986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 10)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

(حال)
“آج میں کھانا بنانے میں مدد کرواؤں آپ کی؟”
پری نے کہا
” نہیں نہیں میں بنا لونگی” ملازمہ نے کہا
” اچھا بتائیں کھانے میں کیا بن رہا ہے؟”
” بریانی اور دم قیمہ، سبزی میں بھنڈی اور میٹھا بتایا نہیں ابھی اگر بیگم صاحبہ آجائیں گی تو بتا دیں گی ورنہ کچھ بھی بنا دونگی”
ملازمہ نے سوچ کر کہا
” جب دم قیمہ بن رہا ہے تو سبزی کیوں؟ اور اگر سبزی ہے تو دم قیمہ کیوں؟ “
پری نے کہا
” وہ چھوٹے صاحب ہیں نا وہ صرف چکن ہی کھاتے ہیں
اس لیے ان کے لیے سبزی”
ملازمہ نے سبزی کاٹتے ہوئے کہا
” اچھا “
” یہ کرتے کیا ہیں ؟”
” کون شہر یار صاحب؟”
” ہاں”
“وہ کچھ نہیں کرتے کبھی آفس چلے جاتے بڑے صاحب کے ساتھ دل کرتا ہے تو”
” اچھا چلو میں بناتی ہوں دم قیمہ آپ تھوڑا گائیڈ کیجیے گامجھے زیادہ کوکنگ نہیں آتی”
پری نے مسکرا کر کہا
اور ملازمہ کی مدد کرنے لگی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
( ماضی)
” یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟”
راہول نے اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر کہا
” کچھ نہیں کتاب ہے “
پری نے کہا
” وہ تو مجھے بھی دکھ رہی ہے”
” پھر پوچھا کیوں؟”
” ایسے ہی پوچھا ہے”
” اچھا بیٹھو تو کچھ بات کرنی ہے”
” ابھی نہیں بعد میں”
“نہیں ابھی کرنی ہے مجھے”
“اچھا میں فریش ہوکر آتی ہوں پھر کرتے ہیں”
” اوکے”
راہول نے کہا
اور وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
کمرے میں آتے ہی اس نے دروازہ لوک کیا
اور بیڈ پر بیٹھ گئی
کتاب اس کے ہاتھ میں تھی اس نے کتاب کی طرف دیکھا
اس سے پہلے کہ وہ اسے کھولتی اس کا فون بجنے لگا
” ہیلو”
” زین”
“اوہ آج میری یاد کیسے آگئ؟”
” کیوں میں تمہیں فون نہیں کرسکتا؟”
” کرسکتے ہو”
” اچھا بزی تو نہیں تھی؟”
” نہیں بلکل بھی نہیں”
” اچھا کل تم کچھ کہ رہی تھی یونیورسٹی میں”
“میں نہیں تو”
پری کو فوراً یاد آیا
اس نے زبان کو دانتوں تلے دبایا
” پری بتاؤ نا”
“کیا؟”
” کیا کہنا چاہتی تھی تم ؟”
” نہیں کچھ بھی نہیں”
” ٹھیک ہے میں کہ دیتا ہوں”
“کیا؟”
” I love you”
زین نے یک دم کہا
” What?”
پری کو حیرت کا جھٹکا لگا
” “I….mean….”
پری نے ہکلاتے ہوئے کہا جیسے اسے اپنے
کانوں کے سنے جانے پر یقین سا نہیں ہوا
“Am serious”
زین کی آواز میں سنجیدگی تھی
پری خاموش تھی اس کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کو
مگر اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
وہ لمحہ بھر خاموش رہی
پھر یک دم فون کاٹ دیا
اور اپنی اتھل پتھل ہونے والی سانسوں کو روکا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ اسماء کمرے میں گئی وہ وہاں نہیں تھی
وہ سیدھی بیڈ کے پاس گئی
سائیڈ ٹیبل کے دراز میں کچھ ڈھونڈنے لگی
جب اسے نہیں ملا تو تو اٹھ کر دوسرے سائیڈ پر گئی
درازکھول کر سامان یہاں وہاں کرنے لگی
آخر اسے وہ مل گیا جو وہ ڈھونڈ رہی تھی
وہ پیپرز اس کے ہاتھ میں تھے جسے اس نے کبھی دھیان سے پڑھنے کی زہمت نہیں کی تھی
وہ دم سادھے انہیں پڑھ رہی تھی
جب اسماء کمرے میں آئی
” کیا ہوا فضا؟”
اسماء نے فضا کو دیکھ کر حیرانی سے کہا
” مما…یہ…”
” کیا ہوا؟”
” مما شاہ کا نام شاہ زین تھا “
” ہاں مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
اسماء نے پوچھا
اور وہ بنا جواب دیے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی
اسماء حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ کچن میں جب آیا تو وہ کچھ کام کرنے میں مصروف تھی
بلیک شلوار قمیض سادہ سا لباس اور اوپرحجاب باندھے
وہ سادگی کا ہر انداز جھلکا رہی تھی
” Listen”
اس نے پکارا
وہ پلٹی تو سامنے اسے دیکھ کر ٹھٹھکی
” ایک گلاس پانی دو”
اس نے حکم دیا
وہ تھوڑی دیر اسے دیکھتی رہی
پھر فریج کی طرف خاموشی سے بڑھ گئی
” یار اتنا Slow کام کرتی ہو؟ مما بھی پتا نہیں کس کس کو رکھ لیتی ہے”
اس نے ناگواری سے کہا
پری نے سن کر بھی اس کی بات کو ان سنا کردیا
اور اس کی طرف گلاس بڑھایا
اس نے ایک نظر پری پر ڈالی پھر گلاس پکڑ لیا
اور وہ واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئی
اور وہ پانی کا گلاس لے کر وہاں سے چلا گیا…..
کھانے کی میز پر بیٹھی ندا بیگم نے ملازمہ کو پکارا
“جی “
ملازمہ نے کہا
“پری کہاں ہے؟”
“وہ جی کچن میں ہیں”
” کچن میں؟ کیوں؟”
” وہ جی میں نے بہت منا کیا تھا مگر وہ بضد تھی کھانا بنانے میں مدد کرنے کے لیے”
ملازمہ نے کہا
” اچھا بھیجو اسے”
” جی”
ملازمہ کہ کر چلی گئی
” Hey mom”
پیچھے سے آواز آئی
وہ بلو جینز پر بلیک شرٹ جیکٹ کے ساتھ
جوگرز پہنے اپنے ہی انداز میں چلتا آرہا تھا
” سنی آؤ کھانا لگ گیا”
” کیا بنا ہے موم؟”
اس نے ڈونگے کا ڈھکن کھولتے ہوئے کہا
تبھی پری بھی وہاں آگئی
” ارے بیٹھو بیٹا تم کچن میں کیوں گئی ملازمہ ہے سب کام کرنے کے لیے”
ندا نے کہا
اور شہروز نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا
وہ حیران تھا
ندا اس کی حیرانی کو سمجھ گئی تھی
” یہ پری ہے ہماری گیسٹ ہیں یہاں رہے گی اب۔۔۔۔
پری یہ میرا بیٹا ہے شہروز”
ندا بیگم نے تعرف کروایا
مگر وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا
اور شاید شرمندہ بھی تھا اسے ملازمہ سمجھنے پر…..
جاری ہے