Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 03)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 03)
Mera Ishq by Mahra Shah
” آہ ہمارا سر اتنا بھاری کیوں لگ رہا ہے بہت پین ہو رہا ہے ۔۔۔!! اروبا سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھی تھی کے سر میں بہت درد ہوا تھا اسکے ۔۔۔۔
” شکر تمہیں ہوش آگیا میں اتنی لیٹ ہوگئی ہوں وہ بھی تمہاری وجہ سے اب جلدی سے اٹھو ناشتہ کرو اور جاؤ اپنے گھر ۔۔۔!! زویا روم میں آتے اسے ہوش میں دیکھا بولتے ہوئے اپنے سامان سیٹ کرنے لگی ۔۔
” آ ۔آپ کون ہیں ہم یہاں کیسے پہنچے اور یہ کون سی جگہ ہے ۔۔۔!! اروبا نے حیرت سے کہا خود کو انجان جگہ پر دیکھ کر اسے عجیب سی حیرت ہوئی ۔۔
” سنو لڑکی سچ سچ بتانا تمہیں جو لڑکا ساتھ لایا تھا اسے کیسے جانتی ہو کیا تم دونوں کے بیچ کوئی چکر چل رہا ہے یا پھر اس نے تمہیں کڈنیپ تو نہیں کیا ۔۔!! زویا اسکے قریب آتے مشکوک نظروں سے اسکے خوبصورت معصوم چہرے کو دیکھا اروبا تو بس اسے حیرت سے دیکھے گئی ۔۔
” چائینہ سے آئی ہو کیا ویسے ہو بہت خوبصورت پیاری ایک منٹ تمہیں اردو بولنے آتی ہے کیسے ۔۔۔!!زویا اسکی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے اچانک اسکی اردو بولنے پر کھٹکی ۔۔۔
” ہم پاکستانی ہے اور اردو بھی آپکو بھی آتی ہے آپ بھی پاکستان سے ہے ۔۔۔!! اروبا نے فخر سے جواب دیا پھر اسکے جانب راغب ہوئی ۔۔
” اٹھو پہلے جلدی سے فریش ہو جاؤ پھر ناشتے کی ٹیبل پر بات کرتے ہیں ویسے تو مجھے اس کمینے کے لاۓ ہوئے مہمان بہت زہر لگتے ہیں لیکن تم زویا حنان کو بہت پیاری لگی اس لئے تم سے پہلے میں بات کروں گی پھر اسکے پاس بھیجو گی پتا تو چلے ایسا ہوا کیا تھا جو وہ تمہیں میرے پاس چھوڑ گیا ۔۔۔!! زویا کو اروبا بہت پیاری لگی اس لئے اس سے نرمی سے پیش آنے لگی تھی اروبا کے سر میں بہت درد ہو رہا تھا اس لئے وہ جلدی سے فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔
” ہمارا نام اروبا بیراج ہے ہم پاکستان سے یہاں گھومنے آئے ہیں پر کل ہمارے ساتھ کیا ہوا یہاں کیسے پہنچے یاد نہیں بس اتنا یاد تھا ہماری روم میٹ اچھی نہیں تھی وہ لوگ ہمیں کلب لیکے گئے تھی انکے دوست بھی اچھے نہیں تھے ۔۔۔!! اروبا فریش سی ناشتہ کرتی ہوئی اسے اپنی کہانی بتا رہی تھی ۔۔
” اچھا تو یہ بات ہے دیکھو پیاری لڑکی یہاں پر کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا کسی پر بھی یقین مت کرنا تمہارے لئے اچھا ہوگا ۔۔۔!! زویا نے سمجھایا کم ڈرایا زیادہ تھا ۔۔
” یہ آپکا فلیٹ ہے مطلب آپ اکیلی رہتی ہے یہاں ۔۔۔۔ ہاں میں یہاں جاب کرتی ہوں تو میرا زیادہ ٹائم وہی پر گزرتا ہے اور میرے بڑے پاپا ہے وہ کبھی کبھی آتے ہیں میرے موم ڈیڈ پاکستان چلے گئے ہیں میں بچپن سے یہیں رہتی ہوں ۔۔۔!! زویا نے بھی اپنی کہانی بتانا شروع کردی تھی ۔۔
” ہم ایک بات کہیں ۔۔۔۔ ہاں بولو ۔۔۔۔۔ کّک ۔۔کیا آ ۔آپ ہمیں یہاں رہنے دینگی مطلب ہم کرایا ادا کریں گے آپکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں یہاں کیوں رہنا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وو ۔۔وہ ہمیں ڈر لگتا ہے وہ لڑکیاں بلکل بھی اچھی نہیں تھی وہاں کے ہوسٹل کا ماحول بھی عجیب تھا اور ہم پھر سے کسی بری جگہ نہیں پھسنا چاہتے ہیں اس لئے پوچھا آپ بھی تو یہاں اکیلی رہتی ہے اور ہم یہاں خود کو سیو فیل کر رہیں ہے اگر آپ کو برا نہ لگے تو ۔۔۔۔۔!! اروبا کو زویا بہت اچھی لڑکی لگی بہت سی باتوں کے بعد اسکے دل میں خیال آیا جس کا اظہار اسنے کردیا اب زویا کے جواب کے انتظار میں تھی زویا کو اسکی معصومیت پر بہت پیار آیا تھوڑا سوچنے کے بعد اسنے ہاں کردی ۔۔
” ایک کام کرو آج ہی شام کو اپنا سامان لے آنا اور ہاں جو تمہیں کل رات لایا تھا وہ سامنے ہی پڑوسی ہے میرا اس نے کہا تمہیں ہوش آئے تو میں اسکے پاس تمہیں بیھج دوں اسکو ضروری بات کرنی تھی اوکے تو میں چلتی ہوں مجھے بہت دیر ہو رہی ہے رات کو ملتے ہیں ۔۔۔۔۔ ٹھااا اوپس سو سوری ۔۔۔۔!! زویا کو بہت دیر ہو رہی تھی اسکا امپورٹنٹ کام تھا اس لئے وہ رات کو بات کرنے کا سوچتے ہوئے بولتے جا رہی تھی کے اروبا ناشتہ کرتے ہوئے کپ رکھنے والی تھی کے اسکے ہاتھ سے گر گیا وہ شرمندہ سی ہوئی زویا جلدی میں تھی تو وہ نکل گئی ورنہ ضرور اسے اور شرمندہ کرتی ۔۔۔
” یا اللّه یہ ہمارے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہو رہا کیوں ایک تو وہ کتنی اچھی تھی ہمیں رہنے کے لئے جگہ دی اوپر سے انکی چیزے انکے سامنے ہی توڑ دی افف کچھ نہیں ہو سکتا ہمارا ۔۔۔!! اروبا خود سے بڑبڑاتے ہوئے صاف کرنے لگی اسکی ایک عادت تھی وہ ہمیشہ خود سے زیادہ باتیں کرتی تھی ۔۔۔
★★★★
” آئی تھنک یہی بتایا تھا زویا نے ھمم شاید یہی ہو چیک کر لیتے ہیں ۔۔۔!! اروبا سامنے والے دروازے پر کھڑے ہو کر سوچ منے لگی جو زویا نے بتایا تھا وہی ہے یا نہیں پھر ہمت جمع کر کے اسنے بیل دی ۔۔
” آ ۔آپ آپ تو وہی ہے نہ جو پہلے دن ملے تھے ۔۔۔!! اروبا نے مقابل کو دیکھتے ہوئے خوشی حیرت سے کہا وہ سنجیدہ سا اسے دیکھ رہا تھا جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” لگتا ہے فل ہوش میں آگئی ہے آپ میرا موبائل فون مجھے واپس کریں ۔۔۔!! وہ اسے فریش سا دیکھتا ہوا طنزیہ بولا تھا ۔۔۔
” جی مطلب ہم سمجھے نہیں آپکا فون ہمارے پاس۔۔!! اروبا نے نس سمجھی سے کہا اسکا طنز کرنا اسے برا لگا تھا ۔۔
” آپ کو ہماری پہلی ملاقات یاد ہے تو آپکو یہ بھی یاد ہوگا اس دن ہم ٹکرائے تھے غلطی سے آپ نے آپنا فون مجھے پکڑا دیا تھا اور میرا آپکے پاس آگیا تھا اتنی ڈیٹیل کافی ہے یہ پھر اور بھی انفارمیشن چاہئیے ۔۔۔!! آریان نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا اروبا کو اب بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اتنا روڈ ہو کر بات کرنا اسے پسند نہیں آیا نا اسے اندر بلایا نہ ہی حال حوال پوچھا سیدھے اپنے مطلب کی بات کر رہا تھا اروبا کو اب غصہ آنے لگا تھا اس پر ۔۔۔
” آپ ۔۔ ہمارے پاس آپکا فون نہیں ہے ہمیں اپنا فون واپس چاہئیے ۔۔۔!! اروبا غصہ دبا کر دانت پیستے ہوئے زبردستی مسکراہتے ہوئے کہتی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا وہ جان کر انجان بن گئی اسکے موبائل فون پر ۔۔ وہ اسے گھورتا ہوا دروازہ بند کردیا اسکے منہ پر ہی وہ کھولے منہ سے بند دروازے کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” یو ہینڈسم بوئے دروازہ کھولے ہمیں ہمارا موبائل فون تو واپس کردیں ہمیں گھر بات کرنی ہے ہمارے گھر والے پریشاں ہو رہیں ہوگے اوپن دا ڈور پلیز اینگری مین ۔۔۔!! اروبا تیز چلاتے ہوئے اسکا دروازہ بیل بجاتے ہوئے کہا آریان نے ضبط سے مٹھی بھینچ کر گہرا سانس لیا وہ جانتا تھا اسکا فون اسکے پاس ہے لیکن وہ کیوں نہیں دے رہی اس بات پر اسے بہت غصہ آیا تھا ۔۔
” آہہہہ ۔۔۔۔۔ ویر از مائی سلف فون ۔۔۔ھممم ۔۔۔ !! آریان نے اچانک دروازہ کھولتے تیزی سے اسے بازؤں سے پکڑ کر اندر کھینچتے ہوئے دروازہ بند کرتے اسکے ساتھ لگا کر اسکے منہ پر سختی سے ہاتھ جمع دیا اروبا اس حملہ کے لئے تیار نہیں تھی سیدھی اسکے سینے سے لگتے ہوئے دروازہ پر اسکی کمر لگی تھی زور سے وہ اس تیز حملہ پر آنکھیں بند کرتے ہوئے کھولی اور سامنے ہی اسے اپنے قریب جھکتے ہوئے دیکھا اسکی لال ہوتی آنکھوں میں دیکھتے اسکا دل زور سے دھڑک اٹھا تھا اسکے دل کی بیٹ مس ہوئی تھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آریان کو اسکا فون نہ دینے پر بہت غصہ آرہا تھا اسے بہت ضروری کام تھے ایمیلز تھی اور اب اسکی وجہ سے اسکے کام پینڈنگ میں پڑے تھے ۔۔۔
” شرافت سے سچ بولدو ورنہ انجام کی ذمےدار تم خود ہوگی تم جیسی لڑکیوں کو بہت اچھے سے جانتا ہوں ۔۔۔!! وہ غرایا تھا اس پر اروبا بے یقینی سے اسے دیکھے گئی اسکے جملے نے اسے ساکت کردیا تھا تم جیسی لڑکیوں کو اس کا مطلب وہ اسے کلب میں دیکھ کر غلط سمجھ بیٹا تھا وہ غصے میں سرخ اسکی نم آنکھیں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ھمم ۔۔۔ چھوڑے ہمیں ہہ ۔۔ہم نے پھینک دیا تھا وہ فون ہمیں نہیں پتا تھا وہ آپکا ہے ۔۔۔!! اروبا خود کو چھڑوانے لگی تھی کے اسنے منہ پر سے ہاتھ ہٹایا تو وہ گہرا سانس لیتے ہوئے پھر سے جھوٹ بولنے لگی اروبا کو بہت غصہ آیا وہ اسے گندی لڑکی سمجھ رہا تھا اسنے بھی ٹھان لی وہ بھی اب اسے موبائل فون نہیں دیگی اتنی جلدی ۔۔
” تم ۔۔ تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے میری چیز ہے مجھے واپس کرو میں جانتا ہوں وہ تمہارے پاس ہے ۔۔۔۔!! وہ غصہ ہوا ۔۔
” آپ کے ساتھ مسلہ کیا ہے ہم کہہ رہیں ہے نہ نہیں ہے ہمارے پاس آپکو سمجھ کیوں نہیں آتا اور آپ کو کوئی حق نہیں کسی پر بھی انگلی اٹھانے کا ہم کیسے ہے ہم اور ہمارا رب جانتے ہیں آپ کو ہمیں ڈفائین کرنے کی ضرورت نہیں پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی ناؤ جسٹ لیو می الون ۔۔۔!! اروبا غم جذبات میں بولتے ہوئے اس سے خود کو چھڑوا کر باہر نکل آئی اور روتے ہوئے تیزی سے لفٹ کی طرف بڑھی وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی اسے ایک جملہ سے اور وہ پتھر دل انسان اسکے دل میں بس گیا تھا ۔۔
” ڈیم اٹ ۔۔۔ تمہیں تو میں نہیں چھوڑوں گا لڑکی ۔۔۔!! آریان غصے میں بالوں میں ہاتھ پھیرتا نفرت سے اروبا کا سوچتا چیزیں پھینکنے لگا ۔۔
★★★★
” ہے سویٹ ہارٹ فائنلی یو کم بیک ویر آر یو یسٹرڈے نائٹ ۔۔۔ اروبا کو آتا دیکھ کر وہ لڑکیوں نے مسکراتے ہوئے کہا اروبا کو ان سے ڈر تو لگ رہا تھا پھر بھی اپنے اندر ہمت پیدا کرتے ہوئے اپنا سامان پیک کرنے لگی ۔۔۔
” تم کہا جا رہی ہو اور کل بھی نہیں آئی ۔۔۔۔ لگتا ہے پھر سے اپنے بوائے فرینڈ کے پاس جا رہی ہو۔۔!! وہ دونوں لڑکیاں پھر سے شروع ہوگئی تھی ۔۔۔
” كياااا بوائے فرینڈ سیریسلی ہمارا بوئے فرینڈ اور ہمیں نہیں پتا یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ جب سے آئے ہے کچھ اچھا نہیں ہو رہا ایک تو وہ اینگری مین ہمیں فون نہیں دے رہا ماما بابا پریشان ہو رہیں ہونگے کیا کریں ۔۔۔۔!! اروبا ان لڑکیوں کے سوال پر شاک میں چلاتے ہوئے خود سے بڑبڑائی ۔۔۔
” اففف واٹ از یو پروبلمز گرلز کل آپ لوگوں نے ہم سے دوستی کا فائدہ اٹھایا تھا اس سے پیٹ نہیں بڑھا کب سے باتیں کیے جا رہی ہو ہمیں نہیں کرنی آپ لوگوں سے دوستی اوکے ہم یہ جگہ ہی چھوڑ رہیں ہیں ۔۔۔!! اروبا غصے میں چیخ پڑی وہ لڑکیاں اسکے کل سے غائبی کا پوچھ رہی تھی ایک تو وہ آریان کی وجہ سے پریشان تھی ۔۔
” ہے نو پلیز اسٹاپ یار نہیں ہم پہلے ہی پریشان ہے اس موبائل فون کی وجہ سے رک جائے یا اللّه ہم کہاں جاۓ کیا کریں ۔۔۔!! ان میں سے ایک لڑکی آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے فون چھینتے ہوئے بھاگ کر باہر نکلتے ہی کسی لڑکے کے ساتھ بائیک پر بیٹھی تیزی سے آگے بڑھ گئی اروبا گھبراتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگ کر تھک ہار کر اپنا سر پیٹنے لگی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کون سے جنم کا بدلہ لے رہی تھی یہ لڑکیاں اس سے کہا پھس گئی تھی وہ اب کیسے اس جلاد سے سامنا ہوگا اسکا وہ تو اسے واپس دینے کا سوچ کر ہی ہاتھ میں پکڑے باہر نکلی تھی کے ان لڑکیوں نے اسکے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ایک تو وہ پہلے یقین نہیں کر رہا تھا اب وہ مر کر بھی یقین نہیں دلا سکتی اسے ۔۔۔
” یا اللّه یہ پھر سے نہیں ۔۔۔!! اروبا جیسے ہی لفٹ سے نکلی وہ سامنے سے آرہا تھا بلیک جینس بلیک شرٹ میں ایک ہاتھ میں اپنا بلیک کوٹ پکڑے وہ سنجیدہ سا چلتا ہوا آرہا تھا اسے دیکھ کر رک گیا وہ بھی رک گئی تھی بکھرے بالوں کے ساتھ وائٹ لانگ کوٹ میں وہ کھڑی رونے جیسی صورتحال میں تھی ۔۔
” میں لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں ۔۔۔ میرا فون واپس کرو ۔۔۔!! وہ سرد لہجے میں کہتا اسے ڈرا رہا تھا اروبا اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر تے ہوئے بولنے لگی ۔۔۔
” ہہ ۔۔ہم سچ کہ رہیں ہے ہمارے پاس نہیں ہے اپکا فون پلیز ہمیں ہمارا فون واپس کردے ہمیں گھر کال کرنی ہے ۔۔۔!! اروبا خود کو رونے سے روکتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” یہ یہ کیا بتمیزی ہے ہمارا پاسپورٹ واپس کریں ہم اپنے گھر کیسے جاۓ گے پلیز ۔۔!!
” یہ تمہارا سر درد ہے میرا نہیں جب تک میرا فون واپس نہیں کرو گی یہ نہیں ملے گا ۔۔۔!! آریان ایک نظر اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا اسکے کھلے بیگ پر نظر گئی سامنے ہی اسکا پاسپورٹ پڑھا تھا وہ چٹ سے نکالتا اسے وارننگ دے کر لفٹ میں بند ہو گیا اروبا صدمے سے وہی کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی کیا ہو رہا تھا اسے ساتھ کچھ سمجھ نہیں پائی ۔۔۔
” آہہہ ۔۔۔ نہیں ہمارا سب کچھ چلا گیا ہمارا فون پاسپورٹ ہوسٹل اچھا نہیں ملا اور اب یہ بندا جیسے دیکھ کر دل دھڑکا تھا ہمارا اب اسے دیکھ کر بند ہوتا ہے یہ سب اس رائیٹر(مہرہ شاہ ) نے کیا ہے ورنہ کون پاسپورٹ آگے رکھتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہی کیوں غلط کر رہی ہے ۔۔۔!! اروبا چلاتے ہوئے رونے جیسی شکل بنا کر بڑبڑا تے ہوئے آگے بڑھ گئی اسے سوچ لیا تھا وہ اپنی چیزیں لے کر رہے گی اس بندے سے ۔۔۔۔۔
★★★★
” سر تیاری ہوگئی ہے آپ جاۓ ۔۔!! فرہا نے حدید کو انفارم کیا ۔۔
” کیا مس بدتمیز آگیا ہے ۔۔۔ یس سر وہ آگئی ۔۔۔!! حدید کے پوچھنے پر فرہا كنفیوز ہوئی زویا جو نہیں آئی تھی پر سامنے ہی اسے آتا دیکھ کر وہ خوشی سے بولی ۔۔
” آپ اپنا کام بہت اچھے سے کرتی ہے آئی ہوپ یہ عادت آپ دوسروں میں بھی ڈال دیں۔۔!! حدید زویا کو ایک نظر دیکھتا طنز کرتا آگے بڑھ گیا پیچھے زویا اسے گھور نے کے بعد فرہا کو گھورا ۔۔
” ذرا بتانا خود کو اچھا ثابت کرنے سے کون سا ایوارڈ ملتا ہے کوئی انعام وغیرہ ملتا ہے تو بتا دو آرام سے اچھائی کے راستے پر چل پڑوں گی ۔۔۔!! زویا کو حدید پر شدید غصہ آرہا تھا ۔۔۔
” یار تم بھی تو انکو دیکھ کر شروع ہو جاتی ہو دیکھو نہ کتنے اچھے ہینڈسم بندا ہے اپنا کام دل سے کرتا ہے اور تم ۔۔۔۔۔ اسٹاپ یار چینج ڈا ٹوپک پلیز ۔۔۔!! زویا فرہا کی باتوں سے بیزار ہوتے ہوئے اسے چپ کروایا وہ اسے گھورتے ہوئے آگے بڑھ گئی زویا آئبرو اچکاتے ہوئے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔
” واہ یہ تو ٹوپ لسٹ میں پہنچ گئی اور میں ہمیشہ انکی بلاک لسٹ میں ہی رہوں گی ہاہاہا میری قسمت افف زویا تمہاری لائف میں پتا نہیں کیسا ہیرو آئیگا او میرے خواب ۔۔!! زویا منہ بناتے ہوئے خود سے بڑ بڑا تی ہوئی ہنسے ہوئے آگے بڑھی اور وہ کب سے اسکو خود سے باتیں کرتا ہوا دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی اسے منہ بناتا دیکھ کر ۔۔
چھوڑ زویا بلاک لسٹ والے بھی کامیاب لوگ ہوتے ہیں ۔۔ اسنے خود کو داد دی ۔۔
★★★★
” افف اللّه اب ہم کیا کریں کیسے اپنا پاسپورٹ موبائل فون لے مسٹر کھڑوس سے ایک تو اس لڑکی نے پتا نہیں کیا کیا ہوگا انکے موبئل کا کیسے بتاؤ کہا جاؤ بابا ماما مس یو یار ۔۔۔!! اروبا پریشانی میں چکر کاٹ تے ہوئے اپنے ماں باپ کو یاد کیا ۔۔۔
