Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 14)

Mera Ishq by Mahra Shah

” اب تک ناراض ہو؟” ۔۔۔ “پھر تو میرا بیٹا بھی ناراض ہوگا” ۔۔!! داريان اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکراتے ہوئے اسکے سر کو دیکھا جو اسکے سینے پر رکھا تھا بال پھیلے ہوئے تھے ۔۔۔

“ہم دونوں آپ سے ناراض ہیں ۔۔۔ آپ ہمیشہ ہمیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔ جس دن ہم آپکو اکیلا چھوڑ دینگے تب پتا چلے گا کتنا مشکل ہوتا ہے تنہائی محبوب کی سہنا” ۔۔۔۔!! انعل نے ناراضگی جتائی ۔۔

” انو خبر دار اگر ایسی بکواس کی تو ۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا ہمیشہ میرے ساتھ میرے پاس رہو گی اب کبھی تنہا نہیں چھوڑونگا” ۔۔۔!! داريان تڑپ کر اسے غصے میں کہتا اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔

” بہت شکریہ ہمیں بہت کچھ سکھا نے کے لئے سمجھانے کے لئے کبھی بےوفا بن کر کبھی ہمنواہ بن کر ۔۔۔ اور آپ نے ہمیں بہت رلایا ہے بہت تڑپایا ہے ۔۔ سچ کہتے ہیں عشق میں محبوب کی بےوفائی دکھائی نہیں دیتی اور ہم نے آپکو بہت دفع معاف کیا ہے ۔۔۔ پھر بھی ہمیں ہرٹ کرتے ہیں” ۔۔!! انعل اسکے سینے پر آنسو بہاتی اپنے غم وغصے کو نکال رہی تھی داريان خاموشی سے بس اسے سن رہا تھا جانتا تھا وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہی ہے ۔۔ انعل چپ ہوئی تو اسکے بولنے کے انتظار میں کچھ پل انتظار کیا لیکن دونوں کے بیچ گہری خاموشی تھی ۔۔۔ انعل دھڑکتے دل کے ساتھ اسکے سینے سے سر اٹھا کر سیدھا اسکی گہرے رنگ آنکھوں میں دیکھا جہاں ایک سمندر تھا بہت پیاسا گہرا اداس ۔۔داريان اسے دیکھتا سیدھا کرتے اسکے اوپر جھکا اسکے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی وہ یوں ہی اپنے عنابی لب رکھے ہوئے تھا کافی دیر تک جب دروازہ بجا دونوں جلدی سے الگ ہوئے ۔۔

” یہ لو سنمبھالو اپنے شہزادے کو جانتی ہو نہ تمہارے بغیر یہ زیادہ دیر ہمارے پاس ٹک نہیں پاتا” ۔۔۔۔۔۔۔بی جان نے انعل سے کہا

ہاہاہا بی جان آپ لوگ بھی میرے شہزادے کے پیچھے پڑھ جاتے ہیں” ۔۔۔!! انعل نے ہنستے ہوئے آریان کو لیا وہ تو ماں کو دیکھتا ہی چہک اٹھا ۔۔۔۔

” السلام علیکم بی جان کیسی ہیں آپ؟” ۔۔۔!! داريان چلتا انکے قریب آیا بی جان کو سلام کرتے اپنے بیٹے کو محبت سے دیکھنے لگا جو ماں کے گلے لگ کر سکون سے پڑا تھا ۔۔۔

” وعلیکم السلام بیٹامیں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہو؟ ۔۔۔۔اچھا نیچے کھانا لگ گیا ہے آپ دونوں فریش ہوکے آجاۓ” ۔۔۔!! بی جان کہتی نیچے چلی گئی ۔۔ داريان دروازہ بند کرتا انعل کے پاس آیا وہ آریان کو بیڈ پر لیٹا کر اسے چینج کروانے لگی ۔۔۔

” بابا کی جان کیسا ہے میرا بچہ؟” ۔۔۔!! داريان نے بہت پیارو نرمی سے آریان کے نرم گلابی گال پر بوسہ پے بوسہ دیا ۔۔جسنے غصہ میں رونا شروع کردیا ۔۔

” افففف آپ نے رلا دیا میرے آریان کو ۔۔۔ بس چپ ہو جاؤ ماما کی جان” ۔۔۔!! انعل تیزی سے اسکے پاس آتے داريان کو گھورتے ہوئے کہا اور آریان کو چپ کروانے لگی جو اب ماں کے پاس آتے ہی چپ ہو گیا ۔۔۔داريان نے دونوں کو گھور تے ہوئے دیکھا ۔۔

” تم نے اسے تمیز نہیں سکھائی باپ کے پاس روتے نہیں پیار سے آتے ہیں” ۔۔۔ !! داريان نے آریان کو گھورا جس پر وہ ہنستا ماں کے آنچل میں چھپ گیا ۔۔۔

” داريان آپ ٹھیک ہیں ۔۔یہ بہت چھوٹا ہے ۔۔ اور سچ بتائیں بالکل آپ پر گیا ہے ۔۔ غصے والا کم لوگوں کے ساتھ بنتی ہے اسکی بھی “۔۔۔!! انعل اسکی جلن پر مسکراتے ہوئے اسکے پاس بیٹھی آریان کو آرام سے اسے دیا جو اب ہنس رہا تھا وہ اپنے کھیلنے کے موڈ میں تھا ۔۔

” آریان حیدر خان کیسا نام ہے””؟؟۔۔۔۔

“بہت پیارہ تم نے جو رکھا ہے “۔۔۔!! انعل کے نام بتانے پر داريان مسکراتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھتا پھر آریان کو دیکھا وہ ماں کے پاس جانے کے لئے مچل رہا تھا ۔۔۔

” داریان پلیز تنگ نہ کریں اسے بہت روتا ہے پھر” ۔۔۔!! انعل کی ممتا تڑپ اٹھی اسکا بچہ اسکے پاس آنے کے لئے مچل رہا تھا اور داريان اسے دور کرتے ہوئے خود کی طرف متوجہ کر رہا تھا ۔۔۔انعل نے گھور تے ہوئے اس سے لے لیا وہ پھر ماں کے پاس آتے خوش ہو گیا اسکے سینے سے لگ کر چہرہ ماں کے سینے میں چھپا دیا ۔۔اسکی معصوم سی ادا پر انعل کھلکھلائی ۔۔داريان ایک نظر مسکراتے ہوئے دونوں پر ڈالتے ہوئے انعل کے کان کے پاس جھکا ۔۔۔

” اسے اتنی جلدی نہیں آنا چاہئے تھا ہمارے بیچ ۔۔۔ داريان ۔۔ہاہاہا مذاق کر رہا تھا میری بلی” ۔۔۔!! داريان کے کہنے پر انعل چلائی ۔۔داريان کا قہقہ بےاختیار تھا ۔۔۔۔وہ اٹھ گیا واش روم کی طرف ۔۔انعل نے پہلی بار اسے ہنستا ہوا دیکھا تھا کتنا خوبصورت لگتا تھا وہ ہنستے مسکراتے ہوئے ۔۔ اسنے دل میں نظر اتاری ہمیشہ ساتھ خوش رہنے کی دعا کی ۔۔۔ لیکن شاید کچھ دعاٸیں وقت سے پہلے ہی قبول ہو جاتی ہے تو کچھ دیر لگا دیتی ہے اسے قبول ہونے میں یہ نصیب سے ہار جاتی ہیں ۔۔۔

★★★★

” مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے ۔۔۔ میں اپنی بیوی بچے کو لیکے جانا چاہتا ہوں یہاں سے لیکن اس جگہ کا نام نہیں بتا سکتا پلیز مجھ سے پوچھیںۓ گا مت” ۔۔۔!! اس وقت سب ساتھ لاؤنچ میں بیٹھے تھے ۔۔سب سنجیدگی سے داريان کو دیکھ رہے تھے ۔۔انعل کا دل ڈر سے الگ دھڑک رہا تھا کہیں داريان غصہ میں نہ آجائیں اسکے غصہ سے تو اسکی جان جاتی تھی ۔۔۔

” بڑی جلدی یاد آگئی اپنی بیوی بچے کی ۔۔۔ میں اب مزید اپنی بیٹی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔ تم بہت تکلیف دے چکے ہو ۔۔ تو بھول جاؤ میں اپنی بیٹی تمہارے ساتھ جانے دونگا” ۔۔۔!! حیات صاحب نےسپاٹ لہجے میں کہا ۔۔ داريان غصے سے سرخ نظریں اٹھا کر ایک نظر انعل کو دیکھتا پھر حیات صاحب کو دیکھا اور سکون سے بولا ۔۔۔

” آپ بولیں گے اور میں مان جاؤنگا ۔۔۔ شکر کریں مجھے وقت سے پہلے اپنی بیوی بچے کی یاد آگٸ ہے اور لیکے جا رہا ہوں ساتھ اپنے ۔۔ ایک خوبصورت زندگی کا آغاز کرنے ۔۔۔ ورنہ کچھ لوگ تو بہت بےحس ہیں جنہیں اپنی بیوی بچے تک یاد نہیں تھے ۔۔۔انو تیاری کرو ہمیں نکلنا ہے” ۔۔۔!! داريان سنجیدگی سے حیات صاحب کو دیکھتا طنزیہ کہتا انھیں اپنی ہی نظروں میں شرمندہ کر گیا ۔۔۔انعل کو اسکا طنزیہ لہجہ تھوڑا برا لگا پر وہ اپنی جگہ سہی تھا ۔۔۔

” بابا پلیز آپ برا مت مانے ہم ٹھیک ہیں وہ ہمیں اب کچھ نہیں کہیں گے ہم ایک موقع دینا چاہتے ہیں اپنی قسمت کو ۔۔۔ ہمیں جانے دے ہم ملتے رہیں گے آپ سے” ۔۔۔!! انعل نے حیات صاحب کے سینے سے لگتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” ہماری بیٹی بہت سمجھدار ہوگٸ ہے ۔۔اب ہمیں سمجھا رہی ہے ۔۔ ہمیں آپکی فکر ہے بہت پیار کرتے ہیں آپ سے اپنی بیٹی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے”۔۔!! حیات صاحب نم لہجے میں کہتے انعل کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔۔

” وہ بھی کسی کی بیٹی تھی جو بہت تکلیف میں تھی ۔۔۔اسکا بھائی جیسا باپ بھی اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا “۔۔۔!!

” داريان پلیز” ۔۔۔!!

” جلدی کرو ہم لیٹ ہو رہے ہیں” ۔۔!!

” جاؤ میرا بچہ بابا ہمیشہ آپکے ساتھ ہیں “۔۔۔!! داريان کی بات پر جہاں انعل کو تکلیف ہوئی تھی وہیں حیات صاحب کو اپنے دل میں درد اٹھتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

★★★★

” خاموشی کی وجہ پوچھ سکتا ہوں” ۔۔!! داريان گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے کب سے اسکی خاموشی محسوس کر رہا تھا چہرہ اداس تھا آریان گود میں مزے سے سو رہا تھا ۔۔۔

” وجہ جانتے ہوئے بھی پوچھ رہے ہیں ” ۔۔!! انعل نے خفگی سے دیکھتے ہوئے آنکھیں گھمائی ۔۔

” ناراضگی ختم کرنے کا کیا لوگی” ۔۔۔!! داريان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا جو اب مزید خوبصورت ہوگٸ تھی ۔۔۔

” وعدہ” ۔۔۔!!

” کس چیز کا؟؟” ۔۔!!

” عزت کا ۔۔ محبت کا ۔۔ ساتھ کا ۔۔۔!! کریں گے” ۔۔!!

” انکار کس کافر نے کیا ہے ۔۔ پورا بندا تمہارا ہے وعدے کی کیا ضرورت” ۔۔۔!! داريان شرارت سے کہتا اسے دیکھا جس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔

” د۔۔داريان ہم کہاں جارہے ہیں” ۔۔۔!! انعل نے بات بدلی ۔۔وہ اتنا تو جانتی تھی اس انسان سے وہ کبھی نہیں جیت سکتی تھی ۔۔

” جنت میں” ۔۔۔!!داريان کی بات پر ۔۔ انعل مسکرا دی ۔۔

” جہاں صرف ہم ہونگے ہمارے بچے ہونگے ہماری بہت پیاری خوبصورت سی دنیا ہوگی”۔۔!! داريان کے انداز ہی خوبصورت تھے آج تو انعل کو وہ بہت پیارا لگا ہنستے مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ باتیں کرتا ہوا ۔۔اور یہ سفر انکا اسی طرح بے حد حسین چلتا رہا اپنی منزل کی طرف ۔۔

★★★★

” کب تک یہ ماتم مناتے رہو گے ۔۔کچھ ہوش بھی ہے کیا ہو رہا ہے ۔۔اندر باہر کی خبر رکھتے ہو یا ابھی تک عشق کا بھوت اترا نہیں” ۔۔۔!! جعفری صاحب تنگ آگۓ تھے زید کی حرکتوں سے دن رات نشے میں رہتا تھا پہلے وہ اپنا اور اپنی گینگ کا بہت اچھے سے خیال رکھنا چلانا جانتا تھا اب تو جیسے سب ہی بھول گیا ہو۔ جیسے کتنا ڈھونڈا انعل داريان کو پر انکی تو جیسے کوئی خبر ہی نہیں جیسے وہ اس دنیا کی مخلوق ہی نہیں تھے ۔۔زید کی نفرت و غصہ دن بہ دن بڑھتا جارہا تھا اسکے اندر اپنے عشق کا جنون بے حد بڑھتا گیا یہ کہاں تک اسے لے جا سکتا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔

” مجھے صرف ایک خبر چاہئیے وہ بھی صرف انکی کہاں چھپ گۓ ہے دونوں کیوں نہیں ملتی وہ مجھے کیوں وہ میرے پاس نہیں آتی کیا بگاڑا ہے میں نے ۔۔کیا مجھے حق نہیں اپنی محبت کا اسے اپنے پاس رکھنے کا بولیں ڈیڈ ۔۔۔۔۔ پلیز ڈیڈ اسے میرے پاس لے آئیں وہ مجھے چاہیے ۔۔۔۔۔انعلللل” ۔۔۔۔!!! زید غصے میں ہر چیز توڑ پھوڑ کرتا اپنا غصہ پاگل پن دیکھا رہا تھا جعفری صاحب اسے دیکھتا باہر نکلا تیزی سے اسے اب خود اپنے بیٹے کی حالت برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔وہ خود دن رات ایک کر کے داريان کا پتا لگوا رہے تھے لیکن اسکا کچھ پتا نہیں چلا ۔۔ وہ کچھ سوچتا اپنے آدمیوں کے پاس گیا اور ان سے کچھ کہتا جس سے شیطانی مسکراہٹ اسکے چہرے پر ڈور گٸ ۔۔۔

★★★★

” چلو شاباش بولو بابا ۔۔۔!!

” مم ما” ۔۔۔ “بابا بولو” ۔۔!! داريان کب سے آریان کو گود میں بٹھائے اسے بابا کہلوا رہا تھا جو ماں کے لفظ سے آگے بڑھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔داريان نےاسے پھر سے گھورتے ہوئے آنکھیں دکھائی تب ہی انعل نےروم میں آتے ہی داريان کو گھورا ۔۔وہ پھر سے اسکے بیٹے کو ڈانٹ رہا تھا ۔۔آریان اپنے چھوٹے ہونٹ پیارے سے باہر نکالتا رونے کو ہوا ۔۔۔انعل اسکے قریب آئی وہ پہلے سے تھوڑی بڑھ گٸ تھی وجود میں ۔۔آریان ایک سال کا ہو گیا تھا لیکن وہ بولتا بہت کم تھا جب بھی بولتا بس ماں کا نام لیتا تھا باپ سے تو جیسے اسکی بنتی ہی نہیں تھی وجہ انعل کے قریب جو ہوتا وہ یا تو داريان کا دشمن یا آریان کا دونوں اسے کسی کے ساتھ تھوڑا بھی شیٸر نہیں کر سکتے تھے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے بھی جیلس ہوتے ہیں ۔۔۔انعل کا چوتھا ماہ چل رہا تھا ۔۔داريان نے جتنا اسے دکھ تکلیف دی تھی اسے کٸ گناہ اب وہ اسے خوشیاں دینا چاہتا تھا اسے ہر وقت ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔وہ لوگ بہت دور ایک خوبصورت جگہ کشمیر میں رہتے تھے جہاں کے آس پاس کم ہی لوگوں کا گھر تھا انکا تھوڑا دور خوبصورت سے پہاڑ پر ایک چھوٹا سا پیارا سا گھر بنایا تھا داريان نے اپنی زندگی کے لئے جو آج اسکے ساتھ بے حد خوش تھی ۔۔

” داريان کیوں تنگ کرتے ہیں آریان کو” ۔۔!! انعل روہانسی ہوگٸ۔۔

” کیونکہ تمہیں تنگ کرنے کا موقع دیتا نہیں پھر کیا کروں میں بور ہوتا ہوں ۔۔ مجھے نہ بیٹی چاہیے” ۔۔۔!! داريان نے محبت سے ان دونوں کو دیکھا آریان ماں کو گلے لگا کر اسکے گال پر کس کر رہا تھا ۔۔

” یہ تو اللّه پاک کے ہاتھ میں ہے جو بھی ہوگا اسکی رحمت سے ہوگا ۔۔ انشاء اللّه” ۔۔۔!! انعل اسکی فرمائش پر دل سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا جو محبت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔کتنا خوبصورت بنا دیا تھا انکی محبت نے ایک دوسرے کو ۔۔

★★

“آريان سو گیا”؟ ۔۔. “ہمم” ۔۔!! داريان نے انعل کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیا دونوں گیلری میں کھڑے باہر کی ہلکی سی روشنی پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔۔

” ہم بہت زیادہ خوش ہیں” ۔۔!!

” میں بھی” ۔۔!

” یہ حسین خواب لگتا ہے” ۔۔!!

” یہ حسین حقیقت ہے “۔۔!! داريان نے چہرہ اسکے کھلے بالوں میں ڈالیا ۔۔

” انو رو کیوں رہی ہو کیا ہوا کہیں درد ہو رہا ہے بولو یار پریشاں کیوں کر رہی ہو” ۔۔۔!! دونوں کے بیچ کافی دیر خاموشی رہی تو داريان نے فکر سے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی داريان تیزی سے سیدھا ہوتا اسے اپنی طرف گھما یا ۔۔

” ڈر لگ رہا ہے” ۔۔!! انعل نےاسکی پریشانی پر نفی کرتے ہوئے کہا ۔۔

” کس سے میری جان کیوں لگ رہا ہے ڈر میں ہوں نا ساتھ “۔۔۔!! داريان اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا نرمی و محبت سے کہا ۔۔۔

” قسمت سے ۔۔ اتنی خوشیوں سے اس سکون سے اس خاموشی سے ہر چیز سے آپکی دوری سے ۔۔۔ہمیں آپکے ساتھ رہنا ہے ہمیشہ کیلئے” ۔۔۔!! انعل روتے ہوئے اسکے سینے سے لگ گئی ۔۔داريان نے کچھ نہیں کہا اسکا دل ہلکا ہونے کے لئے رونے دیا خاموشی سے اسکی بات سنتا اسکے بال سہلا رہا تھا ۔۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” داريان ایک بات پوچھوں؟ “۔۔!!

” پوچھو میری جان تمہیں مجھ سے اجازت کی ضرورت نہیں” ۔۔!! داريان نے محبت سے اسے دیکھا جو اسکے کندھے پر سر رکھے ہوئے تھی ۔۔۔آریان داريان کی گود میں لیٹا لیٹا سو گیا تھا ۔۔کیونکے وہ لوگ جھولے میں بیٹھے ہوئے تھے تینوں مکمل ایک خوبصورت پیاری فمیلی اب ایک اور فرد آنے والا تھا انکی فیملی کو مزید مکمل اورمضبوط کرنے ۔۔انکی خوشیاں انکے پاس تھی ۔۔

” آپ نے ہم سے نفرت سے عشق تک کا سفر کیسے کیا؟۔۔آپ نفرت کرتے تھے نہ ہم سے پھر محبت کیسے ہوئی؟” ۔۔۔!! انعل نے اسکی دن بہ دن بڑھتی محبت کی شدت دیکھ کر آج یہ سوال کیا۔اسے اسکی محبت دیکھ کر لگتا تھا جیسے اسنے تو کبھی نفرت نہیں کی بس غصہ تھا جیسے وہ ۔۔

” نفرت میں اکثر انسان کو عشق تک کا سفر کرنا پڑھتا ہے لیکن ہر انسان خوش نصیب نہیں ہوتا ۔۔کچھ نفرت ایسی ہوتی ہے جو انسان کو برباد کر دیتی ہے تو کچھ آباد ۔۔نفرت میں انسان اس شخص کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے جسے وہ نفرت کرتا ہے ۔۔ جب وہ نفرت جتا کر تھک جاتا ہے تو وہ عشق کے سفر پر چلنے لگتا ہے ۔۔انعل میں نے تم سے کبھی نفرت نہیں کی مجھے تم پہلی نظر میں بہت معصوم پیاری لگی لیکن میں اپنے بدلے کی آگ میں تمہارے باپ سے نفرت میں تم سے خود کو دور رکھتا تھا غصہ کرتا تھا جھوٹی نفرت جتاتا تھا لیکن تم میں پتا نہیں کیا تھا انو تم مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی اور میں کھینچا چلا آتا تھا بس تمہاری قدر نہیں کرپایا تمہیں بہت دکھ دیا آٸم سوری فور ایورے تھنک” ۔۔!! داريان نے اسکے گرد اپنا بازو پھیلا دیا ایک ہی چادر تینوں نے اوڑھ رکھی تھی ۔۔۔

” ہمیں کبھی آپ سے نفرت نہیں ہوئی ۔۔ہم تو آپ سے محبت سے عشق تک سفر کب کرنے لگے یاد نہیں ۔۔ آپ پر کبھی غصہ نہیں آتا تھا آپکے غصےو نفرت پر بھی نہیں ۔۔کیوں کے آپ ہمارے ہمسفر ہمارے محافظ ہمارے استاد سب تھے ہمیں کچھ نہیں آتا تھا لیکن آپ نے سب سکھا دیا کبھی نرمی تو کبھی غصے سے” ۔۔!!! انعل مسکراتے ہوئے وہ پل یاد کرتے ہوئے ہنسی تھی ۔۔۔

” یاد کر رہی ہو پرانے داريان کو ۔۔کہو تو بلاؤں؟ “۔۔۔!! داريان مسکراہٹ دبا کر کہتا اسکی آنکھیں میں دیکھتا اسکی پیشانی پر بوسہ دیتا اپنی پیشانی اس پر ٹکا گیا ۔۔۔

” اب آپ ہم پر غصہ نہیں کر سکتے ہمارے پاس ہمارا باڈی گارڈ ہے ۔۔دوسرا آرہا ہے ۔۔اپنی خیرمناۓ ۔۔ہاہاہا” ۔۔۔!! انعل نےآریان اور اپنے آنے والے بچے کی طرف اشارہ دیا اور کھلکھلا کر ہنسی ۔۔داريان اسکی ہنسی میں جیسے کھو ہی گیا ۔۔

” تم سب کے لئے میری ایک گھوری کافی ہے” ۔۔!! اور داريان نے سچ ہی کہا اسکا روب ہی بہت تھا انھیں خاموش کروانے کیلئے ۔۔

★★★★

دو سال بعد

” موم یو می” ۔۔!! تین سالہ آریان اپنی ماں کا دیوانہ ہر بار اسکا ماں کو دیکھتے یہی کہنا اسے مزہ آتا تھا اور یہ چیز اسنے داريان سے سیکھی تھی جب وہ انعل کے قریب ہوتا تھا ۔۔۔

” یس مائے بےبی موم یو” ۔!! انعل نےاسکے گول مٹول گال پر شدت سے پیار کرتے ہوئے کہا تھا کے اتنے میں احد اسکے پاس رینگتا ہوا ماں کے پاس آیا دونوں چھوٹے تھے اور ماں کے دیوانے۔ لیکن احد کی باپ کے ساتھ زیادہ بنتی تھی وجہ آریان ماں کے پاس دونوں کو زیادہ آنے نہیں دیتا تھا اور رونا شروع کر دیتا۔جسے وہ لوگ پریشان الگ ہوتے اسے چپ کروانا بہت مشکل کام تھا ۔۔لیکن وہ چھوٹا تھا اس لئے ماں باپ دونوں کے پاس اپنے چھوٹے پیارے بھائی کو تھوڑا کم ہی برداشت کرتا تھا بچے تو پھر بھی بچے ہے ۔۔انکا چھوٹا سا دل کہتا ہے وہ ماں باپ کے ہی رہیں کوئی اور نہ آئے انکے پاس ۔۔۔

” میری جان حدی ۔۔ آریان دیکھیں آپکا بھائی کتنا پیارا ہے آپکا دوست ہے نہ اپنے دوست کے ساتھ نہیں کھیلیں گے” ۔۔۔!! انعلنے احد کا گال چومتے اسے آریان کے پاس بیٹھا دیا اور ان کو کھیلونے دے کر داريان کے پاس گٸ اسٹڈی روم میں ۔۔

” داريان آپ بزی ہیں؟” ۔۔۔!!

” آجاؤ انو کہو کیا بات ہے ۔۔۔ پھر سے میرے بیٹوں کی شکایات تو نہیں لیکے آئی” ۔۔۔!! داريان مسکراتے اسے دیکھتا اٹھ کر اسکے پاس آیا جو بہت اداس لگ رہی تھی ۔۔داريان کے قریب آتے ہی سینے سے لگ گٸ۔۔۔داريان پریشان ہوا تھا ۔۔۔

“انو کیا ہوا یار ٹھیک ہو تم “۔۔۔!! داريان نے بےچینی سے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔

” بابا کی یاد آرہی ہے “۔۔!! انعل نےروتے ہوئے کہا ۔۔

” انو پلیز مجھے پریشان مت کرو یار ۔۔۔جانتا ہوں دکھ بہت بڑا ہے پر صبر کے سوا کچھ نہیں کر سکتے پلیز انو ۔۔ سمبھالوخود کو ۔۔ میں ہوں نا تمہارے ساتھ میرے لئے پلیز” ۔۔۔!! داريان پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے اسکا ماتھا چوما اور گلے لگایا ۔۔وہ خاموشی سے آنسو بہانے لگی یہ غم اتنا آسان نہیں تھا بھول جانا کیا کوئی اپنوں کو بھول سکتا ہے کبھی نہیں ۔۔۔ انعل داريان کی سوچ کے پردے پر وہ منظر لہرایا تھا ۔۔۔

★★

” ایک سال پہلے “

” بابا کیسے ہیں آپ؟” ۔۔!!

” میری جان ہم ٹھیک ہے آپ سناؤ کیسی ہو ہمارے چھوٹے پیارے بچے کیسے ہیں؟” ۔!! حیات صاحب محبت سے انکا پوچھ رہے تھے ۔۔

” مت پوچھیں بابا بہت شرارتی ہیں آریان تو احد کو ہمارے پاس آنے نہیں دیتا” ۔۔!! انعل کے چہرے پر خوبصورت سکون بھری مسکراہٹ آگٸ اپنے بیٹوں کے ذکر پر ۔۔۔۔

” ہم آپ سب کو بہت یاد کرتے ہیں ۔۔ہم ملنے آنا چاہتے ہیں آپ سے اپنے شوہر سے بولو ایڈریس دے مجھے وہاں کا” ۔۔۔!! حیات صاحب کا اداس لہجہ انعل کو بہت محسوس ہوا تھا وہ خود ملنا چاہتی تھی پر داريان نے اسے صرف فون پر بات کرنے کی اجازت دی تھی وہ جانتا تھا خطرہ ابھی تک ٹلا نہیں تھا ۔۔

” بابا ہم ۔۔۔ بات کرینگے داريان سے وہ ڈرتے ہیں ہم سب کو کھونے سے اس لئے بہت دور رکھا ہے اور ہم بھی نہیں چاہتے اب کچھ برا ہو لیکن ہمارا دل کر رہا ہے بہت آپ سے ملنے کو ہم جلد ملیں گے۔ آج ہی داريان سے بات کرتے ہیں پھر آپ آجانا ہمارے پاس” ۔۔۔!! انعل نے نم لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا اور کچھ باتوں کے بعد انکا فون بند ہوا تو داريان کے پاس گٸ تھی ۔۔۔

” داريان بابا ملنا چاہتے ہیں پلیز انھیں بتادے ہم کہاں ہے اور کب تک ہم یوں ہی چھپے رہیں گے ۔۔۔۔ ہمیں بہت یاد آتی ہے بابا کی ہم ملنا چاہتے ہیں پلیز انکار مت کریں ہم وعدہ کر چکے ہیں” ۔۔۔۔!! انعل نے تو جیسے کوئی انکار کی وجہ نہیں چھوڑی تھی داريان نے سختی سے لب بھینچ لئے وہ غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن انعل کا رونا اسکی برداشت سے باہر تھا اب ۔۔

” ٹھیک ہے صرف تمہارے لئے انو ورنہ میرے اندر اب ہمت نہیں کچھ بھی کھونے سہنے کی پلیز انو میرا مزید امتحان مت لو ۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے وہ صرف تم سے ملیں گے میں خود لیکے جاؤنگا لیکن اپنے بچوں کو نہیں” ۔۔۔!! داريان نے سخت لہجے میں اپنی بات کہی انعل نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔

” آپ نے کہا تھا آپ بابا کو معاف کر چکے ہیں” ۔۔۔!!

” کہنا آسان ہے انو کرنا بہت مشکل پلیز میں نےانھیں صرف تمہاری خاطر معاف کیا ہے لیکن میں اپنی آنی کا غم نہیں بھولا وہ سب آج بھی یاد ہے” ۔۔۔!! داريان نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے تھوڑا نرمی سے سمجھایا تھا ۔۔

” وو ۔۔وہ بچوں سے بھی ملنا چاہتے ہیں پلیز ہمارے لئے ایک بار انھیں آنے دے پلیز داريان” ۔۔۔!! انعل نے روتے ہوئے التجا کی اور اسکے سینے سے لگ گئی ۔۔ داريان بے بس ہو گیا تھا اسکے آگے ۔۔۔ انعل جانتی تھی وہ اسکی آنکھیں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا اور وہ اسکی کمزوری ہے ۔۔۔داريان نے اسے اجازت دے دی تھی پر سختی کے ساتھ کہا تھا کے کوئی اور نہیں آئیگا انکے ساتھ وہ لوگ بھی دور کہیں اسلام آباد کے کسی علاقہ میں ملیں گے اور یہی ہوا حیات صاحب اتنے ٹائم بعد بیٹی اسکے بچوں سے مل کر بہت خوش ہوۓ۔ انعل کے چہرے سے لگ رہا تھا وہ بہت خوش اپنے جان سے پیارے بابا کے ساتھ مل کر حیات صاحب نے ایک ہوٹل میں رہنے لگے تھے ۔۔وہ انہیں مل کر ہوٹل چلے گئے تھے آج انعل نے بہت اسرار کیا تھا رہنے کو بھی لیکن وہ جانتے تھے داريان انکے یہاں رہنے سے خوش نہیں تھا اس لئے وہ انعل سے پھر سے ملنے کا کہتے وہاں سے چلے گئے تھے ۔۔۔

” داريان پلیز اٹھیں “۔۔۔!! انعل نیند سے جاگتے ہوئے گھبرا رہی تھی رات کا ایک بج رہا تھا اسے عجیب سی بےچینی ہونے لگی اور نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔ داريان کو سوۓ ہوئے کچھ ہی دیر گذری تھی کہ انعل کی آواز نے اسے اٹھا دیا ۔۔۔

” کیا ہوا انو سو جاؤ یار جاگ کیوں رہی ہو ۔۔اتنی مشکلوں سے تمہارے بیٹوں نے سونے دیا ہے” ۔۔۔!! داريان کی گهمبیر آواز اسکے کان میں سرگوشیانہ سنائی دی وہ ابھی تک آنکھیں بند کیے نیند میں تھا اسکے گرد بالوں میں منہ چھپا ہوا تھا اور یہ داريان کی عادت کو ہمیشہ آریان کاپی کرتا تھا وہ اکثر داريان کو انعل کے قریب دیکھتا تھا ۔۔۔ احد جو کے ابھی صرف دوماہ کا تھا تو اسے صرف ماں اور بھوک کا پتا تھا ۔۔

” داريان پلیزچلیں” ۔۔۔۔ !!!

“اس وقت لیکن کہاں؟” ۔۔!! داريان حیرت سے آنکھیں کھولتا اسے دیکھا جس کے چہرے پر صرف پریشانی اور ڈر تھا کیوں اسے خود بھی معلوم نہیں ہوا ۔۔۔

” پتا نہیں بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے بابا کے پاس چلتے ہیں وہ وہ ٹھیک ہونگے نہ” ۔۔۔!! انعل نے عجیب سی بے چینی میں کہا اور اٹھ بیٹھی ۔۔۔

” انو تم ٹھیک ہو اس وقت رات کا ایک بج رہا ہے اور ہم وہاں جاکے تمہارے بابا کو ڈسٹرب ہی کریں گے ۔۔صبح چلتے ہیں ابھی وہ سو رہے ہونگے ورنہ فون کر لیتے” ۔۔۔!! داريان جانتا تھا وہ بہت ڈرتی ہے ضرور کوئی برا خواب دیکھا ہوگا اپنے باپ کے حوالے سے ۔۔۔

” آ ۔آپ یہیں رہیں ہم جا رہے ہیں ہمیں بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے کچھ اچھا فیل نہیں ہو رہا ہم انھیں صرف ایک بار دیکھنا چاہتے ہیں پلیز” ۔۔۔!! انعل ضدی لہجے میں کہتی اٹھ گٸ تھی بیڈ سے ۔۔داريان کو وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگی تھی ۔۔لیکن وہ سمجھ گیا تھا اسے روکنا سہی نہیں ہوگا اس لئے جلد حنان کو کال کی جو خود نیند میں تھا اسے سختی سے کہتا گھر پر ٹکنے کو کہا بچوں کے پاس اور وہ خود انعل کو لیکے نکل گیا ہوٹل کے لئے جو کے زیادہ دور نہیں تھا ۔۔آس پاس بہت کم لوگ تھے اس وقت سب اپنے اپنے ہی گھروں میں تھے ۔۔۔

” پلیز جلدی چلیں “۔۔۔۔! انعل جلدی سے گاڑی سے نکل کر آگے بڑھی تھی کے داريان اسکا بازو پکڑتا سامنے کیا ۔۔

” انو ہوش میں آؤ ۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں پاگل ہوگٸ ہو ۔۔کچھ نہیں ہوا ہے سب ٹھیک ہے ۔۔سمبھالو خود کو”۔۔۔!! داريان اسے جھنجھوڑتا غصہ میں کہا اسکی آنکھوں سے آنسو بہہہ رہے تھے اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔

” پتا نہیں کیوں ہمارا دل گھبرا رہا ہے ۔جیسے کچھ”۔۔۔!!! ابھی وہ کچھ کہتی کے ایک زور دار دھماکے کی آواز پر اسکی چیخ کے ساتھ داريان سے لپٹ گٸ۔ اس دھماکے پر کتنے دل دھڑکے تھے تو کتنے بند ہوئے فضا میں چیخوں رونے کی آوازیں سنائی دی ایک شور سا مچ گیا داريان تو جیسے اپنی جگہ ساكت ہو گیا تو کیا انعل کی گھبراہٹ سچ ثابت ہوئی تھی تو کیا خطرہ انکے سر سے کبھی ٹلے گا نہیں ۔۔کیا وہ لوگ پہنچ گۓ ان تک جس سے وہ اپنی فیملی کو بچاتا پھر رہا تھا ۔۔۔

ٹھاااااہ ۔۔ ایک اور زور دار دھماکہ ہوا اور انعل جیسے ہوش میں آتے سامنے ہوٹل کو دیکھا جو دھماکے سے پوری برباد ہوگٸ تھی ہر جگہ آگ پھیلی ہوئی تھی وہ اپنے چکراتے سر سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ایک جگہ سن ہوگٸ تھی۔ اچانک سے اسے کچھ یاد آیا وہ یہاں کس کے لئے آئی کیوں آئی اور زیر لب بڑبڑائی ۔۔بابا

” بابا نہیں باباااا”… !! وہ حلق کے بل چیخی تھی اسکی چیخ سے داريان ہوش میں آیا اور اسی طرف دیکھا تو جیسے سانس لینا بھول گیا ۔۔ وہ دیوانہ وار بھاگتے ہوئے جا رہی تھی ۔۔۔۔

” بابا ۔۔ بابا ۔۔۔ بابااا ۔۔نہیں چھوڑو مجھے بابااا ” ۔۔ وہ دیوانہ وار بھاگتے ہوئے جا رہی تھی کے اچانک کسی نے اسے پکڑ کے اپنے حصار میں لیا وہ اسکے حصار کو توڑتے ہوئے چیخ رہی تھی وہ بار بار اسے پکڑ نے کی کر رہا تھا وہ چلاتی ہوئی چیخ رہی تھی اپنے بابا کو بلا رہی تھی روتے ہوئے وہ اپنے باپ کو پکار رہی تھی جو کبھی اسکی ایک آواز پر دوڑا آتا تھا اور آج شاید اب اسکی ایک آواز پر دور ہوتا جا رہا تھا ۔۔

” انو پلیز یار رک جاؤ تم اندر نہیں جا سکتی۔ کچھ نہیں ہوا ہوگا تمہارے بابا کو پلیز سنمبھالو خود کو” ۔۔۔!! داريان اسے مضبوطی سے تھام کے کہہ رہا تھا لیکن وہ ہوش میں کہاں تھی وہ تو جیسے مر گئی تھی ٹوٹ گٸ تھی۔ اپنی آنکھوں کے سامنے پیاری ہنستی کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی اپنی جان سے پیارے باپ کو دور ہوتا ہوا دیکھ رہی تھی ۔۔اور اس آگ نے تو جیسے کچھ چھوڑا ہی نہیں تھا ہر چیز کو تباہ برباد کردیا تھا ۔۔

” داريان ۔۔ بابا نہیں بابااا” ۔۔!! انعل شدت سے روتے ہوئے اسکے حصار میں بے ہوش ہوگٸ۔۔۔

★★★

وہ دن قیامت کا دن تھا سب کے لئے کیونکہ دھماکہ کی وجہ سے حیات صاحب کی موت اسی وقت ہوگٸ تھی انعل سے تو صدمہ برداشت نہیں ہو پا رہا تھا کیسے داريان نے اسے سنمبھالا تھا یہ وہی جانتا ہے بچے زافا حنان کے پاس تھے ۔۔۔وہ لوگ کچھ دن رکےتھے بیراج کے گھر پر کیونکہ انعل کی طبیعت نہیں سنمبھل رہی تھی اس لئے داريان نے واپس جانے کا فیصلہ کیا وہ اسے لیکے لنڈن آگیا تھا ۔۔کیونکہ داريان کا ہر کام وہی پر تھا اور بہت سوچ سمجھ کر اسنے یہ فیصلہ کیا تھا کب تک ڈر سے وہ چھپتا رہے گا اب اسے خود لڑنا تھا یہ اسکی لڑائی تھی اسے خود لڑنی تھی وہ اب کسی کی جان خطرہ میں نہیں ڈال سکتا تھا بہت کچھ کھو چکا تھا اپنی زندگی میں اب اس میں طاقت نہیں رہی کسی کو کھونے کی ۔۔۔وقت کے ساتھ انعل نے بھی حقیقت کو قبول کرنا سیکھ لیا اپنے بچوں کی خاطر وہ زندگی کی رونق میں واپس آنے لگی تھی ۔۔۔

زید جعفری کو جب پتا چلا وہ واپس آگۓ ہیں تو اسنے بہت کوشش کی انعل سے ملنے کی اسکی زندگی میں جانے کی لیکن جب اسے اپنے آشیانے میں خوش دیکھا تو وہ جلتا سلگتا اپنے آپے سے باہر ہونے لگا تھا دن بہ دن اسے اب صرف داريان سے نہیں انعل کی خوشیوں سے نفرت ہونے لگی تھی ۔۔جو محبت تھی اسکے دل میں وہ باغی ہونے لگی تھی حاصل کرنے کی نہیں تو جان سے جانے کی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *