Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 10)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 10)
Mera Ishq by Mahra Shah
” دیکھیں بھوت جی آپ اتنے اچھے ہے تو ہم معصوم سے مل کر کیا کریں گے آپکو نہ سامنے والے گھر یعنی میرے پڑوسی دشمن کے پاس جانا چاہئے آپکا بھی کوئی لیول ہے تو ایک جیسے بندے سے مقابلہ کرنا چاہئے نہ کے کسی معصوم کمزور بچی کے گھر آنا چاہئے ہے نا ۔۔۔؟ وہ غصہ میں زویا کے فیلٹ کی چابی لڑ جھگڑ کے لے آئی تھی پر اب اکیلے گھر میں خوف زدہ ہو رہی تھی اندر سے خود کو ہمت دیتے ہوئے جو جی میں آیا منہ میں بولتی جا رہی تھی ۔۔
” عرو ۔۔۔؟ آآہہہ ۔۔بھوت بھوت ۔۔۔۔۔۔۔ شش ۔۔۔ خاموش میں ہوں ۔۔ وہ جو ڈر سے خود میں باتوں میں مگن تھی ۔۔ آریان دل کے ہاتھوں اس بےچین روح کو دیکھنے آیا تھا کے اسے خود سے بڑبڑاتا دیکھتے ہی اسکے کان کے پاس جھک کر اسکا نام لیا جس پر وہ اچھل پڑھی اور چیخی ۔۔ آریان نے تیزی سے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے خاموش کروایا وہ حیرت سے اسے دیکھے گئی ہوش میں آتے پیچھے ہو کر حیرانگی سے کہا ۔۔
” کیا بھوت جی آپکے گھر آئے ہیں لگتا ہے انہوں نے ہماری بات کو سیریس لےلیا تبھی آپ یہاں آئے ہیں ڈر کر ہاہاہاہا آپ کو بھی ڈر لگتا ہے ہم پر گئے ہے آپ بھی ۔۔۔ وہ پھر سے اپنی بیوقوفانا باتیں کرتی کھلکھلا اٹھی ۔۔۔۔۔ اسنے بس ضبط کا گھونٹ لیا ۔۔
” فضول باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا تمہیں ۔۔ میں یہاں چارجر لینے آیا تھا میرے پاس اتنا ٹائم نہیں تم کرو یہاں اپنے چڑیلوں سے باتیں ۔۔ آریان مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھا ۔۔
” رر ۔۔رکے ۔۔سس ۔۔سچ ۔۔مم ۔۔میں چڑیل ہے ۔۔؟ عروبہ خوف سے پھیلی ہوئی آنکھوں سے پوچھتی تیزی سے آگے بڑھتی اسکا بازؤں تھام گئی ۔۔۔ آریان ایک نگاہ اس پر ڈالے پھر اسکے ساتھ پر ۔۔۔
” تھوڑی دیر انتظار کرو پھر ملاقات ہو جائے گی تمہاری ان سے ۔۔۔
” نن ۔۔نہیں کریں نہ ۔۔۔ میں نے کیا کیا ۔۔؟ل ۔۔۔۔۔۔آ ۔آپ ڈڈ ۔۔ڈرا رہیں ہے ۔۔۔ آریان کو مزہ آرہا تھا اسے زچ کرنے میں پر تھوڑی دیر پہلے اسنے جو بےچین کیا اسکا بدلہ ہوا۔۔۔ لیکن جو بھی تھا اسکی باتوں نے اس پر بہت اثر کیا تھا ۔۔وہ اس سے پہلے ہی اسکے فلیٹ میں بھاگی تھی اسکی معصوم ادا پر وہ کھل کر مسکرایا تھا ۔۔اس خوبصورت شخص کی مسکراہٹ بھی اسکی طرح سحر انگیز تھی ۔۔
★★★★
” ڈاکٹر زویا میں نے آپ سے کچھ مانگا تھا آپ نے کل کے پیشنٹ کی ڈیٹیل نہیں دی اس لاپروائی کی وجہ جان سکتا ہوں ۔۔۔ حدید نے سنجیدگی سے کہا اسے خود بہت غصہ تھا اس پر کل سے ۔۔
” رئیلی ڈاکٹر حدید آپ آج کل ڈاکٹر فرہا کے ساتھ اچھے سے کام کر رہیں ہے آپ کو تو کسی کی ضرورت نہیں ۔۔ یہ کام آپ اسے کہہ دیتے آرام سے کر دیتی ۔۔زویا کو اسکا فرہا کے ساتھ جانا اسے نہ پوچھنے کہ ابھی تک غصہ جلن تھی ۔۔طنزیہ بولتے ہوئے غصے میں آگے بڑھی ۔۔
” زویا بدتمیزی کیوں کر رہی ہو ۔۔ نہیں کرنا کام تو بتا دو اس طرح بات دوبارہ مجھ سے مت کرنا مجھے عادت نہیں اس لہجے کی سمجھی آپ ۔۔ حدید غصے میں اسکا بازؤ پکڑتا مقابل کرتے ہوئے غصے ضبط سے کہا ۔۔
” اوہ اچھا مجھے تو عادت ہے ان لہجوں کی ۔۔۔ ہاں ہوں میں بدتمیز کیا کریں گے آپ ۔۔ اتنی جلدی ہمدردی ختم ہوگئی مجھ سے ۔۔۔ بہت اچھا لگتا ہے آپ کو فرہا کے ساتھ تو اسی کے ساتھ کام کریں ۔۔۔ زویا اپنی دل بڑاس نکالتے ہوئے آگے بڑھ گئی حدید اسکے لہجے پر حیرت سے اسکی پشت دیکھتا رہا ۔۔ اسے زویا کا رویہ تبدیل سمجھ نہیں آیا غصہ تو اسے کرنا چاہیے تھا وہ اسکے ساتھ کیوں نہیں گئی پھر وہ کس بات پر خفا تھی ۔۔ اج انکی واپسی تھی اس نے سوچا پر گھر جاکے سکون سے بات کریگا ۔۔
★★★★★
” tower bridge “
” آج بھی اکیلے کھڑے ہے یہاں ۔۔؟ وہ اسکے ساتھ آکے کھڑا ہوا دونوں کی نظریں سامنے گہرے پانی پر تھی ۔۔
” زندگی نے بہت تنہا کردیا ہے ۔۔ خود سے دنیا سے لڑ لڑ کے تھک گیا ہوں ۔۔۔ سکون چاہتا ہوں اس لئے یہاں آتا ہوں اسے یہ جگہ بہت پسند تھی ۔۔!! داريان نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا ۔۔ وہ اپنی عمر کے حساب سے آج بھی ینگ لگتا تھا ۔۔
” جو آپکے اندر بسا ہو اسے باہر محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔!! مقابل نے گهمبیر لہجے میں کہا ۔۔
” میرے اندر تین لوگ بسے ہیں ۔۔ پر تینوں دور ہے ۔۔ میں جتنا محسوس کروں وہ لوگ اتنا دور بھاگتے ہیں ۔۔ داريان نے قرب سے آنکھیں مھیچی ۔۔ اسکے اندر ایک درد کی لہر دوڑ گئی تھی ۔۔
” آپ ایسی باتیں مت کریں ۔۔ وہ اسکا درد سمجھتے ہوئے غمگیں لہجے میں بولا ۔۔
” کیسی باتیں کروں پھر ہاں ۔۔ تم دونوں نے مجھے ذلیل کر رکھا ہے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔۔اپنی جاب اچھے سے نبھاتے ہو ۔۔لیکن جو دوسری ذمیداری ہے اسے کیوں بھول جاتے ہو۔۔ داريان غصے میں دھاڑا تھا ۔۔ آریان وہاں آتا مسکرایا تھا اسے دیکھ کر جس کی شامت آئی ہوئی تھی آج ۔۔ اسکی مسکراہٹ نے اسے جلا کر رکھا تھا دونوں ایک دوسرے کو تنگ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔۔
” ڈیڈ آپ کیوں پڑوسی پے غصہ کر رہیں ہے ۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔ کم آن ڈیڈ میں تو اپنی ذمداری اچھے سے نبھا رہا ہوں ۔۔۔ اب یہ اپنی ذمداری سے دور بھاگ رہا ہے تو اسکا غصہ مجھ پر کیوں ۔۔ آریان چیلینج مسکراہٹ سے اسے دیکھا ۔۔وہ غصے میں موٹھی بھینچلی ۔۔
” تو اسے تم نے یہاں بلایا ہے ۔۔ تمہاری تو ۔۔ وہ غصے میں آگے بڑھتے اسکا کالر پکڑتا غرایا تھا ۔۔
” تم بھٹک رہے تھے یار جب دیکھو میری بیوی کے پیچھے چلے آتے ہو اس لئے تمہیں روکنے کے لئے مجھے جو سہی لگا میں نے وہی کیا ۔۔ جاکے انجوائے کروں اپنی مسز کے ساتھ ۔۔آریان مسکراتے ہوئے زومعنی سے کہتا اسے آگ لگا گیا ۔۔ احد غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ ایک پنچ اسکے منہ پر چرا ۔۔ بدلے میں اسنے بھی وار کیا ۔۔۔ داريان سکون سے کھڑا بے حد سنجیدگی نظروں سے دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔ داريان کے پاس اسکا خاص آدمی آکے کھڑا ہوا حیرت سے سامنے دیکھتے ہوئے داريان کو دیکھا پھر۔۔
” سر آپ روکیں گے نہیں انھیں ۔۔ افضل حیرت سے اسے بولا ۔۔
” جب پہلے نہیں روک سکا تو اب کیا کثرو گا روک کر ۔۔۔ کاش بچپن میں دو کھینچ کر لگاتا تو آج یہ دونوں تیر کی طرح سیدھے ہوتے باپ کا بھی خیال نہیں کمینوں کو ۔۔ داريان غصے میں کہتا آگے بڑھ گیا افضل اسکی بات پر اپنے قہقہے کا گلہ گھونٹ کر اسکے پیچھے گیا ۔۔
” بس کر کمینے ڈیڈ کو ناراض کر دیا ۔۔۔ وہ خوش کب ہوتے ہیں ہم سے ۔۔ دونوں تھک ہار کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئے چہرے پر اداس مسکراہٹ تھی دونوں جانتے تھے کیوں ۔۔۔
” گئے نہیں اسکے پاس ۔۔؟ ہمت نہیں ہو رہی بہت ہرٹ کر چکا ہوں اسے ۔۔ دونوں کو جھانسی کی رانی ملی ہے ۔۔ دونوں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے ۔۔
” تم دونوں بھی کم نہیں ہو اس لئے اللّه تعالیٰ نے تم دونوں کو ایسی بیوی دی ہے جو سیدھا کر رکھیں ۔۔ پر کبھی کبھی مجھے ان بیچاریوں پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہاں معصوم پریاں پھنس گئی ۔۔ افضل وہاں آتے ان دونوں کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہا ۔۔پھر دونوں کے خطرناک روپ دیکھ کر چپ ہوا ۔۔
” لگتا ہے زندگی پیاری نہیں تمہیں ۔۔ واپس کیوں آئے ہوں ۔۔ دونوں نے اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔
” سر نے کہا آپ دونوں کو یو کھلے عام نہیں ملنا بیٹھنا چاہئیے اس لئے آپ لوگوں کے لئے پھغام ہے چلے سر ۔۔ افضل انھیں دیکھتے ہوئے کہتا آگے بڑھ گیا پیچھے وہ دونوں بھی گہرا سانس لیتے ہوئے اٹھے ۔۔
★★★★★
” ہاہاہا افف اتنا کمال کا سین ہے یار سچ میں ہاہاہا ۔۔!! عروبہ پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے پیچھے صوفہ سے سر ٹکا کر ابھی تک زور سے ہنس رہی تھی کے اچانک ۔۔
” اتنی زور کا قہقہہ کیوں لگا رہی ہو اتنا بھی فنی سین نہیں ہے جتنی تم اوور ایکٹنگ کرتی ہو ۔۔ آریان اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسکے چہرے کے قریب جھکتے ہوئے غصے میں گھورتے کہا تھا اور وہ تو جیسے اپنی جگہ جم گئی تھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکی آنکھوں میں قریب سے دیکھ رہی تھی ۔۔ دونوں کا دل تیز رفتار سے دھڑکا ۔۔
” آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے کچھ بھی کرنے نہیں دیتے ہیں سکون سے بیٹھ کر ٹی وی ہی تو دیکھ رہیں ہیں اور اب ہمارے ہنسے پر بھی مسئلہ ۔۔وہ چڑ گئی تھی اسکے بار بار ٹوکنے پر ۔۔وہ جو بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام میں مصروف اسکی کھلکھلاہٹ اسے ڈسٹرب کر رہی تھی ۔۔ وہ اسکا ہاتھ ہٹا کر غصے میں گھور نے لگی وہ آبی تک بھولی نہیں تھی اسکا دھوکہ مجال ہے جو اسنے ایک بار بھی پیار سے اس سے بات کی ہو سمجھایا ہو اسے دکھ تھا اس بات کا وہ اظہار نہیں کر رہا تھا ۔۔
” تم کسی دن میرے ہی ہاتھو شہید ہوگی لکھ لینا ۔۔ آریان نے غصے میں کہا ۔۔ جبکے عروبا نے فورن وہیں ٹیبل پے پڑا پیپر اٹھا کر لکھا تھا ۔۔
” کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔ لکھ رہیں ہے ہم کسی دن آپکے ہاتھوں شہید ہو جائیں گے ۔۔۔۔ تمہاری تو ۔۔۔۔ آپکی تو جیسا بولے گے ویسا سننے گے اب بہت برداشت کرلی آپکی دھمکیاں اب دیکھے ہم بھی کیا کرتے ہیں ویٹ اینڈ واچ ۔۔۔۔ عروبہ نے بھی اسکے انداز میں بولتے اسے دھمکی دیتی آگے بڑھی جبکے دھڑکنیں تیزی سے چل رہی تھی وہ تیزی سے وہاں سے نکال کر بھاگنا چاہتی تھی کے وہ تیزی سے سامنے آیا وہ اسکے سینے سے ٹکرا کر پیچھے ہوئی ۔۔۔چھ فٹ سے نکلتا قد اچھی خاصی جسامت کا مالک پھتر جیسا آدمی اسکے سامنے تھا بلیک شرٹ کہنیوں تک فولڈ کئے آگے سے دو بٹن کھلے ہوئے اسکا کشادہ سینہ اسکا گورا رنگ نمایاں ہو رہا تھا اسکی سیاہ رنگ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک پل کو ڈر گئی تھی خوبصورت ہینڈسم سا مرد اسے اپنا دیوانہ بناتا رہا ہے ہر بار ۔۔۔ وہ چاہیے جتنا لڑ جھگڑ کر ضد کر لے پر اسکے غصے سے جان جاتی تھی ۔۔۔۔اور اسکا یوں اچانک سامنے آجانا اسکی جان لینے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔ دل نے ہزار بار شکر کیا وہ خوبصورت شہزادہ واقعی اس حسینہ کا تھا ۔۔
” تم جب بھی آگے سے فضول بحث کرتی ہوں نہ میرا دل پتا ہے کیا کہتا ہیں ۔۔۔؟آریان اسے بازؤں سے پکڑتا خود کے نزدیک کرتے ہوئے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی میں نما بولا ۔۔ اسے عروبہ میں اسکی بڑی آنکھیں ڈمپیل ماتھے پر بےبی کٹ بال بہت پیارے خوبصورت لگتے تھے اسے اپنے سحر میں جکڑتے تھے ۔۔۔
” کک ۔۔کیا ۔۔ اسکی جان لیوا خوشبو گرم دہکتی سانسیں اپنے کان گردن پر محسوس کرتے ہوئے اسکی جان نکل رہی تھی دل دھک دھک کرتا پاگل ہو رہا تھا ۔۔وہ اسکی شرٹ کو سختی سے دبوچ گی ۔۔
” تمہاری جان اپنی قربت سے اپنے احساس لمس سے لوں ۔۔۔وہ کہتا اسکے بالوں میں چہرہ لیے گہرا سانس لیا ۔۔۔ عروبہ کا چہرہ سرخ پڑھ گیا تھا اسکی زبان کو تو جیسے تالا لگا گیا تھا ۔۔وہ سہی کہ رہا تھا اسکی قربت ہی اسکی جان لینے کے لئے کافی ہے ۔۔ اس سے پہلے وہ اپنا ضبط کھوتا دروازے پر بیل نے اسے ہوش میں لایا وہ ایک نگاہ اسکے خوبصورت سرخ پڑھتے چہرے کو دیکھتا وہاں سے گیا عروبہ دل پر ہاتھ رکھے اپنے رکے ہوئے سانس کو بحال کرنے لگی ۔۔۔۔
” آئے نید ٹو ٹاک ۔۔ الئینا ناگواری سے عروبہ کو دیکھتے ہوئے آریان سے بولی اسنے روم میں لے گیا ۔۔عروبہ کو تو جیسے آگ لگ گئی دونوں کے انداز پر آنکھیں پل میں نم ہوئی ۔۔۔
” یا اللّه یہ منحوس انگریز مر کیوں نہیں جاتی ۔۔ جب دیکھیں ہمارے شوہر کے پیچھے پڑی ہے ۔۔ ہمیں دو پل انکے ساتھ سکون سے نہیں رہنے دیتی ۔۔۔ ایک تو واقعی انکی قربت نے ہماری جان لینی ہے ۔۔۔افف عرو ریلکس آریان صرف ہمارے ہے بس ۔۔۔!! عروبہ خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہتی سرخ چہرے سے مسکرا دی ۔۔۔ پھر اپنی عادت سے مجبور انکے روم کے دروازے کے پاس جاکے کھڑی ہو گئی ۔۔
” اااہہہ ۔۔ اندھی چڑیل ۔۔۔ آر یو مینٹل ۔۔۔
” نو آئم نوٹ یو مینٹل کمینی ذلیل انگریزن اپنے گھر میں سکون نہیں ملتا کیا جب دیکھی یہی پڑی رہتی ہے بے شرم لڑکی ۔۔۔ وہ اردو میں اسے برا بھلا بھولنا شروع ہوگئی تھی ۔۔۔الئینا نے جیسے دروازہ کھولا وہ دھڑام سے نیچے گری اسکی وجہ سے الئینا بھی ساتھ گری تھی اس بیوقوف کو دیکھتے ہوئے غصے میں اٹھی آریان کی مدد سے ۔۔۔آریان کو اسکی بیوقوفی پر جی بھر کر غصہ آیا ۔۔ کیا کریں وہ اس بےچین روح کا وہ سوچتا رہ گیا ۔۔الئینا کے سامنے وہ نہ اسے کچھ کہ سکتا تھا نہ ناہی اسکی مدد ۔۔
” تم کیا چھپ کر ہماری باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔؟ آریان نے غصے میں گھور تے ہوئے پوچھا ۔۔
” ہہ۔۔ہم نہیں تو و۔وہ تو ہم دیوار سمجھ کر ٹیک لگے ہوئے تھے ہمیں کیا پتا تھا یہ دروازہ ہے اور کھولنے والا ہے ۔۔۔ پھر ڈھیٹائی سے جھوٹ بول گئی ۔۔۔۔ آریان غصے سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ریلکس کرنا چاہا خود کو
ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں اسے نے تیزی سے الئینا کے پیچھے گیا ۔۔۔۔ عروبہ صدمہ سے نیچے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ نہ اسنے اٹھا یا نہ پوچھا یوں بےحس بن کر چلا گیا ۔۔ایک آنسوں ٹوٹ کر گال پر بہہ گیا ۔۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” ہیر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے لمبے گھنے بال سلجاه رہی تھی پنک نائٹی ٹائوزر کھلی شرٹ میں خوبصورت قاتل حسینہ اس وقت کسی کے دل کو دھڑکا رہی تھی اسنے بال پشت پر ڈال کر آگے بڑھتے کھڑکی بند کی جیسے اسے محسوس ہوا کوئی سیاہ ہیولہ ہے اسکے پیچھے ایک پل کو دل زور سے دھڑک اٹھا وہ خوف سے پیچھے ہوتی چیخنے کے لئے منہ کھولا تھا کے ایک مضبوط بھاری ہاتھ اسکی چیخ کا گلہ گھونٹ گیا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے بےحد نزدیک وجود کو اسکی گرے آنکھوں میں دیکھنے لگی جو دلچسپی سے اسکی شہدت رنگ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔
” چلانا مت ہاتھ ہٹانے لگا ہوں ۔۔احد آرام سے کہتا ہاتھ ہٹا گیا اسکے نرم ہونٹوں سے ۔۔ وہ ابھی تک بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیوں میرے جذباتوں کو ہوا دے رہی ہو۔۔ وہ زومعنی سے کہتا آنکھ وانک کر گیا ۔۔ ہیر اسکی بات سے کرنٹ کھا کر ہوش کی دنیا میں لوٹی ۔۔
” تت ۔۔آ ۔آپ یہ یہ کیا بکواس ہے دد ۔۔دور ہو کے بات کریں ۔۔ وہ تو اپنی قربت سے ہی جان لینے پر تھا اسکی دھڑکتے دل کے ساتھ پیچھے ہٹی پر افسوس پیچھے دیوار نے راستہ بند کیا ہوا آگے سے اس دیوار نے ۔۔۔ احد کو تو وہ پہلے سے بھی زیادہ حسین لگنے لگی تھی ۔۔
” کیسی ہو ۔۔اسکے نرم گهمبیر لہجے نے پل میں اسکی آنکھوں میں سمندر پیدا کردیا ۔۔
” مر چکی ہوں ۔۔وہ غصے میں کہتی سائیڈ سے نکلنا چاہا پر احد نے اسے کمر سے پکڑ خود کے نزدیک کردیا ۔۔وہ تو جیسے ساکت ہوگی اسکی حرکت پر ۔۔۔
” شش دوبرہ ایسی بکواس مت کرنا ۔۔ یہ دل یہ دیوانی میری ہے ۔۔ وہ سنجیدگی سے اسکے کان میں سر گوشی کی ۔۔۔ اسکی بات پر اسنے شکوہ کن نگاہوں سے دیکھا اسے ۔۔
” اب یہ دل دھڑکتا نہیں ہے مر چکا ہے ۔۔۔ بہت پہلے کوئی اسی دیوانی کو اسکی اوقات دیکھا کر گیا تھا اس دل کو بیدردی سے مار کے گیا تھا ۔۔اسنے اسکا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتے ہوئے بہتے آنسوں کے ساتھ اپنا درد بیاں کر رہی تھی ۔۔ اور سانسیں رک کر کھڑی تھی اسکے حصار میں ۔۔
” ہر مرض کا علاج ہے یہ کیا چیز ہے ۔۔ پر یہ تو دھڑک رہا ہے نہ ۔۔۔ اسنے ہاتھ ہٹا کر اسکا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا اسکی تیز دھڑکنیں سنتے اسکا ساکت دل دھڑکا تھا پہلی بار دل نے شدت سے چاہا اس بےوفا کا دل کھینچ کر باہر نکال دے ۔۔ بند کرلے اپنی سانسیں روک دے اسکی دھڑکن ۔۔اسنے ہاتھ پیچھے کھینچنا چاہا لیکن اسکی گرفت مضبوط تھی اسکی قربت میں سرخ پڑھتے ہی اسکی جان ہلکان ہو رہی تھی وہ بڑی دلچسپی سے اسکے بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا ۔۔دل نے گواہی دی وہ دنیا کی سب سے خوبصورت حسینہ ہے جو صرف اسکی ہے جس پر صرف وہ حق رکھتا ہے ۔۔
” ناراض ہو ۔۔؟
” حق نہیں ۔۔
” کیا آج بھی عشق کرتی ہوں ۔۔؟ اس بات پر اسکے مزاحمت کرتے ہاتھ پل کو تھامے دل کی بیٹ مس ہوئی ۔۔ اور دوسرے ہی پل اسکی بےوفائی یاد آگی ۔۔
” کہا نہ عشق کرنے والی مر چکی ہے ۔۔وہ غصے میں چلائی ۔۔
” کیوں جھوٹ بول رہی ہو مجھ سے خود سے کیوں ۔۔
اتنا ظالم سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ اچھا بھی نہیں سمجھتی ۔۔!! وہ اسکی جھکی نظریں سرخ گال لرزتی پلکیں دیکھتا مبہوت سا بولا ۔۔۔
“چھوڑو پلیز ۔۔۔ اب چھوڑ نے نہیں آیا ۔۔!! احد اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا وہ تو اسکے لمس پر ہی کانپ گئی ۔۔ اسکا یہ روپ پاگل کر رہا تھا اسے اب ۔۔
” مجھے یہ دو روپ پسند نہیں مسٹر احد آپ تو یہاں کسی اور سے عشق کر بیٹھے ہوئے تھے اسکا کیا ہوا ۔ہیر اپنے جذبات کو دباتی غصے غم میں بھڑک اٹھی ۔۔
” کس نے کی ہے یہ بکواس اور کون سا عشق ۔۔ احد ابرو اچکاتے ہوئے کہا ۔۔
” آپکے بھائی نے ہی پیغام بھیجا تھا کہا تھا یقین نہ آئے تو آکے دیکھ لوں اسکی بیوی کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہے آپ ۔۔!! اسے کہتے ہوئے بھی شرمندگی ہو رہی تھی اور وہ منہ پھیر گئی ۔۔
” آریان تم آج میرے ہاتھوں زندہ نہیں بچو گے ۔۔ احد غصے میں دونوں ہاتھوں کی موٹھی بھینچتا غصے میں بولا ۔۔
” اسے تو میں دیکھ لوں گا ۔۔۔ اور تم ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا مجھے اس میں تمہاری جھلک نظر آتی تھی اس لئے مجھے اس سے بات کرنا اچھا لگتا تھا اسکے اور اپنے درمیان اس رشتے کا احترام کرنا اچھے سے آتا ہے مجھے اتنا کمزور مرد نہیں ہو نہ ہی نفس کا غلام ہوں ۔۔ تمہارے ساتھ جو کیا اسکے پچھتاوے آج تک خود کو معاف نہیں کر سکا ۔۔ پھر ملاقات ہوگی ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔!! وہ کہتا آگے بڑھ کر اپنی محبت کی مہر اسکے ماتھے پر سجاتا جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے پل میں غائب ہوا ۔۔ اور وہ اپنے زیر لفظ اسکے سحر میں اسکے لمس میں سن ہوتی جانے کتنے پل وہ کھڑی خود کو اسے حصار میں محسوس کرتی رہی اور آنسوں ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے بہہ رہیں تھے ۔۔۔
★★★★
” اس لڑکی نے جینا حرام کر رکھا ہے میرا پتا نہیں کیوں جان نہیں چھوڑ رہی ہے جب دیکھو اپنا فلیٹ چھوڑ کے میرے پاس آجاتی ہے رہنے دماغ خراب کر رکھا اسنے ۔۔” وہ بے حد غصے میں اسکی توہین کر رہا تھا الیئنا ایک نظر پیچھے دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسکے گلے میں بازوں ڈال گئی ۔۔اور وہ پیچھے کھڑی اسکی باتیں سن دماغ سے سن رہی تھی آنسوں تیزی سے اسکی آنکھوں سے بہ رہے تھے اسنے سختی سے آنکھیں بند کی منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیاں دبانے لگی اسے اپنا آپ بے مول ہوتا ہوا محسوس ہوا آج تک کسی نے اسے اتنا بےمول نہیں کیا اسکی عزت نفس بھی تھا وہ ہمیشہ خود کو اسکے ہاتھوں ذلیل کروانے ہی آجاتی تھی آج اسے خود سے نفرت ہو رہی تھی ۔۔۔ وہ تو غصے میں اس سے لڑ نے آئی تھی پر کیا وہ یہ حق رکھتی تھی اس پر ۔۔ وہ کسی اور کے سامنے اپنی بیوی کی تذلیل کر رہا تھا پر کیوں ۔۔۔
” میں جانتی تھی وہ لڑکی اچھی نہیں ہے تمہیں پھنسا رہی ہے اس لئے ہر وقت تمہارے ساتھ دکھتی ہے ۔۔ خیر مجھے خوشی ہوئی تم مجھے دھوکہ نہیں دے رہیں ۔۔ بس تم اب اس لڑکی سے دور رہنا پلیز ۔۔۔!! الیئنا محبت سے کہتی اسکے گلے مل کر جانے لگی ۔۔ آریان آنکھیں بند کرتے گہرا سانس لیا وہ تھک گیا تھا اس کھیل سے پر اسے کرنا تھا یہ کام تھا اسکا ۔۔ وہ جیسے پیچھے موڑا ٹھٹک گیا اسے دیکھ کر ۔۔پھر جلد ہی خود پر ضبط کرتا اسے سامنے گیا وہ جانتا تھا اسے کیسے دور رکھنا ہے اب ۔۔
” یہاں سے چلی جاؤ جب سے یہاں آئی ہو میری لائف میں صرف مسئلے ہی پیدا کر رہی ہو تم ۔۔ دیکھا تمہاری وجہ سے الیئنا ناراض ہوگی مجھ سے !! آریان کے لفظ اسے توڑ گئے تھے وہ غصے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتے آگے بڑھ گیا ۔۔ عروبہ جیسے ہی غصے میں آگے بڑھی اس سے پوچھنے اس سے اپنے سوالوں کے جواب لینے پر اس تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے بےہوش کر دیا ۔۔
★★★★
” آریان بےچینی سے پہلو بدلتا رہا رات سے وہ اسکا انتظار کرنے لگا تھا اسے لگا وہ شاید غصے میں زویا کے فلیٹ پر چلی گئی ہو ۔۔ جو کچھ کیا اسنے اسے ساتھ وہ ایسا کچھ کر سکتی تھی ۔۔ لیکن پتا نہیں کیوں دل کو سکون نہیں مل رہا تھا ۔۔۔ وہ دروازے کی بیل پر دھڑکتے دل کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھا لیکن سامنے زویا کو دیکھ کر حیران ہوا ۔۔
” تم کب آئی ؟ آریان بےچینی سے اسکے پیچھے دیکھا ۔۔
” میں تو رات کو دیر تک آگئی تھی ۔۔ پھر سوچا تم لوگوں کو ڈسٹرب نہیں کرتی اس لئے عروبہ سے ملنے اور لینے آئی ہوں بہت دنوں سے اسے مس کر رہی تھی کہاں ہے وہ ۔۔!! زویا روانگی سے کہتی اندر آتے ادھر ادھر نظریں پھیرتے ہوئے عروبہ کو تلاش کیا ۔۔۔ آریان ساکت کھڑا خالی خالی نظروں سے زویا کو دیکھ رہا تھا جو اب اسے سوالیہ نگاہ سے دیکھ رہی تھی ۔۔
” آریان تم ٹھیک ہو ۔۔ عروبہ کہاں ہے ۔۔ زویا اب پریشانی سے پوچھ رہی تھی اس بیچ حدید بھی تھکہ ہارا لوٹا ۔۔زویا اسے دیکھتی ناراضگی سے نظریں پھیر گئی ۔۔
” کیا مطلب عروبہ کہاں ہے ۔۔ کیا وہ تمہارے فلیٹ پر نہیں تھی ساری رات ۔۔ آریان کو خطرے کی بو آئی رات الیئنا کے ساتھ ایک دو گاڑی اسنے دیکھی تھی دور دور کھڑی تھی لیکن اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ایسا کچھ ہوگا ۔۔
” سیریسلی آر میں یہاں تم سے پوچھ رہی عرو کہاں اور تم مجھے سے الٹے سوال کیے جا رہے ہو ۔۔ زویا اسکے سوالوں سے چڑ گئی تھی ۔۔
” آریان سب ٹھیک تو ہے کیا ہوا عروبہ کہاں ہے ۔۔حدید آگے بڑھتا کچھ کچھ سمجھتا پوچھا ۔۔ آریان ضبط سے آنکھیں بند کرتے کھولی اور تیزی سے گھر سے نکلا ۔۔ اسے خود پر غصہ آرہا تھا کیوں وہ لا پرواہ بن گیا کیوں کیا ایسا اسنے جب جانتا بھی تھا اسکے پیچھے کتنا خطرہ ہے کیسے ڈھونڈے گا وہ اسے اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا تھا دل خوف سے الگ لرز رہا تھا ۔۔اسے کھونے کا تصور ہی جان لیوا تھا ۔۔نہیں وہ اسے کچھ نہیں ہونے دیگا اسکی ہر ادا ہر مستی آنکھوں سے سامنے لہرا رہی تھی ۔۔
” اسے کیا ہوا بتا کیوں نہیں رہا عرو کا ۔۔؟ زویا حیرت سے بڑبڑائی ۔۔
” کیا تمہیں ابھی تک بات سمجھ نہیں آئی مطلب ۔۔؟ حدید کی بات پر اسنے سوال کیا ۔۔
” عروبہ مسنگ ہے اس لئے وہ بھاگا ۔۔کیا تمہیں وہ یہاں دیکھ رہی ہے ۔۔حدید کو اسکے بے تکہ سوال پر غصے آیا دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔
” واٹ اوہ گاڈ آئے ہوپ وہ ٹھیک ہوں جلد مل جائے ۔۔!! زویا اچانک پریشانی میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے دعا کرنے لگی ۔۔ حدید دلچسپی سے اسکے پریشان چہرے پر نظر ڈالتا فریش ہونے چلا گیا ۔۔ وہ جانتا تھا آریان اسے کیسے بھی کر کے اسے ڈھونڈ لے گا ۔۔
” ہیلو ڈیڈ ۔۔
” واٹ دا ہیل آریان مجھے تم سے اس لاپرواہی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔ کہاں تھے تم اس وقت بولو؟ داريان اسکی بات سنتا بھڑک اٹھا غصے میں نہ جانے کیا بولے جا رہا تھا ۔۔ آریان رش ڈرائیونگ کرتا اپنے مقام پر پہنچا جہاں اسکی ٹیم کے کچھ لوگ چپ کر کام کرتے تھے ۔۔
★★★★
” بولو کیا چاہئیے انعام میں تمہیں میری جان ۔۔؟ شیر خان الئینا کو اسکے قریب کرتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولا ۔۔اور وہ بھی اسکے گلے میں بازو ڈال کر خود کو اسکے سپرد کرتے ہوئے بولی ۔۔
” اسکی موت اور وہ سزا میں خود دونگی اسے ۔۔!! وہ شیطانی مسکراہٹ سے کہتی اسے دیکھا ۔۔
” ضرور میری جان یہ موقع جلد ہی دونگا تمہیں لیکن ابھی میرا کچھ حساب باقی ہے وہ پورا ہو جائے پھر وہ تمہاری ہوئی ۔۔!! دونوں اپنے پلین پر شراب نوشی میں ڈوبتے ہوئے ہنس رہے تھے ۔۔ لیکن یہ تو وقت ہی بتاۓ گا کون کیا چاہتا ہے کس کا پلین کامیاب ہوگا یہ پھر ایک اور زندگی کی ہوگی بربادی ۔۔
