Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 17)

Mera Ishq by Mahra Shah

” ہیر میری جان ٹھیک ہو آپ ۔۔!! حنان پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہوئے پوچھا ۔۔

” شاید ہاں ۔۔۔۔۔ لیکن ڈیڈ میں نے کہا تھا میں مر جاؤں گی پر ۔۔۔۔۔ میں نہیں مری ڈیڈ ۔۔۔ دکھے میں زندہ ہوں ۔۔۔ میں ہوں ۔۔۔پر کیوں ہوں ۔۔کیوں ۔۔۔!! وہ کہتے کہتے شدت سے رونے لگی تھی ۔۔۔حنان نے زافا کو بھی بتا دیا تھا ہیر احد سے محبت کرتی ہے جب کہ ہیر خود بھی ابھی تک ہوش میں نہیں تھی وہ حنان زافا کے سامنے بھی عجیب عجیب باتیں کرنے لگ جاتی پھر شدت سے رونے لگتی تھی ۔۔ اسے پورے ایک دن بعد ہوش آیا تھا اور اس وقت سب کے دلوں پر قیامت گزر رہی تھی کیسے سب نے رو رو کر اس کے لئے دعا کی تھی ۔۔وہ ہوش میں آتے ہی خاموش سی ہوگی تھی باتیں کرتی تو عجیب ورنہ خاموش رہتی اسے ایک ہفتہ ہو گیا تھا گھر میں اپنے روم میں بند ہوئے ۔۔اس دشمن جان کو دیکھنے کو دل مچل اٹھتا تھا پر کیسے خود پر ضبط کرتے اس درد کو دبا جاتی تھی ۔۔اور وہ بھی تو نہیں آیا تھا اسے دیکھنے اس کی محبت کا تماشا دیکھنے ۔۔۔وہ اس کے انتظار میں ہوتی ہر روز پر اسے نہیں آنا تھا ۔۔۔

” ہیلو ۔۔۔۔ افف شکر تم نے کال کی تمہیں پتا ہے ہم کتنا پریشان ہو رہی تھیں یار تم تو جیسے غائب ہی ہو گئی ہو کالج کیوں نہیں آرہی ۔۔۔!! ہیر کے کال کرتے ہی عروبہ شووع ہوگی اسے بولنے کا موقع تک نہیں دیا تھا ۔۔ اس کی ناراضگی پر وہ بس مسکراتی رہی ۔۔۔

” اچھا نہ اب میں بولوں ۔۔مجھے ملنا ہے تم سے کہیں باہر کھلی جگہ پر ملتے ہیں شام کو اوکے ۔۔۔!! پھر تھوڑی دیر یوں ہی باتیں کرتی رہیں ۔۔

★★★★

” کیسے مزاج ہیں میرے عاشق بھائی کے ۔۔!! آریان نے اسے کال کرتے ہی چھیڑنا شروع کردیا تھا ۔۔

” تمہارا پاس کوئی کام نہیں جب دیکھوں بکواس کرتے رہتے ہو ڈیڈ سے کہوں ۔۔!! احد نے غصے میں اسے دھمکی دی تھی اور وہ ہمیشہ کی طرح ڈھیٹ بنا رہا ۔۔

” ارے میری جان ڈیڈ کی دھمکی کیسے دے رہے ہو ۔۔جانتے ہو میں ان سے ڈرتا نہیں ۔۔ چل اپنا حال سنا ۔۔۔۔ کچھ سوچا حان انکل کی مار کھانی ہے یا نہیں ۔۔۔!! آریان شرارت سے کہتا اسے مزید غصہ دلا رہا تھا ۔۔

” شکر کرو اس وقت میرے سامنے نہیں ہو ورنہ تمہارا وہ حال کرتا خود کو بھی پہچان نہیں پاتے ۔۔۔۔ ایک احسان کر دو میرے حال پر چھوڑ دو مجھے ۔۔۔!! احد بیزاری سے کہتا تیاری کرنے لگا آج اسے کسی سے ملنا تھا کام کے سلسلے میں ۔۔۔

” تمہاری طرح بے حس تھوڑی ہوں اسی حالت میں چھوڑ دوں تمہیں چھوٹے بھائی ہو میرے ۔۔۔ حدی ایک بار پلیز اچھے سے سوچ لو اس طرح کرنے سے بھاگنے سے کچھ نہیں ہوگا خالی ہاتھ رہ جاؤ گے ۔۔!! آریان اب کی بار سنجیدگی سے کہا ۔۔

” میں اسے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔۔۔۔ وہ جتنا مجھ سے دور رہے گی خوش رہے گی ۔۔۔!! احد ضبط سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی وہ مزید اس ٹوپک پر کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ ایک تو پہلے ہی دل اسے دیکھنے کو تڑپ رہا تھا اس کی حالت دیکھی بھی نہیں جا رہی تھی ۔۔۔

★★★★

” وہاٹ سیریسلی اتنا سب کچھ ہو گیا اور تم نے کچھ بتایا نہیں یار حد ہے ہم یہاں تمہارے لئے کتنا پریشان ہو رہی تھیں ۔۔۔!! عروبہ اس کی بات سنتی غصے میں آ گئی اس کی کیا حالت ہو گئی تھی پہلے سے بھی زیادہ کمزور سی ہو گئی تھی ۔۔وہ اس وقت سکن کلر کے فروک میں بالوں کی ٹل پونی میں لمبے بال پشت پر پھیلے ہوئے تھے وہ سمپل سے حولیے میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔عروبہ بھی کچھ کم نہیں تھی اس وقت بےبی کٹ بالوں اس کے شانوں پر بکھرے ، بلیو جینز وائٹ ٹی شرٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

” عرو اس نے کہا وو ۔۔ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا ۔۔وو ۔۔وہ کسی اور سے ۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا نہ وہ صرف میرا ہے عرو وہ میرا ہے اسے کہوں وہ میری محبت پر یقین کرلے مجھے یوں نہ چھوڑے میں مر جاؤں گی ۔۔میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر کیوں کرتا ہے وہ ایسا میرے ساتھ کیوں ۔۔ اسے میرا عشق دکھائی نہیں دیتا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔!! وہ آج پھر اپنا ضبط کھوتی پھر سے اپنی ناکام محبت پر آنسو بہانے لگی پھر اس بےوفا کے لئے تڑپ رہی تھی ۔۔ وہ بھلے خاموش ہوگی ہوں اس کے سامنے نہ جاتی ہو لیکن یہ دل اس کا کیا کرتی اسے کیسے سمجھاتی جو دیکھنے کو ملنے کو بات کرنے کو تڑپ رہا تھا ۔۔ ڈاکٹر گھر والوں نے سب نے ہی اسے منع کیا تھا کوئی بات دل میں مت رکھنا زیادہ زور مت دینا اپنے دماغ پر لیکن اس کی سوچیں اس سے شروع اس پر ختم ہو جاتی تھیں۔۔۔۔ وہ نہیں کر پا رہی تھی خود پر ضبط ۔۔۔وہ عشق کی آخری منزل موت پر کھڑی تھی واپسی کا راستہ نہیں تھا آگے پیچھے موت ایک کھائی تھی اسے گرنا تھا تو کہیں بھی گر تی موت تو ہونی تھی نہ ۔۔۔۔

” ہیر پلیز خود کو سنبھالو اس طرح نہیں ہوتا یار ایسے زندگی ختم نہیں کر لیتے کسی پر بھی ۔۔ہم سمجھتے ہیں تم محبت میں بہت آگے جا چکی ہو پیچھے نہیں آ سکتی لیکن اسے وہی خود پر اتنا حاوی مت کرو اس طرح خود کو برباد نہیں کرو ہیر ۔۔۔!! عروبہ اسے بہت سمجھانا چاہا پر وہ شاید ہی سمجھنا نہیں چاہتی تھی یہ پھر اسے سمجھانے میں دیر ہو گئی تھی سب کو یہاں تک وہ خود کو بھی بہت دور چھوڑ آئی تھی ۔۔عروبہ خود محبت کی دہلیز تک نہ پہنچی تھی اس لئے وہ اس وقت اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتی تھی جیسے وہ اس کا ابھی پاگل پن بیوقوفی سمجھ رہی تھی اسے کیا پتا تھا محبت میں انسان کہاں تک برباد ہو جاتا ہے اصل برباد تو وہ عشق تک کی منزل پر ہوتا ہے یہاں محبوب ہی محبوب دکھائی دیتا ہے نہ آگے کا نہ پیچھے کا راستہ ہوتا ہے بس خود کی روح میں بسے اس محبوب کے ہنسی خوشی میں ہوتا ہے۔۔

” ہیر ماما کال کر رہی ہے ہمیں جانا ہوگا ہم چھوڑ دے تمہیں یا چلی جاؤ گی ۔۔۔!!

” نہیں تم آرام سے جاؤ میں تھوڑی دیر یہاں سکون چاہتی ہوں ۔۔!!

” سکون رب کے ذکر میں ہوتا ہے اسے میں خود کو مصروف رکھو پلیز ۔۔ ہمیں نہیں پتا جس سے تم محبت کرتی ہو وہ کیسے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں تمہارے ساتھ ایسا لیکن اگر وہ اپنی جگہ سہی ہے تو ہیر تم غلط ہو اگر تمہیں حق ہے محبت کرنے کا تو اسے بھی ہے پھر چاہے تم ہو یا کوئی اور ۔۔تھوڑا خود کو سمجھاؤ اب چلتے ہیں ہم خیال رکھنا اور پلیز ٹینشن مت لینا اوکے ۔۔۔!! عروبہ پیار سے ملتے ہی وہاں سے چلی گئی ۔۔ہیر گہرا سانس لیتی خود کو سمجھانا چاہا پر دل تھا کے بھاگی بنا ہوا تھا کچھ سمجھنے کے لئے تیار نہیں تھا یہ عمر ہی ایسی جذباتی تھی خود کے سوا کچھ نہیں دیکھتا تھا ۔۔۔ وہ باہر ریسٹورنٹ کی کھلی ہوا میں شام کے خوبصورت موسم میں خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کر رہی تھی کے اچانک اس کی نظر سامنے اٹھی وہ کوئی اور نہیں احد ہی تھا وہ اندر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔۔۔ بے چین نگاہیں بار بار اسے ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔ دل احد سے بات کرنے کو مچل رہا تھا ۔۔۔ اور وہ زیادہ دیر خود پر ضبط نہیں کر پائی تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی پر جیسے ہی وہ کچھ آگے بڑھی تھی کہ سانس لینا بھول گئی ساكت سی سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

احد کسی لڑکی کے ساتھ تھا وہ اسے گلے لگی ہوئی تھی ہنس کر کچھ کہ رہی تھی ۔۔ احد نے بھی خوشی سے اسے ملتا آرام سے الگ ہوا تھا وہ لڑکی بہت اسٹائلش سی خوبصورت سی تھی ۔۔۔اس کے دل میں کچھ ہوا دل نے شدت سے انکار کیا وہ نہیں ہو سکتا جو وہ سوچ رہی ہے ۔۔تو احد نے جو کہا وہ سچ تھا اس کی زندگی میں کوئی تھی کوئی ہے اس کی ہے وہ اس کا ہے ۔۔ نہیں یہ کیسے ہو سکتا تھا وہ دیکھ کر بھی ماننے سے انکاری تھی ۔۔۔۔ احد ہنستے ہوئے اس لڑکی کو بیٹھا کر جیسے ہی سامنے نگاہ اٹھائی وہ سن سا رہ گیا ۔۔ وہ بری طرح پھنسا تھا وہ جو ہمیشہ نہیں چاہتا تھا اس کے ساتھ وہی ہوتا تھا ۔۔آریان سہی کہتا تھا اسے مشکلوں سے سامنا کرنا چاہیے یوں دور بھاگنے سے کچھ نہیں ہوگا اور آج شدت سے احساس ہوا تھا وہ اس وقت کسی مشن پر نہ ہوتا تو اچھے سے ہیر کا دماغ ٹھکانے لگا دیتا ۔۔۔وہ تو سانس روکے بہتے آنسوؤں کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔ احد ایک نظر اس ساتھ والی لڑکی پر ڈالتا اسے دیکھا ۔۔ وہ لڑکی فون میں بزی تھی احد جھک کر اس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا ۔۔اور ہیر کی یہاں بس ہو گئی تھی وہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے تیزی سے وہاں سے بھاگی تھی اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا بس سیدھی راہ میں بھاگتی جا رہی تھی یہ بھی نہیں دیکھا وہ اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آرہا تھا اسے پکار رہا تھا ۔۔

” عشق میں موت کی سزا ایسے تو نہیں ملی نہ “

” ہیرررر ۔۔۔!! احد زور سے چلایا وہی ہیر کسی گاڑی سے ٹکراتی اس سے پہلے ہی کسی نے اسے جلد ہی کھینچ لیا ۔۔۔ وہ کوئی اور نہیں زید جعفری تھا ۔۔۔ ہیر اسے دیکھتے ہی پہچان گئی تھی بچپن سے اسے دیکھتی آئی تھی احد کے باپ کے روپ میں بعد میں داريان کا پتا چلا تو سب نے زید کے سامنے اداکاری شروع کردی تھی ۔۔۔ احد زید کو دیکھتے ہی گھبرا گیا تھا خود ۔۔۔

” ہیر تم ٹھیک ہوں ۔۔۔!! احد فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔ ہیر گہرے گہرے سانس لیتی نفی کی ۔۔۔ اس کی حالت خراب ہوتے دیکھ کر زید اور احد پریشان ہوئے ۔۔۔

” ہادی اسے گھر لے چلوں بچی کی طبیعت خراب ہو رہی ہے جلدی گاڑی میں بیٹھاؤ ۔۔۔!! زید کہتے گاڑی میں بیٹھا اپنی ۔۔۔ہاں میں سر ہلا تے ہوئے اسے بازؤں سے پکڑ کر آگے بڑھنے کو کہا تو وہ نفی کرتی اپنے بازو چھڑواتی جیسے ہی پیچھے ہوئی پر چکرا کر لڑکھڑا گئی احد نے تیزی سے اسے تھام لیا ورنہ وہ زمین بوس ہو جاتی ۔۔۔

” مم ۔۔میں ۔۔آ ۔آپ کے ساتھ نہیں ۔۔۔!! وہ اٹک کر کہتی ہوش کھو بیٹھی ۔۔۔

” ہیر ہیر آنکھیں کھولو ۔۔۔نہیں ہیر اس بار نہیں ۔۔۔ تم ایسے نہیں مار سکتی مجھے ۔۔۔!! احد غصے بےبسی سے کہتا اسے بازؤں میں بھرتے گاڑی میں بٹھایا ۔۔۔

” میں پھر بھی تم کو چاہوں گی اس چاہت میں مر جاؤ گی “

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” کیا ہو رہا ہے یہ سب ہادی ۔۔!! زید سنجیدگی سے سامنے بیٹھے ہوئے احد سے پوچھا ۔۔اسنے اس کا نام ہادی رکھا تھا جب وہ اسے اپنے ساتھ لایا تھا وہ ایک سال کا معصوم خوبصورت بچہ تھا اس کی لاکھ دشمنی سہی لیکن وہ معصوم بچہ اس کے دل میں گھر کر گیا تھا وہ بھول گیا تھا یہ بچہ داريان خان کا ہے نہیں یہ بچہ اس کا تھا وہ اسے صرف اپنا مانتا تھا وہ انعل کی جان نہیں لینا چاہتا تھا وہ تو خود بیچ میں آئی تھی اس کا مقصد داريان خان کو ختم کرنے کا تھا ۔۔انعل کی موت آج بھی اسے سونے نہیں دیتی تھی اسے پل پل انعل کی یاد دلاتی اس کے پاس احد کا وجود ہی انعل کا ساتھ سمجھتا تھا ۔۔۔

” پتا نہیں ڈیڈ وہ کیوں کر رہی ہے ایسا ۔۔۔!! احد نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔زید اس کی حرکت پر مسکرایا تھا جیسے وہ سمجھانا چاہ رہا ہوں وہ نا سمجھ ہو ۔۔۔

” کس سے جھوٹ بول رہے ہو خود سے یا مجھ سے ۔۔۔ کوئی اندھا بھی محسوس کر سکتا ہے یہ کیا ہو رہا ہے پھر خود سے جھوٹ بول کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔۔زید سنجیدگی سے کہتے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” تو آپ کیا چاہتے ہیں میں اسے اسی دنیا میں لاؤ یہاں خوشیاں نام کی چیز نہیں یہاں ہر وقت ایک خطرہ ایک خوف رہتا ھے ۔۔کیا میں واقف نہیں آپ کے کاموں سے آپ کون ہے کیا کرتے ہیں دنیا کے سامنے ایک بزنس مین شو کرتے ہیں ۔۔۔!! احد نے غم و غصے میں کہا تھا ۔۔۔

” وہ میرا کام ہے تمہارا نہیں میں نے کبھی تمہیں نہیں کہا میرے ساتھ کام کرو تم نے اپنے شوق سے اپنا بزنس شروع کیا تھا ۔۔۔ اور ہاں اگر پسند ہے تو رکھ لو اسے اپنے پاس مانگ لو اس کے باپ سے اگر نہیں مانے تو مجھ بتانا میں تمہاری خوشی چاہتا ہوں ۔۔۔!! زید مسکراتے ہوئے کہتا اٹھ کھڑا ہوا جانے کے لئے جانتا تھا زیادہ وقت رکا تو وہ داريان کا بیٹا بننے میں دیر نہیں لگائے گا ۔۔۔

” یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے میں خود دیکھ لوں گا آپ میرے بیچ مت آئیں ۔۔۔!! احد نے ضبط سے کہا اسے زید کی بات اچھی نہیں لگی تھی وہ تو اب اس سے شدید نفرت کرتا تھا جس نے اس کا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا تھا ۔۔۔ زید ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالتا چلا گیا ۔۔احد گہرا سانس لیتے روم کی طرف گیا جہاں وہ دشمن جان بیٹھی تھی ۔۔۔

” کیا حرکت تھی ہیر ۔۔اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔!! احد غصے میں سرخ ہوتا اسے دیکھا وہ بیڈ پر بیٹھی سر نیچے کیے ہوئے تھی اس کی آواز پر سر اٹھا کر اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا رونے کی وجہ سے اس کی ناک آنکھیں گال لال ہو گئے تھے وہ لگ بھی بہت خوبصورت رہی تھی لیکن اس وقت دونوں ہی بے حد غصے میں تھے ۔۔۔

” وو ۔۔وہ کون تھی آپ اس کے ساتھ کیوں تھے ۔۔!! ہیر بیڈ سے اٹھی کر اس کے سامنے آئی بھیگی نگاہوں میں بے حد غم تھا درد تھا اسے پروا نہیں تھی وہ اس وقت اس کے سامنے کس حالت میں کھڑی ہے وہ تو بس ٹوٹی بکھری ہوئی تھی ۔۔ بال بکھرے آگے پیچھے پھیلے ہوئے تھے دوپٹہ آدھا بیڈ اور زمین پر پڑھا تھا احد کو اس کے پاگل پن پر بے حد غصہ آرہا تھا لیکن وہ اس بار آرام سے سمجھانا چاہتا تھا اس کی طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ سخت لہجہ نہیں اپنا سکتا تھا ۔۔۔

” ہیر دیکھو ہم بات کرتے ہیں آرام سے بیٹھ کر پلیز تمہاری طبیعت خراب ہے سکون سے بات کرتے ہیں ۔۔۔!! احد نرمی سے کہتا ایک قدم آگے بڑھا تھا کے وہ نفی کرتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہوئی آنسو تیزی سے بہہ رہے تھے ۔۔۔

” آ ۔آپ آپ اس کے ساتھ کیوں تھے وہ وہ کون ہے آپ اسے چھوڑ دیں آپ اس کے ساتھ نہ جائیں ۔۔!! وہ بار بار گال رگڑتی بہتے آنسوؤں سے بہت مشکل سے کہہ رہی تھی ۔۔۔

” ہیر تمہیں اپنی عزت نفس کا ذرا خیال نہیں کیوں خود کو بے مول کر رہی ہو کیوں ۔۔!! وہ احد کا ضبط آزما رہی تھی ۔۔

” ہاں نہیں ہے خیال ۔۔۔ محبت میں سب کچھ مار دیا میں نے خود کو بھی ۔۔۔!! وہ پھر سے چیخنے لگی تھی ۔۔

” یہ محبت نہیں ہے ہیر ایسی محبت نہیں ہوتی ۔۔ محبت میں خاموشی ہوتی ہے شور نہیں ۔۔ محبت احترام کا نام ہے ذلت کا نہیں ۔۔کیوں خود کو خوار کر رہی ہو ۔۔ اپنے ماں باپ کی عزت کو بے مول کر رہی ہو ۔۔۔!! احد غصے سے آگے بڑھتے اس کے دونوں بازو پکڑ کر دیوار سے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔ اور وہ اس کے سخت الفاظ سے زمین میں گڑ رہی تھی ۔۔۔

” ہیر بس کرو بہت ہوا تمہارا دماغ خراب ہوتا جا رہا ہے بس کردو یار اتنا بھی کوئی جنونی نہیں ہوتا کسی کے لئے ۔۔۔

میں شدت پسند پاگل بری سب جو کہنا ہے کہہ لیں ۔۔

” مجھ سے نہیں ہوتا صبر نہیں ہو رہا برداشت آپ کا کسی اور کے لیے سوچنا بات کرنا آپ میرے ہیں مجھے اپنا لیں ۔۔۔!! شدت سے روتے ہوئے التجا کی ۔۔۔

” نہیں ہیر ایسے محبت نہیں کی جاتی ۔۔ یہ صرف بچپنا ہے تمہارا اور کچھ نہیں ۔۔خود کو رک لو برباد ہونے سے ہیر ۔۔۔ میں نہیں ہوں تمہارا ۔۔ مجھے ایسی لڑکیاں پسند نہیں جو خود کو بےمول کرتی پھیریں ۔۔۔ تم خود کو دیکھو ہیر کیا ہو گئی ہو تم،تم ایسی نہیں تھی تم تو بہت اچھی لڑکی تھی پھر یہ کیا ہے ہیر ۔۔۔ یہ اچھی لڑکیوں کی نشانی نہیں ہے ہیر خود کی عزت کرو اور کرواؤ ۔۔۔!!! احد نے تو اسے سچ کا آئینہ دیکھا دیا وہ تو خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی اس نے خود کو اس کی نظروں سے گرا دیا ۔۔یہ کیا کردیا ہیر ۔۔وہ تو اس کی دل میں جگہ بنانے آئی تھی اسے لگا احد کہیں نہ کہیں اس سے محبت کرتا ہوگا نہیں تو اس کی محبت قبول کرنے کے بعد کر لے گا لیکن یہاں سب کچھ بدل گیا وہ کیا سے کیا ہو گئی تھی خود کو اتنی جلدی برباد کردیا تھا اس نے اس کا جسم لرزنے لگا ہونٹ کانپنے لگے کہنے کو جیسے کچھ نہ بچا ہو سب الفاظ اس نے چھین لیے تھے ۔۔۔ دھڑکنیں بڑھتی کم ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔

” میں آپ کو چھوڑ دوں آپ یہی چاہتے ہیں ۔۔۔!! وہ بہ مشکل کانپتے ہونٹوں سے ادا ہوئے لفظ کہہ رہی تھی ۔۔۔

” ہاں ہیر خود کو مجھے آزاد کرو ۔۔۔ لیکن ہیر میری بات سنو پلیز سمجھو ۔۔۔!! احد اس کے قریب آتے نرمی سے اس کے آنسو صاف کئے اسے کندھوں سے تھام کر اسے بیڈ پر بیٹھایا خود بیڈ کے قریب چیئر کرتے بیٹھا اس کے نرمی سے ہاتھ تھام کر اسے دیکھا جو سانس روکے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ تھک گئی تھی اب اسے یقین دلاتے دلاتے ۔۔۔ اور وہ تھا ایمان نہیں لا رہا تھا اس کی محبت پر ۔۔ اور آج تو اس نے خود کو اُس کی نظروں میں گرا دیا تھا ۔۔۔

” ہیر میری تمہاری دنیا بہت الگ ہے ہم ایک نہیں ہو سکتے پلیز سمجھو میری بات کو میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا ہم دوست بن کر رہ سکتے ہیں ہیر ۔۔۔!!

” آپ مجھے اپنے قابل نہیں سمجھتے میں بہت بری ہوں کیا مجھے میری محبت کو تھوڑی بھی عزت نہیں دے سکتے آپ ۔۔!! وہ اس کی بات کے بیچ بولی بہت نرم آرام لہجے میں رونے چیخنے سے آواز ہی بیٹھ گئی تھی ۔۔۔ احد سے نہیں دیکھی جا رہی تھی یہ حالت لیکن اسے مضبوط بنانا تھا ۔۔۔۔

” ہیر تم بہت اچھی ہو تمہیں کوئی بہت اچھا ملے گا جو تمہاری قدر کرے گا تمہیں محبت دے گا جو تمہارے قابل ہوگا ۔۔میں نہیں ہیر بس کردو اب مت تھکاؤ خود کو مت دو تکلیف مجھے ۔۔۔!! احد اس کے ہاتھ دباتے تھکے ہوئے لہجے میں کہا تھا وہ تو بس سن سی اسے دیکھتی سنتی رہی دل تو دھڑکنا جیسے بھول گیا تھا جو اسے دیکھ کر ہمیشہ باہر آنے کو ہوتا تھا ۔۔۔

” آپ کو تکلیف ہوتی ہے میری باتوں سے ۔۔؟

” کیوں میں انسان نہیں ۔۔ مجھے تکلیف نہیں ہو سکتی ۔۔!! دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بول رہے تھے ایک میں غم بےبسی تو دوسرے میں اداسی خالی ٹوٹی آس بھیگی ۔۔۔ دونوں ساتھ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھے دونوں کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں سمجھ سکتا تھا دونوں کس تکلیف سے گزر رہے ہیں وہ تو ایک رومانٹک ماحول میں خوبصورت کپل لگ رہے تھے پر صرف دیکھنے میں

” میں معافی نہیں مانگوں گی ۔۔!! ہیر کی آنکھوں میں پھر برسات ہونے لگی تھی ۔۔

” مت مانگو میں نہیں کہوں گا بس تکلیف مت دینا ۔۔!! احد اس کی معصومیت پر ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اس کا دل پھر دھڑک اٹھا اس کی مسکراہٹ پر ۔۔۔

” میں بات نہیں کروں گی آپ سے ۔۔!!

” یہ زیادتی ہے ۔۔ ہم دوست بن سکتے ہیں !!

” میں نہیں بننا چاہتی ۔۔!!

” کیوں ۔۔؟

” میں اپنی محبت کو نہیں مار سکتی ۔۔!!

” چھپا تو سکتی ہو ۔۔۔!!

” آپ بہت ظالم ہیں ۔۔!!

” قبول ہے ۔۔!! وہ پہلی بار مسکرائی تھی اور اس وقت احد کو دنیا جہاں کی خوبصورت مسکراہٹ لگی تھی ۔۔آنکھیں بھیگی ہونٹوں پر اداس مسکراہٹ سرخ چہرہ دھڑکنیں بڑھا رہا تھا ۔۔ وہ بہت نرمی سے اس کے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا اس کا الزام شکایات قبول کر رہا تھا دل سے ۔۔

” ہیر ۔۔۔؟ ہوں ۔۔۔!! احد اس کی خاموشی پر بے چین سا پکارا ۔۔وہ یوں ہی خاموش سر جھکا کر اس کے مضبوط ہاتھوں میں اپنے سفید مومی جیسے ہاتھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” ٹھیک ہوں۔۔!! احد فکرمند ہوا ۔۔

” یہ مت پوچھیں پلیز ۔۔!! وہ نفی کرتے ہوئے بھرائی آواز میں ہلکا سا بولی تھی ۔۔۔ اس کی تکلیف پر تکلیف احد کو بھی ہوئی ۔۔

” ڈینر کریں ساتھ ۔۔!! اس نے بھیگی نگاہ اٹھائی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” نہیں میں پھر بھاگی بن جاؤں گی بہت بری بن جاؤں گی آپ نفرت کریں گے ۔۔۔!! وہ سرد لہجے میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ احد کو اس کا اتنی جلدی بدلہ روپ اچھا نہیں لگا تھا اسے لگا اس نے ہمیشہ کے لئے اسے کھو دیا ہو ۔۔سچ بھی تو تھا پھر وہ کیوں نہیں مان رہا تھا ۔۔۔

” مجھے گھر جانا ہے ۔۔!!

” میں ساتھ چلتا ہوں رات ہو رہی ہے اکیلے نہیں ۔۔۔!! وہ آگے بڑھی تھی کہ احد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔

” آخری بار ساتھ آنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہیر ۔۔۔!! احد ضبط کرتا رہ گیا اسے ہیر کا سرد لہجہ غصہ دلا رہا تھا ۔۔

” محبت کب ہوئی ۔۔!!

” کچی عمر میں ۔۔!!

” روکا کیوں نہیں خود کو ۔۔!!

” محبت رکنے کا نام ہوتی تو آج ہر کوئی آباد ہوتا اس پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا ۔۔ یہ بات آپ بھی اچھے سے سمجھ سکتے ہیں نہ ۔۔۔۔!! دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا تے ہوئے ایک دوسرے سے بات کرتے جا رہے تھے رات کی ٹھنڈی ہوائیں انھیں اپنے حصار میں لیتی سکون بخش رہی تھی ۔۔۔ ہیر کی آنکھیں خشک ہو گئی تھیں بال ہوا میں ہولے سے اڑ رہے تھے احد کی نظریں بار بار اس کی اوڑھ اٹھ رہی تھیں جیسے خود پر سے اختیار کھو رہا ہو ۔۔

” بہت شکریہ آپ کا ۔۔!! ہیر نے اپنے گھر کے آگے رکتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” کس لئے ۔۔!! اسے لگا اسنے طنز کیا ہو ۔۔

” مجھے میری اوقات دیکھانے کے لئے ۔۔ مجھے میری حد دیکھانے کے لئے ۔۔ مجھ اچھے سے بتانے کے لئے میں کتنی اچھی لڑکی ہوں ۔۔!! کہنے کو تو بہت کچھ تھا لیکن ایک بار پھر آنکھوں کی بارش نے کہنے سے روک دیا تھا ۔۔وہ گہرا سانس لیتی اسے دیکھا جو خود سانس روک کر کھڑا تھا اسے لگا اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہیر کو سمجھانے کے لیے وہ بہت غلط لفظ استعمال کر گیا تھا ۔۔۔ اسنے کچھ کہنا چاہا تھا کہ وہ جو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ ہو گیا تھا ۔۔۔ وہ اچانک اس کے گلے لگتے ہوئے شدت سے رونے لگی تھی ۔۔اتنا آسان نہیں تھا دل کو مارنا محبوب کو بھولنا خود کی ذات سے جذبات سے بھاگنا ۔۔۔

” مم ۔۔ میں کبھی نہیں بھول سکتی لیکن میں بھولنا چاہتی ہوں میں آپ سے نفرت کرنا چاہتی ہوں میں آپ سے کبھی بات نہیں کرنا چاہتی حدی ۔۔۔میں یہ آخری ملاقات چاہتی ہوں بس ۔۔۔!! وہ پل پل اس کی بڑھتی دھڑکنوں کو کم کرتی جا رہی تھی ساتھ خود کی دھڑکنیں ہمیشہ کے لیے بند کرنے لگی تھی ۔۔۔ احد نے بہت آرام سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا وہ یوں ہی دونوں خاموش ایک دوسرے کے قریب ایک دوسرے کی خوشبو کو محسوس کرتے رہے دس منٹ بعد ہیر دھیرے سے الگ ہوئی اس کی آنکھیں رو رو کر لال مرچوں جیسی ہو گئی تھیں احد کو بے حد تکلیف ہوئی اس کی سوجی ہوئی آنکھوں سے ۔۔۔

” میں خود کو نہیں مار سکتی میں اپنے دل سے محبت کو ختم نہیں کر سکتی پر میں کوشش کروں گی ۔۔۔ آپ کو بھولنے کی کبھی نہ یاد کرنے کی ۔۔۔!! ہیر ہچکیوں کے بیچ بڑی مشکل سے بول رہی تھی ۔۔۔

” اللہ کرے آپ کو بہت اچھی نیک لڑکی ملے ہمیشہ خوش رہیں اس کے ساتھ ۔۔۔میں کبھی بیچ میں نہ آؤں آپ لوگوں کے آمین ۔۔۔!!!

” ہیر ۔۔!! احد تو جیسے تڑپ ہی گیا تھا اس کے لفظوں پر ۔۔وہ پریشانی کے عالم میں اس کا زرد رنگ دیکھتا رہ گیا وہ اتنی تیزی سے گھر کے اندر بھاگی اور وہ اسے توڑ کر آج خود خالی ہاتھ رہ گیا تھا ۔۔۔دل اس کی طرف مچلنے لگا تھا پر اب دیر ہو گئی تھی اگر اسنے اسے توڑا تھا تو وہ بھی اسے مار کر گئی تھی زندہ تو دونوں نام کے رہ گئے تھے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *