Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 5)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
جاؤ ڈور کو اوپن کرو جو بھی ہوا رکھ کر تھپڑ مارنا اس کو جاہل انسان ہے کوئ ۔۔۔۔
بالآخر تنگ آتے وہ اپنے مینجر کو آڈر دیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
جب امجد مینجر حکم مانتا ہوا اٹھ کر ڈور اوپن کرنے گیا تھا۔ ۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہیں دیکھای نہیں دیتا ہم بزی ہے پاگل لڑکی ا۔۔۔۔
احد کدھر ہے ۔۔۔۔
وہ سامنے کھڑی سرخ چہرہ لیے شفا کو دیکھ بولا تھا جب وہ دو ٹوک بولی تھی ۔۔۔۔
تم سے مطلب نکلو یہاں سے ورنہ۔۔۔۔۔
احد جو بزی تھا لیکن شفا کی غراہٹ سنتا فورا سے پہلے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
جب مینجر نے غصے سے کہتے اپنا ہاتھ اٹھاے شفا کو مارنے کے لیے آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔
وہی احد خانزادہ اپنے جلالی روپ میں آتا تن فن کرتا اس تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔۔
چٹاخخخخ ہمت بھی کیسے ہوئ مجھے ہاتھ دیکھانے کی توڑ کر رکھ دو گی شفا احد خانزادہ نام ہے میرا سمجھے تم ۔۔۔۔
مینجر اسے مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن احد کے آڈر پر ابھی ہاتھ اٹھا ہی رہا تھا جب غصے میں کھڑی شفا نے بنا کسی کا لحاظ کیے اس کے چہرے پر تپھڑ رسید کرتی چیخی تھی ۔۔۔
آگ بگولہ ہوتا احد چلتا ہوا ا رہا تھا جب مینجر کے تپھڑ پڑتے دیکھ اچانک وہ جلالی روپ سے باہر آتا ایک سوفٹ نیچر والا احد بن چکا تھا ۔۔۔
تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہے تھا امجد چلو ب۔۔۔۔
آپ کتنے بڑے جھوٹے ہے میں نے کہا شاپنگ کرنی ڈرتے ہوے یہاں ا گے مجھے باہر جانا تھا لیکن آپ ۔۔۔۔۔
احد فرش پر گرے مینجر کو دیکھ بول رہا تھا جب شفا سرخ چہرہ لیے چیختی ہوئ اندر آتی سیدھی احد کے سامنے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
وہ سب کو اگنور کر چکی تھی وہاں کتنے لوگ بیٹھے منہ کھولے یہی دیکھ رہے تھے جس کی ایک غراہٹ سے سب ہی سانس روک جاتی تھی آج وہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے سامنے چپ پرسکون سا کھڑا تھا ۔۔۔۔
لیکن سر آپ نے ہی کہا تھا تپھڑ ما۔۔۔۔
چٹاخخخخ نکلو باہر ابھی کہ ابھی ہماری کوئ پرائیویسی بھی ہوتی ہے ۔۔۔۔
امجد اٹھتا ہوا احد کو دیکھ بول رہا تھا اس سے پہلے وہ بولتا جب وہ دوبارہ اس پر غصے سے برستی ہوئ تپھڑ مارتی چیخی تھی ۔۔۔۔
اچھا میری بات سنو اسے اگنور کرو ۔۔۔
منیجر کا سرخ چہرہ دیکھ احد اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے باقیوں کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
یہ کون ہے ۔۔۔
اس آفس میں بیٹھے چالیس پچاس لڑکی لڑکے آٹھ کر خاموشی سے جا رہے تھے جب وہاں بیٹھے ایک جرمنی سے اے لڑکے نے مینجر سے اپنی زبان میں پوچھا تھا ۔۔۔۔
وہ دیکھ رہا تھا وہ چھوٹی سی گڑیا جیسی لڑکی احد جیسے دیو قد چٹان جیسے وجود کے سینے سے لگی طش سے کچھ بول رہی تھی جیسے وہ خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔۔۔
یہ بیوی ہے سر کی۔ ۔۔۔
منیجر اپنے گال پر ہاتھ رکھتا ہوا برا سا منہ بناے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔
جب اس لڑکے نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا جو صرف اسی میں مگن اپنی باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔
آپ یہ مجھے جانے سے پہلے بھی بتا دیتے میں گھر ہی رہتی ۔۔۔۔
شفا اپنے دل کا غبار نکالے اب سکون سے احد کی گود میں بیٹھی بچوں جیسی شکل بناے بولی تھی ۔۔۔۔
احد نے اسے بتایا تھا وہ ضروری میٹنگ کے لیے آفس آیا تھا ۔۔۔۔
تبھی اب وہ شرمندہ ہوتی بولی تھی بلاوجہ ہی اس نے اپنا غصہ اس کے مینجر پر اتار دیا تھا ۔۔۔۔
اگر تمہیں بتا دیتا تو یہ تمہارا جلالی روپ کیسے دیکھتا میں ویسے ایک چھوٹی سی چوزی لگ رہی تھی ابھی تم ۔۔۔۔
وہ اس کی سرخ چھوٹی سی ناک کو دباے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔
اور آپ کیا ہے جن بھوت درندے کہیں ک۔۔۔
آپ واقعی درندے ہے احد ۔۔۔۔
شفا جو بول رہی تھی جب اچانک اس کے ذہین پر کوئ یاد لہرائ تھی جب وہ کھوئ ہوئ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔۔
اس کی یہ بات سنتے وہ ڈرا تھا ۔۔۔
اچھا شاپنگ کرنی یا لونگ ڈرائیو پر چلے ۔۔۔
اسے اچانک خاموش دیکھ وہ بات بدلتا بولا تھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں سر میں پین ہو رہا م۔مجھے کچھ دیکھای دے رہا لیکن سمجھ نہیں ا رہا کیا۔۔۔
وہ اپنا سر پکڑتے اس کی گود سے نکلتی چکر لگاے بولی تھی ۔۔۔۔
احد کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔۔
ہاں تمہیں یاد بھی کیسے اے گا امی ابو کو کال کرنی تھی تم نے دیکھو کتنا ٹائم ہو گیا ۔۔۔۔
اسے پکڑتے وہ اب اسے اپنے آفس میں لاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں شاہد ۔۔۔۔
وہ چپ ہوتی بولی تھی جبکہ سر کا پین مسلسل اسے ہو رہا تھا ۔۔۔
اففف سر کو پتہ چلا میں نے میم کو اکیلا چھوڑ دیا تھا کتنا بولے گے ۔۔
ویسے کون سا وہ بولتی ہے ایک زندہ لاش ہی بن کر پڑی ہے ا۔۔۔۔
اہہہہہہہ اہہہہہہہ۔ بھوتتتت بھوتتتتت۔۔۔۔۔
ملازمہ کام سے فارغ ہوتی شائستہ کے روم کی طرف جاتی خود سے باتیں کرتی اندر گی تھی ۔۔۔
جب بیڈ پر گم صم سی شائستہ بیٹھی صرف دیوار کے گھور رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی وہ چیخی تھی ۔۔۔۔
یشفہ اور جیند کے جانے کے بعد اسے خود ہی ہوش آ چکا تھا ہوش میں آنے پر وہ صرف چھت کو گھورتی یہی سوچتی رہی وہ کہاں ہے کیسے اور کیوں جب آہستہ آہستہ سب یاد آتے وہ وہی بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔
ملازمہ کو چیختے دیکھ شائستہ نے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
م۔میم ا۔۔۔۔
میری بیٹی کدھر ہے ۔۔۔
وہ بول رہی تھی جب وہ کھوے ہوے لہجے سے بولی تھی ۔۔۔۔
و۔وہ سر کے ساتھ شاپنگ پر گئ ہے ا۔۔۔۔
کتنے دنوں سے میں سو رہی ۔۔۔۔
اس کا پورا جواب سنے بنا وہ ایک اور سوال کر چکی تھی ۔۔۔۔
د۔دن نہیں میم چ۔چار ماہ ہ۔۔۔۔
اچھا میں باتھ لے لو ۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے بول رہی تھی جب وہ اٹھنے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ڈاکٹر کو بلا ک ۔۔۔
نہیں ضرورت ابھی تک زندہ ہو تو مطلب اتنی جلدی نہیں مرنے والی ۔۔۔۔
ملازمہ نے آگے بڑھ کر اسے بازوں سے پکڑتے کھڑا کرتے کہا تھا جب وہ سردپن سے کہتی ہاتھ چھڑواتے ہوے آہستہ آہستہ لڑکھڑاتی ہوی واش روم کی طرف گی تھی ۔۔۔
دیکھو میں نے اپنی بیٹی کے لیے یہ فراک لیا ہے یہ تمہاری ماما کا فراک دیکھو کیسا ہے ۔۔۔۔۔
جنید یشفہ کے ساتھ شاپنگ کرتا بے حد خوش تھا ۔۔۔۔
حالانکہ اسے چڑ تھی لڑکیوں کی شاپنگ پر لیکن وہ صرف آج دل کھول کر شاپنگ کر رہا تھا ۔۔۔
شاپنگ سے فارغ ہوتے وہ ایک شاپ سے باہر آتا ایک بیگ سے چھوٹا سا نیٹ کا رائیل بیلو کلر کا فراک نکالے اسے دیکھاتے بولا تھا جب یشفہ نے مسکراتے تالی بجای تھی ۔۔۔۔
اس کا مطلب اسے وہ پسند آیا تھا ۔۔۔۔
اپنے ساتھ اے گارڈز کو شاپنگ بیگز دیے اب وہ مال سے نکل رہا تھا جبکہ چھوٹی سی یشفہ اسی کے سینے سے لگی ہوئ تھی ۔۔۔۔
ارے واہ شاپنگ ہو رہی ہے ویسے تمہاری محبوبہ کدھر ہے ۔۔۔۔
جنید جو اسے لے باہر ا رہا تھا جب مال میں انٹر ہوتے سکندر نے اسے دیکھ نفرت سے جملہ کسا تھا۔ ۔۔۔
ہاں شاپنگ ہو رہی ظاہر سی بات ہے بیٹی کا باپ ہو میں نہیں کرو گا تو کون کرے گا بیٹی بھی قسمیت والوں کو ملتی ہے جو ناشکرے ہو ان کو نہیں ۔۔۔۔
میری محبوبہ کی بات ہی مت کرو ورنہ اتنے اچھے سے جواب دو گا اپنا یہ خربوزے جیسا چہرہ دیکھ نہیں پاؤ گے ۔۔۔۔
ویسے بھی میں اپنی بیٹی کے سامنے کوئ ایسی حرکت نہیں کر سکتا غلط اثر پڑ سکتا ہے بچی ہے ۔۔۔۔
جنید اپنے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں طنز کرتا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
جب سکندر نے اس کا مطلب سمجھتے پہلو بدلا تھا ۔۔۔۔۔
ویسے نکاح تو کر ہی لیا ہو گا اب تک ظ۔۔۔۔
ہاں اسی کی شاپنگ کر رہے ہے ہم باپ بیٹی ظاہر سی بات ہے جنید خان کا نکاح ہونا کوئ چھوٹی بات نہیں ویسے تم شامل ہو سکتے ہو اگر دل چاہے ۔۔۔۔
سکندر نے ایک بار بھی یشفہ کو نہیں دیکھا تھا وہ ایک بار پھر سے اسے سناے بول رہا تھا جب وہ ویسے ہی ٹھنڈے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں تم ک۔۔۔۔
چلو بیٹا تمہاری ماما ویٹ کر رہی ہو گی ویسے بھی کل ہمارا نکاح ہو رہا ہے۔۔۔۔
باے ویسے بھی جنید خان فصول لوگوں کو منہ نہیں لگاتا زیادہ دیر ۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے بول رہا تھا جب جیند چھوٹی سی بلیک گلاسز یشفہ اور خود کے لگاے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔
سکندر نے دور جاتے دس بارہ گارڈز کے گھیرے میں چلتے بھرپور وجہہ پرسلنٹی لیے جنید خان کی بیک کو دیکھا تھا جہاں اب اس کے شولڈر پر اپنی ننھی سی تھوڑی اٹکاے یشفہ سکندر کو گلاسز لگی نیلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
سوری وہ آپ بتا دیتے تو میں کبھی نہ مارتی آپ کو ۔۔۔۔
شفا اپنے امی ابو سے بات کرتی خوش ہوتی اس منیجر کے آفس آتی ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑتے اس کے سامنے کھڑی بولی تھی ۔۔۔
ارے میم ایسا کیوں کہہ رہی ہے کیوں چاہتی ہے احد سر مجھ غریب کو آفس سے باہر نکال دے ۔۔۔
ایسا مت کرے ۔۔۔
امجد جلدی سے اٹھاتا ہوا رونی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں نکالے گے وہ اچھے ہے ۔۔۔۔
شفا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھے لفظ پر امجد کی روح کانپیی تھی ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا احد خانزادہ کیسا انسان تھا کسی کے لیے اچھا تو دور وہ رحم دل انسان بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ تو یہی سوچ رہا تھا اس جیسے انسان کو یہ پیاری سی گڑیا کہاں سے ملی تھی ۔۔۔۔
ویس۔ویسے میم اپ س۔۔۔۔
شفا خانزادہ نام میرا آپ میرا نام لے ۔۔۔
شفا وہی ایک کرسی پر بیٹھتی اس کے ساتھ باتیں کرنے میں بزی تھی جب وہ کچھ سوچتا ہوا بول رہا تھا جب وہ سختی سے بولی تھی ۔۔۔۔۔
ا۔اپ اور سر کی پہلی ملاقات کیسے ہوئ تھی ۔۔۔۔
وہ ڈرتا ہوا بولا تھا اسے ڈر تھا کہیں وہ غصہ نہ کر جاے ۔۔۔۔
یہ تو نہیں پتہ مجھے ۔۔۔
وہ چہرے پر معصومیت لاتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا سر کو پتہ ہو گا ا۔۔۔
میں پوچھ کر آتی ہو ہماری فرسٹ ملاقات کیسے ہوئ تھی ۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب شفا اب جلدی سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
امجد تو یہی سوچ رہا تھا اچھی بات ہے شفا جان لے پر وہ اس بات سے بے خبر تھا احد اس کا کیا انجام کرنے والا تھا ۔۔۔۔
دیکھو تمہارے بابا نے کہہ تو دیا کل میرا نکاح لیکن تمہاری ماما تو بیمار ہے ا۔۔۔۔
جنید واپس گھر اے اب روم میں آتا اسے گود میں اٹھاے بولتے ہوے چپ ہوا تھا ۔۔۔۔
جہاں شیشے کے سامنے شائستہ کھڑی اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے صاف کرنے میں بزی تھی ۔۔۔
لان کا سادہ سا سوٹ پہنے بنا میک اپ بنا ڈوپٹے کے وہ اپنے کام میں مگن تھی ۔۔۔
جنید تو بے حد خوش ہوا تھا اسے ایسے دیکھ کر ۔۔۔
اوووو واوووووو شکر تم ٹھیک ہو گ۔۔۔۔
میری بیٹی مجھے دو اور شکریہ اتنے ماہ اس کا خیال رکھنے کے لیے ۔۔۔
وہ خوشی سے چہکتا اس کے قریب جاتا بول رہا تھا جب اس کی آواز سنتے وہ لڑلڑاتی ہوئ بیڈ کی طرف جاتی اپنا ڈوپٹہ لیے بولی تھی ۔۔۔
اسے کافی ویکنس ہو گی تھی چلنے پھرنے میں کافی مشکل پیش آ رہی تھی لیکن وہ اب اس پر بوجھ نہیں بنا چاہتی تبھی اس نے فصیلہ کیا تھا وہ کہیں دور چلی جاے گی ۔۔۔۔
پہلے ڈاکٹر کو بلا لے چیک اپ ہ۔۔۔
خانننننن میں کہہ رہی ہو بچی مجھے دو تو مجھے دو سمجھے تم ۔۔۔۔
وہ جلدی سے موبائل نکالے بول رہا تھا جب وہ اپے سے باہر ہوتی گہرے سانس لیے بولی تھی ۔۔۔۔
نہیں دے رہا میں کیا کرو گی یہ میری بیٹی ہے سمجھی تم ہر دفعہ اپنی ضد سے بات منوا لیتی ہو آج ن۔۔۔۔
کون سی ضد مسٹر جنید خان ایک ہی تو ضد کی تھی وہ بھی پوری نہیں کر سکے تم ۔۔۔
یہ تمہاری نہیں ہے میری ہے صرف میری ۔۔۔۔
جنید اسے سمجھاے بول رہا تھا جب وہ اس کی باہوں میں چھپی یشفہ کو اپنی طرف کھینچتی ہوئ چیخی تھی ۔۔۔
میں سب ٹھیک کر سکتا ہو شائستہ تمہاری یہ ضد اب پوری ہو سکتی ہے ہم نکاح کر لیتے ہے ا۔۔۔۔
نہیں کرنا مجھے جیسے سکندر نے چھوڑا ویسے تم بھی چھوڑ دو گے بات ختم میری بچی دو اور نکلو یہاں سے ۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ طش سے چلای ۔۔
بسسسسس بہت ہو گیا میری بیٹی ہے یہ اور میں تمہیں ہرگز نہیں دو گا اگر تم چاہتی ہو یشفہ ساتھ رہے تو نکاح کرو کل ہی مجھ سے ورنہ یہ نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔
جنید آخر چیخ کر غرایا تھا ایک منٹ کو وہ بھی سہم گئ تھی لیکن جیسے ہی لب وا کیے بولنے کے لیے جب وہ دوبارہ بولا تھا ۔۔۔
اگر تم میرے ساتھ نکاح کے بنا رہنا چاہتی ہو مجھے ایشو نہیں کیونکہ یشفہ کے بنا میں ایک منٹ نہیں رہ سکتا باقی تمہارا فصیلہ جو ہو مجھے منظور ہے ۔۔۔۔
اس کی غراہٹ سنتے یشفہ نے آنسو بہاے شروع کر دے تھے جب وہ اسے اپنے شولڈر سے لگاے کہتا وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا ۔۔۔
نہیں میں بلکل تم سے نکاح نہیں کرو گی کاشششش کاشششش تم سے اتنی محبت نہ کی ہوتی تو آج بددعا دیتے میرا دل کانپ نہ رہا ہوتا ۔۔۔۔
میری زبان اجازت دیتی تمہارے لیے بددعا نکال سکو ۔۔۔۔
تمہاری وجہ سے سب ہوا سنا تم نے سب تمہاری وجہ سے شادی ہوئ سکندر سے تمہاری وجہ سے طلاق ہو گ۔۔۔۔۔
شائستہ شائستہ۔۔۔۔۔
وہ ابھی باہر نکل ہی رہا تھا جب روم میں توڑ پھوڑ کرتی شائستہ رو رو کر چیختی ہوئ اچانک بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔۔
تبھی وہ واپس اس کی طرف بھاگتا پکڑتے ہوے قالین پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر کو فون کرو گو فاسٹ ۔۔۔۔
ملازمہ کو اندر آتا دیکھ وہ چیختا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
احد ہماری پہلی ملاقات کیسے ہوئ تھی ۔۔۔
شفا احد کے پاس آتی دھڑام سے ڈور بند کیے اس کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔۔
جیسے سب کی ہوتی ویسے ۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر بزی ٹائپنگ کرتا نارمل سا جواب دے چکا تھا ۔۔۔۔
نہیں آپ بتاے ہم ملے کیسے دوستی کیسے ہوئ شادی کیسے ہوئ ۔۔۔۔۔
وہ چہکتی ہوئی بے تابی سے بولی تھی ۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔
اپنے سب کام چھوڑ کر وہ اس کی طرف اب مکمل متوجہ ہوتا سوچ رہا تھا کیا جھوٹ بولے ۔۔۔۔
ہم ایک مال میں ملے تم وہاں شاپنگ کر رہی تھی میں جا رہا تھا تمہارے بیگز گر گے میں نے اٹھا کر دے جب تمہیں دیکھا تو پیار ہو گیا پھر تمہارے امی ابو سے رشتہ مانگ لیا اور شادی ہو گی ۔۔۔۔
احد اسے پکڑتا اپنی ایک ٹانگ پر بیٹھاے ایک رٹے ہوے سبق کی طرح اسے جواب دے چکا تھا ۔۔۔
جب اس نے برا سا منہ بنایا تھا بچوں والا ۔۔۔
کتنی بورنگ ملاقات تھی ہماری کوئ لڑای جھگڑا ہوتا کوئ ڈر و خوف ہوتا پھر جا کر شادی ہوتی میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کیسی لگ رہی تھی شادی پر ۔۔۔۔
وہ منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
یار سیریس بندہ ہو اب ایسے ہی محبت ہو سکتی مجھ سے ا۔۔۔۔
وہ تپھڑ والا سین یاد آپ کو جب میں نے مارا تھا ۔۔۔۔
شفا اچانک کھوے ہوے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔۔
جب احد کا چہرہ زرد ہوا تھا ۔۔۔۔
ک۔کیا بول رہی ہو ۔۔۔
وہ زندگی میں پہلی بار ہکلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں میں سوچ رہی ہم بھی شادی کرے مطلب ویسے رسمیں میں دلہن آپ دلہا ۔۔۔۔
وہ آپنا سر پکڑتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔
تم نے میڈیسن کھای ۔۔۔
اس کی ہر بات اگنور کرتے وہ اس کی سرخی مائل براؤن آنکھوں کو دیکھ فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں کھای تھی میرا سر درد کر رہا کافی شاہد نیند آ رہی ہے۔ ۔۔۔۔
وہ اپنا سر ویسے ہی اس کے شولڈر پر رکھے بولی تھی ۔۔۔۔
جب احد نے بھی چپ چاپ اسے کمر سے پکڑتے سینے سے لگایا تھا تاکہ وہ گہری نیند سو جاے ۔۔۔
جبکہ وہ اپنے ماضی میں چلا گیا تھا کیسے وہ اسے پہلی بار ملی تھی ۔۔۔۔
“””ماضی ۔۔۔۔
یار اب یہ ڈئیر کرنا پڑے گا ورنہ ہم ہار جاے گی ۔۔۔۔
شفا ایک کیفے ایریا میں اپنی یونی گروپ کے ساتھ کافی پینے آئ تھی جب اس کی کلاس فیلو ماہین نے اسے کہا تھا ۔۔۔۔
اسے ڈئیر ملا تھا اسے کسی کے تپھڑ مارنا تھا لیکن پہلے وہ کوئ بہانہ سوچ رہی تھی کس کو مارے لیکن شفا اس بات کو مانے کے لیے تیار نہیں تھی وہ ایسا کام کرے ۔۔۔۔
دیکھو شفا تم اور میں ایک متوسط گھرانے سے ہے ڈئیر نہ پورا کرنے پر بیس ہزار روپے دینے پڑے گے تم یہ کر لو کون سا کسی کا قتل کرنا ہے ۔۔۔۔
وہ اسے سمجھاتی بولی تھی ۔۔۔۔
ویسے روپے کے علاؤہ بھی شفا کوئ اور چیز دے سکتی ہے ۔۔۔۔
ناصر چین اپنے لبوں میں دباے شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا سب جانتے تھے اسے وہ شفا پر مرتا تھا ایک نمبر کا آوارہ لوفر لڑکا تھا بگڑا ہوا لیکن اس کی بدمعاشی دیکھ وہ سب ہی ڈرتے تھے سواے شفا کے ۔۔۔۔
کوئ ضرورت نہیں شفا رحمان کبھی ڈئیر نہیں ہاری یہ بھی نہیں ہارے گئ ۔۔۔۔۔
وہ گردن اکڑے بولی تھی ۔۔۔۔۔
چلو پورا کرو وہ لڑکا دیکھ رہی ہو براؤن شرٹ والا اسے تپھڑ مار کر واپس آنا ہے اگر اس نے غصہ کیا تو تم ہار گئ اگر وہ چاپ رہا تم جیت گئ ۔۔۔۔۔
ناصر ویسے ہی اسے گھورتا ہوا سامنے کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
جہاں کیفے کے باہر والے ایریا میں ایک خوبصورت سی ٹیبل لگی تھی جس پر صرف وہ لڑکا سکون سے بیٹھا کافی پی رہا تھا اس پاس کوئ بھی نہیں تھا لیکن وہ جگہ کافی کھولی تھی جیسے اسی کے لیے بنای گی ہو ۔۔۔۔۔
یار جے کے کیفے ا گیا ہو یہاں کچھ نہیں اب جانے دے ۔۔۔۔
اپنی چیئر پر بیٹھا احد بیزار سی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔
وہ کل ہی جرمنی سے پاکستان آیا تھا کافی سالوں بعد ۔۔۔۔
جب جیند خان نے اسے کہا تھا وہ پاکستان جا کر ایک کیفے کو دیکھے وہاں کوئ لوفر لڑکا لڑکیوں کو تنگ کرتا ہے اور اس کے مینجر کو دھمکی دے رہا اگر اسے وہ کیفے آپنے نام چاہے ۔۔۔
اس کیفے کا اونر جنید کا دوست تھا اس نے ہلپپ مانگی تھی وہ تو پاکستان نہ ا سکا تبھی احد کو کہا تھا ۔۔۔
احد جو اپنے بزنس میٹنگ کے لیے یہاں پاکستان آیا تھا اب پچھتا رہا تھا کیوں جے کے کی بات مانی ۔۔۔۔
دیکھ اے کے کبھی جو تو خوش ہو جایا کر ان رنگین دنیا میں سکون سے بیٹھ کافی پی پھر جانا گھر اوکے ۔۔۔۔
ل۔۔۔
گڈ باے جانی ۔۔۔۔
جنید جلدی سے کہتا اس کی سنے بنا ہی اپنے موبائل پر کس کرتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔
پاگ۔۔۔۔
دیکھ نہیں چل سکتے تم اندھے ہو گیا چٹاخخخ۔۔۔۔
احد بات کرتا ہوا اپنے ٹیبل سے زرا آگے آیا تھا جب اس کا فون سنے کیں مگن وہ سامنے سے ڈرتی ہوئ شفا سے ٹکرایا تھا بلکہ شفا ہی جان بوجھ کر اس سے ٹکرای تھی ۔۔۔۔
واٹ د۔۔۔۔۔
اپنے چہرے پر پہلی دفعہ کسی کا تپھڑ پڑتا دیکھ وہ شدید طش میں آتا اسے گالی دیتا روکا تھا ۔۔۔۔
جہاں وہ اپنی براون آنکھوں میں ڈر لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
شفا نے ایک نظر پیچھے کی طرف گھومای تھی جب ناصر نے ایک اور مارنے کو کہا تھا ۔۔۔۔۔
چٹاخخخخ۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔۔
مجبور ہوتی وہ احد کو سنبھلنے کا موقع دیے بنا اس کے دوسرے گال پر بھی تپھڑ رسید کر چکی تھی ۔۔۔۔
جب اسے ایسا محسوس ہوا تھا جیسے وہ کسی دیو جیسے دندرے کی قید میں ا چکی ہو ۔۔۔
اپنے سر ماتھے پر لاتعداد گنز دیکھ اس نے سہمی نظروں سے آس پاس دیکھا تھا ۔۔۔۔
جہاں کافی سارے ہٹے کٹے بلیک یونفارم پہنے باڈی گارڈز اپنی اپنی گنز لیے اس کے قریب کھڑے ماتھے کا نشانہ لے چکے تھے ۔۔۔۔
جبکہ اس کے بے حد قریب کھڑا احد سکون سے شفا کا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا جو چیختی ہوئ اب ڈری سمہی نظروں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جانتی ہو میرے ایک اشارے پر یہ تمہارا سر اڑا دے گے ۔۔۔
شیطانی مسکراہٹ لاے وہ زرا سا اس کے قریب ہوتا اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
شفا کی سانس اٹک چکی تھی اب کیا ہونے والا وہ اپنی موت کو خود دعوت دے چکی ہے ۔۔۔۔
