Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 13)

Mera Ishq by Mahra Shah

” تمہیں کب پتا چلا احد تمہارا بیٹا ہے” ۔۔!! زید نے سنجیدگی سے تھک ہار کے کہا اسکے چہرے پر تازہ زخم بتا رہے تھے داريان کا غصہ کس قدر شدید تھا اس پر۔ لیکن یہ تو ابھی کم تھا وہ خود پے ضبط کئے ہوئے تھا صرف اس سے کچھ سوالوں کے جواب کے لئے جو صرف زید جعفری دے سکتا تھا ۔۔

” جب وہ پیدا ہوا تھا تب سے جانتا ہوں وہ میرا بیٹا ہے بس تمہارے گندے کھیل نے میری زندگی تباہ کردی ۔۔لیکن تم جانتے ہو میں ہمیشہ اکیلا بھٹکتا رہا پر اس ذات نے مجھے کبھی بکھر نے نہیں دیا مجھے غلط راستوں پر چلنے سے روک دیا جن غلط راستوں پر تم ہومیں ہمیشہ دور رہا ۔۔احد کے پیدا ہوتے تم نے اسے غائب کروایا انعل کی جان لی میرے بچے کو مردہ ثابت کیا اسکے بعد خود غائب ہوگئے جبکہ میں جانتا تھا تم کہاں چھپے ہوئے ہو تب میں نے شروع کیا اپنا گیم” ۔۔۔۔!! داريان سرد لہجے میں کہتا اسکی حیرت سے پھٹی نگاہوں میں دیکھا مسکراتے ہوئے اسے بتایا جو وہ اسکے ساتھ کرتا گیا تھا اپنی جیت سمجھ کر آج اسے اپنے کئے گئے ہر گناہ کی سزا داريان کے روپ میں ملنے والی تھی ۔۔

” جو لوگ تمہارے پڑوسی بن کر احد کی دیکھ بھال کر رہے تھے وہ میرے لوگ تھے وہ میرا دوست بھائی حنان سلطان تھا وہ مجھے کتنا عزیز ہے یہ تم بہت اچھے سے جانتے ہو” ۔۔!! داريان نے ایک اور بم پھوڑا اسکے سر پر ۔۔

” نہیں وہ آیان بسمہ تھے وہ حنان زافا نہیں ہو سکتے نہیں تم میں جان سے ماردونگا تمہیں” ۔۔!!!زید غصے سے پاگل ہوتا چیخا تھا اسنے اتنی محنت و ہوشیاری سے کام کیا تھا داريان سے بچ کر ہر وہ قدم اٹھایا اور وہ اس تک اتنی آسانی سے پہنچ گیا تھا ۔۔

“ریلکس زید ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے سٹارٹ تم نے کیا تھا اینڈ میں کرونگا” ۔۔۔!! داريان نے سپاٹ تاثر سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” تم بیچ میں انعل کو لیکے کہاں غائب ہوگۓ تھے کیا ہوا تھا”۔۔۔!! زید کو اب اسکے کچھ عرصہ غائب ہونے کی وجہ جاننی تھی ۔۔

” تمہیں میں نفرت سے عشق تک کی داستان سناتا ہوں” ۔۔!! داريان ہلکا سا مسکراتے ہوئے ماضی کی خوبصورت یادوں میں کھو گیا اور زید کو بتاتا گیا ہر وہ لمحہ وہ باتیں وہ یادیں وہ لڑائیاں۔۔۔

★★★★

ماضی

” ڈاکٹر میری وائف کیسی ہے” ؟۔۔۔!! داريان ڈاکٹر کے باہر آتے ہی تیزی سے انکے پاس گیا بےچینی سے پوچھا پل بھر کے کھیل میں کیا سے کیا ہوگیا تھا اسکی زندگی میں ۔۔جس بات کا ڈر تھا جسے بچانہ چاہتا تھا وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ۔۔۔

” دیکھیں ہم کوشش کر رہے ہیں آپ دعا کریں بچانے والی ذات اللّه کی ہے آپ دعا کریں انکی حالت بہت سیریس ہے کافی خون بہہ چکا ہے” ۔۔۔!! ڈاکٹر نےاپنی طرف سے بھرپور کوشش کرتے ہوئے کہا جو وہ جی جان لگا کر ایک پیشنٹ کو ٹھیک کرنے میں لگے ہوئے تھے وہ سامنے نوجوان کو بکھر تے ہوئے دیکھ سکتے تھے وہ کتنا تڑپ رہا تھا اندر زندگی موت سے لڑنے والے انسان کے لئے ۔۔۔

” انو پلیز یار ٹھیک ہو جاؤ میرے لئے ہمارے بچے کے لئے میں اب کبھی تکلیف نہیں دونگا میں نہیں کھو سکتا تمہیں پلیز میرے پاس واپس آجاؤ مت لو میری آزمائش مجھے اپنی زندگی واپس چائیے یا اللّه اسے ٹھیک کردیں میں بہت گنہگار ہوں میں نے بہت کچھ کھویا ہے اب مزید طاقت نہیں رہی مجھ میں کسی اپنے کو کھونے کی۔ وہ میری زندگی ہے میری سانسوں میں بستی ہے میں نہیں کھونا چاہتا اسے بہت تکلیف دی ہے اسے ایک بار مجھے موقع دے میرے مالک اس سے اپنے خطاؤ کی معافی مانگنی ہے مجھے معاف کردے میرے مالک میں نے تیرے بندے کا بہت دل دکھایا ہے اسے میرے معصوم بچے کی خاطر زندگی دیدے”۔۔۔۔!! داريان مرے مرے قدموں سے چلتا ہوا وہاں کی مسجد میں پہنچا وہاں اپنے کئے کی معافی مانگنے لگا اس رب کے سامنے جس نے کبھی اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑا آزمائش دیتا ہے تو اسے توبہ کے لئے بھی راستہ دیا وہ مضبوط مرد آج سجدے میں گرتا اپنے رب کے سامنے رو رو کر اپنی زندگی کے لئے دعا مانگنے لگا تھا کیا کچھ نہ تھا اسکی تڑپ میں پھر کیسے نہ وہ رب مہربان ہوتا اس پر جس نے راستہ غلط اختیار کیا پر گر نے سے پہلے سنمبھل گیا ۔۔۔

★★★★

” میری بیٹی کہاں ہے؟ بولو کیا کیا تم نے اب؟ کیوں دے رہے ہو اسے اتنی تکلیف کیوں نہیں جان چھوڑ تے اسکی بولو کیوں؟” ۔۔!! حیات صاحب غصے میں آگے بڑھتے ہوئے داريان کا کالر پکڑ کر ڈھارے تھے ۔۔۔

” میں نے منع کیا تھا اسے گھر سے باہر مت نکلو۔ آپ کو بھی کہا تھا نہ اسے لے جائیں پاکستان” ۔۔!! داريان میں ہمت نہیں تھی لڑ نے کی وہ تو بس اس کے لئے تڑپ رہا تھا جو اندر تڑپ رہی تھی ۔۔

” اسے چھوڑ دو چلے جاؤ یہاں سے ۔۔۔اب میری بیٹی کے آس پاس بھی مت دکھنا”۔۔!! حیات صاحب نے سخت لہجے میں کہا ۔۔

” دوبارہ اسے چھوڑ نے والی بات مت کہنا بڑی مشکل سے آپکو معاف کیا ہے صرف اسکی وجہ سے” ۔۔۔!! داريان غصے میں مٹھیاں بھینچتا بولا ۔۔سامنے ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔

” آپ سب کی دعاؤں سے پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے تھوڑی دیر میں انھیں روم میں شفٹ کردیا جائیگا اور انھیں کافی کمزوری ہے انکا بہت خیال رکھیں خوش رکھیں پلیز کسی بھی پریشانی سے دور رکھیں” ۔۔!! ڈاکٹر بولتا آگے بڑھ گیا پیچھے وہ دونوں خاموش کھڑے ہوئے تھے دل میں ڈھیرو شکر ادا کیا اپنے رب کا جس نے انکی زندگی واپس کر دی ۔۔

” مجھے کہیں جانا ہے ۔۔لیکن بہت جلد آؤنگا اسے لینے آپ اسے پاکستان لے جائیں” ۔۔۔!! داريان نے کچھ سوچ کر یہ فیصلہ کیا ۔۔

” اور اگر تم نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تمہارا پوچھے گی ۔۔ تم جانتے ہو تم سے ملے بغیر نہیں جائے گی” ۔۔۔!! حیات صاحب اسکے جانے کا سن کر پھر انعل کے لئے پریشان ہوئے وہ جانتے تھے وہ نہیں جائے گی ۔۔

” تم نے بتایا بھی نہیں میری بیٹی کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے کیوں اسے تکلیف میں ڈال رہے ہو رحم نہیں آتا اس پر ۔۔تمہیں کبھی محبت نہیں ہوئی اس سے”؟۔!! حیات صاحب کا لہجہ نم تھا ۔۔

” میں بہت جلد آؤ نگا اسے لینے میری امانت کی حفاظت کریۓ گا”۔۔۔!! وہ بولتا تیزی سے وہاں سے چلا گیا پیچھے ایک بےبس باپ رہ گیا ۔۔جس کے گناہ کی سزا آج بیٹی ادا کر رہی تھی ۔۔

★★★★

” تم اسے حاصل کر سکتے ہو” ۔۔۔!! جعفری صاحب نے بیٹے کو دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں کہا وہ جس قدر شدید غصے میں تھا کچھ بھی کر سکتا تھا بڑی مشکلوں سے رشید کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا تھا انہوں نے ۔۔ اب انھیں بہت سوچ سمجھ کر اسے ڈی اے کے خلاف کرنا تھا ۔۔۔

” نہیں کر سکتا نہیں کر سکتا وہ اسے چھوڑے گی نہیں کبھی نہیں چھوڑے گی ۔۔۔ میں نے کہا تھا چلو میرے ساتھ نہیں آئی وہ ۔۔۔ اور اور آج وہ وہ” ۔۔ !! اسکی آواز بھاری ہوگٸ تھی کچھ بولا نہیں جا رہا تھا بار بار انعل کا خون سے لت چہرہ سامنے لہرا رہا تھا ۔۔۔

” دیکھو بیٹا جو ہوا اچھا نہیں ہوا اس بچی کے ساتھ لیکن ابھی خود سوچو وہ معصوم ہے نادان ہے تم اسے کیسے اپنا بنا سکتے ہو یہ تمہیں خود سوچنا چاہیے ۔۔۔۔ڈی اے کون سا اسے خوش رکھ رہا ہے پھر بھی وہ اسکے ساتھ ہے تم بھی کچھ کر سکتے ہوں میں تمہارے ساتھ ہوں اچھے سے سوچ لینا” ۔۔!! جعفری صاحب اپنی طرف سے آگ لگا کر گۓ تھے اب زید کو کیا کرنا تھا وہ ساری رات سوچتا رہا وہ جانتا تھا وہ انعل کے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن وہ اسے ڈی اے کے ساتھ دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔

★★★★

“بب ۔۔ بابا” ۔۔!! انعل کو جیسے ہوش آیا سامنے اپنے باپ کو خود کے لئے تڑپتا روتا دیکھ کر انھیں پکارا ۔۔

” دد ۔۔داريان ۔۔مم ۔۔میرا بچہ” ۔۔۔!! انعل کو بولنے میں بہت تکلیف ہو رہی تھی وہ رک رک کر بولتی حیات صاحب کو تڑپا رہی تھی ۔۔اب وہ کیا بتاتے جس بے حس شخص کا پوچھ رہی ہے وہ تو پتا نہیں کہاں غائب ہو گیا ہے جیسے ۔۔۔

” بابا کی جان آرام کریں آپ ۔ زیادہ بولنے سے تکلیف ہوگی سب یہیں ہے آپ کے پاس رونا نہیں میری بہادر بیٹی ہے آپ”۔۔!! حیات صاحب نے بڑی مشکلوں سے اسکی سوال کرتی نظروں سے خود کو دور رکھا تھا۔ بی جان بھی ساتھ اسکا بہت خیال رکھ رہی تھی ۔۔لیکن اسکی نظریں صرف دروازے پر تھی جس کے انتظار میں وہ درد تکلیف سے گزر رہی تھی اور وہ دشمن جان پتا نہیں کہاں چھپ گیا تھا جیسے واپس آنے کا راستہ ہی بھول گیا ہو ۔۔ اسے کچھ دن ہو گۓ تھے ہسپتال میں رہتے ہوئے ۔۔انعل کو محسوس ہوتا تھا جیسے روز رات کو کوئی ہے جو اسکے پاس ہے اسکے قریب ہے پر وہ شاید اسکے سونے کے بعد آتا ہے وہ دوائی کے زیر اثر سے گہری نیند میں ہوتی تھی پر اسکی خوشبو کسی وجود کا احساس وہ محسوس کر سکتی تھی ۔۔

گہری رات تھی چاروں اور اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور باہر ہلکی سی روشنی میں کچھ لوگ جو نائٹ جاب تھے وہ اپنے کاموں میں مصروف تھے ان میں سے ایک کمرے میں بی جان صوفے پر گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی وہیں بیڈ پر وہ معصوم سی لڑکی جس نے کیا کچھ نہ دیکھ لیا اپنی چھوٹی سی زندگی میں جس کے انتظار میں آج بھی مدھم سی دھڑکنیں چل رہی تھی جو اس خاموش کمرے میں اسکی سانسوں کے ساتھ دھڑکن کا ہلکا سا شور اٹھ رہا تھا وہ اسے دیکھتا خوبصورت سا مسکراتا ہوا اسکے قریب آیا آرام سے جھک کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا جس سے اسکی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی جس کا مطلب تھا آج وہ انتظار میں تھی اور اسی کے انتظار میں اسنے آج اپنے بابا کی طبیعت کا خیال کرتے ہوئے انھیں گھر بھیج دیا اور بی جان اسکے ساتھ رہی ۔۔

” انتظار کر رہی تھی پکڑ نے کا”۔۔!! وہ اسکی معصوم ادا پر دل و جان سے مسکرایا تھا اور جھک کر سرگوشی میں کہتا اسکے ماتھے سے ماتھاٹکا دیا وہ اسی طرح خاموش سوئی ہوئی بنی رہی۔۔

” آنکھیں نہیں کھولو گی” ؟۔۔!! وہ اسکے حیا سے سرخ گال دیکھتے ہوئے نرمی سے گهمبیر آواز میں بولا ۔۔

” اور کتنی آزمائش لیں گے ۔۔۔ ہمیں بھی موت نن” ۔۔!!

“تم میرا ہمیشہ دماغ خراب کرتی ہو” ۔۔!! انعل نے دھیرے سے آنکھیں کھولتے ہوئے اس بےوفا شخص کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دکھ سے اپنے لفظوں سے اسے تڑپا گٸ۔ داريان نے غصے میں گھورتے ہوئے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اسکے آگے کے لفظ اسکی روح کو تڑپا نے کے لئے کافی تھے ۔۔دونوں قریب ایک دوسرے کے تھے انعل اپنے چہرے پر اسکی گرم دھكتی سانسیں محسوس کر رہی تھی دونوں ہی آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے سے شکوہ کر رہے تھے اپنے بیچ اس دوری کے لئے ۔۔۔

” ناراض ہو” ۔۔۔؟

” نہیں ہونا چاہئے کیا”؟ ۔۔!! داريان محبت سے اسے دیکھتا جھکا تھا کے انعل نے ناراضگی سے منہ موڑ لیا ۔۔داريان مسکراتے ہوئے اسکے کان اور گردن کے قریب جھک کر بولتا بیڈ پر اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا کیونکہ بیڈ تھوڑا بڑا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب تھے بہت انعل منہ دوسری اور کئے ہوئے تھی جبکے داريان اسکے کندھے پر سر رکھے منہ اسکی گردن میں دیے آنکھیں موند لی تھی وہی انعل نے بھی اپنی آنکھیں موند لی تھی دونوں کے بیچ کچھ دیر خاموشی چھاٸ رہی ایک دوسرے کی خوشبو کے حصار میں ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے ہوئے وہ لوگ اس وقت جس اذیت میں تھے یہ ان دونوں سے کوئی پوچھتا ۔۔

” انو جانتی ہو میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا تھا میرے اندر ڈر کہیں ختم ہو گیا تھا لیکن جب سے تم میری زندگی میں آئی مجھے اپنے عشق میں دیوانہ بنایا تب سے میں تم سے اپنی قسمت سے بہت ڈر گیا ہوں ۔۔ تمہارا وہ ایکسیڈنٹ جب بار بار خون میں بہتا وجود میری روح کو میرے جسم سے الگ کر دیتا ہے مجھے سانس نہیں آتی میں تمہیں کھونے سے بہت ڈر تا ہوں یار پلیز مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑنا میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر مجھ سے میری روح مت چھینو انو ۔۔۔ میں تمہارے بغیر بہت ادھورا ہوں” ۔۔!! داريان اسی طرح آنکھیں اسکی گردن میں موندے ہلکی سی نم آواز میں کہتا جا رہا تھا اپنے دل کا حال اور اسکی تیز ہوتی دھڑکن بہ آسانی سن سکتا تھا ۔۔جو کے اسکے اظہار پر پل پل تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔

” بےوفائی خود کرتے ہیں اور الزام ہمیں دیتے ہیں” ۔۔!! انعل نے اسکی اور منہ کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں نم ہوتی آنکھوں سے دیکھ کر کہا داريان گردن چومتا اسے دیکھا اب دونوں کے چہرے بہت قریب تھے ایک دوسرے کے ماتھے سے ماتھا ملایا ہوا تھا ناک سے ناک اور آنکھوں میں آنکھیں ۔۔۔

” میری جدائی نے تمہیں شاعر بنا دیا ہے” ۔۔!! داريان نے مسکراتے ہوئے اسکی ناک سے اپنی ناک رب کی اپنا دوسرا ہاتھ اسکے گرد حصار میں باندا اسکی مضبوط گرفت میں بھی نرمی تھی محبت تھی مان تھا معافی تھی احساس تھا جو انعل کو بہت سکون دے گیا ۔۔۔

” عشق تو کافر بھی بنا دیتا ہے” ۔۔!!

“انو”۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

” پلیز اب نہیں داريان اب ہمت نہیں ہم میں” ۔۔!! داريان نے نرمی سے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے پکارا تھا کے انعل نے بہتے آنسوں کے ساتھ اسکے ہاتھ پر اپنا پٹی سے جکڑا ہاتھ رکھتے روکا ۔۔۔۔

” انو مان جاؤ میں بہت جلد واپس آؤنگا اپنے بابا کے ساتھ چلی جاؤ پاکستان ۔۔یہاں کوئی ہمیں جینے نہیں دیگا یہ لوگ کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑے گے ۔۔مجھ میں ہمت نہیں تمہیں دوبارہ کھونے کی ہمارے بچے کے لئے سوچو وہ تمہارا انتظار کر رہا ہے اسے اپنی ماں چاہئیے”۔۔۔!! داريان نے اسے سمجھانا چاہا جیسے وہ روتے ہوئے نفی کرنے لگی تھی ۔۔۔ بچے کا سنتے اسکی ممتا تڑپ اٹھی تھی ۔۔

” آ۔آپ نے بہت اچھے سے بدلہ لیا ہے ۔۔۔ ہمیشہ دور کرتے ہیں خود سے کبھی نفرت سے تو کبھی محبت سے ۔۔۔ بہت برے ہے آپ” ۔۔!!

” جانتا ہوں بہت برا ہوں ۔۔ پر تمہارا ہوں” ۔۔!! داريان نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرا اٹھی ۔۔ ایک سکون تھا دونو کے اندر ایک دوسرے کے پاس ہونے سے ۔۔ کیا وقت ہمیشہ انکی یہ خوشی رہنے دیگا ۔۔یا لگ جاۓ گی ایک بری نظر اس خوشی کو ۔۔

” کاش کے یہ سفر یوں ہی چلتا رہے

تیرے عشق میں میرا پاگل پن یوں ہی بہتا رہے “

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

“تم یہاں تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی بولو؟” ۔۔۔!! داريان زید کو دیکھتے ہوئے غصہ ضبط کرتے دبا سا چلایا ۔۔اسے انعل کے پاس بیٹھے تھوڑا ہی وقت گزارا تھا کے زید کو چھپ کے آتے دیکھ کر غصے سے پاگل ہوا ۔۔۔ انعل کو سیدھا بیٹھایا ہوا تھا اسکے ساتھ یہ خوبصورت لمحہ اکیلے پر سکون گزارنا چاہتا تھا لیکن زید کا یہاں آنا اسے برداشت نہیں ہوا ۔۔بدلے میں زید نے بھی غصے سے گھورا ۔۔انعل پریشان سی دونوں کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے کی سرخ انگار آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔۔۔

” کیسی ہو؟”۔۔۔!!

” زندہ ہے تمہارے باپ نے تو کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی” ۔۔!! زید کے نرمی سے سوال پر داريان نےغصے وطنزیہ لہجے میں کہا ۔۔

” پہلے جاکے پتا لگوا لو یہ کس نے کیا ہے پھر الزام لگانا ۔۔ اور ہاں میں یہاں تم سے نہیں انعل سے ملنے آیا ہوں بیچ میں ٹانگ مت اڑاؤ” ۔۔۔!! زید اسکے قریب آتے غصے میں اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا دوسری سائیڈ سے انعل کے قریب گیا ہاتھوں میں خوبصورت گلاب کے پھول اسکے آگے پیش کیے ۔۔۔انعل نے ایک نظر داريان پر ڈالتے ہوئے خاموشی سے لے لیا وہ کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔

” میری بیوی کو پھولوں کی ضرورت نہیں اسے الرجی ہے”۔۔۔!! داريان غصے میں آگے بڑھ کر انعل سے پھول لیتا ڈسٹ بین میں پھینک دیا ۔۔۔زید غصے میں دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ گیا ۔۔انعل کا سر درد کرنے لگا تھا اب ۔۔

” جانتا ہوں ایک خوبصورت حسین گلاب کو کیا پھولوں کی ضرورت ۔۔ وہ تو دیکھ لئے تو لے لیا” ۔۔۔!! زید طنزیہ مسکراہٹ سے کہتا داريان کے غصے کو اور ہوا دے گیا۔ اسکے ماتھے کی رگیں اور واضع ہونے لگی ۔۔۔

” آخری بار کہہ رہا ہوں چلے جاؤ دوبارہ انعل کے قریب مت دکھنا ورنہ بہت برا ہوگا” ۔۔۔!!

” نن ۔۔نہیں پلیز لڑے مت ۔۔ا ۔اور آپ پلیز چلے جائیں ہم ٹھیک ہے پلیز یہاں کوئی تماشا نہیں” ۔۔۔!! انعل نے نم آنکھوں سے زید کو دیکھتے ہوئے کہا اور داريان کا ہاتھ پکڑ لیا جو غصے میں اب زید کی طرف بڑھنے والا تھا ۔۔۔ زید جانا نہیں چاہتا تھا پر انعل کے نرم رویہ پر مجبورن جانا پڑھا لیکن اسکی نظریں جس طرح انعل پر تھی داريان کی برداشت سے باہر تھا ۔۔

” تم اس سے کبھی بات نہیں کرو گی کبھی نہیں ملوں گی سمجھی” ۔۔!! داريان نےاپنا غصہ انعل پر نکال دیا ۔۔ وہ نم بھیگی آنکھوں سے اثبات میں سر ہلا گی ۔۔ داريان اسے کہتا گہرا سانس لیتا اسکے پاس بیڈ پر بیٹھا اپنی پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکا دی ایک ہاتھ اسکی گردن اور گال کے بیچ رکھ دیا ۔۔

” سوری ۔۔۔۔۔۔ مجھ سے نہیں ہوتا برداشت تمہارا کسی سے بات کرنا ۔۔کوئی تمہارے قریب آئے ۔۔تم صرف میری ہو صرف میری” ۔۔۔!! انعل اسکے جنونی انداز پر مسکرا اٹھی ۔۔۔وہ اسے بہت سمجھا کر گیا اسے پاکستان جانا چاہئے وہ جلد ساتھ ہونگے ۔۔۔

“تمہیں کوئی اور دیکھے تو جلتا ہے دل ۔۔

بڑی مشکلوں سے پھر سمبھلتا ہے دل۔۔”

★★★★

” انعل بیٹا یہ لیں سمبھالے اپنے لاڈلے صاحب کو بالکل باپ پر گیا ہے ضدی” ۔۔!! حیات صاحب آریان کو گھورتے ہوئے انعل کو پکڑایا آریان جب بھی حیات صاحب کے پاس جاتا تھا تھوڑی دیر میں ہی رونا شروع کر دیتا تھا اوپر سے تھا بھی داريان کی کاپی۔ انعل نےمسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو آرام سے اپنی گود میں لیا ۔۔ماں کے پاس آتے ہی چپ ہو گیا تھا وہ ۔۔۔ آریان چار ماہ کا تھا انعل کو پاکستان آئے اتنے مہینے ہو گۓ تھے لیکن داريان کی کوئی خبر نہیں تھی وہ بڑی مشکلوں سے واپس آئی کے وہ اسکے پاس ضرور آئیگا اور جلد پر وہ بےوفا تو جیسے اپنا کیا وعدہ ہی بھول گیا تھا اپنے بچے کو دیکھ کر کتنی خوش ہوئی تھی وہی جانتی ہے اسکا اب ہر ٹائم آریان اور حیات بی جان کے ساتھ گزرتا تھا ایک ماہ پہلے زافا حنان بھی آگۓ تھے واپس وہ لوگ روز آتے تھے اس سے ملنے ساتھ ہی گھر لے لیا تھا اس لئے کبھی انعل بھی چلی جاتی تھی ۔۔اسکے اندر ایک سکون نہیں تھا خوف تھا داريان سے دوری کا اسکے انتظار کا ۔۔

” کیا ہوا میری جان کو؟ بھوک لگی ہے میرے بیٹے کو؟ ۔۔ نانا جان کے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں میری جان وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں میرا بیٹا بہت اچھا ہے سب سے پیار کریگا ۔۔اپنے بابا کی طرح غصے والے نہیں بننا آپ” ۔۔!! انعل آریان کو لیکے روم میں آتے ہی اسکو پیار کرتی باتیں کر رہی تھی وہ اپنی خوبصورت سی آنکھوں سے ماں کو دیکھتا مسکراتا ہنستا رہا۔ سفید گلابی سا داريان کی طرح دیکھتا پر آنکھیں انعل پر گٸ تھی گہری کالی ۔۔وہ ماں کے پاس ہوتا تو بہت زیادہ خوش ہوتا تھا ہنستا کھیلتا ورنہ کم ہی کسی کے پاس ایسا کرتا تھا ۔۔

★★★

” حان ایک بات پوچھوں پلیز سچ بتائیگا” ۔۔!! زافا حنان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ تے ہوئے کہا ۔۔

” تم کب سے اجازت مانگنے لگی؟۔۔ کہیں میری بیوی چینج تو نہیں ہوگٸ لنڈن میں ۔۔ زافی ادھر دیکھو میری طرف کہو تم میری چڑیل ہو” ۔۔!! حنان نے حیرت سے زافا کو دیکھا جس نے اتنی نرمی سے اس سے کچھ پوچھا زندگی میں پہلی بار۔ وہ اتنی آرام نرمی پیار سے پیش آئی اسکے ساتھ وہ صدمہ سے نکلتا اسے بولنے کا موقع نہیں دیا ۔۔

” حانننن ۔۔۔ تمہیں عزت راس نہیں آتی کیا ایک تو کچھ پوچھنے آئی ہوں اوپر سے تو میرا ہی دماغ خراب کر رہا ہے ۔۔ پتا نہیں کن غنڈوں میں پھنس گٸ ہوں” ۔۔۔!! زافا اسکی اتنی بڑی تقریر سے بیزار ہوتے ہوئے چیخی تھی ۔۔

” غلط غنڈی تو تم تھی ساتھ میں چور بھی ۔۔ہاہاہا” ۔!! حنان نےکہتے قہقہہ لگایا زور کا ۔۔۔

” حنان سلطان اب اگر اپنی زندگی پیاری ہے تو پیار سے کچھ پوچھا تھا عزت سے جواب دو ورنہ وہ حال کروںگی یاد رکھو گے” ۔۔!! زافا غصے میں گھورتے ہوئے تیز لہجے میں کہا تھا ۔۔۔

” ہائے میری جنگلی بلی ۔۔بولو کیا پوچھنا ہے” ۔۔!! حنان نے اب اسکی طرف توجہ دی اور اسے اپنے حصار میں لیتے پیار سے کہا ۔۔

” داريان بھائی کب آئیں گے انعل روز پوچھتی ہے کہتی ہے تمہیں پتا ہوگا تم کیوں نہیں بتا رہے اسے ۔۔ وہ بہت اداس رہنے لگی ہے آریان کے ساتھ ہوتی ہے تو تھوڑی بہت خوش ہوتی ہے پر داريان بھائی کی کمی تو کوئی پوری نہیں کر سکتا نہ”۔۔۔!! زافا اداس ہوگٸ تھی حنان کے سینے پر سر رکھ دیا تھا ۔۔

” مجھے نہیں پتا وہ کہاں ہے میں ڈھونڈ رہا ہوں اسے ان شاء اللّه وہ جلد مل جائیگا ہم سب اسے بہت یاد کرتے ہیں لیکن وہ کہاں ہے کیوں نہیں آرہا یہ سب اسنے کیوں کیا جب آئیگا تب پتا چل جائیگا ابھی میں خود بےبس ہوں یار انعل کی آنکھوں میں اسکا انتظارکرنا سب کو اداس کر دیتا ہے” ۔۔۔!! حنان گہری سانس لیتا دکھ و غم سے کہا ۔۔ وہ خود دن رات اسے ڈھونڈ نے میں لگا تھا انکے کسی بھی ساتھی کو نہیں پتا تھا وہ اچانک کہاں غائب ہو گیا ہے ۔۔لیکن زید روز اپنی کوئی نہ کوئی کوشش میں تھا انعل تک پہنچنے کی وہ پاکستان آنے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا جانتا تھا یہاں کی اجنسی اسکے پیچھے ہے ۔۔۔

★★★

” میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔۔ ہر حال ہر قیمت پر مجھے چاہئے وہ ڈیڈ مجھ چاہئے” ۔۔۔!! زید غصے میں پاگل ہوتا جنون وشدت سے ہر چیز توڑ پھوڑ کرتا اپنا غصہ اتار رہا تھا ۔۔۔ جب سے داريان نے انعل کو پاکستان بھجوادیا تھا وہ تب سے غصے سے پاگل ہوتا جا رہا تھا اور داريان تو جیسے کہیں چھپ گیا ہو ۔۔

” تم اپنے غصے پر کنٹرول کرو تو کچھ سوچوں اگر یہی حال رہا تو سمجھو مل گئی تمہیں جیسے ۔۔۔ پہلے تھوڑا سکون میں آجاؤ خاموش ہو جاؤ پھر کچھ سوچتے ہیں”۔۔!! جعفری صاحب گہری سوچ میں پڑھ گۓ تھے آخر ہو کیا رہا ہے داريان کیا پلین کر رہا ہے ۔۔ اسے ابھی اپنے بیٹے کو سنمبھالنا تھا ۔۔

” اتنے مہینے ہو گۓ ہے اور آپ کہہ رہے ہیں میں خاموش ہو جاؤں ۔۔اور وہ دونوں وہاں خوشی خوشی اپنی زندگی جیۓ ۔۔نہیں ڈیڈ نہیں ہوتا برداشت اسکا کسی اور کے ساتھ ہونا ۔۔وہ میری ہے صرف میری” ۔۔!! زید شدتِ ضبط سے خود کے آنسو روک نہیں پایا اسے انعل سے عشق ہو گیا تھا وہ عشق کے سفر میں چلنے لگا تھا اسکی تڑپ دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی ۔۔ جب تک محبوب کا دیدارِ یار نہ ہو عشق کہا بیٹھ سکتا ہے سکون سے ۔۔۔۔

” . میری بات سنو! تمہیں وہ لڑکی چاہیےنہ تو جو میں کہتا ہوں وہ کرو۔ بس تھوڑا صبر سے میرے بیٹے میں تمہیں تمہاری محبت ضرور دلواؤ نگا” ۔۔۔!! جعفری صاحب سے نہیں دیکھا جا رہا تھا بیٹے کے روگِ ہجر میں بہتے اسکے آنسو ۔۔

★★★★

اسے روم میں گھبراہٹ ہونے لگی تو وہ تھوڑی تازی ہوا کھانے اوپر چھت پر آگٸ۔ اکیلی کھڑی اس روشن چاند کو دیکھ رہی تھی آج پھر وہ بےوفا بڑی شدت سے یاد آرہا تھا آریان جو اپنی ماں کے بغیر سو نہیں سکتا تھا بڑی مشکلوں سے اسے بی جان کے ساتھ سلا کر آئی تھی ۔۔اچانک اسے محسوس ہوا کوئی اور ہے یہاں کوئی وجود ایک سایا اپنے پیچھے محسوس ہوا دل تیزی سے دھڑکا تھا ۔۔

” کک ۔۔کون ہے” ۔۔۔!! دھڑکتے دل کے ساتھ دھیرے سے پیچھے مڑنا چاہا تھا کے اس وجود نے پیچھے سے اسے اپنے مضبوط حصار میں قید کر لیا ۔۔وہ سانس روک گئی ۔۔جیسے ہر چیز ركتی ہوئی محسوس ہو ۔۔وہ احساس وہ خوشبو وہ شخص کیسے بھول سکتی تھی جس کے انتظار میں صبح وشام آنسو بہتے تھے جس کا پل پل انتظار کرنا مشکل تھا وہ آگیا تھا وہ اتنے انتظار کے بعد آیا تھا وہ تڑپانا بہت اچھے سے جانتا تھا ۔۔انعل کے آنکھیں موندتے ہی رکے ہوئے آنسو بہنے لگے تیزی سے وہ اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اسکے بکھرے گھنے سلکی بالوں میں منہ دے گیا۔

” انتظار کیا نہ پوچھو کتنا یاد کیا

ہجرِ تنہائی کے آنسوبیان کرتے ہیں جدائی محبوب کی

کتنا تڑپا ہوں دیدارِ یار کو

کچھ پل دو پیار کرنے کو

میرا عشق ہو تم نہ کرو ستم تم

بکھیر دو میری سانسوں کو اپنی سانسوں میں

یہ لمحہ میرا ہی رہنے دو میرے وجود کو اس خوشبومیں “

” انعل حیات دے دو سکون کچھ پل کا داريان حیدر خان کو ۔”! داريان اپنی خوبصورت اننگز بھاری آواز میں اسکے لئے کچھ لائن بولتا اسے اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا ۔۔وہ خاموش آنسو بہاتی اسکے بولے گۓ لفظوں کے سحر میں خود کو اسکے حوالے کئے ہوئے تھی ۔۔داريان اسے اپنی طرف کرتا اس پر جھکا تھا کے انعل خود پر ضبط کرتے ہوئے غصے میں اس سے دور ہوٸ ۔۔۔۔

” ہم سے دور رہیں آپ ۔۔” آنسو پھر تیزی سے بہنے لگے دھڑکنیں شور کرنے لگی ۔۔

” میری روح کو جدا کرنا چاہتی ہو ۔۔” وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا

” ہاں یہی چاہتے ہیں ۔۔” ناراضگی شکوے ہوئے ۔۔

” مرنا چاہتی ہو میرے ہاتھوں ۔۔” داريان نےگھورتے غصے میں دیکھا ۔۔

” مار سکتے ہیں تو مار دے ۔۔” اتنے مہینوں کا دل بھرا پڑھا تھا آج سب بہنے لگا اسے دیکھ کر ۔۔

” اگر دور جانے کی بات کی تو ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا تمہیں اور خود کو مارنے میں ۔۔” داريان غصے میں کہتا اسکو اپنی طرف کھینچا ۔۔وہ سیدھا اسکے سینے سے لگی دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے میں الجھنے لگی ۔۔

” پلیز داريان مت لے آزمائش ہماری ۔۔” انعل اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فاصلہ بنایا تھا ۔۔

” انعل حیات تم داريان حیدر خان کی نفرت سے عشق تک کا سفر ہو۔۔” وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھتا جھک کر ان پر اپنے ہونٹ رکھ گیا انعل اسکے نرم لمس پر شدت سے رونا شروع ہوگٸ ۔۔

” شش خاموش اب ان آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہ دیکھوں ورنہ جانتی ہو نہ اپنے داريان کو”۔۔!! داريان اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا پیار محبت سے کہتا اسے اپنے گلے لگاگیا ۔۔شدت سے اسے خود میں سمایا ۔۔یہ تڑپ تھی یہ محبت تھی یہ عشق تھا یہ ان دونوں کا سکون تھا ایک دوسرے کے لئے وہ کیا تھے وہ جانتے تھے ۔۔۔ داريان کچھ دشمنوں کی نظروں سے دور رہ کر اپنے کام کو انجام دینے میں وقت لگا گیا تھا اور وہ اب پاک فوج آئ ایس آٸ کے لئے کام کرتا تھا اب انکے ساتھ ہاتھ ملالیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے ایک مافیا مین رہے گا لیکن اب کوئی کام غلط نہیں ہونے دیگا بلکہ اسے خود سہی کریگا اور اسے اچھے سے اپنے بزنس کو استعمال کریگا اب ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *