Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Episode 12)

Mera Ishq by Mahra Shah

“پپ ۔۔پلیز ہمیں چھوڑ دیں ہمارے قریب مت آئیں”۔۔۔!! وہ لوگ اسے تھوڑی دیر پہلے ہی روم میں بند کر کے گٸے تھے کے اچانک سے شیر آگیا ۔۔اور اسکے چہرے پر چھایا غصہ و نفرت بتا رہا تھا وہ شدید غصے میں ہے عروبہ کو اس سے خوف محسوس ہوا ۔۔۔

” تم کیا سمجھتی ہوتم سب مجھے دھوکہ دوگے میرے ساتھ کھیلو گے اب دیکھنا میں کیا حال کرتا ہوں تمہارا” ۔۔۔!! وہ غصے میں ڈھارا اور جھک کر اسکے بال پکڑے اچانک اسکی آنکھوں میں ایک چمک جاگ اٹھی اسکے خوبصورت دلکش سراپے کو دیکھ کر ۔۔۔ وہ کراہتے ہوئے خود کو چھڑوانے میں لگی تھی ۔۔ شیر خان اپنے نفس کا غلام بنتا اسے بیڈ پر دھکا دینے لگا عروبہ خوف زدہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے پیچھے ہونے لگی تھی کے وہ دونوں ہاتھ پکڑتا اس پر جھکنے لگا تھا ۔۔

” نن ۔۔نو ۔پپ۔۔پلیز نہیں کریں ہمیں چھوڑ دے پلیز ۔آ ۔آریان ہمیں بچا لے پپ ۔۔پلیز اللّه” ۔۔۔!! عروبہ شدت سے روتے ہوئے خود کو بےبس محسوس کر رہی تھی وہ مضبوط مرد تھا وہ اسکی گرفت سے نکل نہیں پارہی تھی وہ زور زور سے چیخنے لگی شیر خان کچھ پل تو اسے روتے چیختے خود کو چھڑواتے ہوئے دیکھتا جھکنے لگا تھا کے ٹھااا کے ساتھ دروازہ کھلا اور ایک شخص سیاہ کپڑوں میں چہرہ ماسک میں چھپائے اپنی سرخ مرچوں جیسی آنکھوں سے اسے دیکھتا تیزی سے آگے بڑھااور اسے عروبہ سے الگ کیا ۔۔وہ تیزی سے اٹھ کر لڑکھڑاتے ہوئے ایک کونے میں کھڑی ہو کر خوف زدہ سی سامنے اس نہ کاپوش آدمی کو دیکھنے لگی دل نے کہا کاش وہ فرشتہ آریان ہو جس نے اسکی عزت بچا لی اللّه نے اسے رسوا ہونے سے بچا لیا وہ پاک ذات کیسے اپنے بندوں کو تکلیف میں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔

” تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی اسکی طرف اپنی گندی نظر ڈالنے کی اب نہ تیرے ہاتھ سلامت رہیں گے نہ تیری آنکھیں کمینے انسان”…!!! گالی دیتے ہوئےاسکی طرف پھر سے بڑھا اور شدت سے غصے جنون میں اسے مار نے لگا بدلے میں وہ بھی وار کرتا رہا پر اس وقت آریان غصے میں پاگل ہوتا اس پر بھاری پڑھ رہا تھا ۔۔باہر تو وہ اسکے کچھ آدمیوں کو مار کر آیا تھا لیکن وہ جانتا تھا یہاں اسکے لوگ بہت ہے جو شاید پھر سے کچھ آنے لگےتھے وہ اسکے منہ پر بہت سے پنج مارتا اسے آدھ منہ کر دیا تھا اب اسکا ہاتھ پکڑتا ٹر کے ساتھ اسکے ہاتھ کو توڑ دیا ااآہہ ۔۔وہ درد سے بلبلا اٹھا ۔۔عروبہ تو اپنی جگہ ساكت ہو کر آریان کا یہ خطرناک روپ دیکھ رہی تھی گھبراہٹ سے دل زور سے دھڑک رہا تھا ایک پل کو اسے دیکھ کر اسکی آواز سن کر اسے اپنے اندر تک سکون محسوس ہوا تھا پر اسکا غصے میں ڈھارنا اسے شدت سے مارنا وہ شیر خان کو زمیں پر کراہتے لہولان دیکھتے ہوئے خود کے چکراتے ہوئے سر کو تھام گٸ ۔۔ایک تو وہ دو دن سے بھوکی اوپر سے اسے ڈرگ کے نشیلے انجیکشن لگے ہوئے تھے جسم کا ہر حصہ تھاکہ درد میں محسوس ہوا خون دیکھتے ہوئے تو ویسے بھی وہ بےہوش ہو جاتی تھی اسے الٹی آنے لگی تھی شیر خان کی حالت دیکھ کر وہ تیزی سے واش روم بھاگی آریان اسے مارتے ہوئے گہرے گہرے سانس لیتے پیچھے ہوا تھا کے شیر خان کے کچھ لوگ فاٸرنگ کرتے ہوئے وہاں تک پہنچ گۓ وہ اپنی گن نکل کر تیزی سے آگے بڑھ کر دروازہ لاک کرتا عروبہ کے پاس بھاگا اسے دیکھتے ہوئے کتنا سکون ملا تھا یہ تو اسکا دل جانتا تھا لیکن اسکی حالت ہونٹوں ناک سے خون گلابی گال پر انگلیوں کے نشان دیکھتے ہوئے اسکا غصہ ضبط کرنا مشکل ہو گیا ۔۔

“عروبہ تم ٹھیک ہو ہمیں جلدی سے نکلنا ہو گا یہاں سے چلو”۔۔۔!! آریان اسکی بگڑتی حالت دیکھتے ہوئے گھبرا گیا پر یہاں سے ابھی نکلنا تھا وہ اسے سمبھالتا ہوا کھڑکی کے پاس آیا وہ زیادہ اوپر نہیں تھی دو منزلہ پر ہی تھا روم پہلے وہ کودا پھر اسے اشارہ کیا وہ بیک سائیڈ سے نکل رہے تھے یہاں صرف جنگل تھا آس پاس کچھ لاشیں گری ہوئی تھی جسے اسنے ہی ختم کیا تھا ۔۔۔ عروبہ نے گھبراتے ہوئے پیچھے دیکھا وہ لوگ اب دروازہ توڑ رہے تھے ۔۔

“عروبہ سوچ کیا رہی ہو کوم ان جلدی وہ آجائیں گے میں ہوں ساتھ گھبراؤ مت آجاؤ شاباش” ۔۔۔!!آریان جانتا تھا اس وقت اسے غصے میں نہیں پیار سے سمجھانا تھا ورنہ جتنا غصہ اسے تھا وہی جانتا تھا خود پر کیسے وہ ضبط کئے ہوۓ تھا ۔۔وہ ہمت کرتے ہوئے آنکھیں میچتی نیچے کودنے کو تیار ہوئی پر گرنے سے پہلے ہی آریان نے سنمبھال لیا ۔۔اسکا ہاتھ پکڑتا تیزی سے جنگل کی طرف بھاگا اسکی ٹیم کو یہاں آنے میں ٹائم لگ سکتا تھا اور شیر خان کے لوگ بہت سے آچکے تھے وہ اکیلا ہوتا تو ڈٹ کر مقابلہ کرتا پر عروبہ کی جان بچانی تھی وہ اکیلا اسے یہاں ساتھ رکھ کر نہیں کر سکتا تھا ۔۔

“آر ۔آریان آ ۔آپ آگۓ ۔۔۔ہاں میں آگیا کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے اٹھو”۔۔!! آریان جھک کر اسے سہارا دیتا اٹھانے لگا پر اسے اپنا جسم بہت تھکا ہوا محسوس ہوا ۔۔وہ لوگ ابھی نکلتے کے پھر سے کچھ لوگ آکے حملہ کرنے لگے آریان سمجھ گیا وہ اب یہاں اکیلا نہیں مقابلہ کر سکتا تھا۔ اسنے عروبہ کی حالت دیکھی اسے یہاں سے کسی بھی حال میں بچانا تھا وہ پھر سے ان سے لڑ کر آگے بھگا وہ بھی ہمت کرتے ہوئے اسکے ساتھ بھاگنے لگی وہ لوگ جنگل کی طرف بھاگنے لگے تھے اب بھاگتے ہوئے دونوں کا سانس پھول گیا تھا ۔۔۔

” بب ۔۔بس ااور نہیں ہم ہم نہیں بھاگ سکتے” ۔۔۔!! عروبہ کی ہمت جواب دے گٸ اسکی حالت خراب ہونے لگی تھی سر بری طرح چکرا رہا تھا آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھی گہرے گہرے سانس لیتے بمشکل سے بولی ۔۔

” بیوقوف لڑکی اٹھو ہمیں بھاگنا ہوگا وہ لوگ بہت زیادہ ہیں میرے پاس گن بھی نہیں ہے ۔۔سب تمہاری بیوقوفی کی وجہ سے ہوا ہے” ۔۔۔۔!! وہ آج بھی غصہ کرنے سے باز نہیں آیا لڑائی میں اسکی گن بھی گر گٸ تھی اور وہ بہت آگے نکل آئے تھے پر کچھ لوگوں کے قدموں کی آواز ابھی تک قریب آرہی تھی ۔۔

“ہہ ۔۔ہمیں چچ۔۔چھوڑدیں آ۔آپ جائیں ۔۔ ہم ہم نہیں بھاگ سکتے ہیں” ۔۔۔!! عروبہ ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے گہرے گہرے سانس لیتے بےہوشی میں جاتے اٹک کر بولی ۔۔ آریان نےغصہ کرنا چاہا پر اسکی حالت بہت خراب ہوتی دیکھ کر گھبرا گیا ۔۔بکھرے بال ناک ہونٹ سے خون کے نشان گال پر انگلیوں کے نشان سفید سویٹر شرٹ میں بلیک پینٹ دو دن میں ہی اسکا ہولیا خراب ہوا پڑا تھا ۔۔آریان کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ نہیں دیکھ پارہا تھا اسے اس حالت میں ۔۔اسکی آنکھیں شدت غصہ سے سرخ ہوتی ان لوگوں کیلئے دہشت آجاتی تھی ۔۔

” عروبہ آنکھیں کھولو تمہیں ہمت کرنی ہوگی ہمیں یہاں سے جانا ہے اٹھو یار” ۔۔!! آریان گھبراتا اسے ہوش میں لانے لگا اسکی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر وہ پھر سے پکارنے لگا پر وہ تو جیسے ہمت ہی ہار گٸ بھاگنے سے ٹانگوں میں جان ہی نہیں بچی تھی اور ڈرگ کا نشہ الگ اس پر حاوی ہو رہا تھا ۔۔آریان کے کان کھڑے ہو گۓ کچھ لوگوں کے قدموں کی آواز قریب آنے لگی تھی ۔۔وہ آرم سے جھک کر عروبہ کو باہوں میں بھر کے آگے بڑھا اور ایک بہت بڑے سے درخت کے سامنے رک کر اسے بٹھایا اور خود دوسرے درخت کے آگے جاکے چھپ گیا ایک نظر اس بیہوش وجود پر ڈالتا خود کو تیار کیا پھر سے لڑنے لے لئے ۔۔۔

” کہاں گۓ یہ لوگ ۔۔۔۔ یہیں دیکھو ادھر ہی ہونگے ۔۔۔تم دونوں لیفٹ جاؤ اور تم لوگ رکو میں یہی آس پاس دیکھتا ہوں”… !! وہ پانج لوگ انکے پیچھے آئے ہوئے تھے باقی کے کچھ لوگ دوسری سائیڈ پر ڈھونڈ رہے تھے ۔۔ایک آدمی کے بولنے پر وہ لوگ اپنی جگہ سمبھالتے ہوئے آگے بڑھے جب کہ ایک کو کچھ آگے درخت پر تھوڑا شک ہوا جہاں عروبہ تھی وہ جیسے ہی تھوڑا قریب ہوکے آگے بڑھا تھا کے اچانک سے اس پر کسی نے حملہ کردیا پیچھے گردن سے پکڑ کر اسے موڑ دیا چر کی آواز پر پتا چلا اسکی گردن توڑ دی وہ وجود بے دم سا ہوکے گرا آریان جلدی سے اسے گسیٹتے ہوۓ دوسرے پیڑ کے پیچھے کیا اور یوں ہی آگے بڑھ کر دوسرے پے حملہ کرتا انکی گن لے چکا تھا وہ تین کو تو مار چکا تھا باقی دو تھے گن کا فلحال استعمال نہیں کر سکتا تھا ورنہ دوسرے لوگ ان تک پہنچ جاتے ۔۔

” یہاں تو نہیں ہے ۔۔کہیں نکل تو نہیں گۓ بوس ۔۔۔ پاگل ہو انھیں ہاتھ سے جانے نہیں دینا ورنہ جانتے ہو ابھی سر کی حالت خراب ہے بعد میں وہ کیا حال کریگا چلو ان سے پوچھتے ہیں کچھ ملا”۔۔!! وہ لوگ جیسے ہی اس جگہ پہنچے وہاں پر اپنے ساتھی کی لاش دیکھ کر الرٹ ہوئے اپنی گن سنمبھالتے ہوئے آگے بڑھے دوسرا بھی آس پاس دیکھتا ہوا آگے بڑھاتو اسکی نظر عروبہ پر گٸ جو درخت سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے ہوئے تھی

“بوس لڑکی یہاں ہے ۔۔۔ پھر وہ لڑکا کہاں گیا ۔۔۔کیا پتا بھاگ گیا ہو بوس” ۔۔۔!! اس آدمی نے جلدی سے اپنے بوس کو بلایا دونوں اسے یہاں دیکھ کر اس کے ساتھ لڑکے کا سوچنے لگے ۔۔۔

” بوس کیا لگتا ہے ایسا خوبصورت مال اسے جانے دیں سر کی حالت بھی خراب ہے وہ اس کا اتنا نہیں پوچھیں گئے تو کیوں نہ ہم کچھ” ۔۔۔!! وہ آدمی عروبہ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اپنے بوس سے بولا اسکی آنکھوں میں بھی چمک جاگ اٹھی اپنی شیطانی ہوس کو جگا کر مسکراتے ہوئے آگے بڑھتے اسے چھونا چاہا کے کسی نے اسکے منہ پر زور دار پنچ مارتے ہوئے اسے پیچھے کیا مقابل کی آنکھیں ضبط سے سرخ تھیں رگیں تنی ہوئی تھیں دوسرا اسے دیکھ کر گن پوائنٹ کی کے آریان تیزی سے آگے بڑھتا اس سے گن چھین کر اسکا ہاتھ موڑتا توڑ چکا تھا وہ کرا ہتا نیچے گرا دوسرے نے پھر سے حملہ کرنا چاہا کے آریان نے مضبوطی سے اسکی گردن پر وار کیا اور جھٹکے سے دونوں کو بری طرح مار گرا دیا ۔۔

” میری بیوی پر ایسی گھٹیا سوچ استعمال کرنے کی ہمت کیسے ہوئی” ۔۔۔!! ان دونوں کو بےدردی سے مار کر اپنا سارا غصہ جنون تیزی سے نکالا تھا ۔۔اور تیزی سے مڑ کر عروبہ کو اٹھاتا دوسری سائیڈ نکلنے لگا تھا ۔۔۔

★★★★

وہ اسے اٹھاۓ ہوئے بہت آگے نکل آیا تھا پر اسے رات کے اندھیرے میں آگے کا راستہ نہیں ملا یہاں گھنے جنگل سے باہر جانے کا راستہ بہت خراب تھا جنگل کے راستے میں اسے باہوں میں اٹھاۓ ہوئے بڑی مشکل سے چل رہا تھا اب تھکن کی وجہ سے اسے رکنا پڑا تھا وہ ایک بڑے سے درخت پر عروبہ کو بیٹھائے خود بھی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔آنکھیں موندے گہری سانس لیتا وہ دونوں ٹانگے سیدھی کرتا عروبہ کو خود کے قریب کرتے ہوئے اسکا سر اپنے سینے سے لگاۓ اسکے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کرگیا۔اسکے چہرے سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اپنا رومال نکال کر اسکا چہرہ صاف کرنے لگا اسکا ہر نقش اپنے آنکھوں سے دل میں اتار رہا تھا جھک کر اسکے ماتھے پر محبت سے بوسہ دیتا پیچھے ہوا ۔۔ وہ اسے چیک کرنے لگا اسکی سانسیں نبض بالکل نارمل چل رہی تھی ۔۔ لیکن اسے ہوش نہیں آرہا تھا آریان کو اب پریشانی ہونے لگی تھی جیسے تیسے وہ اسے خود سے لگائے رات گزار دی ۔۔۔ پر صبح ہوتے وہ اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا بہت پکار نے پر بھی کوئی جواب نہیں آیا اسے اب حقیقت میں گھبراہٹ پریشانی ہونے لگی تھی کیسے بھی یہاں سے نکلنا تھا اسے ۔۔

” اٹھ جاؤ میری بے چین روح کیوں تڑپا رہی ہو یار ۔۔کیا مجھے آنے میں دیر ہوگٸ ہے تم ناراض ہو تو اٹھو یار لڑو جھگڑو مجھ سے بس اس طرح خاموش بالکل اچھی نہیں لگ رہی تم” ۔۔۔!! آریان پریشانی کے عالم میں اسے پکارتا رہا آریان اب بےہوشی کی وجہ سمجھنے کی کوشش کرتا اسے اٹھا کر آگے بڑھا ۔۔لندن شہر کی راتیں صبح اکثر ٹھنڈی ہوتی تھی اور آریان کو خود سے زیادہ عروبہ کے لئے ٹھنڈ محسوس ہوئی ۔۔وہ اب گھنے جنگل سے تھوڑا باہر نکل آئے تھے جہاں خوبصورت وادیاں پہاڑ برف تھی ایک دم یخ بستہ سردی ہوا نے انھیں کانپنے پر مجبور کردیا تھا آریان آس پاس کوئی گرم جگہ تلاش کرنے لگا۔لیکن وہاں صرف بڑے بڑے راستے جن پر برف پڑے ہوۓ پہاڑ تھے ایسے میں اسے اٹھائۓ ہوۓ چلنا اب مشکل ہو رہا تھا سردی سے دونوں کے گال ناک گلابی ہو گۓ تھے آریان ہمت کرتا اسے آرام سے لیکے تھوڑا آگے بڑھا تھا کے سامنے تھوڑا دور ایک چھوٹا سا کوٹیج بنا ہوا تھا آریان شکر کی سانس لیتا وہاں تک پہنچا دروازہ کی بیل بجاتے ہوئے سوچنے لگا شاید وہ جگہ خالی تھی یہ کوئی رہتا ہو وہ انہی سوچوں میں تھا کے دروازہ کھولتے ہی ایک بزرگ آدمی نکلا پینٹ سویٹر شرٹ میں ملبوس وہ سنجیدگی سے آریان پھر اسکی باہوں میں بیہوش لڑکی کو دیکھنے لگا ابھی آریان کچھ کہتا وہ آدمی راستہ دیتا اسے اندر آنے کا اشارہ دیا آریان شکریہ کہتا اندر آیا ۔۔۔

” وہ میری بیوی کی طبیت خراب ہے ہم یہاں جنگل میں پھنس گۓ ہیں ۔۔کیا ہم تھوڑی دیر یہاں رک سکتے ہیں میری بیوی کو ہیٹ کی ضرورت ہے” ۔۔!! آریان کو سمجھ نہیں آئی وہ کس زبان میں بات کرے وہ آدمی دیکھنے میں تو انگریز لگ رہا تھا اس لئے ان سے انگلش میں بات کی ۔۔۔

” ٹھیک ہے اسے روم میں لاؤ میں دیکھتا ہوں اورمیں ہوں ڈاکٹر شمل ۔۔ویسے تم سہی جگہ آئے ہو اگر تھوڑا آگے جاتے تو بہت مشکل ہوتی کیوں کے پرسوں بہت تیز برف باری ہوئی ہے اسکی وجہ سے کافی راستے بند ہیں اور بہت خطرناک راستے ہیں” ۔۔۔!! وہ آدمی شاید زیادہ ہی بولتا تھا یہ اسکی خوش قسمتی تھی اسے یہ لوگ ملے وہ گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا بولتا ہوا اپنا سامان لانے لگا آریان نے عروبہ کو بیڈ پر ڈالتے ہوئے اچھے سے كنفرٹر ڈالا اسے کل سے اس حالت میں دیکھ کر اسکے دل پر کیا گزری تھی وہی جانتا تھا جھک کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا پیچھے ہوا ڈاکٹر شمل اپنا سامان رکھتے ہوئے اسے چیک کرنے لگا تھا وہ غور سے عروبہ کو دیکھتا پھر ایک نظر آریان پر ڈالتا خاموشی سے عروبہ کی پٹی کرنے لگا اسکے ماتھے اور ہاتھ پر چوٹ لگی ہوئی تھی زیادہ گہری نہیں تھی لیکن خون جم چکا تھا ڈاکٹر اپنا کام کرتا خاموشی سے باہر نکل آیا لیکن ساتھ آریان کو بھی باہر آنے کا اشارہ کیا ۔۔آریان ایک نظر اس پر ڈالتا ڈاکٹر کے پیچھے گیا وہ کچن میں کچھ کر رہے تھے آریان چلتا ہوا کرسی پر آکے بیٹھ گیا تھوڑی دیر میں ڈاکٹر باہر نکلے انکے ہاتھ میں ٹرے تھی جس پر دو کپ کافی ایک پلیٹ میں سینڈوچ تھے آریان کے آگے رکھتے ہوئے اسے کھانے کو کہا ۔۔اسکا دل کھانے کو تو نہیں کیا عروبہ کا خیال آتے ہی دل بھر جاتا تھا ہر چیز سے پر ڈاکٹر کے بہت کہنے پے وہ کھانے لگا ۔۔

” تمہاری وائف ٹھیک ہیں اسے ہوش آجائے گا تھوڑی دیر میں پھر کچھ کھلا دینا بھوک پیاس سے بیہوش ہے اور تمہاری بیوی کے ساتھ کچھ ہوا تھا” ۔۔۔؟؟ ڈاکٹر شمل بولتے ہوئے رکا پھر کچھ سوچ کر پوچھا ۔۔آریان کچھ پل خاموش رہا پھر اسے آدھی کہانی سنائی “اسکی بیوی کو کسی نے کڈنیپ کیا اور پیسے مانگنے لگے تھے وہ لوگ”…!!! وہ اپنی سچائی نہیں بتا سکتا تھا ڈاکٹر پوری بات سنتا سمجھ گیا وہ جو کب سے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا پوری بات سنتے انکا شک دور ہوا ۔۔۔

” ابھی تمہاری بیوی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی ہیں وہ بار بار بیہوش ہوتی رہیں گی”۔۔۔

” کیا مطلب آپ کیا کہنا چاہتے ہیں پلیز کھل کر بولیں” ۔۔!! آریان گرم کافی سے کافی حد تک ریلیکس ہوا تھا کے ڈاکٹر کی بات پر اسکا دل خوف زدہ ہوا ۔۔۔

” جن لوگوں نے تمہاری بیوی کو کڈنیپ کیا تھا انہوں نے اسے بہت ہیوی ڈوز ڈرگ کے انجیکشن دیۓ ہیں شاید چار پانج بار۔ اسکے جسم میں بہت تیزی سے وہ نشہ پھیل رہا ہے اسے اپنی لپیٹ میں لیا ہے لیکن اسکا ٹمپریچر بالکل ساتھ نہیں دے رہا آپ کو جلد اسے ہسپتالاٸیز کرنا ہوگا ۔۔ ابھی اسکے لئے خود کو ہوش میں لانا تھوڑا مشکل ہے”۔۔۔!! ڈاکٹر شمل گہری سنجیدگی سے ہر بات اچھے انداز میں اسے سمجھا رہے تھے ۔۔۔لیکن آریان کی ضبط سے رگیں پھول گٸ تھی ماتھے پر غصےونفرت سے بل پڑے تھے اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ابھی جاکے ان لوگوں کو ختم کر دے جنہوں نے اسکی معصوم بیوی کی کیا حالت بنا دی تھی ۔۔اسے شیر خان کو زندہ چھوڑ نے پر پچھتاوا ہو رہا تھا کیوں اس کمینے انسان کو چھوڑا جس نے اسکی زندگی کو ختم کرنا چاہا تھا ۔۔۔۔

” بیٹا تم فریش ہو جاؤ میں تمہیں کپڑے دیتا ہوں اور تمہاری وائف کو ہوش آجائے تو وہ بھی فریش ہو جائے ۔۔میری بیٹی بیٹے کے کپڑے ہیں میں دیتا ہوں ہم لوگ اکثر یہاں آتے رہتے ہیں وزٹ پر”۔۔۔!! ڈاکٹر کہتا اسے کچھ گرم کپڑے دیتا خود تھوڑی دیر کے لئے باہر نکل گیا گھر سے ۔۔۔آریان روم میں آتے ایک نظر اس پر ڈالتا خود فریش ہونے چلا گیا تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو بلیک شرٹ پینٹ میں بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا ہمیشہ سے اپنی خوبصورتی سے بےپرواہ اپنی بیوی کی حالت پر پریشان تھا اسے ہوش میں دیکھتے ہوئے تیزی سے اسکے پاس گیا ۔۔۔

” روح تم ٹھیک ہو” ۔۔!! آریان بےچینی سے پوچھ رہا تھا وہ بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی پہلے تو خود کو انجان جگہ پاکر اپنے حواس بحال کرنے کی کوشش کی ۔۔آریان کی پریشان آواز پر اسے دیکھتی سوچنے لگی وہ کیوں پل میں اپنا بنتا ہے پل میں پرایا ۔۔کیوں اسکی محبت اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیوں ہو رہا تھا اسکے ساتھ ایسا کیوں ۔۔ وہ اب بہت پوزیسو ہو رہا تھا اسکے معاملے میں ۔۔

” پپ ۔۔پانی ” وہ بہت دھیمی آواز میں بولی وہ بمشکل سمجھ پایا اسکے خشک ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھ کر جلدی سے پانی لایا اسے سہارا دیتے ہوئے پانی پلایا ۔۔پھر اسے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھا دیا ۔۔اسکی آنکھیں پھر سے بند ہوتی دیکھ کر تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑتا بولا ۔۔۔

” روح ہوش میں آؤ میں کچھ لاتا ہوں تمہارے لئے سونا مت” ۔۔!! وہ اسکا منہ تھپتھا کر بولتا تیزی سے روم سے نکلا پر کچن میں ڈاکٹر کو سوپ تیار کرتے ہوئے شکریہ کہتا واپس روم میں آیا جہاں وہ غنودگی میں تھی ۔۔۔

” روح سونا مت تمہیں کچھ کھانے کی ضرورت ہے چلو جلدی سے پیو” ۔۔!! آریان بولتا اسے ذبردستی ہوش میں لاتے پلانے لگا ۔۔عروبہ نے ہمت کرتے ہوئے خود کو ہوش میں رکھا کچھ کھانے سے اس میں تھوڑی بہت ہمت آئی تھی ۔۔آریان کا اسکے لئے پریشان ہونا بے چین ہونا عروبہ کو بہت پیارہ لگ رہا تھا اسکا روپ۔ تھوڑی دیر اسے آرام کرنے کا بولتا اٹھ کر باہر نکل آیا آس پاس اچھے سے راستوں کو دیکھتا سوچنے لگا اب کیسے جلدی سے یہاں سے نکلے ۔۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” کیا ہوا درد ہو رہا ہے کہیں؟” ۔۔اس سوال پر اسکی آنکھیں بھیگی گردن نفی میں کی پر آنسو بے اختیار گرنے لگے وہ گہرا سانس لیتا ہاتھ آگے بڑھاگیا اور اسنے اپنامنہ پھیر لیا ۔۔۔اسکی حرکت پر اسکے لبوں پر گہری مسکراہٹ آگٸ ۔۔

” ناراض ہو ۔۔؟” آریان نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔

” ہم کون ہوتے ہیں آپ سے ناراض ہونے والے غصہ ڈانٹنے کا حق تو صرف آپ کے پاس ہے ہم کون ہیں کچھ بھی نہیں اور پلیز ہمارا خیال رکھنا بند کریں بعد میں پھر ہم برے بن جائیں گے” ۔۔۔!! عروبہ اپنی ہی رو میں بولتی جا رہی تھی اسکے غصے والے تاثرات دیکھ نہیں پائی وہ بس سنجیدگی سے دیکھتا ہوا گہرا سانس ہوا میں چھوڑ تے ہوئے اسے کپڑے دیتے ہوئے تیار ہونے کو کہا ڈاکٹر نے اپنے بچوں کے کپڑے دیئے تھے انھیں جو انہی کے سائزکے تھے وہ بھی خاموشی سے تیار ہوکے باہر نکلی۔ پنک ہودی میں سفید جینس میں اسکی گلابی سفید رنگت اور کھل گئی تھی وہ بے انتہا پیاری کیوٹ لگ رہی تھی شرٹ کے بازو بڑے تھے اسکے ہاتھوں کی انگلیوں تک پہنچ رہے تھے ۔۔آریان نے جلدی سے اپنی نظریں پھیر لی وہ اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے لگا جو سامنے دلکش خوبصورت بیوی اپنی طرف توجہ کروا رہی تھی ۔۔اسکے ماتھے پر ہمیشہ سے بےبی کٹ بال اور آگے پیچھے کھلے بکھرے بال اسے اسکے جذبات کو مزید ہوا دے رہے تھے ۔۔وہ ڈاکٹر کے ساتھ کچھ پکا تے ہوئے ساتھ میں کھانا کھانے لگے عروبہ اب کھانے پینے سے جسم میں طاقت فیل کر رہی تھی آریان سے ابھی تک ناراض تھی وہ بھی لاپرواہ بنتا اسے اگنور کر رہا تھا ۔۔اسکی یہ بےرخی اسے اور غصہ دلا رہی تھی ۔۔رات ہونے لگی وہاں بہت ٹھنڈ پڑھ رہی تھی عروبہ تو جلدی سے سو گٸ دوائی کے اثر سے۔۔۔ آریان پورے علاقے کا اچھے سے جائزہ لے رہا تھا صبح انھیں کسی بھی حال میں نکلنا تھا ۔۔

★★★★

آریان آگے جاکے رک گیا پیچھے دیکھا تو وہ بھیگی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسکی معصومیت سے ناراضگی کو دیکھتے ہوئے آریان کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی جیسے وہ پل میں چھپا گیا سنجیدگی سے چلتا ہوا اسکے سامنے آیا جو سردی کی وجہ سے سرخ چہرے ناک آنکھوں کے ساتھ بہت دلکش لگ رہی تھی ریڈ مفلر گلے میں پنک ہی ہڈ پہنے ہوئے سفید لونگ کوٹ میں بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔

” اب کیا ہوا” ۔۔؟ آریان نے سنجیدہ تاثرات سے پوچھا۔اسے رونا آنے لگا تھا اور آنسو ٹپ ٹپ کرتے گر نے لگے آریان کو اسکی خاموشی سمجھ نہیں آرہی تھی اور پھر اسکا رونا اب اسے سہی منعوں میں پریشان کر گیا اسکا روپ ۔۔

” روح کیا ہوا کہیں درد ہو رہا ہے بتاؤ یار” ۔۔؟ آریان نے فکریہ لہجے میں پوچھا تھا کے اسنے آنکھیں بند کرتے شدت سے رونا شروع کردیا ۔۔آریان نے تیزی سے اسکے قریب ہوتے اسکے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھا لیکن وہ اسی طرح آنکھیں بند کیے رونے میں مصروف تھی آریان گہرا سانس لیتا آگے بڑھ کر اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا اسکے بالوں پر لب رکھتے ہوئے اسکے بال سہلانے لگا ۔۔۔وہ لوگ دس بجے تک نکلے تھے ٹھنڈ تو بہت تھی لیکن تھوڑی بہت دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی اس لئے انھیں سہی موقع لگا نکلنے کا ڈاکٹر نے بتایا تھا آگے جاکے ایک اڈا ملے گا وہاں کوئی نہ کوئی گاڑی ضرور ملے گی ۔۔عروبہ کل سے ناراض تھی لیکن وہ اسے منا نہیں رہا تھا اس بات کا اسے شدید دکھ تھا اور اب وہ مزید نہیں سہہ سکتی تھی ۔۔

” ششش روح پلیز اسٹاپ كراٸینگ یار اچھا میں اب نہیں ڈانٹوں گا بس پلیز یار پریشان مت کروکیا ہوا ہے”؟؟ ۔۔!! آریان کو اب اسکا رونا سمجھ نہیں آرہا تھا وہ بس اس سے گھر جاکے بات کرنا چاہتا تھا اسکی طبیعت کی وجہ سے وہ بس خاموش رہا اور اسکی خاموشی نے اسے رلا دیا ۔۔۔

“okay Relax ; you know what? you are my soulmate! my Everything Rooh! you are totally changed person in the world… I like your cuteness & you are only mine.”

آریان اسے اپنے حصار میں لیتا پتا نہیں کیسے اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگا وہ جو کل سے اسکے دل کی دھڑکن بڑھا رہی تھی اسے اپنے قریب دیکھتے ہوئے بھی وہ دور تھا اور اب وہ اچانک اپنے دل کا حال سنا نے لگا تھا ۔۔وہ روتے ہوئے ایک دم ساکت ہوئی سر اٹھا کر اسے دیکھا جو محبت سے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

” No you don’t like me you just hate me hate me “

وہ شدت سے روتے ہوئے اسے دھکا دینے لگی اسے سمجھ نہیں آئی وہ سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ اور کیوں اتنا خوبصورت احساس ہو رہا تھا اسکی دھڑکنیں بے ساختہ تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔اسکے خوبصورت اظہار پر اسے شدت سے رونا آنے لگا تھا ۔۔

” Stop crying My Lady!!!”

آریان اسکے خوبصورت دلکش چہرے کوجو رونے سے لال ہو گیاتھا کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا تھا کے وہ غصے سےروتے ہوئے نفی میں سر ہلا تی معصوم بچوں کی طرح بہت پیاری لگی آریان کو ۔۔۔

” ہمیں آ ۔آپ آہہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روح ۔۔” آریان کو پھر سے اپنے قریب آتے دیکھ کر وہ غصے سے جیسے ہی پیچھے ہوئی اسکا پاؤ برف پر پہسلا اور وہ نیچے برف پر پہسلتی گول گول گھومتے ہوئے دور جا گری ۔۔۔آریان گھبراتا چلا کر پکارا تیزی سے اسکی اور بھاگا ۔۔۔۔۔۔۔وہ رک گئی سیدھی نرم ٹھنڈی برف پر سیدھی گری ہوئی تھی آنکھیں ہلکی سی کھولی بند ہونے لگی گہرے گہرے سانس لیتی خود کے ذہن پر زور دیا اسکے ساتھ کیا ہوا اچانک ہلکے سے چکر آنے لگے تھے پھر جب پوری طرح ہوش میں آئی تو آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اسکے پیچھے سورج نکلتا تو کھبی چھپ جاتا وہ ہلکا سا منہ کھولے ہوئے سانس لیتی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے آریان تیزی سے اسکے پاس آیا اسے یوں چپ کھلی آنکھوں کو آسمان پر دیکھتا جیسے سانس لینا بھول گیا ۔۔۔

” عرو ۔۔روح روح تم ٹھیک ہو آئم سوری یار ۔۔۔” آریان بےچینی سےدھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اسکا سر اپنی گود میں رکھتا تڑپ کر اسے پکارتا تیزی سے اسے اپنے حصار میں لیتا اسکے گرد مضبوط بازو باندھتا اسکا سر اپنے سینے میں بھینچتا اسکے بالوں میں اپنا چہرہ دیۓ ڈر گھبراہٹ سے بولا وہ تو بس اسکے رحم و کرم پر تھی ۔۔۔

” آار ۔۔۔۔۔۔ روح تم تم ٹھیک ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔ ہہ ۔۔ہم ٹھیک ہیں ۔۔چچ ۔۔چھوڑے ۔۔۔۔!! عروبہ کو اسکے سخت حصار میں گھبراہٹ ہونے لگی وہ کافی دیر اسے خود سے لگاۓ ہوئے تھا عروبہ نے ہلکی سی سرگوشی میں اسے پکارا وہ اسے سیدھا کرتا تھوڑا دور ہوا اسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے چینی سے پوچھا عروبہ نے شرم گھبراہٹ میں ٹھیک ہونے کا یقین دلاتے ہوئے دور ہونا چاہا آریان نے اسے کھڑے ہونے میں مدد دی ۔۔۔۔وہ خود کی فیلنگ پر ضبط کرتے ہوئے نظریں پھیر گیا اس سے ۔۔۔ان کچھ دنوں میں وہ خود کے بہت قریب محسوس ہوئی ۔۔۔۔ اب تو اسے کچھ ہو یا دور جانے کا خوف ہی جان لیوا ثابت ہونا تھا ۔۔۔عروبہ دھک دھک دل کے ساتھ کھڑی اسکی ضبط سے بند آنکھوں کو دیکھ رہی تھی جانتی تھی اسکی حرکتوں پر غصہ کریگا ۔۔۔۔

” کیا چاہتی ہو تم ہم یہیں بیٹھ کر لڑیں یہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں ڈھونڈیں اور کس بات پر اتنے نخرے کر رہی ہو ۔۔۔منع کیا تھا نہ گھر سے باہر نہیں نکلنا لیکن تمہاری بےچین روح کو سکون کہاں آتا ہے ایک جگہ بیٹھنے کا” ۔۔۔!! وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا غصہ میں کہا ۔۔۔۔

” آپ ہمیں پھر سے ڈانٹ رہے ہیں ۔۔ ہم آپ سے بات نہیں کرینگے ہم خود ڈھونڈ لیں گے راستہ ہمیں آپ کے ساتھ نہیں جانا”۔۔۔!! ایک تو اسکا پل میں اپنا پل میں پرایا بن جانا غصہ دلا گیا وہ بھی غصے میں بولتی آگے بڑھنے لگی جو بہ مشکل چل پا رہی تھی برف پر پاؤں پھسلنے کی وجہ سے گر جاتی بار بار ساتھ میں بڑبڑاہٹ جاری تھی آریان نے غصہ کرنا چاہا پر اسکی حرکت نے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ لادی وہ دلچسپی سے اسے دیکھتا اسکے پیچھے چلنے لگا ۔۔۔

” پتا نہیں کیا مسٸلہ ہے ان کو ہمارے ساتھ کبھی پیار سے بات کرنا تو جیسے سیکھا نہیں کھڑوس نہ ہوتو ہنہہ ۔۔۔ ہمارا دل بھی ایسے شخص کے لئے دھڑک رہا ہے جس کے پاس دل نہیں غصے کے بعد بھی اچھے لگتے ہیں کیوں آآہہ”۔۔۔۔عروبہ غصے میں بولتے ہوئے خود سے تیزی میں آگے بڑھی تھی کے پھر سے پاؤں پھسلا اس سے پہلے وہ پھر سے گرتی آریان جو پیچھے ہی قریب تھا ایک ہاتھ سے اسکا بازو پکڑتا دوسرے سے کمر پر ہاتھ رکھتا بولا ۔۔۔

” مجھے گھر جاکے برا بھلا کہنا ابھی ہمیں یہاں سے نکلنا ہے چلو اب دھیان سے” ۔۔!! آریان اسکا پھر سے منہ کھلتا دیکھ کر بولا اور اسکا ہاتھ پکڑتا آگے بڑھا اس بار وہ بھی خاموشی سے آگے بڑھی ۔۔۔

★★★★

” ہم یہاں کس کا انتظار کر رہے ہیں حدید” ۔۔؟ زویا نےبیزاری سے حدید کو گھور تے ہوئے کہا وہ لوگ پورے آدھے گھنٹے سے ائیرپورٹ پر کھڑے تھے حدید نے کہا تھا انکے ساتھ کوئی اور بھی لوگ چلیں گئے پاکستان آج وہ لوگ واپس جا رہے تھے زویا اتنے عرصے بعد جا رہی تھی اپنوں کے پاس وہ داريان کو ساتھ لیکے جانا چاہتی تھی پر حدید نے اسے سمجھایا وہ بعد میں آٸینگے اپنا کام ختم کر کے اس لئے انکے ساتھ دو اور لوگ جانے تھے لیکن کون یہ زویا کو نہیں پتا تھا ۔۔۔

” ریلیکس زویا آتے ہونگے وہ لوگ” ۔۔!!

” السلام علیکم ” ابھی حدید کچھ اور بھی کہتا انکے پاس دو لوگ آکے کھڑے ہوئے اور سلام پیش کیا زویا نے موڑ کر دیکھا تو جیسے اپنی جگہ ساكت ہو گٸ پھر حیرت کی جگہ غصے نے لیلی ۔۔۔

” وعلیکم السلام تو آپ لوگ تھے جن کی شان میں ہمیں اتنا انتظار کرنا پڑھا واہ کیا بات ہے ایک ہی شہر میں رہ کے مجھے آج پتا چل رہا ہے آپ عظیم لوگ یہاں موجود تھے” ۔۔۔!! زویا غصے وطنزیہ لہجے میں کہا ۔۔ احد ہیر جانتے تھے اسکا ریکشن یہی ہوگا اس لئے خاموشی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا ہیر آگے بڑھ کر اس سے گلے ملتی دور ہوئی زویا نہیں ملی وہ غصے میں تھی ۔۔

” سالی صاحبہ باقی کا غصہ آپ پاکستان چل کر نکال لینا آدھی کہانی ہم آپکو فلائیٹ میں سنا لیں گے چلیں” ۔۔!! احد مسکراہٹ دبا کر کہتا آگے بڑھا حدید بھی اسکے ساتھ نکلا ورنہ زویا کو اب کوئی نہیں روک سکتا تھا پھر سے سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہونی تھی ۔۔۔

” افففف آپی غصہ نہ کریں آپ پر اچھا نہیں لگتا ہم آرام سے بات کرتے ہیں ابھی چلیں موم ڈیڈ آپ کو بہت مس کرتے ہیں” ۔۔!! ہیر نے پیار سے بہن سے لگ کر کہا زویا نے فی الحال اپنا غصہ ناراضگی سائیڈ پر رکھتے ہوئے چھوٹی بہن سے محبت سے ملی ماں باپ کے ذکر پر اداسی سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھی ۔۔۔۔

★★★★

” تم مجھ سے ملنا چاہتے تھے نہ تو میں نے سوچا کیوں نہ سکون سے ملاقات کی جائے” ۔۔۔!! داريان نے اپنے ڈی اے والے روپ میں آتے ہوئے کہا وہ اور زید آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے بس زید کو اچھی طرح رسیوں سے باندھا ہوا تھا رشید کو دوسرے روم میں ٹارچر کیا جارہا تھا لیکن زید سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا داريان وہ لوگ اپنے پرائیویٹ پوائنٹ پر تھے ۔۔

” پھر مجھے باندھ کر کیوں رکھا ہے یہاں سے بھاگ کر کہا جاؤنگا”۔۔۔!! زید طنزیہ مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

” کیا سوچ کر میرے بچے کو مجھ سے الگ کیا تھا تم نے کیا ملا تھا ان سب سے تمہیں”۔۔!! داريان کے سنجیدگی سے کہنے پر زید کے چہرے کے رنگ پل میں بدلے وہ تھوک نگلتے ہوئے بولنے لگا ۔۔

” کک ۔۔کون سا بچہ آریان کو تمہارے بارے میں بتا کر کچھ بھی غلط نہیں کیا میں نے”۔۔!! زید نے سفید پڑھتے چہرے کے ساتھ جلدی سے بات بدلی ۔۔۔اسکی بات پر داريان نے زخمی سا مسکراتے ہوئے نفی کی ۔۔۔

” میں نے آریان کی نہیں احد کی بات کی میرا دوسرا بیٹا” ۔۔!! داريان اس بار سخت لہجے میں غرایا تھا ۔۔

” وہ میرا بیٹا ہے تمہارا نہیں سمجھے تمہارا بچہ مر گیا تھا انعل کے ساتھ ہی ان دونوں کو تم نے مارا تھا تم نے” ۔۔!! اس بار زید بھی غصے میں چلایا تھا ۔۔

” دوبارہ میری بیوی کا نام بھی مت لینا اپنی ناپاک زبان سے ورنہ ایک سیکنڈ نہیں لگاؤ گا اسے کھینچنے میں ۔۔۔ اور کیا کہا تمہارا بیٹا تم نے شادی کب کی بولو میرے بچے کو مجھ سے جدا کر کے تم سمجھتے تھے تم اپنے ہر برے مقصد میں کامیاب ہوگے نہیں زید نہیں تمہیں میرے ساتھ مسٸلہ تھا میرے سے دشمنی تھی تو مجھے مارتے مجھ سے لڑتے لیکن تم نے میرے معصوم بچوں پر وار کیا میری معصوم بیوی کو تکلیف دی تم داوا کرتے تھے نہ اس سے محبت عشق کے پھر کیا یہی تھی تمہارے اندر انسانیت بولو” ۔۔۔!! داريان غصے کی شدت سے اپنی سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں میں ڈالتے ہوئے ڈھارا تھا اسکا کالر پکڑتا اسکے منہ پر ایک سے ایک وار کرتا گیا زید کے منہ سے خون نکل آیا وہ ادھ منہ ہوتا بہوشی کی حالت میں جانے لگا داريان اس سے دور ہوتا غصے میں بالوں میں ہاتھ پھیر تا گہرا سانس لیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *