Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 05)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 05)
Mera Ishq by Mahra Shah
” یہ لو ۔۔۔یہ کیا ہے ۔۔۔!! زویا نے ایک پیپر اسے دیا اروبا نے نا سمجھی سے کہا ۔۔
” تم نے کہا تھا نہ جاب کا ۔۔ ویسے دیکھنے میں بہت معصوم ہو اندر سے بہت چلاک ہو خیال رکھنا وہاں اچھے برے سب آتے ہیں اور وہ جگہ ہے کلب کے پاس ہے ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ ہے ۔۔!! اروبا نے اسے جاب کے لئے کہا تھا جس پر زویا حیران ہوئی تھی وہ یہاں گھومنے آئی تھی پھر جاب کیوں کرنی تھی اسے لیکن اروبا میڈم کے نخرے ۔۔
” آپ ابھی تک خفا ہے اس بات کے لئے ۔۔!! اروبا نے معصومیت سے پوچھا آریان کے گھر جو ہوا اس بات کا ۔۔
” میرے خفا ہونے سے کیا ہوتا ہے میری قسمت میں کوئی منانے والا نہیں ۔۔!! زویا نے گہرا سانس لیتے ہوئے افسوس سے کہا تھا ۔۔
” آپ کا کوئی بوائے فرینڈ وغیرہ نہیں ہے مطلب آپ یہاں رہتی ہو رات کو کبھی دیر سے آتی ہے دوست وغیرہ کے ساتھ ہوتی ہونگی اور آپ اتنی بولڈ ہے برگر ہے سو ہمیں لگا شاید آپکا کوئی سین مم ۔۔مطلب کوئی چاہنے والا ہو جس سے آپ محبت کرتی ہو ۔۔!! اروبا نون سٹوپ بولتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا وہ بول کیا رہی ہے زویا تو بس اسے دیکھتی رہ گئی وہ کیا کیا سوچتی ہے اسکے بارے میں ۔۔
” یہ سب تم میرے بارے میں سوچتی ہو کیا اتنا فضول ٹائم ہے تمہارے پاس ۔۔!! زویا اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا جو ڈھیلی شرٹ ٹراؤزر میں تھی بالوں کا جوڑا بنا ہوا تھا آگے ہی چھوٹے سے بال اسکے ماتھے پر تھے بڑی بڑی کالی آنکھیں اس پر تكی ہوئی تھی گلے میں سمپل سی چین گلابی سفید رنگ اسکا اس پر بلیک کلر کے ہی کپڑے تھے وہ بہت کیوٹ دلکش حسین تھی زویا کو بہت پیاری لگی پر زویا بھی کم نہیں تھی خوبصورتی میں ۔۔
” آپ کو برا لگا ۔۔۔۔ ارے نہیں مجھے تو بہت اچھا لگا تم میرے بارے میں اتنا سوچتی ہو ۔۔۔!! زویا کا طنز وہ اچھے سے سمجھا گئی تھی ۔۔۔
” سوری ۔۔۔ ہاہاہا تم بہت کیوٹ ہو یار ۔۔۔ اچھا میں ایک سمپل لڑکی کو جس کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں کبھی بنایا نہیں کیوں کے یہ سب ٹائم ویسٹ ہے یار جس نے آپکی زندگی میں آنا ہے نہ وہ آکر ہی رہے گا اگر خود بھی پاک اچھے ہونگے تو ہم سفر بھی ایسا ہی ملے گا سمجھی ۔۔۔!! زویا ہنستے ہوئے اسے سمجھنانے لگی ۔۔
” آپ بہت پیاری ہے دیکھنا آپ کو بہت اچھے آپکی طرح سمجھدار ہمسفر ملے گا ہم دعا کریں گے ۔۔۔!! اروبا کو اسکی بات دل سے لگی تھی ۔۔
” اچھا یہ بتاؤ آریان نے تمہیں چیزیں دے دی ہے ۔۔۔۔۔۔ اپس ہم تو بھول گئے ان سے لینا ابھی لیکے آتے ہیں ۔۔۔!! زویا کے پوچھنے پر وہ سر پر ہاتھ مار تے ہوئے تیزی سے دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے رک گئی اسے اپنا صبح والا واقعی یاد آیا ۔۔
” زویا کیا آپ ہمارے ساتھ چلیں گی وہ نہ بہت کھڑوس ہے ان سے بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے ۔۔!! اروبا اکیلی نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔۔
” کچھ نہیں کرتا یار میں بہت تھک گئی ہوں گڈ نائٹ ۔۔۔!! زویا نے تھکے ہوئے انداز میں کہا اور روم میں بند ہوگئی اروبا منہ میں انگلی ڈالے سوچ رہی رہی جاۓ یا نہیں پھر ہمت جمع کرتے ہوئے باہر نکلی ۔۔
” یا اللّه نہیں آہہہ ۔۔۔!! اروبا جیسے ہی باہر نکلی وہ لفٹ سے باہر آتا سیدھا وہیں آتا دکھائی دیا جیسے ہی اروبا بھاگنے کو واپس اندر جانے لگی تھی کے دروازہ بند ہونے پر اسکا سر زور سے لگا وہ کراہتے ہوئے وہی سر رکھ کر رک گئی آریان ایک نظر اس بیوقوف پر ڈالتا اپنے فلیٹ میں چلا گیا جب اسے محسوس ہوا وہ نہیں ہے تو سر پکڑے پیچھے ہوئی دیکھا کوئی نہیں تھا شکر کا سانس لیتے ہوئے پھر سے ہمت کی اسکے دروازے پر جانے کی ۔۔۔
” یس ۔۔۔ آ ۔آپ کون ۔۔۔!! اروبا کے بیل بجا نے پر ایک خوبصورت گولڈن بالوں والی لڑکی نے کھولا اروبا حیرت سے اس انگریزن لڑکی کو دیکھا ۔۔۔
“وہ ہم ۔۔۔۔ یہاں کوئی لڑکی ہے ۔۔۔!! الینا اسے دیکھتے ہوئے پیچھے آریان کو آواز دی وہ گولڈ ڈرنک ڈالتے ہوئے ذرا کو روکا پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے الینا کے پاس جاکے کھڑا ہوتے اسے دیکھا جو ابھی تک اس لڑکی کو گھور رہی تھی ۔۔
” میں نہیں جانتا ایسے دروازہ بند کردو یہاں کے لوگ بہت ڈسٹرب کرتے ہیں ۔۔۔!! آریان سرد لہجے میں کہتا ایک نظر اس پر ڈالتا دروازہ بند کر دیا جو کھلے منہ سے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اور بڑی کرتی اسے صدمہ سے دیکھ رہی تھی کے دروازہ بند ہونے پر ہوش میں آتی غصے میں گھور نے لگی ۔۔۔
” کیا کہا انہوں نے ابھی ہمیں نہیں جانتے ۔۔ اور منہ پر دروازہ بند کر دیا ۔۔ ضرور کوئی گندا کام کر رہیں ہونگے تبھی تو ہمیں پہچاننے سے انکار کردیا اور اتنی رات کو ایک لڑکی کو اپنے پاس بلایا ہے شرم نام کی کوئی چیز نہیں اس بندے میں ۔۔۔!! اروبا وہیں بند دروازے کو دیکھتے ہوئے اپنی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی پتا نہیں کیوں اسے برا لگا تھا آریان کا کہنا اسکا کسی لڑکی کے ساتھ ہونا غصے میں بڑبڑاتی ہوئی واپس آگئی ۔۔
★★★★
” تھکتے نہیں تنہا رہ کر ۔۔۔!! زید اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا وہ دونوں ہی ابھی تک جوان خوبصورت لگتے تھے ۔۔
” یہ تنہائی میں اپنی زندگی میں خود لایا ہوں ۔۔ پھر تھکنا کیسا تم پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے ہمارا وہ نہیں ہے اب جس کے لئے تم آتے تھے ۔۔۔!! ڈی اے نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
” کس نے کہا وہ نہیں ہے ۔۔۔ وہ آج بھی ہے ہمارے درمیان میں ۔۔ اسکی نشانی ہے ہمارے بیچ ۔۔ پھر کیسے چھوڑ دوں پیچھا ۔۔۔!! زید سر جھکا کر دل سے مسکرایا تھا ۔۔
” تم نے میرے بیٹے کو غلط راستے پر لا کر اچھا نہیں کیا بہت جلد پچھتاؤ گے اپنے فیصلے پر ۔۔!! ڈی اے نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” تم اسے روکنا کیوں چاہتے ہو ۔۔۔ بھول گئے ہم بھی اسی دنیا کے ہیں اگر اسے دور رکھا تو اسکے ساتھ کیا ہو سکتا ہے یہ تم بھی اچھے سے جانتے ہو پھر کیوں کرتے ہو ایسا ۔۔۔!! زید غصے میں غرایا تھا ۔۔
” کیوں نہ روکوں اسے کیا دیا ہے اس دنیا نے ہمیں کیا ملا ہے یہاں سے یہاں کے لوگ دیتے نہیں لیتے ہے نفرت ہے مجھے تم سب سے میری زندگی میری سانسیں تو چھین لی اب میری جینے کی وجہ کو بھی چھیننا چاہتے ہو ۔۔۔ ڈی اے غصے میں دھاڑ آگے بڑھ کر زید کا کالر پکڑا ۔۔۔
” اس لئے میں بھی اسے کھونا نہیں چاہتا پہلے ہی بہت کچھ کھو چکا ہو مزید طاقت نہیں کچھ بھی ایسا مت کرنا جیسے تمہیں یا اسے نقصان پہنچے ۔۔۔۔!! زید اسکے ہاتھ جھٹک کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا داريان غصے میں سب چیزیں ٹیبل سے اٹھا کر پھینک دی ۔۔
★★★★
” یا اللّه ہم کیا کریں کہاں جائے کیوں ہماری ملاقت اس کھڑوس سے ہوئی نہ ہوتی نہ ہی ہمارے چیزیں کہیں جاتی اب کیسے لے ہم نے تو انکا فون بھی واپس کردیا وہ کیوں نہیں دے رہیں ہے آآہ ۔۔۔۔!! اروبا خود سے بڑبڑا تے ہوئے افسوس کر رہی تھی باہر نکلتے ہی اسی نظر آریان پر گئی وہ اپنی گاڑی سے تھوڑا دور فون پر بات کر رہا تھا بلو جیسی بلیک شرٹ اس پر ہی بلیک لیڈر جیکیٹ پہنی ہوئی ماتھے پر بال سیٹ کئے ہوئے تھے وہ بہت وجیہہ دلکش لگ رہا تھا اروبا کا دل اسے دیکھتے ہی دھڑکا تھا ۔۔
” شش ابھی نہیں ورنہ انھیں پتا چل جائے گا ۔۔!! اروبا اپنے دل پر ہاتھ مار تے ہوئے خود کو ریلکس کیا کیوں کے اسکے دماغ میں اسی گاڑی کو دیکھ کر آئیڈیا آیا تھا اور اس نے فورن عمل کیا وہ دھیرے سے چلتی ہوئی اسکے گاڑی کے پاس آئی اسے یاد آیا اسکا موبائل فون اسکی گاڑی میں ہی گر گیا تھا ۔۔
” آہ یہ کھول کیوں نہیں رہا آہہہ ۔۔۔ وہ گاڑی کے دروازے پر زور ڈالتے ہوئے اسے کھولنے لگی تھی کے اسنے ریموٹ سے لاک کھول دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا اروبا کے زور ڈالنے پر وہ کھول گیا اور وہ دھڑام سے نیچے گر گئی آریان آپنا قہقہہ روکتا مسکراہٹ دباتا اسکے سامنے سنجیدگی سے کھڑا ہو گیا اروبا ان کالوں جوتوں پر نظر ڈالتے آنکھیں زور سے میچ گی مطلب اتنی محنت کے بعد بھی وہ پکڑی گئی اوپر سے ہاتھ کی کہنیوں پر بھی لگی چوٹ ۔۔
” بہت فضول ٹائم ہے تمہارے پاس تو اسے کہیں اور جاکے ویسٹ کرو میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں نون سینس ۔۔۔!! آریان غصے میں کہتا آگے بڑھا ۔۔
” رکیں آپکی ہمت کیسے ہوئی ہمیں یہ کہنے کی ہم خوشی سے نہیں مجبوری میں آتے ہیں آپ جان کر ہمیں اپنے پاس بلاتے ہے ایک بار میں ہی دے کیوں نہیں دیتے ہماری چیزیں واپس ۔۔۔!! اروبا ہاتھ کے درد کو بھول کر اسکے سامنے جاکے کھڑی ہوگی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے میں بولنے لگی آریان آئبرو اچکاتے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا ۔۔۔
” دوبارہ مجھے اپنے آس پاس دیکھی تو سانس لینے کے قابل نہیں چھوڑوں گا تم مجھے جانتی نہیں آریان حیدر خان دوسرا موقع نہیں دیتا یاد رکھنا ۔۔۔!! آریان غصے میں اسکی چیزیں دیتا اسے وارننگ دے کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
” ایسے کیسے آمنا سامنا نہیں ہوگا ہمارا ۔۔۔ ایک ہی جگہ ساتھ رہتے ہیں تو ملاقات ہوتی رہے گی سی یو سون ۔۔!! بدلے میں اروبا دل جلانے والی مسکراہٹ پاس کرتی منہ چڑا کر آگے بھاگ گئی اسکے سامنے رکنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی آریان اسکے انداز پر مٹھیاں بھنیچ گیا ۔۔۔
ریڈرز بھی بیزار ہو گے ہے رائیٹر بھی یہ والا سین لکھ لکھ کر تھک گئی ہے انھیں آگے بھی تو اسٹوری بڑھانی ہے نہ پتا نہیں کیا بنے گا اروبا آپکا ۔۔!! وہ اپنی عادت سے مجبور خود سے بڑبڑا نے لگی ۔۔
★★★★
” ویلکوم ٹو مافیا گینگ مسٹر احد مرزا ۔۔۔ ان سے ملو یہ ہے آریان حیدر خان کچھ دن پہلے ہی جوائن کیا ہے اس نے بھی ۔۔!! ان میں سے ایک نے آریان کو ایک شخص سے ملوایا بدلے میں وہ بھی گرم جوشی میں ملا آریان دونوں آنکھوں میں آنکھیں ملاۓ سنجیدگی سے ہاتھ ملا کر دیکھ رہے تھے کچھ تو تھا دونوں کی آنکھوں میں بہت گہرے راز ایک نئی جیت کی خوشی ایک جنگ کا علاج ایک نئی شروعات عشق کی نفرت کی دوستی کی ۔۔۔
” مل کر خوشی ہوئی بہت اچھی بنے گی ہماری ۔۔۔!! احد مرزا نے ہاتھ پر زور ڈالتے ہوئے کہا ۔۔
” نیور یو نو ۔۔۔!! آریان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
” ہاہاہا یس آئے نو یو ۔۔!! احد نے ایک الگ ہی انداز میں ہنس کر کہا باقی سب اپنی ہی باتوں نشے میں مصروف تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے ۔۔
” چلو آؤ پاس میں ایک ریسٹورنٹ ہے وہاں بیٹھ کر تفصیل سے بات کرتے ہیں کم ان بوائز ۔۔۔!! حازق ان دونوں کے پاس آکر کہتا آگے بڑھا پیچھے وہ بھی ۔۔۔
★★
” ہیلو سر ایکچولی مجھے یہاں زویا نے بھیجا ہے انہوں نے کہاں آپ سے بات کرو ۔۔۔!! اروبا نے مینجر کے پاس آتے ہی کہا کچھ باتوں کے بعد اسے ویٹر والی جاب دیدی تھی وہ اپنے کپڑے چینج کرتی بلیک پینٹ شرٹ پہنے بالوں کی پونی کرتے ہوئے تیار ہو کر باہر آئی آگے سے کٹے ہوئے پل ماتھے پر بھكرے ہوئے تھے وہ اس لک میں بہت حسین دلکش لگ رہی تھی مسکراتے ہوئے گال پر پڑتا ڈمپل اسے اور بہت خوبصورت بناتا تھا ۔۔
” ہیلو میں ڈیزین نیو آئی ہو ۔۔!! ایک لڑکی نے اروبا کو دیکھتے ہوئے خوش دلی سے تعرف کروایا ۔۔۔
” ہیلو ہم اروبا ایکچولی ہم یہاں آج ہی آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نروس ہو ۔۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ فرسٹ کلاس فرسٹ ٹائم ۔۔۔!! اروبا تھوڑا نروس ہوتے ہوئے کہا پر اسکے ساتھ بات کرتے ہوئے بہت اچھا لگ رہا تھا اسے ۔۔
” ہاہاہا اٹس اوکے آئے گائیڈ یو ۔۔۔۔۔۔ تھنک یو سو مچ ۔۔۔۔فرینڈز ۔۔۔یس ۔۔۔!!! دونوں میں بہت اچھی باتیں ہونے کے بعد اچھی دوستی ہوگئی تھی وہ اسے بہت اچھے سے سمجھا رہی تھی یہاں کے ماحول کے بارے میں دونوں ہی انگلش میں باتیں کر رہیں تھے کیوں ڈیزین کو اردو نہیں آتی تھی اسے اروبا بہت کیوٹ لگی تھی اور اروبا کو اسکا فرینک ہونا ۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” تین ڈرنک ۔۔۔ نو ون کوفی ۔۔۔ سیریسلی تم شراب نہیں پیتے ۔۔۔۔!! احد کے ڈرنک آرڈر کرنے پر آریان نے جلدی سے اپنے لئے کچھ اور آرڈر دیا احد نے آئبرو اچکاتے طنزیہ کہا ۔۔
” اپنے جیسا سمجھ رکھا ہے سب کو ۔۔۔!! آریان ضبط سے بولا دونوں کی آنکھوں میں چیلنج تھا ایک نئے سفر کا ۔۔
” کم اون گائیز ایک دوسرے سے یہ طنزیہ باتوں میں لڑنا تو چھوڑو عورتوں کی طرح لگ رہے ہو دونوں مجھے اس وقت ۔۔۔!! حازق چڑ کر بولا کب سے دونوں کو لڑتا گھور تا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ہاہاہاہا کم ان یار ہم دوست نہیں رہیں اب کیوں سہی کہا نہ مسٹر آریان دشمنی کا بھی کوئی لیول ہوتا ہے ۔۔۔!! احد نے دل جلا نے والی مسکراہٹ سے کہا آریان کو بہت غصہ آرہا تھا اس پر لیکن اس وقت وہ صرف ضبط کر سکتا تھا اپنے غصے کو ۔۔
” اروبا یہ آرڈر لو اور وہ جو سائیڈ ٹیبل پر لوگ ہے نہ سات نمبر ٹیبل وہاں دے کر آؤ ۔۔۔۔۔۔ ہم اتنی جلدی مطلب ابھی تھوڑا سیکھنہ چاہئیے تھا نہ ہمیں ۔۔۔۔۔ کیوٹ گرل یہی سے تو سیکھو گی اب جاؤ ۔۔۔۔ اوکے ۔۔۔!! ڈزین اسے کام سیکھنے لے لئے تیار کیا اور وہ اتنی جلدی ایسا کام کرنے پر تھوڑا گھبرا گئی تھی ۔۔
” یہ رہا آپ کا آرڈر ڈرنک كوفی پیزا ۔۔۔!! اروبا یہ سب چیزے لیکے ان کے ٹیبل پر جاکے رکھتے ہوئے کہا آریان اپنے موبائل فون میں لگا ہوا تھا اسکا سر جھکا ہوا تھا اس وجہ سے وہ اسے دیکھ نہیں پایا حازق تو پیزا پر ٹوٹ پڑا جب کہ احد کی تو اسکے خوبصورت چہرے پر نظر ٹک گئی ایک دم سے اسکا دل زور سے دھڑکا تھا اسے دیکھ کر ۔۔
” لسن سوڈا کہاں ہے وہ تو لیکے آؤ ۔۔؟ حازق کے سوال پر وہ جاتے ہوئے رک گئی اور حیرت سے اسے دیکھا ۔۔
” سوڈا پکوڑوں والی وہ تو کھانے میں ڈالتے ہے آپ کو کیوں چاہئیے ۔۔۔۔!! اروبا کے بیوقوفہ نہ سوال پر جہاں آریان نے حیرت سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا وہیں احد کا جاندار قہقہہ چھوٹا اور حازق نہ سمجھی سے اسے دیکھا جس نے پتا نہیں کون سی زبان میں اسے جواب دیا تھا ۔۔۔
” سوری وہ کیوں چاہئیے ۔۔۔۔۔ آر یو کریزی تمہیں نہیں پتا شراب میں ڈالتے ہیں ۔۔۔!! حازق نے اسے گھورتے ہوئے سمجھایا ۔۔۔
” واٹ یہ یہ شراب ہے توبہ توبہ استغفرالله یا اللّه یہ ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیا یہ تو غلطی سے ہاتھ لگ گیا ہم نے تو آج تک دیکھا بھی نہیں شراب کو اس لئے ہمیں نہیں پتا چلا اللّه میاں پلیز ہمیں معاف کردے دوبارہ شراب والا آرڈر نہیں لے گے ہم ۔۔۔!! حازق کے شراب بتانے پر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے صدمہ سے منہ کھولتے سامنے شراب کی بوتل کو دیکھا جیسے وہ ڈرنک سمجھ کر لائی تھی ہوش میں آتے وہ جھجھری لیتے توبہ کرنا شروع ہوگئی جو پاس میں ٹیبل پر لوگ تھے وہ سب ہنستے ہوئے اسے دیکھ رہیں تھے احد تو بہت دلچسپی سے دیکھا رہا تھا اور وہی آریان غصے میں لال ہوتے اسے کھاجانے والی نظروں سے گھور رہا تھا اور اروبا اس نظروں سے بےخبر اپنے آپ سے بڑبڑاتی اللّه سے معافی مانگنے میں تھی ۔۔۔
” آئے ویل کل یو گرل ۔۔۔۔ اسٹاپ حازق ۔۔۔ آہہہ ۔۔۔!! حازق کو لگا وہ اسکا مذاق بنا رہی ہے اپنی ہی زبان میں وہ غصے میں مارنے کی دھمکی دیتا اٹھتا وہ سامنے تھا اروبا کے بیچ میں ٹیبل تھی اور ٹیبل کے دونوں سائیڈ پر احد آریان تھے دونوں ہی تیزی سے اٹھ کر اسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا حازق کے ریکشن پر اروبا ڈرتے ہوئے آنکھیں بند کرلی تھی پھر دھیرے سے جیسے ہی آنکھیں کھولی سامنے وجود کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہی اسکی سانسے خشک ہونے لگی تھی ۔۔۔
” چھوڑو مجھے یہ مجھے گالیاں دے رہی ہے یو ۔۔۔ شث اپ ۔۔۔ وہ تمہیں گالیاں نہیں دے رہی ریلکس یار ۔۔۔!! احد جلدی سے اسے ٹھنڈہ کرنے لگا وہ اسے اپنی طرف سے کچھ باتیں بولتا خاموش کروا دیا اروبا حیرت سے اس آدمی کو دیکھا جیسے کسی بھی حال میں اسے مارنس تھا اسے جی بھر کر غصہ آیا اس پر پر ڈزین وہاں پوچھ کر جلدی سے معاملے کو سنبھالا تھا ۔۔
” اس کی طرف سے ہم سوری کرتے ہیں وہ یہ کچھ زیادہ جذباتی ہے آپکی زبان کو غلط سمجھ بیٹھا ۔۔۔!! احد نے جلدی سے معذرت کی ۔۔۔
“آ ۔۔ آپ کو آتی ہے اردو سمجھ ۔۔۔!! اروبا نے ڈر تے ہوئے پوچھا اسے لگا یہاں اسکی زبان کسی کو سمجھ نہیں آتی ہوگی تو وہ غصے میں ان کو گالیاں بھی دے سکتی ہے پر ابھی شکر وہ گالیاں دینے سے بچ گئی آریان کی نظریں خود پر محسوس کرتے ہوئے اپنا دھیان احد کی طرف کر رہی تھی دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔
“انھیں پکا اردو سمجھ نہیں آتی نہ ۔۔۔!! اروبا کے پوچھنے پر احد نفی میں سر ہلایا وہی آریان نے آنکھیں بند کی وہ جانتا تھا اب یہ کیا کرے گی آریان یہاں تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اس سے بات نہیں کی ۔۔
” کتا کمینہ انگریز یہ ہمیں ماریں گے اللّه کریں خود مر جائے کسی گٹر میں گر کر خود کشی ہو جائے آپکی آمین آپ بھی امین بول دے اردو آتی ہے نہ مسلمان ہو نہ ۔۔۔!! اروبا حازق کو خون خوار نظروں سے گھورتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکال کے آخر میں احد کو بولتے ہی آگے بڑھ گئی اسکے اس پیارے انداز پر احد کو خوب پیار آیا اس پر وہیں آریان نے اپنی مسکراہٹ دبائی ۔۔۔
” یہ یہ کیا بول رہی تھی مجھے دیکھ کر اور تم لوگ مسکرا کیوں رہے ہو میں اسے نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔!! حازق اسکی چلتی تیز زبان کو اپنی طرف اسکی انگلی اسکی گھور تی نظریں دیکھتا غصے میں احد کی طرف گھوم کر پوچھا ۔۔۔
” ارے یار غصہ کیوں کر رہے ہو وہ تو تمہاری تعریف کر کے گئی ہے ۔۔۔۔!! احد مسکراہٹ دبا کر بولا تھا ۔۔
” اس طرح گھور کر انگلی اٹھا کر ۔۔!! حازق آئبرو اچکاتے ہوئے احد کو دیکھا ۔۔۔
” یہ اسکا انداز ہے تعریف کرنے کا یار میری بھی کر کے گئی ہے سچ میں اسے ہم لوگ بہت پسند آئے ہیں دوبارہ ملنے کی خواہش کی ہے اسنے ۔۔۔!! احد آنکھ وانک کر کے کہا آریان نے احد کے جھوٹ پر مٹھی بھینچ لی ۔۔۔
” مجھے تو بہت زہر لگی ۔۔۔ دوبارہ ملی نہ تو جان سے مار دونگا ۔۔۔ تعریف گالیاں دے کر گئی ہوگی دیکھنا ۔۔۔!! حازق کو اب بھی یقین نہیں آیا آریان غصہ میں انھیں دیکھتا وہٹا سے نکل گیا احد حازق تھوڑی دیر وہی بیٹھ کر باتیں کرتے رہیں اروبا اندر ہی تھی باہر نہیں نکلی تھی احد کی نظریں اسے ڈھونڈنے میں لگی ہوئی تھی ۔۔
★★★★
” آر یو کریزی یار یہ نارمل باتیں ہے ۔۔ یہاں پر تم اوور ریکٹ کر رہی ہو شکر کرو مینیجر تک بات پہنچنے سے پہلے سب سیٹ ہو گیا ۔۔ پہلے ہی دن تم نے لڑائی شروع کردی ۔۔۔!! ڈزین غصے میں چکر کاٹتے ہوئے پندرا منٹ سے اسے سمجھا رہی تھی ۔۔۔
” آپ کو نہیں پتا شراب ہمارے کلچر میں حرام ہے اور ہمیں نہیں پتا تھا وہ شراب ہے ہم کھبی ہاتھ نہیں لگاتے ہم دوسری چیزیں دیں گے لیکن شراب کو اب کبھی ہاتھ نہیں لگائے گے اللّه میاں ہمیں معاف کردے پلیز ۔۔!! عروبہ کو ابی تک گھبراہٹ ہو رہی تھی شراب کا سوچ کر ہی ۔۔
” اوکے ریلکس کچھ سوچتے ہیں ۔۔۔ ہاں سوچیں پلیز یہ کام نہیں ہورہا ۔۔۔!! ڈزین اسے ٹھنڈا کرنے لگی پھر کچھ سوچنے لگی ۔۔
★★★★
” ڈاکٹر حدید یہ آپ کیا کہہ رہیں ہے زویا اوپریٹ نہیں کر سکتی وہ بس یہاں کے پیشنٹس کا خیال اچھے سے رکھ رہی ہے ۔۔ پھر آپ کیوں چاہتے ہیں وہ آئے پھر سے وہ کسی کی جان خطرے میں ڈالے ۔۔۔!! فرہا کا بس نہیں چل رہا تھا وہ زویا کا کچھ کر دے جب سے وہ حدید سے ملی ہے اسے امپریس کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے لیکن اب حدید کا زویا کو ڈیفائین کرنا اسے آگ لگا گیا ۔۔۔
” ڈاکٹر فرہا پلیز ڈونٹ کروس یور لمٹس یہ فیصلے کرنے کا حق میرا ہے سو پلیز دوبارہ میرے معاملے میں مت بولنا آپ ۔۔۔!! حدید غصے سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھ گیا اسے فرہا کا زویا کے خلاف یوں بولنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔
” السلام علیکم ڈاکٹر حدید سر ۔۔۔!! زویا حدید کو آتا دیکھ کر رک گئی اسکے پاس آتے سلام پیش کیا ۔۔
” وعلیکم السلام ۔۔ آپ آپریشن کی تیاری کریں ہم ساتھ میں کریں گے ۔۔۔!! حدید سیدھا پائنٹ پر آیا اسکی بات پر زویا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی ۔۔
” جج ۔۔ جی آ ۔آپ یہ کیا کہہ رہیں ہے میں یہ نہیں کر سکتی ۔۔ اور آپ جانتے ہیں میرے پاس لائیسنس نہیں ۔۔۔!! زویا نے نظریں چرا کر کہا اس میں ہمت نہیں تھی دوبارہ یہ کام کرنے کی ۔۔
” یو ٹرسٹ می ۔۔۔۔۔۔ آئے ڈونٹ نو مم ۔۔مطلب اسکے لئے تو آپ کو جاننا پڑیگا اور میں آپ کو نہیں جانتی پھر یقین کیسے کروں ۔۔۔!!حدید کے نرم رویہ پر دل نے کہا ہاں کردو پھر دماغ کی بات مان لی زویا نے ۔۔
” اگر آپ مجھے برا بھلا کہنا چھوڑ دے تو ہم انسانوں کی طرح بیٹھ کر نارمل بات کر سکتے ہیں ۔۔۔ پھر ایک دوسرے کو جان لے گے اچھے سے ۔۔ لیکن ابھی ٹائم نہیں آپ کو میرے ساتھ آنا ہوگا تیاری کر لے ۔۔۔!! حدید ہلکا سا مسکرا کر کہتا آگے بڑھ گیا زویا کو اپنی تیز ہوتی دھڑکن محسوس ہوئی ۔۔۔
★★★★
” چاروں طرف توجہ رکھیں سنا ہے کچھ ملک کے ایجنسی لوگ شامل ہوئے ہیں تم لوگوں کی گینگ میں ۔۔۔!! وہ کچھ کوڈ میں لکھے الفاظ کو سہی کرتے ہوئے پڑھا ۔۔
” اگر ایسا ہے تو وہ لوگ بچ نہیں پائیں گے لیکن اب ہمیں بہت سمجھ داری سے کام کرنا پڑیگا بس ایک بار انکے بوس تک پہنچ جاۓ پھر انکی گینگ کا قصہ ہی ختم ۔۔۔!! وہ دشت زدہ لہجے میں بولا پانجمچ لوگ تھے سب کی آنکھوں میں غصہ نفرت سے سرخ تھی ۔۔۔
” وہ لوگ ہمیں ہمیشہ کمزوریوں پر وار کرتے ہوئے معصوم لوگوں کی جان لیتے ہیں ۔۔۔ لیکن اب نہیں بہت برداشت کرلی انکی اب ہم وار کریں گے ۔۔۔!! دوسرا ٹیبل پر پڑے نقشے پر دیکھتا ہوا بولا ۔۔
” نہیں پہلے انھیں کرنے دو وار ۔۔۔ ورنہ انھیں شک ہو جائیگا ۔۔۔ ابھی گینگ جوائن کی ہے پہلے انکے سارے راز جاننے ہونگے اوکے ۔۔۔۔ یس سر ۔۔۔!! کیپٹن کے بولنے پر سب ہم آواز ہو سلوٹ کیا اسکی آنکھوں میں ایک جنون تھا ایک جذبہ تھا اپنے ملک کے لئے حفاظت کا ذریع تھا وہ سیاہ فام نوجوانوں سب کے چہرے ماسک سے چھپے ہوئے تھے ان میں وہ کالی گہری آنکھیں دشہت زدہ اپنے مشن کے لئے کتنی بے چین تھی یہ وہ سب سمجھ سکتے تھے ۔۔۔
★★★★
” کہا سے آرہے ہو ۔۔۔؟ داريان اسکا منتظر صوفہ پر بیٹھا تھا اسے اندر آتا دیکھ کر سنجیدگی سے بولا ۔۔
” آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔۔!! آریان اسے دیکھتا آگے بڑھا تھا کے داريان کے سامنے آنے پر رک گیا ۔۔
” آریان پیار محبت سے جواب نہیں دے سکتے ۔۔؟ داريان اسکے بازوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے تھکے ہارے ہوئے کہا ۔۔
” پیار ۔۔ محبت ۔۔ سیریسلی ڈیڈ آپ کو مطلب پتا ہے انکا ۔۔۔!! آریان ایک ایک لفظ الگ الگ بولنا دکھ سے مسکرایا تھا داريان نے اذیت سے آنکھیں میچلی ۔۔
” آپ ۔۔ کیوں آتے ہیں بار بار ۔۔ کیوں مجھے اذیت دیتے ہیں کیوں مجھے اس پرچھائی کی یاد دلا تے ہے جس سے میں محروم رہا ہوں ۔۔؟ آریان غصہ غم میں چلایا تھا ۔۔
” تمیز سے باپ ہوں تمہارا ۔۔ تم جو مجھے اذیت دیتے ہو اسکا کیا ۔۔ تم میں جس کی پرچھائی دیکھ کر تڑپتا ہوں اسکا کیا ۔۔ تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں اسکا کیا آریان ایک بار تم سے پیار سے باتیں کرنا چاہتا ہوں تمہیں گلے لگانا چاہتا ہوں یار کیوں دے رہیں ہو اپنے باپ کو اتنی بڑی سزا پلیز رک جاؤ آریان میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا میرے ساتھ مت کرو ایسا ۔۔!! داريان خود کو رونے سے روکا پر اسکا ضبط ٹوٹ گیا وہ اسکے گلے لگا کر روتے ہوئے کہ رہا تھا آریان نے ضبط سے آنکھیں بند کرلی تھی ہاتھوں کی مٹھی بھینچ لی پر ہمت نہیں دے پایا باپ کو ۔۔ وہ جتنا اس سے دور بھاگتا نفرت کرتا لیکن وہ اپنے دل میں اسکے لئے محبت کو نہیں مار پایا اسے آج بھی یقین نہیں آتا تھا اسکے باپ نے کیا کیا تھا کیسے اسکی ماں سے وہ دور ہوا تھا وہ بھی ضبط کی انتہا پر تھا لیکن آج داريان جہاں کھڑا تھا ٹوتا بکھرا اسے اپنے بیٹے کی ضرورت تھی ۔۔
” ڈ۔ ڈیڈ ۔۔۔۔ پلیز مجھے اپنے بیٹے سے دور مت کرو پلیز ۔۔۔!! آریان گہرا سانس لیتا اسے دور ہونا چاہا پر داريان کی گرفت مضبوط تھی وہ اسے الگ ہونا چاہتا تھا آریان کو وہ آج بہت تھکہ ٹوٹا ہوا لگا وہ خاموش سے آنسؤں بہاتا اسکے گرد حصار بانڈ دیا اپنے باپ کی آغوش میں سکون تھا اسے ہمیشہ جب بھی داريان اسے زبردستی گلے لگاۓ یو ہی کچھ دیر کرتا تھا اسے سکون ملتا تھا ہمیشہ سے پر ظاہر وہ صرف اپنی نفرت کرتا تھا پیار نہیں ۔۔۔
★★★★
” افف بہت تھک گئے ہے ہم ۔۔ اتنا کام آج تک گھر میں نہیں کیا اپنے اڈوینچر کے چکر میں خود ہی پیس گئے آہ ۔۔۔!! عروبہ لفٹ میں آتے ہی روتی صورت بنا کر بڑبڑائی خود سے ۔۔۔
” اللّه میاں آج اس مسٹر کھڑوس کا سامنا نہ ہو پلیز پہلے ہی تھکے ہوئے ہیں مزید طاقت نہیں انکے لیکچر سننے کی ۔۔ جب سے یہاں آئے ہے کچھ اچھا نہیں ہو رہا ہمارے ساتھ ۔۔ ایک تو انکی آنکھیں ہی اسی ہے دیکھتے دیکھتے ہی مار دے ۔۔۔ پتا نہیں کیا آنکھوں میں ڈالتے ہیں اتنی دہشت ۔۔!! عروبہ اپنے ہی رو میں بولتے ہوئے آرہی تھی وہی ایک کی آنکھوں میں حیرت تو دوسرے کی دہشت غصہ میں لال تھی اور وہ تھکے ہوئے منہ لٹکاۓ آنکھیں بند کرتے ہی گہرا سانس لیتی جیسے ہی سر اوپر کیا ڈر سے اسکی چیک نکل گی اسنے جلدی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ایک دم سے اسکا دل تیز دھڑکا وہ اپنی جگا ساکت ہوگئی تھی مقابل کو دیکھ کر آریان غصےمیں اسے گھور رہا تھا پر انکی نظریں داريان پر تھی آریان حیرانگی سے ایک نظر اسے دیکھتا پھر باپ کو دیکھا جو خود اپنی جگا ساکت کھڑا آنکھوں میں حیرت لئے اسے دیکھ رہا تھا عروبہ کا دل خوف سے دھڑکنے لگا ماضی کے کچھ منظر دونوں کی آنکھوں کے آگے لہرائے تھے ۔۔
” تم اندر جاؤ ۔۔۔!! آریان کی آواز پر دونوں ہوش میں آئے عروبہ اسے خوف سے دیکھتی تیزی سے بھاگتی اندر چلی گئی ۔۔۔
” یہ سب کیا تھا ۔۔ آپ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر چونک کیوں گے کیا آپ جانتے ہیں اسے ۔۔۔!! آریان باپ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔
” میرا ماضی میرے سامنے آرہا ہے ۔۔ میں بہت کمزور محسوس کر رہا ہوں خود کو ۔۔ تم سے ایک ریکوئسٹ ہے داريان حیدر خان کبھی مت بننا پلیز ۔۔ اس لڑکی کا بہت خیال رکھنا ۔۔۔!! داريان گہرا سانس لیتا خود پر ضبط کرتے ہوئے کہا وہ جتنا اپنے ماضی سے بھاگتا وہ گھوم پھر کر اسکے سامنے آرہا تھا ۔۔
” آپ بھول گئے میں اپکا ہی خون ہو تو آپ کے جیسا ہی بنو گا ۔۔!! آریان طنزیہ کہا ۔۔
” آپ نے بتایا نہیں وہ کون ہے میں اسکا خیال کیوں رکھوں میرا کون سا رشتہ ہے اسکے ساتھ ۔۔۔!! آریان سپاٹ نظروں سے باپ کو دیکھا ۔۔
” وہ جو بھی ہے تمہارا اسکے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے ۔۔ تم یہ سمجھو وہ تمہاری امانت ہے ۔۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔!! داريان سنجیدگی سے کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھ گیا ۔۔
” ڈیڈڈڈ ۔۔ ڈیم اٹ پوری بات بتا کر جاتے ۔۔ کیا رشتہ ہے اس بیوقوف لڑکی کے ساتھ شٹ ۔۔۔!! آریان غصے میں پنچ زور سے دروازے پر مارا داريان کی ادھوری بات نے اسے پریشانی کے ساتھ غصہ دلا دیا تھا ۔۔۔
