986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 15)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

(حال)
جنازے کا ٹائم ہو رہا تھا مگر پری نہیں پہنچی تھی حمزہ پریشان تھا
اس نے کال کی مگرشاید وہ سفر میں تھی تو کال نہیں لگ رہی تھی
” اب کیا کروں اب تک تو پہنچ جانا چاہیے تھا اسے”
حمزہ نے خود کلامی کی
زین کی حالت بری تھی حمزہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے آئے اور لوگوں کو کسی طرح کا شک ہو
اس نے زین کو کمرے میں چھوڑا اور نیند کی دوا دے کر سلا دیا وہ جانتا تھا اگر تدفین کے وقت زین آیا تو وہ خود پر قابو نہیں کر پائے گا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
“کیا کہ رہی تھی تم؟” وہ قریب آئے
“نہیں وہ ایسے ہی بات کر رہی تھی ماموں بس پری کہو ایسا کچھ نہیں”
راہول نے پری کو اشارہ کیا
” نہیں راہول اسلام میں جھوٹ بولنا گناہ ہے میں جھوٹ نہیں بولوں گی میں نے اسلام قبول کرلیا ہے پاپا ایک بار قرآن پڑھیں آپ بھی جان جائیں گے کہ…..”
وہ کہ رہی تھی کہ اسکےگال پر زوردار تھپڑ پڑا
راہول قریب آیا ماموں آپ یہ کیا کر رہے ہیں وہ ناسمجھ ہےمیں سمجھاؤں گا اسے”
راہول نے منت کی
” نہیں راہول میں اسلام سے نہیں پھروں گی میں مسلمان ہوچکی ہوں…..” پری نےڈھٹائی سے کہا
راکیش نے ایک بار پھر وزنی ہاتھ اس کے گال پر رسید کیا
پری صوفے پر جا گری
” مارنے سے سچائی نہیں بدلے گی پاپا” وہ کھڑی ہو کر کہنے لگی
اتنا سننا تھا کہ راکیش کی آنکھوں میں خون اتر آیا اس نے ایک اور تھپڑ اس کے گال پر جھڑ دیا
تبھی مدھو پھوپھو وہاں بھاگتی ہوئی آئی
” کیا کررہے ہو راکیش؟”
“اس نےاسلام قبول کرلیا ہےہم نے اس لیے اسےاتنا پڑھایا کہ یہ ایسے کام کر کے ہماری ناک کٹوائے” راکیش چیخا
” کیا؟” وہ حیران ہوئی
راکیش آگے بڑھا اور پری کا ہاتھ پکڑے اسے کھیچتے ہوئے کمرے کی طرف لے جانے لگا
” پاپا چھوڑیں مجھے ” پری چیخنے لگی
اس نے پری کو کمرے میں لے جا کر بند کردیا
پری دروازہ پیٹنے لگی مگر کسی نے نہیں کھولا
” یہ باہر نا نکلے جلد ہی کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کردیں گے”راکیش نے فیصلہ سنایا اور باہر نکل گیا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ جب پہنچی تو باہر آدمیوں کا رش تھا وہبھاگتی ہوئیاندر گئی فضا کا جنازہ گھر سے باہرنکال رہے تھے کہ پری وہاں پہنچی….
” پری” حمزہ نے کہا
“آپ لوگایسے نہیں لے جاسکتےمجھے فضا کو دیکھنا ہے” پرینے روتے ہوئے کہا
سب لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے
” پری تم اندرچلو” حمزہ نےکہا
” نہیں نہیں مجھے فضا کو دیکھنا ہے پلیز” پری نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے منت کی
” ٹھیک ہے ” احمد صاحب نے کہا
اور انہوں نے جنازہ واپس اندر رکھ دیا اور سب تھوڑے دیر کے لیے باہر چلے گئے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
وہ سارا دن کمرے میں بند رہتی بس کھانے کے ٹائم اسے کھانا دے دیا جاتا
وہ اکیلی کمرے میں روتی رہتی مگر اسے وہاں سے نکالنے والا کوئی نہیں تھا
” یا اللہ میری مدد کر” اس نے دعا کی
تبھی راہول کمرے میں آیا
” راہول تم تو میرے دوست ہو مجھے یہاں سے نکال دو میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی” پری نے منت کی
” دو شرطوں پر میں تمہیں یہاں سے نکال سکتا ہوں”
راہول نے سنجیدگی سے کہا
” کیا؟” پری نے حیرانی سے کہا
” پہلی تم مجھ سے شادی کرو گی اور دوسری……” راہول کچھ کہتا اس سے پہلے ہی پری نے بات کاٹی
” ایک منٹ تم شاید بھول رہےہو میں مسلمان ہوں اور میں مسلمان سے ہی شادی کروں گی”
پری نے دو ٹوک کہا
” شادی تو تم مجھ سے ہی کرو گی ” راہول نے قریب آتے ہوئے کہا
” نہیں کروں گی” پری نے بے رخی سے کہا
” شادی تو مجھ سے کرنی ہوگی تمہیں مرضی سے یا زبردستی” راہول نے مسکرا کر کہا
اور زوردار قہقہے کے ساتھ کمرے سے نکل گیا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
فضا کا جب منہ کھولا گیا تو پری ضبط نہیں کرسکی وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی
فضا کے چہرے پر وہی معصومیت جھلک رہی تھی جو اس نے ہمیشہ دیکھی تھی سفید رنگت کھلتا چہرہ……
” فضا تو مجھے بنا بتائے نہیں جا سکتی مجھے تیری ضرورت ہے فضا ایک بار اٹھ جا ” پری نے چیختے ہوئے کہا
تبھی کوئی آگے بڑھا اور فضا کا چہرہ دوبارہ ڈھک دیا
” نن….نہیں مجھے دیکھنا ہے مجھے بات کرنی ہے اس سے کھولیں چہرہ “
پری روہانسی ہوئی
کچھ عورتوں نے اسے پکڑ لیا تھا
اس کی آنکھوں کے سامنے فضا کا جنازہ اٹھالیا گیا وہ پکارتی رہ گئی روتی رہ گئی
مگر فضا جا چکی تھی ہمیشہ کے لیے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
” تمہارے لیے رشتہ دیکھا ہے کل وہ لوگ آئیں گے اچھا برتاؤ کرنا ان کے ساتھ” اس کی پھوپھو نے کہا
” میں نہیں کروں گی شادی” پری چیخی
“کیا چاہتی ہو تم ہماری ناک کٹ جائے ” اس نے غصہ سے کہا
” جب آپ نے طلاق لی تھی تب ناک نہیں کٹی تھی”
پری نے سرخ آنکھوں سے کہا
” بدتمیز زبان چلا رہی ہے” اس نے اس کے بال پکڑتے ہوئے کہا
” چھوڑیں مجھے” پری نے بال چھڑوانےکی کوشش کی
” دیکھتی ہوں کل کیسے نہیں آتی تم مہمانوں کے سامنے”
اس نے جھٹکے سے بال چھوڑے
اور کمرے سے نکل گئی
باہر اتے ہی اس نے ملازمہ کو آواز دی
” اسے کھانا پینا کچھ مت دینا جو بھی دو گی مجھ سے پوچھ کر دوگی آئی سمجھ” اس نے حکم سنایا
اور اپنے کمرے میں چلی گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
فضا کی تدفین کے بعد سب جاچکے تھے حمزہ فضا کے گھر آیا
” چلو پری” حمزہ نے پری کو دیکھتے ہوئے کہا جو اسماء کے ساتھ بیٹھی تھی
” کہاں لے جارہے ہو اسے؟” اسماء نے پوچھا
“واپس لے جا رہا ہوں” حمزہ نے کہا
“مگر کیوں اسے یہاں رہنے دو ” اسماء نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا
“نہیں یہ یہاں نہیں رہ سکتی آنٹی اس کےگھر والوں کو پتا لگ جائےگا ابھی اسے جانا ہوگا” حمزہ نےسمجگایا
” ہاں جاؤ بیٹا حمزہ صحیح کہ رہا ہے” اسماء نے کہا
اور پری چپ چاپ کھڑی ہوگئی
اور حمزہ کے پیچھے چل دی
وہ باہر اکرچپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی
” شہروز تم اسے واپس لے جاؤ میں ایک دو دن میں چکر لگاوں گا” حمزہ نے کہا
” چلو ٹھیک ہے خدا حافظ” شہروز نے کہا
اور گاڑی اسٹارٹ کرلی