Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 09)

Mera Ishq by Mahra Shah

” آریان خان ۔۔

” زید جعفری کو بلاؤ اور اسکے بیٹے کو بھی آج بات کریں گے ۔۔ داريان سپاٹ لہجے میں بولا آریان نے حیرت سے اسے دیکھا ایسی کون سی ضروری بات کرنی تھی انھیں ۔۔

” ڈیڈ آپ پلین خراب کر رہیں ہے ۔۔ ابھی وقت نہیں آیا ان چیزوں کا آپ جانتے ہیں ۔۔ آریان کو کسی خطرے کی بو آئی تھی ۔۔

” باپ مت بنو جو کہا ہے وہ کرو کیوں ڈرتے ہو اسکی سچائی جاننے سے ۔۔ مجھے اب بس اپنی بیوی کے قاتل چاہیے مزید انتظار نہیں کر سکتا میں ایک صرف ایک بار وہ کمینہ مجھے چاہیے ایسی ابرتناک موت دونگا یاد رکھے گا ۔۔ داريان اپنا ضبط کھوتے ہوئے دھاڑا ایک پل کو آریان بھی اس روپ سے ڈر گیا تھا جانتا تھا وہ جو ایک بار بول دے دوبارہ کسی کی نہیں سنتا وہ سر ہلاتا باہر جانے لگا جب اسکی بات پر قدم رکے ۔۔

” عروبہ کو سچ بتادو اور اتنا جلدی ہو سکے اسے پاکستان بھیج دو ۔۔ ہم بھی کچھ دنوں میں نکلیں گے ایجنسی والوں کا آرڈر ہے ۔۔ اور ہاں احد کو دور رکھو اس سے پھر سے ایک نفرت عشق کی داستان شروع مت کرو آریان خان ۔۔داريان کا لہجہ جتنا سخت تھا اتنی وارننگ بھی آریان خاموشی سے باہر نکل آیا ۔۔

” ہیلو آریان خان اسپیكنگ ۔۔ ناؤ سٹارٹ دی پلین ۔۔

★★★★

” افف کیا کریں ہمارے پاس کپڑے بھی نہیں چینج کریں کل سے آریان کی شرٹ میں ہے اور زویا کے فلیٹ کی چابی بھی گم کردی ہم نے ۔۔ کیا کریں پھر سے آریان کی کوئی شرٹ پہن لیتے ہیں ہاں جینس اپنی ہی دھو کر پہن لیتے ہیں واہ عروبہ تمہیں نہ فیشن ڈیزائنر ہونا چاہیے تھا پر اس (رائیٹر ) نے پتا نہیں کیا بنا دیا ۔۔ عروبہ آریان کے روم میں آتے ہی اسکے ڈریسنگ روم میں آتے ہی اپنے لئے شرٹ ڈھونڈنے لگی اسکی وائٹ شرٹ نکال کر دیکھی جو بہت ڈھیلی تھی اس پر اور بڑی بھی اسنے کچھ سوچ کر سوئی دھاگا ڈھونڈتے شرٹ کو سائیڈ سے فٹنگ دینے لگی لونگ بازؤں کو تھوڑا سا کاٹ دیئا پھر جلدی سے واش روم میں بھاگی تھوڑی دیر میں فریش ہوتی باہر نکلی آئینے کے سامنے خود کو دیکھتی مسکرا دی ۔۔ اسکی وائٹ شرٹ اسے گھٹنوں تک آئی تھی پر اسے تھوڑا فیٹںگ دینے پر بھی اسے تھوڑی لوز تھی بلیک جینس پر وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔

” ہاۓۓ ہم کتنے پیارے لگ رہیں ہے کاش ہمارے پاس فون ہوتا ہم سیلفی لیتے افف آج تو ہم بھی لکے رہیں گے ان سے پیسے ہمارے ۔۔ ایک منٹ کیا انکے الماری میں پیسے ہو سکتے ہیں ۔۔ ہاں شاید دیکھتے ہیں جب وہ آئے گے پھر ہم بولے گے یہ پیسے ہمیں چاہیے ۔۔ عروبہ نے منصوبہ بنایا ۔۔ تیزی سے اسکی ڈریسنگ روم میں گئی ہر چیز کو اچھے سے چھان بین کرنے لگی کے اچانک اسکے پیروں میں ایک خاکی لفافہ گرا اسنے جھک کر وہی اسے دیکھا پھر وہیں نیچے زمین پر بیٹھ کر اسے کھولنے لگی جیسے ہی اس تصویر اور ان پیپرز پر نظر گئی اسکی سانسیں رک سی گئی ہاتھ کانپنے لگ گئے تھے ماضی کی جھلک اسکے آگے گھومنے لگی ۔۔ اسکے کانوں میں وہ آواز گونجی ۔۔

” مجھے باربیز ڈول پسند نہیں آئے ہیٹ یو ڈول ۔۔!! وہ بارہ سالہ بچا غصے میں سامنے آٹھ سالہ گلابی کپڑوں میں اس کیوٹ سی بچی کو بولا جس ۔۔

★★★★

” بی جان یہ کون ہے ہمارے گھر کیوں آئے ہیں ۔۔؟ وہ آٹھ سالہ پیاری سی بچی نے داريان اور آریان کو دیکھتے ہوئے کہا جو سامنے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے سب کے چہرے سنجیدہ تھے عروبہ بی جان کے ساتھ بیٹھی اس خوبصورت سے بارہ سالہ جوان بچے کو دیکھ رہی تھی اسے بہت اچھا لگا تھا وہ اسکے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی ۔۔ پر وہ اسے غصے میں گھورے جا رہا تھا کیوں کے وہ اسے دیکھتی کبھی ہنستی کبھی منہ چڑا رہی تھی اور بی جان کے کان میں گھس کر کچھ کہتی پھر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

” یہاں بلانے کی وجہ ۔۔؟ داريان سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔

” اچھے سے جانتے ہوں اور ہم چاہتے ہیں آریان ہمارے ساتھ رہیں یہیں پر ۔۔ حمدان صاحب سنجیدہ ہلکے غصے میں کہا تھا ۔۔

” یہ میرا بیٹا ہے اسے میرے ساتھ رہنا ہے نہ کے آپ لوگوں کے ساتھ میں اسے واپس لندن لیکے جاؤنگا ۔۔ داريان غصے کو ضبط کرتے ہوئے گهمبیر لہجے میں کہا ۔۔ بیراج دافیہ بھی وہی خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے بی جان نے ہی انھیں یہاں بلوایا تھا کچھ سوچ کر وہ نہیں چاہتی تھی انعل کی نشانی ان سے دور ہو جائے ۔۔

” مت بھولو یہ ہمارا بھی کچھ لگتا ہے اسے ہماری ضرورت ہے یہ انعل کی نشانی ہے سمجھے تم اسکی تو حفاظت نہیں کر پاۓ کیا گارنٹی ہے اسے بھی سیو رکھلو گے ۔۔بیراج نے غصے نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا وہ کب کا اسے سزا دلوا دیتے پر اسکے بچے کی خاطر چپ رہ گے تھے ۔۔ ان سب کی اونچی آواز سے عروبہ ڈرتے ہوئے بی جان سے چپک گئی تھی ۔۔ اور وہ بیزار سا انکی باتیں سنتا رہا ۔۔

” دیکھو بیٹا پلیز غصہ مت کرو آرام سے تحمل سے بات کرتے ہیں تم جانتے ہو ہمارے پاس تمہارے پاس انعل کی صرف یہی نشانی ہے جسے نہ تم کھونا چاہتے ہوں نہ ہم اس لئے ہم چاہتے ہیں یہ کچھ عرصہ ہمارے پاس تو کچھ آپکے پاس رکے ۔۔ بی جان نے نم آواز میں کہا تو سب کو انعل کی یاد آئی ۔۔

” بی جان آپ رو کیوں رہی ہے برے انکل نے ڈانٹا ہے نہ ۔۔عروبہ بی جان کو آنسوں صاف کرتے ہوئے دیکھا تو خود رونے جیسی ہوگئی پھر اچانک خود بھی شدت سے رونے لگی تھی جو کب سے انکی آوازوں سے ڈر کے بیٹھی تھی ۔۔ بیراج دافیہ تیزی سے اٹھ کر اسکے پاس آئے وہ بیراج گلے لگا کر روۓ جا رہی تھی وہ انھیں لیکے روم میں چلے گئے ۔۔ داريان کو اس بچی پر بہت پیار آیا اسکا بولنا معصومیت انعل کی طرح تھا وہ پل میں کچھ سوچتا انھیں دیکھا ۔۔

★★★★

” سر اس لڑکی کا پتا چل گیا وہ ایک فلیٹ میں رہتی ہے اپنی دوست کے ساتھ ۔۔اسکا آدمی سر جھکا کر اسے انفارمیشن دینے لگا ۔۔

” اب کہاں بچ کر جائے گی خوبصورت پری آنا تو میرے ہی پاس ہے تمہیں ۔۔ شیر خان شیطانی مسکراہٹ سے اپنے گندے خیال میں اسے رکھتے ہوئے سوچا ۔۔

” سر وہ آریان خان کے ساتھ رہتی ہے اس مطلب انکے بیچ کچھ تو ضرور ہے ۔۔ اور اسے انڈر ورلڈ میں آئے کچھ ہی ٹائم ہوا ہے اسکے کام سے بھی کچھ تو گڑبڑ لگتا ہے ۔۔ اسنے خاص آدمی نے گہری تشویش ظاہر کی ۔۔

” اسے الینا پر چھوڑ دو وہ اسے خود ہینڈل کر رہی ہے مجھے بس یہ لڑکی چاہئیے اگر زیادہ چو چا کریں تو ہلکا سا زخم دینا خود ہی چپ ہو جائے گی ۔۔ وہ اسے کہتا شراب اپنے اندر اتر نے لگا اسکا آدمی بات سمجھتے ہوئے مسکرا کر نکل گیا ۔۔

★★★★

کتنا وقت گزر گیا لیکن وہ ابھی تک بے یقینی سے وہی بیٹھی اس تصویر کو دیکھتی آنسوں بہا رہی تھی جس میں وہ ریڈ پریوں جیسے فروک میں سر پر اپنی ماں کی شادی کا دوپتثہ اوڑھے ہوئے اسکے پہلو میں بیٹھی مسکرا رہی تھی اور وہ سفید کپڑوں میں بے حد وجیہ خوبصورت لگ رہا تھا چہرے پر بیزاری سنجیدگی لے کر اسکے ساتھ بیٹھا تھا دونوں کے نکاح کی تصویر لی گئی تھی ۔۔

” وہ ہوش میں آتی تیزی سے اٹھی اور اسکا کوٹ لیے تیزی سے روتی اسکے فلیٹ سے نکل آئی باہر سڑک پر ٹھنڈ میں چلتے ہوئے کہاں جا رہی تھی کچھ ہوش نہیں تھا بس اس وقت صرف اس بے حس انسان بے وفا سے دور جانا چاہتی تھی کیوں اسنے کچھ نہیں بتایا کیا وہ ابھی تک نفرت کرتا ہے جیسی وہ پہلے بچپن میں کرتا تھا کیا وہ کبھی اس سے محبت نہیں کر سکتا کتنے سوال اسکے ذہن میں آرہے تھے ۔۔ کہیں نہ کہیں ایک پل کو دل میں بے حد خوشی ہوئی تھی وہی اسکی دنیا نکلا وہی ملا جس سے اسنے محبت سے عشق کا سفر کرنے لگی تھی ۔۔ پر کیا وہ اس سفر میں اسکے ساتھ ہوگا ۔۔

وہ تھکہ ہارا جیسے ہی گھر پہنچا ایک پل کو چونکا اتنی خاموشی وہ دو دن سے اسکے ساتھ تھی وہ جب بھی گھر آتا کوئی نہ کوئی شور مچایا ہوا ہوتا تھا اسکا لیکن آج ۔۔ اسکا سونا سوچتے وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ کے صوفے پر گرا ۔۔ اتنی دیر خاموشی پر اسکا دل بےچین ہو رہا تھا ۔۔

” عروبہ ۔۔ اسنے اپنے بےچین دل کی آواز سنتے ہی اسے آواز لگائی ایک۔۔ دو۔۔ تین ۔۔ پھر جیسے وہ تیزی سے اٹھ کر پورے گھر میں اسے تلاش کیا سب جگہ دیکھتے ہوئے بھی اسے وہ نہیں ملی دو بار اسنے اپنا روم چیک کیا پر کچھ سوچ کر ڈریسنگ روم میں گیا تو جیسے ساكت رہ گیا پورا وارڈروب بکھرہ ہوا تھا اسکی نظر جیسے ہی اس تصویر پر گئی وہ لمحوں میں سمجھ گیا اسکا کیا حال ہوا ہوگا اسکی ہارٹ بیٹ مس ہوئی اسکا اس طرف دور جانا ۔۔وہ تیزی سے باہر بھاگا جانتا تھا وہ اتنی دور نہیں گئی ہوگی اسکے پاس کچھ نہیں تھا کپڑے تک اسکے پہنے ہوئے تھے ۔۔

” عروبہ نہ کرو یار ۔۔ پلیز کم بیک ۔۔ آریان پریشانی سے اسے ڈھونڈتے ہوئے دل میں اسے پکار رہا تھا ۔۔ وہ بھلے اپنے جذبات ظاہر نہ کرتا ہو لیکن اسکے دل میں اسکا کیا مقام ہے یہ بات تو وہ بھی نہیں جانتی ۔۔ آج اسکے دور جانے پر اسکی کیا حالت ہو رہی ہے یہ کوئی آریان خان سے پوچھے آج وہ اپنی بےچین روح کے لئے کتنا پریشان تھا ۔۔

” ہیلو ڈیڈ کیا ہوا ۔۔ وہ آگے بڑھ رہا تھا کے اسکا فون بج اٹھا اسنے دیکھا تو داريان کی کال تھی ۔۔

” تم ایان کی کال کیوں نہیں اٹھا رہے ۔۔؟ اور عروبہ تمہارے ساتھ ہے ۔۔ داريان کی سخت آواز پر اسکے دل جیسے ڈوبا کیا کہنے والا تھا وہ عروبہ کا کیوں پوچھ رہا تھا ۔۔

” ک۔۔کیا ہوا ڈیڈ عروبہ کہاں ہے ۔۔ اسکی نہ چاہتے ہوئے بھی آواز لڑکھڑائی دل جیسے دھڑکنا بھول گیا ۔۔

” کیا کر رہے ہو آریان کیا کر رہے ہو تمہیں کہا تھا دنیا کے سامنے اپنی کمزوری کبھی مت لانا لیکن تم جس طرح بےحس بنے ہوئے تھے آج اسکا نتیجہ دیکھ لو۔ شیر خان نے عروبہ کے پیچھے آدمی لگا دیے ہے اسے یہ بھی پتا چل گیا وہ تمہارے ساتھ رہتی ہے اب انکا شک تم پر آگیا ہے ۔۔۔ اب اپنا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ۔۔ داريان نے غصے سرد لہجے میں دھاڑتے ہوئے کہا ۔۔ آریان نے سختی سے آنکھیں میچ لی ضبط سے اسکی رگیں پھول گئی تھی آنکھوں میں سرخی دوڑنے لگی تھی اس سے پہلے وہ غصے میں فون رکھتا داريان کی نرم آواز گھونجی ۔۔

” وہ پارک میں ہے ۔۔ آکے لے جاؤ اسے ۔۔ غصہ مت کرنا اس وقت اسکا حق ہے تم پر غصہ کرنے کا ۔۔ یاد رکھنا ضد میں وہ تم سے بھی آگے ہے ۔۔ داريان ہلکا مسکراتے ہوئے کہا ۔۔ اسے انعل کی یاد آئی وہ کبھی ضد نہیں کرتی تھی لیکن آریان کے بعد اسکی ضد نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ آریان شکر کا گہرا سانس لیتے ہوئے تیزی سے آگے کی طرف بھاگا ۔۔

” تم ہم سے جتنا دور بھاگو گے ہمیں اتنا قریب پاؤ گے “

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

وہ اس وقت جس حال میں تھی اسے نہیں پتہ چل رہا تھا اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ کہاں جا رہی ہے اسے غصہ تھا نفرت تھی اس بچپن والے آریان سے وہ چیخنا چلانا چاہتی تھی وہ بہت دور جانا چاہتی تھی اس سے چلتے چلتے وہ ایک پارک میں آئی وہاں بہت لوگ تھے اس وقت رات کی تاریخی میں سناٹا چھایا ہوا تھا اور اسکے اندر ایک طوفان چھایا ہوا تھا وہ چلتی ایک کونے پر بینچ پر بیٹھ کے گہرا سانس لیتی پھر سے آنسو بہانے لگی آج آنسو تھے کے رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ جو ہمیشہ ہنستی مستی میں رہتی تھی آج اس حال پر قسمت بھی افسوس کر رہی تھی ۔۔ اسے محسوس ہوا تھوڑی دیر پہلے وہ اکیلی تھی اب اسکے ساتھ فاصلے پر کوئی بیٹھا ہے لیکن وہ یونہی سر جھکا کر اپنے ہاتھوں میں دیکھتے ہوئے آنسو بہا رہی تھی ۔۔

” آریان نے ڈانٹا ہے ۔۔؟ ایک بھاری گهمبیر آواز پر اسنے جھٹکے سے سر اٹھا کر سامنے وجود کو دیکھا پتا نہیں کیوں پر آج اسے ڈر نہیں لگا اس سے وہ اسے شروع سے اچھے لگتے تھے پر اسکے غصہ نے اسے خوف میں رکھا تھا ۔۔ اسنے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے واپس سر جھکا کر شکوہ کیا ۔۔

” آ ۔آپ لوگوں نے ہمیں چیٹ کیا ہم سے جھوٹ بلا ہمیں دھوکہ دیا کیوں کیا ایسا ۔۔ عروبہ نے غصے میں آنسو بہاتے ہوئے کہا ۔۔

” کیا آپ ہمیں معاف نہیں کرینگی ۔۔ داريان نے پیار محبت سے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ۔۔ اسے اپنی بہو بہت عزیز تھی اسے ہمیشہ اس میں انعل کی جھلک نظر آتی تھی ۔۔

” نہیں ۔۔ آپ لوگ برے ہے ۔۔ ہمیں آپ اچھے لگتے تھے پر آپ نے ہمارے بابا پر غصہ کیا اور آپ بہت غصہ کرتے ہیں آپکا بیٹا آپکے جیسا ہے اپنے بھی انعل پھوپھو کو رلایا تھا نہ وہ بھی یہی کر رہیں ہے ۔۔؟عروبہ بھاری آواز میں غصے میں کیا بولے جا رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یا پھر اتنے سالوں کا غصہ تھا ۔۔ اسکی باتوں نے داريان کو شرمندگی کی گہرائی میں ڈال دیا تھا ۔۔

” بدلہ لیں گی ۔۔داريان نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا ۔۔

” ک۔۔کس سے ۔۔عروبہ نہ سمجھی سے اسے دیکھا ۔۔

” اسی جلاد کھڑوس مسٹر آریان خان سے ۔۔ میں آپ کے ساتھ ہوں مجھے بھی بدلہ لینا ہے اس سے ۔۔ داريان نے مسکراہٹ دبا کر اسکی حیرت انگیز آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ جو اب رونا بھول کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

” آ ۔آپ ۔۔ آپ کیوں بدلہ لینا چاہتے ہیں انہوں نے اپکوں بھی دھوکہ دیا ہے کیا ۔۔ وہ بے حد معصومیت سے بولی تھی داريان کو اسکی معصومیت پر پیار آیا بہت ۔۔

” کیا بتاؤں آپ کو وہ کتنا بدتمیز ہے باپ سے بات کرنے کی تمیز نہیں مجھ پر بھی غصہ لڑائی کرتا ہے اور دھوکہ مجھے بھی دیا ہے اسنے اس لئے آپ ہم ساتھ میں بدلہ لیتے ہیں منظور ۔۔ داريان نے گہرا سانس لیتے ہوئے افسوس سے کہا ۔۔ عروبہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگی تھی اسکی بات پر ۔۔

” آپ لوگ کبھی واپس کیوں نہیں آئے تھے ۔۔ ہم ہر روز انتظار کرتے تھے لیکن ۔۔ اسکی آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔

” یہ بات آپ کو بہت جلد بتائیں گے ابھی آپ نے اپنا خیال رکھنا ہے ۔۔ آپ جانتی ہے آپ کتنے خطرے میں ہے ۔۔ آپ کو ایسے نہیں نکلنا چاہئیے گھر سے اگلی بار خیال رکھیے گا ۔۔ میں آریان کو کال کرتا ہوں وہ آکے لے جائے آپ کو ۔۔ داريان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔ اسکا دل نہیں چا رہا تھا آریان کے پاس جانے کا وہ بہت ناراض تھی ۔۔

” ہمیں انکے پاس نہیں جانا ۔۔ آپ ہمیں دوست کے پاس چھوڑ دے ۔۔ عروبہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔

” نہیں بیٹا ہم کہہ رہیں ہے نہ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے کسی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔۔ ابھی آپ جاؤ میں کل آپ سے ملنے آؤ گا پھر آرام سے بات کریں گے اوکے خیال رکھنا ۔۔ اور ہاں اسے خوب تنگ کرنا ۔۔ داريان کہتا آخر میں شرارت سے اسکی ناک دبا کر کہا جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی وہ سکون سے گہرا سانس لیتا آگے بڑھ گیا ۔۔

★★★★

” یہاں کیا کر رہی ہو چلو۔۔۔۔ وہ کب سے اسے بےچینی سے ڈھونڈ تا رہا تھا اور اسے وہاں خاموش بیٹھا دیکھ کر تیزی سے اسکے پاس آتے رعب میں کہتا خود آگے بڑھنے لگا وہ پہلے ہی بہت غصے میں تھا پھر اسکا یوں غائب ہونا اسے مزید غصہ پریشان کر رکھا تھا ۔۔ رک کر پیچھے اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھا ۔۔ غصے میں آگے بڑھ کر اسکا بازؤں کھینچتا اسے مقابل کھڑا کیا اور اسکی آنکھیں میں غصے سے دیکھا پر کیا نہ کچھ تھا سرخ نگاہوں سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے رونے میں اپنا بازوں پوری قوت سے کھینچا اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے کی طرف دھکہ دینا چاہا پر وہ مضبوط مرد اس نازک حسینہ کے آگے کچھ نہ تھا ۔۔

” کیا حق ہے آپکے پاس ہمیں چھونے کا کیا رشتہ ہے ہمارے بیچ ۔۔وہ غصے میں چیخی رونے سے اسکی ناک آنکھیں سرخ ہو چکے تھے بال بکھرے ہوئے تھے گلابی پھولے ہوئے گال آریان کو اپنے دل کے بہت قریب لگی اسکی معصوم ناراضگی ۔۔

” اتنے ٹائم سے چھو رہا تھا تمہیں اب پتا چلا ہے ؟ اور آج تو دیکھ بھی آئی ہو کیا رشتہ ہے پھر یہ بے تکہ سوال ۔۔ بیوقوف ہو اتنا تو جانتا ہوں پر اتنی یہ آج پتا چلا ہے ۔۔ وہ اسکی بات پر جیب میں ہاتھ ڈالے ہلکا سا ایک سائیڈ سر جھک کر ائبرو اچکاتے ہوئے دیکھا ۔۔ اسکی بات پر وہ شرم سے لال ہوگی تھی لیکن اسکے آخری بات پر اسکا پارا ہاۓ ہو گیا ۔۔

” آ ۔آپ ۔۔آپ بے انتہا برے انسان ہے کھڑوس جلاد اللّه پوچھے آپکو ۔۔ ہمیں آپ سے بات نہیں کرنی ہم سے دور رہیں ا ۔اور اگر پاس آئے تو ہم آپکو مار دینگے سمجھے آپ ۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ کچھ کردے سامنے کھڑے شخص کا ۔۔غصے میں آنکھیں بند کرتے دونوں ہاتھوں کی موٹھی بھینچتے ہوئے پیر پٹخ کر غصے میں آگے بڑھ گئی ۔۔ آریان وہی کھڑا جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے جیسے اسی کے انتظار میں تھا چہرے پر ہے حد سکون تھا ۔۔ اور شاید وہی ہوا جو وہ چاہتا تھا ۔۔ وہ چیخ تے ہوئے تیزی سے اسکی طرف بھاگتی ہوئی آکے دونوں بازوں اسکی گردن میں حائل کرتے ہوئے شدت سے رونے لگی تھی ۔۔ آریان کی مسکراتی ہوئی نگاہ سامنے بونکھتے ہوئے کتے پر تھی سکون سے سانس لیتے اسنے جیب سے ہاتھ نکال کر اسکے گرد مضبوط حصار میں قید کر لیا پر اس سے زیادہ عروبہ کی ڈر سے گرفت سخت تھی ۔۔ رونا اسے اپنی قسمت پر آرہا تھا جتنا وہ دور جانا چاہتی تھی وہ اتنا پاس آرہا تھا ۔۔ وہ غصے میں آگے تو بڑھ گئی تھی پر کچھ ہی دور دو خونخوار کتے اسے سامنے مل گئے تھے جس سے وہ روتے ہوئے سانس رک کر دیکھتی انکی آواز پر اچھل کر پیچھے بھاگی تھی ۔۔ وہ اسکے گلے لگ کر آنکھیں میچتی روتی رہی جیسے دل کا حال آنسوں کے ذریعہ بیان کر رہی ہو ۔۔۔ اور وہ سکون سے کھڑا اسے محسوس کر رہا تھا ۔۔

” کیا وہ چلا گیا ۔۔ جب کافی دیر گزر نے کے بعد اسنے آواز نہیں سنی تو سرگوشی میں پوچھا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اسکی دھڑکن آریان آرام سے سن محسوس کر سکتا تھا ۔۔کتے کا مالک مسکراتے اسے دیکھ کر اسے لے گیا پر اسکے پوچھنے پر اسے نے ۔۔

” نہیں خاموش ہو کے تمہارے قدموں کے قریب بیٹھ کے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا ہے کب تم مجھے چھوڑو اور وہ تمہیں کھائے آریان نے مسکراہٹ دبا کر کہا ۔۔ اسکی بات سے عروبہ اپنی گرفت مضبوط کر گئی ۔۔ چہرہ شرم سے لال ہو گیا تھا ایک تو وہ دشمن جان اتنا قریب کھڑا تھا اور اسکی گرم سانسے اپنے کان گردن پر محسوس کرتی ہوئی اسکی قربت جان لینے پر تھی اسکی اور تو اور اسکی پکڑ بہت سخت تھی اسے بہت درد ہو رہا تھا پر وہ برداشت کر رہی تھی ۔۔۔

” اب جو تمہیں پایا ہے چھوڑ نے کا تصور جان لیوا ہے “

“ہہ ۔۔ ہمارا دم گھٹنے لگا ہے ۔۔پپ ۔۔ پلیز ڈوگی کو دور کریں ۔۔ اسے بہت گھبراہٹ ہونے لگی تھی ۔۔

” اتنی جلدی میری قربت سے ہار گئی ۔۔ آریان اسکے کان میں سر گوشی ہونٹ اسکے کان کی لو چھوتے کہا تھا تو ۔۔ اسکا جسم سنسنا اٹھا ۔۔اسنے گرفت ہلکی کی وہ تیزی سے پیچھے ہوئی اور غصے میں اسے دیکھا ۔۔آریان نے بھی سنجیدگی سے دیکھا ۔۔

” گھر چلو اور ہاں دوبارہ بغیر بتاۓ کہیں مت جانا میرا دل گھبراہتا ہے ۔۔ آریان آگے بڑھ کر اسکے آنسوں نرمی سے صاف کرتے اسکا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا ۔۔ وہ حیرت انگیز اسے دیکھے گئی ۔۔

” آئے ہٹ یو ۔۔می ٹو ۔۔عروبہ دکھ سے اسکے مظبوط ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا اسنے بھی ہلکی مسکراہٹ سے کہا ۔۔ اسکی بات پر اسنے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے خفگی سے چہرہ موڑ لیا ۔۔

” کاش کے یہ وقت ٹھر جائے اور میرے ہاتھ پے تیرے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے میرا وقت گزر جائے “

★★★★

” ڈاکٹر زویا کہاں ہے ؟ حدید کو ایک جگہ جانا تھا زویا کے ساتھ وہ کب سے اسکے انتظار میں تھا فرہا کو آتا دیکھ کر پوچھا ۔۔

” اسنے کہا میں آپ کے ساتھ جاؤں وہ ڈین کے ساتھ کسی کام سے جا رہی ہے ۔۔ تو کیا ہم چلے ۔۔؟ فرہا مے ہلکی مسکراہٹ سے اسے کہا جو حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا زویا نے تو کچھ نہیں کہا تھا اسے لیکن ڈین کے ساتھ جانے کا سن کر اسنے لب بھینچ لئے ۔۔ غصے میں آگے بڑھ گیا ۔۔ پیچھے اسکے ساتھ جاتی فرہا کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی ۔۔

” کیا ہوا اتنی جلدی کہاں کی ہے میڈم ۔۔؟ دوسری ڈاکٹر لیڈی نے اسے جلد بازی دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔

” ہاں یار میں لیٹ ہوگئی ڈاکٹر حدید کے ساتھ دوسرے ہسپتال جانا تھا میٹنگ میں ۔۔ لیکن فرہا نے مجھے دوسرے کام میں پھسا دیا ۔۔ اوکے میں چلتی ہو ورنہ لیٹ ہو جاؤ گی ۔۔ زویا جلدی میں کہتی بیگ اٹھا کر جانے لگی جب اسکی آواز پر اسکے قدم رکے ۔۔

” واٹ کب ۔۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہے فرہا اور ڈاکٹر حدید ساتھ نکلے ہیں ۔۔ مجھے لگا تم جاؤ گی پر وہ لوگ ۔۔ اسکی بات اسنے زویا غصہ میں آنکھیں بند کر کے کھولی وہ سمجھ گئی یہ کس نے کیا ہوگا ۔۔

★★★★

” واٹ دا ہیل آر یو بلائینڈ ۔۔؟ احد تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا کے اچانک ایک نازک وجود اس سے ٹكرایا ۔۔

” آہہ میری کوفی گرا دی اندھے تو آپ ہے جس نے یہ بھی نہیں دیکھا میرے ہاتھ میں کیا ہے او ۔ وہ غصے میں اپنی کوفی کو زمین بوس دیکھتے ہوئے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ساکت رہ گی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی ۔۔

” تم یہاں بھی پہنچ گئی کیسے ؟ ۔۔احد اسے یہاں دیکھ کر چونکا اور غصے میں گھور تے ہوئے کہا ۔۔

” فلائیٹ سے لیکن کیوں یہ ملک آپ نے خریدہ ہے کیا اور یہاں سے کیا مراد میں پہلے کتنی بار پیچھا کیا ہے ۔۔ بدلے میں اسنے بھی آئبرو اچکاتے کہا ایک پل کو اسے غصے میں دیکھتے ہوئے ڈر گئی تھی پھر جلد خود کو سنبھال لیا ۔۔

” رئیلی ۔۔؟ اسنے آئبرو اچکائے ۔۔

” پپ ۔۔ پہلے اب نہیں آتی ۔۔ اور آپ یہاں ۔۔ اوہ مائے گاڈ کہیں آپ تو میرا پیچھا نہیں کر رہیں ۔۔ مقابل نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔۔وہ بائیس سال کی خوبصورت نازک حسینہ تھی سر پر بلیک کلر کا حجاب اچھے سے لئے ہوئے تھا لونگ سکین کلر کا کوٹ پہنے ہوئے چہرے پر بےحد معصوم کیوٹنیس تھی ۔۔احد کے دل کی بیٹ مس ہوئی تھی اسے اتنے لمبے عرصے بعد دیکھتے ہوئے ۔۔ دھڑکا تو اسکا دل بھی تھا جن جذباتوں کو دفنا کر رکھا تھا آج پھر اسے دیکھ کر جاگ گئے تھے ۔۔

” ہیر یار کب سے ویٹ کر رہیں ہے آجاؤ یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔ یہ کون ہے ۔۔؟ اسکا کزن حماد نے اسے ہوش میں لایا ۔۔ سنجیدگی سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا ۔۔

” ہاں آرہی تھی بس ٹکرا گئی پھر سے قسمت سے ۔۔ خیر چلے ۔۔ اس نے نم نگاہ اٹھا کر شکوہ کیا اور جانے لگی احد تو اپنی جگہ سن رہ گیا اسکی نگاہوں میں کیا کچھ نہ تھا اسے پھر سے شرمندگی نے گہرا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *