986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 01)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

آج یونیورسٹی میں شوروغل ہونے وجہ سے بھی اسے خاموشی ہی لگ رہی تھی
کیونکہ اس کا دل اداس تھا
وہ سیڑھیوں پر بیٹھی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی
کہ فضا اس کے پاس آکر بیٹھ گئی
” کن سوچوں میں گم ہو بھئی؟” فضا نے کہا
” نہیں کچھ نہیں” اس نے بس اتنا کہا
” کیا ہوا ہے یار مجھے نہیں بتاؤ گی؟” فضا نے تجسس سے کہا
” کل میرے گھر میں پوجا ہے اور ساتھ ہی مجھے دیکھنے لڑکے والے آرہے ہیں”
اس نے مایوسی سے بتایا
” کیا پر ابھی تو تمہاری سٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی”
شادی نہیں کر رہے بس انگیجمنٹ
” پر تم تو….” فضا نے کچھ کہنا چاہا پر اس نے چپ رہنے کا اشارہ کردیا
فضا نے حیرانی سے اسے دیکھا جو اب سامنے دیکھ رہی تھی جہاں سے حمزہ اور زین آرہے تھے
وہ سمجھ گئی تھی اس نے اسے کیوں خاموش کروایا
” ہائی گرلز کیسی ہو تم لوگ ؟” زین نے اپنی ٹون میں کہا
اور وہ دونوں بھی وہیں سیڑھی پر بیٹھ گئے
” کہاں سے آرہے ہو تم دونوں” فضا نے پوچھا
” لڑکیاں چھیڑ کر… کیوں حمزہ” زین نے شرارت سے کہا
اور دونوں تالی مارتے ہوئے ہنسنے لگے
” بدتمیزوں کبھی پڑھائی بھی کرلیا کرو” فضا نے چڑ کر کہا
” تم لوگ کر رہے ہو نا کافی ہے” اس بار حمزہ نے جواب دیا
“اس کو کیا ہوا یہ چپ کیوں ہے آج؟” زین نے کہا
” موہن ورت تو نہیں رکھ لیا تم نے کہیں؟” حمزہ نے اسے چھیڑا
بدلے میں صرف ہلکا سا مسکرائی
” کیا بات ہے اداس لگ رہی ہو؟” زین نے سنجیدگی سے پوچھا
ناجانے کیوں اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی
اور جھٹ سے وہ اٹھ کھڑی ہوئی
” مجھے میم نوریں کے پاس جانا کچھ کام ہے ” کہتے ہوئے وہ وہاں سے نکل گئی
” اسے کیا ہوا؟ ” حمزہ نے کہا
” اس کے کل رشتے والے آرہے ہیں ” فضا نے کہا
” کیا؟ ” زین کو جھٹکا لگا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ یونیورسٹی سے آتے ہی صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی
تبھی راہول اس کے سامنے صوفے پر آکر بیٹھ گیا
اس کی نظر جیسے ہی پڑی وہ یک دم حیران ہوئی
پھر خود ہی چلا اٹھی خوشی سے
” راہول تم کب آئے؟”
“آج ہی آیا ہوں”
” اوہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں تم آرہے ہو؟”
” پھر سرپرائز کیسے کرتا تمہیں”
” میرے لیے کیا لائے ہو؟”
” تمہارا فیوریٹ پرفیوم اور چاکلیٹس”
” لاؤ دو”
“صبر رکھو ابھی میں نے بیگ نہیں کھولا “
“تو چلو کھولتے ہیں”
“ابھی تو یونیورسٹی سے آئی ہو کھانا کھاؤ فریش ہوجاؤ
پگلی ہو بلکل”
“ہاں چلو ٹھیک ہے میں روم میں جا رہی ہوں “
اسے جیسے کچھ یاد آیا
اور وہ اٹھ کر کمرے کی جانب چل دی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
فضا جب سے یونیورسٹی سے آئی تھی کمرے میں پڑی سوچ میں گم تھی
” میں نے تو کبھی اسے دیکھا تک نہیں سب کے گھروں میں رشتہ ہونے سے پہلے پوچھا جاتا ہے میرے گھر میں سب بچپن میں ہی ہوجاتا ہے کیوں آخر؟”
اس نے خود کلامی کی
” شاہ” بس یہ نام ہی تو سنا ہے میں نے”
” شاہ تم میری لائف کو دیمک کی طرح کھا رہے ہو”
” مجھے چھٹکارہ چاہیے اس نام سے اس شخص سے جس نے آج تک مجھے کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھا”
وہ سوچوں کے سمندر میں ڈوبتی چلی گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
“یار تو اس کو بتا کیوں نہیں دیتا؟”
حمزہ نے کہا
“نہیں بتا سکتا” اس نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا
“کیوں؟”
” کیوں کہ میں شادی شدہ ہوں” زین نے کہا
اور حمزہ کو جیسے جھٹکا لگا
” کیا؟ تو شادی شدہ ہے؟”
” ہاں مگر میری شادی میری مرضی سے نہیں ہوئی یار”
“مرضی ہو یا نہیں شادی تو ہوئی ہے نا تیری”
” مگر میں طلاق دے دوں گا میں فضا کو نہیں چھوڑ سکتا”
” فضا کو اگر پتا لگا تو شادی شدہ ہے تو”
” یہں سوچ کر تو آج تک میں نے اس سے کبھی اظہار نہیں کیا”
اس نے بے بسی سے کہا اور حمزہ خاموش رہا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” میں اسے کبھی بھی نہیں بتا سکتی کہ میں اسے پسند کرتی ہوں” اس نے فون پر کہا
“یار ایک بار بتانے میں کیا حرج ہے محبت تو نے جان بوجھ کر تو نہیں کی محبت تو ایسا جذبہ ہے جو خود پیدا ہوتا ہے”
فضا نے سمجھانا چاہا
” نہیں تو سمجھ نہیں رہی وہ کبھی نہیں مانے گا اور ہماری دوستی بھی ٹوٹ جائے گی جیسا چل رہا ہے چلنے دے”
اس نے کہا
” کل تیرے رشتے والے آرہے ہیں کچھ ٹائم بعد تو شادی بھی کر لینا ٹھیک ہے مگر محبت کا اظہار مت کرنا”
فضا نے غصہ سے کہا
” فضا تو بھول رہی ہے میں کون ہوں اور وہ کون ہے”
” مجھے یاد ہے مگر محبت کچھ نہیں دیکھتی پری
میری طرح اپنی زندگی خراب مت کر”
فضا نے کہا
اور وہ کتنی ہی دیر سس کی باتوں کو سوچتی رہی مگر اس میں شاید ہمت نہیں تھی