Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 19)

Mera Ishq by Mahra Shah

” السلام علیکم ۔۔!! احد نے اندر آتے ہی سب کو سلام کیا ۔۔

“وعلیکم السلام آؤ بیٹا بہت خوشی کی بات ہے اچھے موقع پر آئے ہو ۔۔!! زافا نے اسے دیکھتے خوشی سے کہا ۔۔احد ان کی بات پہ نہ سمجھی سے دیکھا اور ساتھ ہی داريان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔ حنان زافا نے داريان احد کو بھی گھر کھانے پر بلایا تھا ۔۔

” کون سی خوشخبری ۔۔؟

” ارے بیٹا ہیر کی بات پکی ہو چکی ہے ماشاءالله سے بہت اچھے لوگ ہیں لڑکا تو لاکھوں میں ایک ہے ۔۔!! زافا تو شروع ہو گئی تھی ان کی تعریف پر ۔۔لیکن احد اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گا ۔۔ بے اختیار داريان کی طرف دیکھا وہ اسی اطمینان اور سکون سے بیٹھا تھا ۔۔

” آیان کو ہیر بہت پسند آئی ہے وہ چاہتا ہے ابھی صرف نکاح ہو ۔۔رخصتی دو سال بعد ہیر کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد ۔۔۔!! زافا نے مزید بتایا ۔۔۔۔ احد نے ضبط سے خود کو جلتا ہوا محسوس کیا ۔۔۔وہیں اوپر روم میں وہ عشق میں دیوانی تو جیسے مر گئی تھی کل سے رو رو کر خود کو بخار میں ڈالا ہوا تھا ۔۔

” میں چلتا ہوں مجھ کچھ کام ہے ۔۔!! حنان نے سنجیدگی سے اسے جاتے ہوئے دیکھا اسے وہ بہت عزیز تھا وہ اس کے زیادہ قریب رہا تھا ۔۔اس کے دل میں ایک خواہش بھی تھی جیسے وہ خود ہی توڑ گیا تھا ۔۔داريان نے ایک نظر حنان کو دیکھا تھا پھر اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا ۔۔۔

” بہت غلط کر رہے ہیں آپ لوگ بچوں کے ساتھ ۔۔!! زافا ایک نظر حنان پر ایک پُر شکوہ نگاہ ڈالتی اٹھ گئی ۔۔وہ گہرا سانس لیتا رہ گیا ۔۔۔

★★★★

” کیا بدتمیزی تھی احد اس طرح اٹھ کر کیوں آ گئے ۔۔ کیا سوچیں گے وہ ۔۔!! داريان غصے میں گھور تے ہوئے کہا اسے ۔۔۔

” سوچتے ہی تو نہیں آپ لوگ ۔۔۔ ڈیڈ آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ ۔۔۔!! دکھ سے داريان سے کہا ضبط سے سرخ آنکھیں جلنے لگی تھی ۔۔

” جب تم نے ہی نہیں سوچا خود کا تو میں سوچ کر کیا کروں گا ۔۔۔!!

” ڈیڈ پلیز روک دیں یہ سب ورنہ میں بہت کچھ برا کر جاؤں گا ۔۔!! احد چلتا داريان کے سامنے آتے غصے میں دھمکی دی ۔۔

” تم کوئی تماشا نہیں کرو گے ۔۔!! داريان سخت لہجے میں کہا ۔۔

” میں اسے خود کو مار دوں گا ۔۔۔ نہیں تو وہ لڑکا ۔۔جو بھی بیچ میں آیا تو ۔۔۔!! احد نے اس سے بھی زیادہ سختی سے کہا تھا ۔۔

” تم حنان زافا کی محبت کا یہ صلہ دو گے انھیں ۔۔ایک بد نامی ۔۔ تم بیرونِ ملک نہیں پاکستان میں ہو یہاں کا ماحول اچھے سے جانتے ہو ۔۔!! داريان نے اسے اچھے سے آئینہ دیکھاتے ہوئے بہت کچھ باور کروایا تھا ۔۔۔

★★★★

ہیر جیسے ہی روم میں آئی دروازہ بند کرتے جیسے ہی موڑی اس سے پہلے اس کی چیخ پورے گھر میں گونج اٹھتی ایک بھاری ہاتھ اس کا گلہ گھونٹ گیا ۔۔ ہیر خوف سے پھیلی آنکھوں سے سامنے خون خوار شدید غصے میں احد کو دیکھا ۔۔۔ اس کی تو دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی آنکھوں میں نمكین پانی جمع ہو گیا تھا ۔۔

” بہت مزہ آرہا ہے تمہیں یہ سب کھیل کھلتے ہوئے ۔۔ میری بےبسی کا تماشا بنا رہی ہو ۔۔۔!! احد شدید سخت غصہ میں تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کچھ کر دے ۔۔۔ اپنا چہرہ اس کی خوف زدہ آنکھوں کے بے حد قریب لاتے ہوئے غرایا تھا ۔۔۔۔ ہیر کی تو سانسیں تھمنے لگی تھیں اس کی گرفت بہت سخت تھی اپنے بازو اور منہ پر اسے لگا اگر اسنے نہیں چھوڑا وہ واقعی مر جائے گی ۔۔۔ آنسو تیزی سے بہنے لگے تھے ۔۔ احد اس کے چہرے پر پھیلتی تکلیف کے تاثر دیکھتے جلد اپنی بے اختیاری کا خیال آیا دور ہوا ۔۔لیکن دونوں ہاتھوں سے اس کے بازوں کو تھام کر ہلکی سے گرفت مضبوط بنائی ۔۔ ہیر گہرے سانس لیتی پھر اچانک اس کی قربت میں سانس روکے کھڑی تھی اس کی گرم سانسیں اس کا چہرہ لال کر گئی تھیں اس کا تمام خون چہرے پر سمٹ آیا ۔۔۔ پلکیں اٹھانا محال ہو گیا تھا ۔۔احد نے خود کو اس کی قربت میں ڈوبتا ہوا پایا ۔۔۔دونوں کے بیچ کچھ لمحے معنی خیز خاموشی تھی اندر ہی اندر ایک دوسرے سے جنگ لڑ رہے تھے ۔۔۔۔

” ہیر پلیز مت کرو میرے ساتھ ایسا ۔۔۔” احد نے تھک ہار کے اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکا دی دونوں نے آنکھیں موڑ لی بہت ٹوٹے لہجے میں بولا تھا ہیر تو تڑپ اٹھی تھی اسے اس حال میں دیکھ کر لیکن اس کی قربت اس کی بولتی بند کئے ہوئے تھی ۔۔۔ تیز دھڑکنیں اپنے کانوں میں سنائی دی اس خاموش ماحول میں صرف ان کی دھڑکنوں کا شور تھا ۔۔

” تمہیں دیکھتا ہوں تو خود کو بھول جاتا ہوں “

” میں تمہارے عشق میں مر گیا ہوں ۔۔ میرا عشق قبول کر لو۔۔”

وہ ہلکی سرگوشی کرتے ہوئے تھوڑا پیچھے ہوا تھا وہ اسی شرم گھبراہٹ میں اپنی دھڑکنوں پر قابو پانے لگی ۔۔۔

” حدی پلیز جائیں یہاں سے ۔۔!! وہ بھیگی نگاہ اٹھائی اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے پرے کیا ۔۔وہ خود ایک قدم پیچھے ہوا لیکن قریب ابھی تک تھا اسے راستہ پھر بھی نہیں دیا جانے کا وہ بےبسی سے اسے دیکھ کر رہ گئی ۔۔۔

” اب نہیں ہیر بہت بڑی غلطی کی تمہیں خود سے دور کر کے لیکن اب نہیں ۔۔۔!! وہ نفی کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ہیر تو بس اس ستمگر کو دیکھتی رہ گئی ۔۔ کیا ہو جاتا اگر اظہارِ محبت ہی کر دیتا وہ تو خود ہی اس کے آگے بڑھ جاتی ۔۔

” ڈیڈ نے پہلی بار کچھ مانگا ہے میں انھیں مایوس نہیں کروں گی اور ویسے بھی ماں باپ کا فیصلہ کبھی برا نہیں ہوتا وہ اپنی اولاد کے لئے اچھا ہی سوچتے ہیں ۔۔ ڈیڈ نے بھی کچھ اچھا ہی سوچا ہو گا میرے لئے ۔۔!! ہیر مظبوط لہجے میں کہتی آگے بڑھ تھی کہ اس کا ہاتھ پھر اس کی مضبوط گرفت میں آ تھا ۔۔۔

” تم رہ لو گی میرے بغیر کسی اور کے ساتھ یہ تھی تمہاری محبت بس ۔۔۔!! وہ طنزیہ وار کرنے لگا تھا ۔۔۔ ہیر اندر سے کتنی ٹوٹی ہوئی تھی یہ وہی جانتی تھی خود پر ضبط کرنا بہت مشکل تھا ۔۔۔

” ہاں یہی تھی کیوں کے اسے بھی آپ نے ہی ختم کیا ہے ۔۔ اور صحیح کہتے ہیں آپ میں واقعی نہیں جی سکتی آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ اس ہیر کو خود ہی مار چکے ہیں اپنے ہاتھوں سے اس کا دل نکالا تھا آپ نے اسے اس کی اوقات دکھائی تھی آپ نے ۔۔۔۔!!!

” بس ہیر پلیز بس کردو میں مانتا ہوں میں نے غلطی کی ہے میں شرمندہ ہوں یار لیکن مجھے یہ ہرگز منظور نہیں تم کسی اور سے نکاح کرو کسی اور کی ہو جاؤ ۔۔۔ تم نہیں رہو گی خوش نہ میں نہ آیان نہ تم ۔۔ پلیز مت کرو اتنی زندگیاں برباد ۔۔!! ہیر روتے ہوئے کہتی جا رہی تھی کے احد نے بول کر اسے چپ کروا دیا خود بےبسی کی آخری سیڑھی پر کھڑا تھا ۔۔ وہ جو اسے روکنے آیا تھا لیکن اس کے انداز لب و لہجے سے احد کو لگا وہ نہیں روکے گی ۔۔اور یہی ہوا آخری لفظ کہتی واش روم میں بند ہو گئی وہ بےبس سا کھڑا اپنی موٹھیاں بھینچ گیا ۔۔۔

” میں پہلے ہی برباد ہو چکی ہوں ۔۔!!

” میں ہی تمہیں آباد کرو گا ہیر ۔۔!! یہ آخری لفظ تھے دونوں کے بیچ ۔۔ کیسے اذیتوں آزمائشوں کے بیچ سمندر میں گرے ہوئے تھے اتنے ٹوٹی ہارے عشق میں بےبس کھڑے تھے چاہا کر بھی ایک نہیں ہو پا رہے تھے ایک مجبوری کی راہ پر تھا تو دوسرا محبوب کو منانے کی آزمائش میں ۔۔۔

” وہ اس سے دور بھاگنے والا اب اس کے عشق میں مر بیٹھا ہے”

” وہ اس کے عشق میں دیوانی اس کے قریب آنے کو تڑپتی تھی اب اپنوں کی محبت میں اس سے دور بھاگنے لگی ہے “

★★★★

نکاح جمعہ کو رکھا گیا تھا ان کے بیچ اس بات کو ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا احد جو اپنے کسی اہم کردار کو نبھانے کہیں غائب ہو گیا تھا ۔۔ جیسے دیکھنے کے لئے ہیر کی آنکھیں تڑپ رہی تھی وہ ظالم کہیں نہیں تھا آج اس کا نکاح تھا ۔۔اس کا دل کیا وہ کہیں مر جائے کہیں چھپ جائے پر یہ نکاح نہ ہو باپ کی خاطر ہاں تو کہ دیا تھا لیکن سب نبھانا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔ کہنا بہت آسان تھا نبھانا بہت مشکل تھا ۔۔۔ اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی بار بار ہاتھوں کو مسلتے ہوئے وہ خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر یہ گھڑی بہت مشکل تھی اس کے لئے ۔۔وہ اپنے روم میں بیٹھی کو خود کو بہت سمجھا رہی تھی جو ہو رہا ہے اس اپنا نصیب سمجھ کر قبول کر لے ۔۔۔ تبھی دروازہ کھلا کوئی اندر آیا تھا ہیر پوری طرح لرز رہی تھی اس کے کانوں میں حنان زافا کی آواز آئی وہ لوگ شاید مولوی صاحب کو لے آئے تھے ساتھ ۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے تھے ۔۔ اس کا دل کیا وہ بھاگ کر احد کے پاس پہنچ جائے وہ نہیں سوچ سکتی کسی اور کا وہ کیسے رہے گی اس کے بغیر ۔۔ وہ آج مر جائے گی لیکن موت بھی نہیں آرہی تھی اسے کیوں ۔۔ضبط سے رونے سے سرخ آنکھیں اندر چیخوں کا شور اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا اسے لگا وہ مر گئی ہے ۔۔ یہ بے جان وجود ان کے سامنے ہے اسے کچھ سنائی نہیں دیا مولوی صاحب کس کے نام کر رہے تھے اسے وہ کس کی ہو چکی ہے زافا کے ہلانے سے کہنے پر قبول ہے بمشکل نکل رہے تھے لفظ اس کے منہ سے لرز تے ہاتھوں سے حنان نے اس کا ہاتھ تھام کر سائن کروائے تھے ۔۔وہ پوری ٹھنڈی پڑ گئی تھی اپنا بوجھ سنبھالا نہیں جا رہا تھا زافا نے اسے گلے لگایا ہوا تھا وہ جیسے ہی پیچھے ہوئی ہیر لہراتی بیڈ پر گری ۔۔ اسے کچھ ہوش نہیں تھا کیا ہو رہا تھا کیا ہوا تھا کس کس کی آوازیں آرہی تھیں کچھ بھی نہیں اس نے تو یہ بھی محسوس نہیں کیا تھا آیان کے گھر سے کوئی نہیں تھا اس کے بیچ اسکے پاس صرف اس کے گھر والے تھے ۔۔اپنے تھے جن کی خاطر وہ آج خود کو قربان کر گئی تھی ۔۔۔

خوبصورت سے ہاف وائٹ لانگ فراک میں ہلکے سے میک اپ میں خوبصورت سی گول نتھ میں وہ بے انتہا حسین دو شیزہ لگ رہی تھی ۔۔۔

” ہیر ہیر میری جان آنکھیں کھولو میرا بچہ ہیر ۔۔!! زافا حنان کی یہ آخری آوازیں اس کے کانوں میں گونجی تھیں ۔۔۔ اس کا اتنا پیارا خوبصورت روپ کسی کو ایسے دیکھنا نصیب ہوگا اس نے سوچا نہیں تھا ابھی تو دل کے راستے اسے اتارنا تھا بہت خوبصورت تحفہ نوازنا تھا لیکن اس بیچاری کو کیا خبر تھی اس کے ساتھ کتنا حسین اتفاق ہوا تھا ۔۔۔ کاش کے وہ ہوش میں ہوتی ۔۔۔

★★★★

” کیا ہوا ہے ہیر ٹھیک ہو بیٹا ۔۔!! زافا پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا وہ اب نارمل گھر کے سمپل سی شارٹ ٹراؤزر میں کھولے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔اس روپ میں بھی بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔ اس کا بی پی لو ہو گیا تھا ڈاکٹر نے بہت خیال اور کسی پریشانی سے دور رکھنے کو کہا تھا انھیں سب ہی ابھی تک پریشان تھے اس کی حالت پر نکاح دن کو ہوا تھا اب رات کے بارہ بج رہے تھے زافا کب سے اس کے ساتھ تھی اور وہ بس خاموش سی ہو گئی تھی جیسے زندگی میں سارے رنگ ہی ختم ہو گئے تھے اس کے لئے ۔۔وہ رہ رہ کر وہ پل یاد آ رھے تھے جب جب احد اسے ملنے آتا تھا اس سے معافی مانگنے لگتا تھا ۔۔۔

” ماما میں ٹھیک ہوں آپ پلیز جا کے آرام کریں ڈیڈ کو بھی دیکھیں وہ پریشان ہوں گے اب میں ٹھیک ہوں آپ لوگ پلیز پریشان نہ ہوں آرام کریں میں اکیلے رہنا چاہتی ہوں پلیز ۔۔۔!! ہیر تھکی ہوئی لگ رہی تھی زافا نے کچھ کہنا چاہا لیکن چپ ہو کر کسی کو بھیجنے کا سوچتے روم سے نکل گئی ۔۔۔ ہیر گہرا سانس لیتی بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی پر جا کے کھڑی ہو گئی ٹھنڈی ہوا میں سانس لیتی وہ بہتر محسوس کرنے لگی لیکن دل تھا چین نہیں آ رہا تھا مچل رہا تھا اس کے لئے تڑپ رہا تھا ۔۔وہ بہت آرام سے روم کا دروازہ کھولتے اندر آیا پھر آرام سے دروازہ بند کرتے اس کی طرف دیکھا جس کی پشت تھی اس کی طرف ۔۔وہ ننگے پاؤں بغیر دوپٹہ کیے کھڑکی کے آگے کھڑی آنکھیں موندے ہوئے تھی ۔۔ وہ اس کی موجودگی سے بے خبر تھی ۔۔ اسے دیکھتے اُس کے چہرے پر بہت دلکش مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

” یا اللّٰہ میرے ہی ساتھ ایسا کیوں ہوا میں نے کبھی کسی کا برا بھی نہیں چاہا ہمیشہ سب کے لئے دعا کی اپنے لئے کیا مانگا تھا صرف وہ ایک شخص ۔۔ اور آج میں نے سب کچھ کھو دیا ۔۔ اگر قسمت میں نہیں لکھا تھا وہ شخص تو کیوں اس کے لئے میرے دل میں محبت پیدا ہوئی ۔۔ کیوں میں ایک لاحاصل محبت کر بیٹھی کیوں اللّٰہ میں ہی کیوں ۔۔۔!! ہیر شدت سے روتے ہوئے شکوے کرنے لگی تھی دونوں ہاتھ منہ پر رکھے روتے ہوئے اس کے لئے تڑپ رہی تھی جس کو اب سوچنا دیکھنا اس کے لئے گناہ تھا ۔۔ اس کا ہمیشہ ہی اس کے اظہار پر دل دھڑک اٹھتا تھا اور آج بہت خوبصورت احساس سکون سا اتر گیا تھا اس کے اندر ۔۔لیکن اسے تڑپا کر خود بھی کہاں سکون میں رہا تھا آج بھی اس کا رونا اسے تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔

” اتنے شکوے اچھے نہیں ہوتے جان ِ من ۔۔۔!! وہ بہت محبت اور نرمی سے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتا اس کے کان میں سرگوشی کی چہرہ اس کے بالوں میں چھپا لیا تھا ۔۔۔ ہیر پوری جی جان سے کانپ گئی تھی اس لمس حصار پر ۔۔۔ دھڑکنیں تیز ہوتیں جیسے رک سی گئی تھیں ۔۔۔

” حد ۔۔۔۔۔۔شش ۔۔۔” تیزی سے جیسے ہی اس کا حصار توڑ کر موڑی تھی کہ اچانک پیچھے کھڑکی سے گرنے کو تھی احد نے تیزی سے اسے کمر سے تھام کر خود کے قریب کر دیا ۔۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھتے ہوئے کچھ کہنا چاہا تھا کہ احد نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولنے سے باز رکھا اس کی نم دلکش آنکھیں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو بہت دلچسبی سے اس کے اڑتے ہوئے رنگ دیکھ رہا تھا ۔۔۔ احد نے بہت نرمی سے اس کے چہرے سے بال ہٹا کر پیچھے کیے ۔۔

” حدی چھوڑیں آپ کیا کر رہے ہیں پاگل تو نہیں ہو گئے آپ ۔۔۔!! وہ جی جان سے تڑپ گئی تھی اس کے لمس پر ۔۔ اس کا ایک ہاتھ اس کے چہرے دوسرا اس کی کمر میں تھا بے حد قریب کھڑی تھی اس کے سانس تک نہیں لے پا رہی تھی اس کے حصار میں ۔۔۔وہ بہت اطمینان سے جھک کر اس کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی تھی ۔۔۔ ہیر حصار توڑتی تیزی سے آگے بڑھی تھی اسی تیزی سے احد نے بھی اسے اپنے بے حد قریب کر لیا تھا اس کے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر تھے اس بار گرفت سخت تھی ۔۔ ہیر کو تو اس کا روپ ہی بہت الگ لگا وہ اسے خوف زدہ کر رہا تھا دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی تھیں ۔۔۔

” اب تو حق رکھتا ہوں میری جان ۔۔۔”

” کک ۔کیا بکواس ہے مم ۔۔ میرا نکاح ہو چکا ہے میں کسی اور کی ہو ں اب ۔۔ آپ کا کوئی حق نہیں ۔۔ مجھے چھونے کا یہ حق اب کسی اور کے پاس ہے ۔۔۔ آپ کیوں غلط کر رہے ہیں ۔۔ پلیز مت گناہگار کریں ۔۔۔” وہ شدت سے رو پڑی اپنی بےبسی پر اپنے کمزور ہونے پر ۔۔

” جسے یہ سارے حق دیے گئے ہیں وہی اپنا حق وصول کر رہا ہے وہی چھو رہا ہے جسے یہ حق حاصل ہے ۔۔۔” احد بہت سکون سے کہتا اسے بے سکون کر گیا تھا سنسناہٹ اس کے وجود میں دوڑ گئی ۔۔

” آ ۔آپ یہ کیا کہ رہے ہیں ۔۔!! کانپتی آواز میں بولی ۔۔۔

” وہی جو سچ ہے میری جان کاش کے تم اس وقت حاضر دماغ ہوتی جب میرا نام لیا جا رہا تھا تمہیں میرے نام کیا جا رہا تھا ۔۔۔” احد نے شرارت سے کہتے اس کے بہتے آنسو صاف کئے وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھے گئی جیسے کوئی خواب ہو اور اب ٹوٹ جائے گا ۔۔۔ کیا اتنا خوبصورت معجزہ ہوا تھا اس کے ساتھ یہ سچ تھا وہ یقین کرنا چاہتی تھی ۔۔اس کی دعا قبول ہو گئی تھی ۔۔وہ اس کا تھا ۔۔

” آ ۔آپ سس ۔۔سچ کہ رہیں ہے مم ۔۔میں آپ کے نکاح میں ہوں ۔۔۔” وہ لرزتے ہوئے خوف زدہ سی لگی اس کے لفظ بڑی مشکل سے ادا ہو رھے تھے ۔۔ ہیر حیرت بے یقینی سے اسے دیکھ کر پوچھا ۔۔دل نے شدت سے خواہش کی ۔۔ یہ سچ ہو وہ ہاں بول دے ۔۔۔ اور یہی ہوا جس کا انتظار تھا اس کے اثبات میں سر ہلاتے چہرے پر بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔۔۔ہیر بےاختیار اس کے گلے لگا کر مظبوطی سے اس کی شرٹ تھام کر شدت سے رونے لگی ۔۔احد نے بھی اسے خود میں بھینچ لیا تھا دونوں کتنی ہی دیر یونہی ایک دوسرے کے گلے لگے ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے اتنے دنوں کی تڑپ اتنی شدت سی محبت میں خود کو بھول ہی بیٹھے تھے ہیر کی رو رو کر ہی آنکھیں سوج گئی تھی احد سے اب اس کا رونا برداشت نہیں ہوا نرمی سے اسے خود سے الگ کیا ۔۔۔

” بس بہت رو لیا ہیر اب نہیں ۔۔بہت رو لیا ہجرِ یار جدائی میں اب صرف عشق بہار میں ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھنا ہے ۔۔!! احد نے اسے بیڈ پر بیٹھا کر پانی پلاتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام کر وہیں ساتھ بیٹھ گیا اسے سمجھانے لگا وہ سوں سوں کرتے ہوئے اسے ہی اپنی آنکھوں سے دل میں اتار رہی تھی کتنی دیوانی تھی اس کے عشق میں وہ آج احد کو شدت سے احساس ہوا لیکن ملن کی کھڑی ابھی بھی دور تھی ہجر کے آنسو ابھی باقی تھے ۔۔۔

” یہ سب کوئی حسین خواب تو نہیں ہے نا پلیز کہہ دیں سچ ہے یہ سب آپ آپ سچ میں ہیں میں سچ میں آپ کی ہوں آپ صرف میرے ہیں ۔۔!! وہ پھر صدمہ کی کیفیت سے بولی تھی ۔۔۔

” یہ کوئی خواب نہیں یہ بہت خوبصورت حقیقت ہے میری جان ۔۔۔ تم صرف احد خان کی ہوں مسز احد ۔۔تمہاری محبت میں بہت شدت تھی ہیر ۔۔اور آج میرا عشق کامل یقین ہو گیا تم بہت حسین حقیقت ہو میری ۔۔۔!! احد کے لہجے میں صرف محبت ہی محبت تھی ۔۔۔

” لیکن یہ سب کیسے ہوا ۔۔؟ ہیر سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔

” مت پوچھو یار کتنے فراڈ ہیں ہمارے گھر والے گیم کھیل رہے تھے مجھے پاگل ہی کردیا تھا تمہارے عشق میں ۔۔۔یہ سب آریان زویا کا پلین تھا وہ جان بوجھ کر ہمیں بیوقوف بناتے رہے اور میں یہاں میرا عشق کی چکر میں اس بیچارے آیان کو نکاح والے دن کڈنیپ کروایا سوچا دیر ہو گیی پھر ڈیڈ بولیں گے اب تم کر لو نکاح ۔۔لیکن انہوں نے مجھے خود ہی بلایا اور بہت اچھے مان سے میری نکاح کی رسم کر رہے تھے ویڈیو کال پر زویا آریان کی چمکتی آنکھوں میں دیکھ کر سمجھ گیا میں ۔۔ یہ تھی ہمارے ہماری نفرت سے عشق تک کی داستان ۔۔۔۔ احد تھک گیا تھا بیڈ پرلیٹ کر ساتھ ہیر کو بھی لِٹا کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا اور پھر اسے اپنے ساتھ ہوئی کہانی بتانے لگا تھا آخر میں دونوں ہی ہنس دیے ۔۔۔

” ان کی شرارت میں مجھے کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔!! ہیر گھورتے ہوئے بولی ۔۔

” مت پوچھو کتنا لڑا ہوں اس بات پر سب سے ڈیڈ نے بھی خوب لی کلاس ان کی جب تم بےہوش ہو گئی تھی جان ہی نکال دی تھی میری تو ۔۔ اب ایسا کچھ نہیں کرنا سمجھی مسز احد ۔۔!! احد اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے آخر میں رعب سے کہا تھا ۔۔۔

” بہت خوش ہوں بہت شکر گزار ہوں الله تعالیٰ کی انہوں نے وہی دیا جو میرے دل میری روح میں سما چکے تھے ۔۔اب آپ مجھ سے لڑیں گے نہیں ڈانٹیں گے بھی نہیں ۔۔!! ہیر بہت پیارے معصومانہ انداز میں کہتی اسے شرارت کرنے پر مجبور کر گی ۔۔وہ سرخ چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی احد نے زندگی سے بھرپور قہقہہ لگایا ۔۔۔

اگلے کچھ روز بعد احد کو اپنے مشن پر نکالنا پڑا شروع شروع میں وہ تھوڑی بہت بات کر لیتا تھا ہیر سے پھر کچھ عرصے تک ان کا رابطہ تک نہیں ہو پایا تھا ہیر تو پھر سے جیسے ٹوٹ گئی تھی محبت میں ہار گئی تھی اسے لگا احد پھر دور چلا گیا ہے اس سے دور اور پھر کچھ عرصے بعد وہ واپس آیا ان کی زندگی میں لیکن وہ لندن میں تھا ہیر سے بہت بار بات کرنی کی کوشش کی تھی لیکن اس بار وہ بہت سخت ناراض ہوئی تھی لیکن کب تک ہوتی وہ تو اس کے عشق میں دیوانی ۔۔۔ آریان نے ہیر کو لندن آنے کو کہا اس نے پھر ان کے بیچ تھوڑی لڑائی کروانے کی سوچی اپنی بیوی کا بولتے احد کو اس کے پیچھے تھا یہ کہتے بلایا تا کہ ان کے بیچ بات ہو پائے حنان ناراض تھا احد سے اس لئے آریان کو ہیر کا یہاں آنا سہی لگا ۔۔ایک تو ویسے ہی اسے اپنی بے چین روح نے تنگ کیا ہوا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *