Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 07)

Mera Ishq by Mahra Shah

عروبہ جیسے ہوش میں آئی وہ خود کو نئی جگہ دیکھتے ہوئے پورے روم میں نظر ڈالی روم بہت خوبصورت تھا دیواریں وائٹ باقی ہر رکھی ہوئی چیزیں بلیک تھی اسنے اپنے لیفٹ سائیڈ نظر دوڑائی تو اسکی تصویر پر اٹک گئی وہ سمجھ گئی وہ کہاں ہے اسنے تصویر کو دیکھتے ہوئے کروٹ اس سائیڈ پر غور سے اس تصویر کو دیکھا جو بلیک ہی ڈریس میں بلیک کار کے ساتھ بے حد وجیہہ لگ رہا تھا بہت ہینڈسم عروبہ کے دل نے بیٹ مس کی تھی وہ آج اپنے دل میں اعتراف کر رہی تھی اسے اس کھڑوس شخص سے محبت ہوگئی ہے پر وہ اسے ہمیشہ ہرٹ کر جاتا ہے وہ اس تصویر پر نظریں ٹکائے سوچوں میں گم تھی کے روم کا دروازہ کھلا وہ مضبوط قدم اٹھاتا وہاں اسکے تھوڑے فاصلے پر رک گیا دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے اسکے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔ عروبہ کو اسے دیکھتے وہ سب یاد آنے لگا غصے میں نم آنکھوں میں خفگی لیے دوسری سائیڈ کروٹ لیکے چہرہ موڑ گئی ۔۔۔ اسکی معصوم ادا ناراضگی پر اسکے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ آئی جیسے وہ پل میں چھپا گیا ۔۔

“میرے ہی گھر میں اتنے نخرے ۔۔!! وہ گهمبیر آواز میں بولا ۔۔

” ہم نے نہیں کہا تھا ہمیں یہاں لاۓ چھوڑ دیتے وہی مرنے کیوں بچایا ہمیں ۔۔!! وہ ناراضگی سے شکوہ کر رہی تھی ۔۔

” تم بیویوں کی طرح کیوں حق جتا رہی ہوں ہمارے بیچ تو ایسا کوئی رشتہ نہیں پھر اس ناراضگی شکوے کی وجہ ۔۔!! وہ سنجیدگی سے کہتا اسے پھر ہرٹ کر گیا وہ کچھ سوچ کر اور اٹھ کر گہرا سانس لیتے کہا ۔۔

” سہی کہا آپ نے ۔۔ ہم اجنبی ہیں ہمیں فری نہیں ہونا چاہیے ۔۔ لیکن ہم شکریہ بھی نہیں کہیں گے کیوں کے آپ نے اپنے مطلب کے لئے ہمیں بچایا تھا حساب برابر ۔۔!! وہ اٹھ کر اسکے سامنے آتے ہوئے دل جلا نے والی مسکراہٹ سے کہتی اسے آگ لگا گئی اور تیزی سے روم سے نکلی دل الگ سے دھڑک رہا تھا اسنے سنا تو دیا پر اسکے غصے سے ڈر بھی لگ رہا تھا وہ ننگے پاؤں جلد سے باہر کو نکلی پر دروازے لاک ہونے کی وجہ سے وہ پوری کوشش کرنے لگی اب اسے جی بھر کر رونا آیا اپنی قسمت پر آریان سکون سے باہر آتا دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا مسکرا کر اسکی کروائی دیکھ رہا تھا جو دروازے کو توڑ نے میں لگی تھی ۔۔

” اللّه پوچھے گا ان سب انگریزوں سے ایسا بھی کوئی دروازہ بناتا ہے آہہہ ۔۔ ہم آج ہی واپس چلے جائیں گے اپنے ملک بس ایک بار یہاں سے نکلے پھر ان سب کو دیکھ لے گیں ۔۔!! غصے میں روتی خود سے بڑبڑائی۔۔

” ہم کچھ نہیں کر سکتے ہمیں مرنا ہوگا ہاں مرنا ہوگا ۔۔۔ وہ تھک ہار کر وہ اپنا سر دروازے پر ہلکا سا مار نے لگی تھی اچانک ایک ہاتھ آگے سے آگیا اسکا سر اس ہاتھ پر لگا اسنے چونک کر اس ہاتھ کو دیکھا پھر واپس اپنا سر اسکے ہاتھ پر مار نے لگی ایک بار بھی اسے نے اپر سر اٹھا کر نہیں دیکھا پھر سے زور سے دو تین بار مار نے لگی ایک اور بار زور سے مرا تھا کے اسنے ہاتھ پیچھے کردیا اور وہ ۔۔

” یا اللّه ہمارا سر اللّه نہیں یہ کیا کیا ہاتھ کیوں ہٹایا آگیا سے ۔۔ وہ چلائی اس پر ۔۔

” جسٹ شٹ اپ ۔۔ یہ ماتم جاکے اپنے گھر کرنا ابھی میرے سوالوں کے جواب دو ۔۔ اور ہاں سچ سچ بتانا اگر جھوٹ بولا تو یہ جو تمہاری زبان ہے اسے کاٹ دونگا ۔۔ ویسے بھی سچ تو اس زبان پر ہوتا نہیں ۔۔!! آریان غصے اور سخت لہجے میں کہتا اسکے دونوں بازوؤں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا عروبہ اسکی قید میں جیسے سانس لینا بھول گئی ۔۔

” ہہ ۔۔ہم جج ۔۔جھوٹ نہیں بو ۔۔۔۔۔۔۔ شش کہا نہ جھوٹ نہیں ۔۔!! اس نے غصے میں دباؤ دیتا وارننگ والے لہجے میں کہا ۔۔

” وہاں اندر کیا ہوا تھا تم بھاگی کیوں وہاں سے اور وہ لڑکا تم سے بد تمیزی کیوں کر رہا تھا سچ بولنا عروبہ بیراج ۔۔!! اسکے لہجے میں بلا کی سختی تھی جس سے وہ سہم گئی تھی ۔۔

” آ ۔آپ ہم سے دور ہونگے پھر ہم بتاۓ گے ۔۔۔۔۔۔ تم بیٹھو جھانسی کی رانی ۔۔۔!! عروبہ ڈر تے ہوئے بولی جس پر ضبط کرتا طنزیہ کہا ۔۔ اسکے پیچھے ہونے سے وہ تیزی سے آگے بڑھ کر صوفہ پر بیٹھ گیا وہ بھی چلتا وہا دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا عروبا دھڑکتے دل اور ڈر سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔

” اب بولو گی یا میں ۔۔!! آریان غصے میں کہتا ابھی اٹھا ہی تھا کے وہ جلدی شروع ہوگی ۔۔

” وو ۔۔وہ لوگ بہت برے تھے کسی کو مار نہ چاہتے ہیں اور بم بھی بلاسٹ کا کہ رہیں کہاں یہ نہیں پتا ہمیں لگا ہمارے ملک میں کچھ نہ کریں اس لئے ہم نے ہمت کرتے ہوئے رکارڈنگ کی پر ان میں سے ایک بہت زیادہ گندا آدمی تھا ہمیں گھورے ہے جا رہا تھا اور بدتمیز بھی کر رہا تھا اس لئے ہم وہاں سے غصے میں نکلے پر پیچھے وہ بھی آگے تھے اور ہمیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن شکر وہاں کسی نے فائرنگ کر دی ہم اپنی جان بچا کر بھاگ گئے پھر آپ آگئے اور ہاں انھیں نہیں پتا ہم نے انکی باتیں سن لی ہے پلیز یہ ثبوت واپس کردے ہم اپنے آرمی والوں کو دیگے وہ لوگ ضرور کچھ کرگے پلیز آپ ۔۔۔۔!! عروبہ ہمت کرتے ہوئے اسے پوری کہانی سنا دی وہ گہری دلچسپی سے اسے سن رہا تھا غصہ تو بہت آیا اسکی بیوقوفی پر اور اس لڑکے پر جو گندی نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔

” تم اب وہاں نہیں جاؤ گی کام کرنے وہ لوگ پھر آئے گے اور اس بار میں بھی نہیں آؤ گا بچا نے اپنا خیال خود رکھنا سیکھو مس بے چین روح ۔۔!! آریان اسے سمجھاتا اٹھ کھڑا ہوا وہ صدمہ کھلے منہ سے اسے دیکھ رہی تھی اسنے بےچین روح کہا ۔۔

” آ۔۔ آپ سمجھتے کیا ہے خود کو ۔۔ ہم کوئی کمزور لڑکی نہیں ہے ۔۔!! وہ غصے سے بولی ۔۔ آریان کچھ کہتا دروازے پر بیل ہوئی اسنے سامنے دروازہ کھولتے ہوئے دیکھا تو سامنے الینا تھی آریان مسکراتے ہوئے اسے اندر آنے دیا ۔۔

” آر یہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔!! الینا نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” تم جاؤ میرے روم میں ۔۔۔۔ واٹ دا ہیل یہ یہاں پر رہنے والی ہے تمہارے ساتھ روم شیر کریں گی سیریسلی ۔۔۔۔۔!! آریان کے بولنے پر الینا غصے میں بھڑک اٹھی اسکا موڈ پہلے ہی خراب تھا آج ۔۔

” مس چڑیل ہمارا نفس کمزور نہیں ہے ہم مسلمان ہے ہم جانتے ہیں اپنی حد جب خود پر یقین نا ہو نہ تو دوسروں کی ذات پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے ۔۔ ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے آپکے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے کا ۔۔۔!! عروبہ غصے میں کہتی وہاں سے نکل گئی اسکا دل کیا وہ اسکا منہ نوچ لے ۔۔ آریان نے خود پر ضبط کیا ۔۔

★★★★★

” تم نے اسے یہاں کیوں بھیجا ہے جانتے ہو یہاں پر کتنا خطرہ ہے پھر بھی اسے موت کے منہ میں بھیج دیا ۔۔!! وہ غصے میں دوسری طرف پر فون پر کسی سے بولا ۔۔

” وہ بہت ضدی ہوگئی ہے میں اس پر سختی نہیں کر سکتا اور کب تک اسے میں قید میں رکھوں ۔۔ تم لوگوں کی وجہ سے میری بچی سانس لینا بھول جائیں کیا چاہتے ہو تم باپ بیٹے کب تک لٹکا کر رکھو گے اسے ۔۔!! دوسری طرف شدید غصے میں غرایا وہ شخص ۔۔

” غلطی تو تمہاری بھی ہے اسے ابھی تک ہمارے نام سے ڈرا کر رکھا ہے ۔۔ کیوں اسے بتا نہیں دیتے وہ کون ہے وہ کس کی ہے ۔۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا وہ میرے بیٹے کی امانت ہے اسکی امانت میں کھبی خیانت مت کرنا میں اپنے بیٹے کے معاملے میں یہ سب برداشت نہیں کرونگا ۔۔!! بدلے میں وہ بھی غصے میں غرایا تھا ۔۔

” تو تم چاہتے ہو ایک اور انعل آئے تم لوگوں کی زندگی میں ایک اور انعل حیات کی موت ہو یہی چاہتے ہو۔۔ اگر اتنی ہی اپنی امانت پیاری ہے تو اسکا خیال رکھو اسے بچاؤ ۔۔ انعل حیات کو نہیں بچا سکے تو اسے ہے بچا لو ۔۔ اور تمہارا بیٹا کہاں ہے وہ اتنے سالوں میں ایک بار بھی کبھی پوچھا اسنے اپنی بیوی کا ۔۔ جب وہ اپنی زمیداری سنمبھالنے کے قابل ہو جاۓ تب آکر لے جانا اسے ۔۔!! وہ غصے سنجیدگی سے کہتا کال کٹ کر گیا ۔۔ اور وہ اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے تھک ہار کر اذیت سے آنکھیں بند کر گیا ۔۔

★★★

” افف کیا کریں ہم جب سے یہاں آئے ہے کچھ اچھا نہیں ہو رہا ہمارے ساتھ ۔۔ اتنی مشکل سے ہمارا فون واپس ملا پھر سے اس کھڑوس کے پاس چلا گیا ۔۔ اور کتنے عجیب انسان ہے یہ نہیں ہوتا دوسروں کی چیزے ہے واپس ہی کردے لیکن نہیں انھیں تو ہم سے پتا نہیں کون سے جنم کا بدلہ نکالنا ہے ۔۔۔ پر ہم بھی عروبہ بیراج ہے اتنی جلدی ہار نہیں مان سکتے کچھ کرنا ہوگا ہاں ۔۔!! عروبہ گھر آتے فریش ہوتی کب سے بور ہو رہی تھی کچھ سوچتی وہ باہر نکلی آس پاس دیکھتے ہوئے ایک نظر آریان کے دروازے پر دیکھا اسکی خوش قسمتی تھی یہ شاید بد قسمتی اسکا دروازہ ہلکا کھلا ہوا تھا وہ خوش ہوتی جلدی سے اپنا دروازہ بند کرتی باہر نکلی اور آرام اپنا دروازہ بند کرتے اسکے فیلٹ میں گئی پورے گھر میں خاموشی تھی جس کا مطلب شاید وہ نہیں تھا یا پھر باہر گیا ہو دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو عروبہ کی سوچ یہاں تک تھی ۔۔

” شکر اللّه میاں بچا لیا آپ نے بس تھوڑی اور مدد کردے ہماری وہ یہاں نہ آئے ہم اپنا کام کر لے ۔۔!! عروبہ خوشی سے دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر آنکھیں بند کرتی گہرا سانس لیا ۔۔ پھر لگ گئی اپنے کام میں دبے پاؤں چلتے ہوئے وہ ہر ایک چیز چیک کرنے لگی تھی ۔۔ آریان ایک آدمی سے کچھ بات کرنے باہر گیا تھا جیسے ہی وہ لفٹ سے نکلا عروبہ کو عجیب حرکتیں کرتا دیکھ کر وہی رک گیا پھر اسے اپنے گھر جاتے دیکھا تو ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ نے رقص کیا ۔۔ وہ بھی دبے پاؤں چلتا ہوا اندر آیا اسے اپنے روم میں محسوس کرتا آرام سے دروازہ بند کرتے صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ چڑہاۓ بیٹھ کر اسکی ہر حرکت کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا چہرے پر خوبصورت ہلکی مسکراہٹ تھی ۔۔ اور وہ ان بات سے انجان اپنے کام کو انجام دے رہی تھی ۔۔

” افف کہا رکھ دیا ہے کھڑوس جلاد نے ہمارا فون ۔۔ اللّه کریں مر جائے ۔۔ ہمارے پیچھے پڑ گے ہے ۔۔ عروبہ غصے میں روتی بےبسی سے بڑبرائی ۔۔

” شرم نہیں آتی کسی کو بد دعائیں دیتے ہوئے ۔۔۔ آہہہ ۔۔ آ ۔آپ ۔۔کّک ۔۔کب آئے ۔۔ کیوں آئے ۔۔!! اسکی بددعا سنتا سنجیدگی سے گھمبیر لہجے میں بولا عروبہ اچانک پیچھے سے اپنے قریب آواز سنتی اچھل پڑی ۔۔۔

” مس بے چین روح آپ بھول رہی ہے یہ میرا گھر ہے ۔۔ اور آپ کو یہاں آنے کی اجازت کس نے دی ۔۔ چوری کرنے آئی ہو میرے گھر میں ۔۔!! آریان سر جھکا کر اسکے قریب ہوتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا اسے ڈرا گیا ۔۔ وہ پیچھے کھسکتی ٹیبل سے لگ گئی ۔۔ آریان نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر اسے قید کردیا وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی جو بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اسکے دلکش چہرے کو ۔۔

“ہہ ۔۔ ہمارا فون واپس کریں ہمیں اپنے بوائے فرینڈ سے بات کرنی ہے ۔۔ وہ ہمیں اتنا مس کر رہیں ہونگے ۔۔!! عروبہ کمال کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا آریان جل بھون گیا اسکی بات سے ابھی وہ کچھ اور کہتی وہ اسے کھینچتے ہوئے اسکے منہ پر زور سے ہاتھ جما گیا عروبہ کو اسکی آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی وہ کتنا جل گیا ہے اس بات سے ۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اسے ۔۔

” اب لیکر دکھاؤ اپنا فون مجھ سے ۔۔ وہ غصے میں چیلنج دیتا اسے پیچھے کرتے اسکا فون اٹھا کر غصے جلن کی شدت سے دیوار پر دے مارا عروبہ چیختے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھے صدمہ سے اپنے موبائل کی موت دیکھ رہی تھی ۔۔

” ہمارا فون توڑ دیا ۔۔ ہم ہم آپکا بھی توڑ دینگے ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہے ہم غریب ہوگئے ہے جب سے یہاں آئے ہے ۔۔۔!! عروبہ غصے کی شدت میں روتے ہوئے چیخی اور تیزی سے جاکے اسکا فون ٹیبل سے اٹھایا ہی تھا کے آریان اسے غصے میں دیکھتا اپنے موبائل فون کو بچا نے کے لئے اسکے پیچھے بھاگا پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتا اسکے ہاتھ سے فون چھیننے لگا وہ بھی ضد غصے میں اپنی پکڑ مضبوط کرتے ہوئے لڑ رہی تھی ۔۔

” چھوڑو اگر میرا فون توڑا تو میں تمہیں توڑ دونگا ۔۔۔

” نہیں ہم نہیں چھوڑے گے آج تو یہ بھی مرے گا ہمارا معصوم فون کا کیا قصور تھا اسے کیوں مارا چھوڑے ہمیں ۔۔۔!! عروبہ پوری کوشش کر رہی تھی اسکی گرفت سے نکلنے کی پر وہ بھی آریان خان تھا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتا کسی کو ۔۔

” دیدو یار تمہیں نیو لیکر دونگا بس ۔۔۔ پرومس ۔۔!! آریان کو اب ہنسی آرہی تھی اسکے ضدی لہجے پر اسکی معصومیت پر وہ بھی اپنی گرفت مضبوط بنانے ہوئے تھے آگے سے اسکے ہاتھ اسکے مضبوط ہاتھوں میں تھیں آریان اتنا تو جان گیا تھا وہ چھوڑے گی نہیں اس لئے وہ کچھ سوچ کر بولا عروبہ حرکت کرنا بند کرتے اسے دیکھ کر معصومیت سے وعدہ لیا اسکی اور دیکھتے ہوئے آریان اسکی نمکیں آنکھوں میں دیکھتا ہی رہ گیا دونوں کی دھڑکنیں تیز رفتار سے چل رہی تھی عروبہ نظریں چراتی آنکھیں بند کرتے ہوئے گہرا سانس بھرا وہ ابھی تک اسکے حصار میں تھی آریان کو اسکی قربت اسکی خوشبوں اپنی طرف مائل کر رہی تھی وہ ذرا کو جھک کر اسکے بالوں میں گہرا سانس لیتا سر گوشی میں اپنی بات سے مکرتا پیچھے ہوا عروبہ لمحہ سانس روک گئی اسکے انداز پر وہ پھٹ سے آنکھیں کھولتی کچھ کہتی کے ۔۔ کلک کی آواز پر دونوں تیزی سے دور ہوئے ۔۔

” ارے یار اتنی پیاری پک آرہی تھی دور کیوں ہوئے ۔۔!! زویا انکی پک لیتی شرارت سے کہتی انھیں شرمندہ کر گئی ۔۔

” تم یہاں کیوں آئی ہو ۔۔ آریان اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔

” کیوں یہ آسکتی ہے میں نہیں واہ اکیلے میں رومینس کرنا تھا ۔۔!! زویا نے پھر شرارت سے کہا دونوں نے اسے گھورا تھا ۔۔

” ہاہاہا اچھا نہ مذاق کر رہی تھی اتنے پیار سے کیوں دیکھ رہیں ہو ۔۔ ویسے میں کچھ کہنے آئی تھی اب ضرورت تو نہیں پھر بھی تسلی کے لئے ۔۔ میں کچھ کام سے دوسرے شہر جا رہی ہوں حدید بھی ساتھ چل رہیں ہے ۔۔ تم سے ایک ریکوئسٹ ہے اپنی پیاری سی پڑوسی کا خیال رکھنا یہ بھوتوں سے بہت ڈر تی ہے ۔۔ اور تم بھی اپنا خیال رکھنا ۔۔۔!! زویا مسکراتے ہوئے کہتی باہر نکل گئی عروبہ کی تو سانس اٹک گئی اکیلے رہنے کا سوچتے ہوئے وہ تیزی سے زویا کے پیچھے گئی آریان بیزاری سے اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔

” زو رکے ہم ہم اکیلے کیسے رہیں گے آ ۔آپ کیوں جا رہی ہے کّک ۔۔کوئی اور نہیں جا سکتا ۔۔!! عروبہ خشک گلے کو ترک کرتے ہوئے کہا ۔۔

” میری جان جانا بہت ضروری ہے اور آریان ہے نہ تمہارے پاس ۔۔ میرا مطلب تمہارے پڑوس میں ہی ہے اگر ڈر لگے تو آجانا اسکے پاس ۔۔ کہہ دینا ڈر لگ رہا تھا اس لئے آئی ہوں حدید کے روم میں شفٹ ہو جانا جب تک میں آجاؤ ۔۔ اور ہاں بےفکر رہو آریان برا لڑکا نہیں ہے ۔۔۔!!زویا اسے اچھے سے سمجھاتی ہوئی چلی گی بغیر اسکی سنے وہ بےبسی سے دیکھتی رہی اسے اکیلے گھر میں جانے سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔ عروبہ ڈرتے ہوئے دروازے کے سامنے کھڑی تھوڑی دیر سوچتی رہی وہ اتنی بہادر تو تھی نہیں اکیلے گھر میں رہتی وہ کتنی ڈرپوک تھی یہ بات کوئی اسکے گھر والوں سے پوچھتا ۔۔۔ اسنے ہمت کرتے ہوئے اسکے دروازے کے سامنے آئی اور بل بجائی ایک دو تین بار پر نو رسپونس اسے رونا آنے لگا تھا غصے میں اسکے دروازے کو لات مارتے ہوئے اپنا ہی پیر پکڑ گئی ۔۔۔

” آہ ظالم انسان بےحس انسان کوئی انسانیت نہیں ان میں ۔۔!! وہ آنسوں بہاتے ہوئے نیچے پارک میں آکے بینج پر بیٹھ گئی سرد ہوانے کے چھونے پر اسکے اندر ٹھنڈی لہر دوڑ گئی ننگے پاؤں شارٹ وائیٹ فروک بلو جینس میں اور کچھ بھی نہیں تھا شال وغیرہ سردی سے بچنے کے لئے اسکے پاس ۔۔ اوپر سے رہی سہی کثر سنوفال نے پوری کردی اسے اپنی قسمت پر بہت رونا آیا ۔۔۔ وہ اسے صلواتوں سے نوازتی وہی بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی ۔۔ وہ غصے میں باہر تو آگئی تھی اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں جاۓ وہی پارک میں بینچ پر بیٹھ گئی ۔۔

آریان گیلری میں کھڑا نیچے دیکھا تو چونک گیا وہ اتنی سردی میں نیچے ایسے کیوں بیٹھی ہے ۔۔ اسنے جان کر دروازہ نہیں کھولا اسے لگا وہ پھر سے لڑنے آئی ہوگی ۔۔ اب وہ بھی پریشانی میں پیچھے آیا تھا اسکے ۔۔ اس پاگل بےچین روح کو دیکھتا ہلکا مسکرایا دیا وہی تھوڑا دور کھڑا ہو کر اسکی شکایات سن رہا تھا اور وہ معصومیت سے اپنی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔۔ پھر تھک ہار کر ٹھنڈی ہوا میں گنگنانے لگی تھی اسے سردی لگنے لگی تھی اب ۔۔

” آرام آتا ہے دیدار سے تیرے مٹ جاتے ہے سارے غم ۔۔!! عروبہ اپنی خوبصورت سریلی آواز میں ابھی یہ ایک لائن ہی گائی تھی کے پیچھے سے ایک بےحد خوبصورت گهمبیر آواز میں کوئی بے حد سکون سا گنگناتا اسکے ساتھ آکر بیٹھا ۔۔۔

” ہے یہ دعا کے تجھے دیکھتے دیکھتے ہی نکل جائے دم ۔۔ شکریہ چاہیے میں جتنا بھی کرلوں کے پھر بھی رہے گا وہ کم ۔۔ تیرا تصور مجھے دے کر مولا نے مجھ پر کیا ہے کرم ۔۔!! احد بہت دلکش انداز میں گاتا اسے اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا ۔۔

” آپ تو وہی ہے نہ جس نے ہمیں بچایا تھا ۔۔ آپ بہت خوبصورت گاتے ہیں آپکی آواز بہت میٹھی ہے ۔۔!! عروبہ رونا بھول کر مسکراتے ہوئے اسے پہچانتے ہوئے اسکی تعریف کی ۔۔ اسے مسکراتے دیکھ کر اسکے گال میں پڑتا ڈمپل احد کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔ آریان مٹھی بھینچ کر ضبط کی انتہا پر تھا ۔۔

” جیسے تمہیں میری آواز پسند آئی ۔۔ ویسے مجھے تم ۔۔ دیکھو تمہیں دل سے ڈھونڈا اور تم سامنے ۔۔!! احد نے مسکراتے ہوئے کہا اور پیچھے آگ برساتی ہوئی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے ہلکا سا ہنس دیا ۔۔ اسکی بات پر عروبہ نے گھبراتے ہوئے اسے دیکھا ۔۔

” آ ۔آپ ۔۔۔۔ تم چلوں یہاں سے ۔۔۔!! عروبہ کچھ کہتی اس سے پہلے آریان تیزی سے آگے آتا اسکا بازوں پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے کہا ۔۔ عروبہ نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔

” تم کون ہوتے ہو اس پر حق جتانے والے ۔۔۔ مجھے کچھ بات کرنی ہے ان سے ۔۔۔!! احد سنجیدگی سے بولا اور اسکا بازوں پکڑ کر اپنی طرف کھینچا پر آریان نے مضبوطی سے اسے اپنی طرف کرتے پیچھے کردیا اب وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھوں ڈالے غصے میں دیکھ رہے تھے ۔۔

” دوبارہ اسے ہاتھ لگایا تو ہاتھ توڑ دونگا ۔۔ اور کیا کہا تم نے میں کون ہوتا ہوں اس پر حق جتانے والا ۔۔۔ تو سن کمینے وہ بیوی ہے میری ۔۔ اپنی عزت پر کسی کی غلیظ نظر برداشت نہیں کرونگا یاد رکھنا ۔۔!! آریان اسکے قریب ہوتے اسکا کالر پکڑتا اونچی آواز میں غرایا تھا احد سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا اور عروبہ دونوں کو قریب لڑتا دیکھ کر تھوڑی دور ہوئی جس وجہ سے وہ دونوں کی باتیں سن نہیں پارہی تھی دونوں کی آواز بہت کم تھی پر آنکھیں شولا بسا رہی تھی ۔۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” ہیلو کیسی ہو کیوٹی ۔۔ یو نو واٹ آئی رئیلی مس یو یار ۔۔ تم کام پر بھی نہیں آرہی کیوں ۔۔؟ ڈزین اسے ملتی ناراضگی سے بولی ۔۔ عروبہ نے جیسے تیسے رات تو اکیلی گزارلی پر اب وہ گھر بیٹھ کر بور ہو رہی تھی اور شام ہوگئی تھی پھر سے اکیلی رات اسنے ڈر خوف سے ڈزین کو بلایا تھا اپنے پاس آریان صبح سے غائب تھا جسے عروبہ بہت مس کر رہی تھی اسے تنگ کرنے کے لئے اپنے فون کی موت کا بدلہ لینے کے لئے رات وہ اسے یہی اکیلا چھوڑ گیا اس سب کا حساب تو لینا تھا اسے ۔۔ سوچ یہی رہی تھی پر دل تو اسے بار بار ملنے ٹکرانے سے اسکی عادت ڈال رہا تھا اسے دیکھ کر ایک سکون آتا تھا وہ اپنی ہی کیفیت سمجھ نہیں پارہی تھی ۔۔

” یہاں کون رہتا ہے ۔۔؟ ڈزین نے آریان کے فیلٹ سے گزر تے ہوئے پوچھا ۔۔

” ہمارے دشمن کا ۔۔ جن کے بارے میں ہم نے بتایا تھا نہ ۔۔!! عروبہ نے منہ بناتے ہوئے کہا ڈزین ایک گہری نظر اسکے دروازے پر ڈالتے ہوئے کہا اسکے ساتھ اندر بڑھ گئی ۔۔

” آپ بیٹھے ہم آپکے لئے کچھ لاتے ہیں ۔۔ اوکے سویٹی ۔۔!! عروبہ بولتے کیچن میں چلی گئی جب کے ڈزین آس پاس کچھ ڈھونڈ رہی تھی ایک نظر عروبہ پر ڈال کر وہ تیزی سے اسکی ہر چیز چیک کرنے لگی وہ بہت بےچینی سے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی ۔۔ عروبہ کو آتا دیکھ کر مسکراتے ہوئے صوفہ پر بیٹھ گئی ۔۔

” عرو تمہارا فون کہا ہے یار کتنی کال کی میں نے ۔۔!! ڈزین کے پوچھنے پر اسے اپنے فون کی موت یاد آئی جیسے وہ سوچتے اداس ہوگئی تھی ۔۔

” مت پوچھنے اسکی موت ہوگئی اور پتاۓ ہم کل رات بہت روئے بھی تھے کیوں کے ہماری بہت سی خوبصورت یادیں وابستہ تھی ہم نے یہاں جتنا سفر کیا اسے قید کیا اپنے فون میں لیکن سب ختم ۔۔ ہمارے دشمن نے فون توڑ دیا ۔۔!! عروبہ گہری سانس لیتے اپنے دکھ سنانے لگی ڈزین دانت پیستی رہ گئی ۔۔ پھر انکی باتوں شروع ہوئی تو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی وقت کے ساتھ انکی دوستی بہت گہری ہوتی جا رہی تھی ۔۔

★★★★

” آپ نے یہ بات کیوں چھپائی مجھ سے ڈیڈ ۔۔!! آریان غصے میں کہتا باپ کو دیکھا جو اسے گھور رہا تھا ۔۔

” چھپائی سیریسلی آریان تم تو جیسے بچے ہو کچھ جانتے نہیں ۔۔!! داريان نے گھور تے ہوئے کہا اسے آریان کی باتیں مزید غصہ دلا رہی تھی ۔۔

” آپ جانتے ہیں میں جو کام کرتا ہوں وہاں مجھے اپنا ہوش نہیں اور یہ مصیبت آپ لوگوں نے میرے سر ڈال دی ابھی ۔۔ جانتے ہیں کیا کرتی پھر رہی ہے اسکی وجہ سے میرے کام میں کتنا مسئلہ ہو رہا ہے ۔۔ آپ کو اندازہ نہیں ۔۔!! آریان کل سے عروبہ پر غصہ تھا اسکی وجہ اسے اسکا کام خراب ہوتا جا رہا ہے ۔۔

” تمہارے ان خطرناک کاموں کی وجہ سے وہ معصوم بچی کسی مصیبت میں پھنس گئی تو ۔۔ تم سمجھ نہیں رہیں آریان تم جس فیلڈ میں گئے ہو وہاں کسی کو بھی خوشیاں برداشت نہیں ہوتی ۔۔ میرے سامنے ایک اور انعل حیات کھڑی ہے مت کرو یار ۔۔!! داريان بےبسی سے اسے سمجھا رہا تھا جو وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا پر آگے اس چیز کا کبھی اثر نہیں ہوتا تھا ۔۔

” آپ کو اپنی بیوی کی حفاظت کرنی نہیں آئی تو کیا میں بھی آپ کے جیسا بن جاؤنگا ۔۔ نہیں ڈیڈ مجھے اپنی بیوی کی حفاظت بہت اچھے سے کرنی آتی ہے ۔۔ ہاں بس وہ بات الگ ہے آپ لوگوں نے جان بوجھ کر اسے میرے سامنے کھڑا کردیا ہے ۔۔ اس بےچین روح کو ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا نہیں آتا اور اسکی وجہ سے اتنی پروبلمس ہو رہی ہے ۔۔!! آریان نے غصے میں دانت پیسے تھے ۔۔

” آریان خان اپنے غصے کو کنٹرول کرو اگر اس معصوم بچی کو تنگ کیا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ اس لئے نہیں بتایا تمہیں کے اس پر اب رعب جماتے پھرو ۔۔۔!! داريان اسکا غصے میں سرخ چھرہ دیکھتا گویا ہوا ۔۔

” آپ سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا ۔۔ اور اسے تو میں اچھے سے سبق سیکھاؤں گا اسکی وجہ سے وہ شیر خان بوکھے کتے کی طرح پڑ گیا ہے اسکے پیچھے جانتے ہے ۔۔ میری ہی بیوی پر گندی نظر رکھی ہے اس نے اس بار میں اسے چھوڑگا نہیں اور آپ بیچ میں نہیں آئے گیں ۔۔!! آریان غصے میں باپ کو دیکھتا وہاں سے تیزی سے نکل گیا جب سے اسے پتا چلا تھا شیر خان ہاتھ دھو کر عروبہ کے پیچھے پڑ گیا ہے ۔۔ آریان اس بات سے الگ پریشان تھا عروبہ جیسی معصوم پاگل لڑکی کو کچھ ہوش نہیں کیا ہو رہا ہے اسکے ساتھ یا پھر آنے والے وقت میں کیا ہونے والا تھا اسکے ساتھ اس بات سے سب انجان اپنی زندگی میں مصروف تھے ۔۔ یہ سوچ آتے ہی اسکا خون کھولنے لگتا تھا جبکے عروبہ پر الگ غصہ آرہا تھا وہ بےچین آتما ایک جگہ ٹک کر جو نہیں بیٹھتی تھی ۔۔داريان نے اسے کل سب بتا دیا تھا جو وہ بچپن کی باتیں بھول بیٹھا تھا شاید یا پھر انجان بنتا پھر رہا تھا ۔۔ داريان کو آریان کی کڑوی باتیں ایک بار پھر سے ماضی میں لے گئی تھی جیسے اسنے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی ۔۔۔۔

★★★★

” وہ ثبوت تمہارے پاس ہے مجھے دو ۔۔۔!! احد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” کون سا ثبوت ۔۔ کس نے کہا میرے پاس ہے وہ ۔۔!! آریان نے سرد لہجے میں کہا ۔۔

” تمہاری بیوی نے ہی بتایا تھا ۔۔!! احد سنجیدگی سے کہتا اسے آگ لگا گیا ۔۔

” میری بیوی بہت جھوٹ بولتی ہے اسکی بات پر یقین مت کرو تم سے جان چھڑوانے کے لئے اس نے ایسا بول دیا ہوگا ۔۔!! آریان کو عروبہ پر غصہ تو بہت آیا جیسے وہ ضبط کرتا اسے بولا جو اسکی بات پر مسکرایا تھا ۔۔

” بہت اچھے سے جانتے ہو اپنی بیوی کو ۔۔ پھر اس پر کیسے بھول گئے اس نے مجھ سے جھوٹ نہیں کہا ۔۔ شاید تم سے جھوٹ بولتی ہوگی ۔۔!! احد نے طنزیہ وار کیا ۔۔ آریان نے غصے سے مٹھی بھینچ لی ۔۔

” میں نے اسکا فون توڑ دیا ۔۔ کیوں کے میں نہیں چاہتا وہ کسی خطرے میں پڑے اور رہی ہمارے بیچ دشمنی یا دوستی جو بھی ہے ہم ایک دوسرے کے کام سے اچھے سے واقف ہیں ۔۔ اس لئے کہہ رہا ہوں عروبہ کو ان سب سے دور رکھو ۔۔ میں پھر سے وہ کہانی شروع نہیں کرنا چاہتا ۔۔!! آریان سنجیدگی سے کہتا اسے اچھے سے سمجھاگیا تھا ۔۔

” ٹھیک ہے اسے بیچ میں نہیں لاتے ۔۔ اسے واپس بھیج دو تم جانتے ہو میں کیوں کہ رہا ہوں ایسا ۔۔ اور ایک بات جس گینگ میں ہم دونوں شامل ہے اس کے لے آج پارٹی رکھی ہے ۔۔ میری بات اچھے سے سمجھ گئے ہو تو ہاتھ ملا سکتے ہو ۔۔!! احد اپنے مقصد کی بات پر آیا ۔۔

” ہمارا ہاتھ ملانا ہمارے ملک کے لئے خطرہ ہے اور تم یہ بات اچھے سے جانتے ہو دونوں کی دشمنی کتنی گہری ہے ۔۔۔!! آریان نے اسے حقیقت دکھائی احد گہری سنجیدگی سے سنتا اثبات میں سر ہلایا ۔۔

” اوکے پھر رسک لیتے ہے ۔۔!! احد مسکراتے ہوئے کہتا آنکھ دبائی ۔۔ آریان اسے انداز پر پہلی بار گفتگو میں مسکرایا تھا ۔۔

” ایک بات پوچھوں ۔۔

” نہیں بکواس کرو گے ۔۔!! آریان بیزاری سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔

” اتنی پیاری حسین بیوی ملی کہاں سے یار ۔۔ آئ وش وہ پہلے مجھے مل جاتی ۔۔ لگتا ہے میری قسمت میں صرف آزمائش لکھی ہے ۔۔!! احد کہتا گہری سانس لی ۔۔

” کامل یقین رکھو اپنے رب پر ان شاء اللّه سب بہتر ہوگا ۔۔ اور ہاں میری بیوی کتنی حسین ہے یہ مجھے پتا ہونا چاہیے اسکے علاوہ میں یہ لفظ کسی کے منہ سے نہ سنوں ۔۔!! آریان کھتا آگے بڑھا تھا کے احد کے پھر بولنے پر ایک نظر اسے دیکھا ۔۔

” لگتا ہے عشق کی منزل پر سفر کرنے لگے ہو ۔۔ یاد رکھنا اسکی دوریاں بے چینی برداشت نہیں ہوتی سفر لمبا منزل موت ہے ۔۔۔!! احد نے گہری سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔

” محبت سے عشق کا سفر کرنے والے سب برداشت کر لیتے ہیں اور ہاں وہ ۔۔ میرا عشق ہے ۔۔!! آریان اپنے دل سے وہ لفظ ادا کرتا دل سے مسکراتا آگے بڑھ گیا ۔۔

★★★★

” ڈزین آپ کہاں جا رہی ہے ۔۔!! عروبہ نے پریشانی سے پوچھا تھا وہ پھر سے اکیلی رہیں گی یہی خوف سے مار رہا تھا ۔۔

” سوری بےبی میں ضرور ركتی پر مجھے ایک دوست نے پارٹی پر انوائٹ کیا ہے بہت زیادہ کہ رہی تھی تو میں انکار نہیں کر پائی اور ڈونٹ واری یار میں وہاں سے واپس یہی آجاؤ گی اوکے ۔۔!! ڈزین اسکے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” پھر ہمیں بھی لے چلے پلیز ویسے بھی ہم گھر میں اکیلے بیٹھ کر بور ہوتے رہیں گے پلیز پلیز ہمیں لے چلے نہ ۔۔!! عروبہ کچھ سوچتی اسکا ہاتھ پکڑ کر منتیں کرتے لگی ڈزین اسکی ضد پر گھبرا گئی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اسے اسی جگہ پر لے جانے سے لیکن اسکی مسلسل ضد پر وہ کچھ سوچتی تھک ہار کر راضی تو ہوگئی تھی پر اندر سے بہت گھبرا رہی تھی ۔۔

” اچھا اچھا اوکے چلتے ہیں لیکن تم وہاں کچھ الٹا سیدھا نہیں کرو گی جہاں کہوں گی وہی ٹک کر بیٹھنا پلیز میری عزت کا سوال ہے یار ۔۔۔!! ڈزین اسے اچھے سمجھاتے ہوئے کہا جس نے زور شور سے سر ہلایا ۔۔

” اوکے چلے پھر تیاری کرتے ہیں ہمیں بتاۓ ہم کیا پہنے پلیز ۔۔!! وہ معصومیت سے کہتے ہوئے ڈزین کو بہت پیاری لگی لیکن کہیں نہ کہیں اسے خوف آرہا تھا اسے ساتھ لے جانے سے وہاں کے ماحول سے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *