986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 08)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

“بیٹھو گاڑی میں” حمزہ نے اسے گاڑی میں بٹھاتے ہوئے کہا
اور خود نے ڈرائیونگ سیٹ سنمبھالی
وہ مسلسل روتی جا رہی تھی
حمزہ نے گاڑی اسٹارٹ کی
” میں نے تمہیں کہا تھا کوئی فائدہ نہیں اس سے ملنے کا”
حمزہ نے کہا
” پلیز پری چپ ہوجاؤ”
حمزہ نے دوبارہ کہا
” تمہیں سب معلوم تھا؟”
ری نے سوال کیا
” ہاں”
حمزہ نے شرمندگی سے کہا
” میں…مجھے بتایا کیوں نہیں”
پری نے شکوہ کیا
“میں تمہیں زین کی سچائی بتا کر تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا مین نے زین کو سمجھایا تھا مگر….”
حمزہ نے کہا
” فضا کو وہ کیوں تکلیف پہنچانا چاہتا تھا؟”
” کیونکہ اس نے فضا کو پروپوز کیا تھا مگر فضا نے اسے صاف منا کردیا تھا اسے انسلٹ محسوس ہوئی
پھر اسے جب معلوم ہوا کہ تم اس سے محبت کرتی ہو تو اس نے فضا سے بدلہ لینے کے لیے تمہیں نشانہ بنایا”
حمزہ نے بتایا
” فضا نے مجھے تو نہیں بتایا”
پری نے کہا
” کیوں کے وہ تمہیں دکھ نہیں دینا چاہتی تھی”
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
اور وہ خاموش ہوگئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی
آنسوں اس کی آنکھوں بہ رہے تھے
” شاہ تم نے ایک بار بھی مجھے دیکھنا نہیں چاہا
خیر میں کیوں رو رہی ہوں میں یہی تو چاہتی تھی
پھر اب مجھے دکھ کیوں ہو رہا ہے”
اس نے خود کلامی کی
اسے شدت سے سر میں درد محسوس ہوا
اس نے میڈیسن لی
اور پھر سے لیٹ گئی
مگر نیند اس سے شاید ناراض تھی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
“فضا کہاں ہے؟” زین نے پری سے پوچھا
“کلاس میں ہے”
پری نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا
” یہ پکڑو مجھے اس سے کام ہے”
زین نے اسے اپنا لیب کوٹ تھمایا اور اوپر کی طرف بھاگا
اس نے ایک نظر زین کو دیکھا پھر مسکرا دی
اس نے ہاتھ میں لیب کوٹ دیکھا
پھر اسے چہرے کے قریب کیا
ایک مہک اس کے اندر اترتی گئی
اس کی پرفیوم کی خوشبو سے کوٹ مہک رہا تھا
جانے کتنی ہی دیر وہ اس مہک کو اپنے اندر اتارتی رہی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ کتاب کے ورق پلٹ رہی تھی کہ زین کی آواز پر سر اٹھایا
جو اس کے سامنے کھڑا تھا
” کیا؟” فضا نے ناگواری سے کہا
” فضا تم مجھ سے اتنادور دور کیوں رہتی ہو؟”
زین کی آواز میں بیچارگی تھی
” دیکھو زین ہم صرف دوست ہیں پلیز ایسا نا ہو میں تم سے دوستی بھی ختم کردوں”
” فضا تم ایسا کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ؟”
” میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں”
اس نے اپنی بکس اٹھائی اور کھڑی ہوگئی
” فضا میں میں تم سے….”
وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی فضا کلاس سے نکل گئی
وہ اس کے پیچھے بھاگا
” فضا”
وہ سیڑھی اتر رہی تھی
کہ زین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا
” چھوڑو مجھے”
فضا گھبرا گئی تھی
” تم کیوں نہیں سمجھتی میں تم سے محبت کرتا ہوں “
زین نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
” زین چھوڑو مجھے کوئی آجائے گا”
” آجانے دو”
زین کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے”
فضا نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی
” میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں”
” میں نے کہا چھوڑو مجھے”
فضا نے خود سے پرے دھکیلا اسے
اور وہاں سے بھاگ گئی
اس نے مڑ کر نہیں دیکھا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” پری”
پیچھے سے آواز آنے پر وہ پلٹی
زین اس کے پیچھے کھڑا تھا
” ہاں”
پری نے مسکرا کر کہا
” میرا لیب کوٹ”
” ہاں یہ لو”
زین ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانو گے؟”
” نہیں کہو”
” میں تمہیں کیسی لگتی ہوں؟”
” مطلب؟”
” نہیں کچھ نہیں”
” بولو”
“پھر کبھی ابھی چلو”
کہ کر وہ اگے چل دی اور زین الجھ گیا تھا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” فضا میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں مگر”
پری نے کہا
” اسے بھول جا پری”
فضا نے کہا
” کیوں؟”
” بس میں کہ رہی ہوں نا”
“مگر وجہ”
” وجہ ضروری نہیں”
” کل میں تیرے گھر آؤں گی وہاں بیٹھ کر آرام سے بات کریں گے”
فضا نے اثبات میں سر ہلایا
” پری میں تجھے کچھ دینا چاہتی ہوں “
“کیا؟”
ایک کتاب ہے مگر وعدہ کر تو اسے پڑھے گی”
” ہاں وعدہ پڑھوں گی” پری نے مسکرا کر کہا
“تو کل میرے گھر آئے گی نا تب میں تجھے دوں گی”
“ٹھیک ہے مگر ایسا کیا ہے اس میں”
” تیری ہر پریشانی کا حل”
” اچھا پھر تو جلدی دے دے “
پری نے مسکرا کر کہا
بدلے میں فضا بھی مسکرا دی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
حمزہ نےاب گاڑی ایک بنگلے کے سامنے روک دی
پری نے اس کی طرف دیکھا
پھر اس نے ہارن بجایا اور گیٹ کھل گیا
اس نے گاڑی لے جا کر روک دی
” چلیں گھر آگیا” حمزہ نے مسکرا کر کہا
پری مسکرا نہیں سکی
بس گاڑی سے اتر گئی
وہ اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک عورت کھڑی تھی
انہیں دیکھتے ہی قریب آئی
حمزہ نے اسے سلام کیا
” آنٹی یہ پری ہے میری فرینڈ میں نے فون پر بتایا تھا آپ کو”
“اچھا آؤ اندر آؤ بیٹا”
” سمیہ ” اس عورت نے ملازمہ کو آواز دی
” جی”
چائے لے کر آؤ”
“جی”
کہ کر ملازمہ چلی گئی
“اور گھر پر سب ٹھیک تھے حمزہ؟”
” جی آنٹی سب ٹھیک تھے”
” آنٹی مجھے تو آرام کرنا ہے میں جا رہا ہوں اوپر”
حمزہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا
” اچھا بھئی جاؤ”
اس عورت نے ہنستے ہوئے کہا
” بیٹا تم بھی آرام کرلو میں چائے تمہارے روم بھجواتی ہوں”
” حمزہ اسے بھی روم دکھا دو”
اس عورت نے کہا اور کچن کی طرف بڑھ گئی
“آؤ پری”
حمزہ نے مسکرا کر کہا
” تمہاری آنٹی اکیلی رہتی ہیں؟” پری نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پوچھا
” نہیں انکل بھی ہیں ایک بیٹا ہے”
“بیٹی؟”
” بیٹی بھی تھی اس کی ڈیتھ ہوگئی کچھ سال پہلے
اسے کینسر تھا”
حمزہ نے بتایا
” میں اکثر یہاں آتا ہوں میں اس گھر کی ہر جگہ سے واقف ہوں مجھے بھی وہ اپنا بیٹا ہی سمجھتی ہیں”
اس نے کمرے کی جاتے ہوئے کہا
” یہ روم ہے تمہارا کسی چیز کی ضرورت ہو تو میڈ ہے
آنٹی کو بھی بتا سکتی ہو میں کل چلا جاؤں گا واپس”
“کیوں اتنی جلدی”
” میڈم اب آپ کو یہیں رہنا ہے میں کب تک رہوں گا یہاں میرے Final year کے Exams ہیں “
حمزہ نے کہا
” واؤ حمزہ تم تو ڈاکٹر بن گئے”
پری نے مسکرا کر کہا
” ہاں اب تو تم اور فضا مجھے ڈفر نہیں سمجھو گی”
حمزہ نےشرارت سے کہا
” نہیں “
پری نے ہنس کر کہا
“اچھا میں آرام کر رہا ہوں تم بھی کرلو”
کہتے ہوئے حمزہ جانے لگا
” حمزہ” پری نے پکارا
” ہاں”
حمزہ نے پلٹ کر دیکھا
” Thank you”
پری نے مسکرا کر کہا….