Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 04)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 04)
Mera Ishq by Mahra Shah
” کچھ انفارمیشن ملی ۔۔؟ فون کے دوسری طرف کسے نے بے صبری سے پوچھا ۔۔
” نہیں سر لیکن ایک گڈ نیوز ہے وہاں پر انٹری ہوگئی ہے اب ہم اپنی منزل کے بہت قریب ہیں ۔۔۔!! اسکے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آئی ۔۔
” یس یہی امید تھی اپنے ہیرو سے پر جلد بازی نہیں جتنا آرام سے کام ہوگا اتنی ہی بات بنے گی ہم چاہے منزل کے کتنے بھی قریب ہو لیکن وہ ہوتی پھر بھی دور ہے اس لئے کام ایسا کرنا چاہیے کے دونوں قریب لگے بیسٹ آف لاک مائے بوائے ۔۔!! اس شخص نے اپنے ساتھ بیٹے لوگوں کو اشارہ دیا جیسے وہ لوگ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
” باقی سب کب آرہے ہیں یہاں ۔۔!! اس نے سامنے بورڈ پر لگی تصویروں کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
” کل کی فلائیٹ سے آتے ہی اپنے کام پر لگ جاۓ گے اور ایک بات جتنا ہو سکتا ہے ایک دوسرے سے ملاقات کم ہو تو اچھا ہے اس بار ہمیں ہارنا نہیں جیتنا ہے اوکے ۔۔۔۔۔ یس سر ۔۔۔!! وہ عزت سے سلام پیش کرتا کال کٹ کر گیا ۔۔۔
” بہت لوگوں کا سکون برباد کیا ہے تم لوگوں نے اب تم لوگوں کی باری جتنا جینا ہے جی لو ان کچھ دنوں میں پھر ملیں گے ایک نئے روپ میں ۔۔!! اسکے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی اور سرخ آنکھوں میں نفرت اس سب تصویروں کو دیکھتے ہوئے ۔۔
★★★★
” میں نے کتنی کال کی پر تمہارا نمبر بند کیوں آرہا ہے ۔۔!! الینا نے ناراضگی سے کہا ۔۔
” میرا فون چوری ہو گیا تھا تم سناؤ کیا کر رہی ہو آج کل ۔۔!! آریان نے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا جو اسے ملتے ہی کھل اٹھا تھا ۔۔
” تمہیں بہت سارا مس ۔۔۔ اور بتاؤ ڈیڈ نے تمہیں گینگ میں شامل کردیا ۔۔!! الینا نے جوس پیتے ہوئے راز داری میں ذرا جھک کر پوچھا جس پر وہ ہلکا سا مسکراتا اثبات میں سر ہلا کر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھا ۔۔
” میری یاد نہیں آتی کبھی مجھ غریب کو بھی بلا لیا کرو اپنی محفل میں ۔۔۔!! حازق ان کو کیفے میں دیکھتا اسکی طرف چلا آیا وہ لوگ اکثر یہاں اس کیفے میں بہت آتے تھے ۔۔
” شیطانوں کا محفل میں ذکر نہیں کیا جاتا ۔۔۔!! الینا نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا حازق نے داد دی اسے آریان بھی ہلکا سا مسکرایا تھا پھر ان تینوں کی باتیں شروع ہوئی جس میں زیادہ تر الینا حازق کی لڑائی تھی آریان یہاں وہاں نظریں گھماتا کچھ ٹائپ کر رہا تھا اپنے دوسرے فون میں ۔۔۔
★★★★
” کیا ہوا اروبا تم رو کیوں رہی ہو ۔۔!! زویا نے اسے روتے ہوئے دیکھ کر فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔
” ماما بابا یاد آ رہے ہیں ہے بہت دو دن سے بات نہیں ہوئی ہے ۔۔!! اروبا نے دکھ سے روتے ہوئے کہا اسے اپنے ماں باپ بہت یاد آرہی تھی ۔۔
” ارے یار پھر رونے کی کیا بات ہے بات کرلو نہ ان سے ۔۔!! زویا کو اسکی معصومیت پر بہت پیار آیا تھا ۔۔
” کّک ۔۔کیسے کریں ہم بات وہ ہمارا موبائل فون نہیں دے رہے ہمارے پاس نمبر نہیں اسی موبائل میں تھے اب وہ دینگے موبائل فون تو ہی بات کریں گے نہ ۔۔۔!! اروبا نت سوں سوں کرتے ہوئے کہا رونے سے اسکی ناک سرخ ہوگئی تھی ۔۔
” میری جان کیا کہہ رہی ہو کچھ سمجھ نہیں آرہا کون موبائل لیکے گیا ہے کس کی بات کر رہی ہو ۔۔!! زویا نہ ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔۔
” مسٹر کھڑوس وہ پڑوسی انہوں نے ہمارا موبائل لے لیا ہے اور پاسپورٹ بھی دونوں نہیں دے رہے ہے ۔۔!! اروبا نے آنسوں صاف کرتے اسے پوری بات بتائی تھی ۔۔
” اس کمینے کی تو دیکھ لیتے ہیں آؤ میرے ساتھ دیکھتی ہوں کیسے نہیں دیتا ۔۔۔!! زویا اسے ہمت دیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اسے اپنے ساتھ لئے باہر نکلی ۔۔۔
★★★★
” بیراج میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ارو سے بات نہیں ہو پا رہی آپ کچھ کریں نہ ۔۔۔!! دافیا نے پریشانی کے عالم میں کہا ۔۔
” فکر مت کرو وہ ٹھیک ہوگی جانتی تو ہو اسنے تمہاری بار بار کال سے بند کردیا ہوگا موبائل اور کیا ۔۔!! بیراج نے اسکی پریشانی کم کرنی چاہی ۔۔
” آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں دو دن سے اسکی نہ کوئی کال آئی نہ ہی اسکا موبائل لگ رہا ہے پھر بتائیں کیسے نہیں فکر کرو ماں ہو نہیں ہوتا صبر بیٹی کو اتنی دور بھیج دیا ہے سارا دن اسکی فکر رہتی ہے اور وہ صاحب زادہ پتا نہیں کون سی دنیا میں رہتا ہے ماں باپ تو یاد ہی نہیں اسے ۔۔!! دافیا نے غصے غم میں بولتے ہوئے کہا بیراج گہرا سانس لیتا اسے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔
” بچوں کو تھوڑا اسپیس دینا چاہیے سختی کرو گی تو وہ اور دور ہوتے جائیں گے اروبا تو ہماری بہادر بیٹی ہے دیکھنا خود ہی کال کرے گی وہ تنگ کر رہی ہوگی تمہیں اور حمزہ بھی کل اپنی ٹرپ سے واپس آرہا ہے اوکے اب کوئی آنسوں نہیں بہاؤ گی ۔۔!! بیراج اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا دافیا خاموشی سے سر ہلا گئی پریشان تو وہ بہت تھی پر بیراج کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اب ۔۔
★★★★
” نو ٹینشن بےبی جہاں زویا حنان ہو وہاں گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ ہوئی نہ بات سویٹ گرل ۔۔!! زویا کے بولنے پر وہ ہنس پڑھی اسکے گال پر ڈمپل پڑا جس پر زویا کو بہت پیار آیا اس پر دونوں انکے دروازے پر کھڑی تھی ۔۔
” آپ لگتا ہے ہم غلط فلیٹ پر آگئے ہے ۔۔۔۔ نہیں یہی تو ہے آپ بھول گئی کیا ۔۔۔۔۔۔ پکا یہی ہے مجھے لگ تو یہی رہا ہے پر ۔۔۔!! زویا سامنے حدید کو دیکھتے ہوئے اروبا سے پوچھا ۔۔
” مس بدتمیز اگر آپکا ہو گیا ہو تو پوچھ سکتا ہو یہاں آنے کی وجہ ۔۔!! حدید نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
” آر۔۔ آریان کہا ہے ہمیں اس سے بات کرنی ہے ضروری ۔۔۔!! زویا نہ ناسمجھی سے اسے یہاں دیکھ کر آریان کا پوچھا جواب میں حدید پیچھے ہوا جس کا مطلب اندر آ سکتے ہیں اروبا کو گھبراہٹ بہت ہو رہی تھی پر اس بار ہمت سے کام لینا تھا اسنے سوچ لیا تھا ۔۔
” یہاں کیوں آئی ہو ۔۔!! آریان روم سے باہر آتے ایک نظر اروبا پر ڈالتا زویا سے آنے کی وجہ پوچھی جو حدید کے یہاں رہنے پر حیرت میں تھی ۔۔
” ہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں آپ دونوں بیٹھ جائے ۔۔!! زویا اروبا کو ساتھ بیٹھا کر انھیں بھی کہا دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بیٹھ گئے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ۔۔
” اوکے سیدھے پوائنٹ پر آتے ہیں تم نے اروبا کا موبائل فون پاسپورٹ کیوں لیا ہے اور واپس کیوں نہیں کر رہے جانتے ہو وہ کتنی پریشان ہو رہی ہے اپنی فیملی سے بات تک نہیں کر پا رہی ۔۔!! زویا نے سنجیدگی سے کہا حدید نے بھی آریان کی طرف دیکھا وہ سرد تاثرات لیکے ہوئے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا وہ اسکی نظروں سے گھبراتے ہوئے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی دل نے تیز رفتار پکڑی ہوئی تھی ۔۔
” اس نے اپنی غلطی نہیں بتائی تمہیں جب تک میرا موبائل فون مجھے واپس نہیں کرے گی تب تک اسکی کوئی بھی چیز نہیں ملے گی ۔۔۔!! آریان نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا مطلب وہ اسکی شکایت لگا رہی تھی پر خود کی غلطی پر شرمندہ بھی نہیں ۔۔
” اسکی غلطی تمہارا فون اسکے پاس کیسے ۔۔ یہ کیا کہہ رہا ہے ارو تم نے مجھے ایسا تو کچھ نہیں بتایا ۔۔!! زویا کھلے منہ حیرت سے اروبا کو دیکھا جو شرمندگی سے نظریں جھکا گئی ۔۔
” ہہ ۔۔ہم۔۔مم ۔۔مانتے ہیں ہماری غلطی ہے ہمیں جھوٹ نہیں بھولنا چاہیے تھا لیکن ہم سچ میں ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے آپ نے غصہ دلایا تھا اس لئے کہا پر ہم سچ کہہ رہیں ہے اس دن ہوسٹل جاکے احساس ہوا اور ہم واپس دینے کے لئے آرہے تھے پر وہاں کی لڑکیوں نے پھر سے ہمیں تنگ کرنا شروع کر دیا تھا وہ ان میں سے ایک لڑکی موبائل فون لیکے بھاگ گئی تھی ہم پیچھے بھی گئے تھے پر وہ لوگ بہت دور نکل چکے تھے لیکن ابھی تک شاید انکے پاس ہو ہم لے سکتے ہیں لیکن پلیز ہمارا فون واپس کردیں ہمیں اپنے گھر بات کرنی ہے پلیز نہ ۔۔۔!! اروبا دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ ہمت سے پوری بات کہہ دی شرمندگی سے رونا بھی آرہا تھا جس کا ثبوت آنکھوں میں پانی تھا ۔۔
” آریان اب اس نے سچ بتا دیا ہے آئے تھنک تمہیں اسکی چیزے واپس کر دینا چاہیے ۔۔۔!! حدید پوری بات سنتا آریان سے بولا زویا کو بھی اسکی بات سہی لگی ۔۔
” ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے اور تم جاکے پھر سے ان لڑکیوں سے بات کر کے دیکھو شاید مان جاۓ ۔۔۔!! زویا نے بات کو سمجھتے ہوئے اروبا سے کہا ۔۔
” پپ ۔۔پہلے انکو کہے ہماری چیزے واپس کردے پھر ہم جاکے لے آئیں گے ۔۔!! اروبا نے حدید زویا کو سے مدد طلب نظروں سے دیکھا آریان کو ایک نظر بھی اٹھا کر نہیں دیکھا شرمندگی سے اب سب کی نظریں آریان پر تھی اور اسکی اروبا پر ۔۔
” اوکے ابھی صرف فون دونگا پاسپورٹ میرے فون کے بعد ۔۔!! آریان کہتا وہاں سے اٹھ گیا ۔۔
” نن ۔۔نہیں کچھ کریں نہ اگر انکا فون واپس نہیں ملا تو کیا وہ ہمیں پاسپورٹ کبھی واپس نہیں کریں گے ہم اپنے گھر کیسے جاۓ گے پلیز ہماری مدد کریں ۔۔۔!! اروبا کو آریان کا فیصلہ اچھا نہیں لگا اسے ڈر تھا اگر اسکا فون واپس نہیں ملتا تو اسے کبھی پاسپورٹ نہیں ملے گا ۔۔
” خاموشی سے یہ بھی لو پہلے ہی شرمندہ کیا ہے تم نے اور شکر کرو دے رہا ہے کہیں پھینک نہیں دیا ورنہ جتنا کھڑوس غصے والا ہے نہ کچھ بھی نہیں ہوتا تمہارا ۔۔۔!! زویا نے ہلکے غصے میں کہا اسے پوری بات جو بتا کر نہیں آئی تھی ۔۔
” ایک کام کرو تم ابھی جاؤ اسکا فون لیکے آؤ پھر اپنی چیزے لے لو اس سے سب ۔۔!! حدید نے مشورہ دیا زویا نے بھی اس سے کہا ۔۔
” ہہ ۔۔ہم اکیلے نہیں جائے گے وہ لڑکیاں بہت بری خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ اوکے تو آریان تم اسکے ساتھ جاؤ وہاں سے جاکے اپنی چیزے لو اور اسے اپنی دو اور پلیز اب کو بحث نہیں ویسے ہی بہت تھک گئی ہو میں تم جاؤ اسکے ساتھ ۔۔۔!! اروبا نے ڈرتے ہوئے اپنی بات بتائی جس کا حل زویا نے آریان کو دیکھتے ہوئے کہا حدید کو بھی اسکی بات سہی لگی حدید اپنے روم میں زویا اپنے فلیٹ پر چلی گئی وہ دونوں وہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے آریان ایک نظر غصے سے دیکھتا آگے بڑھ گیا بنا پوچھے وہ بھی ۔۔۔
★★★★
” سوری ۔۔!! گاڑی میں دونوں کے بیچ کی خاموشی کو اروبا نے توڑا شرمندگی سے سر جھکا کر کہا وہ سنجیدہ سا ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
” یا اللّه خیر ماما بابا کے اتنے میسج میل افف یہ سب آپکی وجہ سے ہوا ہے ہم بات نہیں کر پاۓ وہ لوگ کتنے پریشان ہونگے ہے ہم کال بیک کرتے ہیں ۔۔۔!! اروبا نے جیسے ہی فون آن کیا ڈیٹا آن کرتے اسکے میسج پر میسج آنے لگے اپنے ماما بابا کے وہ ایک نظر شکوہ اس پر ڈالتے ہوئے کہا اور کال کرنے لگی تھی کے ۔۔۔
” اااہہہ ۔۔ اللّه ہمارا سر ۔۔ آپ پاگل ہے یہ کیا بدتمیزی تھی ۔۔۔!! آریان کے بریک لگا نے پر اروبا کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر گر گیا اور اسکا سر سیدھا ڈیش بورڈ پر لگا زور کا کیوں کے اسنے سیٹ بیلٹ نہیں باندھا تھا اس نے سر پر ہاتھ رکھ کر کراہتے ہوئے کہا تھا آریان ایک پل کو آنکھیں بند کرتا گہرا سانس لیتا تیزی سے باہر نکل کر اسکی سائیڈ آکر دروازہ کھولتے ہی اسے بازؤں سے پکڑ کر باہر نکالتا گاڑی سے لگا کر دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھکا اس پر وہ تو جیسے سن ہو گئی تھی اس افرا طفری پر اسکی آنکھیں پھٹی کے پھٹی رہ گئی دل زور سے دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔
” you don’t know who IAM the way you talk and fun with me Iam not interested in you understand i don’t like to talk with you “
آریان غصے میں سرخ ہوتے ہوئے نیچی آواز میں غرایا اسے دیکھ کر پتا نہیں کیوں وہ غصہ ہونے لگتا تھا اسکی وجہ سے اسکا قیمتی موبائل فون گیا جس پر اسکا بہت امپورٹنٹ کام تھا ۔۔
” می ٹو ۔۔!! اروبا کو اسکی باتوں نے بہت ہرٹ کیا وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دھکہ دے کر پیچھے کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ گئی اس بیچ اسکی آنکھ سے ایک آنسؤ گرا جیسے وہ رگڑتے ہوئے اسے دل میں برا بھلا کہا ۔۔
” ڈیم اٹ یہ لڑکی ہمیشہ میرا پلین خراب کرتی ہے ۔۔!! آریان غصے میں گاڑی پر زور دار پنچ مارتا بڑبڑایا ۔۔
★★★★
” ہے یو فائنلی کم بیک بےبی ۔۔!! ان میں سے ایک لڑکی نے اسے واپس یہاں دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
” یس آئم لسن ٹو می پلیز گیو می مائی سلف فون ۔۔!! اروبا نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا آج تو اسنے سوچ لیا تھا وہ اپنا فون لیکر ہی جاۓ گی اب وہ اسکے ہاتھوں مزید بیعزت نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔
” اوه بےبی تم اس چیز کے لئے آئی ہو ہمیں لگا پھر سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے آئی ہو ۔۔!! ان میں سے ایک اور لڑکی بولتے ہوئے آگے بڑھی اسکی طرف گول گول گھوم کر کہا ۔۔
” بےبی کو فون چائیے یہ لیکر دکھاؤ ۔۔!! تیسری لڑکی نے ہاتھ میں موبائل فون لہرا تے ہوئے کہا ۔۔
” سٹوپپپپ یو ۔۔!! اروبا ان سب کی باتوں سے تنگ آکر کان پر ہاتھ رکھتے ہوئے چیخی اور آگے بڑھ کر ایک ایک کر کے سب کو دھالکہ دے کر آگے بڑھی اس لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر اسکے ہاتھ سے فون چھینتے ہوئے اسے دھکہ دیا اور وہاں سے بھاگ گئی پیچھے وہ لڑکیا کراہتے ہوئے اٹھنے لگی ایک تو اسکے پیچھے بھاگی ۔۔
★★
آہ پلیز جلدی سے بھاگیں ۔۔!! اروبا گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا آریان نے اسے گھورتے ہوئے اپنا موبائل فون لیا ۔۔
” کیا مطلب کیا کر کے آئی ہو ۔۔!! اسنے غصے میں پوچھا ۔۔
” ہم ہم انھیں مار کر آئے ہیں اب پلیز چلیں وہ لوگ خطرناک ہے چلیں نہ ورنہ وہ ہمیں مار دینگی ۔۔!! اس نے ڈر سے بار بار پیچھے دیکھتے ہوئے گہرے سانس بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔
” ہمارا کام یہی پر ختم اپنی چیزیں گھر آکر لے جانا اگر زندہ بچ گئی تو ۔۔۔!! وہ طنزیہ بولتا آگے بڑھ گیا اروبا نے صدمہ سے اسے دیکھا وہ کتنا مطلبی بندا تھا اسے آج احساس ہوا ان لڑکیوں کی آواز پر وہ ہوش میں آتے پیچھے دیکھا وہ قریب ہی تھی ایک کے ہاتھ میں تو ڈنڈا تھا اروبا کی آنکھیں ہی پھٹ گئی اسنے اپنی جان بچا نے کے لئے آگے پیچھے نہ دیکھا سیدھی روڈ کے سائیڈ بھاگی اسی ٹائم بس اپنی تیز رفتار سے آرہی تھی اسکے پیچھے بھاگنے والی لڑکیاں گھبرا کر رک گئی اسے آواز دینے لگی پر وہ اس وقت ہوش میں کہا تھی آریان ان لڑکیوں کے چلا نے پر گردن موڑ کر دیکھا تو ایک سیکنڈ زایا کیے بغیر اسکی پیچھے تیزی سے بھاگا اسکا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔
” یا اللّه ہمیں بچا لیں ہم مرنہ نہیں چاہ ااآہہہ ۔۔۔!! وہ بھاگتے ہوئے خود کے لئے دعا مانگ رہی تھی کے گاڑی اسکے قریب پہنچنے سے پہلے ہی آریان نے اسکا بازؤ پکڑتے ہی پیچھے کیا وہ گاڑی تو اپنی تیزی سے آگے بڑھ گئی اروبا سیدھا آریان کے سینے سے لگی آریان بھی لڑکھڑا کر پیچھے ہوا ۔۔
” تم پاگل ہو کیا اندھوں کی طرح بھاگ رہی تھی اگر میں وقت پر نہیں بچاتا تو آج یہاں تمہاری لاش ہوتی ۔۔!! آریان اسکا دوسرا بازو پکڑ کر قریب کرتے ہوئے غصے میں کہا اروبا کا دل گھبراہٹ سے زور سے دھک دھک کر رہا تھا گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا اسکے دونوں ہاتھ آریان کے سینے پر تھے ۔۔
” وو ۔۔وہ لڑکیاں ہمیں مم ۔۔مار نے آرہی تھی اور آ ۔آپ نے بھی ہمیں چھوڑ دیا ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔!! اروبا کا سر درد کرنے لگا تھا اس وجہ سے اسے چکر آنے لگے تھے اب ۔۔
” اس لڑکی کو ہمارے حوالے کردو ۔۔۔!! آریان کچھ کہتا کے وہ لڑکیاں آکر اسے زندہ سلامت دیکھ کر خوش ہوئی کیوں کے انھیں اب خود اسے مارنق تھا ۔۔
” ابھی نہیں میرا کچھ حساب باقی ہے اسے بعد آکر لے جانا ۔۔!! ان لڑکیوں کے بولنے پر اروبا نے آریان کی طرف دیکھتے ہوئے زور و شور سے اپنا سر نہ میں ہلا یا آنکھوں میں ڈھیروں پانی جمع ہو چکا تھا آریان کو ایسا کرتے ہوئے وہ بہت کیوٹ معصوم بچوں کی طرح لگی وہ تھی بھی بہت خوبصورت معصوم اسکے آگے کے ماتھے پر کاٹ بال بہت پیارے بناتے تھے اسے ۔۔ آریان ان لڑکیوں کو کہتا اسے لیکے چلا گیا ۔۔
★★★★
” اس پیشن کا دل بہت کم زور ہے آپریٹ کے ٹائم بی پی لوو ہو جاتا ہے اسی وجہ سے ہمیں روکنا پڑتا ہے پھر ۔۔۔!! سب میٹنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں پانچ ہی لوگ تھے گروپ کے ۔۔
” آئی تھنک ہمیں اس بار رسک لینا پڑھے گا اس کی کنڈیشن دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے ۔۔!! زویا نے سنجیدگی سے اپنا پائنٹ بتایا ۔۔
” ڈاکٹر زویا آپ کو واقع لگتا ہے ہمیں رسک لینا چاہیے ۔۔۔۔ یس سر پیشن کی حالت کو دیکھتے ہوئے لگتا یہی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم بھی ڈاکٹر زویا کی بات پر ایگری کرتے ہے ۔۔۔!! حدید کے پوچھنے پر زویا کے ساتھ سب کا یہی فیصلہ تھا ۔۔
” اوکے بیسٹ آف لاک گائیز ۔۔۔۔ تھینک یو سر ۔۔۔!! سب نے ایک آواز ہو کر کہا اور اپنے کاموں میں لگ گے ۔۔۔
” کیا ہوا آپ کچھ پریشان لگ رہی ہے زویا ۔۔۔!! حدید زویا کو وہیں بیٹھا کسی گہری سوچ میں دیکھ کر پوچھا ۔۔
” نن ۔۔نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔!! زویا نے حدید کے پوچھنے پر گھبراتے ہوئے جواب دیا ۔۔
” آپ ٹھیک نہیں لگ رہی کچھ زیادہ مسئلہ ہے تو آپ شئیر کر سکتی ہے ۔۔!! حدید نرمی سے بولا تھا جس پر زویا گہرا سانس لیتے کچھ پل آنکھیں بند کر دی حدید کی نظریں اسکے خوبصورت پریشان چہرے پر تھی ۔۔
” میں یہاں آپ سے پائنٹ ڈسکس شئیر کر سکتی ہو پر ۔۔!! زویا دونوں ہاتھوں کو آپس میں گرفت مظبوط کی ہمت کرتے ہوئے آنکھیں بند کر کے کھولی اور حدید کی آنکھوں میں دیکھا جو بہت ہی سنجیدہ سا اسے دیکھ رہا تھا دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے حدید کو وہ مظبوط لڑکی آج یوں اداس روتی ہوئی اچھی نہیں لگی ۔۔
” پپ ۔۔پر آپریشن نن ۔۔نہیں کر سکتی میرے پاس لائسنز نہیں مجھے انہوں نے نکال دیا تھا یہاں صرف بڑے پاپا آریان کی وجہ سے ہوں اور یہ بات یہاں سب جانتے ہیں میں نہیں چاہتی آپ کو کہیں اور سے پتا چلے یا پھر اسی ٹائم جہاں میں دوبارہ نہیں جانا چاہتی کیوں کے میں ایک اور کی جان نہیں لے سکتی ہوں ۔۔۔!! زویا آنسوں بہاتے ہوئے سر جھکا کر سب کچھ بتا دیا حدید کو وہ کتنے ہی پل حیرت میں اسے دیکھ رہا تھا جو رونے میں لگی تھی اسے یقین نہیں ہو رہا تھا یہ وہی بدتمیز بہادر لڑکی ہے اور آج یوں بچوں کی طرح اسکے سامنے رو رہی ہے شاید وہ کبھی اسکے سامنے نہ ٹوٹتی پر آج وہ جو کام کرنے والے تھے جس پر اسے کوئی نہ کرنے دیتا نہ ہی اسے اندر آنے دیتے صرف ایک غلطی کی وجہ سے اسکا فیوچر برباد ہو گیا تھا لیکن وہ اپنے اندر بہت ہمت رکھتی تھی کسی کو ظاہر نہیں ہونے دیتی تھی اپنی تکلیف ۔۔۔
★★
” کیا ہمیں ڈاکٹر زویا کی حقیقت بتا دینی چاہئے سر کو ۔۔۔!! بیرونا نے ذرا جھک کر راز داری میں کہا ۔۔
” تم پاگل ہو انھیں پتا چل جائے گا جب ڈاکٹر زویا آپریشن کے ٹائم یہاں نہیں ہونگی اور ویسے بھی سر کو وہ پسند بھی نہیں تو شاید وہ نہ پوچھے ۔۔!! فرہا نے اپنی سوچ ظاہر کی ۔۔
” ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے پر آج نہیں تو کل انھیں پتا چل جائے گا زویا کے لئے بہت افسوس ہوتا ہے اس بیچاری کا خواب تھا ڈاکٹر بننا اور اب وہ یہاں ہو کر بھی جیسے نہیں ہے ۔۔!! دوسری ڈاکٹر نے بھی افسوس سے کہا ۔۔
” کاش وہ پیشنٹ نہ مر تا تو آج زویا کا فیوچر برباد نہ ہوتا ۔۔!! بیرونا نے سر نفی میں ہلا کر کہا ۔۔
★★★
” دوبارہ اگر مر نے کو دل چاہے تو کہیں اکیلے جاکے مر نہ میرے سامنے مر نے کی ضرورت نہیں سمجھی بیوقوف لڑکی ۔۔۔!! آریان کو بہت غصہ آیا اس پاگل پر ۔۔
” ہہ ۔۔ہم جان بوجھ کر تھوڑی مر نے گئے تھے یار وہ لڑکیاں پیچھے تھی آپ ایسا کیوں کہہ رہیں ہے ہمیں آپ نے ہی کہا اکیلی جاؤ آپکی وجہ سے ہوا سب ہم آج مر تے ہوئے بچے ہیں وہ بھی آپ کی وجہ سے ہمیں لگتا ہے آپکے پاس دل ہی نہیں ہے کسی پر رحم بھی نہیں آتا ہے ۔۔!! اروبا کب سے اسکے غصے کو برداشت کرتے ہوئے تھک گئی تھی وہ بھی اسے سناتے ہوئے منہ بنا کر گاڑی سے تیزی سے اتر کر اندر بھاگی کہیں وہ پھر سے کچھ بول نہ دے ۔۔۔۔ آریان تو اسکی تیز چلتی زبان پر حیران ہوا اسے سنا کر بھاگ گئی وہ ضبط کرتا رہ گیا ۔۔
