Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 14)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

احد۔ا آپ سو گے کیا ۔۔۔۔

شفا اور احد دونوں روم میں الگ سوتے تھے وہ بیڈ پر جبکہ شفا صوفے پر احد بھی اس کی رضامندی جانتے خاموش تھا ۔۔۔۔

وہ جو سوچوں میں ڈوبا لیٹا تھا اب شفا کی رونی آواز سنتے ڈھیٹ بنے سوتا بنا رہا ۔۔۔۔

شفا نائٹ ڈریس پہنے احد کو اگنور کیے صوفے پر جا کر لیٹی تھی ابھی وہ لیٹی ہی تھی جب اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے پاؤں پر کچھ گرا ہو ۔۔۔۔

وہ تو بھول ہی گی تھی اس نے پائلز پہنی ہے ۔۔۔۔

تبھی اب وہ ڈرتی ہوئ اپنا سرہانہ لیے اس کے سر پر کھڑی بولی تھی ۔۔۔

ل۔لگتا س۔سو گے میں بھی یہی لیٹ جاتی ہو ۔۔۔۔

اس کا جواب نہ پاتے وہ ڈرتے ہوے احد کے قریب بیڈ پر جلدی سے لیٹ چکی تھی ۔۔۔۔

احد کی سائیڈ دوسری طرف تھی جہاں وہ صرف اس کی برہنہ مضبوط کمر ہی دیکھ سکی ۔۔۔۔

اییییییی۔۔۔۔

وہ جو آنکھیں زور سے بند کیے لیٹی تھی جب دوبارہ اپنی ہی پائل کی چھن آواز سنتی جلدی سے اس کے قریب ہوتی چیخی تھی ۔۔۔۔۔

ک۔کیسے سو رہے ہے جیسے پتہ نہیں کب کے نیند کے نشے میں ہو جب سامنے ہو تو میری لٹل بے بی ڈول کی رٹ لگای ہوتی ۔۔۔۔

کافی دیر وہ مسلسل ڈرتی ڈرتی اب احد کی کمر سے لگتی سونے کی کوشش کر رہی تھی جب پھر سے اس کی خاموشی پاتے وہ اب سارا ڈر بھولتی ہوئ طش سے احد کے اوپر سے گرتی اب اس کے بلکل سامنے ہاتھ پر اپنا سر رکھے اسے دیکھتی غرای تھی ۔۔۔۔

جب احد نے بامشکل اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔ ۔۔۔

کوئ محبت نہیں ان کو اب ڈر لگ رہا یہ نہیں سینے سے لگا لے انہہہہ ڈرامہ ۔۔۔۔

وہ کافی دیر ویسے ہی لیٹی اس کے نقش نین دیکھ رہی تھی جب بھی وہ یہ سوچتی احد اس کا ہے تب ہی اس کا دل خوشی سے بھر جاتا تھا وہ خود نہیں جانتی تھی اسے کیا ہو رہا ہے۔ ۔۔۔

اب بھی وہ بچوں جیسی شکل بناے بولی تھی۔ ۔۔۔

جب احد نے بلکل نرمی سے اسے اپنی طرف ایسا کیچھنا تھا کہ اسے محسوس نہ ہو ۔۔۔۔

واقعی وہ اب اس کے بلکل سینے سے لگی اس کی دھڑکن سن رہی تھی ۔۔۔۔۔

انہہہ کھڑوس انسان پہلے بھی تھا اور اب بھی ۔۔۔۔

اس کی دھڑکن سنتی وہ شرماتی ہوئی اب اس کے ہلکی شیو لیے گال کو سہلاے بولی تھی ۔۔۔۔۔

پتہ نہیں کیوں یہ انسان اتنا سینجدہ ہے اللہ نے اتنی خوبصورت شکل دی لیکن وہی سڑا ہوا بیگن بن کر گھومتا ہے ۔۔۔۔

شفا کی نظر اب اس کے گلابی ہونٹوں پر گی تھی جیسے وہ سختی سے دباے ہوے تھے اصل میں وہ اپنے آپ پر کنٹرول کر رہا تھا نہیں چاہتا تھا ایک بار پھر سے وہ شفا پر اپنی شدت ظاہر کرے ۔۔۔۔

ہاےےے صرف ایک بار ورنہ میرا دل بار بار اکساے گا ۔۔۔۔

وہ کافی دیر اس کے لبوں کو سہلاتی رہی تھی جب دل میں اس کی عیجب سی خواہش جاگی تھی وہ اسے چھونا چاہتی تھی تبھی وہ شرماتی گھبراتی اب سوچ رہی تھی ۔۔۔

افففف توبہ کیا سوچ رہی میں ڈر سر پر حاوی ہو گیا اگر یہ جاگ گے ت۔۔۔۔

کہاں جاگنا اتنی دیر سے ساتھ ہو تب تو جاگے نہیں اب کیسے جاگ جاے گے ۔۔۔۔

وہ اپنے ہی دل و دماغ سے جنگ کرنے میں بزی تھی جب اپنے دل کی بات پر وہ حامی بھری اس کے اور قریب گی تھی ۔۔۔۔

احد کی ٹانگوں پر اپنی ٹانگیں رکھے اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کی گردن کے گرد پھیلاے اب وہ شرماتی ہوی بہت آہستہ سے اس کے نیچے والے لب کو چھوتی جلدی سے پیچھے ہوئ تھی۔ ۔۔۔۔

احد کب سے اسکی باتیں اور حرکت سن رہا تھا لیکن یہ والی حرکت اور اپنے لبوں پر اس کا لمس پاتے وہ بے قابو ہو رہا تھا۔ ۔۔۔۔

ایک بار کرتے وہ پھر سے اپنے دل کی مانتی وہی عمل دوہرا چکی تھی اس کے ذہین میں یہی تھا احد سو رہا ہے ۔۔۔۔۔

بس لاسٹ بار ۔۔۔۔

وہ مکمل احد کے قابو میں تھی جیسے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اب بھی وہ تیسری دفعہ اس پر جھکتی جیسے ہی نیچے والے لب کو نرمی سے چھوا تھا وہی احد اسے کمر سے پکڑتے اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

شفا جو کب سے یہی سمجھ رہی تھی احد سو رہا اب اسے ایسے اپنی سانسوں سے الجھتے دیکھ وہ گھبراتی اسے گردن سے پکڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ خود کو کوس رہی تھی کیوں اس کے ساتھ ایسا کر چکی تھی جو اب اس کی سانسوں کا حشر نشر کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

ا ۔اپ جاگ رہے تھے کیا ۔ش۔شرم آنی چاہے آپ کو ۔۔۔

بامشکل اس کی گرفت سے نکلتی وہ سرخ انار جیسا چہرہ بھیگے لب لیے شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

وہ جو مسکراتا اپنا ایک بازو سر کے نیچے رکھے دوسرا ہاتھ شفا کی ٹانگ رکھا تھا وہ بلکل پرسکون تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔

بیوی کو کس کرنے میں کیسی شرم ۔۔۔

اس کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ وہ بے باک ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اس کی بات سنتے شفا کے کانوں سے دھواں نکلا تھا ۔۔۔

س۔سو جاے ا۔۔۔۔

ویسے شوہر کو کس کرنے میں بھی شرم نہیں آتی کچھ لوگوں کو میں ٹھیک کہہ رہا ہو نہ ۔۔۔

وہ پرسوچ انداز میں ایکٹ کرتا شفا کو شوک کر چکا تھا ۔۔۔۔

ہ۔ہاں ہوتے ہو گے م۔مجء

۔مجھء کیوں بتا رہے ہے میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔

شفا اپنے چہرے کے تاثرات ٹھیک کرتی جھوٹ بول چکی تھی ۔۔۔۔

ہاں یہی بتا رہا ہو کچھ لوگ ہوتے ہے میری لٹل بے بی ڈول تو معصوم سی ہے کیوٹ سی ۔۔۔۔

اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے برہنہ سینے پر گراے وہ اس کے گول گالوں کو نرمی سے چھوتے بولا تھا ۔۔۔

شفا کو اس کے لمس سے چڑ کی بجاے ایک سکون ملا تھا جیسے وہ آنکھیں بند کیے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

ی۔یہ کیا کر رہے اپ۔۔۔

وہ جو آنکھیں بند کیے اس کے سینے سے اٹھتی کلون کی خوشبو میں مدہوش تھی جب احد کے پاؤں کا لمس اپنی ٹانگ پر چلتے محسوس کیے اب وہی پاؤں اپنی نازک پاؤں پر پڑتے وہ ایکدم سے گھبراتی بولی تھی ۔۔۔۔

یہ ڈسٹرب کر رہی تھی تمہیں وہی اتار رہا ہو ۔۔۔

اپنے پاؤں کی انگلیاں اس کی پائلز کی چین میں اٹکاتے وہ اس کی گلاسز لگی آنکھوں میں دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

م

مجھے تو یاد ہی نہیں تھا یہ پہنی ہے ۔

اسے اب سمجھ آیا تھا ان کا شور تھا جن کی وجہ سے وہ ڈر رہی تھی ۔۔۔۔

یہی سو جاؤ میں ویسے بھی اپنی سوتی ہوئ بیوی کو کس نہیں کرتا جو بھی کرتا ہو سرعام کرتا ہو ۔۔۔۔

شفا اس کی گرفت سے نکلتی اب صوفے کی طرف جا رہی تھی جب احد اسے کمر سے پکڑتے اپنے پاس سینے پر لیٹاے میٹھا سا طنز کر چکا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ کس کی بات کر رہے آپ مجھ پر الزام لگا رہے اپ۔۔۔۔

وہ اپنی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاے زرا غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

ارے یار میں کون ہوتا جو اپنی لٹل بے بی ڈول پر الزام لگاؤ میں بندہ ناچیز ہو ۔۔۔

میں کچھ لوگوں کی بات کر رہا تھا چلو سو جاؤ ۔۔۔

اس کی سرخ ناک کو اپنے لبوں میں دباے وہ مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا ۔۔۔۔

اس کی گردن میں منہ چھپاے وہ آنکھیں بند کرتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہہہہ۔۔۔۔ اففففففففف۔۔۔

اسے سینے سے لگاے وہ جو سونے کی کوشش کر رہا تھا جب اچانک شفا نے اپنی ٹانگ احد کے پیٹ پر ماری تھی جب وہ درد سہتا چیخا تھا ۔۔۔۔

اب اتنی بھی بچی نہیں جو آپ کچھ لوگوں کا طنز کرے میں سمجھ نہ پاؤ ۔۔۔

اللہ نے آپ کو یہ اونٹ جیسا قد دے دیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں آپ کوئ تیس مار خان ہے ۔۔۔

میں شفا احد خانزادہ ہو کوئ چھوٹی بات نہیں ہے ایک کس پر طنز کیا میں کرو گی آپ روک نہیں سکتے ۔۔۔۔

شفا آگ بگولہ ہوتی احد کا سرخ چہرہ دیکھ طش سے بولتی ایک بار پھر سے اس کی گردن پکڑتی اپنی طرف کیے احد کے نیچے والے لب کو اپنے لبوں میں لیتی بولی تھی ۔۔۔

احد جو اسے تنگ کر رہا تھا اب اس کی ساری بات سنتے پہلے شوک اب خوش ہوا تھا کیونکہ شفا نے آپنے نیم کے ساتھ احد کا نیم لگایا تھا ۔۔۔۔

سسسسسیییی۔۔۔

وہ جو اسی کی ہی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جب اپنے لب پر اس کے دانتوں کی گرفت محسوس کیے وہ درد سے تڑپا تھا ۔۔۔۔

آج سے سوچ سمجھ کر مجھے کچھ کہے گا سمجھے ۔۔۔۔

احد کے لب سے خون نکلتے دیکھ وہ بھی دور ہوتی اب بگڑے چہرے سے کہتی اٹھی تھی ۔۔۔۔

یہ زیادتی ہے میرے ساتھ تم نے اپنی مرضی کی مجھے بھی کرنے دو ۔۔۔۔

کبھی میں نے ایسا کیا ہے جو تم نے میری ننھی سی جان ہلکان کر دی ہے ۔۔۔۔

احد بیڈ سے اٹھتا ویسے ہی اس کی طرف جاتا ہوا شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ا۔اپ ن۔نھی ننھی سی جان ایک اونٹ جیسے ہے بلکہ ایک پہاڑ لگتے ہے خ۔خبردار پاس اے آپ ۔۔

شفا کو ہوش اب آیا تھا وہ کیا کر چکی ہے تبھی ڈرتی ہوی واش روم کی طرف جاتی اسے ہی دھمکی دے چکی تھی ۔۔۔۔

پاس آ گیا تو کیا کرو گی ۔۔۔

اسے ڈرانے کے لیے وہ پاس جاتا بولا تھا ۔۔۔

م

میں نے رونے لگ جانا ۔۔۔۔

وہ اچانک نیچے قالین پر بیٹھتی ہوی رونے کی تیاری کیے بولی تھی ۔۔۔۔

افففف رونا مت دیکھو میں واپس جا رہا بیڈ پر پلیز رونا مت لٹل بے بی ڈول۔۔۔۔

وہ اپنا سارا مذاق چھوڑ کر اچانک سیریس ہوتا الٹے قدم لیے بیڈ کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

کیسے برداشت کرتا اس کی لٹل بے بی ڈول رونے لگ جاے اور وجہ بھی وہ بنے ۔۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہاہ ہاہاہہاہاہہاہاہا سیرسیلی احد اتنا بھی کیا سیریس ہونا چلے سو جاے اب ۔۔۔

احد خاموشی سے بیڈ پر جا کر لیٹ چکا تھا وہ مسلسل قالین پر بیٹھی شفا کو دیکھ رہا تھا جو اپنا رونا بھول کر قہقہ لگاتی بول رہی تھی ۔۔۔۔

احد کو اپنے طرف گہری نظروں سے دیکھتے وہ قہقہ روکتی اب جلدی سے واش روم کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔

اپنے گلابی لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ لاے وہ بھی آنکھیں موند گیا تھا ۔۔۔

کیا مسئلہ ہے یشفہ کب سے رو رہی ہو میں کیا کرو اففففف ایک تو خان پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے ۔۔۔۔

رات سے صبح ہو گئ پر جنید روم میں نہیں آیا تھا اب بھی وہ صبح ہوتے کچن میں یشفہ کا فیڈر بناے آی تھی جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔

شائستہ نے چڑتے ہوے کہا تھا ۔۔۔۔

ایک تو بندے کو عادت نہیں ڈالنی چاہے کسی کی حد ہے اب کہاں سے خان کو لاؤ پتہ نہیں کہاں چلا گیا ۔۔۔۔

فون بھی نہیں اٹھا رہا افففف میں کیسے بھول گی سدرہ بھی اس کی بیوی ہے شاہد اس کے ساتھ ہو ۔۔۔۔

فیڈر تیار کرتے وہ مسلسل خودی سے بات کرتی فون کان کو لگاے بولی تھیں ۔۔۔۔

ہاے شائستہ کیسی ہو ۔۔۔

وہ جو یشفہ کو کچن سے باہر لے کر جاتی ہال میں اے صوفے پر بیٹھی اسے فیڈ کروا رہی تھی جب وہاں سکندر اندر آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

تم یہاں کیوں نکلو باہر ابھی کہ ابھی ۔۔۔

وہ جلدی سے گھبراتی ہوی بولی تھی ۔۔۔

کیوں ڈر گی ہو کہ اگر اس جنید نے دیکھ لیا وہ کیا بولے گ۔۔۔۔

میں نے کس خوشی میں ڈرنا شاہد تم بھول گے وہ سکندر ملک نہیں جنید خان ہے اسے پتہ ہے یقین بھروسہ کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔

اگر وہ تمہیں یہاں دیکھ بھی لے تب بھی وہ کچھ غلط نہیں سوچے گا میں جانتی ہو اسے مجھ سے محبت نہیں لیکن یقین تو ہے تبھی اس نے مجھے اس وقت سبھنالا جب مجھے کسی اپنے کی ضرورت تھی میری بیٹی کو اپنا نام دیا ۔۔۔

وہ جو طنز کرتا بول رہا تھا جب وہ نڈر ہوتی جنید کا ذکر پیار سے کر رہی تھی ۔۔۔

ہال میں انٹر ہوتے جنید نے وہی کھڑے سب باتیں سنی تھی ۔۔۔

تو پھر کیوں کہہ رہی ہو نکلو باہر بلکہ مجھے یہی رہنے دو میں بھی دیکھو تمہارے شوہر کو کتنا یقین ہے تم پر ۔۔۔۔

سکندر بنا شرمندہ ہوتا وہی صوفے پر بیٹھتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔

تمہیں ۔۔م۔س۔مسئلہ کیا ہے نکلو باہر ۔۔۔۔

وہ جو ہمت کیے اتنا کچھ بول گی تھی اب واقعی ڈرے ہوئے بولی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا جنید خان غصے کا کتنا تیز ہے ناجانے وہ کیا ری ایکٹ کرے اس کے سامنے ۔۔۔۔

ارے مہمانوں کو کچھ کھانے پینے کے لیے پوچھا نہیں جاتا ۔۔۔

اس کا ذرد چہرہ دیکھ سکندر بولا تھا ۔۔۔۔

ت۔تم دفع ہو۔ا۔۔۔۔

خانننن۔۔۔۔

وہ ابھی دانت پیستے بول رہی تھی جب اندر آتے جنید کو دیکھ وہ چیخی تھی ۔۔۔۔

جنید نے ایک نظر سکندر کو دیکھا تھا پھر وہ خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتے اوپر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

انتہای گھٹیا انسان ہو نفرت ہے مجھے تم سے سنا تم نے ۔۔۔۔

سکندر کو نفرت سے کہتی وہ پریشانی میں اوپر اس کے پیچھے بھاگی تھی ۔۔۔۔

شائستہ کو کتنا یقین ہے مجھ پر ۔۔

ایک میں ہو جو اس بغیرت انسان کی سن کر غصے میں ا رہا ہو کیا میں سدرہ کا شوہر نہیں تھا میری بھی تو دوسری شادی ہے ۔۔۔

اگر شائستہ مجھے ایسے اپنا سکتی ہے پھر میں کیوں نہیں ۔۔۔

میں بھی تو بٹا ہوا شخص ہو وہ الگ بات ہے شائستہ نہیں جانتی چار سال پہلے میں سدرہ کو طلاق دے چکا ہو ۔

جنید روم میں اے مسلسل بے چین ہوتا ماتھا مسلتے سوچ رہا تھا ۔۔۔

جنید کو پارٹی کی رات سکندر نے اسے بظن کرنے لیے کہا تھا شائستہ کی گردن کی بیک پر تل ہے ۔۔۔

وہی دیکھنے جنید اس کے قریب گیا تھا جیسے ہی اسے وہ تل نظر آیا تھا تب سے وہ غصے سے پاگل ہوا تھا ۔۔۔۔

یہی وجہ تھی وہ مسلسل غصے میں گھوم رہا تھا ۔

نہیں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہے تھا سب کچھ جان کر میں نے اس سے شادی کی ہے س۔۔۔۔

خان سچی میں نے اسے نہیں بلایا وہ پتہ نہیں کیسے یہاں آ گیا ۔۔۔۔

بیڈ پر بیٹھے وہ مسلسل اپنی ہی سوچ سے شرمندہ ہو رہا تھا جب وہ گھبراتی ہوی اس کے قریب آتے بولی تھی ۔۔۔۔

م۔میں نے کہا تھا اسے تم گھر نہیں نکل جاے لیکن وہ ۔۔۔۔

سوری میری چوہیا ۔۔۔۔

وہ جو ہاتھ مسلتے اسے ہی دیکھ رہی تھی جب وہ اٹھتا اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے اس کی پشت لگاے وہ گردن سے بالوں کو سائیڈ کیے وہاں زخمی تل پر نرمی سے لب رکھتے وہ سرگوشی کر چکا تھا ۔۔۔۔

ی۔ہہ کیا کر رہے ہو میں کیا بول رہی ہو تم ی۔۔۔۔

آؤ باہر چلتے ہے اور ایک بات مجھے تم پر پورا یقین ہے پرسکون رہو میں نے اپنی پوری دلی رضا مندی سے تمہیں اور یشفہ کو قبول کیا ہے ۔۔۔۔

وہ شوک ہوتی گھبراتی بول رہی تھی جب اس کا رخ اپنی طرف کیے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

جب تک جنید خان زندہ ہے میری چوہیا کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے انجواے کرو یہ ہمارے خوبصورت سے لمحوں کو ۔۔۔۔

اس کے گلابی لبوں کو نیچے جھکتے چھوتے ہوے وہ بولتا اسے پرسکون کر چکا تھا ۔

شائستہ کی زبان بند ہو چکی تھی اب وہ کیا بولتی ۔۔۔

ارے سوری ہم لیٹ ہو گے اب کیا بتاؤ پرائیویسی بھی کوئ چیز ہوتی ہے ۔

شائستہ کو ویسے ہی کمر سے پکڑتے وہ نیچے ہال میں آتے صوفے پر اپنے ساتھ اس کو بیٹھاے سکون سے بولتا سکندر کو بے سکون کر چکا تھا ۔۔۔۔

ویسے کیوں اے ہو یہاں ۔۔۔۔

دوسرے ہاتھ میں یشفہ کو پکڑتے وہ مصروف سے انداز میں بولا تھا ۔۔۔

ویسے ہی گزار رہا تھا سوچا چکر لگا ل۔۔۔۔

اپنی ماں کا سوچو آج اے ہو یہاں دوبارہ اے تو باہر جانے کے قابل نہیں رہو گے ۔۔۔

میرے خیال سے تمہیں سمجھ ا گیا ہو گا ۔۔۔

وہ جو بول رہا تھا جب جنید سرد لہجہ میں بولا تھا ۔۔۔۔

کیا مطلب تم مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دو گ۔

کون سی بیٹی کہاں کی بیٹی یہ میری ہے جنید خان کی بیٹی یشفہ جنید ۔۔۔۔

اب یہ جوس پی کر سکون سے دفع ہو جانا چلو آؤ ہم لوگ باہر جا کر بریک فاسٹ کرتے ہے آج ۔۔۔

سکندر جو زرا سختی سے بول رہا تھا جب وہ سکون سے کھڑے ہوتے اپنی کہتا یشفہ کے گال چومتے بولتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

یہ میری بیٹی ہے جنید دیکھنا مجھے ہی ملے گی ۔۔۔

جبکہ وہ شدید طشبحالت میں وہی کھڑا چلایا تھا ۔۔۔۔

اسلام وعلیکم میم ۔۔۔

صبح احد شفا کو سوتے ہوے چھوڑ کر افس ا چکا تھا ۔۔۔

نیند سے جاگتی شفا کو پہلے یہی احساس ہوا تھا کل رات وہ احد کو تنگ کرتی زخمی کر چکی تھی ۔۔۔۔

اتنے بڑے پیلسں میں بھی اکیلے رہتے وہ تنگ آ چکی تھی ویسے بھی اسے احد کی عادت ہو چکی تھی اس کے بنا وہ بے چین ہو جاتی تھی ۔۔۔۔

تبھی وہ آفس ا گی تھی جب وہاں انٹر ہوتے مینجر نے اسے سلام کہا تھا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔

اپنے ہاتھوں میں سیفد گلدستہ پکڑتے وہ فریش سی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔

سر کو بتاو میں ا۔۔۔۔

ارے میم کیسی بات کر رہی ہے یہ تو صاف بات ہو گی میرا آفس میں لاسٹ دن ہو گا آپ کا ہی آفس ہے آپ جاے اندر ہے ۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔

جب وہ بھی احد کے آفس کی طرف چلی گی تھی ۔۔۔۔

کچھ دن ناصر اس کے بعد میں تمہارا راز فاش کرو ۔

“””just wi8 & watch “‘

احد چیک پر رقم لکھتا وہی چیک اپنے آفس میں بیٹھے سکون سے ناصر کے منہ پر مارتے غرایا تھا ۔۔۔۔

وہ ضروری میٹنگ کے لیے جا رہا تھا جب اسے پتہ چلا تھا ناصر اس سے ملنے آیا ہے ۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ اتنے ماہ سے سن رہا میں مسٹر خانزادہ تم کچھ نہیں کر سکتے چلو تم نہ کرسکو کوئ بات نہیں میں شفا کو تم سے دور کر دو گا دیکھنا ۔۔۔۔

خباثت سے چیک کو پکڑتے اسے چومتے وہ قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

بغیرت ان۔۔۔۔

اوپسسسسس آپ شاہد بزی ہے ۔۔۔۔

اس سے پہلے احد ناصر کو گردن کو پکڑتے غراتا جب اندر آتی شفا جلدی سے بولی تھی ۔۔۔

ارے میری لٹل بے بی ڈول یہاں آو ۔۔۔۔

احد اسے سامنے دیکھتا اچانک پرسکون ہوتا وہی اپنی کرسی پر اسے اپنی ٹانگ پر بیٹھاتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

م۔نہین ا۔۔۔

یہی بیٹھی رہو ۔۔۔۔

اچانک شفا کو اپنی حالت کا احساس ہوتے گھبراتے بول رہی تھی جب احد نے ٹوکا تھا ۔۔۔

کیا ہوا لٹل بے بی ڈول پیسنے کیوں ا رہے ہے ۔۔۔

اس کے ماتھے پر چمکتے پیسنے کے قطروں کو دیکھ وہ جان بوجھ کر انجان بنتا بولا تھا ۔۔۔۔

شفا نے ایک نظر بھی ناصر کو نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ آگ اگلتی نظروں سے شفا کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

پ۔پیاس لگی ہے۔۔۔

اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے وہ سر جھکاے بولی تھی ۔۔۔۔

بس اتنی سی بات ہے ۔۔۔

اس کے لبوں کو گہری نظروں سے دیکھ وہ جوس کا آڈر دے چکا تھا ۔۔۔۔

ویسے جان رات لو بیٹ اچھا تھا ۔۔۔۔

ناصر جو ڈھیٹ بنتا وہی بیٹھا تھا جب احد اسے جلیس کروانے کے لیے شفا کے کان کی لو کو سہلاتے بے باک ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ل۔لو بیٹ ی۔م۔مطلب۔۔۔

اپنی گلاسز لگی آنکھوں کو حیرت سے پھاڑتے وہ ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہممممم۔۔۔۔

احد کے چپ ہو جانے پر شفا کی نظریں اچانک اس کے نیچے والے سرخ زخمی لب پر گی تھی ۔۔۔

تبھی وہ شرماتی ہوئی ساری بات سمجھتی سر جھکا گی تھی ۔۔۔۔

ناصر تو یہ منظر دیکھ جل رہا تھا ۔۔۔۔

یہ لو جوس پی لو ۔۔۔

احد اور شفا ویسے ہی بیٹھے تھے جب جوس لاتی سکیرٹری کو دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔۔

شفا نے بہت کوشش کی تھی وہ اس کی ٹانگ سے اٹھ کر دور جا سکے پر احد نے اس کی ہر کوشش کو ناممکن بنایا تھا ۔۔۔۔

ارے دھیان سے ۔۔

وہ کانپتی ہاتھوں سے جوس کا گلاس اپنے لبوں سے لگا رہی تھی جب جوس تھوڑا سا گرا تھا تھوڑی پر لگے جوس کو احد نے اپنے لبوں سے صاف کرتے کہا تھا ۔۔۔۔

شفا جو شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی وہی یہ بےباک منظر دیکھ ناصر خود پر قابو پانے کے باوجود پہلو بدل کر اٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

میں جات۔۔۔

ہاں جاؤ شکر تمہیں یاد تو آیا ۔۔۔۔

وہ جو شفا کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ جان بوجھ کر بول رہا تھا تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو سکے لیکن احد اسے اور ڈھیٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ کیا بےہودگی ہے احد شرم ہے آپ کے پاس مطلب کہیں بھی ۔۔۔۔

ناصر کے باہر جاتے ہی شفا اس سے دور ہوتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔

نہیں شرم والا کوئ سسٹم نہیں میرے پاس ۔۔۔

جانتی ہو احد خانزادہ تمہارے معاملے میں کتنا بولڈ ہے ۔۔۔۔

اسے بازوں سے پکڑتے اپنی طرف کھینچ کر سینے پر گراے وہ آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

آپ کو کچھ کہنا فضول ہے ش۔۔۔۔

چپ اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔

وہ جو شرم سے پاگل ہوتی بول رہی تھی جب احد اسے گردن سے پکڑتے اپنی طرف اس کا چہرہ کیے نرمی سے اس کے گلابی ہونٹوں کو قید کیے بولا تھا ۔۔۔۔

افففف ایک تو بندہ کچھ کر بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔

شفا جو اپنے اوپر ہوے اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھی جو اس کی گرفت میں ہی مچل رہی تھی جب احد کا فون رنگ کیا تھا وہ جو مکمل مدہوش ہو رہا تھا اب بدمزہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

جبکہ شفا نے سکون کا سانس لیا تھا احد کو آفس سے باہر جاتے دیکھ ۔۔۔

بہت خوش ہو ویسے ایک قاتل کے ساتھ رہ کر کیا تمہیں اپنے ماں باپ یاد نہیں آتے ۔۔۔۔

شفا جو اپنے اور آحد کے درمیان گزارے لحموں کو سوچ کر خوش اور شرما رہی تھی اب ناصر کو آفس انٹر ہوتے دیکھ وہ جلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

میرے کام میں ٹانگ مت پھسایا کرو ہر وقت اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔

شفا اسے ہی کھڑی کھڑی سنا چکی تھی ۔۔۔۔

تم جانتی ہو مجھے کتنی محبت ت۔۔۔۔

بس کرو تم جاو یہاں سے پلیز ۔۔۔۔

شفا کا موڈ اچانک ہی خراب ہو چکا تھا تبھی وہ اس کو ٹوکتی بولی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ناصر بھی خاموشی سے چلا گیا تھا وہ تو جل ہی گیا تھا ان دونوں کو اتنا قریب دیکھ کر ۔۔۔۔

مجھے اندر آنے کو نہیں کہو گی ۔۔۔۔

ناصر کے جاتے ہی شفا کا موڈ بے حد خراب ہو چکا تھا جب احد کال سن کر آیا تب اس نے اپنے گھر جانے کو کہا تھا وہ جانا چاہتی تھی ۔۔۔

احد بھی اس کی سنتے چھوڑنے ا گیا تھا جب اسے کار سے باہر جاتے دیکھ وہ محبت بھرے لہجے میں بولا تھا ۔۔

مجھے اکیلا رہنا ہے یہاں کچھ دیر کے لیے امید ہے آپ رہنے دے گے اور ہاں یہ سکیورٹی سسٹم مت الڑٹ کرے گا ۔۔۔

اکیلے کا مطلب اکیلا ہی ہوتا ہے ۔۔۔

آپ اپنی مینٹگ چھوڑ کر یہاں اے مہربانی اب مجھے رہنے دے کچھ دیر یہاں اور ڈرے مت کہیں نہیں بھاگو گی ویسے بھی آپ کے پاس ہی رہنا میں نے ۔۔۔۔

شفا بگڑے موڈ کے ساتھ جو منہ میں آیا بولتی چلی گی تھی یہ سوچے بنا احد کے دل پر کیا گزار رہی ہو گی ۔۔۔۔

اچھا خیال رکھنا اپنا۔۔۔

ضروری مینٹگ کے لیے آؤٹ آف سٹی جانا پڑ گیا ہے اگر ضروری نہ ہوتا میں بھی روک جاتا یہاں ۔۔۔

کار سے باہر آتے وہ شفا کا مااتھا نرمی سے چھوتے کہتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ وہ اپنے لبوں کو سختی سے دباے بنا کچھ کہے گھر کی طرف گی تھی ۔۔۔۔

کیوں ابوببببببووووووو۔۔۔۔

اتنی جلدی تھی مجھے چھوڑ کر جانے کی ۔۔۔

دن سے دوپہر ہو گی تھی شفا پورے گھر کے ایک ایک کونے کو چھوتی اب اپنے امی ابو کے روم میں آتی کافی دیر ان کی پکس لیے بیڈ پر لیٹی اپنی غم ہلکا کر رہی تھی ۔۔۔۔

میں کیا کرو ایسا کہ میرے دل کو سکون اے۔۔۔

احد کے ساتھ کو پا کر میں بے حد خوش ہوتی ہو لیکن جیسے ہی آپ دونوں کو سوچو مت دماغ پھٹنے لگ جاتا ہے کاش میں بھی مر جاتی ابو امی کم از کم آج اس دوہری اذیت میں نہ ہوتی ۔۔۔۔

وہ مسلسل اکیلی پھوٹ پھوٹ کر روتی شکوہ کر رہی تھی آحد نے اسے ڈسٹرب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا تبھی اسے کال نہیں کی ۔۔۔۔

مجھے یقین کیوں نہیں آتا جو انسان میرے فیورٹ ناولز تک لا سکتا ہے کیا وہ میری پوری زندگی کسی دوسرے کے نام کروا کر صیح فضیلہ کیا تھا ۔۔۔۔

اپنے غم سے باہر آتی اب وہ رحمان صاحب کی الماری کی طرف گی تھی جہاں مٹی سے بھرا کافی ناولز کا بنڈل تھا اسے ہاتھوں میں پکڑتے وہ ایک بار پھر سے روتی شکوہ کر رہی تھی اس بنڈل میں اس کا ہر فیورٹ ناول تھا جیسے وہ پڑھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

یہ کیا خط ہے ۔۔۔۔

ناولز کے بنڈل کو کھولتے اس سے باہر آتے ایک لفافے کو دیکھ وہ شوک ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

دیکھو کیا لکھا ہے اس میں ۔۔۔

خط کو ہاتھ میں لیے وہ جلدی سے پڑھنے کے لیے ںےتاب تھی ۔۔۔۔

شفا کدھر ہو ۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ خط کو پڑھ پاتی جب اسے ناصر کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔

نکلو ابھی کہ ابھی باہر ب۔۔۔

دیکھ شفا وہ خونی انسان تمہیں۔ کچھ نہیں دے سکتے م۔

چٹاخخخخخچ ۔۔۔

اب تم عزت سے باہر نکلو گے یا گاڈرز کو بلاو۔۔۔

وہ شفا کو ہال میں آتا دیکھ جلدی سے بول رہا تھا جب شفا اسے تپھڑ مارتی چلای تھی ۔۔۔

احد خانزادہ کی عزت ہو میں تم یہاں منہ اٹھا کر ا گے ہو تو اس بھول میں مت رہو گھر کے باہر سکیورٹی نہیں۔۔۔

بلکہ میرے منع کرنے کے باوجود احد نے اپنے گارڈز باہر کھڑے کرواے ہے ۔۔۔۔

اب نکلو باہر یہ ہم دونوں کا معاملہ ہے۔۔۔ کون خونی کون نہیں۔۔۔

وہ اپنے آپ سے لڑتی دماغ اور دل کی جنگ سے تنگ آ چکی تھی تبھی آپے سے باہر ہوے غرای تھی۔۔۔۔

یہ تم نے اچھا نہیں کیا دیکھنا انجام کتنا برا ہوت۔۔۔۔

دفع ہو جاؤ یہاں سے سنا تم نے ۔۔۔۔

اپنے گال پر ہاتھ رکھتے وہ غصے میں بول رہا تھا جب وہ اپنی کہتی روم میں جاتی روم لاک کر چکی تھی ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ بھوت بھوت۔۔۔۔

روم میں آتے وہ روتی ہوئی وہی سو گی تھی جب رات آٹھ بجے کچھ ٹوٹنے کی آواز سنتے ڈرتی ہوی چیخی تھی ۔۔۔۔

افففف اتنا ٹائم ہو گیا ۔۔

احد کی بھی کال نہیں ای کیا وہ نہیں اے گے اب تو رات ہو گی اتنی زیادہ ۔۔۔۔

موبائل پر اتنا ٹائم دیکھتی اب وہ پریشانی سے سوچ رہی تھی ۔۔۔

اب وہ پچھتا رہی تھی کیوں گھر اکیلی رہ گی ۔۔۔

اہہہہہہہ ۔۔۔۔

چ۔چور۔۔۔

اچانک ہال میں دوبارہ ٹوٹنے کی آواز اور باہر تیز آندھی کی آواز سنتے وہ ڈرتی ہوی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔

اہہہہہہ

اہہہہہہ۔۔۔

وہ جو ڈرتی ہوئ ہال میں آی تھی جب سامنے کھڑے انسان کو دیکھتی وہ ڈر و خوف سے چیخنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔

جبکہ سامنے والا شخص پرسکون کھڑا اس کی چیخ وپکار سن رہا تھا ۔۔۔۔