986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 06)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao

“کیوں ناراض ہے تو زین سے؟”
پری نے کہا
” نہیں ہوں ناراض” فضا نے بات ٹالی
وہ پری کو نہیں بتانا چاہتی تھی جو کچھ کل ہوا تھا وہ جانتی تھی پری کو تکلیف ہوگی
” پھر بھی بات کیا ہوئی…”
وہ اپنی بات پوری کرتی اس سے پہلے ہی اس کی نظر فضا پر پڑی
جو اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی
” کیا ہوا فضا تم ٹھیک ہو؟” پری گھبرائی
” سر میں درد ہے یار ” اس نے کہا
“چلو آؤ ہم ٹریٹمنٹ……”
” نو اٹس اوکے” وہ کہتی ہوئی کھڑی ہوگئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ بھاگتی بھاگتی تھک گئی تھی صبح کی ہلکی ہلکی روشنی نظر آنے لگی تھی
تھبی اس نے ایک گھر کا دروازہ بجایا کھلنے کا انتظار کرنے لگی
گلی میں اس وقت کوئی نہیں تھا
تھوڑی دیر دروازہ کھل گیا
” اسلام علیکم آنٹی”
اس نے کہا
“ارے تم بیٹا اس وقت یہاں؟” وہ حیران ہوئی
“آنٹی فضا؟”
” ہاں اندر ہی ہے آؤ”
وہ اندر آگئی
وہ اسے لاؤنج میں بٹھا کر چلی گئی
اور وہ فضا کا انتظار کرنے لگی
تھوڑی دیر میں کوئی اندر آیا
” پری؟” وہ فضا ہی تھی
ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ہلکی سی پونی باندھے
وہ اس کے سامنے کھڑی تھی
اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید ابھی سو کر اٹھی ہے
” فضا” وہ اسے دیکھتے ہی کھڑی ہوئی اور بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی
“پری تم کہاں تھی اتنے ٹائم سے ؟” فضا نے پریشانی سے پوچھا
وہ بس روتی چلی جا رہی تھی
” ہوا کیا ہے پری؟” فضا نے پھر پوچھا
“فضا میں ہار گئی ” وہ بس اتنا کہ سکی
“پری یہاں بیٹھ ہوا کیا ہے بتا؟” فضا نے اسے بٹھایا
” میں نے اسلام قبول کرلیا یہ بات میرے گھر والوں کو پتا چل گئی تھی انھوں نے مجھے قید کر دیا تھا… مجھے …”
وہ آگے بول نہیں سکی بس اپنا بازو فضا کے سامنے کر دیا
فضا کی نظر جیسے ہی اس کی بازوں پر پڑی اس کے حواس گم ہوگئے
اپنے منہ پر ہاتھ رکھے وہ اس کے بازوں کو دیکھ رہی تھی
جو جلایا گیا تھا
اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
” پری یہ…” وہ کچھ کہ نہیں سکی اور اسے گلے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
وہ پری سے بہت محبت کرتی تھی ایک ایسی دوست جو اس کے لیے بہت اہم تھی اس کی حالت دیکھ آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے
” ہم پولیس میں رپورٹ کروائیں گے”
فضا نے غصہ سے کہا
” نہیں نہیں فضا میں یہاں سے بہت دور جانا چاہتی ہوں
تو میرے پاپا کو نہیں جانتی “
وہ خوف زدہ تھی
“کہاں جائے گی؟” فضا نے کہا
” جہاں مجھے میرا نصیب لے جائے”
اس نے کہا
” نہیں تو رک میں سوچتی ہوں”
فضا پریشان تھی
“کچھ کھایا ہے تو نے؟” فضا کو جیسے یاد آیا
” مجھے بھوک نہیں ہے” اس نے کہا
” میں لاتی کچھ تیرے لیے”
کہ کر فضا باہر نکل گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ اکیلی بیٹھی تھی کہ وہاں زین آکر بیٹھ گیا
“فضا کہاں گئی؟”
اس نے آتے ہی پوچھا
” اس کے سر میں درد تھا تو…” اس نے کہا
” زین ایک بات پوچھوں؟” پری نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
” دو پوچھو” زین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
” تم کسی سے محبت کرتے ہو؟”
اس نے سوال کیا
” ہاں ” اس نے بس اتنا کہا
” کس سے؟”
پری نے پھر پوچھا
” تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
زین نے الٹا اسے کہا
” یونہی پوچھا ہے” وہ بوکھلائی
” کرتا ہوں مگر اس سے پتا نہیں میری شادی ہوگی بھی یا نہیں”
اس نے اداسی سے کہا
” یونیورسٹی کی ہے؟”
“ہاں”
اس نے بس اتنا کہا
” کون ہے؟”
اس نے مسکرا کر پوچھا
” سب آج ہی پوچھ لو گی؟”
زین نے ہنستے ہوئے کہا
” چلو لیکچر کا ٹائم ہوگیا”
کہ کر وہ کھڑا ہوگیا
اور وہ مسکرا کر اس کے پیچھے چل دی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
(کرتا ہوں مگر پتا نہیں اس سے میری شادی ہوگی بھی یا نہیں)
وہ بیڈ کرواؤن سے ٹیک لگائے سوچ رہی تھی
زین کا جملہ یاد آتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
” کیا زین میری بات کر رہا تھا؟” اس نے خود کلامی کی
” کیا مجھے زین کو بتا دینا چاہیے میں اس سے محبت کرتی ہوں؟”
اس نے سوچھا
” نہیں میں مسلمان نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ بات وہ جانتا ہے
شاید پھر بھی وہ مجھے پسند کرتا ہے “
” میں نے اسے کبھی بولنے کا موقع بھی تو نہیں دیا
مجھے بتا دینا چاہیے کہ میرے دل میں اس کے لیے کتنی محبت ہے”
وہ سوچ میں ڈوبی تھی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” مما اس نے بہت ظلم سہا ہے میں اسے اور اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی”
اس نے اسماء سے کہا
جو اس وقت ناشتہ بنا رہی تھی
” ہمیں اس کی help کرنی چاہیے…. مگر ہم اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے”
اسماء نے کہا
” ہاں مگر مما ہم اس کی کیسے مدد کریں؟”
فضا پریشان تھی
تبھی اس کے دماغ میں خیال آیا
” مما ہم اسے دادو کے پاس بھیج دیتے ہیں پنجاب “
فضا نے یک دم کہا
” نہیں فضا ہم اسے اپنے رشتے داروں میں بھیجیں گے تو پکڑے جائیں گے سب سے پہلے انویسٹیگیشن تمہاری ہوگی تم اس کی بیسٹ فرینڈ ہو”
اسماء نے سمجھایا
” تو پھر کیا کریں مما؟”
وہ پریشان ہوئی
تبھی اس کے دماغ میں آئیڈیا آیا
” مما میں حمزہ کو انوولو کروں تو”
“مگر وہ ہماری کیوں مدد کرے گا”
“کرے گا مما اس کی آنٹی لاہور میں رہتی ہے
اگر وہ کسی طرح پری کو وہاں شفٹ کردے صرف کچھ دن کے لیے تو ہمیں دوسری جگہ کا انتظام کرنے کا ائم مل جائے گا”
فضا نے کہا
” ہاں تم بات کر کے دیکھو جلدی”
اسماء نے کہا
اس نے جلدی سے نمبر ڈائل کیا حمزہ کا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
Exams ختم ہو چکے تھے
زین کے بار بار معافی مانگنے پر فضا نے اسے معاف کردیا تھا
مگر وہ اس سے کھچی کھچی ہی رہتی
اس کے دل میں زین کے لیے کوئی ایسے جذبات نہیں تھے
ہوتے بھی کیسے اسے معلوم تھا کہ پرینکا زین کو پسند کرتی ہے
اور اس خود کا نکاح ہوچکا ہے وہ زین کو کیا وہ کسی لڑکے کے لیے اپنے دل میں جذبات نہیں رکھتی تھی
وہ بس اس شخص سے چھٹکارا چاہتی تھی
جس کا نام وہ سننا تک نہیں چاہتی تھی
زین اسلام آباد جا چکا تھا
اور حمزہ بھی اپنے گھر چلا گیا تھا