Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 18)

Mera Ishq by Mahra Shah

” آئی ایم سوری ڈیڈ میں نے بہت تنگ کیا آپ لوگوں کو آپ لوگ میری وجہ سے اتنے پریشان رہے تھے ۔۔۔!! ہیر واقعی شرمندہ ہوئی تھی ان کی خود کی نظروں میں ۔۔۔ وہ ماننے لگی تھی اسنے جو کچھ کیا بہت غلط کیا تھا وہ جذبات میں آ کے سب کو ہرٹ کر رہی تھی ۔۔۔

” تنگ تو آپ کرتی نہیں اب دیکھے کتنا خاموش لگتا ہے گھر آپ کے شور سے ہی رونق تھی ایک وہ صاحب زادی پاکستان آنے کا نام نہیں لیتی دوسری ہو کر بھی ہمیشہ اداس کر رہی ہے ۔۔۔۔!! حنان اس کو پہلے والے مستی شور والی ہیر یاد دلائی ۔۔۔

” اچھا تو آپ مجھے مس کر رہے ہیں پھر ڈانٹیں گے نہیں اگر میں نے پھر سے شور مچایا تو ۔۔ اور وہ آپ کی بیوی کب سے اتنی خاموش ہو گئی ہے ۔۔!! ہیر آخری میں ماں کو بیچ میں لاتی شرارت سے بولی زافا جو اسے اتنے دنوں بعد باتیں کرتا تھوڑا خوش دیکھ ہی اس کی نظر اتار رہی تھی دل میں نم آنکھوں سے مسکرا دی اس کی بات پر ۔۔۔

” اپنے باپ سے پوچھوں کیا کیا ہے انہوں نے ۔۔۔!! زافا پھر اپنی ٹون میں آ گئی ۔۔حنان نے اسے گھورا تھا ۔۔

” آپ لوگ پھر سے لڑے تھے ۔۔!! ہیر دونوں کو گھور تے ہوئے پوچھا ۔۔پھر ہو گی ان کی ان بن شروع آپس میں ۔۔ ہیر کی آنکھوں میں ہنستے ہنستے آنسو آ جاتے تھے یہ بات اس کے ماں باپ اچھے سے جانتے تھے ان آنسوؤں کی وجہ کیا ہے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح خاموش رہے، داريان اس کے بیٹے انھیں بہت عزیز تھے تو اپنی بیٹی بھی اس لئے وہ کچھ فیصلہ نہیں کر پاتے تھے دونوں کے بیچ ۔۔۔

” چلو ٹھیک ہے ڈن ہوا آج ہم چھوٹی سی فیملی باہر ساتھ ڈنر کریں گے ۔۔۔!! ہیر ماں باپ کو خوش دیکھتے ہوئے اپنی جگہ بے حد شرمندگی کا احساس ہوا وہ صرف خود کا سوچ رہی تھی اس نے آس پاس اپنوں کی خوشیوں کا کبھی نہیں سوچا تھا اس لئے تو وہ آج خود کو خالی محسوس کرنے لگی لیکن کہیں نہ کہیں وہ اپنی محبت دبا کر بھی مر تی رہی پل پل وہ چاہا کر بھی احد کو نہیں بھول سکتی تھی نا ہی اس سے دور رہنے کا سوچ سکتی تھی لیکن اسے اپنے دل کو پتھر کرنا تھا اپنوں کو خوش رکھنا تھا ۔۔

★★★★

” کیا ہے بھائی اتنے بےچین کیوں ہو ۔۔۔!!

” تمہیں میرے زخموں پر نمک چھڑکنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ۔۔!! احد بگڑا تھا مجال تھی آریان کبھی سیدھے منہ بند کر کے اس سے ۔۔۔

” کام تو بہت ہے لیکن جو تیرے زخموں پر نمک لگانے میں مزہ ہے اور کہاں ہوگا ۔۔۔ اچھا بتا اپنی لوو سٹوری کا دی ینڈ کردیا تو نے ۔۔۔!! آریان پھر اسے غصہ دلا نے لگا ۔۔

” اللہ کریں تجھے ایسی لڑکی ملے جو تجھے ڈوبا ڈوبا کر مارے ۔۔۔۔ تمہیں میری جھوٹی فکر کرنے کی ضرورت نہیں میرے پاس ڈیڈ کافی ہیں ۔۔۔!! احد بیزاری سے بولتا رہا اس کا ویسے بھی آج کل دل بہت بے چین رہنے لگا تھا ایک اداسی نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا جسے دور رکھنا چاہتا تھا اب اسے دل پاس رکھنے کو تڑپ رہا تھا دیکھنے کو تڑپ رہا تھا وہ تو ایسا الوداع کہ کر گئ تھی کہ دوبارہ موڑ کر بھی نہیں دیکھا تھا دو ہفتے ہو گئے تھے ان کے بیچ اس آخری ملاقات کو ایک دو بار وہ ان کے گھر بہانے سے گیا بھی تھا لیکن خالی ہاتھ رہ جاتا تھا وہ روم سے باہر ہی نہیں نکلتی تھی جب تک کہ وہ چلا نہ جائے ۔۔۔ اب تو اس کی بےرخی غصہ دلا رہی تھی اسے ۔۔۔

” مجھے سیدھا کرنے والی ابھی تک پیدا نہیں ہوئی برو ۔۔۔ تم اپنے دل کا خیال رکھو ۔۔کہو تو ڈیڈ سے بات کروں۔۔!! آریان شرارت سے کہتے آخر میں سنجیدہ ہوا تھا ۔۔۔

” نہیں ڈیڈ غصے میں ہیں انہوں نے انکار کردیا ۔۔۔!! احد اداسی سے کہا ۔۔

” تم نے ڈیڈ سے بات کی کب کیسے ۔۔۔!! آریان بے حیران ہوا تھا ۔۔ اور احد کو اپنی داريان کے بیچ ہوئی گفتگو یاد آئی رات والی ۔۔۔

” ڈیڈ آئی ایم سوری میں بہت غلط تھا پلیز میری ہیلپ کریں ۔۔۔!! احد بے بسی سے داريان کو کال کرتے ہوئے کہا اسے نیند نہیں آتی تھی عجیب سی بےچینی نے گھر کر رکھا تھا ۔۔

” پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا جب اسے تکلیف دے رہے تھے دور جانے کی بات کر رہے تھے ۔۔ اب دوری برداشت نہیں ہو رہی ہے تم سے ۔۔۔ اس کی محبت بچپن پاگل پن مذاق یہ سب لگی تھی نہ تمہیں ۔۔۔!! داريان سخت لہجے میں اسے اچھے سے آئینہ دکھایا تھا کہیں نہ کہیں وہ شرمندہ تھا لیکن سب دل تھا کے بغاوت کرنے کو آرہا تھا ۔۔۔

” ڈیڈ پلیز میری مدد کریں میں معافی مانگنے کو تیار ہوں جو وہ کہے گی سب کروں گا بس وہ مجھے یہ سزا نہ دے میں میں مانتا ہوں میں نے ہی اسے سزا دی اسے کہا دور جانے کا لیکن ڈیڈ قسم لے لیں اب پچھتا رہا ہوں اپنے غلط جلد بازی فیصلہ پر ۔۔۔ مجھے احساس ہو رہا ہے وہ غلط نہیں تھی محبت میں محبوب کی دوری ناراضگی کچھ بھی برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔!! احد کہتے کہتے آواز بھاری ہو گئی تھی لیکن وہ رویا نہیں تھا وہ مرد تھا مظبوط لیکن محبت انسان کو کتنا بے بس کر دیتی ہے آج اسے پتا چل رہا تھا ۔۔۔

” دیر کر دی تم نے مجھے حان کے سامنے اتنا شرمندہ کر چکے ہوں اب میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرنے والا ۔۔جب اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا تھا تمہیں تھام لینا چاہئے تھا اب تم اسے ٹھکرا چکے ہو اسے توڑ چکے ہو بہت دیر کر دی احد ۔۔۔!! داريان صاف گوئی سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

” ڈیڈ پلیز ایک بار بات کر لیں۔۔۔!!

” حان نے اس کے لیے رشتہ دیکھا ہے اور وہ چاہتا ہے ہیر اپنی زندگی میں خوش رہے اس لئے وہ جلد بازی میں اس کے لئے ایک اچھا گھر ہم سفر ڈھونڈ چکا ہے ۔۔اور ہاں ہیر راضی ہے اس لئے احد اب اسے کوئی تکلیف دینے کا سوچنا بھی مت ۔۔۔!! داريان نے اسے سختی سے سمجھاتے ہوئے کال کاٹ دی ۔۔جب کے احد کو لگا وہ کبھی سانس نہیں لے پائے گا ۔۔اتنی جلدی اس نے اپنی محبت کو کھو دیا ۔۔۔

” حدی تم نے یہ سب ڈیڈ سے کہا اور انہوں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا وہاٹ دا ہل ۔۔۔!! آریان کو داريان پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔

” شاید یہ میری سزا ہے يان مجھے ملنی چاہئے سزا میں نے اسے بہت رلایا ہے بہت تکلیف دی اس کی کسی تکلیف کو میں سمجھا نہیں ہمیشہ اس کی محبت کی توہین کی، اسے بری طرح توڑا ۔۔اور دیکھو آج قسمت کا کھیل اس معصوم کو تکلیف دینے کی سزا مل رہی ہے مجھے ۔۔۔!! احد عجیب انداز میں ہنستے ہوئے کہا تھا آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔آریان کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا ۔۔

” حدی ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے تم بہت کچھ کر سکتے ہو بعد میں پچھتاوا نہیں ہوگا کچھ کیا نہیں جب کہ ابھی وقت قسمت ساتھ ہے اس کے دل میں تم آج بھی ہو اور ہمیشہ رہو گے یہ بات تم بہت اچھے سے جانتے ہو اب تم سوچو خود کیسے حاصل کرنا ہے اسے ۔۔۔!! آریان کی باتوں نے بہت اثر کیا تھا اس پر وہ واقعی ہیر کو کھونا نہیں چاہتا تھا اس لئے اسے اس وقت یہ بھی نہیں پتا چلا وہ صحیح کر رہا ہے یہ غلط ۔۔۔!!

★★★★

” افف اللّٰہ میری مدد کریں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔۔ ڈیڈ نے اتنی امید سے پوچھا کچھ مانگا مجھ سے ۔۔۔ لیکن مانگا بھی تو کیا ڈیڈ ایک اسی چیز جو میرے بس میں نہیں میں محبت کر چکی ہوں کسی کو اپنا دل دے چکی ہوں ۔۔پھر کیسے میں کسی کے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں کیسے بھول جاؤں اس پ پ ستمگر کو ۔۔۔!! تھک ہار کے بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی آج پھر وہ ٹوٹی تھی ۔۔۔ حنان نے ایک باپ دوست بن کر اسے ایک رشتے کا بتایا تھا اتنی محبت پیار سے پوچھا تھا وہ انکار نہیں کر پائی تھی اور آج اس سے باہر ملنے جانا تھا وہ لڑکا ایک بار ہیر سے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔حنان جانتا تھا وہ لڑکا اچھا ہے اس لئے انہوں نے اجازت دی تھی ۔۔۔ ہیر اب تیار ہو رہی تھی کے بار بار احد کا خیال آرہا تھا وہ کیسے خود کو اس سے دور رکھے ہوئے تھی یہ اس کا ضبط کرتا دل وجود جانتا تھا وہ جتنا اسے بھولنا چاہتی تھی وہ دشمن جان اتنا ہی قریب محسوس ہوتا تھا اچانک گھر آ جاتا تھا اس کی خوبصورت آواز سنائی دیتی وہ اس کی اوڑ خود کو کھینچتے ہوئے محسوس کرنے لگی ۔۔۔محبت پر ضبط کرنا بے حد مشکل تھا اس کے لئے ۔۔۔

” ہیر سرخ رنگ کے فراک میں کھلے لمبے بال ہلکا سا میک اپ میں ایک ہاتھ میں خوبصورت سی ڈائمن کی گھڑی دوسرے میں سمپل خوبصورت سا بریسلٹ پہنے بے حد حسین لگ رہی تھی یہ سب تیاری کرتے ہوئے اس کے دلوں دماغ میں صرف احد کا تصور تھا جس کی خاطر وہ خود کو سوارنا چاہتی تھی لیکن آج وہ بہت بڑی غلطی کر رہی تھی خود کو ہی خوبصورت روپ دے کر کسی کے سامنے پیش ہونا ۔۔۔

★★★

” آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں ۔۔۔!! وہ لڑکا خوش شکل سا تھا بلیک سوٹ میں کافی اچھا لگ رہا تھا ۔۔لیکن ہیر کی گھبراہٹ بڑھتی جارہی تھی اس کے ہاتھوں میں پسینہ جمع ہو گیا تھا ۔۔ وہ بس ہلکا سا مسکرا کر اس کی تعریف پر سر ہلایا ۔۔۔ لڑکے کو ہیر بہت پسند آئی تھی ۔۔۔

” میرا نام آیان خالد ہے ۔۔۔ آپ ہیر حنان ہیں جانتا ہوں ۔۔ویسے آپ ہمیشہ سے خاموش طبیعت ہیں ۔۔۔!! آیان اس سے بات کرنے کی کب سے کوشش کر رہا تھا ۔۔لیکن وہ تھی اپنے اندر اٹھتی اس محبت میں خود سے جنگ لڑ رہی تھی ۔۔

” جج ۔۔جی میں تھوڑا کم بولتی ہوں ۔۔۔ اور اکیلے باہر نکلنے کی عادت نہیں اس لئے ۔۔۔!! اسنے ہمت کرتے ہوئے کہ دیا اسے واقعی اندازہ نہیں ہوا تھا حنان اکیلے بھیجے گا ورنہ وہ خود کبھی اسے کہیں بھی اکیلے جانے نہیں دیتا تھا ۔۔۔آیان اس کی گھبراہٹ سرخ چہرہ دیکھتے ہلکا سا مسکرایا تھا ابھی کچھ کہتا کے اچانک ایک بہت خوبصورت سی مہکتا وجود خوشبو دار حصار ان کو اپنی لپیٹ میں لیتا انھیں چونکا گیا تھا۔۔۔ ہیر کی تو سانس رک گئی اپنے اتنے پاس اس کو دیکھتے ہی آیان نے گھورتے ہوئے اسے دیکھا جو بغیر پوچھے ان کے ساتھ آکر بیٹھ گیا وہ بھی ہیر کے ساتھ اس کے قریب ۔۔ ہیر کی دھڑکنیں اب بےترتب ہونے لگی تھیں ۔۔۔

” آپ کون ۔۔۔؟

” میں احد داريان خان ۔۔۔ حان انکل کا بھتیجا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ مم ۔۔میرے کزن ہیں ڈیڈ نے بھیجا ہے میں اکیلے نہیں نکلتی اس لئے ۔۔۔!! ہیر کو سمجھ نہیں آئی وہ کیا کہے وہ یہاں کیوں آیا ہے اتنا فریش سکون میں تھا ۔۔ہیر خود کو سنبھالتے ہوئے جلد ہی کہہ دیا کہیں وہ کچھ اور نہ کہہ دے ۔۔۔!! اب تو اسے واقعی بولا نہیں جا رہا تھا ایک تو وہ دشمن جان اتنا قریب پاس بیٹھا اپنی خوشبو کے حصار میں گھر رہا تھا اسے ۔۔۔ آیان کو تھوڑا عجیب لگا لیکن خاموش رہا ۔۔

” اور ہیر آپ کو کیا پسند ہے ۔۔ مطلب اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہیں تو ۔۔۔!! آیان احد کی موجودگی کو اگنور کرتے ہوئے ہیر سے مخاطب ہوا ۔۔جب کے احد تو بس اسے گھور رہا تھا ۔۔اور ہیر تو مر نے جیسی ہو گئی تھی ۔۔۔ وہ اتنی جلدی زندگی میں آگے نہیں بڑھنا چاہتی تھی پر اس کی قسمت ۔۔۔

” ہیر کو میں بہت پسند ہوں ۔۔۔ اور مجھے نہیں لگتا میرے علاوہ اسے کوئی چیز پسند ہو گی ۔۔۔۔؟ احد نے تو گویا ان کے سر پر بم پھوڑا ۔۔اتنی معصومیت سے کہتے ہوئے ہیر کو دیکھا جیسے تصدیق چاہی میں سچ کہ رہا ہوں ۔۔۔ ہیر بے یقینی و حیرت سے احد کے اس روپ پر مرتے مرتے بچی تھی ۔۔۔آیان کو اب غصہ آنے لگا تھا ساتھ میں شک بھی ہوا احد کا اندازِ محبت سے ہیر کو دیکھنا ہیر کی گھبراہٹ اس کا نظریں چرانا وہ کوئی بچہ نہیں تھا جسے یہ سب سمجھ نہ آتا ۔۔۔

” آپ اس کے اچھے کزن دوست ہوں گے ۔۔ لیکن انھیں اپنی زندگی میں آگے جا کے تو کسی کو خاص مقام دینا پڑے گا وہ جو ان پر اپنا حق رکھتا ہوگا وہ بھی ان پر ۔۔۔!! آیان جبراً مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔ ہیر تو شرمندہ سی ہو کے رہ گئی تھی ان کے بیچ اوپر سے وہ تھا کے اپنی باتوں کے سحر سے اس کے چہرے پر گلاب کے رنگ بکھیر رہا تھا ۔۔۔ وہ چاہا کر بھی نفرت نہیں کر پا رہی تھی اس سے ۔۔۔ کوئی اپنے محبوب سے نفرت کر سکتا تھا شاید نہیں یقیناً نہیں ۔۔۔۔۔ احد بمشکل ضبط کرتے ہوئے آیان کی موجود گی برداشت کر رہا تھا ۔۔۔

” مم ۔۔میں گھر جانا چاہتی ہوں ۔۔۔!! ہیر کو لگا اب یہاں رکنا ٹھیک نہیں ہمت کرتے ہوئے وہ اٹھ گئی ۔۔احد تو جیسے اسی موقع پر بیٹھا تھا تیزی سے کھڑے ہوتے ہیر کا ہاتھ اپنے مظبوط گرفت میں لیتا بولا ۔۔۔

” ہاں میں لے چلتا ہوں مجھے لگتا ہے بہت باتیں ہو گئیں اب چلنا چاہیے پھر ملاقات ہوگی ۔۔۔!! احد آیان کو ہیر سے بات کرنے کا موقع دیے بغیر تیزی سے اسے لے کے نکل گیا ۔۔ ہیر تو بوکھلا گئی تھی آیان غصے میں مٹھیاں بھینچ گیا تھا ۔۔اس نے سوچ کیا تھا اب اسے کیا کرنا تھا احد کی جان کیسے چھڑوانی تھی ہیر سے ۔۔۔

” ح۔حدی چھوڑیں کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔!! ہیر کو اپنے ہاتھ پر اس کی سخت گرفت میں اپنا ہاتھ جلتا محسوس ہوا تھا ۔۔

” ہیر گاڑی میں بیٹھو مجھے بات کرنی ہے ۔۔۔!! احد نے گاڑی کے آگے رک کر اسے سخت لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔

” مم ۔۔مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا چھوڑے ۔۔۔!! ہیر کو اب رونا آنے لگا تھا وہ نم آنکھوں سے کہتی اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی تھی ۔۔

” ہیر مجھے غصہ مت دلاؤ ۔۔ میں نے کہا نہ بیٹھو ۔۔۔!! اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔ اس بار کی سختی پر ہیر نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی ایک آنسو بہتا اس کے سرخ رخسار پر گرا ۔۔ احد کی ضبط سے آنکھیں ہی سرخ ہو گئی تھیں ہیر کا یوں اکیلے میں آیان کے ساتھ ملنا اسے شدید زخمی کر گیا تھا ۔۔۔

★★★★

” آپ کیوں کر رہے ہیں ایسا ۔۔۔؟ ہیر بھیگی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اسے غصہ آرہا تھا احد پر ۔۔

” مجھے تم سے بات کرنی ہے پلیز میری بات سکون سے بیٹھ کر سنو۔۔۔!! احد بےبسی سے اس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔وہ اسے سیدھا اپنے گھر لایا تھا باہر بات کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اب اسے صوفہ پر بیٹھا کر خود ٹیبل پر اس کے سامنے قریب بیٹھا تھوڑا آگے کو جھک کر بات شروع کی ۔۔اس کی خوبصورتی اس کی خوشبو اسے سحر میں لے رہی تھی ۔۔ آج تو اس کے دل میں اتر رہی تھی ۔۔

” مجھے نہیں سننا اب تو آپ کے پیچھے بھی نہیں آتی نہ پھر کیوں کر رہے ہیں ایسا کیوں میرا ضبط آزما رھے ہیں ۔۔۔!! وہ پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہورہی تھی اس کے آگے ۔۔۔

” میں چاہتا ہوں تم میرے پیچھے آؤ ۔۔ تم نے بھی تو میرا ضبط آزمایا تھا اب میری باری ۔۔۔!! احد کو اس کی معصومیت پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا ۔۔

” مجھے نہیں آنا آپ کے پیچھے ۔۔آپ کچھ نہیں لگتے میرے ۔۔!! اس نے غصے اور ناراضگی سے کہا تھا ۔۔۔

” جھوٹ کیوں بول رہی ہو۔۔!! احد کو یقین نہیں آیا اس کی باتیں اس کی آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں ۔۔۔

” آپ کو مجھ پر کب سے یقین ہونے لگا ۔۔!! ہیر طنزیہ مسکرائی تھی ۔۔

” جب سے خود کو تم سے دور رکھا ۔۔۔ تمہیں جاننے لگا ۔۔!! جذبات میں کہتا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں لیے ۔۔۔

” کچھ پوچھوں سچ بولو گی ۔۔؟؟ میٹھا لہجہ تھا ۔۔

” نہیں ۔۔ !! نظریں جھکی ہوئی تھی ۔۔

” کیوں ۔۔؟ وہ مہںوت سا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” آپ کو میرا سچ جھوٹ لگتا ہے ۔۔!! آنکھیں پھر نم ہوئی ۔۔

” اور اگر اس بار سچ لگا تو ۔۔؟

” مان ہی نہیں سکتی ۔۔!! اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہمت سے بولی ۔۔

” اتنی گہرائیوں سے جاننے لگی ہو۔۔!! احد اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہی شرمندہ ہوا کیسے اس کا دل توڑا تھا اس نے ۔۔۔

” مجبوری ہے سامنے اتنا بے حس شخص ہو تو گہرائیوں میں جانا پڑتا ہے ۔۔!! آنسوں ٹپ ٹپ کرتے گرنے لگے ۔۔

” بہت دلچسپ باتیں کرتی ہو ۔۔!! احد دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے کہتا نرمی سے اس کے آنسوں صاف کرنے لگا ۔۔

” ہمیشہ سے کرتی ہوں لیکن اس بار آپ کا نظریہ بدلہ ہے تو اس کی بات الگ ہے ۔۔۔!! ہیر کو اس کا بدلتا روپ بہت اچھا لگا تھا کہیں خوشی سے ایک امید جاگی تھی لیکن اس کے سامنے اتنی جلدی ہار نہیں سکتی تھی ۔۔

” ٹھیک ہے جھوٹ ہی بول دو ۔۔!! احد اس کے ہاتھوں کو ہلکا سا دبا کر بولا ۔۔

” انعام کیا ملے گا ۔۔!! دونوں عجیب انداز میں بات کرنے لگے تھے ۔۔

” جھوٹ پر نہیں ملتا انعام ہاں اگر سچ کہتی ہو تو بہت خوبصورت انعام دوں گا ۔۔؟؟ معنی خیزی سے بولا ۔۔

” کیا ابھی تک محبت کرتی ہو ۔۔۔؟؟

” نہیں ۔۔!! نظریں چرا کر کہا دل تیزی سے دھڑک اٹھا ۔۔۔

” میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو۔۔؟؟ رعب سے بولا تھا ۔۔

” مجھے جانا ہے ۔۔!! ہیر کو اب خود کو سنبھالنا مشکل ہوا ۔۔

” معافی ملے گی ۔۔۔!! احد نے پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا ۔۔

” نہیں ملے گی کسی کو توڑ کر اس سے معافی کی امید کیوں رکھتے ہیں ۔۔۔ اتنا آسان ہے جب دل چاہے اسے توڑ دے جب دل چاہے اس سے معافی مانگو ۔۔۔ محبت کی تھی کوئی گناہ نہیں جس کی سزا آپ نے اتنی بری طرح دی ۔۔ مجھے خود کی نظروں میں ہی گرا دیا ۔۔!! ہیر غصے میں چلاتے ہوئے کہتی تیزی سے اپنا ہاتھ چھڑوا کے بھاگی ۔۔احد وہیں کا وہیں آج پھر خالی ہاتھ رہ گیا ۔۔ اس نے خود ہی تو توڑا تھا اسے ۔۔ اب کیسا پچھتانا ۔۔ہیر اس کے بدلے روپ کو بہت اچھے سے سمجھ گئی تھی ۔۔ دیر سے ہی سہی پر اسے بھی محبت ہو گئی تھی ۔۔۔۔ پر کیا ان کے بیچ واقعی دیر ہو گئی تھی یا پھر کچھ اور ہی قسمت میں لکھا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *