Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 11)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 11)
Mera Ishq by Mahra Shah
” مجھے لگتا ہے ہمیں اپنے پلین کو انجام دینا چاہیے اب آج عروبہ پر حملہ کیا ہے کل کوئی اور ٹارگٹ ہوگا ۔۔!! آریان اپنے خفیہ جگہ پہنچ کر سب کو بلایا تھا ان لوگوں کو اب اپنے پلین کو آگے بڑھانا تھا ۔۔
” تمہارا دھیان کہاں تھا جب وہ لوگ اسے لے گئے ۔۔ داريان نے غصے میں گھور تے ہوئے کہا ۔۔
” وہ باہر تھی اور میں غصے میں اندر چلا گیا مجھے لگا وہ پیچھے آئے گی لیکن کافی دیر گزرنے تک نہیں آئی تو پتا چلا ۔۔۔!! آریان نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔
” ٹھیک سے نظروں میں رکھا ہوتا تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔!! احد طنزیہ بولا آریان تو بس گھورتے ہی دیکھا ۔۔
” کوئی اننون نمبر ہے ۔۔ایک منٹ اسے ٹریس کرو اور تم اٹینڈ کرو کال ۔۔۔۔!! داريان اچانک کچھ سوچتے ہوئے کہا آریان جلدی سے کال اٹھائی سب الرٹ ہوکے سن نے لگے ۔۔
” اگر اپنی بیوی کی ضمانت چاہتے ہو تو بس ایک چھوٹا سا کام کردو میرا پھر تمہاری بیوی آزاد اور میں بھی ۔۔۔!! شیر خان شیطانی مسکراہٹ سے سیدھا اپنی مطلب کی بات پر آیا ۔۔
” میرے ٹرکز کو باڈر پار کروا دو اسکے اندر جو بھی ہو اسے دیکھنا تم لوگوں کا فرض نہیں اگر بیوی کی زندگی پیاری ہے تو یہ کام تم کر سکتے ہو۔۔۔!! اسنے جس مقصد کیلئے اسے کڈنیپ کیا اور وہ پورا کرنے کے لئے ان لوگوں کو کال کی ۔۔
” تم سمجھتے ہو تم دھمکی دوگے اور میں ڈر جاؤنگا ۔۔ اور تمہارے نہ پاک ارادوں کو کامیاب ہونے دونگا ۔۔!! آریان غصے کی شدت میں غرایا تھا ۔۔
” تم مجھے چیلنج کر رہے ہو لگتا ہے میرے کام سے واقف نہیں تم ابھی تک ۔۔۔تمہیں شاید اپنی بیوی کی زندگی پیاری نہیں ۔۔!! بدلے میں وہ بھی غصے میں دھاڑا ۔۔
” رکو اسے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے میں تمہاری مدد کرونگا بولو کیا چاہتے ہوں۔۔!! داريان کچھ سوچتا پل میں فیصلہ کیا ۔۔وہاں ٹیم کھڑی حیرت سے اسے دیکھا لیکن سب جانتے تھے وہ ایسے ہی کوئی فیصلہ نہیں لیتا آریان تو بس غصے میں دیکھتا ہی رہا ۔۔
” یہ ہوئی نہ بات تم بہت سمجهدار ہو ۔۔ بس تمہارے بیٹے ذرا جذباتی ہیں ۔۔ خیر میرا مقصد جانتے ہو میرے آدمی کو چھوڑو اور میرے ٹرکز کو حفاظت سے باڈر پار کروا دو اسکے بعد تمہاری بہو تمہارے حوالے ۔۔ لیکن اگر کوئی بھی ہوشیاری کی تو انجام اچھے سے جانتے ہوں ۔۔۔!! وہ اپنے ساتھیوں سے بغیر پوچھے اپنے پلین کو انجام دینے لگا ۔۔اور اسی کی یہی بیوقوفی کا فائدہ داريان اٹھانے لگا وہ جانتا تھا یہ پلین کس کا ہو سکتا ہے ۔۔
” ڈیڈ یہ کیا کیا آپنے ۔۔ سر بولو یہ مت بھولو تمہارے آپریشن کا لیڈر میں ہوں ۔۔ آریان کے غصے میں بولنے پر داريان نے سپاٹ لہجے میں اسے چپ کروایا اور احد نے اس بات پر اپنی مسکراہٹ چھپائی ۔۔
” وہ بیوقوف انسان سمجھتا ہے اپنے ساتھی کو دھوکہ دے کر خود مالامال ہو جائیگا ۔۔اور یہی بڑی غلطی ہوگی اسکی وہ سمجھتا ہے اسکے ٹرکز کو ہم اتنے آسانی سے جانے دیںگے تو وہ سہی ہے ہم یہی کرینگے لیکن اسکے اندر کیا ہوگا یہ ہم پلین کرینگے ۔۔۔ اور تم اسکی لوکیشن ڈھونڈ کر وہاں پہنچو عروبہ کو سیولی نکالو وہاں سے ۔۔۔ احد تمہاری ٹیم زید جعفری پر حملہ کریگی اب وقت آگیا ہے اپنے حساب لینے کا ۔۔گوٹ اٹ ۔۔ یس سر ۔۔!! سب ایک آواز ہو کر بند سلام پیش کرتے تیزی سے سیاہ یونیفارم میں چہرے پر کالا ماسک لگاۓ ہوئے تھے اب انکو اپنا مشن پورا کرنا تھا وہ وقت آگیا تھا جس کے لئے وہ لوگ یہاں اتنے عرصے سے کام کر رہے تھے ۔۔
★★★★
ہیر گھر سے واک آؤٹ کرنے باہر آئی ہوئی تھی شام کا خوبصورت موسم ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی وہ آنکھیں موندے گہرا سانس لیتے ہوئے آنکھیں کھولی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے آگے بڑھی کے اچانک سے تیز بارش شروع ہوگئی وہ بوکھلاتی ہوئی وہی رک گئی دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے جیسے خود کو بارش سے بچنے کیلئے کیا لیکن اچانک ایک ہاتھ چھتری تلے آگے بڑھا اسکے اسے بھگوتی بارش کو روک گیا ۔۔۔ہیر حیرانگی سے گردن موڑ پر ساتھ کھڑے کشادہ وجود کو دیکھا ۔۔اب وہ اسکے نزدیک ہوا دونوں ایک چھتری تلے کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہیں تھے ۔۔۔احد بےخودی میں ہاتھ بڑھا کے اسکے چھرے سے کچھ بال پیچھے کیے ۔۔ ہیر کی آنکھیں پل میں نم ہوئی اسے دیکھتے پھر سے وہ لمحے یاد آنے لگے جن سے وہ دن رات بھاگنا چاہتی تھی ۔۔
” مت کرو یہ میں کمزور نہیں پڑنا چاہتی مجھے پھر سے مت ٹورو میرے زخم مت کریدو ۔۔۔!! ہیر غصے غم میں کہتی تیزی سے سائیڈ سے نکلنے لگی تھی کے احد نے اسکے بازؤں سے کھینچ کر مقابل کھڑا کیا اسکی گرفت سخت تھی اسکے بازوں پر وہ نم آنکھوں سے بس اسے دیکھے گئی ۔۔۔
” سیدھی کھڑی رہو بات کرنی ہے مجھے تم سے ۔۔۔ احد سخت لہجے میں کہا ۔۔
” لیکن مجھے آپ سے بات نہیں کرنی چھوڑ کیوں نہیں دیتے پیچھا میرا ۔۔ آپ تو یہی چاہتے تھے میں آپکے پیچھے نہ آؤں تو آج آپ کیوں وہیں غلطی کر رہیں ہے پھر سے ۔۔!! ہیر نے بھی غصے غم میں کہا ۔۔
” چلوں کہیں اچھی جگہ بیٹھ کر سکون سے بات کرتے ہیں ۔۔۔ یہ یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑے ہاتھ ۔۔!! احد ہلکی مسکراہٹ سے کہتا اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر آگے بڑھا ہیر صدمہ سے چلائی ۔۔پر اسے کہاں پروا تھی وہ تو بس اسکے غصے کو انجوائے کر رہا تھا اسنے سوچ لیا تھا بہت رلا لیا اسے اب سارے حساب کتاب پورے کرنے تھے ۔۔ہیر تو اسکے بدلے روپ پر حیران پریشان تھی ۔۔۔
” تمہیں کون سے پھول پسند ہے ۔۔۔؟
“جس میں کانٹے ہوں ۔۔۔!! احد ایک پھول سٹور کے سامنے رک کر خوبصورت پھولوں کو دیکھتے ہوئے ہیر سے پوچھا اسکا ہاتھ ابھی تک مضبوطی سے رکھا تھا دوسرے سے دونوں کے اپر چھتری تانے ہوئے تھا ۔۔ہیر تو غش کھا رہی تھی اسکے بدلتے ہوئے روپ پر ۔۔۔
” سنے مجھے یہ گلاب کے سیاہ پھول دے ۔۔۔ جانتی ہو ہیر میری زندگی بھی اسی سیاہ پھول کی طرح ہے خوشبو دار لیکن سیاہ دار پر ایک کشش ہے اس پھول میں اور اس زندگی میں میرے پاس تم ہو ڈیڈ ایک منحوس بھائی ۔۔!! احد نے گہرا سانس لیتے ہوئے ہلکی مسکراہٹ سے اسے اپنی زندگی کے بارے میں بتایا ۔۔۔ ہیر کو وہ بہت تھکہ پریشان لگا وہ چپ چاپ اس سے پھول لیتی ساتھ چلنے لگی ۔۔۔
★★★★
” آہہہ ۔۔ چھوڑے ہمیں کون ہے آپ لوگ پلیز ڈونٹ ۔۔!! عروبہ جیسے ہوش آئی خود کو انجان جگہ پا کر حیرانگی سے آس پاس دیکھا وہ ایک خالی کمرہ تھا اس روم کے بیچ ہی اسے کرسی سے بندھا گیا تھا وہ خود کو آزاد کرنے کے چکر میں ہلکان ہوتی ہوئی تھک گئی جب دروازہ کھولا ایک لیڈی اندر آئی اسکے ساتھ میں ایک بیگ تھا اسنے بیگ کھول کر اس میں سے ایک انجیکشن نکالا وہ ڈرگ سے بھرا ہوا تھا عروبہ خوف زدہ ہو کر اسے دیکھ رہی تھی جس نے جلدی سے ایک لگایا اسے اسکی تو ویسے بھی انجیکشن سے جان جاتی تھی اور یہ پتا نہیں کس چیز کا لگا رہیں تھے اسے کچھ سمجھ نہیں رہا تھا سر چکرا نے لگا تھا آنکھیں بھاری ہونے لگی تھی ابھی اسے صرف دو ہی ڈوز لگے تھے وہ گنودگی میں جانے لگی تھی کے ایک خوبصورت لڑکی اسکے سامنے آئی ۔۔ وہ خود کو ہوش میں لاتی سامنے کھڑی لڑکی کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
” الیئنا تم ہم ہم کہاں ہے یہ لوگ کون ہے کیا کر رہیں ہے آپ لوگ ہمارے ساتھ ۔۔۔!! عروبہ الیئنا کو دیکھتے ہوئے حیران کن لہجے میں کہا اسکے پیچھے آتے شخص کو دیکھ کر اسکی جان سہی معنی میں نکلی تھی ۔۔۔۔
” ہے سویٹ ہارٹ فائنلی تمہیں ہوش آہی گیا ۔۔۔ ویلکوم ٹو مائے ہوم ۔۔!! شیر خان اسکی اور جھک کر شیطانی مسکراہٹ سے بولا ۔۔عروبہ کا تو سانس ہی خشک ہو گیا تھا ۔۔اسے وحشت ہو رہی تھی ان سے ۔۔۔
” پپ ۔۔پلیز مجھے جانے دے ۔۔ہہ ۔۔ہم نے کیا کیا ہے ۔۔ ہمیں یہاں کیوں باندھا ہے ۔۔۔؟ عروبہ روتے ہوئے خوف زدہ بولی تھی ۔۔
” تم نے ہمارا پلین خراب کیا ہے لیڈی ۔۔۔ تمہیں آریان کے قریب نہیں جانا چاہیے تھا پر افسوس تم یہ غلطی کر بیٹھی اب سزا تو ملے گی نہ ۔۔۔!! الیئنا غصے میں اسکا جبڑا پکڑ تے ہوئے کہا اسکی سخت گرفت نے اسکے نرم سفید گلابی گال پر اسکی انگلیوں کے نشان رہ گئے ۔۔
” نو بےبی یہ اتنی خوبصورت ہے اس کا چہرہ ابھی سے خراب مت کرو پہلے مجھے تو انجوائے کرنے دو اسکے بعد یہ تمہاری جو کرنا چاہو ۔۔۔!! شیر خان كمینگی سے ہنستا ہوا بولا جھک کر اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر نے لگا عروبہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلا نے لگی ۔۔
” لیکن بےبی تم نے جو ڈیل کی ہے ان لوگوں کے ساتھ اسکا کیا ۔۔الیئنا نہ سمجھی سے اسے پوچھا ۔۔ جو مسکراتے ہوئے اسے خود کے قریب کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ عروبہ کی آنکھیں بند ہو رہی تھی دھیرے سے اس پر نشہ اثر کرنے لگا تھا ۔۔
” تمہیں کیا لگتا ہے بےبی میں اتنی آسانی سے انھیں دے دوں گا یہ ان لوگوں کی کمزوری ہے جب تک ساتھ ہے ہر کام خاموشی سے کرتے رہیں گے اور کچھ مجھے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اتنا تو حق بنتا ہے میرا تم جانتی نہیں اسے میں نے کتنا ڈھونڈا تھا اب جاکے ہاتھ لگی ہے لیکن یہاں کچھ نہیں کر سکتا جانتی ہوں نہ وہ لوگ تھوڑا بہت تو اسے یہاں ڈھونڈ نے ضرور آئے گے اس لئے اسے بہت دور لیکے جاؤں گا جہاں کوئی ہمیں ڈسٹرب نہ کریں ۔۔۔!! وہ خباثت بھرے لہجے میں کہتا اپنا پلین بتانے لگا اسے تھوڑی دیر میں یہاں سے نکلنا تھا اپنے فام ہاؤس کے لئے جو شیر سے بہت دور گھنے جنگل سرد بہار کے بیچ تھا وہاں زیادہ تر انڈر ورلڈ کے لوگ اپنی ڈیلی اپنی شیطانی حوس مٹانے جاتے تھے سکون کی تلاش میں خود کو برباد گناہ میں ڈوبونے جاتے تھے ۔۔۔
” بہت کول بےبی ۔۔ لیکن اسے اتنی آسانی سے مت چھوڑ نا اسنے ہمیں بہت زیادہ تنگ کیا ہے یو نو ڈیٹ ۔۔!! دونوں ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے روم سے نکل آئے انھیں اب تیاری کرنی تھی اپنے آگے کے پلین کی ۔۔
★★★★
” سر زید جعفری نے احد کے پیچھے لوگ چھوڑے ہیں وہ کب کیا کرتا ہے کہاں جاتا ہے سب کی خبر رکھ رہا ہے اسے تطہیر کا بھی پتا چل گیا ہے احد آج کل ان سے مل رہا ہے ۔۔۔!! فضل نے اسے پوری رپورٹ پیش کی ۔۔داريان کا بس نہیں لگ رہا تھا وہ زید کو ایک بار میں ختم کردے لیکن وہ خود پے ضبط کیے ہوئے تھا اسے زید سے بہت سے سوالوں کے جواب چائیے تھے ۔۔لیکن اس سے زیادہ اسے اپنے بیٹوں کی لاپرواہی پر غصہ آرہا تھا ۔۔
” کال ملاؤ بلاؤ دونوں کمینوں کو یہاں اسکے بعد پلین کی تیاری کرینگے ۔۔!! داريان غصے میں ٹہلتا یہاں سے وہاں چکر لگانے لگا کچھ دیر میں ہی دونوں حاضر تھے ۔۔سر جھکاۓ ایک دوسرے کو دل میں خوب گالیوں سے نواز رہے تھے ۔۔
” کیا کر رہے ہو تم دونوں اپنی بیویاں تک نہیں سنبھالی نہیں جاتی تم لوگوں سے ۔۔ تمہاری فیملی پر تم پر نظر رکھی جارہی ہے اور تم لوگوں کو پتا تک نہیں چلا ۔۔۔!! داريان شدید غصے میں دھاڑا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کچھ کر دے دونوں کا ۔۔
” ڈیڈ ریلکس آپ کا بی پی شوٹ کر جائے گا ۔۔۔!! آریان مسکراہٹ دبا کر بولا احد کو بھی ہنسی آئی پر کنٹرول کر گیا کیوں کے داريان کی آنکھوں میں شولے برس رہیں تھے اس وقت ۔۔
” تم ذلیل انسان اپنے باپ کو سیکھاؤ گے ریلکس کرنا ۔۔۔ خود کرلیا آرام اب سکون میں ہو اس معصوم بچی کو پھنسا کر ۔۔ پتا نہیں کس حال میں ہوگی کیا جواب دونگا بیراج کو میں ۔۔۔ ہم اسکی بیٹی کی حفاظت نہیں سکے ۔۔!! داريان غصے افسوس میں کہتا تھک ہار کے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
” میں نے اسے یہاں نہیں بلایا تھا وہ خود آئی تھی ۔۔ ایک تو اس بےچین روح کی سکون بھی کہاں تھا بہت بار وارننگ دی تھی اتنا سمجھایا تھا لیکن اسے پھر بھی اپنی مرضی کرنی ہوتی تھی اب دیکھ لیا نتیجہ ۔۔ ہمارا پلین بھی خراب ہو گیا ۔۔۔!! آریان کے لہجے میں بے انتہا غصہ تھا عروبہ کیلئے ۔۔احد داريان خاموشی سے اسے دیکھ رہیں تھے ۔۔۔
” ٹھیک ہے مان لیتے ہیں وہ اپنی حرکتوں سے تمہیں بہت تنگ کرتی ہے ۔۔۔ تو کیا تم اسے بچا نے نہیں جاؤگے اسے سزا دے رہے ہوں ۔۔اگر ایسی بات ہے تو تم نہیں جاؤگے اسے بچا نے میں یا احد جائیں گے اب تم دوسری جگہ جاؤگے اب ۔۔۔!! داريان صوفے سے ٹیک لگا کر سکون سے کہا ۔۔آریان نے ضبط سے مٹھی بھینچلی تھی۔۔۔
” آپ بولیں گے اور میں مان جاؤں گا ۔۔۔!! آریان نے آبرو چکاتے ہوئے طنزیہ کہا ۔۔
” تمہاری یہی ضد مجھے غصہ دلاتی ہے ۔۔۔ اور اسکا یہ خاموشی والا ایٹیٹیوڈ ۔۔ پتا نہیں کس پر چلے گئے ہیں ماں تو معصوم تھی یہ دونوں شیطان نکلے ۔۔۔!! داريان غصے میں بڑبڑاتے ہوئے اٹھ کر جانے لگا کے احد کی بات پر غصے سے اسے گھورا جب کے آریان اپنی مسکراہٹ چھپائی ۔۔
” ڈیڈ آپ اپنے بارے میں کیوں بھول جاتے ہیں یار ۔۔ ہم آپ کے ہی بیٹے ہیں تو آپ پر جائے گے نہ ۔۔اور آپکا غصہ تو ہم دونوں سے بھی خطرناک ہے ۔۔ پتا نہیں میری معصوم ماما نے کیسے گزارا کیا آپ کے ساتھ ۔۔۔!! احد گہرا سانس لیتا ہوا افسوس سے بولا ۔۔۔
” افضل ۔۔!! داريان کی دھاڑ پر افضل تیزی سے اندر آیا ۔۔
” ڈنڈا لاؤ ۔۔ بچپن میں سیدھا کیا ہوتا تو آج انکی زبان اس طرح نہ چلتی ۔۔۔!! داريان کے خطرناک روپ کو دیکھتے ہوئے دونوں بھاگنے کی تیاری کی جانتے تھے یہ باپ ویسا نہیں جو صرف بولتا ہو یا دھمکی دے یہ اپنا کام کرنا جانتا تھا اور یہی موقع تھا دونوں اپنی عزت بچا کر نکلنے کا ۔۔۔
” پتا نہیں میری معصوم کیوٹ موم کیسے آپ جیسے جلاد کے ساتھ رہی ۔۔۔!! آریان بولتا تیزی سے بھاگا احد نے بھی پیچھے دور لگائی ۔۔انکی ان حرکت پر داريان کے چہرے پر اداس مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
★★★★
” تمہیں نہیں لگتا ہم ڈیڈ کو بہت ہرٹ کرنے لگے ہیں ۔۔ وہ پہلے ہی بہت پریشان رہتے ہیں موم کو مس کرتے ہیں ۔۔!! احد باپ کے دکھ کو سمجھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” یہ انکی غلطی ہے وہ جانتے تھے وہ ہمیشہ موم کے ساتھ غلط بیہیو کرتے تھے انھیں ہرٹ کرتے ہیں ۔۔۔میں ڈیڈ سے بہت پیار کرتا ہوں پر انکا غصہ مجھے اور غصہ دلاتا ہے ۔۔۔!! آریان آنکھیں بند کرتے ہوئے کرب سے کہا ۔۔
” عروبہ کی کوئی خبر ملی کہاں رکھا ہے اسے ۔۔؟ احد آریان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا وہ بھی تک آنکھیں بند کیے ہوئے تھا ۔۔عروبہ کے ذکر پر پھر سے اسکا ہنستا کھلاکھلا تا چہرہ لہرایا ۔۔ وہ خود پر کس طرح ضبط کیے بیٹھا تھا یہ صرف وہی جانتا ہے ۔۔
” نہیں وہ اس بار بہت سوچ سمجھ کر کھیل رہا ہے ۔۔پر وہ جانتا نہیں اس نے اس بار بہت غلط جگہ پنگہ لیا ہے ۔۔ایک بار ہاتھ لگ جائے پھر اسکا وہ حال کرونگا اپنی موت کی بھیگ مانگے گا ۔۔۔!! آریان نفرت برے لہجے میں کہا اسکی آنکھوں کی وحشت بتا رہی تھی وہ واقعی اسے بری سزا دیگا ۔۔۔
” ٹھیک ہے تم نکلو میں ہیر کو کسی سیو جگہ پہنچا کر ۔۔زید جعفری پر حملہ کرنے نکلے گے ۔۔بیسٹ آف لاک ۔۔!! احد اسکے کندھے پر ساتھ رکھتے ہوئے دبا کر کہا ۔۔
” کیا ہم فارمل ہو سکتے ہیں ۔۔۔ تو کبھی نہیں سدھرے گا ۔۔۔ہاہاہا ۔۔ڈیڈ پے گیا ہوں ۔۔!! آریان نے بولنے پر احد آنکھیں گماتے ہوئے جل کر کہا آریان ہنستے ہوئے چلا گیا ۔۔وہ گہرا سانس لیتے ہیر کے پاس جانے لگا ۔۔اب اسے بھی سب ٹھیک کرنا تھا ۔۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” ہیر پلیز بات سنو میری سکون سے ۔۔۔!! احد اسے ریسٹورنٹ میں لےکے آیا تھا اب سکون سے بات کرنا چاہتا تھا ایک کونے والی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے ہیر اس بار خاموش رہی ۔۔
” ایک بات بتاٸیں آپ مجھ سے نفرت کرتے تھے پھر یہ ہمدردی یہ محبت سے بات کرنا کیا ہے سب ۔۔آپ کوئی گیم کھیل رہے ہیں میرے ساتھ؟؟ ۔۔!! ہیر نے سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا ۔۔ اسکی آخری بات پر احد کو غصہ تو بہت آیا لیکن خود پر ضبط کرنے لگا ابھی وقت نہیں تھا غصے سے بات کرنے کا ۔۔
” تمہیں لگتا ہے میں تمہارے ساتھ گیم کھیلوں گا” ۔۔۔؟ احد نےسپاٹ لہجے میں کہا ۔۔ہیر نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ایک پل کو دل میں خیال آیا کہہ دے ہاں کچھ بھی کر سکتے ہو پر پتا نہیں کیوں زبان پر لفظ نہیں آئے ۔۔ احد اسے خاموش پا کر اسکے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتے اسے دیکھا ۔۔۔ اسکی حرکت پر ہیر تو جیسے سن رہ گئی دل تیزی سے دھڑک اٹھا ۔۔۔ہاتھ کھینچنے چاہے پر اسکی گرفت مضبوط تھی ۔۔
” ہیر کیا تم مجھے کبھی معاف نہیں کر سکتی پلیز یار ایک موقع دو صرف ایک بار میں اپنی ہر غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔مانتا ہوں میں نے تمہیں بہت بار ہرٹ کیا ہے ۔۔اسکے پیچھے بھی وجہ ہوتی تھی مجھے تمہاری دیوانگی سے ڈر لگنے لگا تھا ہیر تم بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔ تمہیں لگتا تھا محبت صرف تم نے کی ۔۔۔ نہیں ہیر میں نے تم سے عشق کیا ہے یار تم پر غصہ ہونا تمہیں ڈانٹنا تمہارا دل توڑنا صرف تمہیں سمجھانا تھا کیونکہ تم بہت جذباتی ہو رہی تھی تم باغی ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔!! احد آج اپنی دل کی ہر بات اسے کہنا چاہتا تھا ۔۔وہ خاموشی سے سر جھکائے سن رہی تھی کہیں نہ کہیں اسکی باتوں پر شرمندہ ہو رہی تھی وہ سہی تھا ۔۔پاگل تو وہ تھی اسکے پیچھے ۔۔۔
“پپ۔۔پھر نکاح کیوں کیا تھا ۔۔؟؟ ہیر نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ نظریں اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا آنکھیں نمکین پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔
” کہا نا میرا عشق تھی تم کیسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھتا تمہیں ۔۔میں اپنے جذبات کو اچھے سے چھپانا جانتا ہوں ہیر ۔۔میری یہی عادت ڈیڈ کو نہیں پسند ۔۔۔!! وہ بولتے ہوئے آخری بات پر ذرا سا ہنسا تھا اسکی خوبصورت ہنسی میں ہیر تو جیسے کھو گٸ تھی ۔۔وہ تو تھی ہی اسکی دیوانی کیسے نہ اسکی ہر چھوٹی چھوٹی ادا پر مرتی ۔۔
” لیکن میں مانتا ہوں تمہارے ساتھ بہت غلط کر جاتا تھا میں غصے میں پر یار ایک موقع دو پلیز مجھے میری ہیر واپس کردو ۔۔جو میری دیوانی تھی میرا عشق تھی ۔۔۔!! احد نےاسکے ہاتھوں کو ہلکا سا دبا تے ہوئے کہا ہیر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔
” مجھے تھوڑا وقت چائیے حدی آپ نے بہت ہرٹ کیا ہے ۔۔بہت مشکل سے خود کو سنبھالا ہے ۔۔۔!! ہیر نے نظریں جھکا تے ہوئے کہا وہ کتنا بھی کر لے اسکے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتی تھی پر وہ اسے اتنا ہی کمزور کر رہا تھا ۔۔وہ اسے بلارہا ہے خود کے پاس جو وہ ہمیشہ سے چاہتی تھی پر کیوں ڈر لگ رہا تھا اس بار اسے وہ سمجھ نہیں پائی ۔۔۔
” تمہیں اور ایک چیز بتانی ہے ہیر ۔۔۔ تمہیں پتا ہے میری جاب کا اور تم لوگ بھی خطرے میں ہو یار پلیز خود کا خیال رکھو۔ دادی کا خیال رکھو جب تک یہ خطرہ ٹل نہیں جاتا کہیں بھی اکیلی مت نکلو ۔۔۔وہ لوگ ہمیں کمزور کرنے کے لئے ہماری کمزوری کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور میں ڈیڈ ہم سب کوئی نہیں چاہتا ہماری کمزوری انکی نظروں میں آئے پلیز ہیر مجھ پر بھروسہ رکھو میں اب تمہیں توڑنا نہیں چاہتا تمہارے ساتھ بہت خوبصورت زندگی گزارنا چاہتا ہوں ۔۔میں اپنے مشن سے لوٹنے کے بعد عزت سے تمہیں رخصت کرنا چاہتا ہوں ۔۔کیا تم مجھے معاف کرو گی کیا تم اجازت دوگی ۔۔۔؟؟ احد کا خوبصورت سے انداز میں اسے مانگنا، اسے عزت و محبت سے پوچھنا اسے بہت اچھا لگا پر وہ خاموش رہی پتا نہیں کیوں آج اسکے سامنے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا احد اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا جب اسنے نظریں جھکائیں ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ نکلا وہ اسکا جواب سمجھ گیا آگے بڑھ کر بہت پیار سے اسکے آنسو صاف کیئے ۔۔۔
★★★★
” تمہیں کیا لگتا ہے اسے کبھی اپنے دوسرے بیٹے کا پتا نہیں چلے گا تو ساری زندگی اسے اپنا بیٹا بنا کر رکھے گا ۔۔۔؟؟” وہ شخص طنزیہ بولتا زید کے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا تھا ۔۔۔
” اسے میں کبھی بھی جیتنے نہیں دونگا سب کچھ تو چھین لیا تھا میں نےاس سے اسکے دونوں بیٹے اس سے نفرت کرتے ہیں”۔۔۔!! زید غرایا تھا ۔۔
” پر تو جو چاہتا تھا وہ تو کبھی نہ ہوا ۔۔ اسکی بیوی نے کبھی نفرت نہیں کی اس سے اس معاملے میں تو کبھی کامیاب نہیں ہوا” ۔۔!! آج اس شخص نے جیسے ٹھان لی ہو اسے ہر چیز یاد کروانے کی ۔۔
” تو اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔ بھول گیا کس طرح تیرے باپ کو مارا تھا اسنے ۔۔ عفان چودھری میرے ساتھ جو تیری ڈیلز ہیں اسے مت بھول ورنہ تو جانتا نہیں تو صرف ایک بزنس مین ہے لیکن میں ایک مافیيا مین ہوں یاد رکھنا” ۔۔۔!! زید اسے اسکی اوقات اچھے سے یاد دلاتا فون بند کرتے غصے میں ٹہلنے لگا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا ہو رہا ہے اسکے ساتھ اسکے بہت سے کام پولیس آرمی والوں تک کیسے پہنچے اور آریان سے بھی کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہو رہی تھی اور احد وہ یہاں کیسے پہنچا ۔۔ وہ کچھ سوچتا ڈی اے کو کال کرنے لگا ۔۔۔
” بول” ۔۔؟
” مجھے ملنا ہے تجھ سے” ۔۔؟ زید نے سیدھا سوال کیا اسکی بات پر اگلے شخص کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جیسے جانتا تھا ایسا کچھ ہوگا ۔۔۔
” میں انتظار میں تھا تیرے ۔۔ آجا اسی جگہ جہاں تو نے میری زندگی کی خوبصورت ہستیاں مٹائی تھی” ۔۔۔!! ڈی اے سپاٹ لہجے میں کہتا کال بند کرگیا ۔۔زید نےغصے میں فون دیوار پر دے مارا ۔۔
” میں تجھے کبھی جیتنے نہیں دونگا ڈی اے کبھی نہیں” ۔۔۔!!
★★★★
” زویا کیا ہم بات کر سکتے ہیں”۔۔!! حدید نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
” آپ کو مجھ سے نہیں شاید کسی اور سے بات کرنے کی ضرورت ہے” ۔۔۔ “یہ کیا بدتمیزی ہے کہاں لے جا رہے ہیں” ۔۔!! زویا جیسے ہی جانے لگی حدید ضبط سے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑتا اپنے آفس میں لے آیا ۔۔
” بیٹھو بات کرنی ہے سکون سے اور یہ طنز کرنا بند کرو گی” ۔۔؟ حدید کو اب غصہ آنے لگا تھا اسکے طنزیہ روپ کو دیکھ کر ۔۔
” اوکے جلدی بولیں مجھے لیٹ ہو رہا ہے پیشنٹ انتظار کر رہیں ہیں” ۔۔!! زویا نے نظریں چراتے ہوئے بیزاری سے کہا ۔۔
” یہ ناراضگی کس بات پر ہے وجہ جان سکتا ہوں جب کہ ناراض مجھے ہونا چاہئے تھا”۔۔۔!! حدید کی بات پر اسنے چونک کر دیکھا اسے ۔۔۔
” آپ کس بات پر ناراض ہونے لگے دھوکہ تو آپ نے دیا مجھے ۔۔۔ اس دن آپ نے کہا آپ مجھے ساتھ لے کے جائیں گے لیکن میرے آنے سے پہلے ہی فرہا کے ساتھ چلے گئے ۔۔۔اگر اسی کے ساتھ جانا تھا تو پہلے کہ دیتے میں انتظار نہ کرتی” ۔۔۔!! زویا تو جیسے غصے میں پھٹ پڑھی تھی ۔۔حدیدنے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔
” پر میں تو تمہارا انتظار کر رہا تھا تم نے ہی فرہا کو کہا تم بزی ہو نہیں چلوگی وہ جائے گی ساتھ میرے ۔۔ اور اس وقت مجھے کتنا غصہ آیا جانتی ہو” ۔۔۔!! حدید نے افسوس سے بولتے ہوئے اسے دیکھا جو حیرانگی سے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
” ایک منٹ تو یہ سب فرہا نے جان بوجھ کر کیا ہمارے بیچ غلط فہمی ڈال دی ۔۔افف اور میں اتنے دن غصے میں پتا نہیں کیا کرتی رہی سو ۔۔۔سوری ۔۔!! زویانے ساری بات سنی اسے اب سمجھ آئی اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا فرہا کا بار بار حدید کے پاس جانا اب سمجھ آئی اسے وہ بولتے ہوئے چپ ہوئی پھر شرمندگی سے سوری کہا ۔۔۔حدید کو اسکی یہ ادا بہت پیاری لگی ۔۔۔
” اتنی جلدی معاف کردوں” ۔۔۔؟ حدیدنے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا وہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگی ۔۔
” مم ۔۔مطلب کیسے” ۔۔؟
” ایک ڈینر سے” ۔۔!! حدید نے مسکراتے ہوئے کہا
“اوکے” !
زویا نے مسکرا کر ہاں کہا ۔۔۔
★★★★
وہ لوگ اس وقت شہر کے بیچ و بیچ کلب میں تھے جہاں ہر طرف مدہوشی کے عالم میں ہر کوئی اپنے گناہ میں ڈوبے ہوئے تھے اور وہ سب سیاہ یونیفارم میں ملبوس تھے چہرہ سیاہ ماسک سے چھپایا ہوا تھا ہاتھوں میں گن تھامے دھیرے دھیرے سے آگے بڑھ رہے تھے وہ لوگ پانچ تھے باقی کی ٹیم نے باہر سے سب کو گھیر کر رکھا تھا وہ لوگ چلتے ہوئے نیچے تھے کھانے کی طرف بڑھے کچھ لوگ بعد میں اندر آتے ہی کلب خالی کروانے لگے تھے انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر پلین کیا تھا اور آج اسے انجام دینے آئے تھے ۔۔اندر سیکرٹ روم سے کچھ تیز آواز آرہی تھی جیسے انکے بیچ کوئی لڑائی بحث ہو رہی تھی ۔۔۔احد نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے وہاں کھڑے اس گارڈ پر حملہ کیا ایک ہی پل میں اسے بےہوش کرکے نیچے گرا دیا اور تھوڑا قریب ہو کر انکی آواز سننے لگا اپنے ساتھیوں کو اشارے سے رکنے کو کہا ۔۔۔
” تو نے مجھے دھوکہ دیا ہے ۔۔اپنے ہی بیٹے کے ساتھ مل کر میری پیٹھ پیچھے اکیلے سارا مال ہڑپنا چاہتے تھے” ۔۔۔!! وہ شخص ڈھاڑا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا سب کچھ ختم کر دے جن کے ساتھ مل کر وہ اپنا کروڑوں کا نقصان کر چکا تھا اسکا بیٹا سب کچھ لےکے اکیلے بھاگ گیا ۔۔۔
” مجھے خود نہیں پتا وہ بیوقوف یہ سب کرنے والا ہے ورنہ میں اسے ضرور روکتا ۔۔ایک تو اسنے ڈی اے کے ساتھ پنگا لے لیا ہے اسکا کچھ سوچو وہ خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے ۔۔ ویسے بھی وہ میرے پیچھے زخمی شیر کی طرح پڑا ہے” ۔۔۔!! رشید کو اب اپنی جان کی فکر ہونے لگی تھی ۔۔۔
” آہہ !!! میں تیرے بیٹے کو جان سے ماردونگا اگر اسنے میرے ساتھ غداری کی تو”۔۔۔!! زید کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ پڑھ گیا تھا ۔۔۔
” زید جعفری تمہارے جیسے انسان کے منہ سے غداری لفظ کچھ اچھا نہیں لگا مجھے” ۔۔۔!! ایک بھاری گهمبیر آواز اسے پیچھے سے سنائی دی وہ جھٹکے سے مڑا باقی تین لوگ جو ساتھ تھے وہ بھی سفید چہرے لیے سامنے کھڑے سیاہ یونیفارم میں شخص کو دیکھ کر سب کی سانسیں رک گئی ۔۔
” تت ۔۔تم تم اندر کیسے آئے گارڈز” !!! رشید کو لگا آج اسکی موت اسکے سامنے کھڑی ہے ۔۔چلا کر وہ اپنے آدمیوں کو بلانے لگے ۔۔ اسکے بلانے پر سیاہ یونیفارم میں کچھ لوگ تیزی سے اندر آئے ۔۔
” تو تمہیں پتا چل ہی گیا ۔۔ اچھی غداری کی ہے تم نے ہمارے ساتھ ۔۔ تم کیا سمجھتے ہو مجھے پکڑ کر سب کچھ ختم کردو گے افسوس تمہاری سوچ ڈی اے” ۔۔!! ایک پل کو زید اسے دیکھ کر گھبرا گیا پر دوسرے ہی پل وہ اپنے شیطانی روپ میں آگیا تھا مسکرا کر طنزیہ بولتا اسکا ضبط آزما رہا تھا ۔۔۔
” تم جتنا بھی اپنے کالے دھندوں کو چھپا لوں ایک دن ضرور آتا ہے انصاف کا یاد رکھنا ۔۔ میں پورے انڈر ورلڈ کو ختم تو نہیں کر سکتا لیکن کچھ برے لوگوں کو انکی اصلی جگہ تو پہنچا سکتا ہوں ۔۔اور یادرہے سارے برے لوگ انڈر ورلڈ میں نہیں ہوتے کچھ برے ہو کر بھی اچھے کام کرتے ہیں مجھے ہی دیکھ لو اور کچھ تم جیسے شیطان لوگ جنکو لگتا ہے انکا کبھی برا وقت آئے گا ہی نہیں” ۔۔!! ڈی اے اسے دیکھتا اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسے آئینہ دکھاگیا پر کہتے ہیں نہ جو برائی کو اپنے اندر سما لے وہ کھبی اچھائی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتا ۔۔
” ٹیم زید اور رشید کو میرے سیکرٹ بیری جہاز میں بیٹھانا میرا پرانا حساب رہتا ہے ابھی انکے ساتھ ۔۔ شکریہ حازق خان تم نے بہت مدد کی ہماری وی پراوڈ اوف یو” ۔۔!! ڈی اے چلتا ہوا اسکے سامنے آیا جو انکے ساتھ تھوڑی دیر پہلے بھیس بدل کر انکا آمدی بنا بیٹھا تھا اصل میں وہ انکی ٹیم کا حصہ تھا وہ سب اسے غصے اورنفرت سے دیکھ رہے تھے جو انکی قید میں تھے ۔۔۔
” ویسے تو بہت مشکل تھا ہمارے لئے لیکن تم جانتے ہو ڈی اے کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں “۔۔۔!! ڈی اے نے مسکراتے ہوئے زید کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا جو غصے ونفرت سے سرخ پا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” اگر ڈی اے کے لئے مشکل نہیں تو وہ کیوں اپنی بیوی کو بچا نہیں پایا کیوں اپنے بچوں کو بچا نہیں پایا تب کہاں گیا ڈی اے اسکی طاقت ہاہاہا دیکھ لوں گا۔ میرا بیٹا تجھےاور تیرے بیٹے کو نہیں چھوڑے گا زندہ دیکھ لینا تو ایک بار پھر سے ہارے گا” ۔۔۔!!! رشید اپنی موت کو دیکھ کر نفرت سے بولے گیا ڈی اےنے غصے سے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر پہ در پے پنچ مارے احد کب سے خاموش کھڑا سب تماشا دیکھ رہا تھا جب اسے لگا ڈی اے اب نہیں رکے گا آگے بڑھ کر اسے پیچھے کیا ٹیم کو اشارہ دیا باہر لے جاؤ سب کو زید ابھی تک احد کو نہیں دیکھ پایا اسکا چہرہ ماسک میں چھپا ہوا تھا ۔۔۔
” ڈیڈ آپ ٹھیک ہیں”۔۔؟؟ احد آگے بڑھ کر اسکے گلے لگ گیا اسے داريان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا وہ جانتا تھا داريان نے اسکی ماں کو بچانے کیلئے بہت کچھ کیا تھا وہ ان سب کو بچا رہا تھا پر وہ ہار گیا تھا اسنے سختی سے احد کے گرد اپنا حصار مضبوط کیا ۔ ضبط سے آنکھیں جلنے لگی تھی ۔۔
★★★★
” داريان میری بیٹی کہاں ہے؟ کب سے کال کر رہا ہوں عروبہ سے کچھ دنوں سے بات نہیں ہوئی نہ ہی اسنے اپنا فون لیا کیا ہو رہا ہے وہاں؟ میری بیٹی ٹھیک تو ہے”۔۔؟؟ بیراج نے پریشانی سے داريان کو کال کر کے پوچھا وہ عروبہ سے کچھ دن سے بات نہ ہونے پر بہت پریشان ہو گیا تھا دافیا نے تو رو رو کر برا حال کر دیا تھا خود کا ۔۔
” وہ ٹھیک ہے آریان کے ساتھ ہے تم پریشان مت ہو میں اسے کہوں گا تمہاری بات کرواۓ لیکن ابھی ہمارا خود اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا کیوں کے وہ لوگ برفیلے علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں تم بےفکر رہو آریان ساتھ ہے اسکے وہ اسے کچھ نہیں ہونے دیگا اتنا تمہیں میرے بیٹے پر یقین ہونا چاہئے” ۔۔۔!! داريان اسے تسلی دیتے ہوئے کہا وہ لوگ خود پریشان تھے آریان عروبہ کو بچا نے کے لئے نکلا تھا جب کہ احداور داريان نے اپنا مشن پورا کردیا تھا بس آریان کہیں دور ہو گیا تھا ان سے ۔۔
” ڈیڈ زید جعفری کا کیا کرنا ہے”۔۔؟؟ احد نے اسکے پاس آتے ہوئے کہا پر داريان کو فون پر پریشانی میں بات کرتے ہوئے سمجھ گیا کون ہے وہ ۔۔۔داريان نے کچھ باتوں کے بعد غصے میں فون پر گرفت سخت کرتے ہوئے آنکھیں بند کرلی ۔۔
” ہمیں پاکستان کے لئے نکلنا ہے وہیں زید سے اپنے ہر سوال کا جواب لونگا” ۔۔۔!! داريان نے تھکے ہوئے انداز میں کہا ۔۔
” پر ڈیڈ آريان اور بیراج انکل بھی تو عروبہ کے لئے پریشان ہو رہے ہیں ہمیں انھیں ڈھونڈنا ہوگا” ۔۔!! احد نے پریشانی کے عالم میں سوچتے ہوئے کہا ۔۔
” وہ بچہ نہیں ہے جانتا ہے کیسے کرنا ہے وہ خود اسے پاکستان لے آئیگا ابھی ہمیں نکلنا ہے تم ہیر کو لے آنا ساتھ میں ٹیم کے ساتھ باقی سب کو لیکے نکلتا ہوں اور حدید کو بولدینا وہ زویا کو لیکے آئیگا اب یہاں ہم سب کے لئے خطرہ ہے انڈر ورلڈ کے لوگ پیچھے لگے ہوئے ہیں اور ہمیں اپنی فیملی کی حفاظت کرنی ہے اوکے “۔۔؟؟ داريان سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھ گیا کے احد کی بات نے اسکے قدم رک دے ۔۔
” آپ زید جعفری سے موم کے بارے میں پوچھیں گے” ۔۔۔؟؟ احد نےدکھ سے داريان کی پشت دیکھتے ہوئے کہا ۔۔داريان تیزی سے آگے بڑھ گیا وہ اب کمزور نہیں پڑھنا چاہتا تھا بہت دکھ دیکھ چکا تھا وہ اب ہمت نہیں رہی تھی کچھ بھی کھونے سہنے کی ۔۔۔
