Mera Ishq Novel By Irsa Rao NovelR50461 Mera Ishq (Episode 09)
No Download Link
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 09)
Mera Ishq Novel By Irsa Rao
(ماضی)
پری اور فضا ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے اور ٹی وی پر ایک اسلامی پروگرام چل رہا تھا
آواز اس کے کانوں میں صاف پڑ رہی تھی
“مسلمان کا ہر عمل جو شریعت کےمطابق ہو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے حتیٰ کہ اس کا کھانا پینا، روزی کمانا، دوست واحباب سے ملنا،کسی بھوکے جاندار کو کھانا کھلانا سب عبادت ہے اور اس کو اجرو ثواب دیا جاتا ہے”
ٹی وی کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس آواز کو دھیان سے سن رہی تھی
وہ فضا کی باتوں میں دھیان نہیں دے رہی تھی
فضا نے بھی یہ محسوس کرلیا تھا کہ اس کی توجہ
آواز پر ہے
وہ خاموش رہی کچھ دیر بعد پری نے خود ہی کہ دیا
” فضا ہم اندر چلیں؟”
” ٹھیک ہے چلو”
فضا نے مسکرا کر کہا
اور اٹھ کر کمرے میں آکر دونوں بیٹھ گئے
“پری تم زین سے دور رہنا”
فضا نے کہا
” کیوں؟”
” کیوں کہ وہ اچھا لڑکا نہیں ہے وہ تمہارے لائق نہیں”
” اچھا اور بتاؤ گی کہ وہ کیوں میرے لائق نہیں؟”
” اس بات کا جواب نہیں میرے پاس بس تم اس سے دور رہو گی”
” اچھا ٹھیک ہے بھئی مان لی بات”
“اچھا تم مجھے کوئی کتاب دے رہی تھی”
” ہاں لاتی ہوں”
وہ اٹھی اور الماری کے اوپر رکھی ایک کتاب اٹھائی
اس کے پاس آکر اس کے سامنے کردی
” یہ لو”
اس نے اس کی طرف بڑھائی
وہ براؤن کلر کا کور چڑھی ایک کتاب تھی جس پر کچھ نہیں لکھا تھا
یا شاید کور کے نیچے کچھ لکھا ہو مگر پری نے دھیان نہیں دیا
” اسے لازمی پڑھنا ہے ٹھیک ہے”
فضا نے کہا
” جو حکم میڈم”
پری نے ہنس کر کہا
” اچھا اب میں چلتی ہو “
پری کھڑی ہوگئی
” پری اسے اکیلے میں پڑھنا کسی کو دکھانا نہیں”
فضا نے کہا
” کیوں؟” پری حیران ہوئی
” بس پہلے تو پڑھ اکیلے میں پھر بتاؤں گی”
فضا نے مسکرا کر کہا
“ٹھیک ہے”
پری نے کہا اور روم سے نکل گئی
❤️❤️❤️❤️
(حال)
دوسرے دن حمزہ پری سے مل کر نکل گیا تھا واپسی کے لیے
وہ اس گھر میں خود کو اکیلہ محسوس کر رہی تھی
وہ زیادہ تر کمرے میں رہتی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا
وہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی
سیڑھیاں اترتی نیچے آئی تو سمیہ (ملازمہ)
صفائی کر رہی تھی
“آنٹی کہاں گئ ہیں؟”
اس نے پوچھا
“جی وہ تو لان میں ہیں”
ملازمہ نے کہا
سنتے ہی وہ لان کی طرف چل دی
وہاں ندا بیگم اکیلی ہی نیوز پیپر ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی
” اسلام علیکم آنٹی”
اس نے پکارا
” وعلیکم اسلام آؤ بیٹا بیٹھو”
ندا بیگم نے پیار سے کہا
“آپ اکیلی بیٹھی ہیں یہاں”
” کوئی ہے ہی نہیں جو ساتھ بیٹھے میری بیٹی ہوتی تو وہ بھی تمہاری عمر کی ہوتی آج”
” تم بتاؤ دل لگ رہا ہے یہاں؟” انہوں نے پھر کہا
” جی” اس نے مسکرا کر جواب دیا
“کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا”
” جی بہتر”
” اچھا بیٹا مجھے کسی رشتے دار کے گھر جانا ہے تھوڑی دیر میں آجاؤں گی کسی چیز کی ضرورت ہو سمیہ کو کہ دینا”
انہوں نے پری کے گال تھپتھپایا
اور وہاں سے چلی گئی
تھوڑی دیر میں ان کی گاڑی گیٹ سے نکلتی دکھائی دی
وہ وہیں بیٹھی رہی ایک بار زین کی یاد نے اسے افسردہ کردیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
” وہ تو ٹف تھا ہی بٹ….”
اس نے کہتے کہتے سر کو ہاتھ لگایا
” کیا ہوا فضا؟” حمزہ نے اسے پکڑتے ہوئے کہا
جو ابھی گرنے ہی والی تھی اگر حمزہ نہ پکڑتا تو
” Nothing”
فضا نے کہا
” آؤ یہاں بیٹھ جاؤ” حمزہ نے اسے سیڑھیوں پر بٹھایا
” ٹھیک ہوں میں”
“تھوڑی دیر بیٹھو پھر جانا”
“تم چلے جاؤ “
” نہیں “
“پری کیسی ہے؟”
” ٹھیک ہے”
“میں نے اسے منا بھی کیا تھا مگر
وہ پھر بھی زین سے ملی “
حمزہ نے اسے وہاں کا سارا واقعہ سنایا
” زین نے یہ ٹھیک نہیں کیا”
فضا نے غصہ سے کہا
“شکر ہے وہاں پر نغمہ آنٹی نہیں تھی”
” نغمہ آنٹی؟”
” زین کی مما”
“اوہ اچھا”
” تمہیں ایک بات کا پتا ہے فضا؟”
” کیا؟”
” زین شادی شدہ ہے اس نے تمہارے لیے اپنی بیوی کو طلاق دی”
“کیا؟” وہ چونکی
” ہاں “
” کس قدر گھٹیا انسان ہے یہ شادی شدہ تھا اور دوسری لڑکیوں پر نظر رکھتا ہے”
” نہیں وہ شادی اس کی مرضی سے نہیں ہوئی تھی بچپن میں ہی اس کا نکاح ہوگیا تھا اب دو سال پہلے اس نے طلاق دے دی تھی صرف تمہارے لیے”
فضا خاموش تھی شاید الجھی ہوئی تھی
” مجھے کچھ کام ہے پھر بات کرتے ہیں “
فضا یک دم کھڑی ہوئی اور تیزی سے وہاں سے بھاگی جیسے کچھ یاد آیا ہو…..
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
(حال)
وہ لان میں بیٹھی سوچ میں گم تھی کہ اسے اپنے پیچھے آواز سنائی دی
اس نے پلٹ کر دیکھا
ایک لمبا چوڑا شخص تھا
جس نے ٹراؤزر اور شرٹ پہنی تھی
بکھرے بال ہلکی سی Beard
معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ سو کر اٹھا ہے
اس نے دو دنوں میں اس شخص کو نہیں دیکھا تھا اس گھر میں
وہ شاید ملازمہ سے مخاطب تھا
اسے ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی
” What rubbish”
اس نے چیخ کر کہا
“مجھے نہیں معلوم تھا صاحب”
ملازمہ گھبرا رہی تھی
” تو کس پوچھ کر وہ شرٹ پریس کی نہیں معلوم تھا تو نہیں کرتی” وہ دھاڑا
” وہ بیگم صاحبہ نے دی تھی”
ملازمہ نے ڈرتے ہوئے کہا
” کہاں ہے مما؟ مما۔…..” وہ چلایا
“وہ تو جی باہر گئی ہیں”
ملازمہ نے بتایا
“ٹھیک ہے دفاع ہوجاؤ یہاں سے”
اس نے غصہ سے کہا
ملازمہ وہاں سے چلی گئی تھی
پری دور بیٹھی ان کی بحث دیکھ رہی تھی پہلی نظر میں اسے وہ شخص زہر لگا تھا
جسے ملازموں سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں
پری سوچ کر ہی رہ گئی
اور وہ شخص کمرے میں جا چکا تھا
