Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 01)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 01)
Mera Ishq by Mahra Shah
” یہ سب تم نے کیا لیکن کیوں ۔۔؟ وہ غصے میں دھاڑا تھا ۔۔
” ہاں کیا میں نے لیکن میں نے اسے نہیں مارا تھا سمجھے تم ۔۔؟ وہ شخص بھی غرایا تھا ۔۔
” یہ سب بکواس بند کرو تم چاہتے تو تم اسے بچا سکتے تھے لیکن تم نے جان بوجھ کر اسے مارا ہے ۔۔ اس نے غصے میں اسکا کالر پکڑا تھا ۔۔
” مجھے غصہ آیا تھا اس پر اور میں مارنا چاہتا تھا لیکن وہ بھاگ گئی تھی وہاں سے میں نے بہت ڈھونڈا پر وہ نہیں ملی لیکن تو نے کیا کیا بول وہ تیرے پاس آئی تھی نہ تو تونے کیوں نہیں بچایا اسے بول کہیں تو نے تو ۔۔۔؟ اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا بدلہ میں وہ آنکھیں چرا گیا تھا اسکا شک اور بھی پکا ہوا اس پر ۔۔۔
★★★★
” بابا پلیز ماما سے بات کریں نہ صرف دو سال کی بات ہے ہمیں باہر جاکے پڑھنا ہے پلیز بابا ۔۔؟ وہ کیوٹ سا منہ بنا کر اپنے باپ کو منا رہی تھی ۔۔
” آپ جانتی ہے آپکی ماما نہیں مانے گی پھر کیوں ایسی ضد کر رہی ہیں ۔۔!! بیراج جانتا تھا دافیا اسے جانے نہیں دیگی ۔۔
” بابا کیا آپ اپنی پیاری سی خوبصورت سی بیٹی کی ہیلپ نہیں کر سکتے ہیں آپکی بیوی بہت کھڑوس ہے ۔۔!!
” میری بیوی تو بہت پیاری ہے آپ غلط بات کر رہی ہیں ۔۔ اسکے بابا نے گھورا تھا ۔۔
” ہاہاہا ہاؤ کیوٹ لو برڈز ایک راز کی بات بتاؤں آپکی بیوی نہ ہم سے جلتی ہے پتا ہے کیوں ہم انکے جیسے نہیں دکھتے نہ ہم سب سے الگ کیوٹ پیاری خوبصورت جو ہیں۔ وہ آنکھیں بند کر کے پیاری سی سمائل کے ساتھ اپنے بابا کو دیکھا جو اسے دیکھ کر دل سے مسکرائے تھے وہ خوبصورت نازک سی بیس سال کی لڑکی کالے سلکی گھنے بال آگے سے بےبی کٹ پیچھے سے تھوڑے لمبے بڑی آنکھیں سفید گلابی چہرہ بات کرتے ہوئے کیوٹ سے منہ بنانا وہ بے حد حسین دلکش تھی ۔۔
” کیا باتیں ہو رہی ہیں باپ بیٹی میں ۔۔ دافیہ ہاتھ میں چائے پکڑے ہوئے روم میں ان دونوں کو دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔
” ماما بابا کو آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔ کیااا مجھے ۔۔؟ بیراج گھبرا گیا بیٹی کے سوال پر دافیہ دونوں کو دیکھ کر تھوڑا بہت سمجھ گئی تھی ۔۔
” اگر یہ بات اس لڑکی کے بارے میں ہے تو آپ مجھے سے کوئی امید مت رکھنا ۔۔ دافیہ نے دونوں کو گھورا تھا ۔۔
” آپ دونوں ہم سے پیار نہیں کرتے ۔۔وہ روتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی ۔۔
” یار دافیہ کیوں کرتی ہو ایسا اگر اسکی خواہش ہے تو پلیز یار جانے دو اسے ہم کبھی کبھی ملنے بھی جا سکتے ہیں دو سال کی بات ہے ۔۔۔!! بیراج نے اسے سمجھانا چاہا تھا ۔۔
” بیراج آپ جانتے ہیں مجھے ڈر لگتا ہے یہ بھی اسے جگہ اسی ملک جانا چاہتی ہے جہاں سے ہم سب کی بری یادیں وابستہ ہے پھر کیسے جانے دوں دشمن تو ابھی تک زندہ ہے مجھے ڈر لگتا ہے بیراج وہ بھی اس کی طرح معصوم ہے میں نے بہت چاہا وہ ایسی نہ بنے پھر بھی یہ سب ہوا ۔۔ دافیہ نم آواز میں بولتے ہوئے رو پڑی تھی بیراج آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔
” کچھ نہیں ہوگا اسے جانے دو وہ بہت ضدی ہے تم جانتی ہو کچھ بھی کر سکتی ہے اس لئے اسکی خوشی میں خوش رہو میری نظر ہوگی اس پر ہم اپنی ڈول کو کچھ نہیں ہونے دینگے ۔۔ بیراج نے اسے یقین دہانی کرائی ۔۔
★★★★
” ڈاکٹر زویا حنان یہ لیں آپکے لیے ایک نیا کیس ہے آج سے آپ ہی اسے ہینڈل کریں گی ۔۔!! ڈاکٹر فرہا نے آکر اسے ایک کیس دیا تھا وہ جو آنکھیں موندے سیٹ سے ٹیک لگا کر اپنی سوچوں میں گم تھی ۔۔
” پتا ہے میں ڈاکٹر نہیں بننا چاہتی تھی پر میری قسمت ۔۔ اس نے گہرا سانس بھرتے ہوئے فائل کھولی ۔۔
” اچھا پھر کیا بننا تھا آپ جناب کو ۔۔ فرہا نے مسکراتے ہوئے پوچھا وہ اسکی یہاں ایک ہی دوست تھی ۔۔
” مجھے ایک ایجنٹ بننا تھا بہت سے راز ہے جن کے جواب ڈھونڈنے ہے پر یہاں ہوسپٹل میں بیٹھ کر بس دوسروں کی تکلیف دور کرنے کی کوشش میں خود کی تکلیف کو بھلا رہی ہو پتا نہیں کب یہ سفر ختم ہوگا ۔۔ زویا نے گہرا سانس لیتے ہوئے نم آواز میں کہا اسکی آنکھوں سے سامنے وہ پیارے سے چہرے گھومنے لگے تھے ۔۔ زویا پچیس سال کی خوبصورت نین نقش والی لڑکی تھی کالے کچھ گولڈن سلکی بال اسکی کمر سے تھوڑے اوپر تھے وہ لمبے قد والی حنان اور زافا کے جیسے دیکھنے والی انکی پیاری سی بیٹی تھی ۔۔
” یہ لوگ پاکستان سے آئے ہیں ۔۔۔ ہاں اس لڑکی کا دل بہت کمزور ہے اسکی سرجری کروانے لنڈن کے بیسٹ ڈاکٹر کو دیکھانے آئے ہے اور جب تک ڈاکٹر ڈین نہیں آتے تب تک تمہیں دیکھنا ہوگا یہ ڈاکٹر ڈین کا آڈر ہے ۔۔ فرہا نے اسے پوری ڈیٹیل سے بتایا دیا وہ دونوں آپس میں انگلش میں بات کر رہی تھی زویا کو اردو آتی تھی پر وہ صرف گھر میں بات کرتی تھی باہر تو اسے یہاں انگلش میں ہی بات کرنی تھی بچپن سے وہ اسی ملک میں رہی تھی ۔۔
★★★★
” اسکا پیچھا چھوڑ دو زید وہ میرا ہے کیوں تم ہمارے بیچ آجاتے ہو کیوں ۔۔ڈی اے غصے میں غرایا زید پر ۔۔
” میں نے وعدہ کیا تھا میں اسکے بیٹے کا خیال رکھوں گا ۔۔ زید نے سکون سے جواب دیا اسکا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔
” تمہیں نہیں لگتا تم بہت غصہ کرنے لگ گئے ہو آج کل اس لئے وہ تم سے دور ہو گیا ہے ۔۔ زید نے اسے مزید غصہ دلایا تھا ۔۔
” اسے مافیا گینگ میں تم نے شامل ہونے کو کہا تھا کیا تم اپنا وعدہ بھول گئے کیا تم انعل کی باتیں بھول گئے کیا کہا تھا اسے ۔۔ ڈی اے کا بس نہیں چل رہا تھا اسکا خون کردے ۔۔
” دیکھو یہاں جتنا اچھا بنو گے اتنے ہی ذلیل ہوگے اس لئے اچھا ہے اسے کچھ سیکھنے دو وہ جو بھی کر رہا ہے وہ جانتا ہے وہ کیا کر رہا ہے تم اسکے راستے میں آنا بند کرو ۔۔ زید کو بھی اب وہ غصہ دلا رہا تھا ۔۔
” بھول گئے وہ میرا بیٹا ہے میرا خون ہے اور اس پر اتنا حق مت جماؤ بعد میں تمہیں ہی تکلیف ہوگی ۔۔ڈی اے نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا تھا ۔۔
” بیٹا تمہارا ہے بات میری مانتا ہے اور ایک بات وہ میری محبت کا وجود ہے اس لئے وہ مجھے بھی عزیز ہے تمہیں جو کرنا ہے کرو لیکن اسے روکنا مت غصہ میں وہ تم سے بھی آگے ہے یاد رکھنا ۔۔ زید مسکراتے ہوئے بولتا وہاں سے چلا گیا ڈی اے غصہ میں ہر چیز اٹھا کر پھینکنے لگا تھا ۔۔
★★★★
” السلام علیکم بڑے پاپا کیسے ہے آپ ۔۔ زویا گھر آتے ہی سامنے بیٹھے داريان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔
” تھک گیا ہوں اپنی سزا سے ۔۔!! داريان نے تھکے ہوئے انداز میں کہا زویا نے انکے خوبصورت چہرے کو دیکھا وہ آج بھی ینگ ہینڈسم تھا عمر کے ساتھ وہ بڑھا ضرور تھا لیکن اپنی صحت کا خیال رکھنے سے وہ سمارٹ خوبصورت ابھی تک تھا ۔۔
” پھر سے اس کمینے کی وجہ سے اداس ہیں آپ کو نہیں لگتا دو کھینچ کر رکھنا چاہیے تھا آپکو آج وہ کنٹرول میں ہوتا ۔۔زویا نے اسکا سوچتے غصے میں کہا تھا داريان اسکے انداز پر مسکرا دیا ۔۔
” اسے کھونے سے ڈرتا ہوں ۔۔۔ پر کیوں وہ آپکی بات بھی نہیں مانتا پھر بھی آپ اسے کچھ نہیں کہتے ہیں ۔۔۔ کیوں کے میں نے اسکی ماں سے وعدہ کیا تھا اسکا ہمیشہ خیال رکھوں گا اور وہ مجھے اپنی جان سے بھی عزیز ہے اور تم بھی ۔۔۔ داريان مسکراتے ہوئے بولتا اسے اپنے ساتھ لگایا زویا مسکرا دی ۔۔
” میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن آپکے بیٹے سے نفرت اور آپ مجھے کچھ نہیں کہیں گے اوکے ۔۔ زویا بولتے ہوئے واننگ دے کر اندر گئی داريان گہرا سانس بھرتا رہ گیا وہ جانتا تھا ان دونوں کی بچپن سے نہیں بنتی تھی ۔۔
” یہاں کب تک رہنے کا ارادہ ہے ۔۔دونوں کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
” آپ کیوں مجھے یہاں سے بھیجنا چاہتے ہیں جب تک میرے سوالوں کے جواب نہیں ملتے تب تک نہیں جا رہی اب آپ کوئی بھی بات نہیں کریں گے ایسی ۔۔ زویا سنجیدگی سے کہتی کھانا کھانے لگی تھی داريان اپنی سوچوں میں گم تھا زویا جانتی تھی وہ پریشان ہیں بہت تکلیف میں ہے کاش کے وہ کچھ کر سکتی ۔۔
★★★★
” واپس کب آرہے ہو ۔۔؟ زید فون پر دوسری طرف سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
” کل کی فلائیٹ ہے ۔۔۔ اوکے آرام سے آؤ پھر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔۔ زید نے پیار سے کہتا فون رکھا ۔۔
” تمہیں نہیں لگتا تم دوسروں کی اولاد میں دلچپسی لے رہے ہو ۔۔ اسکے باپ نے طنزیہ کہا تھا ۔۔
” وہ دوسروں کی نہیں میری محبت کی نشانی ہے کتنی بار بتاؤں آپکو ۔۔ زید نے غصے میں کہا ۔۔
” کاش تم بھی شادی کرلیتے تو آج تمہارا بیٹا ہوتا اس جگہ جہاں تم اسے لانا چاہتے ہو ڈی اے کی خاموشی کو اور ہوا مت دو وہ صرف اپنے بیٹے کی وجہ سے خاموش ہے ورنہ تم بھی جانتے ہو وہ کیا کر سکتا ہے لیکن پتا نہیں کیوں تم دونوں کے سر سے ابھی تک عشق کا بھوت کیوں نہیں اتر تا ۔۔ اسکا باپ غصے میں بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
” انعل کاش تم واپس آجاؤ یار دور سے ہی صحیح پر تم تھی سامنے تھی کیسے جی رہا ہوں یہ صرف میں جانتا ہو میں چاہتا ہوں تمہارا بیٹا بہت مضبوط بنے اسے وہ لوگ کبھی تکلیف نہ دے وہ ہر لڑائی لڑنہ سیکھ لے ۔۔زید گہرا سانس بھرتا آنکھیں بند کر گیا۔۔
★★★★
” پچیس سال گزر چکے ہیں تمہیں یہاں سکون سے سوتے ہوئے میرا سکون برباد کرکے کاش میں تمہیں بچا لیتا تو آج میں یہاں خالی ہاتھ کھڑا نہیں رہتا ۔۔ داريان اسکی قبر کے آگے بیٹھا نم آواز میں کہہ رہا تھا وہ ہر روز اسکی قبر پر آتا تھا کبھی اسے اکیلا نہیں چھوڑا تھا اپنے پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا وہ ہر روز ۔۔
” انعل پلیز اسے کہو وہ کیوں خفا ہے مجھ سے اب بس کردے مجھ میں ہمت نہیں اب اسکی ناراضگی سہنے کی اسے کہو ایک بار پیار سے مجھے بابا بلاۓ مجھے گلے لگاۓ میں تھک گیا ہوں اپنی سزا سے یار اب معاف کردو دونوں مجھے پلیز ۔۔۔ وہ شدت سے رونے لگا تھا ۔۔
” السلام علیکم ماما کیسی ہیں آپ جانتا ہوں بہت تکلیف میں ہوگیں آپ لیکن اب اور نہیں بہت جلد آپکے قاتل کو سزا دونگا ۔۔ وہ گھمبیر آواز نوجوان خوبصورت مرد اسکی قبر کے سامنے پھول رکھتا وہاں دوسری سائیڈ بیٹھا داريان نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس بھرا تھا ۔۔
” آپ میری موم کے پاس مت آیا کریں انھیں تکلیف دینا بند کریں وہ سکون سے سو رہی ہے اسے سکون سے سونے دے انھیں مزید ہمارے رشتے کے بارے میں بتا کر تکلیف مت دیا کریں ۔۔ اسنے سرد لہجے میں کہا تھا داريان نے ضبط سے مٹھی بھینچ لی تھی وہ اس پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اب اسکا ضبط آزما رہا تھا ۔۔
” تم جب باپ سے بات کرنے کی تمیز سیکھو تب آنا بات کرنے اور ایک بات اسے تکلیف کون دے رہا ہے یہ تم بھی جانتے ہو۔۔!! داريان افسوس سے کہتا وہاں سے نکل گیا اسکی آنکھیں نم تھی وہ مزید برداشت نہیں کر پا رہا تھا اسکی بے رخی اس لیے اسکے سامنے اب کم آتا تھا وہ جانتا تھا اسے جب سچ پتا چلے گا وہ خود آئیگا اسکے پاس اور وہ اسی پل کے انتظار میں تھا ۔۔
” انھیں تکلیف کون دے رہا ہے وہ تو بہت جلد پتا چل جائے گا آئے مس یو موم آئے وش آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہتیں ۔۔!! اس نے آنکھیں بند کئے کرب سے کہا تھا ۔۔
★★★★
” تم نے سنا کچھ ۔۔۔ کیا ۔۔۔ پاکستان سے کچھ ڈکٹیٹوز آئے ہیں اور وہ ہمارے گروپ میں رہیں گے لیکن وہ ہمارے سینئر ہونگے ۔۔۔ واٹ سیریسلی زویا مان گئی ۔۔۔ بیرونا شووان یہاں کے ڈاکٹر اور زویا کے بہت اچھے دوست کلاس فیلوز تھے وہ لوگ بھی یہی زویا کے ساتھ کام کرتے تھے دونوں انگیجڈ تھے ۔۔
” یہ سب اس کمینے نے کیا ہے جان کر بدلہ لے رہا ہے اپنی انسلٹ کا اسکا پرپوزل جو اکسیپٹ نہیں کیا تھا نہ وہ جانتا ہے میں کسی کے آگے پیچھے گھمنے والی نہیں اس لئے ہمارے گروپ ہی دے دیا ہے ان لوگوں کو ۔۔!! زویا روم میں آتے غصے میں بولے جا رہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ڈین کا خون کردے وہ ہمیشہ اپنی آنا میں رہنے والی لڑکی تھی کسی کے آگے پیچھے گھمنا اسکی شان کے خلاف تھا ۔۔
” ریلکس یار دیکھنا ہم کیسے بھگاتے ہے ان لوگوں کو ڈونٹ وری ہم مل کر انھیں واپس انکے ملک بھیج دیں گے ورنہ ہم تو انکے ساتھ کام کرنے والے نہیں اوکے ۔۔!! ان دونوں نے اپنا ہاتھ آگے کیا زویا نے بھی مسکرا کر ہاتھ رکھ دیا تھا اسنے سوچ لیا تھا وہ اسکا آڈر فالو نہیں کرنے والی تھی ۔۔۔
★★★★
” وہ نہیں مان رہی بہت ضدی ہوگئی ہے کہا بھی تھا تمہیں کچھ مت بتاؤ اسے لیکن تم اچھا کرتی ہے زافا تمہارے ساتھ ۔۔!! داريان غصے میں دانٹ پیس کر کہا تھا اسے حنان پر بہت غصہ تھا ۔۔
” تمہاری سنگت میں رہی ہے کچھ تو اثر ہوگا نہ اور اس اے ڈی کا بتاؤ ابھی تک نہیں سدرا ۔۔؟ حنان طنزیہ بولتا مسکرایا تھا ۔۔
” میں تھک گیا ہوں حان میری آزمائش کب ختم ہوگی میں اسے یہاں اکیلا چھوڑ کر بھی نہیں آسکتا تم زویا سے بات کرو وہ کچھ چھپا رہی ہے وہ چپ بیٹھنے والی نہیں ہے ۔۔!! داريان نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا تھا ۔۔
” میں کرتا ہوں بات اگر وہ نہیں مانی تو اسے کون منا سکتا ہے یہ تم بھی جانتے ہو اسی سے بات کرنی پڑے گی ۔۔۔!! حنان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” تم انکے بیچ لڑائی کروانا چاہتے ہو ۔۔۔ پہلے کون سی دونوں میں دوستی ہے ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں اسے کچھ بھی کہنے کی وہ اسے ہرٹ کرے گا اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا وہ خود کس راستے پر چل رہا ہے وہ خود نہیں جانتا اس لئے خود بات کر سکتے ہو تو کرو ورنہ چھوڑو میں کرلوں گا بات ۔۔!! داريان غصے میں کہتا فون کٹ کر گیا اور گہرا سانس لیتا خود پر ضبط کیا تھا ۔۔
★★★★
” واؤ فائنلی ہم جا رہے ہے کتنا مزہ آئیگا یا اللّه تھینک یو افف ویٹ نہیں ہوتا ۔۔!! وہ خوشی سے چیختے ہوئے پورے روم میں ڈانس کر رہی تھی ۔۔
” مامااا آ لوو یو سو مچ آپ بہت پیاری ہے ۔۔!! وہ دافیہ کو روم میں آتا دیکھ کر خوشی سے اسکے گلے لگی تھی ۔۔
” بس بہت ہوا پڑھنے نہیں جا رہی صرف گھومنے کی اجازت دی ہے ۔۔۔۔۔ افف ماما کیا ہے تھوڑی دیر خوش تو ہو لینے دے نہ جانتی ہوں نہیں چھوڑ رہی آپ تین مہینے میں کیا ہوتا ہے پانچ منتھ یا پھر ایک سال کے لئے جانے دیتی نہ ۔۔!! وہ معصومیت سے منہ بنا کر بولی تھی دافیہ نے اسے باہر پڑھنے کے لئے نہیں چھوڑا تو بیراج نے اسے گھومنے کی اجازت دلوائی تھی صرف تین ماہ کے لئے وہ بھی پہلے ناراض ہوئی پھر مان گئی بی جان اپنے دادا کے لیے انکی طبیت کافی خراب رہتی تھی انکی عمر کی وجہ سے بیراج نے اسے بہت پیار سے سمجھایا تھا وہ سمجھ گئی تھی لیکن اسے ایک شرط رکھی تھی وہ وہاں جاکر کوئی جاب کریگی جب تک وہاں رہے گی کچھ سیکھنا چاہتی تھی بیراج نے مسکراتے ہوئے اسے اجازت دی ۔۔
★★★★
” حدید بیٹا اپنا بہت خیال رکھنا میں جانتی ہوں تم اپنے کام میں بلکل بھی اپنا خیال نہیں رکھتے اور یہاں میں پریشان ہوتی رہوں گی ۔۔!! حیا نے اپنے خوبرو خوبصورت بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا اسکا دل نہیں مان رہا تھا وہ جاۓ باہر ۔۔
” اف ہو ماما اگر آپ اٹسے اداس رہیں تو میں کیسے جاؤں گا آپ جانتی ہے میں آپکے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔ پھر کیوں جا رہے ہو اپنی ماما کو چھوڑ کر ۔۔۔!! اسکے شکوے پھر سے شروع ہوگئے تھے ۔۔
” حیا تم اسے بھی اداس کر رہی ہو وہ ہمیشہ کے لئے نہیں جا رہا اپنی ٹرینگ کے لئے جا رہا ہے ایک سال کی بات ہے آجائے گا ۔۔!! احمد حیا کے پیچھے کھڑا اسکے بازؤں زے تھام کر پیار سے سمجھا رہا تھا انکا اکلوتا بیٹا تھا دونوں کی جان تھی اس میں اور وہ تینوں اسکی جان تھے ۔۔
” بھائی جلد سے آئیگا کھانا ٹائم پر کھانا بہت اچھے سے اپنا خیال رکھنا اوکے ورنہ ماما یہاں سیلاب لاۓ گی آپ جانتے ہیں ہمارے گھر کی ٹنکی فل ہوتی ہے پھر ڈیڈ پریشان ہو جاتے ہیں باقی پانی کہا جائیگا اور آہ بھائی ۔۔۔۔ بس کرو میری ماما کی تعریف اب کچھ کہا نہ ایک لگاؤں گا ۔۔ڈیڈ بھائی جانے سے پہلے ہی مار رہے ہیں ۔۔۔۔۔ چھوڑو میری جان کو ۔۔۔!! احمد حیا کی پیاری سی بیٹی جیا اپنے بھائی سے گلے لگے پیار سےدادی اما کی طرح اسے سمجھا رہی تھی حدید نے اپنی ماں کی تعریف پر اسکے کان پکڑے ۔۔
” اوکے میری فلائٹ کا ٹائم ہو گیا ہے اب چلتا ہوں آپ سب اپنا خیال رکھنا اور ڈیڈ میری ماما کا خیال رکھنا بہت اور میری طرف سے روز تھوڑا تھوڑا پیار دیتے رہیئے گا ۔۔۔!! حدید کی بات پر احمد قہقہہ لگاتے ہوئے کچھ کہا حیا شرم سے سرخ ہوگئی تھی جیا بھی اپنی ماں کے لال چہرے پر ہنستے ہوئے پیار کیا تھا ۔۔۔
” حدید سنو وہا جا کر داريان سے ملنا اور اگر ہو سکے تو اسے سمجھاؤ اب اسکی تکلیف میں مزید اضافہ نہ کریں آرام سے جاؤ ۔۔۔ جی ڈیڈ میں بات کرونگا ویسے بھی جب تک وہاں ہوں اسی کے ساتھ رکوں گا بات ہوگئی ہے میری ۔۔!! حدید باپ سے ملتا آگے بڑھ گیا احمد گہرا سانس بھرتا داريان کو میسج کرتا حیا کے پاس گیا ۔۔
یہ تھا حدید ملک احمد ملک کا بیٹا جو بہت ہی اچھا ہارٹ ڈاکٹر تھا وہ اپنے اسنے آدھی پڑھائی باہر سے کمپلیٹ کی تھی تو اسکی باہر کے لوگوں سے بہت اچھی دوستی تھی وہ نوجوان خوبصورت انداز احمد کے جیسا تھا بلکل کالی آنکھیں گھنے بال ماتھے پر سیٹ ہوئے سفید رنگت آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگا ہوا تھا وہ بے حد ہینڈسم وجاہت فٹ مرد تھا ۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” ہاۓۓۓ اللّه ہم پہنچ گئے یہاں افف یقین نہیں ہوتا فائنلی ہم لنڈن میں ہیں یار بہت تھک گئے ہیں ہم تھوڑا آرام کرنے کے بعد گھومتے ہیں یسسسس ۔۔۔!! وہ خود سے باتیں کرتے ہوئے فریش ہونے چلی گئی تھی ۔۔
” السلام علیکم بابا جی جی آرام سے پہنچ گئے ہیں ہم آپ اور ماما بلکل بھی فکر نہ کریں ہم یہاں سہی سکون سے بیٹھے ہیں تھوڑی دیر بعد باہر جائیں گیں ۔۔!! اروبا خوشی میں جلد بازی میں بولے جا رہی تھی ۔۔
” وعلیکم السلام میری پرنسس خوش ہے اب اور بیٹا کہیں بھی جائیں آپ آرام سے جانا کسی سے کوئی بھی لڑائی جھگڑا نہیں کرنا آپ کو اجنبیوں سے دور رہنا کسی سے کوئی بھی فضول بات چیت نہیں کرنی ۔۔!! بیراج نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
” اوکے بوس اور کوئی حکم ویسے آپکی ہٹرل بیوی کہاں ہے ۔۔۔۔ شرم نہیں آتی ماں کے بارے میں ایسی بات کرتے ہوئے ۔۔!! اسکے بولنے پر بیراج کے ساتھ بیٹھی دافیہ غصے میں فون لے کر اس سے کہا ۔۔
” اوپس آپ بیٹھی تھی کیا بابا کے ساتھ اچھا نہ ہماری پیاری ڈول بےفکر رہیں آپکی ڈول یہاں بہت مزے میں ہے اب کوئی بھی جلدی جلدی میں ہمیں کال کر کے تنگ نہیں کریں گے آپ لوگ اوکے ۔۔!! اروبا جلد ہی اپنی بات کی وہ جانتی تھی اسکی ماں ہر تھوڑی دیر میں اسے کال کریگی جس سے وہ کہیں بھی سکون سے گھوم نہیں سکتی تھی پھر تھوڑی دیر دونوں ماں بیٹی کی نوک جھوک چلتی رہی ۔۔
★★★★
” السلام علیکم بھائی کیسے ہیں آپ بتا دیتے میں آجاتا لینے ۔۔!! وہ حدید سے نرم بھاری آواز میں بولا وہ بےحد حسین مرد تھا کالے گھنے بال ماتھے پر سیٹ کئے ہوئے تھے وہ سنجیدہ مغرور انسان گورا رنگ مضبوط کسرتی جسم چوڑے شانے چھ فٹ سے نکلتا قد گہری کالی آنکھیں جن میں ایک سرد پن غصہ ہمیشہ رہتا تھا اسکی پرسنلٹی غضب ڈھا رہی تھی اسکے چہرے پر رعب رہتا تھا
آتے جاتے لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھ رہے تھے مگر وہ اس بات سے بے نیاز اپنی دنیا کا مالک تھا حدید بھی کچھ کم نہیں تھا وہ بھی بلکل اسکے جیسا مزاج خوبصورت پرسنلٹی کا مالک تھا ۔۔
” اٹس اوکے چلو اب ایک اور مہربانی کردو اپنے فلیٹ پر لے چلوں۔۔!! حدید نے نرم مسکراہٹ سے کہا تھا ۔۔
” تو آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن ایک شرط پر ۔۔۔آریان داريان خان نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
” تو تم شرط رکھ رہے ہو میرے ساتھ تمہیں کیا لگتا ہے میں مان جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔ پھر آپ کوئی اور جگہ سکتے ہیں ۔۔۔۔ اوکے میری بھی ایک شرط ہے صرف ایک بار اسکے بعد تمہاری مرضی ۔۔۔!! دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے بات کر رہے تھے ۔۔
★★★★
” اسکے پیچھے ٹائم ویسٹ کیوں کر رہی ہو ۔۔!!
” تو کیا تمہارے پیچھے کروں اور ایک بات اسکے پیچھے میرا کوئی بھی ٹائم ویسٹ نہیں ہوتا سمجھے دوبارہ مجھ سے ایسی بات مت کرنا وہ میرے لئے کیا ہے یہ وہ بھی اچھے سے جانتا ہے ۔۔!! الینا نے غصے میں کہا تھا مقابل کو ۔۔
” ہاہاہا سہی کہا وہ جان کر بھی انجان ہے تمہارے بارے میں ۔۔۔!! ڈیمن نے قہقہ لگایا اسکے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھ کر ۔۔
” ششش اسکی کال ہے اور وہ میرے لئے کیا ہے میں اسکے لئے کیا ہوں یہ ہم دونوں جانتے ہیں تم ہماری بیچ میں مت آؤ سمجھے میرے اچھے دوست ہو جسٹ دوست بن کر رہو میرے پرسنل معاملوں میں مت پڑو ۔۔!! الینا ایک ادا سے کہتی وہاں سے چلی گئی وہ اسکے ادا پر مسکراتا رہا ۔۔
” روز اسکے ہاتھوں بیعزت ہوتے ہو کیوں کرتے ہو ایسا جانتے ہو وہ اسکے خلاف کچھ نہیں سن سکتی ۔۔!! اسکا دوست افسوس سے اسے دیکھ کر بولا تھا ۔۔
” کچھ پل اسکے ساتھ رہنے کو ملتے ہیں پھر اس میں وہ غصے میں بات کریں یا پیار سے میرے لئے وہ کیا ہے یہ وہ بھی نہیں جانتی ۔۔!! ڈیمن نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
★★★★
” یہ ہے ڈاکٹر حدید احمد ۔۔۔ سر یہ ہے یہاں کی اسٹاف ڈاکٹرز ۔۔!! فرہا نے حدید کو سب سے ملاتے ہوئے تعروف کروایا سب کافی اچھے سے حدید سے مل رہے تھے وہ بھی سب سے اچھے سے مل رہا تھا ۔۔
” سر چلیں میں آپکو آپکا کیبن دکھا دو ۔۔۔ اوکے ۔۔ یہ رہا آپکا روم اور یہ ساتھ میں جو ہے وہ ڈاکٹر زویا حنان کا ہے وہ ابھی تک نہیں آئی ہے لیکن جلد ہی آجاۓ گی آپ کو وہی اسسٹ کریں گی ۔۔۔!! فرہا اسے روم دکھا کر سامنے زویا کی خالی ٹیبل دیکھتے ہوئے شرمندہ سا کہا تھا ۔۔
” مجھے اپنے ساتھ لیٹ ورکر پسند نہیں اور نہ ہی ایسے لوگ جو اپنے سینیئر کو شرمندہ کریں انڈرسٹینڈ ۔۔۔ جی سر میں سمجھا دونگی ۔۔!! حدید نے بھاری گھمبیر سخت لہجے میں کہا تھا فرہا ڈرتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے باہر چلی گئی تھی ۔۔۔
” زویا کہاں ہو یار تمہاری وجہ سے مجھے کتنا شرمندہ ہونا پڑا سر کے سامنے جانتی ہو ۔۔۔!! فرہا زویا کو فون لگاتی برس پڑھی ۔۔
” آرہی ہوں یار آج تھوڑا لیٹ ہوئی ہوں اور تم کیوں اور ریئکٹ کر رہی ہو ۔۔۔!! زویا ہوسپٹل میں اندر آتے ہوئے سب کو ہیلو بولتی تیزی سے اندر جا رہی تھی ۔۔
” لو آگئی بول کیوں آگ بنی ہوئی تھی تم اور یہ کون بوس ہے جو آتے ہی سب کی ہوا نکال دی ہے یہ ہوسپٹل ہے کوئی جیل نہیں جو سب کے سانس رکے ہوئے ہیں یار سیریسلی حد ہوگئی ایک تو ڈین نے ہمارے اوپر کسی پاکستانی ٹیم کو بوس بنا کر بھیج دیا ہے ہم لوگ کیا یہاں پر بریانی بیچنے آتے ہیں ہم بھی انسان ہیں یار جسٹ لیو اٹ ناؤ ٹیل می وہ سستے ڈاکٹرز آگئے ۔۔!! زویا اندر روم میں بغیر نوک کئے آتے ہی شروع ہوگئی بولنا اسے کسی کی موجودگی کا بھی خیال نہیں آیا اور وہ اپنا سارا غصہ فرہا پر نکالتی تھک ہار کر بیٹھ گئی بلو پینٹ پنک سٹائیلش شرٹ اوپر سے بلیک لونگ کوٹ پہنے ہوئے بالوں کی پونی بنی ہوئی تھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی پر اس وقت وہ حدید کو بے حد زہر بد تمیز لڑکی لگی تھی ۔۔
” مس بدتمیز کیا آپکو تمیز نہیں اندر بغیر نوک کئے نہیں آتے ہیں ۔۔!! حدید خود پر ضبط کرتا سنجیدگی سے بولا تھا زویا جو پانی کی بوتل منہ سے لگاۓ ہوئے تھی کسی مرد کی بھاری دلکش آواز سنتے اسکے منہ سے پانی نکل آیا وہ کھانستے ہوئے خود کو سنبھالنے لگی فرہا نے جلدی سے اسکی مدد کی خود کو ریلکس کرنے کے بعد اسنے حدید کی طرف دیکھا بلو پینٹ وائٹ شرٹ اوپر سے وائٹ ڈاکٹر کوٹ میں ماتھے پر کالے بال سیٹ کئے ہوئے تھے وہ بے حد ہینڈسم ینگ لڑکا تھا چہرے پر سنجیدگی تھی زویا ایک پل کو اسے دیکھتی رہی پھر خود کی بے اختیاری پر شرمندہ ہوئی ۔۔
” وہ میں ہیلو ڈاکٹر زویا حنان اور آپ ۔۔!! زویا کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے پھر خود ہی تعارف کروانے لگی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اسنے حدید ایک نظر اس بدتمیز لڑکی کو دیکھا جیسے سوری کرنے کی تمیز تک نہیں تھی ۔۔
” ڈاکٹر حدید احمد آئے ڈونٹ لائک لیٹ ورکرز سو بی کیئر فل نیکسٹ ٹائم ۔۔!! حدید سرد لہجے میں کہتا وہاں سے چلا گیا ۔۔
” زویا حنان ناؤ یو آر ان بلیک لسٹ اوف مسٹر کھڑوس افف بتا نہیں سکتی تھی کوئی بیٹھا ہے یہاں پر پہلے بتا دیتی وہ لوگ آگئے ہے یہاں تو میں آتے ہی انکی بلیک لسٹ میں شامل ہوگئی اب دیکھ نہ کچھ بھی اچھا کرلو کبھی پسند نہیں آؤں گی ۔۔!! زویا نے خود پر افسوس کیا ایک پل کو پھر گہرا سانس لیتے ہوئے خود کو داد دی ۔۔
” تمہیں شرم نہیں آتی ایسے ہنستے ہوئے اور داد دے رہی ہو خود کو ۔۔!! فرہا کو اس پر غصہ آیا ۔۔
” دیکھو یار پہلا امپریشن اچھا پڑنا چاہیے نہ اور ہو گیا ڈر جاتی جھک جاتی تو وہ بار بار ایسا کرتے میرے ساتھ کچھ سیکھو مجھ سے ہمیشہ اچھا بن نہ بھی منافق کی نشانی ہے کیوں کے وہ آگے جاکے اپنے اچھے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں کچھ لوگ سب کو نہیں کہہ رہی اوکے جا رہی ہوں ۔۔!! زویا فرہا کا غصے سے لال چہرہ دیکھتے ہوئے کہتی باہر بھاگی ۔۔
★★★★
” یار ماما ہم کہہ رہیں ہے نا ہم ایک ٹائم بات کریں گے یہ آپ بار بار کال مت کریں نہ پلیز پھر ہم گھومیں گے کیسے اور ہاں ہم بتا چکے ہیں جب تک یہاں پر ہیں ہم کوئی جاب کریں گے ایسے گھر پر بیٹھ کر صرف گھوم نہ مزہ نہیں آئیگا کچھ یونیک ہونا چاہئے رائیٹ ۔۔۔ دیکھی ارو بیٹا آپ وہاٹ کا ماحول نہیں جانتی بس آرام سے رہیں اپنا بہت خیال رکھیں اور یہ جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم آپکو پیسے بھیجوا دیں گے میری جان ۔۔۔ پلیز موم کچھ کرنے دے نہ ہم کچھ ایڈوینچر کرنا چاہتے ہیں اوکے ماما اب ہم رکھتے ہیں آپ اب کال نہیں کریں گی ہم خود ہی آپ کو کال کریں گے بس اپنا بہت زیادہ خیال رکھیں اور بابا کو میرا پیار دینا ہاہاہا ۔۔۔!! اروبا شرارت سے کہتی کال کٹ کر دی ہنستے ہوئے موبائل پر جھکی وہ آگے بڑھ رہی تھی کہ سامنے والا بھی اپنے ہی موبائل میں جھکا تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔۔
” آہہہ ۔۔۔!! اروبا سامنے وجود سے زور کا ٹکراؤ سے گرتی کے اسنے مضبوطی سے اسے تھام لیا اروبا ڈر سے آنکھیں بند کرلی تھی سامنے والا شخص اس لڑکی کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا رہا وہ خوبصورت دلکش سی لڑکی اسکے ساكت دل کو دھڑکا گئی ماتھے پر آگے سے بےبی کٹ بال کھلے سلكی کالے بل وائٹ کوٹ میں اندر ریڈ شرٹ پہنے ہوئے سفید رنگ خوبصورت نمایا ہو رہا تھا وہ اپنے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ آرام سے آنکھیں کھولتی سامنے شہد رنگ گہری آنکھوں میں ٹكرائی اسکا دل زور سے دھڑک اٹھا تھا اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ فل بلیک پینٹ شرٹ میں خوبصورت دلکش مرد تھا وہ اسکے دھڑکتے دل کی آواز سن سکتا تھا وہ ہوش میں آتا اسے دور کیا خود سے اسکے سیدھا کرنے پر وہ بھی ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی ورنہ اسے دیکھ کر وہ آج اپنا دل ہار گئی تھی ۔۔
” آئی ایم سو سوری ہم نے دیکھا نہیں ۔۔!! وہ جلد سے سوری کہتی اسکا موبائل نیچے سے اٹھا کر اسے دیا لیکن جلد بازی میں وہ اپنا موبائل اسے تھما گئی وہ کچھ کہے بغیر موبائل لیتا کوٹ میں ڈال کر آگے بڑھ گیا اروبا نے حیرت سے اسے جاتے ہوئے دیکھا ۔۔
” یہ کیا اس ہینڈسم بوائے نے تو کچھ بھی نہیں کہا عجیب افف اسے دیکھ کر میرا دل کیوں اتنی زور سے دھڑکا پھر اب پتا نہیں یہ کہاں گیا کون تھا کہاں سے آیا ہم دوبارہ ملے گے بھی یہ نہیں اففف کتنا پیارا تھا نہ ۔۔۔!! اروبا خود سے بڑبڑاتے ہوئے مسکراتے ہوئے اپنا موبائل سمجھ کر اٹھا کر بیگ میں رکھ دیا وہ آج باہر آئی تھی کچھ چیزیں لینے اب جلد سے اپنی چیزے لیکے کیپ کرواتی اپنے فلیٹ پر گئی ۔۔۔
★★★★
” سنا ہے تمہارا ویلکم انکی بلیک لسٹ میں ٹھا کر کے لگا ہے ۔۔بیرونا نے جیسے سنا اسکا حدید کا معملہ بھاگتے ہوئے آئی اسکے پاس اسکے زخموں پر نمک چھڑکنے ۔۔
” ہاں تو وہ کون سے میری پرسنل لسٹ میں شامل ہیں بس جو ایک بار بلیک لسٹ میں آجاۓ اسکے بعد وہ کبھی وہاں سے نہیں نکل سکتا سچ میں ۔۔۔!! زویا افسوس کرتے ہوئے کہا تھا جو دل سے نہیں تھا ۔۔
” ایک بات کہوں وہ ہیں بہت ہینڈسم ہاۓۓ ۔۔۔!! بیرونا نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اس بات کا اطراف زویا نے دل میں ضرور کیا تھا ۔۔
” مجھے تو نہیں لگا میں خود بہت خوبصورت ہوں یہی کافی ہے اب چلو کام پر ورنہ پھر سے آجائیں گے مسٹر پیکے ۔۔!! دونوں ہنستے ہوئے باہر نکل آئی ۔۔
★★★★
” تم یہ کرنا چاہتے ہو کیا تم سچ میں تیار ہو ۔۔؟ وہ شخص سامنے وجود سے سختی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
” بہت انتظار کرلیا اب وقت آگیا ہے اپنا بدلہ لینے کا ۔۔۔!! وہ وجود مضبوط لہجے میں بولا تھا ۔۔
” ٹھیک ہے پھر ہم سب ساتھ ہے اور ان شاءلله کامیاب ہو کر لوٹیں گے تو تیار ہو اے کء ۔۔!! وہ شخص مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
” ان شاءللہ اس بار ہم ہی کامیاب ہونگے بہت کرلی ان لوگوں نے اپنی اب ہم کریں گے ان کے ساتھ ۔۔!! اے کے سب پر نظر ڈالتے ہوئے گردن جھکا کر ایک بار پھر سے نقشے کو دیکھا اس روم میں پانچ لوگ سیاہ لباس میں کھڑے تھے ۔۔
