Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 9)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“””ایک ماہ بعد۔۔۔۔
کیا ہوا میری بیٹی کو چپ چپ رہنے لگ گی کیا ہوا اداس ہو گی ہو ۔۔۔۔
خلیل صاحب شائستہ کے روم میں آتے اسے دیکھ بولے تھے جہاں اس کی ہر ہنسی مذاق شرارت یہاں تک آواز تک ختم ہو چکی تھی جنید کے ٹکرانے پر وہ بلکل ایک زندہ لاش بن چکی تھی ۔۔۔۔
یونی جانا بھی اس نے بند کر دیا تھا اب بس وہ روم تک رہ گی تھی ۔۔۔۔
جنید غصے سے ایک ماہ پہلے ہی بنا کسی کی سنے پاکستان چھوڑ کر جرمنی چلا گیا تھا ۔۔
اپنی ماں کے ساتھ وہ سدرہ کو بھی لے گیا تھا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکاح وہ کر چکا تھا سدرہ سے ۔۔۔
وہ یہی سمجھا تھا شائستہ صرف وقتی طور پر اسے کزن کی طرح چاہتی ہے تبھی وہ اس سے دور ہو گیا تھا ۔۔۔۔
وہ تو اپنی زندگی میں خوش تھا لیکن شائستہ چپ ہو کر رہ گی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں بابا ۔۔۔۔
وہ جلدی سے منہ سیدھا کرتی بولی تھی ۔۔۔
پھر ایسی حالت کیوں بیٹا دیکھو بال بھی تم نے نہیں کٹوائے ورنہ تمہیں تو الجھن ہوتی تھی لمبے بالوں سے ۔۔۔
خلیل صاحب اس کے شولڈر پر آتے بالوں کو دیکھ بولے تھے ۔۔۔۔
دل ہی نہیں کیا ۔۔۔
ان کی گود میں سر رکھے وہ آنسو روکے بولی تھی ۔۔۔۔
بیٹا جنید نے جانا تھا وہ چلا گیا اب کزن ساتھ تو نہیں رہ سکتے تم سکندر کا سوچو وہ کتنی محبت کرتا تم سے ۔۔۔۔۔
بیٹا وہ اچھا انسان ہء۔۔۔۔
بابا کس سے شادی کرنی چاہے ہمیں ۔۔۔۔
خلیل صاحب اسے سمجھاتے بول رہے تھے وہ تو یہی سمجھ رہے تھے کزن کے دور جانے پر وہ ایسے ہو گی ہے تبھی وہ اداس آنکھوں سے انہیں دیکھ بولی تھی ۔۔۔
شادی اس انسان سے کرنی چاہے جو آپ سے محبت کرتا ہو نہ کہ اس سے جس سے آپ نے محبت کی ہو ا۔۔۔۔
مجھے ٹائم دے میں کل تک آپ کو بتاو گی سکندر کے لیے ہاں کرنی یا نہیں ۔۔۔۔
وہ مسکراتے اس کا ماتھا چومتے بول رہے تھے جب وہ کچھ سوچتی ہوئ اٹھ کر کھڑی ہوتی بولتی واش روم گی تھی ۔۔۔۔
ہمممم جنید کو کہو گا پاکستان کا چکر لگا لے بچی اداس ہو گی ہے ۔۔۔۔
خلیل صاحب اب روم سے جاتے سوچ رہے تھے جنید کو کال کرنے کا ۔۔۔۔
ہ۔ہلیو خا۔خان پلیز میری محبت پر یقین کر لو میں جانتی ہو تم نے سدرہ سے شادی کر لی لیکن میں تمہاری دوسری بیوی بنے کو تیار ہو تم چاہے مجھے گھر کے کونے میں رکھنا لیکن اپنے پاس رہنے دینا تم سن رہے ہو میں کیا کہہ رہی ہو خان ۔۔۔
شائستہ نے بہت سوچ کر فصیلہ کیا تھا وہ ایک بار جنید سے بات کرے گی اگر اس نے اب اس پر یقین نہ کیا وہ چاپ چپ سکندر سے شادی کر لے گی ۔۔۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے جنید کو کال ملای تھی جب دوسری طرف کال پک ہوتے محسوس کیے وہ بنا سنے اپنی سنا چکی تھی ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اس کی تائ جان تھی جو سن کر ہی آگ بگولہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔
بس یہی دیکھنا رہ گیا تھا مجھے پتہ تھا تم ایسی ہی نکلو گی ظاہر سی بات ہے ماں نہیں ہے جو سمجھاے ت۔۔۔
ت۔تائ جان آپ غلط سوچ رہی ہے میں صرف خان سے بات کرنا چا رہی تھی ۔۔۔
اپنی تای کی غراہٹ سنتے وہ رونا بھول کر جلدی سے صفای دیتی بولی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا مجھے فون پکڑاو ۔
خلیل صاحب ہال میں آتے اسے روتا دیکھ بولے تھے ۔۔۔۔
جی بھابھی ب۔۔۔۔
کوئ بھابھی نہیں تمہاری میں کیسی تربیت کی ہے اپنی بیٹی کی میرے بیٹے کی جان ہی نہیں چھوڑ رہی اسی کرتوت کی وجہ سے میرا بیٹا یہاں اپنی عزت بچا کر آیا تھا ۔۔۔۔
لیکن آپ کی بیٹی کی عاشقی ہی ختم نہیں ہوتی جان چھوڑ دے یہ اس کی اب وہ شادی شدہ ہے ۔۔۔۔
یونی جاتی ہی اسی کام سے تھی پتہ نہیں کتنوں ک۔۔۔
بھابھیییییی۔۔۔۔۔
تای جان ایک ہی زبان میں اپنے طنز کے تیر چلانے میں بزی تھی جب خلیل خان غراے تھے ۔۔۔۔
لیکن ان کو دل کی سائیڈ پر کافی درد ہوا تھا ۔۔۔۔
کیا بھابھی تمہاری بیٹی کی کرتوت بتا رہی ہو بن ماں کی بیٹی ہے ایسی ہی ہونی تھی تربیت نہیں ٹھیک کی تم نے اس کی صد افسوس ۔۔۔
جس سے شادی کرنا چاہتی کرو اس کی شادی ورنہ تمہیں۔ بھی ذلیل کر دے گی بے باکی دیکھو ابھی بھی جنید سے اپنی محبت کا اعتراف ک۔۔۔۔
تای جان جو اپنے دل میں بھڑاس لے کر بیٹھی تھی جب موقع ملتے آج وہ ہر بھڑاس نکال رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی شدید غصے میں کیا کچھ بول رہی ہے جب خلیل صاحب ہی ہمت ہارتے موبائل چھوڑے وہی زمین بوس ہوے تھے ۔۔۔
ںابباببابابابببببااااا۔۔۔۔۔
شائستہ جو آنسو بہاتی اپنے باپ کا زرد چہرہ دیکھ رہی تھی اچانک انہیں گرتے دیکھ چیختی ان کے پاس آی تھی ۔۔۔۔
س۔س۔کندر کو فون کرو ۔۔۔۔
وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کہتے بے ہوش ہوے تھے ۔۔۔۔
شائستہ کے ہاتھ پاؤں پھول چکے تھے وہ کیا کرے ۔۔۔۔
ریلکس شائستہ انکل بلکل ٹھیک ہو جاے گے ۔۔۔۔
سکندر کو وہ فون کر چکی تھی جب وہ ہاسپٹل لایا تھا ابھی بھی اسے روتا دیکھ وہ اسے تسلی دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میرے بابا میری وجہ سے ایس۔۔۔۔
پیشنٹ کی حالت کافی ناساز ہے سکندر کون ہے وہ ان سے ملنا چاہتے ہے ۔۔۔۔
ڈاکٹر باہر آتے جلدی سے ان کے قریب اے بولا تھا ۔۔۔
جی میں ہو ۔۔۔۔
سکندر جلدی سے بولا تھا جب ڈاکٹر کے ساتھ وہ اندر گیا تھا ۔۔۔۔
ب۔بابا پلیز ایک دفعہ مجھے صفای کا موقع تو دے ا۔۔۔۔
بیٹا آپ کو قبول ہے ۔۔۔۔
سکندر کو خلیل صاحب نے یہی کہا تھا وہ یہی نکاح کرے اس سے تبھی سکندر نے مولوی کا انتظام کیا تھا شائستہ اپنے باپ کی خاطر مان گی تھی لیکن وہ صوفے پر بیٹھی نکاح نامے پر دستخط کرتے وقت اپنے کمزور میشنوں کے گھیر میں ان کو دیکھ آنسو بہاے سوچ رہی تھی ۔۔۔
جب مولوی نے تیسری بار اس کی رضامندی پوچھی تھی ۔۔۔۔
اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھ شائستہ نے آنسو بہاے سکندر کے نام اپنے سارے حقوق کر دے تھے ۔۔۔۔
شائستہ کے قبول کرنے کے دوسرے ہی منٹ خلیل خان کی اٹکتی سانسوں کا سفر ختم ہوا تھا ۔۔۔۔
باببببببباااااا۔۔۔۔
ڈاکٹرز کا ان کے چہرے پر سفید چادر دیتے دیکھ وہ گلا پھاڑے چیختی ان کے قریب آئ تھی ۔۔۔۔۔
نہیں بابا ایسا نہیں کر سکتے آپ بابا ایک بار بس ایک بار موقع تو دے۔ ۔۔۔
وہ وہی تڑپتی روتی ہوئی منت کرتی بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔۔
“”ماضی ۔۔۔
“””چار سال بعد ۔۔۔۔
سکندر شائستہ کو اپنے گھر لے آیا تھا پہلی ہی رات شائستہ اسے جنید کے متعلق بتا چکی تھی ۔۔۔
سکندر نے وعدہ کیا تھا وہ ایک اچھا شوہر بن کر اسے دیکھاے گا جو کہ وہ بنا بھی تھا شائستہ کو وہ ایک شوہر اور دوست بن کر ہینڈل کرتا رہا تھا اس کی ساس کو شکوہ ہوتا تھا لیکن سکندر ہمیشہ شائستہ کا ساتھ دیتا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ خوش تھی لیکن دل کے کونے میں ایک کسک تھی ایک ایسی حسرت جیسے چاہ اسے پا نہ سکی ۔۔۔۔
یار جے کے ایسا مناسب ہو گا میں کیا بولوں گا ۔۔۔۔
چار سال پہلے احد اور جنید کی ملاقات جرمنی ایک بزنس ڈیل کے متعلق ہوئ تھی وہی ان کی دوستی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
احد نے اسے شفا کا بتایا تھا جب جنید نے کہا تھا وہ اس کے گھر رشتہ لے کر جاے اس کے باپ سے بات کرے ۔۔۔
احد نے شفا کے بارے میں انفارمیشن نکال لی تھی جو رحمان ملک کی اکلوتی بیٹی تھی شفا رحمان متوسط گھرانے کی وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں خوش تھی ۔۔۔۔
مارکیٹ میں رحمان ملک کی شفا بوتیک گارمنٹس کی شاپ تھی وہی احد کھڑا کان میں لگے بیلو توتھ لگے جنید سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
بولنا مجھے کام پر رکھ لو حد ہے اے کے جس احد خانزادہ سے دنیا ڈرتی ہے جس کی زبان کے آگے سب کی بولتی بند ہوتی وہ آج مجھ سے پوچھ رہا کیا بولو میں ۔۔۔۔
جنید جل بھن کر بولا تھا ۔۔۔
جب احد نے منہ بناتے اندر انٹر ہوا تھا ۔۔۔۔
جی بیٹا آپ کو کچھ چاہے ۔۔
احد اندر ا گیا تھا جب سامنے کاؤنٹر پر ایک خوش شکل سے آدمی کو گھور دیکھ رہا تھا جو بلکل شفا جیسے تھے ویسے ہی آنکھوں پر گلاسز لگاے ہوے بولے تھے ۔۔۔۔
وہ کب سے دیکھ رہے تھے ان کی دوکان پر وہ لڑکا کب سے خاموش کھڑا ہے تبھی وہ بولے تھے ۔۔۔۔
جی آپ کی بیٹی چاہے ۔۔۔۔
ابےےےے اوووو پاگل انسان یہ کیسے بکواس کر رہا ہے ۔۔۔۔
جی بیٹا آپ کیا بولے ۔۔۔
احد نے سیدھا جواب دیا تھا جب رحمان ملک کے چہرے پر غصے کے تاثرات اے تھے وہی جنید دوسری جانب سے چیخا تھا ۔۔۔۔
تو کیا بولنا ہے مجھے کیا پتہ مطلب کی بات کر دی ا۔۔۔۔
یہ تمہاری بزنس ڈیل نہیں جو تم نے کہا تو مان لیا سب نے یہ تم ایک باپ سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگنے گے ہو زرا تعمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرو چلو پہلے سلام کرو ۔۔۔۔۔
جنید اسے سمجھاتے اب اگلا حکم دے چکا تھا ۔۔۔۔
اسلام کہا آپ کو سر ۔۔۔۔
احد اپنا سر کھجاتے ہوے ان کے قریب جاتے سیریس شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔
اووو اچھا اچھا وعلیکم اسلام بیٹا آپ کو کچھ چاہے ۔۔۔۔۔
رحمان صاحب اپنی غلط فہمی سمجھتے جلدی سے مسکراتے ہوے بولے تھے ۔۔۔۔
جی ضروری کام مجھے آپ سے سر ۔۔۔
احد اچھا بچہ بنتا ان کے قریب بیٹھ کر بولا تھا ۔۔۔
جی بیٹا بولو میں سن رہا ۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہما تن گوش ہوے بولے تھے ۔۔۔۔۔
وہ میرا نام احد خانزادہ ہے آپ تو جانتے ہو گے میرے نام کو ا۔۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ اتنی لمبی تقریر میں ہرگز نہیں سنانے والا مجھے جو چاہے وہ لے گا شکریہ اپنی یہ بکواس سنانے کا ۔۔۔۔
جنید جیسے جیسے بول رہا تھا احد ویسے ہی بول رہا تھا جب اچانک وہ بیزار ہوتا کان سے بیلو توتھ نکالے پاکٹ میں ڈالتا اب اپنے جلالی روپ میں آیا تھا ۔۔۔۔۔
آپ کی بیٹی مجھے پسند ہے بلکہ دیوانہ ہو چکا ہو میں اسے اپنی عزت بنانا چاہتا ہو سر ۔۔۔۔
مجھے لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنی آتی یہی کہو گا اپنی سانسوں سے زیادہ اس کی حفاظت کرو گا ۔۔۔۔
باقی آپ بدلے میں مجھ سے جو چاہتے ہے وہ لے سکتے میری یہ کھربوں کی دولت سب آپ کے نام کر دو گا یہ آپ کی چھوٹی سی دوکان کو مال بنا دو گا لیکن بدلے میں مجھے لٹل بے بی ڈول چاہے ۔۔۔۔
احد صاف سیدھی بات کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ رحمان ملک کے چہرے پر غصہ آیا تھا ۔۔۔۔
یہ تم میری بیٹی کا ہاتھ مانگنے اے یا بزنس ڈیل کرنے ایسے کیسے تمہارے ہاتھ میں اپنی پھول جیسی بیٹی کا ہاتھ دے دو جاؤ یہاں سے بیٹا ابھی تم چھوٹے ہو ا ۔۔۔۔
احد خانزادہ کو جب کوئ بزنس ڈیل پسند آ جاے وہ نہ ملے تو ان کا قتل کردیتا ہے اپنا حق سمجھ کر یہ تو پھر میرے جسم کی روح ہے سوچو اسے پانے کے لیے احد خانزادہ کیا کر سکتا ہے ۔۔۔
شرافت سے آپ کے پاس آیا تھا تاکہ آپ ہاں کر دے لیکن آپ چاہتے ہے میں اپنا وہ روپ دیکھاو جس سے ہر چیز حاصل کر لیتا ہو میں ۔۔۔۔
وہ جو اسے سمجھاے بول رہے تھے جب وہ طش میں آتا اپنی پاکٹ سے گن نکالے ان کے سر پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
کیا گارنٹی ہے اگر شفا کی شادی تمہارے ساتھ کر دے تو تم اسے چھوڑو گے نہیں مطلب یہ وقتی محب۔۔۔۔
احد خانزادہ اپنی سانسوں سے جا سکتا ہے لیکن اپنے وعدے سے مکرتا نہیں جب کہا ہے اس کی حفاظت کرنا مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ضروری ہے پھر کیوں نہیں مان رہے ۔۔۔۔
کل تک کا وقت ہے اگر آپ نے ہاں کر دی تو ٹھیک ورنہ چھین لو گا ۔۔۔
احد ان کی بات سنتے ہی بھڑک کر بولا تھا ۔۔۔
ان کی دوکان کے چار پانچ ورکر دیکھ کر ڈر چکے تھے ۔۔۔
جب وہ اپنی کہتا اب تن فن کرتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ہاےےےے آمی کتنی خوبصورت ہے یہ مجھے اپنی برتھ ڈے پر یہی چاہے ۔۔۔
احد جو ان کی مارکیٹ سے باہر اے اپنی کار کے قریب جا رہا تھا جب اسے دور سے چہکتی شفا کی آواز سنای دی ۔۔۔۔
۔اوووو میری لٹل بے بی ڈول کی برتھ ڈے ہے ۔۔۔
احد یہ الفاظ سنتا مدھم سا مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن بیٹا یہ بہت مہنگی ہے ابھی چلو شام کو تمہارے ابو لا د۔۔۔۔
بلکل نہیں میں ایک انچ نہیں ہلنا آپ جلدی سے جا کر ابو کو کہے شفا کو یہی چاہے ۔۔۔۔
اس کی امی سمجھاتے بول رہی تھی جب شفا ضدی انداز سے بولی تھی ۔۔۔۔
وہ ایک گولڈ کی دوکان تھی جہاں مختلف انداز کی گولڈ کی کافی پائلز لٹک رہی تھی ۔۔۔۔
بلکل نازک سی شفا کو پوری جیولری میں ہمشیہ پائل ہی پسند تھی ۔۔۔
اس کی چھن چھن شفا کے بھاگنے ڈورنے سے شور مچاتی تھی پورے گھر میں ۔۔۔۔۔
رحمان صاحب نے کہا تھا شفا اپنی پسند کا کوئ بھی گفٹ لیے اے برتھ ڈے کا ۔۔۔۔
تبھی وہ شاپنگ کرنے آی تھی اب جیولری شاپ پر وہ لٹکتی نفیس نازک سی گولڈ کی پائل دیکھ وہ چہک رہی تھی ۔۔۔۔۔
چلو تم بھی ساتھ تاکہ پیسے لا سکو اگر یہی رہی تو کوئ پتہ نہیں سب ہی خرید لو ۔۔۔۔
اس کی امی اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے ساتھ لے کر جاتی ہوئ بولی تھی شفا ان کے لاڈ پیار سے بگڑ گی تھی اوپر سے وہ ضدی بھی کافی تھی ۔۔۔۔
تبھی احد کے پاس سے گزارتی وہ بار بار پیچھے موڑ کر وہ پائل دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ایک منٹ امی ۔۔۔۔۔
شفا سے جب رہ نہ گیا تبھی شاپ کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔۔
وہ پائل پیک کر دو ۔۔۔۔
احد چلتا ہوا اس گولڈ کی چھوٹی سی شاپ میں انٹر ہوتا سکون سے کھڑا بولا تھا ۔۔۔۔
سوری سر یہ تو سیل ہو چکی ہے ا۔۔۔۔
دوگنی رقم دو گا مجھے وہی چاہے ۔۔۔۔
شاپ کیپر اپنے سامنے احد کو دیکھ بول رہا تھا جب احد بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں سر ہم آی ۔۔۔
رقم بتاو اس پائل کی ۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے بول رہا تھا جب احد بولا تھا ۔۔۔۔
سر ڈیرھ لاکھ ک۔۔۔
یہ چیک پکڑو تین لاکھ کر اب خاموشی سے وہ پائل مجھے دو ۔۔۔۔۔
شاپ کیپر بول رہا تھا جب وہ چیک پر رقم لکھتا اس کے کاؤنٹر پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
ج۔جی سر ۔۔۔۔
شاپ کیپر تو اتنی رقم دیکھ خوشی خوشی وہ پائل پیک کرتا اس کے حوالے کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ احد اب پائل کو ہاتھوں میں لیے سکون سے باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔
ا۔ان۔انکل مج۔کھے وہ پائل چاہے ا۔اپ رکھنا م۔مین ابو سے پیسے لے کر آتی ہو ۔۔۔۔۔
شفا بھاگتی دوڑتی شاپ میں انٹر ہوتی ہاپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
شفا کو پائل سے مطلب تھا وہ تو شاپ پر نام بھی نہیں دیکھ پائ تھی جہاں گولڈ کی شاپ لکھا تھا ۔۔۔۔
بیٹا وہ تو سیل ہو گ۔۔۔
کییییییییااااا ہاےےےےے نہیں مجھے چاہے وہ انکل پلیز آپ کتنے پیسوں میں دے گے مجھے چاہے وہ ۔۔۔۔۔
وہ شاپ کیپر اسے بچہ سمجھتا سکون سے بول رہا تھا جب وہ چخیتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
بیٹا وہ اب سیل ہو گی جس نے لی وہ ابھی باہر گیا ہے آپ اس سے پو۔۔۔۔۔
شفا اس کی پوری بات سنے کی بجاے جلدی سے اب باہر بھاگی تھی ۔۔۔۔۔
س۔سر سر روکے آپ ۔۔۔
احد جو اپنے کار کے پاس جاتا یہی سوچ رہا تھا وہ گفٹ لے چکا ہے دے گا کیسے جب اسے شفا کی آواز سنای دی جو بھاگی اسی کی طرف ا رہی تھی ۔۔۔۔۔
س۔سر یہ م۔مجھے دے اپ۔اپ کیا کرے گے ا۔اس کا یہ تو لڑکیوں کی ہے ی۔یہ میرے پاؤں دیکھے اس پر سجی پیاری لگے گی آپ مجھے یہ دے پیسے میں دے دو گی آپ کو ۔۔۔۔۔
شفا احد کے سامنے آتی گہرے گہرے سانس لیتی اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے بول رہی تھی جبکہ احد اتنے دنوں بعد اسے سامنے پا کر وہی سٹل ہو چکا تھا وہ تو اس کی معصوم سی حرکتیں دیکھ رہا تھا جو پائل لینے کے لیے کر رہی تھی اس بات سے انجان وہ لے چکا ہے اس کے لیے ۔۔۔۔۔
یہ لو ۔۔۔۔
گفٹ بوکس اس کی طرف کرتے وہ مدھم سا مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاےےےے شکریہ پتہ مجھے یہ بہت پسند تھی بس انکل نے کہا آپ نے لی ہے پیسے بتاے میں امی سے لے کر آتی ہو ۔۔۔۔۔
شفا چہکتی بوکس کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
دو سو روپے ۔۔۔۔۔
احد کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے تبھی جو منہ میں آیا بول گیا ۔۔۔۔
بسسسسس دو سو روپے کی اتنی خوبصورت پائل ہے کتنی سستی ہے یہ آپ یہی روکے سر میں ابھی پیسے لے کر آئ ۔۔۔۔۔
شفا وہ نازک نفیس سی پائلز ہاتھ میں لیتی ان کو دیکھتی شوک اور خوشی سے بولی تھی ۔۔۔۔
نہیں پیسوں کی کیا ضرورت تم ر۔۔۔۔
اتنی غریب نہیں ہو میں جو فری میں رکھ لو آپ کا کیا پتہ بدلے لے مجھ سے جیسے فلموں ڈراموں میں ہوتا ہے آپ یہی روکے میں لے کر آتی پیسے ۔۔۔۔
احد اپنی کار کا ڈور اوپن کیے بول رہا تھا جب وہ اب غصے سے لال چہرہ لیے کہتی وہاں سے تن فن کرتی بھاگی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اس کے دور جاتے ہی احد اپنی کار سٹارٹ کیے وہاں سے نکالا تھا ۔۔۔۔
اس کا گفٹ اس کی لٹل بے بی ڈول کو مل چکا تھا احد بے حد خوش تھا ۔۔۔۔
“”چند گھنٹوں بعد ۔۔۔۔
د۔دیکھو پلیز میرے امی ابو کو چھوڑ دے سر م۔می۔ میں نے کیا بگڑا ہے آپ کا ۔۔۔۔
براؤن نائٹ ٹی شرٹ ساتھ ٹراؤزر کھلے لمبے کالے بال سرخ گول سا چہرہ جو لاتعداد آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا خشک کانپتے ہونٹ جیسے وہ بار بار اپنی زبان سے تر کر رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی احد کے سامنے کھڑی وہ روتی ہاتھ جوڑ کر بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ سائیڈ پر اس کے امی ابو پر احد کے بندے گن تھانے کھڑے تھے ۔۔۔۔
نکاح کرو مجھ سے میں چھوڑ دو گا ان کو ۔۔۔۔
احد اس کی گال چھونے کی کوشش کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں کرنا ا۔اپ سے نکاح م۔میں نے آپ جلاد ہے آپ ن۔نے بدلہ لیا پیسے جو نہیں دے ۔اپ کو یہ پکڑے اپنی دو س سو روپے والی پائل ۔۔۔۔
شفا روتی ہوئی اپنے چھوٹے سرخ سفید پاؤں سے وہ پائل نکالتی احد کو دیتی نفرت سے بولی تھی ۔۔۔۔
وہ کتنی خوشی تھی صبح یہ پائل پہن کر اور اب کتنا رو رہی تھی وہ ۔۔۔۔
سوچ لو اگر نکاح نہیں کیا تو تمہارے ماں باپ کو مار دو گا پھر کیا کرو گی لٹل بے بی ڈول۔۔۔۔
احد اسے چہرے سے دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں کرنا نکاح آپ سے سن۔سن کیوں نہیں رہے م۔میرے امی ابو کو کچھ مت کہے پلیز سر میں پاؤں پکڑتی ہ۔۔۔۔
ہاں یا نہ میں جواب دو تاکہ میں اپنا کام کر سکو۔۔۔۔
شفا ایکدم پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھتی بول رہی تھی جب احد اسے بالوں سے پکڑتے واپس اپنے قریب لاے بولا تھا۔ ۔۔۔۔۔
نہی۔۔۔
ٹھاہہہہہہہ ۔۔۔۔
ابووووووووو۔۔۔۔۔
اس سے پہلے شفا بولتی جب اسے گولی چلنے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔
تبھی اس نے گردن موڑ کر اپنے باپ کو دیکھتے چخی تھی ۔۔۔۔۔
شفا کی دھڑکن رک چکی تھی وہ سانس روکے بس اپنے ابو کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
