Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 11)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

جی میم آپ نے بلایا م۔۔۔۔۔

شفا جو کلاس میں فارغ بیٹھی تھی جب اسے پیغام ملا تھا پرنسپل اسے بلا رہی ہے تبھی وہ اب ان کے آفس میں انٹر ہوتی بولی تھی جہاں احد خانزادہ کو وہاں بیٹھا دیکھ خاموش ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

بیٹا یہ آپ سے ملن۔۔۔۔

مجھے نہیں ملنا ۔۔۔۔

میڈم کی بات سننے سے پہلے وہ کہتی دوبارہ باہر کو گی تھی ۔۔۔۔۔

بیٹا یہ مجھے بتا چکے ہے شوہر آپ کے آپ بات کرے میں آتی ہو ۔۔۔۔

احد کے کہنے پر وہ اسے کہتی خود آفس سے باہر چلئ گی تھی ۔۔۔

جاتی بھی کیوں نہ آخر احد خانزادہ نے ان کی یونی کو کروڑوں کی چیٹری دی تھی ۔۔۔۔۔

یہاں آو ۔۔۔۔

شفا گم صم وہی کھڑی تھی جب اسے احد کی بھاری آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔۔

کیوں آؤ ۔۔۔۔

وہ سر جھکاے مدھم آواز سے بولی تھی ۔۔۔۔

یہاں وہ کوئ تماشا نہیں بنوانا چاہتی تھی تبھی کنٹرول کیے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

جب شوہر ملنے اے تو بیوی کو ملنا چاہے کیا تمہیں نہیں پتہ ۔۔۔

احد اپنی مسکراہٹ دباے سیریس ہوتا بولا تھا اس کے لیے یہی بہت تھا شفا کم از کم اس کے سامنے کھڑی تھی۔ ۔۔

جانتی ہو ناولز میں پڑھا لیکن میں نہیں ا رہی آپ کے پاس ۔۔۔۔

وہ اپنی گول گول براؤن آنکھوں کو گھوماتے آس پاس دیکھتی منہ بناے بولی تھی مطلب وہ احد خانزادہ کو اگنور کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

ہممممم صحیح ۔۔۔۔

چلو بیوی نہیں شوہر تو پاس ا کر مل سکتا ہے کیوں یہ بھی ناولز میں پڑھا یا نہیں ۔۔۔۔۔

احد اب اٹھ کر کھڑا ہوتا آہستہ آہستہ قدم اس کی طرف بڑھاتے بولا تھا ۔۔۔۔

جب شفا دروازے سے لگتی جلدی سے اسے ان لاک کر رہی تھی تاکہ بھاگ سکے ۔۔۔۔۔

اور کیا کیا پڑھا ناولز میں ۔۔۔۔

شفا کی اس حرکت کو دیکھ احد اب اس کے قریب آتا اس پر جھکتے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا شفا کی کمر اس کی طرف تھی ۔۔۔۔

پ۔پتہ نہیں ۔۔۔۔

اپنی گردن پر اس کی گرم سانسوں کو محسوس کیے وہ اٹکتی بولی تھی احد کے پاس آتے اس کی ساری ہمت ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

چلو میں بتاتا ہو ناولز میں کیا ہوتا ۔۔۔۔

اپنا ہاتھ اس کے شولڈر پر پھیرتے ہوے اس کے ہاتھ پر رکھتے بولا تھا جو ہینڈل کو ان لاک کرنے کے لیے پکڑے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

م۔مجھے ن۔نہی۔نہیں ج۔جانا آپ ۔اس۔سے ۔۔۔۔

شفا بامشکل بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب کمر سے پکڑتے وہ جھٹکے سے اپنی طرف اس کا رخ کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

شفا بامشکل احد کے سینے تک آئ تھی وہ بھی تب جب اسے کمر سے پکڑتے اونچا کیا تھا ۔۔۔۔

جانتی ہو بچی ہو بلکل ایک لٹل بے بی ڈول جو صرف احد خانزادہ کی ہے کتنی پیاری لگتی ہو جب ایسی بچوں جیسی حرکتیں کرتی ہو ۔۔۔۔

اس کی سرخ ننھی سی ناک پر اپنے دہکنے لب رکھتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

شفا کے گالوں پر حیا کے رنگ اے تھے وہ خود نہیں جانتی تھی شرم کیوں آئ شاہد پہلی دفعہ احد کا نرم لہجہ سن کر ۔۔۔۔

ا۔اپ کیا ہے پ۔پورے جلاد ۔۔۔

اس کے لمس سے بہکتی وہ منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں اسی جلاد کی لٹل بے بی ڈول ۔۔۔۔

اس کی ناک کو دوبارہ چومتے وہ سرشار ہوتا بولا تھا اسے خوشی تھی کم ازکم شفا بولی تو سہی ۔۔۔۔۔

جلاددد۔۔۔

شفا یہ لفظ سنتی ہوش میں آتی اسے دھکا دیتی آفس سے باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔

جبکہ خود کو کوس رہی تھی وہ اس انسان سے کیسے پیار سے بات کر سکتی ہے جس نے زبردستی نکاح کیا اس سے ۔۔۔۔

کدھر جا رہی ہو اندر او ۔۔۔۔

احد اس کے پیچھے بھاگتے ہوے بولا تھا جو اگنور کیے بس آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔

م۔مجء۔مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔۔۔

شفا آگے چلتی ہوئ آس پاس سب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

جبکہ دل کی دھڑکنوں نے شور مچا رکھا تھا ۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول یار بات تو سنو کم ازکم مجھے فیل تو کرنے دو ۔

تم سے مل رہا ہو ۔۔۔۔

احد سب کی پرواہ نہ کرتے وہ مسلسل اس کے پیچھے بھاگتے ہوے بول رہا تھا ۔۔۔۔

دیک۔دیکھں وہ نکاح صرف اپنے ماں باپ کی وجہ سے کیا ل۔۔۔۔

شششش کوئ فضول سوال ہرگز نہیں بس مجھے فیل کرنے دو ۔۔۔۔

شفا ویسے ہی بولتی جا رہی تھی جب احد کنٹرول سے باہر ہوتا اسے ہاتھ سے پکڑتے ساتھ بنے روم میں لے جا کر دیوار سے پن کرتا بولا تھا ۔۔۔

روم کے اندھیرے میں شفا کا سانس روکا تھا اوپر سے احد کی قربت اسے پاگل کر رہی تھی ۔۔۔

ب۔بہت غلط ک۔کر رہے آپ ۔۔۔

م۔یں ۔اتنا تڑپاو گی آپ کو آپ موت کی دعا مانگے گے احد خانزادہہہہہہہ۔۔۔۔

احد اس کی خاموشی دیکھ نرمی سے اس کے گال چومتے اب اس کی شفاف گردن پر جھکے خود کو سیراب کر رہا تھا جب کافی دیر بعد وہ آبدیدہ ہوتی آنسو بہاے اٹکتی بولی تھی ۔۔۔۔

مجھے منظور ہے تڑپنے کے لیے تم تڑپاو تو سہی ۔۔۔

شفا کا رخ دیوار کی طرف کرتے احد اب اس کے سر سے ڈوپٹہ اتارے اس کی بیک نیک کو چومتے بہکتے بولا تھا ۔۔

ن۔ن۔نفرت ہے مجھے آپ سے دیکھنا کتنی اذایت دیتی آپ ۔ا۔کو۔۔۔۔

وہ اپنے نازک ہاتھوں کو پیچھے کی طرف لے کر جاتی اسے مارنے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب احد نے اس کی دونوں بازوں کو اپنے ایک ہاتھ سے پکڑتے اپنے کام میں بزی ہو چکا تھا ۔۔

اہہہ چھو۔چھوڑو پلیز۔۔۔

اس سے پہلے احد شفا پر اپنی شدت لٹاتا جب دونوں کے کان میں کسی کے چیخنے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔

م۔مجھے ڈر لگ رہا احد ۔۔۔

شفا جلدی سے احد کے سینے سے لگتی ڈرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

روم میں مکمل اندھیرہ تھا شفا کو سینے سے لگاے احد بھی گھور سے دیکھ رہا تھا آواز کدھر سے آئ۔۔۔

یہی رکو ۔۔

شفا کو سائیڈ پر کرتے وہ خود روم کے آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔

جہاں ونڈو کی کم روشنی میں چار پانچ لڑکے ایک لڑکی سے زبردستی کر رہے تھے ۔۔۔۔

احد نے آگے بڑھتے شدید طش میں ان لڑکوں کو اپنی بھاری ٹانگ ماری تھی ۔۔۔۔

وہ جو اپنے شیطانی کام میں بزی تھے جب اچانک احد کی ٹانگ کھاتے گھبراتے ہوے اٹھے تھے ۔۔۔۔

جاؤ یہاں سے تم لڑکے ہمیں جانتے نہیں ہو ۔۔۔۔

شفا نے ہمت کرتے کلاس روم کی لائٹ جلائی تھی ۔۔۔

تبھی وہ لڑکے ہمت جمع کرتے اپنے سامنے احد خانزادہ کو دیکھ ڈرتے ہوے بولے تھے ۔۔۔

تم جاو یہاں سے لٹل بے بی ڈول پکڑو اس کو ۔۔۔۔

لڑکی کو کھڑا کرتے احد نے سکون سے کہتے شفا کو دیکھتے کہا تھا جو خود بھی ڈر رہی تھی ۔۔۔۔۔

اہہہہہ

اہہہہہ۔۔۔

شفا نے جیسے ہی لڑکی کا ہاتھ تھامنا چاہا جب انہی لڑکوں نے اسے پکڑتے اپنی طرف کھینچ لیا تھا تبھی وہ چیخی ۔۔۔

تم جاو ۔۔

احد اس لڑکی کو دیکھ بولا تھا جو شکریہ کہتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔

چ۔چھوڑو تم لوگ نا۔ناصر کے دوست ہو میں شکایت ل۔۔۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہہ ۔۔۔۔

شفا ان کو دیکھتی ڈرتی ہوئ بول رہی تھی جب اچانک ہی احد نے اپنی ٹانگ ان چاروں کے پیٹ میں ماری تھی جب وہ کراہتے ہوے نیچے گرے تھے ۔۔۔۔

کس ہاتھ سے چھوا تم لوگوں نے لٹل بے بی ڈول کو ۔۔۔۔

احد تو جنونی ہوتا ان چاروں پر ٹوٹتے لگاتار وار پر وار کرتا چیخا تھا ۔۔۔۔۔

ان چاروں کو مسلسل مارتے وہ ان کو لہولہان کر چکا تھا ۔۔۔۔

ں۔بس ک۔کر احد یہ م۔مر جاے گے ا۔اپ تو پورے جلاد ہے۔۔۔۔۔

احد ان کو مسلسل مارنے میں بزی تھا جب شفا ہمت کرتی اس کے قریب جاتی روتی ہوئی بولی تھی کیونکہ احد ان سب کی ایسی حالت کر چکا تھا شفا کو دیکھتے ہی الٹی ا رہی تھی ۔۔۔۔

لی۔۔۔

چ۔چلے پلیز م۔مین نے گھر جانا اب ۔۔۔۔

احد اپنے خون سے بھرے ہاتھوں سے انہیں مارتا بول رہا تھا جب اسے بازوں سے پکڑتی اپنی طرف کھینچ کر بولی تھی ۔۔۔۔

شکر کرو بچ گے۔۔۔۔

احد شفا کا ذرد چہرہ دیکھ اٹھتا ہوا ان سب کو ایک بار پھر سے لات مارتے اسے لیے اب باہر گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ شفا ابھی بھی رو رہی تھی ۔۔۔

ا۔اپ تو پورے ج۔جلاد ہے۔۔۔

شفا کو لیے وہ گھر ا گیا تھا جب شفا ابھی بھی کار میں بیٹھتے پہلی بار بولی تھی پورے سفر میں وہ خاموش رہی تھی ۔۔۔۔

شکریہ اتنی تعریف کا ۔۔۔۔

احد ابھی بھی اس کا ذرد چہرہ دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

و۔ویسے اتنے بھی کھڑوس ن۔نہین آپ ۔۔۔

شفا کچھ دیر پہلے والے لحمے سوچتی شرماتی اپنا چہرہ جھکاے بولی تھی ۔۔۔

اس وقت شفا کا چہرہ احد کو سب سے زیادہ خوبصورت و حسین لگا تھا ۔۔۔۔

اچھا یہاں کیوں آی ہو بابا ماما تو یہاں نہیں ہے ۔۔۔

احد بات اگنور کیے اسے گھر کے سامنے کار روکے دیکھ بولا تھا۔

آپ کب ملے امی ابو سے ۔۔۔۔

شفا نے شوک ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔۔

وہ ابھی آیا تھا م۔۔۔۔

ی۔یہ یہ ک۔کیا ہو رہا احد ی۔یہ سب ۔۔۔

احد اسے بتا رہا تھا جب شفا کی نظر اپنے گھر کی طرف گی تھی جہاں کافی لوگ کھڑے تھے جبکہ اس کے امی ابو کی بنا سر والی لاشوں کو باہر لے کر جا رہی تھی پولیس ۔۔۔۔

تبھی شفا شوک ہوتی کار سے نکلتی احد کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

ی۔یہ ا۔امی ابو ہے ۔ن۔نہیں۔۔ی۔یہ کیسے ہ۔ہو گیا امی ابو اٹھے اٹھے امی ابو ۔۔۔۔

شفا اپنے آپ سے بیگانہ ہوتی بھاگ کر پولیس والوں کے قریب جاتی اپنے ماں باپ کے مردہ وجود کو دیکھ پھوٹ پھوٹ کر چیخی تھی ۔۔۔۔

یہ کیسے ہوا ۔۔۔

شوک تو احد بھی ہوا تھا تبھی پولیس والوں کے

پاس آتے بولا تھا ۔۔۔۔

جب پولیس والوں نے بتایا تھا ہمسائیوں میں سے جب کوئ ان کے گھر گیا وہاں ان کی لاشیں دیکھ اطلاع دی گئ تھی اب وہ اس شخص کو نہیں پکڑ سکے جس نے یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔

ا۔اپ نے کیا م۔میں جانتی ہو ص۔صرف آپ کی وجہ سے ہوا م۔میرے امی ابو ا۔۔۔۔

شفا احد کے سینے پر مکے برساے مسلسل روتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔

شفا ایسی بات نہیں ہے ا۔۔۔۔۔

آپ نے ہی کیا آپ نے بتایا کہ آپ اے تھے ا۔۔۔

شفااااااا۔۔۔۔۔۔

احد نے اسے باہوں سے پکڑتے سمجھانے کی کوشش کی تھی جب وہ اسے ہی دھکا دیتی کہتی خود پیچھے پڑے پھتڑ پر پاؤں پڑتے لڑکھڑاتی ہوی زمین پر گری تھی ۔۔۔۔

جب دور پڑے بڑے سے پھتڑ پر سر لگتے وہ بے ہوش ہوئ تھی جبکہ سر سے خون مسلسل نکل رہا تھا ۔۔۔

احد پریشان ہو چکا تھا وہ کیا کرے ایک طرف شفا تھی تو دوسری طرف اس کے ماما بابا تھے جن کے جنازے کے لیے اس نے سب کچھ کرنا تھا ۔۔۔۔

شدید صدمے اور چوٹ کی وجہ سے ان کے دماغ پر گہری چوٹ لگی ہے جس کی وجہ سے ان کی یاداشت کچھ وقت کے لیے چلی گی ہے ۔۔۔۔

تم ان کا خیال رکھو میڈیسن دو بھابھی ٹھیک ہو جاے گی ۔۔۔۔

شفا کو لے وہ ڈاکٹر دانیال کے پاس آیا تھا جو اس کا دوست تھا تبھی وہ چیک اپ کرتا بولا تھا ۔۔۔

وہی احد نے فصیلہ کیا تھا چاہے کچھ بھی ہو جاے وہ کبھی اس کی یاداشت واپس نہیں آنے دے گا ۔۔۔

شفا کے ہوش میں آنے پر اس کے پوچھنے پر احد جھوٹی کہانی بناتے اسے بہلا چکا تھا وہ دونوں میاں بیوی ہے اس کے ماں باپ جرمنی چلے گے ہے ۔۔۔

تبھی شفا بھی اس کی مانتی ہنسی خوشی اس کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی تھی ۔۔۔۔

احد بہت خوش تھا اس کے ساتھ ۔۔۔۔

“””حال ۔۔۔۔

“””تین گھنٹے پہلے ۔۔۔۔

و۔وہ م۔میری بات سن لے ۔۔۔۔

خود کو ٹھیک کرتی وہ کافی دیر بعد آہستہ سے قدم اٹھاے روم سے باہر آتی سامنے فون پر بزی احد کو دیکھ اس کے قریب جاتی ڈرتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول تمہاری ہی تو سنے کو بے تاب رہتا ہو بولو کیا کہنا میری جان نے ۔۔۔

اس کی آواز سنتے احد نے فون کٹ کرتے شفا کو کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاتے مدھم سا مسکراتے ہوے کہا تھا ۔۔۔۔

جب شفا نے حیا بھرے چہرے کو مزید نیچے جھکایا تھا ۔۔۔

و۔وہ م۔میں ۔ا۔اپ کے ساتھ ہ۔ہال جاؤ گی و۔ورنہ نہیں و ا۔اور یہ سب گاڈرز اور ملازم کو ہال بھیج دے ۔۔۔

وہ تھر تھر کانپتی ہوی اپنے دل کی بات کہہ گی تھی ۔۔۔

ہمممم اور کچھ ۔۔۔

وہ اس کی خوشبو میں مدہوش ہوتا اس کی نتھلی کو لبوں سے چھوتے بولا تھا ۔۔۔

ا۔اپ ک۔ایسا کرے گے تو م۔میں بے ہوش جاؤ گی م۔میری بات پوری ہوئ اب آپ جاؤ پھر بعد میں آنا ۔۔۔۔۔

احد کی بھاری سرگوشی سنتے وہ پیسنے سے بھیگی ہوئی کانپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

اچھا میں جا رہا تم ریلکس رہو کہیں واقعی بے ہوش مت ہو جانا ۔۔۔۔

آج کی رات بہت اسپشیل ہے ہمارے لیے لٹل بے بی ڈول۔۔۔۔

شفا کو تھوڑی سے پکڑتے اپنے قریب اس کا چہرہ کیے وہ نرمی سے جھکے اس کے لبوں کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔۔

احد کا لمس پاتے ایک منٹ کے لیے شفا کی سانس روکی تھی وہ سمجھی تھی احد دوبارہ اسے نہیں چھوڑے گا لیکن اسے شرافت سے چھوڑتے دیکھ وہ بنا دیکھے لہنگے کو پکڑتی روم کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔

جبکہ احد مسکراتا ہوا اب ہال سے باہر لان میں جا رہا تھا ۔۔۔۔

ک۔کون ہے آپ ۔۔۔

شفا جو پوری دلہن بنی کمرے میں ہی تھی جب اچانک ناصر کو اپنے روم میں آتا دیکھ ڈرتی بولی تھی ۔۔۔

احد تو کہیں گیا ہوا تھا جبکہ سارے گارڈز ملازم شادی ہال چلے گے تھے سواے ایک ملازمہ کے جس کے ساتھ شفا نے ہال جانا تھا ۔۔۔۔

جب احد اسے لینے آتا ۔۔۔۔

ارے شفا ڈرالنگ مجھے نہیں جانتی ا۔۔۔۔

مسٹر آپ تعمیز سے بات کرے پہلی بات روم سے باہر جاے جلدی ۔۔۔۔

ناصر اسے دلہن کے حسن میں سجی سنوری دیکھ ہوس بھری نظروں سے دیکھ بول رہا تھا جب شفا طش میں آتی اسے دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

بڑی بات ہے کتنے سکون سے کھڑی ہو ورنہ جس انسان نے تمہارے امی ابو کا قتل کیا ہو اسی کے لیے آج دلہن بنی سیج سجا رہی ہو ۔۔۔۔

ناصر آپنا زہر اگلنے میں بزی ہو چکا تھا احد سے لاکھوں پیسے لینے کے باوجود وہ دوبارہ شفا کے پاس آیا تھا اسے سب یاد کروانے ۔۔۔۔

ک۔کیا بکواس ہے میرے ابو امی زندہ ہے ا۔۔۔۔

یہ سارا ڈرامہ ہے تمہاری یاداشت چلی گی ہے تبھی وہ جھوٹ بولا ورنہ تمہارے امی ابو کو وہ بے دردی سے مار چکا ہے۔ ۔۔۔

شفا شوک ہوتی بول رہی تھی جب ناصر نے اپنے سے کچھ باتیں بناے شفا کو بتای تھی جس میں سارا الزام احد خانزادہ پر تھے ۔۔۔۔

ن۔نہیں ایسے۔ایسے نہیں ہو ۔سک۔سکتا وہ میرے ساتھ ایسے ن۔۔۔

اہہہہہہہ م۔میرا سر ۔۔۔۔

شفا سب سنتی روتی ہوئی اپنے درد سے پھٹتے سر کو پکڑتی ہوئ چیخی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ناصر اپنے کام میں کامیاب ہوا تھا ۔۔۔۔

ایسا ہی ہے وہ تمہیں دھوکہ دے رہا یہ رہا میرا نمبر جب ضرورت ہو ا فون کر لینا میں تمہارا دوست ہو ۔۔۔

سر درد سے تڑپتے ہوے شفا بیڈ پر بیٹھی تھی جب ناصر اپنا کاڈر اس کی طرف بڑھاے بولا تھا ۔۔۔

جبکہ شفا تو اپنے ہی درد میں گم تھی ۔۔۔۔

امجد کیا ہوا کتنا ٹائم ہو گیا لٹل بے بی ڈول نہیں آی ۔۔۔

احد جو شاپنگ کرنے مال چلا گیا تھا تبھی اب کافی گھٹنے بعد وہ ہال میں اے سارے مہمانوں کو دیکھ پر اسیٹج پر شفا کو نہ دیکھ مینجر سے بولا تھا ۔۔۔

سر وہ آپ لانے والے تھے شفا میم کو آپ نے بتایا تھا بس آپ کا ہی ویٹ ہو رہا تھا ۔۔۔۔

امجد نے حیران ہوتے احد کو کہا تھا ۔۔۔۔

احد شفا کے لیے گفٹ لینے مال چلا گیا تھا وہاں جا کر اسے جب سمجھ نہیں آیا وہ کیا لے تبھی ڈائمنڈ کی نفیس سی پائلز لے چکا تھا جس میں اسے کافی دیر ہو گی تھی وہ بھول ہی گیا تھا شفا کو لینے اس نے جانا ۔۔۔۔

افففف میرے دماغ سے نکل گیا چلو میں لے کر آتا ہو اسے ۔۔۔۔

احد اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے جلدی سے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ہاتھ میں پکڑے خوبصورت سے چھوٹے سے ریڈ گفٹ باکس کو پاکٹ میں ڈال چکا تھا ۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول کدھر ہو یار میں مانتا ہو تم ناراض ہو چکی ہو تبھی چھپ کر بیٹھی ہو ۔۔۔۔

احد کو واپس بنگلے جاتے دیکھ سارے گاڈرز اور ملازمین بھی ساتھ ا گے تھے ۔۔۔

لیکن احد کو شفا کی پڑی تھی تبھی وہ جلدی سے ہال میں انٹر ہوتا اسے وہاں نہ دیکھ کر اب اپنے سجاے گے روم میں آتے بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں پورا روم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔

شفا کدھر ہو گاڈرزززززز چیک کرو کہاں گی وہ ۔۔۔۔

تم بتاؤ میرے بعد کون آیا تھا یہاں ۔۔۔۔

جو روم کچھ دیر پہلے گلابوں سے سجایا گیا تھا وہاں اب وہ روم خراب ہوا تھا ہر چیز زمین بوس ہو چکی تھی گلاب کے پھول شفا کی جیولری شیشے کی پرفیومز ٹوٹی ہوئ ۔۔۔

تبھی روم کی حالت دیکھ وہ چیخا تھا شفا وہاں کہیں روم میں نہیں تھی ۔۔۔۔

و۔وہ س۔سر کوئ ناصر نام کا لڑکا ا۔۔۔۔

نکلو باہر سب کے سب ابھیہہہہہہہہ۔۔۔۔

وہ روم میں چاروں طرف دیکھتا اب بالکونی آیا تھا جب اس کی نظر سامنے لان میں بیٹھی بکھری حالت میں شفا پر گئ تھی جو بچوں جیسے سر گٹھنوں میں چھپاے ہوے تھی ۔۔۔۔

تبھی وہ غراتا ہوا باہر کی طرف بھاگتا لان میں گیا تھا ۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول یار لیٹ ہو گیا تھا اس کا مطلب یہ تو نہیں تم ناراض ہی ہو جا ۔۔۔۔

دور رہے آپ مجھے سب یاد ا گیا ہے مسٹر احد خانزادہ۔۔۔

وہ اندھیرے میں بیٹھی شفا کے قریب آتے نارمل انداز سے بولا تھا اسے یہی ڈر تھا کہیں سب یاد تو نہیں ا گیا تبھی شفا کی غراہٹ سنتے اس کی روح فنا ہوئ تھی ۔۔۔۔

دیکھو لٹل بے بی ڈول ایسی کوئ بات نہیں ا۔۔۔۔

قاتل ہے آپ سنا آپ نے کیا سمجھے تھے مجھے سب یاد نہیں اے گا سب یاد ا چکا ہے ۔۔۔۔

احد اسے سمجھانے کے لیے بول رہا تھا جب وہ چیخی تھی ۔۔۔۔

سر میں درد ابھی بھی اس کے ہو رہا تھا ۔۔۔۔

د۔دو۔دور رہو مجھ سے اپ۔اپ مجھے نفرت آپ سے ۔۔۔۔

وہ اسے خود سے دور کرتی چیخی تھی ۔۔۔۔

مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت سمجھیں میری محبت ہو ت۔۔۔

نہیں ہو میں آپ کی محبت ا۔اپ نے بس بدلے کے لیے شادی کی ۔۔۔۔

احد اپنی سرخ گرے آنکھوں سے اسے اپنے بے حد قریب کرتا بول رہا تھا جب وہ روتی تھر تھر کانپتی ہوئ بولی تھی اس کی براؤن آنکھیں رونے سے سوجی ہوئ تھی ۔۔۔۔

کون سا بدلہ ۔۔۔۔

وہ اپنی آئ برو اچکاتے بولا تھا اسے تو سمجھ ہی نہیں ا رہا تھا جس لڑکی سے وہ عشق کرتا تھا وہی اسے برا انسان سمجھ رہی تھی ۔۔۔

و۔وہ پائل کے لیے جو ۔د۔دو سو روپے کی تھی اس۔اسی وجہ سے می۔میرے ماں باپ کو مار دیا ۔۔۔۔

اسی بدلے کی وجہ سے م۔مجھ سے گن پوائنٹ پر نکاح کیا نفرت ہے مجھے ا۔اپ سے ۔۔۔۔

وہ نفرت سے چیختی ہوئ حقارت سے اس کے چہرے پر تھوک چکی تھی ۔۔۔۔۔

اگر کوئ دیکھ لیتا وہ انسان جو کسی کی ایک بات تک نہیں سنتا تھا آج وہ اپنی محبت کا باہوں میں بھرتے اس کی ہر بات اور تھوک تک برداشت کر چکا تھا ۔۔۔۔

اچھا ریلکس میں نے تمہارے ماں باپ کو نہیں م۔۔۔

ا۔اپ نے ہی مارا تھا ابو۔نے بتایا تھا آپ نے دھمکی دی تھی ان کو تبھی ایسا ہوا۔۔۔۔

وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ساتھ ہی ڈاکٹر کو کال ملاے بول رہا تھا جب وہ دوبارہ چیختی بولی تھی ۔۔۔۔

کتنی بار سمجھایا ہے مجھے محبت تھی تم سے تبھی شادی کر لی تمہارے ماں باپ کا قاتل نہیں ہو میں اگر میں نے ایسا کرنا ہوتا تو اپنی یہ خاموش محبت کب کا دیکھا چکا ہوتا بلکہ تمہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے کوئ روک بھی نہیں سکتا ا۔۔۔۔

ا۔اپ کی یہی خاموش محبت میرے گلے کا پھندا بن گی آپ سے شادی کرنے سے اچھا تھا وہی اپنے ماں باپ کے ساتھ م۔۔۔۔۔

مرنے کا زیادہ شوق ہے تو مجھے بتایا کرو میں تمہیں روزانہ مارنے کو تیار ہو مائ لٹل بے بی ۔۔۔۔

وہ دوبارہ بول رہی تھی جب وہ بنا اسے ٹائم دیے اپنے قریب کرتا اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

آج پھر اس کی شدت والا عمل پا کر وہ تھر تھر کانپتی روتی ہوئی وہی اس کی باہوں میں جھول گی تھی ۔۔۔

ابھی نادان ہے میری لٹل بے بی ۔۔۔

اسے باہوں میں لیتے وہ اسے لیے اپنے عالیشان روم میں لے کر جاتا مسکرایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اس پاس نوکروں کی فوج کھڑی ہکا بکا کھڑی تھی یہ دیکھ کر اس جیسا انسان کبھی مسکرا بھی سکتا تھا کیا ۔۔۔۔

ہاں جلدی آؤ لٹل بے بی ڈول کی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔

روم میں آتے وہ اسے اسی بیڈ پر لیٹا چکا تھا جہاں لاتعداد گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا تبھی دانیال کو دوبارہ کال کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اب وہ بے ہوش شفا کو دیکھتے وہی ٹک کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔