Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 02)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 02)
Mera Ishq by Mahra Shah
” ہے کیا تم ہمارے ساتھ چلو گی ۔۔۔!! اسکی روم میٹ نے اسے آفر کی ۔۔
” پر کہاں ایکچولی مجھے یہاں کی جگہٹ کا زیادہ نہیں پتا ۔۔!! وہ لوگ آپس میں انگلش میں ہی بات کر رہیں تھی ۔۔
” ہے سویٹ ہارٹ ہم ہے نہ تمہارے ساتھ چلو آج رات فل انجوائے کریں گے کم اون بےبی ۔۔!! وہ دو لڑکیاں شیطانی مسکراہٹ آپس میں پاس کرتے ہوئے اروبا کی طرف دیکھا جو سوچ رہی جاؤ یا نہیں اروبا دیکھنے میں بےانتہا معصوم تھی اسی معصومیت کا وہ لڑکیاں فائدہ اٹھانا چاہتی تھی ۔۔
” اوکے فرینڈز ۔۔۔ یس چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ ہمیں نکلنا ہے ۔۔!! اروبا مسکراتے ہوئے دوستی کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا ان لڑکیوں نے بھی خوشی سے تھام لیا ۔۔
” جانے سے پہلے ماما سے بات کر لیتی ہوں صبح سے بات بھی نہیں ہوئی افف ۔۔!! اروبا نے سوچتے ہوئے جلدی سے بیگ اٹھایا اور موبائل نکالنے لگی ۔۔
” یہ کس کا فون ہے اوہ مائے گوڈ کہیں ہمارا موبائل فون چینج تو نہیں ہو گیا افف یا اللّه اب ہم کہاں سے لائیں گے وہ شخص پتا نہیں کون تھا کہاں سے آیا کہاں گیا ہمارا موبائل فون کیسے ملے گا ماما بابا تو پریشان ہو جاۓ گیں۔۔!! اروبا اپنے موبائل فون کی جگہ دوسرا موبائل فون دیکھتے ہوئے پریشانی سے چکر کاٹنے لگی کیسے وہ اپنا موبائل لے اور یہ واپس کر دے ۔۔۔
” آئیڈیا ہم ویسے بھی باہر جا رہیں ہے کیا پتا ہماری ملاقات ہو جاۓ یق نہیں بھی افف یار اوکے ارو تھنک پوزیٹو ۔۔!! اروبا خود کو ہمت دیتے ہوئے تیار ہونے چلی گئی پیچھے اس موبائل فون پر کسی انجان نمبر سے کال آنے لگی تھی ۔۔
★★★★
” کہاں جانے کی تیاری ہو رہی ہے ۔۔۔!! حدید فلیٹ میں اسکے ساتھ رہنے لگا تھا اسکو جلدی میں تیار ہوتے دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔
” ایک بہت ہی امپورٹنٹ کام کے لئے جا رہا ہوں یا پھر یہ سمجھو اپنے مقصد کی پہلی کامیابی کی سیڑھی چڑھنے والا ہوں آج ۔۔۔!! وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
” بیسٹ آف لک امید ہے کامیاب ہو کر ہی رہو گے اور ہاں کب سے کال کر رہا تھا تمہیں اٹھا کیوں نہیں رہا تو ۔۔!! حدید اسکے گلے لگتے ہوئے مسکرا کر دعا دی ۔۔
” میرے پاس کوئی کال نہیں آئی فون تو میرے پاس ہے ۔۔!! آریان نے کہا اور جیب سے فون نکال کر دیکھا تو ایک پل کو حیرت ہوئی اسے اپنے فون کو نا پا کر پھر اسے یاد آیا اس لڑکی سے ٹکراؤ کا اس پل کو یاد کرتے ہوئے اس لڑکی کا چہرہ اسکے سامنے لہرایا تھا وہ جلدی سے اپنی سوچ کو جھٹک کر آگے بڑھ گیا ۔۔
★★★★
” تو تم جا رہے ہو اس جگہ جس جگہ سے تمہاری ماں کو نفرت تھی اور تم اسی راستے پر چلنے والے ہو ۔۔ داريان نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے افسوس سے کہا ۔۔
” یہ بات آپ کہہ رہیں ہے جو خود اسی راستے کے مالک ہیں میری ماں کو کس چیز سے نفرت تھی یہ بات میں بہت اچھے سے جانتا ہوں آپ میرے راستے میں آنا چھوڑ دے جب جانتے ہیں میں نہیں رکوں گا پھر کیوں آئیں ہے روکنے ۔۔۔!! آریان غصے میں ضبط کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” تمیز سے بات کرو باپ ہوں تمہارا بہت کرلی برداشت تمہاری بدتمیزی میں چاہوں تو تمہیں روک سکتا ہوں لیکن تمہیں بہت شوق ہے نہ اسی راستے پر چلنے کا اسی جگہ جانے کا جس سے تمہارے باپ تمہاری ماں کی بری یادیں وابستہ ہیں تو جاؤ نہیں روکوں گا دیکھ لو ایک بار تم بھی وہ جگہ کرلو پورا شوق پر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا وہاں جاؤ تو فل تیاری سے جاؤ اتنا مضبوط بناؤ خود کو کہ کوئی توڑ نہ سکے تمہیں کبھی بھی اور اپنی کمزوری نہیں بنانا اور اگر بن جاۓ تو اسے اپنی طاقت بنا لینا ورنہ بہت پچھتاؤ گے تم میرے لئے کیا ہو یہ میں اور میرا رب جانتا ہے اپنا خیال رکھنا اور ایک بات کبھی خود کو تنہا مت سمجھنا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں اور رہوں گا تم مانو یا نہیں مجھے فرق نہیں پڑھتا ۔۔۔!! داريان غصے میں کہتا پھر آرام سخت لہجے سے اسے سمجھاتا آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر پیار سے بوسہ دیتا اسکے گلے لگا گیا آریان چاہ کر بھی اسے دور نہیں کر پایا داريان ہمیشہ ایسے ہی اس سے ملتا تھا وہ کبھی خود گلے نہیں لگتا تھا باپ کے ہمیشہ داريان ہی اسے اپنے ہونے کا احساس دلاتا تھا شاید ایک دن اسے احساس ہو اسکا کوئی اپنا ہے آریان اپنے دل کو مضبوط کرتا اس سے دور ہوا تیزی سے نکل گیا داريان نم آنکھوں سے اسکی پشت دیکھتا رہا ۔۔۔
” السلام علیکم انکل داريان ۔۔!! حدید کی گمبھیر آواز سے وہ ہوش میں آیا اسے دیکھتا ہلکی مسکراہٹ پاس کرتا اسے ملا ۔۔
” وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا احمد نے بتایا تم آئے ہو ۔۔۔!! داريان خود کو سنبھالتا حدید سے پیار سے ملا وہ آج آریان سے ملنے اسکے فلیٹ پر آیا تھا ہمیشہ وہی تو آتا تھا اس سے ملنے لیکن اسکا دل شاید پتھر کا ہو گیا تھا جس میں باپ کے لئے محبت نام کی چیز ہی ختم ہوگئی تھی ۔۔
” جی ڈیڈ سے بات ہوئی آپکی چلے آئے اندر چل کر بات کرتے ہیں ۔۔۔!! حدید کہتا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھا تھا کے داريان کی آواز پر رک کر حیرت سے سامنے والے فلیٹ کو دیکھا جہاں داريان بیل بجا رہا تھا ۔۔
” آؤ تمہیں اپنی بیٹی سے ملواتا ہوں یہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔ آپکی بیٹی یہاں ۔۔۔!! حدید نہ سمجھی سے بولا تھا داريان اسکی حیرت دیکھتا مسکرایا اور اندر چلنے کا اشارہ کیا ۔۔
” بڑے بابا آپ ۔۔ میں نے آپکو بہت مس کیا آپ کل کیوں نہیں آئے ۔۔!! زویا خوشی سے داريان سے ملتے ہی شکایات کرنے لگی داريان مسکراتے ہوئے اسے سر پر پیار سے بوسہ دیتا اندر چلنے کو کہا ۔۔
” اندر آنے دوگی ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔ ہاہاہا بڑے بابا آپ بھی نہ آئے آپکا ہی گھر ہے ۔۔۔ آؤ بیٹا حدید ۔۔!! داريان حدید کو بولتا اندر چلا گیا پیچھے حدید جو کب سے زویا کو حیرت سے دیکھ رہا تھا جی کہتا اندر آیا زویا نے بھی حیرت سے اسے یہاں دیکھا پھر داريان کی طرف اسے بتانے کا اشارہ کیا ۔۔
★★★★
” کیا ہوا زویا آپ اندر کیوں لائی ہوں باہر حدید ہمارے انتظار میں بیٹھا کیا سوچ رہا ہوگا ۔۔!! داريان حیران ہوا زویا کے رویے سے ۔۔
” یہ آپ کس کو ساتھ لائیں ہیں یہ کون ہے کیا آپ جانتے ہیں اور آپ جانتے ہیں یہ کون ہے انہوں نے آتے ہی مجھے بلیک لسٹ میں ڈال دیا ہے ۔۔!! زویا نے باہر کی طرف گھورتے ہوئے داريان سے کہا تھا ۔۔
” تم کیا کہہ رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تمہاری ملاقات ہوچکی ہے کیا ۔۔۔!! داريان نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
” افف بڑے بابا آپکو نہیں پتا یہ وہی ڈاکٹر ہے جو پاکستان سے آئے ہیں ہمارے ہوسپٹل میں اور آتے ہی مجھے بدتمیز کہا اور پتا ہے سیدھے منہ بات نہیں کرتے خود کو کو ہیرو سمجھتے ہیں اور آپ انھیں یہاں لیکے آئے ہے کیوں آپ جانتے ہیں ۔۔!! زویا نون اسٹوپ بولتے ہوئے داريان کی طرف دیکھا ۔۔
” یہ ڈاکٹر حدید احمد ہے میرے دوست کا بیٹا اور آریان کا دوست اسی کے ساتھ سامنے والے فلیٹ میں رہتا ہے تمہارے اسکے بیچ جو ہوا اسے بھول جاؤ میں بات کروں گا تم اسکی عزت کرو وہ بڑا ہے تم سے اب کوئی لڑائی نہیں جاؤ دو کپ اچھی سی چائے بنا کر آؤ مجھے ضروری بات کرنی ہے اس سے اوکے ۔۔!! داريان اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا زویا ہاں میں سر ہلا کر کیچن میں گئی ۔۔
” ایک اور دشمن پڑوسی ۔۔! وہ بڑبڑائی
★★★★
” لنڈن کے شہر میں رات کے دس بجے تھے پورا شہر روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا اس وقت وہ کلب اندر مستی خوش گوار ماحول رنگ برنگی لائٹس کچھ لوگ اپنے جوش خروش میں ڈوبے ہوئے ڈانس فلور پر تیز میوزک ناچتے ہوئے کچھ سائیڈ پر بیٹھے اپنی ڈیل میں لگے ہوئے بڑے گینگ کے لوگ ہر ماحول مستی جوش میں تھا اروبا کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی اسے عادت نہیں تھی ایسی جگہ ایسے ماحول کی وہ آ تو گئی تھی پر اپنے فیصلے پر پچھتا رہی تھی دل ہی دل میں ریڈ جینس بلیک سٹائلش شرٹ اوپر سکن رنگ کا لونگ کوٹ کھلے سلكی بال کمر سے تھوڑے اوپر آگے سے ماتھے پر کٹے ہوئے بال اسکی آنکھیں تک بڑی بڑی کالی آنکھیں ہلکا سا میک اپ وہ بے حد حسین دلکش لگ رہی تھی وہ اپنے خوبصورت حسن سے لا پروا وہاں کے ماحول کو نا گواری سے دیکھ رہی تھی اسکے پاس اپنا فون بھی نہیں تھا وہ بور ہوتے ہوئے ایک ہی جگہ سائیڈ پر بیٹھی تھی وہ لڑکیاں تو پتا نہیں کہا غائب ہوگئی تھی اسے یہاں چھوڑ کر اسکا ارادہ اب واپس جانے کا تھا یہی سوچ کر وہ اٹھی آگے بڑھی تھی کے وہ لڑکیاں سامنے آگئی کچھ لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ ۔۔
” ہے سویٹ ہارٹ میٹ مائے فرینڈز اینڈ شی مائے نیو روم میٹ فرینڈ ۔۔۔ ہہ ہاۓ ۔۔۔ ہیلو بیوٹیفل لیڈی کم ان ڈانس وتھ می ۔۔۔!! وہ لڑکے لڑکیاں اسکے ساتھ مل کر ہنستے ہوئے باتیں کرتی اسے تنگ کرنے لگے لڑکے تو بار بار قریب آنے کی کر رہے تھے اروبا ان سے گھبراتے ہوئے پیچھے ہوتی وہ اتنے ہی قریب آنے لگے ایک نے تو ہاتھ پکڑ کر اسے ڈانس کی آفر کرتے ہوئے کھینچتے ہوئے ڈانس فلور پر لے جانے لگا تھا ۔۔
” نن ۔۔نو آئے ڈونٹ لائک دس ڈانس پلیز لیو می الون ۔۔!! اروبا اپنے دھڑکتے ہوئے تیز رفتار سے دل کو مضبوط کرتے اپنا ہاتھ چھوڑوانے لگی وہ لڑکا بھی ڈھیٹ تھا اسے گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا اس کلب میں بہت رش تھا سب ایک دوسرے سے جیسے ٹكرا تے ہوئے جا رہے ہو اچانک وہ سامنے وجود سے ٹكراتی آگے بڑھی وہ دیکھ نہیں پائی مقابل کو لیکن اس شخص نے اسے دیکھ لیا تھا ۔۔
” کم ان بےبی لیٹس انجوائے دی پارٹی ۔۔۔ نو آئے ڈونٹ لائک دس ناؤ پلیز لیو ۔۔ یا اللّه پلیز ہمیں بچا لے ہم کھبثی اسی جگہ نہیں آئے گیں ۔۔۔!! . وہ لڑکا اسے قریب کرتے ہوئے کمر چھونے کی کوشش کرنے لگا تھا وہ اسے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہونے لگی تھی اسے اب گھبراہٹ میں رونا آنے لگا تھا وہ بہت ڈر گئی تھی ایسے جگہ ماحول سے دیکھا سنا بہت تھا لیکن پہلی بار اسی جگہ آنا اور ایسے شرم ناک ماحول میں اسے شرمندگی ہونے لگی تھی ۔۔
” آہہہ ۔۔۔ یوو بچ ۔۔۔!! اروبا نے پوری جان لگا کر اس لڑکے کو دھکہ دیا جسے وہ پیچھے گرتا ٹیبل سے لگا وہ غصے میں گالی دیتا اسکے پیچھے بھاگا اروبا موقع پاتے رش والی جگہ جاکے چھپ گئی وہ اپنے انہی دوستوں کو میسج کرتا اسے ڈھونڈنے لگا تھا بدلہ تو لینا تھا اسے ۔۔
★★★
” ویلکم مائے ینگ بوائے سو فائنلی گائیز ڈی اے کا بیٹا ہماری گینگ میں شامل ہونے والا ہے ناؤ کم ۔۔!! زید اسکا تعاروف کرواتے ہوئے سب سے ملوانے لگا تھا کچھ لوگوں کی نظروں میں نفرت تھی تو کچھ کی حسد تو وہی کچھ کی نئی دوستی میں لالچ آریان خان اپنی پوری پرسنلیٹی خوبصورت وجاہت سے وہاں کے لوگوں اور آس پاس کی لڑکیوں کو اپنا دیوانہ بنا رہا تھا وہ فل بلیک جینس شرٹ لونگ لیڈر جیکٹ میں تھا گورا رنگ بے حد خوبصورت نمایا ہو رہا تھا ۔۔
” تم بلکل ڈی اے کی کاپی ہو اسکی طرح خوبصورت آنکھوں میں وہی دہشت سنجیدہ روب تم جیسے نوجوان نسل ہمارے لئے بہت احزاز کی بات ہے تم جیسے نوجوان کھلاڑی بہت اچھے سے اپنا کام کرتے ہیں ویلکم ٹو مافیا گینگ ۔۔۔!! ان میں سے کافی پر جوش خوش گواری سے اسکا استقبال کر رہیں تھے ڈی اے کے نام سے اسے بہت عزت مل رہی تھی جیسے زید بہت مشکل سے ضبط کر رہا تھا لایا وہ تھا اسے اور واہ واہ ڈی اے کی ہو رہی تھی ۔۔۔
” تم پی نہیں رہے ۔۔۔ میں پیتا نہیں ۔۔۔۔ ہاہاہا اپنے باپ پر گئے ہو ۔۔۔ کیا یہاں میری ہر بات پر میرے باپ کا ذکر ہونا ضروری ہے ۔۔۔!! وہ ان سب کے سوالوں سے بیزار ہوتا ناگواری سے کہا اسکا موڈ خراب ہوتا دیکھ کر زید نے بات بدلی تھی ۔۔ سگریٹ سلگاتا وہ ان سب کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” سویت ہارٹ کہاں تھی تم ہم تمہیں ہی ڈھونڈ رہیں تھے ۔۔ اروبا خوف سے گھبراتے ہوئے سیکرٹ روم سے تیزی سے نکل کر آگے بڑھی تھی کے ان لڑکیوں نے اسے روک دیا وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بار بار پیچھے دیکھ رہی تھی ۔۔
” ہہ ۔۔ہمیں گھر جانا ہے پلیز چلو یہاں سے یہ اچھی جگہ نہیں ہے پلیز لیٹس گو ۔۔۔ اوکے ریلکس بےبی یہ لو یہ پیو آرام سے ۔۔۔!! اروبا خود کو رونے سے روکتے ہوئے ان لڑکیوں سے منت کر رہی تھی وہ لڑکیاں اسکی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اسے مشروب پلا نے لگی زبردستی ۔۔۔
” آہ یہ کڑوا ہے عجیب ہے ۔۔۔ یس بےبی یہاں پر ایسا ہی جوس ملتا ہے کم اون پی لو جلدی پھر ہمیں نکلنہ ہے اوکے ۔۔۔!! اروبا واپس انکے ساتھ جانے کی وجہ سے جلدی میں منہ خراب کرتے ہوئے پی لیا وہ لڑکیاں ایک دوسرے کو آنکھ مار کر اشارہ کرتے ہوئے اسے لیکے آگے بڑھی تھی کے وہ لڑکے پھر سے آگے اروبا گھبراتے ہوئے پیچھے ہوئی اسکا سر چکرا نے لگا تھا اب ۔۔
” یہ سب کیا ہے تم لوگوں نے ہمیں دھوکہ دیا پلیز ہمارے ساتھ ایسا مت کریں ہمیں جانے دے ۔۔۔!! اروبا کو آج اپنی قسمت پر بہت رونا آرہا تھا اندر وہ باتیں وہ لوگ کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اسکا سر چکرا نے لگا تھا اب وہ انھیں دھکہ دیتی بیچ میں سے نکل کر باہر بھاگی پیچھے وہ لوگ بھی بھاگے اسکے ۔۔
” آآہہہ ماما ۔۔۔ اب کہا جاؤں گی بچ کر بےبی ہمارا سکون برباد کر کے کہاں بھاگ رہی تھی تم یو واٹ دا ہیل ۔۔۔!! اروبا اپنے چکرا تے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر بھاگ رہی تھی کے اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا وہ نیچے گری تھی کے وہ لوگ بھی اس تک پہنچ گئے ان میں سے ایک لڑکا آگے بڑھ کر اسے اٹھا کر کھڑا کرتے ہوئے شیطانی مسکراہٹ سے بولا تھا کے اروبا کو وہ میٹ ہونے لگی اس لڑکے کی شرٹ خراب ہوئی وہ غصے میں گالی دیتا پیچھے ہوا اور دوسرا لڑکا غصے میں آگے بڑھ کر اسکا بازو پکڑا اروبا سے تو کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا وہ پوری طرح نشے میں ڈوب رہی تھی ۔۔
” پپ ۔۔ پلیز ۔۔ہہ ۔۔ہیلپ مم ۔۔می ۔۔۔۔ہئے ہو آر یو ۔۔۔؟ وہ لڑکے اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جا رہا تھے کے اچانک سامنے سیاہ ڈریس والا آدمی انکے سامنے کھڑا ہوا اروبا آدھے ہوش میں اسے مدد کے لئے پکار رہی تھی وہ اپنی آنکھوں میں دہشت لئے انھیں غصے میں گھور رہا تھا ۔۔
” شی از مائن ناؤ لیو دا ہینڈ ۔۔۔ آآہہہ یو۔۔۔!! وہ لڑکے ڈھیٹ بن کر آگے بڑھ رہیں تھے کے اسکے ایک مکے نے اس لڑکے کی ناک توڑ دی وہ دوسرے پر حملہ کرتا کے وہ ڈر سے بھاگ گیا دوسرا لڑکا ناک پر ہاتھ کر دھمکی دیتا بھاگ گیا اروبا اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دیکھ رہی تھی کے وہ پھر سے گر تی مقابل نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ۔۔
” آر یو اوکے ۔۔۔ نو ۔۔پپ ۔۔ہیلپ ۔۔!! وہ اسے تھام کر پوچھ رہا تھا وہ آدھی کھلی ہوئی آنکھوں سے مدد مانگ رہی تھی اسکے کوٹ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر رکھا تھا ڈر کی وجہ سے وہ اسکے بے حد قریب تھی آریان بھی بڑی فرسٹ سے اسکا خوبصورت دلکش چہرہ دیکھ رہا تھا اپنے اتنے قریب وہ کمر سے تھام کر کھڑا تھا روڈ کے سائیڈ پر دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے تھے اسکی گہری سانسیں اسکے چہرے پر مشتمل تھی ۔۔
” سنو لڑکی ہوش میں آؤ اور بتاؤ میرا موبائل فون کہا ہے وہ تمہارے پاس ہی تھا جلدی بتاؤ کہاں ہے ۔۔۔!! وہ اسے ہوش سے بیگانہ ہوتے دیکھ کر جلدی سے بولا تھا ۔۔
” ہہ ۔۔ہمیں ۔۔وو ۔۔واپس نہیں جانا وہ لوگ پھر سے آجاۓ گے ۔۔۔!! اروبا روتے ہوئے کہا اسکی آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھی ۔۔
” ناؤ گو ۔۔۔ پپ۔۔ پر کہا جاۓ ہم مم۔۔ مطلب ہمیں راستہ نہیں پتا اور وہ لڑکیاں ہمیں جان بوجھ کر لائی تھی وہ بہت گندی لڑکیا ہیں ہمیں اس ہوسٹل میں نہیں رہنا پلیز ہماری ہیلپ کریں ہمیں یہاں کی جگہؤں کا علم بھی نہیں ۔۔!! آریان اسے دور کرتے ہوئے غصے میں بولا کیوں کے وہ اسکے فون کا نہیں بتا رہی تھی وہ ڈر گھبراہٹ میں بولے جا رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے پہلے کبھی اسے ساتھ کسی نے ایسا مذاق تک نہیں کیا تھا اور اب یہاں کے عجیب لوگوں سے اسکا سامنا ہو رہا تھا وہ روتے ہوئے وہ پھر سے گر تی اسکے مظبوط حصار میں جھول گی آریان گہرا سانس لیتا اسے اٹھا کر اپنی گاڑی تک لے گیا ۔۔۔
★★★★
” آرہی ہو کیا مسلہ ہے بیل خراب کروگے کیا ۔۔!! زویا بیل کی آواز سے نیند سے بیدار ہوتے ہوئے غصے میں چلا کر آئی دروازے تک ۔۔
” یہ یہ کون ہے کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ کہیں مار مار تو نہیں دیا میرے پاس کیوں لاۓ ہو میں نے گھر میں ہسپتال نہیں کھولی ہوئی پاگل انسان کہیں تم نے کچھ آہہ ۔۔!! زویا دروازہ کھولتے ہی سامنے آریان کی باہوں میں کسی لڑکی کو بے ہوش دیکھتے ہی شروع ہوگئی اپنی سوچ کے مطابق آریان آگے بڑھ کر اسے بیڈ پر لیٹاتا اچھے سے کمفرٹر اس پر اوڑھتا سیدھا ہوتے زویا کا بازو پکڑ کر پیچھے موڑتے ہوئے غصے میں کہا ۔۔
” اپنی زبان کو کم استعمال کیا کرو ورنہ کسی دن کاٹ کر ہاتھ میں دے دوں گا سمجھی یہ لڑکی کون ہے کہاں سے آئی ہے خود ہی پوچھ لینا صبح ابھی خود بھی سکون سے سو جاؤ اور اس لڑکی کو بھی سونے دو اور ہاں ایک بات صبح ایسے جیسے بھی ہوش آئے مجھے انفارم کر دینا ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔!! آریان غصے میں زویا کے ہاتھ پر زور ڈالتا اپنی بات کہتا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
” آہ میرا ہاتھ ہی توڑ دیا کمینے انسان تمہیں اللّه پوچھے ایک تو میرے گھر میں گھس کر انجان لڑکی کو چھوڑ گیا اوپر سے کچھ بتایا نہیں اور حکم دیتا چلا گیا سمجھتا کیا ہے خود کو تمہیں تو صبح پوچھوں گی بڑے بابا کو بھی بتاؤں گی منحوس انسان ۔۔۔!! زویا غصے میں پیچھے دروازہ بند کرتے ہوئے تیز آواز میں بڑبڑاتے ہوئے روم میں چلی گئی ۔۔
