Mera Ishq by Mahra Shah Season 2 Nafrat e Ishq NovelR50542 Mera Ishq (Episode 08)
Rate this Novel
Mera Ishq (Episode 08)
Mera Ishq by Mahra Shah
” واہ اٹس امیزنگ ۔۔!! عروبہ نے پارٹی میں آس پاس کی رونک دیکھ کر تعریف کی وہاں کی ڈیکوریشن بہت کمال کی تھی اور سب سے زیادہ جو چیز خوبصورت تھی وہ خود تھی جو بلیک سٹائلش فراک میں آگے سے گھٹنوں تک پیچھے لونگ تھی بلیک ہی جینس پر پہنی تھی گلے میں ریڈ اسٹولر پہنے ہوئے بالوں کو ہمیشہ کی طرح کھلا چھوڑے جو آگے سے ہمیشہ اسکے ماتھے پر چھوٹے سے اسے پیارا بناتے تھے خوبصورت سے ہلکے میکپ میں بے حد دلکش حسین لگ رہی تھی جب کہ ڈزین بھی اپنی خوبصورتی آپ تھی اسنے ریڈ میکسی پہنی ہوئی تھی ۔۔
” اچھا سنو عرو پلیز اپنا خیال رکھنا ادھر اودھر کہیں گم مت ہو جانا زیادہ تر بھیڑ میں ہی رہنا اوکے میں ایک ضروری کام سے جا رہی ہوں تم یہی رہنا اور ہاں خیال رکھنا یہاں ڈرنک وغیرہ کا ۔۔!! ڈزین اسے سمجھاتی اپنے کام سے آگے بڑھ گئی اسکی بات سنتی عروبہ اچھے بچوں کی طرح سر ہلا کر آگے بڑھی ۔۔ یہ ایک بہت بڑا فارم ہاؤس تھا یہاں ایسی پارٹی اکثر رکھی جاتی تھی بڑے بڑے بزنس گینگسٹر لوگوں کا آنا جانا تھا یہاں ۔۔
” اوپس سو ۔۔۔!! عروبہ کا دھیان وہاں کی سجاوٹ میں ہی تھا اور آگے سے آتے شخص کو نہ دیکھ پائی سیدھے اسکے چوڑے سینے سے ٹكرائی تھی وہ زمیں بوس ہونے سے پہلے ہی اسکے مظبوط حصار میں تھی عروبہ کے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر تھے وہ اپنی غلطی مانتی سوری کرنے لگی تھی کے اس شخص کو دیکھ کر اسکا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ کل سے اسے ابھی دیکھ رہی تھی جو شاندار پرسنلٹی اپنی پوری وجاہت کے ساتھ بلیک تھری پیس سوٹ میں اسکا گورا رنگ گہری کالی آنکھیں ماتھے پر سیٹ بال حسین مرد اسکے سامنے تھا اسے دیکھتے دھڑکنیں تیزی ہوئی وہ اسکے نزدیک کھڑی اسکے حصار میں تھی ۔۔ آریان ایک پل کو تو ساكت رہ گیا اسکے حسین دلکش سراپے کو دیکھ کر پھر اسے یہاں ایسی جگہ دیکھ کر اگلے ہی پل آنکھوں میں شولے برسنے لگے تھے اسکی یہاں موجود گی نے اسے تیش دلا دیا تھا ۔۔ عروبہ اسکے بدلتے سخت تاثرات دیکھ کر اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھر تے آس پاس نظر دوڑائی جیسے بھاگنے کے لئے راستہ تلاش میں تھی اور دور ہونا چاہا کے اسکی گرفت مضبوط ہوگئی تھی خوف سے دل دھک دھک کر رہا تھا زبان پر تو جیسے تالا لگ گیا تھا ۔۔
” آر کم ان تمہیں ڈیڈ سے ملواتی ہوں چلو ۔۔!! اسے پہلے آریان کچھ کہتا یا عروبہ بھاگتی ۔۔ الینا کی آواز پر دونوں کا سکتہ ٹوٹہ تھا آریان کی گرفت ہلکی ہوئی تو عروبہ تیزی سے پیچھے ہوئی ۔۔ وہ پیار سے کہتی اسکے بازوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لیکے آگے بڑھ گئی جب کہ آریان کو مجبورن آگے بڑھنا پڑھا تھا جاتے ہوئے ایک نظر پیچھے موڑ کر اسے ضرور دیکھا جس نے اسی وقت نظر اٹھا کر اسے ہے دیکھا اسکی نظروں میں ہزار شکوے تھے جلن محبت کی آس تھی جو یہ سب اگنور کرتا آگے بڑھ گیا ۔۔ عروبہ کا بس نہیں چل رہا تھا اس چڑیل کا قتل کر دے جو ہمیشہ اسکے پیچھے ہی پڑی رہتی ہے اسکا بازوں میں ہاتھ ڈالنا اسے بار بار یاد آرہا تھا غصے جلن کی وجہ سے آنسوں نکل آئے تھے ۔۔ دل نے شدت سے خوائش کی کاش وہ کبھی اسے دیکھ کر خوش ہو اسے پیار سے دیکھے ۔۔ ابھی اسکی آنکھوں میں غصہ ناگواری دیکھتے ہی اسکا دل ڈوپ گیا تھا تو کہیں اس سے ڈر خوف بھی آرہا تھا ۔۔۔
” عرو یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔ کیا ہوا تم رو رہی ہو ۔۔؟ ڈزین اسے دیکھتے ہی پریشان ہوئی ابی تو وہ اسے خوش چھوڑ کے گئی تھی ۔۔
” کک ۔۔کچھ نہیں ہہ۔۔ ہمیں واش روم جانا ہے ۔۔!! عروبہ خود کو کیمپوز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی ۔۔
” اچھا سنو تم یہاں سے لیفٹ جانا اور پھر واپس نیچے آجانا میں وہیں ویٹ کرونگی ۔۔!! ڈزین کہتی وہیں سے چلی گئی ۔۔
” کیوں ہوتا ہے ہمارے ساتھ ایسا ۔۔ کیوں وہ ہمیں پیار سے نہیں دیکھتے کیوں ہم پر غصہ کرتے ہم کیوں اچھے نہیں لگتے انھیں وہ چڑیل کیوں اچھی لگتی ہے انھیں اللّه کریں مر جائے وہ ۔۔!! عروبہ روتے ہوئے آئینہ میں خود کے عکس کو دیکھ کر اپنا حالے دل سنا رہی تھی کافی دیر بعد وہ خود کو اچھے سے سنبھال کر فریش ہوتی باہر نکلی اس نے سوچ لیا تھا اب وہ مزید اسکا غصہ نفرت برداشت نہیں کرے گی عروبہ جیسے ہی آگے بڑھی تھی کے کچھ آوازوں پر رک گئی سائیڈ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ اس آواز کو پہچاننے پر تجسس کے مارے آگے بڑھ ہلکے سے کھلے دروازے میں سے دیکھنے کی کوشش کی تھی کے پیچھے سے بھاری قدموں کی آواز پر جیسے موڑ کر دیکھا آنکھیں حیرت خوف سے پھیل گئی سامنے والے کا حال بھی کچھ مختلف نہیں تھا عروبہ ڈر سے ایک قدم پیچھے لیا تھا جیسے وہ تیزی سے آگے بڑھا پر اس سے پہلے عروبہ تیزی سے بھاگی تھی شیر خان جلدی سے فون نکال کر کسی کو کچھ کہا آج وہ اسے اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیگا ۔۔۔
” عروبہ کیا ہوا تم ٹھیک ہوں ۔۔؟ ڈزین اسے پریشانی سے بھاگتے ہوئے اپنے قریب روک کر پوچھا ۔۔
” ڈڈ ۔۔ ڈزین وو ۔۔وہ آدمی یہی ہے ہمارے پیچھے پڑ گئے ہے ہم کیا کریں پلیز چلوں یہاں سے ۔۔!! عروبہ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اسے سب بتایا تھا ۔۔
” ریلکس کچھ نہیں ہوگا وہ یہاں اتنے لوگوں میں تمہارے ساتھ کچھ برا نہیں کریگا اوکے میرے ساتھ رہو پارٹی انجوائے کرو ڈارلنگ ۔۔!! عروبہ نے کچھ کہنا چاہا پر ڈزین اسے خاموش کرواتے اسے سمجھا نے لگی تھی ۔۔ شیر خان بھی اسکے پیچھے آتے اتنے لوگ دیکھتا اسے دور سے ہی گھورتا بےبسی سے وہی کھڑا رہ گیا ۔۔ جب کہ عروبہ نے سکون کا سانس لیا وہ جوس پیتے ہوئے کھڑی تھی ۔۔
” ہیلو بوٹیفل لیڈی ۔۔؟ احد اسکے ساتھ کھڑا ہوئے کہا عروبہ نے بھاری مردانہ آواز پر گردن موڑ کر ساتھ کھڑے شخص کو حیرت سے دیکھا اسے بھی بلیک تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا وہ بھی اپنی شاندار اپنی خوبصورت پرنسلٹی کے ساتھ کھڑا اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔
” آپ ۔۔ وہی اچھے سنگر ہے نہ ۔۔ ہمیں گانا سناۓ ۔۔۔!! عروبہ اسے دیکھتے وہی رات یاد آئی اسکا گانا یاد کرتے ہوئے وہ فورن چہک کر بولی تھی ۔۔ احد نے اسکے انداز پر قہقہ لگایا تھا ۔۔
” ہاہاہا ۔۔ یار تم سچ میں اتنی حسین ہونے کے ساتھ اتنی معصوم ہو یا بنتی ہو قسم سے کسی کو بھی گھائل کر سکتی ہو ۔۔ اپنی ان خوبصورت اداؤں کو تھوڑا چھپا کر رکھو ۔۔ احد نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ جو اسکی بات پر سرخ ہوتے ہوئے گھبرا گئی تھی ۔۔
” آ ۔۔ آپ ہم سے اسی باتیں مت کیا کریں ۔۔ ہمیں ڈر لگتا ہے ۔۔۔؟
” کس سے ۔۔؟ آپ سے ۔۔ عروبہ کا ڈر ۔۔ احد کو مزہ دے رہا تھا ۔۔
” ڈانس کرو گی ۔۔ پھر گانہ بھی سناؤں گا لیکن یہاں نہیں سکون سے کہیں بیٹھ کر ۔۔ ابھی انجونے کرتے ہیں ۔۔!! احد نے کہتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔۔ عروبہ گھبرائی تو بہت تھی پر احد کے ساتھ اسے تھوڑا اچھا فیل ہوتا تھا ۔۔ پہلے اسے دیکھ کر پھر اسکے ہاتھ کو دیکھتی مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ اور وہی لمحہ تھا آریان کی ضبط کی انتہا کا غصے میں اسکی رگیں پھول گئی تھی وہ غصے میں جیسے آگے بڑھا تھا الینا نے اسے اپنے ساتھ ڈانس کی آفر کی وہ غصے میں اسکے ساتھ آگے ڈانس فلور پر گیا جہاں وہ دونوں پہلے ہی جا چکے تھے آج تو آریان کے ہاتھ سے ان میں کسی کا قتل پکہ تھا وہاں سب کو سٹائلش ماسک دیئے گئے تھے چہرے پر لگا نے کے لئے سب نے اپنی ڈریس کے ساتھ میچ پہنا ہوا تھا ۔۔
” تم یہاں کیوں کھڑی سنگل لوگوں کے دل پر بچلیاں گرا رہی ہوں آجاؤ مجھ غریب کو اپنا یہ قیمتی وقت دو ۔۔۔حازق رکو تو ۔۔ نہیں آج تو نہیں چھوڑوں گا اس خوبصورت حسینہ کو ۔۔۔؟ حازق تیزی سے آتا ڈزین سے کہتا اسکا ہاتھ پکڑتا اسے لکے آگے بڑھ گیا ڈزین غصے میں گھور تی رہ گی اس پاگل انسان کو ۔۔۔ میوزک کے شروع ہوتے سب کپلز ایک ساتھ آمنے سامنے ماسک پہن کر کھڑے ہو گے سب کے چہرے پر ہلکی خوبصورت مسکراہٹ تھی صرف ایک انسان کے اندر آگ اور باہر چہرے پر بے حد سختی تھی آریان خان جس نے آج تک اپنی چیزے کسی کے ساتھ شیئر نہیں کی نہ ہی کسی کو آنکھ اٹھا کر اسے دیکھنے کو دی اور آج اسکی بیوی اسکی عزت اسکی محبت اسکا عشق کسی اور کے حصار میں اسکے اتنے قریب یہ سوچتے دیکھتے اسکی آنکھوں میں شولے برسنے لگے تھے رگیں پھولی ہوئی تھی ضبط سے اسکا چہرے سرخ پڑھ چکا تھا ایک پل کو الینا اسکے تاثرات دیکھ کر ڈر گئی پھر اسکے قریب ہوتے چھوٹے چھوٹے سٹیپ لینے لگے سب ۔۔ عروبہ کی دھڑکنیں تیزی سے چل رہی تھی احد کے قریب ہونے پر اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی اسے جھٹ سے آریان کا خیال آیا اسکا ساتھ اسکے قریب اسے ہمیشہ اچھا سکون محسوس ہوتا تھا شاید وہ خوبصورت احساس سکون انکے بیچ اس پاک رشتے کی وجہ سے تھا ۔۔ احد کے ساتھ ایک الگ گھبراہٹ تھی احد اسکا کنفیوژ ہونا اچھے سے محسوس کر سکتا تھا ۔۔
” آریان کو کیسے جانتی ہوں ۔۔۔۔ آپ بھی جانتے ہیں انھیں ۔۔؟ احد کے پوچھنے پر اسنے حیرت سے خود بھی سوال پوچھ لیا تھا ۔۔
” ہاں ہم اچھے دشمن ہے کہہ سکتی ہو کسی زمانے میں دوست تھے ۔۔۔!!
” پھر اب کیوں دوست نہیں ہے آپ ۔۔ کیا آپ لوگ مارتے بھی ہے ایک دوسرے کو ۔۔؟ عروبہ حیرانگی سے پوچھتے ہوئے آخری بات ذرا قریب ہوتے راز داری میں پوچھا ۔۔ آریان ضبط سے اسکی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہا تھا ۔۔ احد دیکھ چکا تھا اسے اور اسے جلانے کی ہر کوشش کر رہا تھا ۔۔ جب کہ عروبہ اسکی موجود گی سے انجان تھی چھرے پر ماسک ہونے کی وجہ سے وہ پہچان نہیں پائی ۔۔
” تمہیں ہماری لڑائی دیکھنی ہے ۔۔۔ نن ۔۔نہیں ہمیں ڈر لگتا ہے اور اور آپ لوگ لڑائی مت کیا کریں ۔۔۔وہ اسکے ساتھ سٹیپ لیتے ہوئے ہلکی باتیں بھی کر رہی تھی ۔۔ وہاں کے میوزک نے اپنے ہی سحر میں سب کو جکڑا ہوا تھا ۔۔
came to you and never asked too much
Wondering what you would say
Hoping you’d understand
It’s not a role I usually play
Don’t speak too much of what’s been going on
The past is over and gone
Give me your troubled mind
You know it’s used
I can do so much for you
” ایسا لگتا ہے یہ سونگ میرا حالے دل بیان کر رہا ہے ۔۔ میری فیلنگز تم سے شیئر کر رہا ہے ۔۔ جس سے تم انجان بن رہی ہوں ۔۔ احد ہلکی مسکراہٹ سے کہتا اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں شاید اسکے لئے جذبات نہیں تھے ۔۔ بچہ وہ بھی نہیں تھا اتنا تو جانتا تھا اسکی گھبراہٹ اسکے جذبات کس کے لئے ہے ۔۔ اب سب نے ایک دوسرے کو گول گھما کر ایک دوسرے کے ساتھ پاٹنر چینج کیا عروبہ گھومتے ہوئے آریان کے قریب ہوئی آریان جانتا تھا یہ وہی ہے لیکن عروبہ جان نہیں پائی ۔۔ اچانک اسکے نزدیک ہوتے اسکی مظبوط سخت گرفت اسکی کمر اور دوسرے ہاتھ پر تھی اسکے رونگٹے کھڑے ہو گئے اسے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی دل تو جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا اسکی سرخ آنکھوں کی وحشت ۔۔۔
” کک ۔۔ کون ہیں آ ۔آپ ۔۔ہہ ۔۔ہمیں ۔۔چچ ۔۔
” شش خاموش ۔۔ تمہاری بےچین روح کو سکون دینے آیا ہوں ۔۔۔!! عروبہ خوف سے ہمت کرتے ہوئے دور ہونا چاہا پر جب کان کے نزدیک سرگوشی نما سرد سپاٹ لہجے میں آواز ابھری ۔۔ اسنے جھٹ سے سر اوپر کرتے بے یقینی سے اسکی آنکھوں میں اپنی نم آنکھیں سے دیکھا تو کیا یہ وہی تھا جان دشمن تھا ۔۔۔
” آر ۔۔ آریان ۔۔آ ا۔آپ ۔۔ پپ ۔۔پلیز ۔۔ ہہ۔۔ہمیں ۔۔دد ۔۔درد ہو رہا ہے ۔۔۔!! عروبہ نے درد سے گہرا سانس لیتے ہوئے التجا کی ۔۔آریان کی گرفت اسکے ہاتھ اور کمر پر سخت تھی جب کے عروبہ درد سے دوسرا ہاتھ اسکے کندھے کو مظبوطی سے اسکا کوٹ پکڑ رکھا تھا ۔۔
” اسکے ساتھ کیا باتیں کر رہی تھی ۔۔ میں نے منع کیا تھا نہ کسی سے بھی بات کرنے سے ۔۔ تمہیں ایک جگہ سکون سے بیٹھنا نہیں آتا نہ ۔۔ میری باتوں کو اگنور کرنے میں مزہ آتا ہے ۔۔ ؟ آریان سرد لہجے میں کہتا اپنی گرفت کو مزید سخت کیا تھا کے اسے کراہتے ہوئے آنسوں سے بھرا چہرہ اپنا سر اسکے سینے پر رکھ کر گہرا سانس لیا تھا آریان غصے میں گہرا سانس لیتا اپنی سخت گرفت کو نرم کیا ۔۔ دھیرے سے سٹیپ کے ساتھ اسکی کمر کو سہلاتے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہوئے اسے پر سکون کیا اسکے گلابی سرخ ہاتھ کو اپنے مظبوط ہاتھ میں دیکھتا ہلکاسا دبا کر مسکرایا تھا اور وہ اس ستمگر کے سینے پر سر رکھے آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔
I want you
Having you near me, holding you near me
I want you to stay and never go away
It’s so right
Having you near me, holding you near me
I’ll love you tonight, it feels so right
Feels so right
You’re brave to say that you get lost in love
But you opened your heart to me
Underneath all you feel you know
How deep our love could be
Tonight we’ll touch until it’s time to go
Then I’m leaving it up to you
Even a fool would know that I’m not through
I can do so much for you
” رئیلکس ۔۔ آ ۔آپ بہت برے ہے ۔۔ ہمیں صرف تکلیف دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور جو تم تکلیف دیتی ہو پریشان کرتی ہو اسکا کیا ۔۔۔؟؟ عروبہ نے سوں سوں کرتے ہوئے سر اٹھا کر اسے دیکھا آریان اپنا چہرہ اسکے نزدیک جھکا کر اسکی نم دلکش آنکھوں میں دلچسپی سے دیکھا اسکا ہاتھ اٹھا کر اپنے دوسرے کندھے پر رکھتے ہوئے اسے چہرے سے ماسک اتار دیا ساتھ خود کا بھی دوسرا ہاتھ بھی اسکی کمر پر رکھتے ہوئے اسے خود کے قریب کیا ۔۔ عروبہ کا دل تو ڈول کی طرح بھجتا ہوا محسوس ہوا جسے دونوں بہ آسانی ایک دوسرے کی دھڑکن تیز میوزک میں بھی سن سکتے تھے ۔۔ عروبہ کچھ کہنا چاہا پر آریان اسکے کان کے قریب جھکتے اسی سونگ کے ساتھ خود بھی گننانے لگا عروبہ کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی اسنے دونوں بازوں اسکے گلے میں ڈال دیے ۔۔۔ احد کو ان دونوں کی خوش قسمتی عشق پر رشک آیا ۔۔
I want you
Having you near me, holding you near me
I want you to stay and never go away
It’s so right
Having you near me, holding you near me
I’ll love you tonight, it feels so right
Feels so right
you only Mine I need you
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” افف پھر سے اس جلاد کے گھر میں ہیں ہم ۔۔۔!! عروبہ نے منہ بناتے ہوئے اٹھ کر آس پاس نظریں دوڑائی ۔۔
” ہمارا ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔ یہ کیسا احساس ہے کیسا سکون ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ہم اتنا آگے نکل رہیں ہے یہ جانتے ہوئے بھی وہ لوگ ہماری زندگی میں کبھی بھی آسکتے ہیں ۔۔ ایک منٹ اس دن وہ انکل یہیں تھے آریان کے ساتھ تھے پر کیوں ۔۔ کیا وہ ہمیں ڈھونڈ رہیں ہے کیا اور انکا بیٹا بھی یہیں ہوگا او نو ہہ آآآ یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔!! عروبہ اپنے ہی خیالوں میں خود سے تیز بڑبڑا رہی تھی آریان جو روم میں آتے ہی اسے خود سے باتیں کرتا دیکھ کر گلاس پانی بھر کر اس پر پھینک دیا وہ ہوش میں آتے ہی چیخ اٹھی غصے میں اسکے مقابل کھڑی ہو کر گھور رہی تھی جو سکون سے اسکے سرخ ہوتے گال خمار آلودہ آنکھیں سحر میں جھکڑ رہی تھی ۔۔ وہ آریان کے کپڑوں میں تھی ٹی شرٹ ٹاؤزر میں کیوٹ سی لگ رہی تھی بکھرے ہوئے بال سفید رنگ اسے کالے کپڑوں میں اور کھل گیا تھا ۔۔
” بہت آرام کرلیا اب جاؤ صفائی کرو کھانا بناؤ ۔۔ وہ گهبیر آواز میں حکم دیتا اسے شاک دے گیا ۔۔
” كيااااا ہم صفائی اور کھانا ہم ہم کیوں کریں یہ آپکا گھر ہے آپ خود کریں بلکے ہمیں بھی بھوک لگی ہے کچھ بنا کر دے ۔۔ وہ شاک میں چلائی بھوک کا احساس ہوتے خود بھی آرڈر دینے لگی آریان نے آبرو اچکاتے ہوئے اس کو دیکھا ۔۔
” اللّه میاں ہم اس دنیا میں آئے ہی کیوں یہ سب کرنے تو نہیں آئے تھے نہ ہم سے نہیں ہوتا کام ۔۔۔ وہ ہونٹ باہر نکال کر رونے لگی ۔۔
” چپ خبر دار اگر رونا شروع کیا تو یہیں شوٹ کردونگا ۔۔۔ آریان نے اسکے نزدیک تھوڑا جھک کر دھمکی دی جس نے بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت لے کے اسے دیکھا ۔۔
” ہاہاہاہا افف ایسے کون مذاق کرتا ہے ۔۔ جانتے ہیں اگر ہمیں کچھ کیا نہ پوری زندگی جیل میں رہنا پڑیگا کیوں اپنی جوانی برباد کر رہیں ہے آپ ۔۔ ہاہاہا اور آپکے پاس گن بھی نہیں ہے ۔۔ عروبہ آریان کی باتوں کو مذاق میں لیتے اسے بہت کچھ سنا کر قہقہ لگاتی واش روم میں گھس گئی ۔۔ پیچھے آریان نے ضبط سے ہونٹ موٹھی بھینچ لی کچھ سوچتا دراز سے رکھی چیز کو ہلکے سے مسکراتے ہوئے اٹھا لی ۔۔۔
” تمہارا ناشتہ ریڈی ہے آکے کرلو ۔۔ آریان اسے باہر آتا دیکھ کر بولا جو یہی سوچ رہی تھی کیا کریں اب پر اسکی بات پر خوش ہوتی اسکے سامنے چیر پر بیٹھ گئی پلیٹ ڈھکی ہوئی تھی اسنے حیرت سے اسے دیکھا جس نے اشارہ دیا کھولنے کا اس نے مسکرا کر پلیٹ جیسے ہٹائی اس چیز کو دیکھتے ہی خوف سے آنکھیں مزید پھٹ گئی دل زور سے دھڑک اٹھا تھا ۔۔ آریان اسکے خوبصورت چہرے پر خوف کے تاثرات دیکھتا محفوظ ہو رہا تھا وہ چیئر سے ٹک لگا کر اسکی ہر حرکت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
” سس ۔۔ سچ ۔۔ مم ۔۔میں تھی کیا ۔۔عروبہ حلق تر کرتے ہوئے کہتے تیزی سے کھڑی ہو گئی آریان چلتا ہوا آگے بڑھا اور جھک کر گن اٹھائی اسکے آگے لہرا تے ہوئے اسکی اور قدم اٹھائے عروبہ کی حالت بری ہوگئی تھی خوف سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا ڈر خوف سے آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی وہ پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا لگی ۔۔ آریان کو اب مزہ آرہا تھا اسے چہرے پر خوف دیکھ کر وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر اسکے قریب ہوتے ایک ساتھ دیوار پر رکھتے ہوئے جھک کر گن پوائنٹ پے رکھتے ہوئے اسے دیکھا جس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا ۔۔
” کہا تھا نہ مجھے چیلنج مت کرنا پھر بھی تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتی ۔۔ سکون نہیں آتا نہ جب تک اپنے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرلو ۔۔ اب بتاؤں ایک گولی سے مرو گی یا دو ایک دل دوسرا تمہارا یہ بیوقوف دماغ دونوں کو بند کردو ۔۔۔؟؟ آریان اسے مزید خوف زدہ کرتا ہوا بولا ۔۔ اسکی زبان پر تو جیسے تالا لگ گیا تھا دھڑکنیں تیزی سے چلتی اسے اپنے کانوں میں محسوس ہونے لگی خوف سے آنکھیں صرف گن پر تھی ۔۔ آریان بھی آسانی سے سن رہا تھا ۔۔
” ہہ ۔۔ہم ۔۔ مم ۔۔مر ۔۔نن ۔۔نہیں ۔۔چ۔۔چاہتے ۔۔پپ ۔۔پلیز ۔۔ آ۔آپ جو کہے گیں سب کریں گے پپ پرومیس ۔۔ وہ تھوڑا سانس لیتی اٹک اٹک کر بولی تھی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر گال پر پھسل رہے تھے ۔۔۔ آریان نے تھوڑا حیرت سے اسے دیکھا ویسے تو بہت بہادر بنتی ہے موت سے اتنا ڈرتی ہے کے ہار مان لی ۔۔ وہ اسکے خوبصورت سرخ بڑی بڑی آنکھوں میں جیسے کھو گیا تھا عروبہ نے بھی خوف سے اسے دیکھا وہ جتنی بہادر بنے پر موت سے اسے بے حد ڈر لگتا تھا ۔۔
” ہہ ۔۔ہم ج۔۔جینا چاہتے ہیں مر نہ نہیں چاہتے پپ ۔۔پلیز چھوڑ دے ا۔اسے پیچھے کر لے ۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بےحد معصوم بچوں کی طرح ہونٹ نکال کر بولی جس پر آریان کو بےانتہا پیار آیا اس پر اپنی مسکراہٹ دباتا اسکے تھوڑا اور نزدیک ہوتا گن اسکے دل کے مقام پر رکھی ۔۔ عروبہ تو جیسے سانس لینا بھول گئی اسکی آنکھوں میں بےیقینی سے دیکھا ۔۔
” کیا ہمارے بیچ کوئی مذاق تھا ۔۔؟ وہ سنجیدہ سا بولا اسنے جھٹ سے نفی کی ۔۔
” جب میں کہتا ہوں سکون سے ایک جگہ ٹک کر کیوں نہیں بیٹھتی تمہاری بےچین روح کو سکون کیوں نہیں ملتا ۔۔ سمجھایا تھا نہ اسی جگہ مت جاؤ جہاں خطرہ ہو ۔۔وہ کل رات پارٹی والی بات یاد دلا نے لگا کیسے اسے غصہ میں لکے آیا تھا وہاں سے شیر خان سے بچ کر کیسے نکلے تھے یہ وہی جانتے ہیں عروبہ اپنی جگہ ساكت کھڑی اسکی باتیں سن رہی تھی ۔۔
” اب سے تم میری ہر بات ایک بار کہنے پر مان جاؤگی کوئی سوال آگے سے نہیں سمجھ گئی اب جاؤ کھانا اور صفائی اچھے سے کرنا اپنا کام ۔۔آریان بولتا اسے ایک نظر دیکھا جس نے صرف ہاں میں سر ہلایا بولنے کی کوشش نہیں کی خوف سے زبان پر تالے جو لگے ہوئے تھے وہ مسکراتی نظر ڈالتا پیچھے ہوتا تیزی سے روم میں چلا گیا ورنہ شاید خود پر ضبط کھو دیتا اسے شدت سے خواہش ہوئی اسکے گال چھونے کی اسکے آنسوں صاف کرنے کی پر وہ اسے اور سر پر نہیں چڑھا سکتا تھا ۔۔
” بہت سمجھتے ہیں نہ خود کو اب دیکھنا عروبہ بیراج چیز کیا ہے ۔۔۔ ہمیں ستایا ہے نہ اب ایک پل کو سکون بھی مل جائے آپکو دیکھتے ہیں ۔۔ موت سے ڈرتے ضرور ہے پر اب اتنا تو جان گئے ہے آپ ہمیں نہیں مارے گے صرف ڈرا تے ہیں ہاں ۔۔ وہ گہرا سکون بھرا سانس لیتی پھر سے اپنی روم میں آگئی تھی عروبہ بیراج شاید ہی کبھی سدھرنے کا نام لے منہ بناتے ہوئے وہ صفائی پر شروع ہوئی ۔۔
” ایسے انسان کو اللّه میاں نے بھیجا ہی کیوں ہے جنکے اندر نہ جذبات ہے نہیں احساسات ۔۔ یا اللّه ایسے انسان نہیں آنے چاہیے جن کے اندر کوئی فیلنگ نہ ہو ۔۔۔ اب ہمیں ہی کوئی دیکھ لے کتنی فیلنگ ہے ہمارے اندر جس انسان کو دیکھتے ہیں انکے لئے اچھا سوچتے ہیں ۔۔ انکی جذبات کی قدر کرتے ہیں اور ۔۔۔
” اور مجھے دیکھ کر تمہارے اچھے خیالات کہا چلے جاتے ہیں ۔۔ عروبہ صفائی کے ساتھ غصہ بھی نکالتے ہوئے بولے جا رہی تھی کے اچانک آریان کی آواز اپنے کان کے قریب سنتی اچھل پڑھی جس وجہ سے اسکا گلدان نیچے گر کر ٹوٹ گیا ۔۔
” دد ۔۔دیکھیں ۔۔ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیا یہ یہ آپ کی وجہ سے ہوا ہمیں ڈرایا کیوں ۔۔۔۔ تم ۔۔۔؟؟ عروبہ تیزی سے اپنی صفائی دینے لگی تھی آریان جو غصے میں کچھ کہنا تھا اسکے فون کو بجتے دیکھ کر اسے غصہ میں گھورتا روم میں چلا گیا وہ سکون سے سانس لیتی پھر سے روتی صورت بناتی کام میں لگ گئی تھی ۔۔۔
” السلام علیکم ہم عروبہ بیراج آج کی شیف تو ہم آج بناۓ گیں بریانی ہماری پسندیدہ ڈش چلے سب سے پہلے کاٹتے ہیں سبزیاں ۔۔ عروبہ کیچن میں آتے گہرا سانس لیا جانتی تھی کچھ بھی ہو اب کرنا تو پڑیگا کام پھر کیوں نہ اپنے سٹائل میں کریں اور ہمیشہ کی طرح جب بھی کام کرتی ایسے ہی خود سے باتیں کر کے مزے سے کام کرتی تھی ۔۔
” یہ ہے آلو مطلب احد مرزا جو اچھا گاتے ہے سب سے پہلے ان کو کاٹتے ہیں ہاہاہا ۔۔ وہ خود ہی سبزیوں پر نام رکھتے ہوئے مزے سے کاٹ رہی تھی ساتھ قہقہہ لگا رہی تھی جس کی آواز پر آریان روم سے آتے ہی وہی کچن کی دہلیز پر رک کر سینے پر ہاتھ بندھے مزے سے اسے دیکھ رہا تھا اسکی سائیڈ ہی دیکھ رہی تھی ہنستے ہوئے اسکے چہرے پر گڑا پڑھ رہا تھا اسے مزید حسین بنا رہا تھا بالوں کا جوڑا کچھ آوارہ لیٹے چہرے پر تھے آگے سے ہمیشہ والے بال ماتھے پر اسکی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے تھے ۔۔
” یہ ہے ہری مرچ مطلب وہ کمینی انگریز لڑکی جس سے ہم نے بےدردی سے قتل کرنا ہے ہاہا ۔۔کاش سچ میں انکو ایسے مار دیتے افف ہمارے خواب ۔۔ وہ افسوس سے گہرا سانس لیتی ایکٹنگ کرنے لگی جس پر آریان کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی اسکے جنون سے محفوظ ہوتا وہ مزے سے اسکی ویڈیو بنانے لگا تھا ۔۔
” اب پیاس کو کاٹیں گے اور یہ ہے وہ کھڑوس انسان جنہیں دوسروں کی فیلنگ کا احساس نہیں صرف رلانا جانتے ہیں ہرٹ کرنا جانتے ہیں دھمکی دینا جانتے ہیں بس ایک چیز نہیں جانتے یا پھر جان کر بھی انجان بنجاتے ہیں وہ ہے ہماری فیلنگز ۔۔ آآآ ہماری آنکھیں ۔۔ پاگل لڑکی یہ کیا کیا ۔۔ عروبہ اپنا حالے دل سناتی پیاس پر غصہ نکال رہی رہی آریان جو اسکی ہر بات پر محفوظ ہوتا ہلکی مسکراہٹ سے سن رہا تھا اچانک مرچ والے ہاتھوں کو آنکھوں سے آنسوں صاف کرنے لگی تھی کے جلن کی وجہ سے چیخ مارتے ہوئے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھنے لگی تھی آریان تیزی سے آگے پڑھ کر اسے روکتا واش بیسن کے پاس لے گیا ۔۔
” آآآ ہماری آنکھیں بہت جل رہی ہے ۔۔۔ ریلکس کچھ نہیں ہوا ایک جگہ کھڑی رہو آرام سے ہاتھ مت لگاؤ مجھ دھونے دو ۔۔۔۔ پر ہماری آنکھیں بہت جل رہی ہے ۔۔آریان اسے زبردستی ہاتھ پکڑ کر دھونے لگا وہ روتے ہوئے چلا رہی تھی جلن کی وجہ سے ۔۔۔ اسکے ہاتھ اچھے سے واش کرتا دھیرے سے اسکے قریب ہوتے آنکھوں میں دیکھنے لگا وہ جلن کی وجہ سے سرخ آنکھیں ہلکی کھولتی بند کر رہی تھی آریان اسے آگے کرتا خود اسے پیچھے سے حصار میں لیتا آنکھوں پر پانی ڈالنے لگا تھا وہ تھوڑا ریلکس ہوئی گہرا سانس لیتے اس سے دور ہوئی ۔۔
” اس طرح کام کون کرتا ہے ۔۔۔ عروبہ بیراج ۔۔ آریان سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ خفی سے کہتی پھر سے جاکے کام میں لگی پتا نہیں کون سا غصہ تھا اس پر جس وجہ سے اسے رونا آنے لگا تھا ۔۔ غصے میں پھر سے تیزی سے کاٹنے لگی تھی کے اچانک سے پیچھے خوبصورت سی خوشبوں نے اسے اپنے حصار میں لیا وہ آنکھیں موڑ گئی آریان اسکے كندھے پر ٹھوڑی ٹکا کر اسے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے دھیرے سے پیاس کاٹنے لگا تھا عروبہ کا دل تیزی سے دھک دھک کرنے لگا تھا ۔۔ آریان کی بئیرڈ اسکے مومی جیسے گال پر چھپ رہی تھی جس وجہ سے اسے گھبراہٹ شرم نے گھیر رکھا تھا ۔۔ آریان آرام سے اسکے ہاتھ پر زور ڈالتا کام کرنے لگا عروبہ کی تو جیسے جسم سے جان نکل گئی تھی جہاں تھی وہی اسکے حصار میں ساکت کھڑی رہی ۔۔ نظریں اسکے مضبوط خوبصورت ہاتھوں پر اپنے چھوٹے گلابی ہاتھ اسکی گرفت میں تھے ۔۔ آریان کے خوبصورت چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی وہ اسکی گھبراہٹ سے محفوظ ہو رہا تھا ۔۔ اس بے چین روح کو سکون میں لئے کھڑا تھا ۔۔
” یہ بہت رلاتا ہے ۔۔ عروبہ نے سرگوشی میں کہا ۔۔
” ہر چیز اپنے انداز سے کچھ سیکھاتی ہے بس سمجھنے کی ضرورت ہے پر تمہارے پاس تو دماغ نہیں ۔۔ آریان مسکراہٹ دباتا اسے بولا جس نے تیزی سے اسے گھورا پر اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر گھبرا کر چہرہ موڑ گئی ۔۔
★★★★
” بس ایک بار وہ شیر خان ہاتھ لگ جائے اسکے بعد اسکے باپ کو پکڑنا ہے ایک بار ہمیں ان لڑکیوں کا پتا چل جائے تو ہمارا کام آسان ہو جائے گا ۔۔ انکے ٹیم کا لیڈر سب سے مخاطب ہوا سب با عزت سے کھڑے پلیننگ سن رہے تھے ۔۔
” اس لئے ہم لوگوں نے آپ لوگوں کے ساتھ ڈیل کی ہے راستے الگ ہے لیکن مقصد ایک ہے اپنے ملک کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔ دوسری ٹیم کا لیڈر شپ بولا تھا ۔۔
” اتنا تو میں بھی جانتا ہوں تم کس مقصد کیلئے ہمارے ساتھ جوڑے ہو ۔۔ پر یاد رکھنا صرف یہاں تک جاری تھا ہمارا سفر۔۔ ISI والے اپنی پہچان ایک عام انسان کی طرح رکھتے ہیں ۔۔ وہ عظیم الشان سے بولا اسکے ساتھیوں نے بھی فخر سے اپنا سر اوپر کرتے ان لوگوں کو دیکھا ۔۔
” سیکرٹ ایجنٹ کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا جب تک اسکی سانس چلتی ہے اسکا میشن چلتا ہے اور اسکی آخری خواہش اسکے مقصد کی کامیابی ہوتی ہے ۔۔ جیسے تم عام انسان کی طرح جیتے ہو ویسے ہم بھی مصطفیٰ کمال اپنے کیپٹن کو جانتے ہونگے تم ۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا جس کی بات پر اسنے سرخ غصے میں اسے دیکھا ۔۔
” تم بھی جانتے ہونگے پھر اپنے کیپٹن کے بارے میں وہ لوگ اپنی وطن کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں جیسے ہم ۔۔ اور ہاں ایک نظر اپنے باپ پر بھی ڈال لینا ۔۔ وہ اسی نزدیک جاتے ہلکی سرد لہجے میں بولتا وہاں سے نکل آئے پیچھے احد غصے میں مٹھی بھینچ لی ۔۔
★★★★
” یہاں تنہا کیوں بیٹھی ہو ۔۔ حدید اسکے پاس بیٹھتا ہوا بولا ۔۔ پارک میں دونوں بینچ پر تھوڑے فاصلے پر بیٹھے تھے ۔۔
” سکون ملتا ہے تنہائی میں جہاں خود سے باتیں کرنے کو موقع ملتا ہے ۔۔ آپ تھک گئے ہیں ۔۔زویا نے اسکے چہرے پر تھکاوٹ دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
” کل ہمارا کام ختم ہو جائیگا اور ۔۔۔ اسکے بعد ہمارے ساتھ الگ ۔۔ حدید گہرا سانس لیتا آخری بات بے چین دل سے کہی تھی ۔۔ اسکی بات پر زویا کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔
” کّک۔۔ کیا مطلب آپ کہا جارہیں ہے ۔۔ زویا نہ سمجھی سے پوچھا ۔۔ اسکے وقت اتنا اچھا وقت کیسے گزر گیا اسے پتا ہی نہیں چلا کب دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لئے جذبات پیدا ہوئے کب لڑتے لڑتے محبت کے سفر پر نکل گئے بس ایک چیز انکے بیچ خاموش رہ گئی وہ تھی اظہار محبت ۔۔
” میں یہاں کچھ وقت کا کام تھا اب واپس اپنو کے پاس جانا ہے ۔۔۔ تم چلو گی ساتھ ۔۔؟ حدید نے اسکے خوبصورت سے چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے ایک امید سے کہا تھا ۔۔
” مم ۔۔میں ۔۔۔ جانا چاہتی ہوں پر ۔۔۔ زویا آنکھیں موڑ تے ہوئے گہرا سانس لیا ۔۔
” پر کیا ۔۔۔؟ بڑے پاپا کو ساتھ لکے جانا چاہتی ہوں وہ یہاں بہت تنہا ہے آریان بھلے کچھ نہ بولے لیکن وہ انھیں معاف نہیں کرپا رہا ہے ۔۔ میں چاہتی ہوں وہ بھی ہمارے ساتھ چلے کیا آپ میری مدد کریں گے ۔۔زویا امید سے اسے دیکھ رہی تھی وہ خود اب یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی اپنے ماں باپ کو بہت یاد کرنے لگی تھی ۔۔
” تھیک ہے میں انکل آریان سے بات کرونگا خوش ۔ حدید نے نرم مسکراہٹ سے دیکھا ۔۔ایک پل کو زویا کی دل نے بیٹ مس کی اسکی وجاہت ہی کافی تھی اپنے سحر میں جکڑنے میں ۔۔
“تھنک یو میرے اتنی مدد کی میرے اندر سے ڈر ختم کیا میں واپس اپنا کام کر سکتی ہوں ۔۔ زویا دل سے اسکی شکر گزار تھی اس لئے وہ پاکستان جانا چاہتی تھی ۔۔
” ایک بات کہوں مجھے ڈاکٹر فرہا بہت بری لگتی ہے ۔۔ پہلے اچھی دوست ہوا کرتی تھی پر جب سے آپ آئے ہے وہ میرے ساتھ اچھا بیہیو نہیں کرتی ۔۔۔ آپ بھی ان سے کم بات کیا کریں ۔۔۔ زویا غصہ جلن میں منہ بنا کہتی ایک پل حدید کو حیران کر گئی پھر وہ مسکرادیا ۔۔ وہ لوگ جب سے یہاں ساتھ کام کے لئے آئے تھے تب سے کوئی اچھی دوستی ہوگئی تھی دونوں کے بیچ ۔۔
★★★★
” احد مرزا میرا پورا نام لیا کریں ۔۔ احد سامنے کھڑے شخص کو نفرت سے کہتا گویا ہوا ۔۔
” باپ کی شناخت چھپا رہیں ہو؟ اس شخص نے جیسے اسکی ذات کا مذاق بنایا ۔۔
” کون سا باپ ۔۔؟ جانتے ہیں باپ کیسے کہتے ہیں وہ ایک مضبوط محافظ سایا ہوتا ہے اپنی اولاد کا ۔۔ باپ کی بات کرتے ہیں آپ کبھی خود اولاد کی ذات کو محسوس کیا ہے ۔۔ وہ آج جیسے سارے حساب کتاب دینے کیلئے تیار تھا ۔۔ اور اس شخص کو آئینہ دیکھا رہا تھا جس کے دل میں ایک پل کو ٹیس اٹھی وہ غصے میں آگے بڑھ رہا تھا کے اسکے لفظوں نے قدم رک دے ۔۔
” اتنی جلدی ہار مان لی زید جعفری ۔۔؟ دوسروں کے بچوں پر جھوٹا پیار دیکھا نے سے اچھا ہے خود کے لئے محفوظ جگہ ڈھونڈ لو بہت جلد آپکا وقت آئے گا ۔۔ وہ نفرت سے کہتا اسے اچھے سے سمجھا گیا تھا ۔۔
