Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 15)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 15)
Mera Ishq by Mahra Shah
” انو یار جلدی کرو ہم لیٹ ہو رہے ہیں حنان کی کالز آرہی ہیں آریان نے تنگ کر رکھا ہے انہیں” ۔۔۔!! داریان جلد تیار ہوتا ساتھ میں اسے بھی بول رہا تھا جو احد کو تیار کرنے میں مصروف تھی۔
” اففف دیکھا آپ نے کہا بھی تھا اسے جلد نہ بھیجیں ساتھ میں نکلتے ہیں لیکن آپ کب کسی کی سنتے ہیں” ۔۔!! انعل نے جھنجھلا کر کہا وہ پہلے ہی داريان کی جلد بازی پر چڑی ہوئی تھی ۔۔
” او تو محترمہ غصے میں ہے “۔۔!! داريان شرارت سے کہتا اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھا جو احد کو تیار کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی اور وہ تھا کہ اپنی شرارت میں مصروف تھا ۔۔۔
” آپ کے بیٹوں نے کم تنگ کیا ہوا ہے جو آپ آ گئے ہیں پھر سے”۔۔!! انعل نے گھورتے ہوئے کہا ۔۔ داريان کو اس کے معصوم غصے پر بہت پیار آیا اور محبت سے اسے دیکھتا آگے جھک کر اس کے ماتھے پر محبت و مان کی مہر ثبت کی۔آج حنان کی بیٹی زویا کی سالگرہ تھی جس پر ان لوگوں کو اب جلد پہنچنا تھا آریان کو تو حنان پہلے ہی لے کر چلا گیا اب ان کا انتظار تھا زندگی بہت خوبصورت سکون سے گزر تھی ان کی لیکن کب کیا ہو جائے کچھ پتا نہیں چلتا ۔۔۔
_____
” داريان کیا ہوا آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں؟؟؟” ۔۔۔!! انعل کب سے داريان کی بےچینی دیکھ رہی تھی جو تھوڑی دیر بعد شروع ہوئی تھی ۔۔
” ہا۔۔ہاں کچھ نہیں تم پریشان مت ہو احد سو گیا؟” ۔۔۔!! داريان نے اس کی آواز پر اس کے پرسکون خوبصورت چہرے پر نظر رکھتے ہوئے کہا اور ایک بار پھر اپنی گاڑی کے پیچھے ایک گاڑی کو دیکھا جو کافی دیر سے وہ نوٹ کر رہا تھا کوئی اس کا پیچھا کر رہا تھا اب اس کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوئی،آج وہ کسی گارڈ وغیرہ کو ساتھ نہیں لایا تھا لیکن اسے اپنے فیصلے پر شدید پچھتاوا ہوا اگر انعل احد ساتھ نہ ہوتے تو وہ کبھی نہیں گھبراتا ۔۔اسنے جلدی سے موبائل نکال کر اپنے ساتھیوں اور حنان کو میسج کیا ۔۔۔
” انو میری بات سنو ڈرنا بالکل نہیں میں ہوں ساتھ احد کو مضبوطی سے پکڑو” ۔۔۔!!
” کک ۔۔کیا ہوا داريان آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کیا ہونے والا ہے پلیز بتائیں ہمیں گھبراہٹ ہو رہی ہے” ۔۔۔!! انعل کا اچانک خوف سے دل لرزنے لگا تھا ۔۔
” کچھ نہیں ہوا ڈرنا نہیں میں ہوں ساتھ ہمیشہ یقین ہے نہ مجھ پر؟”۔۔۔!!
” خود سے بھی زیادہ لیکن احد ششش کیا ہوا ہماری جان کو ماما ساتھ ہے ماما کی جان” ۔۔۔!! داريان اسکا ہاتھ تھامتا حوصلہ دے رہا تھا انعل نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا کچھ غلط ہونے کا محسوس ہو رہا تھا اچانک احد نے تیز رونا شروع کردیا دونوں بوکھلا گئے تھے کہ اچانک سے ان کی گاڑی پر حملہ شروع ہو گیا اب آگے پیچھے سے گاڑیوں نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا تھا۔
” شٹ ۔۔وہ ہمارا پیچھا کر رہے ہیں ۔۔ انعل احد کو سنبھالو” ۔۔۔!!
” دد ۔۔ داريان اب کیا ہوگا ہم کیا کریں وہ لوگ کون ہے ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟ “۔۔۔داريان نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی وہ لوگ بھی اسی سپیڈ سے ان کے پیچھے تھے بہت سی گاڑیوں کے بیچ وہ لوگ کتنی مشکل سے بچ بچ کر نکل رہے تھے یہ ان سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اچانک ایک گاڑی سامنے سے آکر انکا راستہ روک گئی اب وہ بری طرح ان کے بیچ پھنس گئے تھے آس پاس صرف جنگل تھا اس خوفناک ماحول میں صرف اور صرف دہشت پھیلی ہوئی تھی ۔۔انعل خوف سے کبھی سامنے دیکھتی کبھی سامنے گاڑیوں کو ڈر سے احد پر گرفت مضبوط کی ۔۔ داريان انتہائی سخت غصے میں گاڑی سے نکلا تھا تو سامنے والی گاڑی سے زید مسکراتا ہوا نکلا آج تو وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا ۔۔اس کی زندگی کا اب صرف ایک ہی مقصد تھا داريان کی بربادی اور انعل حیات کو حاصل کرنا ۔۔ پر جو قسمت میں لکھا ہو اسے کوئی نہیں ٹال سکتا ۔۔
” آ گئے تم اپنی گھٹیا حرکت پر یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟؟”۔۔۔!! داريان کی غصے وضبط سے رگیں تن گئی تھی وہ اس وقت انعل احد پر کوئی خطرہ نہیں چاہتا تھا ۔۔
” ہاہاہا تم کیا سمجھے تھے میں کبھی تم تک نہیں پہنچ سکتا؟؟ کب تک چھپو گے یار اب بس بہت ہوا چوہے بلی کا کھیل سیدھی بات کرتے ہیں”۔۔!! زید نے قہقہہ لگاتے ہوئے مزید اس کا ضبط آزمایا تھا ۔۔۔
” کیا بکواس ہے؟” ۔۔۔!!
” بکواس نہیں یار بس مجھے انعل دے دو میں تمہارے راستے سے ہٹ جاؤں گا” ۔۔۔!! زید مسکراتے ہوئے ایک نظر گاڑی میں بیٹھی ڈری سہمی انعل پر ڈالتا ہوا بولا تھا ۔۔
” زید میں تمہاری جان لے لوں گا دوبارہ میری بیوی کا نام بھی مت لینا اپنی گھٹیا ناپاک زبان سے” ۔۔۔!! داريان غصے کی شدت سے ڈھارتا آگے بڑھتا اس کے منہ پر زور دار پنچ مارا تھا زید کے آدمیوں نے جلدی سے آگے بڑھتے اسے قابو کیا تھا ۔۔انعل چیختے ہوئے تیزی سے گاڑی سے نکلی احد کو پیچھے سیٹ پر ڈال دیا تھا ۔۔
” داريان ۔۔نہیں زید پلیز چھوڑ دے ہمیں کیا بگاڑا ہے آپ کا ہم نے کیوں پیچھے پڑھ گئے ہیں کیوں؟؟”۔۔۔!! انعل جیسے ہی داريان کے پاس گئی کہ اس کا بازو زید نے پکڑ لیا وہ غصےو غم میں چیختے ہوئے کہہ رہی تھی زید دلچسبی سے اس کا خوبصورت سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا وہ تڑپ رہی تھی داريان کے پاس جانے کے لئے ۔۔۔
” زید چھوڑو اسے ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا اگر اسے کوئی نقصان پہنچایا تو” ۔۔۔۔!!!
” ہاہاہا تمہیں لگتا ہے میں اس کو کوئی نقصان پہنچاؤں گا” ۔۔!! داريان غصے میں دھاڑ رہا تھا زید پر سکون سا ان دونوں کی تڑپ دیکھ رہا تھا ۔۔ پر آج تو جیسے اس پر شیطان حاوی تھا ۔۔۔
” پلیز ہمیں چھوڑ دیں آپ کو الله کا واسطہ ہے۔ پلیز چھوڑیں داريان کو”۔۔!! انعل نے روتے تڑپتے ہوئے التجا کی پر آج شاید قسمت اس پر مہربان نہیں تھی ۔۔
” چلو چھوڑ دیا صرف آج کے لئے مل لو ایک دوسرے سے بہت اچھی طرح پھر شاید ہی زندگی موقع دے تم لوگوں کو”۔۔!! زید نے کمینے پن کی حد کر دی تھی آج تو۔ انعل تیزی سے آگے بڑھ کے داريان کے سینے سے لگ گئی تڑپتے ہوئے روتی رہی ان لوگوں نے داريان کو چھوڑ کے اس پر گن تان دی داريان انعل کو اپنے مضبوط حصار میں لیتا زید کو سرخ خون خوار نظروں سے دیکھ کر وارننگ دے رہا تھا جسے زید بہت اچھے سے سمجھ تو گیا تھا لیکن اس وقت وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا ۔۔
” مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی اس وقت مجھے صرف انعل چاہیے اور اسے میرے حوالے کرو گے تم خود ورنہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں یہ تم بھی اچھے سے جانتے ہو” ۔۔۔!! زید نے غصے میں کہتے اس کو گن پوائنٹ پر لیا ۔۔انعل خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی روتے ہوئے داريان کو دیکھ کر نفی کی جیسے ڈر ہو کہیں سچ میں وہ اس سے الگ نہ ہو جائے ۔۔ اسی خاموش فضا میں ایک چھوٹے سے بچے کی رونے کی آواز آئی سب نے گردن موڑ کے گاڑی کی طرف دیکھا وہ بچہ اب شدت سے رونے لگا تھا اپنے ماں باپ کے لئے اپنی ماں کی آغوش کے لئے ۔۔ انعل داريان کی دھڑکنیں جیسے رک ہی گئی تھیں اپنے بچے کو ان کی نظروں میں دیکھ کر جسے وہ ہمیشہ بچا کر چھپا کر رکھنا چاہتا تھا آج کیسے بچے اور بیوی پر وہ لوگ نظر رکھے ہوئے تھے۔۔
” نہیںں ۔۔ ہمارے بچے کو چھوڑ دیں پلیز۔ وہ معصوم جان ہے اسے کچھ مت کرنا زید” ۔۔!! انعل داريان تڑپ کے آگے بڑھے تھے کے ان کے لوگوں نے انھیں پکڑ لیا زید کی گود میں اپنے بچے کو خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔اور زید اس معصوم سے پیارے بچے کو دیکھ رہا تھا وہ بے ساختہ اسے چوم گیا ۔۔انعل کی نشانی سمجھ کر اس پر پیار کیا ۔۔
” زید جعفری تم بہت پچھتاؤ گے میری بیوی بچے کو چھوڑ دو تمہاری مجھ سے دشمنی ہے تو مجھ سے بدلہ لو لیکن ان معصوموں کی جان بخش دو” ۔۔!! داريان جیسے بے بس ہونے لگا تھا اپنی زندگی اپنی سانسوں کو خطرے میں دیکھ کر ۔۔ وہ پوری ہمت جمع کرتا اس کے ساتھیوں سے لڑنے لگا تھا زید دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا انعل روتے تڑپتے چیختے ہوئے اسے پکار رہی تھی زید سے منت سماجت کی لیکن آج شاید ان کی قسمت میں بہت آزمائش لکھی تھی۔۔۔۔ زید اپنے ایک آدمی سے کچھ کہتا بچہ اس کے حوالے کرتا اسے یہاں سے بھیج دیا داريان اسے دیکھ نہیں پایا لیکن انعل کی جیسے ہی اپنے بچے پر نظر گئی وہ چیختے ہوئے اسی طرف بھاگی ۔۔داريان اسے دیکھتا اس کے پیچھے گیا کہ اچانک زید نے حملہ شروع کردیا ۔۔۔
” دد ۔۔ داريان ہمارا بچہ اسے بچا لیں وہ وہ لوگ اسے کہاں لے جا رہے ہیں پلیز چھوڑ دے ہمارے بچے کو داريان”۔۔!! انعل تڑپ کر رہ گئی اس کی حالت خراب ہونے لگی تھی داريان اور زید بری طرح ایک دوسرے میں الجھے ہوئے تھے منہ پر جگہ جگہ نشان پڑھ گئے تھے ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا ۔۔زید نے غصے کی شدت سے اپنی گن نکال کر اس پر تان لی تھی۔
” داريان “۔۔۔ انعل حلق کے بل چیخی تھی۔
زید نے گولی چلائی فضا میں یک دم خاموشی چھا گئی اور ایک نرم معصوم وجود داریان کے مضبوط بازووں کے حصار میں لہرا گیا ۔۔وہ ساکت سا سانس روکے اسے دیکھتا ایک دم ہوش میں آتے زور سے چلایا۔
“انعلللللل نہیں انعل تمہیں کچھ نہیں ہوگا پلیز نہیں”۔۔!! داريان دیوانہ وار اسے پکارتا جھنجھوڑ رہا تھا وہ گولی اس کے لئے تھی لیکن اس کی موت کسی اور نے اپنے سر لے لی زید نےجیسے ہی داريان کو نشانہ بنایا تھا کے انعل بیچ میں آ گئی اور گولی اس کے سینے میں پوست ہو گئی۔۔ ایک پل کو وہاں ان تینوں وجود کی سانسیں رک سی گئیں جیسے ان میں سے اب کوئی زندہ نہ بچا ہو ۔۔ اور سچ بھی تو تھا ایک کی نہیں ساتھ ان دو کی بھی موت ہوئی تھی ایک عشق میں مرا تھا تو دوسرا انسانیت میں اپنی جنون و ضد غصے میں ۔۔
زید نے ڈر کر گھبراہٹ سے انعل کو دیکھتا اپنے ہاتھ میں موجود اس گن کو دیکھا جس میں سے ہلکا سا دھواں نکلا ہوا تھا ۔۔
” نہیں یہ یہ نہیں ہو سکتا میں میں اسے نہیں مار سکتا وہ وہ خود مری ہے ہاں وہ خود” ۔۔!! زید صدمہ سے کہتا ایک ایک قدم پیچھے لے رہا تھا اس کی نظریں صرف انعل کی بند آنکھوں پر تھی داريان روتا ہوا اسے پکار رہا تھا کے اچانک کسی نے زید کو بازووں سے پکڑ کر اسے گاڑی میں بٹھایا اور تیزی سے وہ گاڑی اڑا لے گیا ۔۔
داريان وہاں روتا تڑپتا اسے پکارتا رہا جیسے وہ اس کی آواز پر دوڑی چلی آتی تھی اب شاید ہی کبھی واپس آتی اس وقت اسے نہ اپنا نہ اپنے بچوں کا کسی کا بھی ہوش نہیں تھا بس تھا تو وہ بےجان وجود اس کی باہوں میں اس مضبوط حصار میں ساتھ اس کو بھی مار گیا تھا آج ۔۔
” عشق تو عشق ہے پر عشق کی منزل بھی موت ہے “
” جہاں تم نہیں وہاں میں نہیں “
” جہاں زندگی نہیں وہا موت صحیح “
★★★★
کچھ سال بعد
” کچھ پتا چلا کہاں ہے وہ؟” ۔۔!!
” نہیں بہت کوشش کی کچھ پتا نہیں چل رہا کہاں بھاگ گیا سالہ”۔۔!! حنان نے زید کے لئے گالی نکالتے ہوئے کہا ۔۔
” نہیں حنان ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے وہ میرے بیٹے کو لے کے کہیں بھی چھپا ہو میں اسے ڈھونڈ کر رہوں گا انو کے بعد کیسے خود کو زندہ رکھا ہے یہ میں جانتا ہوں اور میرا رب میں نے زندگی میں جتنی اذیت برداشت کی ہے”۔۔!! داريان نے تھک ہار کر کہا اس کی تھکاوٹ سے لگ رہا تھا وہ کتنا اذیت میں ہے کیسے اپنے بچوں کی خاطر جی رہا ہے ۔۔
” تم کیا سوچ رہے ہو اگر وہ مل گیا تو کیا زندہ چھوڑ دوگے اسے اگر تم نے ایسا کچھ نہیں کیا تو میں ضرور اسے مار دوں گا” ۔۔!! حنان نے نفرت و غصے میں کہا
” نہیں حنان اتنی جلدی اتنی آسانی سے اسے موت نہیں دوں گا اگر اسے کچھ بھی کیا تو اس کا باپ میرے بچوں کے پیچھے پڑھ جائے گا مجھ میں اب کسی کو کھونے کی ہمت نہیں میری انو کی یہی نشانی ہے میرے پاس اور ان کی حفاظت کرنا میری تمہاری ذمہ داری ہے تم میرے بچوں کا خیال رکھنا پلیز”۔۔۔!! آج ایک ڈی اے نہیں ایک مافیا مین نہیں ایک باپ بول رہا تھا ایک عاشق بول رہا تھا جس نے اپنے عشق کو کھویا ہو جس نے اپنی ہستی کو برباد ہوتے ہوئے دیکھا ہو ۔۔۔
” وہ آئے گا ضرور اور آریان سے بھی ملتا رہے گا اتنا تو میں جانتا ہوں وہ میرا میرے بچوں کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑے گا بس اب اس کے کھیل میں اسی کو مات دینی ہے ۔۔ میرے پاس پلین ہے اسی حساب سے اب چلنا ہے جب تک میرے بیٹے کچھ بن نہیں جاتے خود کو مضبوط نہیں کر لیتے”۔۔!! داريان سرخ آنکھوں میں زید کی موت کا تصور کرتے ہوئے بہت کچھ سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا تھا ۔۔۔
★★★★
کچھ سال بعد
” ڈیڈ پلیز جلدی کریں نہ میں لیٹ ہو رہی ہوں”۔۔۔!! وہ بیس سال کی خوبصورت سی لڑکی چہرے پر بیزاری لئے کب سے اپنے باپ کو بلا رہی تھی جو کے اس کی ماں سے لڑنے میں مصروف تھا ۔۔
” افف ڈیڈ آپ اور موم دونوں کبھی نہیں سدھرنے والے میں ہی چلی جاتی ہوں”۔۔!! ہیر غصے سے بھری ایک نظر اندر ان پر ڈالتی آگے بڑھ گئی ۔ وہ پیدل چل کر ابھی مین روڈ تک پہنچی ہی تھی کے اچانک ایک گاڑی پاس آکر رکی تھی ہیر ڈر سے اچھل پڑھی پھر سامنے والے کو دیکھتے ہی سکون بھری سانس لی ۔۔
” افوہ آپ نے ڈرا دیا کیسے ہیں آپ ؟” ۔۔۔!! ہیر اس دشمنِ جان پر نظر پڑھتے ہی خوش دلی سے بولی ۔۔ پر وہ چہرے پر سنجیدگی لئے دنیا جہاں کی بیزاری لئے بیٹھا تھا ۔۔
” گاڑی میں بیٹھو حان چاچو نے بھیجا ہے اور پلیز جلدی میرے پاس فضول ٹائم نہیں کسی سوال جواب کا” ۔۔۔!! وہ غصے سے سخت لہجے میں کہتا اس پر ایک نظر ڈالتا آگے دیکھنے لگا ۔۔ ہیر کو اس کا روڈ رویہ ہمیشہ ہرٹ کرتا تھا پر وہ بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھی اس کی ہر بات سہہ لیتی تھی ابھی بھی خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔
★★★★
ان کچھ سالوں میں کیا کچھ نہ بدلا تھا ہر اس انسان کی زندگی میں کیا کچھ ہو رہا تھا کیسے وہ اپنے ہر درد کو اندر ہی اندر برداشت کر رہا تھا یہ وہی جانتا تھا ان سالوں میں داريان کس کس اذیت سے گزر رہا تھا یہ اس کی ہمت تھی وہ صرف اپنے بچوں کے لئے جی رہا تھا۔ کس طرح اسنے احد کا پتا لگوایا تھا جب وہ سات سال کا بچہ تھا کیسے کر کے وہ اس تک پہنچا اسے ہر طرح یقین دلایا وہ اس کا باپ ہے وہ جس کے پاس ہے وہ اس کی ماں کاقاتل ہے ان کی خوشیوں کا قاتل ہے دھیرے دھیرے وقت کے ساتھ احد کو بھی یقین ہو ہی گیا اور اس بیچ داريان آریان احد حنان نے مل کر پلین بنایا وہ اتنی جلدی یہ راز نہیں کھول سکتے تھے ورنہ ان کی فیملی کو خطرہ تھا یہ بات وہ سب اچھے سے جانتے تھے۔ بیراج کو بھی سب بتایا دیا تھا ان لوگوں نے زید نے کس طرح آریان کو بھی بدگمان کرنا چاہا تھا داريان سے لیکن وہ بھول گیا تھا ہر بار اس کی جیت نہیں ہو سکتی تھی ۔۔ آریان احد دونوں نے مل کر ہی فیصلہ کیا وہ لوگ ISI جوائن کرنا چاہتے ہیں وہ لوگ سیکرٹ ایجنٹ تھے داريان ان کی مدد کرتا رہتا تھا لیکن وہ اپنے مافیا گینگ کو چھوڑ نہیں سکتا تھا ورنہ ان کے لئے بہت مسئلہ ہوتا ۔۔اور پھر آریان داريان لندن میں ہی رہنے لگے تھے جب کے احد نے حنان کے گھر کے پاس ہی گھر لیا تھا یہ فیصلہ داريان کا تھا حنان لوگوں نے اپنا نام سب چینج کیا۔۔۔ وہ اب زید کے سامنے تھے زید بھی انھیں پہچان نہیں پایا کیوں کے حنان اکثر اس کے سامنے اپنا حلیہ بدلتا تھا ۔۔ حنان زافا کی دو ہی بیٹیاں تھی زویا ہیر ۔۔زویا اپنا کام کرنے کے لئے باہر ہی رہی وہ داريان سے زیادہ ہی کلوز تھی ۔۔ہیر عروبہ ہم عمر تھیں ۔۔ ہیر نے جب سے ہوش سنبھالا جوانی میں قدم رکھتے ہی اپنے آس پاس اس خوبصورت مرد کو دیکھا اور خود کو روک نہیں پائی ان خوبصورت جذباتوں کو پیدا ہونے سے دن بہ دن اس کی محبت نے شدت پکڑ لی تھی وہ کب سے محبت سے عشق تک سفر کرنے لگی اسے اندازہ نہ ہوا ۔۔احد جانتا تھا اس کے جذباتوں کو لیکن وہ ہر بار انجان بن جاتا تھا ایسا نہیں تھا وہ اسے پسند نہیں تھی لیکن اس کی جذباتی طبیعت اکثر اسے غصہ دلاتی تھی وہ اسے اچھی لگتی تھی صرف کزن کے حساب سے فی الحال اس نے اپنے دل کے دروازے بند رکھے تھے اور کب تک رکھتا تھا یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ہیر کی خوبصورتی معصومیت اس کے لمبے بال اسے ہمیشہ خود کی طرف مائل کرتے تھے پر وہ کمزور نہیں پڑھنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اس کی کمزوری کسی کے سامنے آئے ۔۔وہ ایک اور انعل داريان کی کہانی شروع نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ بی جان اور فرحان صاحب کی خواہش کی وجہ سے بیراج داريان کو اپنے بچوں کا نکاح کرنا پڑھا آریان نے بہت شور کیا پر داريان کے آگے ایک نہیں چلی اسے عروبہ کی معصومیت ضدی پن بالکل پسند نہیں تھا نکاح کرتے ہی وہ کچھ عرصے کے بعد باہر ہی چلا گیا پھر تو جیسے بھول ہی گیا تھا کوئی اس کی زندگی میں حق رکھتا تھا ۔۔اور اس کے بعد عروبہ آریان کی ملاقات ہوئی لندن میں وہاں ان کی کہانی شروع ہوئی تو یہاں احد اور ہیر کی ۔۔۔
