو گے”
پری نے کہا
” ہاں بولو”
اس نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا
” کیا تم مجھے ایک بار زین سے ملوا سکتے ہو؟”
” کیا؟ کیوں اس سے تمہیں کیا کام ہے؟”
حمزہ حیران ہوا
” ہے ایک کام بس ایک بار ملوا دو”
پری نے التجا کی
“اس سے مت ملو کوئی فائدہ نہیں پری”
حمزہ نے کہا
” میں بس ایک بار بات کرلوں پلییز”
” لیکن وہ یہاں نہیں ہے اسلام آباد ہے میں تمہیں وہیں لے جاتا ہوں “
حمزہ نے کہا اور پری نے اثبات میں سر ہلایا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” ماموں وہ بھاگ گئی ہے مما کی حالت دیکھی ہے آپ نے؟”
راہول نے کہا
” مگر وہ بھاگی کیسے؟ “
ان کا غصہ بڑھ چکا تھا
راہول خاموش تھا
انہوں نے اپنا فون نکالا جیب سے اور نمبر ڈائل کیا
” ہیلو میری بیٹی کو کسی نے کڈنیپ کرلیا ہے پتا کرو کہا ہے وہ کون ہے پولیس کی ضرورت پڑے تو انہیں بھی بلاؤ
مجھے میری بیٹی چاہیے بس “
وہ فون پر بات کرتے کرتے باہر نکل گئے
اور راہول وہیں کھڑا پرینکا کے بارے میں سوچنے لگا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
حمزہ نے گاڑی ایک گیٹ کے سامنے روکی
اور گاڑی سے اتر گیا
وہ بھی گاڑی سے اتر گئی
حمزہ نے بیل بجائی
ایک ادھیڑ عمر شخص نکلا
” ہمیں زین سے ملنا اس کا فرینڈ حمزہ ہوں بلا دیں”
حمزہ نے کہا
وہ شخص اندر چلا گیا
تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور انہیں اندر لے گیا
وہ لاؤنج میں بیٹھے تھے کہ زین آگیا تھا
وہ پری کو دیکھ کر ٹھٹکا
چہرے پر ناگواری اتری
” تم یہاں ” اس نے پری کو دیکھ کر کہا
” زین مجھے تمہاری مدد چاہیے پلیز زین ” وہ کھڑی ہوئی
” تم جاؤ یہاں سے حمزہ اسے لے کر کیوں آیا تو یہاں؟”
زیں نے سرخ آنکھوں سے کہا
” زین تمہیں کیا ہوگیا ہے پہلے تو تم ایسے نہیں تھے
میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں مجھے اس وقت تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہے “
میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا”
زین نے منہ موڑتے ہوئے کہا
” پلیز زین مجھ سے شادی کرلو مجھے سہارے کی ضرورت ہے میں بہت اکیلی ہوں مجھے اس وقت مت چھوڑو “
وہ منت کرنے لگی
آنسوں آنکھوں سے مسلسل بہ رہے تھے
” میں نے اسلام قبول کر لیا ہے میں مسلمان بھی ہوگئی زین میرا ساتھ مت چھوڑو”
وہ التجا کرنے لگی
” پری میں تم سے محبت نہیں کرتا”
زین چلایا
” کیا؟”
پری حیرانی سے اسے دیکھنے لگی
” ہاں میں نے صرف تمہارے ساتھ پیار کا ناٹک کیا تھا
فضا کو تکلیف پہنچانے کے لیے”
زیں نے کہا
” میں نے تم پر اتنا عتبار کیا…. اور تم پیار کا ناٹک کر رہے تھے میرے ساتھ”
پری نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر جھڑ دیا
” پری چلو یہاں سے”
حمزہ نے پری کو بازو سے پکڑا اور وہاں سے باہر لے آیا
زین وہیں ساکت کھڑا رہا جانے کتنی ہی دیر….
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
اسماء اپنے کمرے میں جا ہی رہی تھی کہ دروازے پر کسی کی دستک ہوئی
وہ دروازہ کھولنے چلی گئی
فضا سامنے ہی بیٹھی تھی
اسماء کو اندر آتا دیکھ فضا نے پوچھا
” کون تھا مما؟”
” یہ لفافہ ہے اسلام آباد سے”
وہ لفافے کو الٹ پلٹ رہی تھی
” مجھے دکھائیں مما میں دیکھتی ہوں”
فضا نے آگے بڑھ کر وہ لفافہ لیا
اس نے کھول کر جیسے ہی اسے پڑھا
لمحہ بھر اسے ہر طرف خاموشی محسوس ہوئی
وہ ساکت کھڑی پیپرز کو گھور رہی تھی
” کیا ہوا کیسے پیپرز ہیں؟”
اس نے اپنی ماں کے ہاتھ پمیں پیپرز تھما دیے اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
جاری ہے