Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 06)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 06)
Mera Ishq by Mahra Shah
” یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ ہم کیا کریں کہا جائیں ۔۔ وہ انکل کیا وہ پھر سے نہیں نہیں کچھ غلط مت سوچو ارو کچھ نہیں ہوگا اب ہم بڑے ہیں بریو ہیں ۔۔!! عروبہ پریشانی میں روم میں چکر لگانے لگی خود سے باتیں کرتی ہمت دے رہی تھی ۔۔۔
” تم سوئی نہیں ابی تک ۔۔!! وہ تھکی ہوئی تھی بہت اسکے چہرے سے عروبہ کو لگ رہا تھا ۔۔
” آپ ٹھیک ہے ۔۔ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہے ۔۔۔!! اسے زویا ٹھیک نہیں لگی تھی ۔۔
” ہاں پتا ۔۔ نہیں بس چکر ۔۔۔۔ زووو آپ ٹھیک ہیں نا زویا پلیز آنکھیں کھولے ۔۔ یا اللّه اب ہم کیا کریں ۔۔ حدید بھائی ہاں انھیں بلاتے ہیں ۔۔۔!! زویا بات کرتے ہوئے چکرا کر گر گئی عروبہ تیزی سے اسکے پاس بھاگی وہ اکیلی جان کہاں اسے سنبھال سکتی تھی وہ جلدی سے باہر بھاگی عروبہ گھبراتی ہوئی بیل بجاتی جا رہی تھی ۔۔
” واٹ دا ہیل ۔۔ تم میں صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔۔۔ مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ جب دیکھو یہیں ٹپک پڑھمتی ہو ۔۔ گھر میں سکون نہیں ملتا تمہیں ۔۔۔۔۔ اسٹاپ ۔۔!! آریان دروازے کی بیل سے بیزار ہوتا اسے سامنے دیکھتا اسکا غصہ تازہ ہو گیا غصے میں برس پڑا اس پر عروبہ کو ایک پل حیرت ہوئی اسکے ریئکشن پر پھر اسے بھی غصہ آگیا وہ جو کہنے آئی تھی وہ سننے کے بجاۓ اس پر ہی برس رہا تھا ۔۔
” بسسس بہت ہوا ۔۔۔ مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ ۔۔ ہم کچھ کرتے نہیں پھر بھی برے بن جاتے ہیں ۔۔ اور آپ ۔ کوئی حق نہیں نہیں ہے آپکا ہم پر غصہ کرنے کا ہمیں اتنا ڈانٹنے کا ۔۔ ہمیں بھی کوئی شوق نہیں یہاں آنے کا ۔۔ ہم یہاں صرف حدید بھائی سے ملنے آئے تھے ۔۔۔!! عروبہ کی آج برداشت ختم ہوگئی تھی وہ اس سے بھی تیز چلا کر بولی آنکھوں میں ڈھیروں پانی جمع ہو گیا تھا جو اب برسنے کو تیار تھا وہ وائیٹ پجامہ پنک سویٹر شرٹ میں بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنا ہوا جس میں سے کچھ بال نکلے ہوئے تھے آگے سے ہمیشہ اسکے خوبصورتی والے بال گلابی سی وہ بے حد حسین دلکش لگ رہی تھی اس بات سے آریان کے دل نے بھی اعتراف کیا تھا ۔۔ حدید دونوں کی آواز پر باہر آیا عروبہ ایک نظر غصے بھری اس پر ڈالتی حدید کے پاس گئی ۔۔
” حدید بھائی پلیز جلدی چلیں زویا کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے وہ بیہوش ہوگئی ہے پلیز انھیں دیکھ لے وہ ۔۔۔ واٹ زو ۔۔۔!! حدید اسکی آدھی بات سنتا تیزی سے اسکے فلیٹ کی اور بھاگا عروبہ اسکے پیچھے تیزی سے گئی تھی کے اچانک سے دروازہ بند ہو گیا وہ بیچ میں ہے حیرت سے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے ایک نظر اپنے قریب آریان پر ڈالتی اسکا ہاتھ دروازے سے ہٹانے لگی پر اسنے اپنی گرفت مضبوط بنالی وہ خاموشی سے اسکا غصہ دیکھ رہا تھا ساتھ میں اسکے آنسؤں بہنا بھی شروع ہو گئے تھے ۔۔
” کیا مسئلہ ہے آپکے ساتھ ۔۔ ہمیں جانے کیوں نہیں دے رہیں ۔۔!! وہ اسکی اور ہوتی دروازے سے جپک گئی کیوں کے وہ اسکے بے حد قریب کھڑا تھا ۔۔ غصے میں اسے گھور تے ہوئے کہا بڑی بڑی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے جس میں وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی آریان کو اپنا دل ہارتا ہوا محسوس ہوا اسکی معصومیت دلکش کے آگے وہ بے خودی میں ہاتھ اٹھاتا اسے قریب کیا عروبہ نے ڈر سے آنکھیں میچ لی آریان دلچسپی سے اسے دیکھتا ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسکے آنسوں صاف کئے عروبہ اسکے لمس کو محسوس کرتے ہی کانپ گئی ۔۔۔۔۔
” شش رونا بند کرو ۔۔۔۔۔ روتے ہوئے بہت خوبصورت لگتی ہو ۔۔!! آریان ذرا کو جھک کر سرگوشی میں کہتا اسے حیرت انگیز کیا اسنے پھٹ سے آنکھیں کھول دی پر اسے قریب جھکا دیکھ کر گھنی پلکیں جھک گئی آریان کو یہ ادا بہت حسین لگی اسکی عروبہ کا چہرہ گلابی پڑھ گیا تھا اپنی تیزی دھڑکنیں کانوں میں محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔
” ہہ ۔۔ہمیں جانے دے ۔۔پپ ۔۔ پلیز ۔۔۔!!
” پہلے میرے سوال کا سچ جواب دوگی پھر ۔۔۔؟ وہ گھمبیر آواز میں کہا عروبہ حیرت سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا لیکن پھر جھکا لی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہی تھی شرم حیا سے چہرہ انار ہو چکا تھا ایک خوبصورت احساس تھا دونوں کے بیچ پر دونوں انجان بنے ہوئے تھے ۔۔۔
” آج جس آدمی کو دیکھ کر تم ڈر کیوں گی تھی ۔۔۔۔ کیا تم جانتی ہو پہلے سے انھیں ۔۔۔!! آریان سنجیدگی سے اسکے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا ۔۔
” ہہ ۔۔ہمیں ۔۔ نن ۔۔نہیں ۔۔پپ ۔۔ پتا وہ کون ہے ہم بس گھبرا گئے تھے ۔۔۔ ہمیں جانے دے پلیز زویا کی طبیت خراب ہے ۔۔!! عروبہ نے نظریں چرا تے ہوئے کہا وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی اسے کچھ بھی بتانے کی ایک ڈر تھا جو سالوں سے وہ اپنے دل میں چھپاتی آئی ہے ۔۔
” اتنی جھوٹی کیوں ہو ۔۔۔ کیا ملتا ہے جھوٹ بولنے سے ۔۔ جانتی ہو کتنا گناہ ہے جھوٹ بولنا ۔۔!! آریان نے الگ طریقے سے اسے سمجھانا چاہا پر وہ نم آنکھوں سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نفی کی اور گہرا سانس لیتے اسے پیچھے کرنا چاہا پر وہ ایک انچ بھی نہ ہلا وہ روتے ہوئے اسکے سینے پر زور دیتے ہوئے پیچھے کرکے ہلکان ہونے لگی سیدھی ہوتی گہرے گہرے سانس لیۓ آریان دلچسپی سے اسکی حرکتیں دیکھتا محفوظ ہو رہا تھا ۔۔
” بس اتنی سی طاقت تھی ۔۔ تم تو بہت کمزور ہو ۔۔ مجھے ایسی کمزور لڑکیوں سے نفرت ہے جنہیں اپنی حفاظت کرنی نہیں آتی ۔۔۔ پتا ہے الینا مجھے بہت پسند ہے شی از سو سٹرونگ شی از بیسٹ ۔!! آریان افسوس کرتے ہوئے پیچھے ہوا اسکے الفاظ اسکا دل توڑ گئے وہ آنسؤں صاف کرتی تیزی سے باہر نکلی آریان اسے غصے میں دیکھتا زیر لب مسکرایا تھا ۔۔
★★★★
” آپ نے صبح سے کچھ کھایا کیوں نہیں ۔۔ اگر ایسی حالت آپکی باہر کہیں ہو جاتی تو آپ جانتی ہے کیا ہوتا ۔۔۔!! حدید اسکے جھکے سر کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا ۔۔وہ جیسے ہی اندر آیا اسے زمین پر بیہوش پا کر جلدی سے اسے اٹھایا اسکی ٹریٹمنٹ کی جیسے اب وہ پہلے سے تھوڑی بہتر تھی کچھ نہ کھانے سے چکر آگئے تھے اسے ۔۔
” آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔ مجھے واپس وہاں کھڑا کردیا جہاں وہ ۔۔۔!! زویا کہتے کہتے رک گئی وہ خود کو رونے سے رک نہیں پائی حدید سنجیدگی سے اسے روتا ہوا دیکھا اسے زویا پر افسوس کے ساتھ ایک احساس پن ہوا وہ کتنی اکیلی ہے آج حدید نے شدت سے محسوس کیا تھا ۔۔
” تو کیا آپ ساری زندگی اسی پچھتاوے میں گزارنا چاہتی ہے ۔۔۔۔!! حدید نے سمجھانا چاہا ۔۔
” میں نکلنا چاہتی ہوں اس گلٹ سے ۔۔ لیکن میں نہیں نکل پاتی مجھے اسکی چیخیں سنائی دیتی ہے وہ مجھے سونے نہیں دیتی وہ مجھے سکون نہیں لینے دیتی وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی میں مر جاؤں گی پلیز میری مدد کریں ۔۔۔!! زویا سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے چیخ رہی تھی ۔۔
” زویا خود کو سنبھالوں اس طرح سب ٹھیک نہیں ہوگا میں مدد کرونگا تمہاری تم بہت سٹرونگ ہو یہ مت بھولنا پلیز ۔۔!! حدید بیڈ پر اسکے تھوڑے فاصلے پر بیٹھتا اسکے ہاتھ تھام کر سمجھایا زویا نم آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
” آ ۔آپ مدد کریں گے مم ۔۔مجھے پھر سے ڈاکٹر زویا بننا ہے میں میں اس بار کوئی غلطی نہیں کرونگی کبھی بھی نہیں کسی کو مر نے نہیں دونگی اپنی پوری کوشش کرونگی ۔۔۔!! زویا امید بھری نظروں سے حدید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اسنے اثبات میں سر ہلایا اسکے ہاتھوں پر زور دیا ۔۔
★★★★
” کیا سوچا پھر ۔۔۔۔۔۔۔ کس بارے میں ۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو۔۔۔۔!! دو سیاہ شخص چہرے کو ماسک سے چھپا کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہیں تھے ایک ہی بینچ پر آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اس وقت وہ بھیڑ میں لوگوں کے بیچ تھوڑے فاصلے پر تھے پارک میں لوگ کا رش کافی تھا ۔۔
” سوچا کیا ہے اب بدلہ لینے کا ٹائم آگیا ہے ۔۔۔!! وہ شخص سپاٹ چہرے سے گویا ہوا ۔۔
” تمہیں کیا لگتا ہے جو شخص سالوں سے غائب ہوگئے ہیں وہ دوبارہ منظر عام پر آئے گے جیسے کے پیچھے میں آج تک ہوں وہ مجھے نہیں ملا تو تمہیں کہاں سے ملے گا ۔۔۔!! اس شخص کے لہجے میں ہار تھی تھکاوٹ تھی ۔۔
” گنہگار کتنا بھی چھپ لے ایک دن اسکے حساب کا آتا ہے اور وہ چاہا کر بھی اس دن سے بچ نہیں پاتا ۔۔۔ اور اب رشید جہاں بھی چھپا ہوگا اس بار وہ نہیں بچے گا انعل حیات کی موت کا راز تو میں جان کر ہی رہوں گا ۔۔ مجھے روکنے کی کو کوشش مت کرئیگا ۔۔۔!! وہ سختی سے کہتا وہاں سے اٹھ گیا پیچھے وہ شخص گہرا سانس لیتا اپنی سوچ میں گم ہو گیا ۔۔
★★★★
” انعل حیات بہت خوش ہو نہ تم یہاں دوسروں کی زندگی ویران کر کے ۔۔۔!! سیاہ فام نوجوان آدمی اسکے سامنے کھڑا اسکی بند آنکھوں کو دیکھ کر گویا ہوا ۔۔
” لیکن پریشان مت ہونا اب سے تمہارا خیال میں رکھوں گا تم صرف میری ہو تمہیں مجھ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا اور اگر کوئی بیچ میں آیا تو وہ اپنی جان سے جائے گا ۔۔!! وہ چیئر پر بیٹھا اسکا پٹی سے جکڑا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا مسکراتے ہوئے گویا ہوا وہ معصوم وجود دنیا جہاں سے بےخبر زندگی اور موت سے لڑ رہی تھی ۔۔
” تم ۔۔ یہاں کیا کر رہیں ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی اندر آنے کی ۔۔۔!! ایک وجود اندر روم میں آتے ہی سامنے شخص کو دیکھا اسکا خون کھول گیا تھا اسے یہاں اسکے قریب دیکھ کر تیزی سے اسکی طرف گیا ۔۔
★★★★★
” تھینک یو ہمیں آج بہت اچھا فیل ہو رہا ہے جب سے آئے ہیں قسمت نے گھوما کر رکھ دیا ہے ۔۔!! عروبہ آج ڈزین کے ساتھ باہر آئی تھی وہ کھلی ہوا میں بہت اچھا فیل کر رہی تھی وہ بہت خوبصورت پہاڑوں کی جگی پر تھے اونچیں اونچیں برفیلی پہاڑ ہلکی ہلکی سنوفال ہو رہی تھی وہ بلیک جینس وائٹ شرٹ لونگ سکین کلر کوٹ لونگ بلیک شوز گلے میں ریڈ مفلر کھلے سلكی بال آگے سے ہمیشہ سے بےبی کٹ بال اسے بہت حسین دلکش بنا رہیں تھے ٹھنڈ کی وجہ سے اسکا چہرہ گال مزید سرخ ہو رہیں تھے ڈزین کا بھی ویسا ہی لوک تھا ۔۔۔
” یو لوو اٹ ۔۔۔۔۔ یس چلے جلدی سے ہماری پکچر لے پھر ہمیں سیلفی بھی لینی ہے بہت سی ماما بابا بھائی کو بھیجے گے ۔۔۔۔!! عروبہ بولتے ہوئے کیوٹ سا منہ پوز بنانے لگی اسکی مسکراہٹ ہنسی گال پر پڑھتا ڈمپل اسے بہت خوبصورت بنا رہا تھا تھوڑا دور کھڑا وہ وجود اسکی ہر ادا اپنے فون میں کیپچر کر رہا تھا چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ لیے بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” اچھا دو ہمیں ہم آگے جاکے کچھ اچھی سی سیلفی لیتے ہیں ۔۔!! عروبہ تھوڑا آگے جاکے ایک جگا کھڑی ہو گئی نیچے بہت گہری کھائی تھی پر وہ اپنی پکچر لے لئے تھوڑا قریب ہوتے ہوئے اس کھائی کی پک لی پھر کچھ اپنی سلیفیاں لینے لگی تھی ۔۔
” ہے سنوں تم کچھ کھاؤ گی ۔۔۔۔ ہاں پلیز کچھ بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔ اوکے تم یہی رہنا اور ہاں آگے مت جانا خطرہ ہے ۔۔۔!! ڈزین اس سے پوچھتی پھر ھدایت دیتی کچھ لینے کے لئے چلی گی اسکے جاتے ہی وہ شخص اسکے قریب گیا ۔۔ عروبہ ویڈیو لینے کے لئے جیسے ہی گول گھومی برف پر پیر پھسلنے سے وہ حلق کے بل چیخی ۔۔۔
” ااآہہہ ۔۔۔ پپ۔۔ پلیز ہمیں بب۔۔بچا لے ہم مرنا نہیں چاہتے ۔۔۔!! احد تیزی سے آگے بھاگتا اسکا ہاتھ تھام چکا تھا عروبہ کا دل خوف سے تیز دھڑک رہا تھا وہ نیچے لٹکی ہوئی اسکے ہاتھ کے سہارے تھی جیسے وہ نیچے کھائی دیکھتی وہ زور سے چلائی تھی ۔۔
” حرکتیں تو مر نے والی ہی کر رہی تھی تم ۔۔۔ وو۔۔ وہ تو صرف پک لے رہی تھے نہ ہمیں کیا پتا تھا پیچھے کھائی ہے ۔۔۔۔ آر یو کریزی لائک سیریسلی تم جانتی تھی تم کہاں کھڑی ہو اور منہ پر جھوٹ بول رہی ہو ۔۔۔!! احد تو اسکے معصوم اندازے پر اش اش کر اٹھا ۔۔
” اب پلیز بچاۓ ہاتھ درد کر رہا ہے ہمارا اف یا اللّه آج بچا لے ہم اپنا صدقہ دیدے گے ہم بہت خوبصورت ہے نہ اس لئے ہمیں نظر لگ جاتی ہے ہاں شاید اپنے ہمیں نظر لگائی ہوگی تبھی تو گرے ہے ورنہ ابھی تو ٹھیک تھے ۔۔۔!! وہ پھر سے اپنے غلط اندازے لگانے لگی ہاتھ بھی درد کر رہا تھا لیکن محترمہ کو اپنی سوچ ظاہر کرنی تھی یہ تو احد کی برداشت تھی آریان تو پکا پھینک دیتا اسے ۔۔۔۔
” تمہیں تو ۔۔ اچھا میری وجہ سے یہ ہوا ہے نہ تو میں کیوں بچاؤں تمہیں مرو یہی ۔۔۔ ااآہہہ نہیں نہیں ہمیں مت چھوڑ نہ پلیز اللّه کا واسطہ قسم ہے آپکو بچا لے ۔۔۔ وہ غصے میں اپنا دباؤ کم کیا ہی تھا کے وہ اتنی زور سے چیخی اسے لگا انکے کان کے پردے پھٹ گئے ۔۔۔
” چھوڑ دو اس کا ہاتھ ۔۔۔۔۔ كياااا ۔۔۔۔ واٹ ۔۔۔!! اس آواز پر دونوں شاک میں چلائے ۔۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” ہاتھ چھوڑو اسکا وہ میری دوست ہے ۔۔۔ جب بچا نہیں رہے تو لٹکا کر کیوں رکھا ہے ۔۔!! ڈزیننے غصے میں گھور تے ہوئے احد کو کہا وہ دونوں اسکی بات پر اسے گھور تے رہ گے ۔۔
” نہیں نہیں آپ ہمارا ہاتھ مت چھوڑنا ہم مر گئے تو ۔۔ اور تم اگر زندہ بچیں گے تو دوست رہیں گے نہ ہم ۔۔ یا اللّه کہا پھنس گئے ہے ہم ۔۔!! عروبہ کو اپنی قسمت پر جی بھر کر رونا آیا ۔۔
” جب تم میری دوست کو بچا نہیں رے تو اچھا ہے چھوڑ دو ہاتھ میں خود بچا لونگی اسے اسٹوپڈ ۔۔!! ڈزین کو بہت غصہ آیا ڈھیٹ پن پر وہ اسے اوپر کھینچ نہیں رہا تھا اور ایسے ہی باتیں کر رہا تھا وہ جھک کر اسے ہاتھ دیا اسے پہلے ہی احد پورا زور لگا کر اسے اوپر کھینچا عروبہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ تے ہوئے اپنا زور لگاتی اوپر پہنچ کر گہرے سانس بھرے ۔۔۔
” شکر اللّه میاں آپکا ہم بچ گئے ۔۔ اور آپ کون سی دشمنی نکال رہے تھے ہم پر ہے کون آپ ۔۔!! عروبہ خود کو ریلیکس کرتے اٹھ کھڑی ہوئی اسکے سامنے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے پورا زور لگا کر اسے دھکہ دیا جس سے وہ تھوڑا پیچھے ہوا کیوں کے وہ ایک بہت ہی مضبوط مرد تھا ۔۔
” اس میں کون سی بڑی بات ہے جان لیتے ہیں ایک دوسرے کو ہیلو میں احد مرزا اور آپ کا نام ۔۔ یہی جاننے آیا تھا آپکے پاس لیکن ۔۔!! احد دلچسپی سے اسے دیکھتا مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
” لگتا ہے زندگی میں پہلی بار ایسے پہاڑ دیکھے تھے اس لئے اتنی پاگل ہوگئی تھی آپ ۔۔!! احد طنزیہ مسکرایا تھا ڈزین تو بس اسے گھور تی رہی اور عروبہ کو بہت غصہ آیا اسکی بات پر ۔۔
” اوہ ہیلو مسٹر آپکو معلوم ہے میرا ملک دیکھا ہے کبھی اس سے بھی بہت خوبصورت ہے یہاں کے پہاڑ کچھ بھی نہیں وہاں کے خوبصورت پہاڑ کے آگے سمجھے ۔۔!! عروبا نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا ۔۔
” میں نے تو سنا ہے پاکستان اتنا خاص نہیں بلکے وہاں تو بہت گرمی وغیرہ ہے ۔۔!! احد برا منہ بناتے ہوئے کہا عروبا کا دل کیا اسکا منہ نوچ لے ۔۔
” مسٹر ہم نے کہا نہ ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے آپ نے دیکھا ہی کیا ہے اسکے جیسا ملک کہیں بھی نہیں سمجھے دوبارہ ہمارے ملک کے بارے میں کچھ کہا نہ ہم ہم اپکا منہ توڑ دینگے ۔۔۔!!
” غصے میں بھی اتنی حسین ۔۔۔ پھر ملک بھی واقعی بہت خوبصورت ہوگا ۔۔۔ جہاں اتنی دلکش پری رہتی ہے ۔۔۔!! احد اسکی خوبصورت چہرے کو گہری دلچسپی سے دیکھتا ہوا کہا ۔۔
” ہاہاہا ارے یار اتنا غصہ ہاہاہا ۔۔۔!! عروبا غصے سے سرخ پڑھتی نیچے جھک کر برف کا گولہ بناتی اسے مارنا شروع ہوگئی ۔۔ احد کو اسکی معصومیت غصے پر جی بھر کر پیار آیا ہنستے ہوئے اسکے نشانے سے بچنے لگا اب تو ڈزین نے بھی اسکا ساتھ دیا جس پر وہ کھلکھلا اٹھی اسکی ہنسی گال پر پڑھتا ڈمپل احد کا دل دھڑکا گیا وہ ایک نظر مسکراتی اس پر ڈالتا وہاں سے بھاگ گیا پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے لگی ۔۔۔
★★★★
” وہ لڑکی کون تھی ۔۔۔!! سامنے کھڑی چھوٹے بالوں والی لڑکی نے سوال کیا جس پر اسنے آئبرو اچکاتے اسے دیکھا جیسے اسے تو پتا نہیں ۔۔
” وہ جو بھی تھی اسکے اور میرے بیچ کبھی مت آنا اور ہاں جتنا ہو سکے اس سے دور رہو ورنہ یو نوں ڈیٹ ۔۔۔!! اسنے وارننگ انداز میں کہا ۔۔
” ایسے خطرناک کام میں تمہیں دل نہیں لگانا چائیے ورنہ انجام کے زمیدار خود ہوگے ۔۔ اور ایک بات سر پوچھ رہیں ہے اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے جتنا جلدی ہو سکتا ہے اپنا مشن کمپیلیٹ کریں اور اپنے وطن لوٹے ۔۔۔!! وہ اسے اچھے سے باور کرانے لگی ۔۔
” اب تو ہم بہت قریب ہے اپنے مشن کے بس ایک بار زید جعفری ڈی اے کے ہاتھ لگ جاۓ ۔۔۔!! اسکی آنکھوں میں چمک تھی ایک مسکراہٹ تھی وہ جو بھی تھا اپنے وطن کے لئے جان بھی دے سکتا تھا ۔۔
★★★★
” خیر ہے آج کل کس کے خیالوں میں ہو ۔۔۔!! حازق اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا جو بہت ہی گہری سوچ میں تھا ۔۔
” جس کے خیالوں میں ہوں اسکا کچھ کرنا پڑیگا ۔۔!! آریان اسکا سوچتے ہیں ہلکی مسکراہٹ سے بولا ۔۔
” برو کہیں عشق تو نہیں ہوگیا ۔۔۔ ایک منٹ کیا وہ میری دشمن ہے نو نو برو ۔۔۔!! حازق شرارت سے کہتا آخر میں اسے گھورا ۔۔
” تمہاری فضول گوہی ختم نہیں ہوگی ۔۔۔ جس کام کا بولا تھا اسکا کیا بنا ۔۔۔!! آریان سنجیدگی سے اب کام کے مطلق پوچھا ۔۔
” کل انکی ایک سکریٹ میٹنگ ہے لیکن مسلہ یہ ہے انہوں نے بہت سخت انتظام کیا ہوا ہے وہاں کچھ بھی کر پانا بہت مشکل ہے ۔۔۔۔ ڈے مٹ ۔۔۔!! آریان نے غصے میں مٹھیاں بھینچلی ۔۔
” اور اس سیکرٹ ایجنٹ کا پتا چلا ۔۔۔۔ مجھے تو اسی پر شک ہوتا ہے ۔۔ لیکن اسکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔۔!! دونوں مل کر کل کے بارے میں پلین تیار کیا ۔۔
★★★★
” تھنک یو ڈزین ہمیں سچ میں بہت بہت مزہ آیا کل آپکے ساتھ گھومنے میں ۔۔ ہم جب سے آئے تھے بور ہوگئے تھے انجوائے نہیں کر پا رہے تھے لیکن کل آپکے ساتھ بہت مزہ آیا یوآر مائے بیسٹ فرینڈ لوو یو ۔۔!! عروبہ نے خوشی سے اسکے گلے لگتے ہوئے کہا اسکی ڈزین کے ساتھ دوستی گہری ہوتی جا رہی تھی ڈزین جس طرح اسکا خیال رکھتی تھی ۔۔
” تم ہو ہی اتنی پیاری جس کے ساتھ رہو گی اسے اپنا دیوانہ بنا دوگی ۔۔!! ڈزین شرارت سے اسے چھیڑنے لگی جس پر وہ بلش کرنے لگی ۔۔
” مس عروبہ ۔۔۔۔ یس سر ۔۔!! مینجر چلتا عروبہ کے پاس آیا ۔۔
” لیفٹ سائیڈ ایک چھوٹا سا سیکریٹ روم ہے وہاں صرف اسپیشل لوگ جانتے ہیں اور وہاں کا آرڈر صرف ایک ہی کو لیا جاتا ہے اور تمہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کیوں کے وہ تم جاؤ گی تمہارے علاوہ کوئی نہیں اوکے اب جاؤ ۔۔!! منیجر کہتا وہاں سے چلا گیا عروبہ کو حیرت ہوئی پھر یہی سوچ کر کندھے اچکاۓ شاید یہاں ایسا ہوتا ہو اور وہیں ڈزین منیجر کو غصے میں گھور تے ہوئے مٹھياں بھنیچی ۔۔
” اب کیا کریں ویٹر کا روپ بھی نہیں لے سکتے انہوں نے آئے ڈی کارڈ دیکھا دیا ہے گارڈ کو اس ویٹر کا جو اندر جائے گا ۔۔!! دو لوگ ایک کونے میں بیٹھے دوسری سائیڈ اس روم پر نظر رکھیں گے ایک دوسرے سے راز داری میں گویا ہوئے دونوں بلیک ڈریس میں سر پر ہٹ چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا اور وہی دور ایک اور وجود ہڈی میں ٹیبل پر لیپ ٹوپ کھولے کن کن نظروں سے اس دروازے پر نظر ڈال رہا تھا ۔۔۔ اب تینوں وجود چونکے تھے اس ویٹر ڈریس میں لڑکی کو دیکھ کر ۔۔
” شٹ اس بیوقوف کو کیوں بھیج رہیں ہیں ۔۔۔ وہاں ایک لالچی گندی نظروں والا انسان بھی ہے ۔۔۔!! وہ شخص حیرت سے بولا اسے دیکھ کر جو غصے میں شدید سرخ ہو رہا تھا اور وہی پاس بیٹھا شخص جلدی سے کیسی کو میسج بھیجا ۔۔
” عروبہ کو کیوں بھیج رہیں ہے اندر تم کہاں ہوں تم کیوں نہیں گئی جانتی ہو وہ معصوم لڑکی ہے اسے کچھ ہوا نہ تمہیں نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔!! وہ انتہائی غصےمیں دانت پیستے ہوئے ٹیپنگ کر رہا تھا ۔۔
” میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی لیکن وہ منحوس آدمی نے جان بوجھ کر بھیجا ہے وہ جانتا ہے یہ پاکستانی ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آئے گی اور ساتھ میں بیوقوف بھی ۔۔۔!! غصے میں میسج بھیجا گیا ۔۔
” شٹ ۔۔ ڈیم اٹ یار ۔۔!! ان دو وجود کا دل بہت گھبرا رہا تھا اس کے لئے لیکن اس وقت دونوں بےبس تھے کچھ کرتے تو اسکے لئے مسلہ ہو جاتا اس لئے خاموش رہنا پڑھا ۔۔
★★★★
” عروبہ کا دل گھبراہٹ سے تیز دھڑک رہا تھا اسے طرح کے ماحول جگا کا اسنے ہمیشہ گینگسٹر کے حوالے سے جانا تھا اور آج اسے ایسا لگ رہا تھا وہ واقعی اسی پروبلم میں پھنس گئی ہے پر اسے خود میں ہمت رکھنی تھی اندر آتے ہی اسنے دیکھا چھوٹا سا روم تھا ہلکی ریڈ لائٹ چل رہی تھی دو صوفہ پڑے تھے وہاں چار لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک لڑکی تھی جو سیاہ ڈریس میں تھی باقی سب فارم ڈریس میں تھے دو ایجڈ ایک ینگ نوجوان ایک لڑکی تھی عروبہ کو ان سب سے وحشت ہو رہی تھی ۔۔
” ہہ ۔۔ہیلو سر پلیز ٹیل می آرڈر ۔۔؟ عروبہ دھک دھک دل کے ساتھ کہا ۔۔
” ہیلو بوٹیفل لیڈی ۔۔۔!! وہ نوجوان غنڈے جیسا ہولیا تھا اٹھ کر اسکے پاس آتا گہری دلچسپی سے اسے دیکھتا بولا عروبہ کی تو جان نکل گئی اس گندے جیسے آدمی کو دیکھ کر ۔۔
“آ۔ آرڈر پپ ۔۔پلیز سر ۔۔؟ عروبہ پیچھے ہوتے ہوئے کپكپاتی آواز میں بولی ۔۔
” اپنی چیپ حرکتیں یہاں بند کرو باہر عوام بیٹھی ہیں اور تم جاؤ آرڈر لے آؤ اور ہاں باہر جاکے کسی سے کچھ کہا تو اپنی موت کو خود دعوت دوگی ۔۔۔!! وہ لڑکی فائل پر نظر رکھیں ہوئے اسے کہہ رہی تھی ایک بار بھی اسنے سر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا عروبہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی اسے لگا وہ پہلے مل چکی ہے اس سے کہیں تو دیکھا ہے یاد کر ہی رہی تھی کے اچانک اس لڑکے نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک آنکھ دبائی جسے وہ کرنٹ لگنے سے تیزی سے باہر بھاگی ۔۔۔
” تم اپنی حرکتیں بند کرو کام پر فوکس کرو ۔۔ اوکے کام کے بعد ملاقت کر کر لینگے ۔۔!! وہ پھر اپنی شیطانی مسکراہٹ سے گویا ہوا ۔۔
” تو کیا سوچا ہے اس بار ڈی اے کے ساتھ کیا کرو گے ۔۔ اور اس ڈیل کا کیا ہوا ۔۔!! وہ لوگ اپنے کام کی باتیں کرنے لگے ۔۔۔۔
تب تک عروبہ آرڈر بھی لے آچکی تھی اسکا باہر نکلنا اسکے چہرے پر گھبراہٹ وہ باہر بیٹھے شخص محسوس کر چکے تھے ڈزین نے بہت پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نہیں کہا وہ بہت ڈر چکی تھی وہ کھانا وہی رکھ کر جانے کے لئے موڑی تھی کی پھر وہ لڑکا بولا ۔۔
” کھانا کون سرو کریگا ۔۔۔۔ جج ۔۔جی ہم ہم کرتے ہیں ۔۔۔!! آج تو عروبہ کو اپنی موت دکھائی دے رہی تھی اسے لگا اسکا دل ہی پھٹ جائیگا آج تیز دھڑکنے سے ان لوگوں کی جو باتیں تھی اسے لگ رہا تھا وہ کوئی بڑا دھماکہ کرنے والے ہے جب اسنے اپنے ملک کا نام سنا تو اسے غصہ بہت آیا پر وہ ایک نظر ان پر ڈالتی جیب سے اپنا فون ریکارڈنگ پر لگا کر رکھ دیا وہ سب لیپ ٹوپ پر کچھ دیکھ کر مسکرا رہیں تھے جس کا مطلب تھا وہ اپنی پلاننگ سر انجام دے رہیں تھے عروبہ کا دل کیا ان سب کا کچھ کردے جو اتنے برے خیالات کے لوگ تھے کسی کے جان کی قیمت ایسے لگا رہیں تھے جیسے کوئی چیز دکاندار بھج رہا ہو عروبہ دل کیا سب سے پہلے وہ اس شخص کی جان اپنے ہاتھوں سے لے جو کب سے اسکے گندی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
” تم جاؤ کھڑی کیوں ہو یہاں ۔۔!! وہ لڑکی نظریں اٹھا کر اسے ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا عروبہ ثابت میں سر ہلا کر جانے لگی تھی کے وہ شخص پھر سے اسکے سامنے آگیا اسنے ہاتھ بڑا کر اسکا ماسک ہٹانا چاہا وہ تیزی سے پیچھے ہوئی وہ اس بار ماسک پہن کر آئی تھی ۔۔
” بہت مغرور ہو تم لڑکیاں مرتی ہے میرے پاس آنے سے اور تم دور بھاگ رہی ہو کم ان بےبی چلو ساتھ میں ڈرنک کرتے ہیں ۔۔!! وہ كمینگی سے کہتا اسکا ہاتھ پکڑ تھا کے وہ تیزی سے چھوڑوا کر بھاگی غصے میں وہ شخص بھی اسکے پیچھے گیا وہاں بیٹھے لوگ اپنا پلین خراب نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے اپنے کام میں لگ گئے جانتے تھے وہ اکیلا ہی کافی ہے اس لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگانے کے لئے ۔۔۔
” آہہہ ۔۔ چھوڑے ہمارا ہاتھ ۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے دور بھاگنے کی اب دیکھ کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ ۔۔۔!! عروبہ جیسے ہی باہر نکلی وہ شخص تیزی سے آگے بڑھتا اسکا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کے اسے دھمکا نے لگا عروبہ درد سے روتے ہوئے اپنا ہاتھ چھوڑ وانے لگی اور یہ منظر ان وجود کو آگ لگا گیا ۔۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے کان میں کچھ کہتا وہاں سے تیزی سے باہر نکلا اور اچانک فائر ہوئی وہاں بیٹھے لوگ چیختے چلاتے ہوئے بھاگنے لگے اچانک حملہ پر سب حیران پریشان ادھر ادھر بھاگ رہیں تھے اس شخص کے گارڈ جلد سے اسکے پاس آئے عروبہ اپنا پورا زور لگا کر ہاتھ چھوڑ واتی وہاں سے بھاگی دل خوف سے دھڑک رہا تھا ۔۔
” شٹ پکڑو اس لڑکی کو کہیں بھی بچ کر نہ جاۓ مجھے وہ چاہئیے کسی بھی حالت میں ۔۔آہہ کس کمینے نے مجھ پر گولی چلائی ۔۔!! وہ شخص شیر خان غصے میں پاگل ہوتا تیز تیز چلا رہا تھا اندر بیٹھے لوگ بھی باہر آتے غصے میں پاگل ہو رہیں تھے لیکن شیر خان کو اب صرف اس لڑکی سے بدلہ لینا تھا جس کی وجہ سے یہ سب برباد ہوا آج کا دن اس پورے علاقہ میں افرا تفری مچ گئی تھی ۔۔۔
” اللّه میاں ہمیں بچھا لے کہاں جاۓ یہ لوگ تو پیچھے پڑ گئے ہے ہم تو صرف اپنے ملک کا بدلہ لے رہے تھے افف کہاں جائے ہہ ۔۔؟ وہ بھاگتے ہوئے چلا کر خود سے باتیں کر رہی تھی کے اچانک کسی نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسکے منہ پر اپنا بہاری ہاتھ رکھ دیا وہ ڈر سے آنکھیں بند کئے اپنا سانس بحال کرنے لگی تھی ۔۔
” وہ لوگ تمہارے پیچھے کیوں تھے اب کیا کیا ہے تم نے ۔۔ اسکی سرد آواز اسکے کان میں گونجی تھی وہ اس آواز کو پہچانتے ہوئے جھٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھ رہی تھی اپنے قریب دیکھ کر ایک پل کو دل کو سکون بھی آیا اسکے ساتھ ہونے سے ۔۔
” گھورنا بند کرو جلدی بتاؤ ۔۔؟ اسکے بولنے پر وہ ہوش میں آئی اور غصے میں اسے دیکھ کر پھر اسکے ہاتھ کو دیکھا جو اسکے چہرے پر تھا وہ اسکا اشارہ سمجھتا ہاتھ پیچھے کیا اسنے گہرا سانس لیا اور غصے میں وہاں سے جانے لگی تھی کے اچانک پھر سے اسنے کھینچ کر دیوار سے لگا یا اور دونوں ہاتھ رکھ دے دیوار پر وہ اسکی قید میں سانس روک کر کھڑی تھی آنکھوں میں پانی جما ہو گیا تھا اور دل ڈول کی طرح بھجتا ہوا محسوس ہوا ۔۔
” دوبارہ مجھے اگنور مت کرنا ورنہ تمہارے لئے برا ہوگا یاد رکھنا اب شرافت سے سچ بولو کیوں پیچھے پڑے ہے وہ لوگ تمہارے ۔۔ وہ غصے میں اسے وارننگ دینے لگا تھا ۔۔
” وو ۔۔ وہ ہم نے کچھ نہیں کیا پپ ۔۔ پتا نہیں کیوں آرہے ہیں ہمارے پیچھے ۔۔!! اسنے نظرے چرا کر جواب دیا تھا ۔۔
” کیا وہ لوگ پاگل ہے جو تم جیسی بیوقوف لڑکی کے پیچھے آئیں گے جھوٹ بولنا بند کرو اتنا جھوٹ بول کیسے لیتی ہو بیوقوف سمجھ رکھا ہے سب کو اپنی طرح ۔۔!! اسے شدید غصہ آیا اسی بیوقوفی پر کس جگا خود کو پھنسا لیا تھا اسنے ۔۔
” جی نہیں ہم بیوقوف نہیں ہے ہم تو بہت سمارٹ ہے اس لئے تو ہم نے انکی گینگ کی باتیں ریکارڈ کی اس لیے تو وہ ہمارے پیچھے ہے جب دیکھو ہمارے ملک کو بد نام کرتے ہیں یہاں کے لوگوں کا بھی تو پتا چلے لوگوں کو سمجھے اور ہاں آپ ہم سے سخت لہجے میں بات مت کیا کریں پہلے ہی بہت انسلٹ کر چکے ہیں ہماری ۔۔۔ وہ اسکے بیوقوف لفظ پر چڑ کر پورا راز کھول گیا وہ اسکی معصومیت دیکھتا مسکرا کر دو قدم پیچھے ہوا تھا عروبہ کا بھاگنے رونے سے چہرہ سرخ پڑ چکا تھا ۔۔
” وہ ثبوت مجھے دو ۔۔ اسنے ہاتھ آگے بڑھایا تھا وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پھر اسکا ہاتھ دیکھنے لگی تھی اسکا دل بھر آیا وہ اسے بچانے نہیں آیا تھا کیا اسے بھی ثبوت چاہئیے تھے اسکا دل ٹوٹ گیا تھا اسکے انداز سے ۔۔
” یہ ۔۔ یہ ہہ ۔۔ہمارا ہے ہم نہیں دینگے اگر آپ نے ہم سے ہوشیاری کی تو ۔۔۔!! اسے غصہ آنے لگا تھا اس پر اب دل پہلے ہی خوف سے دھڑک رہا تھا ۔۔
” تو کیا ۔۔ چپ چاپ سے یہ مجھے دو ورنہ وہ لوگ تمہیں چھوڑے گے نہیں اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو ان سب سے دور رہو ۔۔!! آریان غصے سخت لہجے میں گویا ہوا ۔۔
” ہماری قسمت میں یہی مرنا لکھا ہے ۔۔ ہمیں کوئی بچا نہیں سکتا آپ سب یہی چاہتے ہیں ہم مر جائے تو ٹھیک ہے آپ کو اس سے مطلب تھا یہ لیں ۔۔۔!! وہ روتے سوں سوں کرتے ہوئے غصے میں کہتی اپنا فون اسے تھاما کر آگے بڑھی تھی کے پھر سے گولیاں چلنے شروع ہوئی اس سے پہلے وہ گولی اسے چھو کر گزر تی پہلے آریان نے بازوں سے پکڑ کر اسے پیچھے کیا اور جس نے نشانہ لینا چاہا تھا اسکے ماتھے پر پیچھے سے کسی نے گولی چلائی عروبہ خوف دھک دھک کرتے دل کے ساتھ آنکھیں کھولی تھی کے سامنے آدمی کی لاش پر گئی نظریں اسکا خون دیکھتے ہوئے چکرا کر بیہوش ہوگی کیوں کے وہ کیوں کے وہ خون نہیں دیکھ پاتی تھی یہ اسکی کمزوری تھی جب بھی وہ خون دیکھتی وہ بیہوش ہو جاتی تھی اور آج تو وہ پہلے ہی پریشان گھبرائی ہوئی تھی وہ آریان کی بازوں میں جھول گئی آریان جو سامنے حیرت سے اس وجود کو دیکھ رہا تھا اسکے گرنے سے سنبھلا اسے بازوں میں اٹھا کر وہاں سے نکلا پیچھے وہ شخص اسکی نظریں عروبہ پر تھی دوسروں سے مقابلہ کرنے لگا تھا ۔۔۔
