Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 16)

Mera Ishq by Mahra Shah

” کیا ہوا اداس کیوں ہو لگتا ہے پھر اس نے لفٹ نہیں کروائی”۔۔!!

” پتا نہیں عرو وہ کیوں مجھ سے دور جاتا ہے کبھی ہنس کر بات نہیں کرتا ۔۔سب سے مسکرا کر بات کرتا ہے اور مجھے دیکھ کر اس کی مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے” ۔۔!! ہیر اداس لہجے میں اپنی روز کی کہانی سنا رہی تھی ۔۔ وہ اور عروبہ ایک ہی کالج میں تھیں دونوں کی آپس میں بہت اچھی دوستی تھی ان کے گروپ میں دو اور لڑکیاں بھی تھی لیکن وہ زیادہ تر ایک دوسرے سے اپنی ہر بات شئیر کرتی تھیں ۔۔دونوں کبھی ایک دوسرے کے گھر نہیں آئیں ہمیشہ کالج فون تک ہی رہا رابطہ کبھی باہر ملاقات کر لیتی تھیں اس لئے ایک دوسرے کے گھر کے بارے میں زیادہ نہیں پتا تھا ۔۔ عروبہ کو یاد تھا اس کا نکاح بچپن میں اس کے کزن کے ساتھ ہوا تھا جو پہلے تو بہت آتے رہتے تھے لیکن اب کچھ سالوں سے ان کا آنا جانا بالکل نہیں تھا اسے ہمیشہ یہ نکاح والی بات بی جان یاد دلاتی تھیں کہیں وہ جوانی کی دہلیز کہیں اور نہ پار کر لے ۔۔۔اور یہاں ہیر تھی جو محبت کے سفر میں بہت آگے نکل آئی تھی ایک طرف محبت میں اسنے خود کو بھی بھولا دیا تھا ۔۔۔

” دیکھو ہیر خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہوگا تم سیدھا جاکے بول دو تم اس سے محبت کرتی ہو اسی سے شادی کرنا چاہتی ہو اگر اسے بھی تم سے محبت ہوگی تو وہ ضرور تم سے بات کرے گا”۔۔!! عروبہ کچھ سوچ کر اسے سمجھا رہی تھی ۔۔کیوں کے وہ جانتی تھی ہیر بہت جذباتی ہوتی جارہی ہے اس کے معاملے میں اسے اپنے لئے اسٹینڈ لینا ہوگا ۔۔۔

” ا۔اور اگر اسنے غصہ کیا مجھے ٹھکرا دیا تو میں مر جاؤں گی عرو میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر پلیز کوئی تو اسے کہو وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرے میں بہت چاہتی ہوں اسے میرے بس میں نہیں ہے خود کو روک نہیں پارہی یار”۔۔۔!! ہیر کہتے ہی منہ پر ہاتھ رکھ کر شدت سے رونے لگی ۔۔ عروبہ بھی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی اسے سمجھ نہیں آئی کیسے سمجھائے اسے۔ اسے آج سہی معنوں میں سمجھ آئی محبت پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا وہ جب ہوتی ہے تو کیسے شدت پکڑ لیتی ہے خود کا اختیار بھی کھو جاتا ہے خود سے۔ انسان اپنے بس میں نہیں رہ پتا جب تک کوئی اسے سنبھال نہ لے یا پھر اسے توڑ نہ دے ۔۔۔

★★★★

” ہیر آجاؤ بیٹا کھانا لگ گیا ہے” ۔۔!! زافا نے اسے نیچے سے ہی آواز لگائی تھی ۔۔

” افف ماما کیا ہے یار مجھے بھوک نہیں آپ لوگ کھا لو میں بعد میں کھالوں گی اگر بھوک لگی تو”۔۔!! ہیر روم سے باہر آتے ہی اپنا پیغام دے کر جیسے ہی مڑی زافا کی اگلی بات پر رک گئی آنکھوں میں ایک چمک سی جاگ اٹھی ۔۔

“جلدی آؤ احد کو بھوک لگی ہوگی تمہارے بابا کو جلدی جانا پڑا ورنہ وہ دے کر آتے” ۔۔!!

” اچھا ٹھیک ہے آپ نکالو کھانا میں دوپٹہ لے کر آتی ہوں” ۔۔۔۔ ہیر جلد ہی نیچے آتے ہی کھانا لے کر پاس والے گھر کے باہر کھڑی ہو کر ایک گہرا سانس لیتی عروبہ کی بات پر غور کرتے ہوئے خود کو تیار کیا آنے والے لمحے کے لئے ۔۔ ایک نظر خود پر ڈالی وہ فل بلیک ڈریس میں تھی اس کی چمکتی رنگت خوب چمک رہی تھی لمبے گھنے بال شانو پر پھیلائے ہوئے تھے گلابی لبوں پر ہلکا سا لپ گلوز لگایا ہوا تھا وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی اس وقت وہ کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ سکتی تھی ۔۔

” ہیر کچھ نہیں ہوگا ہمت کرو محبت کی ہے کوئی گناہ نہیں اپنا حق لینے جا رہی ہو اور انشاء اللہ لے کر آؤ گی” ۔۔۔!! ہیر خود سے بڑبڑا کر ہمت سے بیل دی ۔۔

” تم ۔۔۔۔ یہاں کیوں آئی ہو؟” ۔۔!! احد نے جیسے دروازہ کھولا ایک پل کو اسے دیکھتا رہ گیا سر پر دوپٹہ لئے ہوئے ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے دونوں ہاتھ میں بلیک چوڑیاں چہرے پر معصومیت اور خوبصورتی کے روپ میں آج اس کے پتھر دل کو دھڑکا گئی تھی پر جلد ہی خود پر ضبط کرتے چہرے پر بیزاری لئے اسے کہا ۔۔ ہیر کا تو اسے دیکھ کر ہی دل دھک دھک کرتا رہ گیا ۔۔وہ رف سے حلیے میں بے حد وجیہ لگ رہا تھا ۔۔

” وہ ۔ وہ ماما نے کھانا بھیجا ہے” ۔۔۔!! ہیر نے گھبراتے ہوئے کہا ۔۔

” اس وقت رات کو تم کیوں لے کر آئی؟ فون کر لیتی میں آجاتا دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا” ۔۔!! احد کو غصہ آگیا تھا اس کا یوں رات کو ایسے گھر آنا اکیلے ۔۔

” آتے ہی تو نہیں ہے آپ”۔۔!! نہ چاہتے ہوئے بھی زبان سے شکوہ نکلا ۔۔

” کیا میں اندر آجاؤں؟”۔۔۔!!

” نہیں۔ یہی سے واپس جاؤ اور کھانے کے لئے شکریہ” ۔۔!! وہ سرد مہری سے کہتا اس کے ہاتھ سے کھانا لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں بارش شروع ہونے ہی والی تھی جسے وہ ضبط کرتی اندر اتار رہی تھی ۔۔ احد اس کے جذبات کو اچھے سے سمجھ گیا تھا یہی وجہ تھی وہ اس سے دور بھاگتا تھا ۔۔

” میں نہیں جاؤں گی مجھے اندر آنا ہے” ۔۔۔!!

” کس لئے” ۔۔!!

” مم ۔۔میں بات کرنا چاہتی ہوں آپ سے”۔۔!! وہ دھک دھک دل کے ساتھ کس طرح ہمت باندہ کر بات کر رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔ اتنا آسان نہیں تھا کوئی لڑکی خود سے جاکے اظہار کرے کہ وہ کتنی پاگل ہے اس کے لئے ۔۔۔

” مجھے سخت نیند آرہی ہے ابھی جاؤ یہاں سے صبح کر لینا” ۔۔!! وہ کہتا ہاتھ میں پکڑی ٹرے ٹیبل پر رکھنے گیا جیسے ہی واپس آیا وہ وہاں نہیں تھی گہرا سانس لیتا دروازہ بند کر کے جیسے ہی مڑا وہ سامنے بازو باندھے کھڑی تھی ۔۔احد اسے گھورتا اس کے قریب کچھ قدموں کے فاصلے پر رک کر جیب میں ہاتھ ڈالتا گہرا سانس لیا ۔۔

” کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟؟” ۔۔!! وہ آج بہت ہمت امید سے آئی تھی اس دشمنِ جان کے پاس ۔۔

” یہ کیا بکواس ہے؟”۔۔!! اسے امید نہیں تھی وہ سیدھا یہی بولے گی اسے غصہ آنے لگا تھا اس پر ۔۔۔

” بکواس نہیں محبت ہے میری۔ نکاح کرلیں پلیز” ۔۔!! لہجہ نم آنکھوں میں محبت تھی ۔۔

” بدتمیزی نہیں لگاؤں ایک” ۔۔!! اس نے گھورتے ہوئے وارننگ دی اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔

” لگائیں پر نکاح کے بعد پورے حق سے روکوں گی نہیں” ۔۔!! وہ بھی ڈھیٹ تھی آج سوچ لیا تھا کچھ بھی ہو ایک بار کوشش کرےگی ۔۔

” دماغ خراب مت کرو جاؤ” ۔۔!! اس نے سخت لہجہ اختیار کیا ۔۔۔

” میں اپنے خراب دماغ کا کیا کروں” ۔۔!! وہ بھی اسی طرح بولی ۔۔

” گولی مار دو ۔۔ اور ہاں ایک دل پر بھی یہی وجہ ہے ہر فساد کی” ۔۔!! وہ غصے میں سخت لہجے میں اس کی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا جہاں آج پھر امید ٹوٹی تھی ۔۔

” میں سچ میں مار دوں گی خود کو” ۔۔۔!! اسنے پھر نم آنکھوں سے اس ستمگر کی طرف دیکھا ۔۔

” میں روکوں گا بھی نہیں” ۔۔۔!! اس نے سخت گھوری سے نوازا اسے ۔۔

” اب جاؤ یہاں سے ہیر دوبارہ میرے سامنے مت آنا بہت بکواس کر لی تم نے اب اگر ایک لفظ بھی کہا تو سچ میں جان سے مار دوں گا تمہیں تم نے میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے” ۔۔!! احد غصے کی شدت سے اس کا بازو پکڑتا اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” میں بکواس نہیں کر رہی سچ کہہ رہی ہوں میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے میں مر جاؤں گی مجھے مت ٹھکرائیں” ۔۔۔!! وہ اس کی سخت گرفت میں درد کو سہتے ہوئے بولی آنسو روانی سے بہہ رہے تھے ۔۔پر آج تو وہ شاید رحم کے موڈ میں نہیں تھا اس کے آنسو بھی اسے روک نہیں پارہے تھے ۔۔

” میں تم سے محبت نہیں کرتا اور یہ بات اپنے دل ودماغ کو اچھے سے سمجھا دو ۔۔ میں تمہیں صرف حنان انکل کی بیٹی اور دور کی رشتے دار سمجھتا ہوں بس اس کے آگے نہ میں کبھی گیا ہوں نہ ہی تمہیں آنے دوں گا۔ دوبارہ مجھ سے اس طرح بات مت کرنا ہیر ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا” ۔۔!! احد غصے میں اس کے دونوں بازو پکڑ کر خود کے قریب کرتے ہوئے بہت اچھے سے اس کو توڑ چکا تھا ۔۔وہ تو بس اس بےرحم کی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی ۔۔کچھ بھی تو نہیں تھا ان آنکھوں میں اپنے لئے کوئی احساس کوئی نرم جذبات کچھ بھی نہیں لیکن اس کی آنکھوں میں محبت کا سمندر تھا ایک پیاس تھی جو کبھی نہیں ختم ہونے والی ۔۔۔

” مم ۔۔میں تو کرتی ہوں نہ محبت ۔۔ آپ میری محبت کا یقین کرلیں ۔۔آپ بھلے نہ کریں محبت بس مجھے اپنا لیں مجھ سے نکاح کرلیں” ۔۔!! ہیر نے ہچکیوں سے روتے ہوئے پھر سے فریاد کی ۔۔

” تم پاگل ہو گئی ہو ہیر یہ کوئی مذاق نہیں ہے زندگی ہے میری سمجھی تم۔ نکاح شادی وغیرہ سب آسان سمجھتی ہو تم ۔۔۔ اور کیوں کرو میں تم سے نکاح جب کے تم مجھے ناپسند ہو ۔۔۔ تمہارے اندر انا عزت نام کی چیز نہیں ہے ہیر؟؟ کیسے بات کر سکتی ہو تم ایسی؟؟” ۔۔!! احد کی غصے سے رگیں تن گئی تھیں وہ لڑکی اس کا امتحان بن گئی تھی آج۔۔۔

” مجھے کچھ نہیں پتا میں ہوں بری بہت بری لیکن میں بہت محبت کرتی ہوں۔ میں عشق کرتی ہوں احد آپ سے میں مر جاؤں گی آپ کے بنا میرے ساتھ ایسا مت کریں مجھ سے شادی کرلیں پلیز مجھے مت چھوڑیں” ۔۔۔!! اسے تو آج کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا وہ کچھ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔اسنے تو جیسے آج سوچ لیا تھا یا تو مر جائے گی یا جی لے گی ۔۔۔

” جسٹ شٹ اپ ہیر ۔۔۔ مجھے غصہ مت دلاؤ۔۔۔ دل کر رہا ہے تمہیں جان سے مار دوں”۔۔!! احد غصے میں دھاڑا تھا ۔۔ہیر ایک پل کو ڈر ضرور گئی تھی اس کی سرخ آنکھوں میں بے حد غصہ دیکھ کر خود بھی رو رو کر آنکھیں لال کردی تھی ۔۔۔

” نن ۔۔نہیں ڈرتی میں آپ سے اچھا ہے مجھے مار دیں اپنے ہاتھوں سے اسی بہانے آپ کو میری یاد تو آئے گی نہ” ۔۔۔!! وہ پھر اپنے جذباتی انداز کو روک نہیں پائی ۔۔ آج تو اس کے روپ نے احد کو حیران کردیا تھا ۔۔

” محبت کرتی ہو نہ مجھ سے اتنا تو سمجھ گئی ہوگی محبت کرنے والے رہ نہیں سکتے ایک دوسرے کے بغیر”۔۔۔!! احد رک گیا تھا اور ساتھ اس کی سانسیں بھی ۔۔

” تو سنو ہیر حنان میں بھی کسی سے بے حد محبت کرتا ہوں اور اسے کبھی چھوڑ نہیں سکتا اور شادی بھی اسی سے ہی کروں گا یہی وجہ تھی تمہاری محبت کو انکار کیا تمہیں گرنے سے پہلے سنبھلنے کا موقع دیا ۔۔۔ اور تم بیوقوفوں کی طرح میرے پیچھے بھاگ رہی ہو جب کے میں تمہارا نصیب نہیں ہوں میں کسی اور کا ہوں ہیر” ۔۔۔!! احد نے ضبط سے آنکھیں بند کر کے کھولی اور اسے دیکھا سامنے جو بکھری حالت میں تھی احد کو اس کے لئے بہت دکھ بھی ہوا پر وہ بھی اپنی جگہ سہی تھا ۔۔

“نہیں” ۔۔۔! وہ نفی کرتے ہوئے چلائی۔

” آ ۔آپ آپ جھوٹ بولتے ہیں آپ میرے ہے آپ کسی اور کے نہیں ہے ۔۔۔۔نہیں ہے نہ؟” ۔۔!! وہ تو جیسے آج سچ میں پاگل ہو گئی تھی ۔۔کیا وہ محبت میں اتنی پاگل اتنی برباد ہو گئی تھی خود کی ذات کو بھول بیٹھی تھی کوئی اس کی ذات کو ٹھکرا رہا ہے کوئی اسے بےمول کر رہا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔

” کیوں محبت صرف تم کر سکتی ہو میں نہیں کوئی اور نہیں ۔۔ دل و دماغ صرف تمہارے پاس ہے کوئی اور خواب نہیں دیکھ سکتا بولو؟” ۔۔۔!! وہ غرایا۔

” آپ اسے انکار کردیں” ۔۔!!

” وہ تو میں تمہیں بھی کر رہا ہوں” ۔۔!! وہ طنزیہ مسکرایا تھا ۔۔

” آپ مجھے انکار نہیں کریں میں مر جاؤں گی” ۔۔!! وہ بہتے آنسوؤں سے بولی۔

” وہ بھی یہی کہتی ہے اور پتا ہے وہ نہیں میں اس کے لئے مر جاؤں گا” ۔۔!! اسنے پھر نرمی سے سمجھانا چاہا اسے ۔۔

“آپ نہیں ہیں اس کے” ۔۔۔!! ہیر غصے میں چیختے ہوئے اس کی چیزیں اٹھا کر پھینکنے لگی احد نےتیزی سے آگے بڑھ کے اس کو بازوؤں سے پکڑا ۔۔

” بس کرو ہیر بہت ہو گیا تماشا ۔۔اپنے گھر میں جاکے ماتم مناؤ اپنی محبت کا میرا گھر برباد مت کرو ۔۔ اور ہاں یاد رکھنا میری زندگی میں کوئی بہت خاص ہے میرے لئے میرا عشق ہے وہ” ۔۔!! احد اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سختی سے بولا تھا ۔۔

” آ ۔آپ آپ جھوٹ” ۔۔!! اس کے ہونٹ کپكپائے سانسیں جیسے رک گئی ہوں پورے جسم میں جان نہ بچی ہو اب تو اس کے لفظوں نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا ۔۔۔ اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ اسے چھوڑ رہا ہے وہ اسے کبھی نہیں ملے گا وہ اس کا نہیں ہے وہ کسی اور کا ہے یہ سوچ ہی اس کی سانس روک دیتی تھی وہ اندر سے خالی ہو رہی تھی ایک درد کی لہر اس کے اندر اٹھی تھی اتنی شدت سے وہ برداشت نہیں کر پائی اور اس کے بازوؤں میں جھول گئی ۔۔ احد اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہ تھا بڑی مشکل سے اسے گرنے سے بچایا ۔۔

” ہیر ہیر کیا ہوا تمہیں آنکھیں کھولو ہیر پلیز یار ۔۔۔۔شٹ” ۔۔!! احد نے اسے اٹھا کر صوفہ پر لٹایا پریشانی سے اسے پکارتا رہا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی پر وہ تو جیسے دنیا جہاں سے بے خبر اپنے عشق کی جدائی میں غم منا رہی تھی احد کا دل تیز دھڑک رہا تھا خوف سے۔ کہیں اسے کچھ ہو نہ جائے وہ یہ تو نہیں چاہتا تھا بس اسے خود سے دور رکھنا چاہتا تھا وہ لوگ جس طرح اپنی زندگی جی رہے تھے نہیں چاہتے تھے کوئی بھی ان کی کمزوری بنے ۔۔ اور آج جس طرح اسے توڑ رہا تھا تو خود کہاں خوش تھا وہ خود بھی تو اندر سے ٹوٹ گیا تھا ۔۔ ہیر کی حالت دیکھتے ہوئے اسے گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال لے گیا ۔۔

★★★★

” کیا ہوا ہیر کو کہاں ہے وہ؟”۔۔۔!! حنان تیزی سے اس کی جانب آیا بے چینی سے بیٹی کا پوچھا ۔۔ہیر حنان کے زیادہ کلوز تھی یہی وجہ تھی حنان اس کی ہر بات پیار سے مان لیتا تھا اس کی ہر ضد پوری کر دیتا تھا وہ اپنی چیزوں میں حساس اور پوزیسو بہت تھی ۔۔

” پتا نہیں انکل ڈاکٹر اندر ہے باہر آئے تو کچھ پتا چلے گا” ۔۔!! احد نے نظریں چرا کر کہا ۔۔وہ اندر سے بہت زیادہ گھبرایا ہوا تھا وہ نہیں چاہتا تھا ہیر کو کچھ ہو اس کا دل شدت سے اس کے لئے دعا گو تھا ۔۔ اتنے میں داريان بھی وہاں چلتا ہوا آیا ۔۔اور اسی ٹائم ڈاکٹر باہر آیا ۔۔

” کیا انھیں کسی بات کا صدمہ پہنچا ہے کوئی ایسی بات جو انھیں اندر سے ہی مار گئی؟؟”۔۔!! ڈاکٹر بہت سیریس انداز میں ان سے پوچھ رہے تھے داريان حنان نےایک دوسرے کو دیکھ کر ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔ اور وہیں احد بےچین سا ہوا ڈاکٹر کی بات پر ۔۔۔۔۔

” کک ۔۔کیا مطلب ہے کیا ہوا ہے میری بیٹی کو؟”۔۔!! حنان نے گھبراتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا ۔۔داريان نے احد کو جن نظروں سے دیکھا تھا وہ نظریں چرا کر اس کے سوال کا جواب دے گیا ۔۔۔

” یہ معجزہ ہی سمجھیں آپ کی بیٹی بچ گئی اسے منی ہارٹ اٹیک ہوا تھا اتنی کم عمر میں یہ سب ہونا بہت خطرے کی بات ہے ۔۔اب خیال رہے انھیں کسی بات کا اسٹریس نہ پہنچے ۔۔ بچی کی حالت بہت خراب ہے خیال رکھیے گا” ۔۔۔!! ڈاکٹر کی بات پر وہاں ان دونوں کے دھک دھک کرتے دل جیسے رک ہی گئے تھے ان میں سے ایک وجود ایسا تھا جیسے اب زندہ نہ رہا ہو اس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے ایک ہی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔ “میں مر جاؤں گی”۔۔۔

★★★★

“چٹاخ” … ایک زور دار تھپڑ سے احد تو جیسے حل گیا تھا وہ بھاری ہاتھ اس کے باپ داريان حیدر خان کا تھا ۔۔

” تم احد تم سے یہ امید نہیں تھی ایک معصوم بچی کی کیا حالت کردی تم نے ۔۔مجھے حنان کی نظروں میں شرمندہ کردیا ۔۔ یہ سب سکھایا ہے تمہیں ۔۔۔۔ مجھے لگا ایک اور داريان نہیں ہوگا پیدا لیکن میرے پاس تو دونوں ہی میرا عکس نکلے ۔۔ جو مجھ سے غلطیاں ہوئیں وہ تم دونوں بھی کر رہے ہو ۔۔۔ تم لوگوں کا قصور نہیں یہ سب میری غلطی ہے تم لوگوں کی اچھی تربیت نہیں ہو پائی ۔۔۔ ماں نہیں تھی تمہارے پاس باپ ہو کر بھی کبھی ساتھ نہ رہ پایا ۔۔تو کیسے فخر کروں میں میرے بچوں کی تربیت اچھی ہوئی ہو گی” ۔۔۔!! داريان آج پھر ٹوٹ کر ہارا تھا ۔۔

” ڈیڈ پلیز آئی ایم سوری میں یہ نہیں چاہتا تھا میں اسے تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ڈیڈ ۔۔میں تو بس اسے بچانا چاہتا تھا ڈیڈ ۔۔۔میں نہیں چاہتا تھا کسی کو بھی میری کمزوری کا پتا چلے کوئی بھی اسے نقصان پہنچائے” ۔۔۔!! احد بکھری ہوئی حالت میں اپنے باپ کی گود میں سر رکھ کر بچوں کی طرح رو رہا تھا داريان کی آنکھیں بھی نم تھی ۔۔

” جو تم نے نقصان پہنچایا ہے اس کا کیا؟” ۔۔!!

” ڈیڈ وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی میں نے اسے مار دیا ڈیڈ میں خود بھی مر گیا ہوں ڈیڈ” ۔۔۔!! آج وہ جوان مضبوط مرد اپنا ضبط کھو چکا تھا وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا اپنے باپ کی گود میں ۔۔

” تم نے اسے بہت بری طرح توڑا ہے حدی دعا کرو وہ تمہیں کبھی معاف کر پائے ۔۔کیوں کیا تم نے ایسا کیا تمہیں اس سے ہمدردی نہیں ہوئی”؟ ۔۔!! داريان نےاسکے کالے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نرمی سے کہا تھا ۔۔

” میں نہیں چاہتا کوئی اسے نقصان پہنچائے ڈیڈ آپ جانتے ہیں کوئی بھی میرے قریب نہیں رہ سکتا ان کی جان کو خطرہ ہوتا ہے پھر میں کیسے اسے کھو سکتا ہوں ڈیڈ میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔ مجھے نہیں پتا تھا میری محبت سے زیادہ اس کے عشق میں جنون ہوگا ۔۔۔ میں اسے اپنی فیلنگز نہیں بتا سکتا ڈیڈ کبھی نہیں “۔۔!! اپنے دل کا وہ راز جو وہ کبھی مرتے دم تک کسی سے شئیر نہیں کرنے کی قسم کھائی تھی آج اپنے ضبط کھونے سے وہ اپنے دل کی بات کر گیا تھا ۔۔اس کی یہ سب باتیں باہر کھڑے حنان نے سن لی تھی ۔۔وہ دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے کو سنبھالنے میں لگے تھے اپنے عشق میں رو رہے تھے۔۔ نجانے ان کی قسمت میں کیا لکھا تھا اب بھی اتنی تکلیفیں اتنی اذیت کے بعد بھی انھیں خوشیاں راس آئیں گی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *