986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 14)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

(حال)
وہ کمرے میں آتے ہی اپنا سامان پیک کرنے لگی
” میں نہیں رہ سکتی یہاں…” اس نے روتے روتے خود کلامی کی
تبھی دروازے پر نوک ہوا اور دروازہ کھالا گیا
اس نے دروازے کی طرف دیکھا وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا
” کیا کر رہی ہو؟” شہروز نے غصہ سے کہا
پری خاموش تھی
” گھر چھوڑ کر جا رہی ہو؟”
پری نے کوئی جواب نہیں دیا
“دیکھو میں نے صرف مزاق کیا تھا میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں جیسا تم سمجھ رہی ہو”
شہروز نے سمجھانا چاہا
” اور تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا ۔۔۔۔ سوری میں کسی کو بولتا نہیں ہوں تو تمہیں بھی نہیں کہوں گا”
شہروز نے کہا
تبھی پری کا فون بجنے لگا حمزہ کا فون تھا
اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا
” ہیلو”
شہروز کی نظر اسی پر تھی
” کیا؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا تم جھوٹ کہ رہے ہو نا”
پری حواس قابو میں نہیں رہے
شہروز کےماتھے پر بل آئے
تبھی پری جھٹکے سے گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھی فون اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا
“کیا ہوا؟” شہروز نے پوچھا
مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا
” کیا ہوا ہے؟” شہروز نے پھر قریب آکر پوچھا
” نن….نہیں ایسا نہیں ہوسکتا…. فض….فضا…” اس کی ہچکیاں بند گئی دونوں ہاتھوں سے چہرا چھپائے وہ تیز آواز میں رونے لگی
شہروز حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا
” کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟”
شہروز پریشان ہوا
لیکن کتنی ہی دیر وہ روتی چلی گئی پھر اچانک اٹھی
” مجھے فضا کے پاس جانا ہے میں جا رہی ہو”
” کہاں جانا ہے؟” شہروز نے کہا
” حیدرآباد فضا کے پاس” اس نے کہا اور باہر نکل گئی کمرے سے
وہ پیچھے بھاگا
“چلو میں لے کر جاتا ہوں تمہیں”
شہروز نے کہا
پری نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا
آنسوں اب بھی اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
فضا کی باڈی کو گھر لے جایا رہا تھا سب وہاں سے چلے گئے تھے
مگر زین وہیں کھڑا تھا
حمزہ اس کے قریب آیا
“زین” حمزہ نے پکارا
مگر زین کے پلکیں تک نہیں جھپکی
” زین” حمزہ نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
مگرزین ٹس سے مس نا ہوا
” زین وہجا چکی ہے اب نہیں آئے گی “
حمزہ نے اس کو کاندھوں سے پکڑ کر کہا
تبی زین نے پلکیں جھپکی
” فضا حمزہ فضا کہاں ہے؟” زین ایک دم حواس میں اتے ہوئے کہا
” وہ ہمارے بیچ نہیں رہی اب تو….”
حمزہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی زین کی آواز اس کے کانوںسے ٹکرائی جس نے اسے خاموش کروا دیا
ایک چیخ کے ساتھ زین زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا رو رہا تھا
اس رونے میں شدت آگئی تھی
ہسپتال کے آتے جاتے لوگ اسے دیکھ رہے تھے
” زین” حمزہ نے زمین پر بیٹھ کر کہا
” حمزہ وہ مجھ سے ناراض تھی میں نے اسے منایا بھی نہیں
وہ….. وہ ایک موقعہ تو دیتی…. مجھے منانے کا میں اسے منا لیتا” زین نے حمزے کو دیکھتے ہوئے کہا
” تو اٹھ گھر چل….” حمزہ نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا
حمزہ کی آنکھوں میں آنسوں تھے
مگر وہ تسلی نہیں تھی اس کے پاس جو وہ زین کو دیتا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
پری کو اسلام قبول کیے کتنے ہی دن گزر گئے تھے
وہ نماز قرآن سب پڑھتی مگر اپنے ہی گھر میں چھپ کر وہ جانتی تھی کہجب یہ بات اس کے گھر والوں کو پتا چلی تو وہ اسے مار دیں گے
مگر وہ اسلام قبول کر چکی تھی اور اسے سکون تھا کہ اس نے صحیح راستہ چنا ہے
وہ جیسے جیسے قرآن پڑھتی اس کی مشکلوں کے حل سامنے اجاتے جس سے اس کا ایمان اور پختہ ہوتا چلا گیا
راہول اسکا کزن اور بہت اچھا دوست تھا مگر وہ دل ہی دل میں اسے پسند کرتا تھا
ایک دن اس نے سوچا کہ وہ اسے پروپوز کردے مگر اس میں کبھی ہمت نہیں ہوئی کہنے کی
اس نے ایک ڈریس اور کچھ کارڈز بنائے پری کے لیے اور اس کے کمرے میں رکھنے گیا
وہ جیسے ہی اس کے کمرے میں گیا وہاں کوئی نہیں تھا
وہ بیڈ کے قریب گیا
سائیڈ ٹیبل پر پری کی تصویر رکھی تھی جس میں وہ مسکرا رہی تھی
راہول اسے اٹھایا اور دیکھنے لگا
ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی
اس نے وہ تصویر سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھنے کے لیے دراز کھولا
وہاں کچھ رکھا تھا جسے دیکھ وہ حیران رہ گیا
اس نے پڑھا اس کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
وہ جلدی سے الماری کی جانب بڑھا وہاں کچھ ڈھونڈنے لگا
پھر اس کی نظر اس کتاب پر پڑی جسے اس نے پری کے ہاتھ میں دیکھا تھا
اس نے فوراً اسے اٹھایا
اور کھولا
” And to your lord alone turn all your attentions and hopes”
اس نے اور صفحے پلٹے
“And if it heppens that a prompting from shetan should stir you up,seek refuge with Allah. He is all hearing, all knowing.”
(سورت اعراف)
اس نے کتاب بند کی تبھی اس کی نظر برابر میں رکھے جائے نماز پر اور تسبیح پر پڑی
جس نے سارے سوالوں کے جواب دے دیے تھے اسے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ سارے راستے روتی جارہی تھی
شہروز اسے چپ نہیں کروا رہا تھا
وہ بس چپ چاپ گاڑی چلا رہا تھا
تبھی پری کو خیال آیا
اس نے حمزہ کا نمبر ڈائل کیا
مگر اس رنگ نہیں جا رہی تھی شاید اس کے پاس بیلنس نہیں تھا
” کیا ہوا” شہروز نے پوچھا
” وہ مجھے…..” پری نے جھیجھکتے ہوئے کہا
” یہ لو” شیروز نے اپنا سیل فون اس کی طرف بڑھایا
وہ سمجھ چکا تھا شاید اس کی پروبلم
پری نے حیرانی سے اسے دیکھا پھر سیل فون پکڑ لیا
اور حمزہ کا نمبر ڈائل کیا
” ہیلو شہروز” حمزہ کی اواز ابھری
” پری” پری نے کہا
” یہ نمبر تو….”
” ہاں میں ان کے ساتھ حیدرآباد آرہی ہوں چاہے کتنی بھی دیر ہوجائے حمزہ میرے آنے سے پہلے فضا کو نہیں لے کر جاؤ گے” پری نے کی بھر ائی
” ٹھیک ہے نکل گئے ہو تم لوگ؟”
” ہاں “
” ٹھیک ہے” حمزہ نے کہا
اور کال بند کردی
پری نے اس کا سیل فون اس کی طرف بڑھایا
جسے اسنے پکڑ لیا
پری کی آنکھوں سے آنسوں پھر سے بہنے لگے
وہ دوسری طرف منہ موڑے روتی رہی
اس کی ہچکیاں بند گئی مگر اسے صبر نہیں آرہا تھاآتا بھی کیسے فضا نے ہمیشہ ہر موڑ پر اس کا ساتھ دیا تھا
اور آج وہ بنا بتائے ہی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
” پری تجھے اب سچ بتا دینا چاہیے گھر والوں کو تو نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو نے صحیح راستہ اپنایا ہے”
فضا نے کہا
” نہیں فضا تو نہیں جانتی مجھے میرے گھر والے مار دیں گے” پری نے کہا
” میں ہوں نا تیرے ساتھ ہر موڑ پر کبھی تجھے اکیلہ نہیں چھوڑوں گی” فضا نے کہا
پری اتنا سنتے ہی اسکے گلے لگ گئی
” I love you Fiza”
پری نے کہا
” میں تیرا بوئے فرینڈ نہیں ہوں”
فضا نے مسکرا کر کہا
” تو تو سب سے بڑھ کر ہے میرے لیے” پری نے ہنس کر کہا
” I love you too”
فضا نے کہا اور قہقہانا انداز میں ہنس دی
❤️❤️❤️❤️❤️
(ماضی)
وہ جب گھر آئی تو سامنے ہی راہول کھڑا تھا
” میرے انتظار میں کھڑے تھے کیا؟” پری نے کہا
” ہاں” راہول نے کہا
” اچھا واہ” پری نے ہنس کر کہا
” اچھا پھوپھو کہاں ہے؟” پری نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا
” باہر گئی ہیں”
” اچھا” پری صوفے پر بیٹھ کر جوگرز کھولنے لگی
” پری ایک بات پوچھو سچ سچ جواب دینا”
راہول نے کہا
” ہاں پوچھو”
“تم قرآن کیوں پڑھتی ہو؟” راہول نے کہا
پری ایک دم جھٹکا لگا
اس نے حیرانی سے راہول کی طرف دیکھا
“تمہارے کمرے میں قرآن ہے جائے نماز ہے تسبیح ہے ان سب کا کیا مطلب سمجھوں میں؟”
پری نے ایک لمحے اپنی آنکھیں بند کی
” میں نے اسلام قبول کرلیا” اس نے یک دم کہا
” کیا؟ ” راہول چونکا
” پری تم جانتی ہو تم کیا کہ رہی ہو؟”
” ہاں میں سچ کہ رہی ہوں”
” کیا کہا تم نے؟” اس بار آواز پیچھے سے آئی تھی
دونوں نے یک دم اس طرف دیکھا
” پاپا” پری کے منہ سے نکلا
اس شخص کو دیکھ دونوں کے حواس اڑ گئے
جاری ہے