986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 12)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

( ماضی)
“تو نے کتاب پڑھی؟”
فضا نے پوچھا
” تو نے مجھے اپنی ہولی بک دے دی”
” قرآن پاک ہے وہ”
” ہاں مگر مجھے کیوں دی؟”
” پڑھنے کے لیے”
” فضا…”
“پڑھ کر تو دیکھ “
” اس سے کیا ہوگا؟”
” تجھے پریشانیوں کا حل مل جائے گا”
” اچھا”
پری نے کہا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(ماضی)
” زین اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟”
پری نے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
“اچھا میری یاد آرہی تھی؟”
پری نے پھر کہا زین خاموش بیٹھا تھا
پری نے اس کا پیار سےہاتھ پکڑا
زین نے یک دم اسے دیکھا
پھر جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا
” کیا ہے یار تم ہر وقت چپکتی رہتی ہو اپنا کام کرو جاؤ یہاں سے”
زین نے غصہ سے کہا
پری کی آنکھوں میں نمی تیر آئی
اسے زین کی بات سے بہت تکلیف ہوئی تھی
وہ فوراً کھڑی ہوئی اور وہاں سے تیزی سے بھاگی
زین اسے جاتا دیکھ سوچنے لگا کہ شاید اس نےاس کے ساتھ غلط کیا
” مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اس کے ساتھ”
زین نے خود کلامی کی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ اب سارے گھر میں ایسے گھومتی جیسے اس گھر کا فرد ہو، ندا بیگم نے بھی اسے اپنے گھر کا فرد ہی سمجھا
اس کی اچھائیاں کبھی کبھی ندا کو اپنی بیٹی کی یاد دلاتی…
شہریار سے اس دن کے بعد اس کی بات نہیں ہوئی
وہ گھر میں اس کی موجودگی میں کمرے میں ہی رہتی….
موسم بہت سرد تھا ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی
اور اتنی سردی میں جب نہا کر نکلی تو ٹھنڈ سے ہاتھ پاؤں برف ہونے لگے وہ کچن میں گئی بنا کر کپ میں ڈال رہی تھی تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا
وہ جنس پر ٹی شرٹ اور جیکٹ پہنے جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا اور اسے ہی دیکھ رہا تھا
” تم مجھسے اتنا دور کیوں بھاگتی ہو کیا میں اتنا معمولی ہوں؟”
اس نے اسے دیکھتے ہوے پوچھا
وہ چپ چاپ کپ اٹھا کر وہاں سے نکلنے لگی
کہ اس نےاس کا راستہ روکا
” کیا بد تمیزی ہے راستہ چھوڑیں میرا” پری نے کہا
“آ..ہاں….پہلے جواب دو” اس نے ڈھٹائی سے کہا
” ہیں دوں تو؟” پری نے سخت لہجے میں کہا
اس کی بات پر وہ مسکرایا
اور ہاتھ بڑھا کر اس کےہاتھ سے چائے کا کپ لے لیا
ایک گھونٹ بھرتے ہی اس نے اس چائے کے کپ کو دیکھا
” اچھی بنائی ہے چائے تو”
اس نے شرارت سے کہا
پری اسے حیرانی اسے دیکھ رہی تھی
پھر اس نے چائے کا کپ سائیڈ میں رکھ دیا
اور اس کے قریب آنے لگا وہ گھبرا کر پیچھے ہونے لگی
“اس ٹام کیوں نہائی تم؟” اس نے پری کے بھیگتے بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا
” What do you mean?”
پری نے اسے گھرتے ہوئے کہا
“کچھ نہیں”
کہ کر وہ اس کے چہرے پر آنے والی لٹوں کو ہٹانے لگاپری کرنٹ کھا کرپیچھے ہٹی
اور پاسرکھاچائےکا کپ اس پرالٹ دیا
یک دم اسکے منہ سے کراہ نکلی چائے گرم تھی
وہ پیچھے ہٹ کراپنا بازو جھاڑنے لگا
پری تیزی سےبھاگتی ہوئی کچن سے نکلی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
“یہ میں نے کیا کردیا؟” زین نے سوچا
رات گھنی گہری تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی آتی بھی کیسے فضا نے جو کچھ کہا تھا وہ کافی تھا اس کی نیند اڑانے کے لیے
” فضا یہ سب تمہاری وجہ سے ہواہے”
اس نے خود کلامی کی
” نہیں یہ سب میری وجہ سے ہوا ہےمیں نے جو پری کے ساتھ کیا” زین نے سوچا
” کتنا روئی تھی وہ مگر میں نے….میرے ساتھ بھی وہی ہوا
میں نے خود ہی اپنی زندگی….. پری تمہاری بددعامجھے لگ گئی”
اس نےسوچا اورآنسوں اس کی آنکھوں سے گرنے لگے
وہ اٹھ کر آئینے کےسامنے کھڑا ہوگیا
” کیا میں اتنا براہوں پری اور فضا دونو کی زندگی میں نے خراب کی ہے میں نے اپنی زندگی کو بھی نہیں چھوڑا”
” کیوں کیا میں نے ایسا میں اتنا خود گرز تو نہیں تھا
پھر میں نے ان دونو ے ساتھ….. یہ کیا کردیا میں نے ……”
اس نے غصہ میں ڈریسنگ پر رکھا سارا سامان جھٹکے سےزمین پر پھینکا
” کیوں کیے تھے میں نے سائن؟”
اس نے چیخ کر کہا اور اپنا ہاتھ سامنے شیشے پر پوری طاقت سے مارا
شیشہ ٹوٹنے سے اسکے ہاتھ سے خون نکلنے لگا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
اس نے کمرے کا دروازہ جلدی سے بند کیا
اور وہیں زمیں پر بیٹھ گئی
اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
” یا اللہ میں کہاں جاؤں؟ میرے لیے ہر طرف آزمائش ہیں مجھے راستہ دکھا”
اس نے دعا کی
کافی دیر رونے کے بعد اٹھی اور بیڈ کی طرف گئی
” مجھے یہاں نہیں رہنا میں چلی جاؤں گی یہاں سے….
مگر میں کہاں جاؤں؟”
اس نے خود کلامی کی
” کاش تم میرے ساتھ ایسا نہ کرتے زین مجھے سہارے کی ضرورت ہے مگر تم نہیں ہو مجھے تمہاری ضرورت ہے”
(میں تم سے محبت نہیں کرتا)
اسے جملہ یاد آیا
” I hate you zain”
اس نے زیر لب کہااور پھر آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(حال)
وہ یونیورسٹی سے نکل رہی تھی کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی میں بٹھایا
اور گاڑی اسٹارٹ کی
وہ پہچاننے میں دھوکا نہیں کھا سکتی تھی
وہ اور کوئی نہیں زین تھا
اسنے دیکھتے ہی ہاتھ چھڑوایا
” چھوڑو مجھے یہ کیا حرکت ہے زین”
فضا چیخی
” فضا میں نے جان بوجھ کر طلاق نہیں دی مجھے نہیں پتا تھا کہ تم سے نکاح ہوا تھا میرا….”
” زین جو بھی ہوا مجھے چھوڑو مجھے جانے دو”
فضا نے پھر کہا
” فضا ہم حلالہ کرلیں گے کسی مولوی سے بات کر کے دیکھیں گے ہمارا دوبارہ نکاح ہوجائے گا”
زین نے التجا کی
” نہیں میں تم سے نفرت کرتی ہوں میں تمہیں….”
کہتے کہتے فضا رک گئی
اور اپنے سر کو پکڑا درد سے اس کی آواز بند ہوگئی تھی
” فضا کیا ہوا تمہیں؟” زین نے اسے دیکھتے ہی پوچھا
مگر وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی وہ بے حوش ہوگئی تھی….