Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 4)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
س۔سر یہ بچی کا فارم اس پر فادر نیم لکھنا ہے آپ بتا دے اپنا نیم ۔۔۔۔
وہ جو سوتی یشفہ اور شائستہ کو دیکھ رہا تھا جب کافی دیر بعد نرس اس کے پاس آتی ایک فارم آگے کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
یہ یشفہ جیند خان کی بیٹی ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔۔۔۔
وہ منٹوں میں فصیلہ کرتا اپنی بھاری گھمبیر آواز سے بولا تھا ۔۔۔
دل سے سوچ لیا تھا اب وہ ان دونوں کو اپنی ذمہ داری بناے گا ۔۔۔۔
جی سر اور آپ کی مسز کا نیم۔۔۔۔
شائستہ جنید خان ۔۔۔
نرس اب فٹافٹ فارم پر لکھتی بول رہی تھی جب وہ پرعزم انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
میری بیٹی ہو پیاری سی ہمیشہ رہو گی تمہارے بابا آپنی بیٹی کے لیے کچھ بھی کرے گے ہاں بس تمہاری ماں زرا نخرے والی ہے اسے منا لے گے ۔۔۔۔
نرس کے جاتے ہی وہ اب سوتی یشفہ کے کان میں مسکراتا ہوا سرگوشیاں کر رہا تھا جیسے جیسے وہ یہ سوچ رہا تھا یشفہ اور شائستہ آج سے اس کی ہے ویسے ہی اس کے دل میں سکون اترا رہا تھا ۔۔۔۔
سر آپ کی مسز یہاں زیادہ کفرٹیبل فیل ک۔۔۔
میری مسز صرف میرے ساتھ کفرٹیبل رہ سکتی ہے آپ بس شائستہ کو خان پیلس رہنے کا رایج کرواے ۔۔۔
جنید نے ڈاکٹر کو کہا تھا وہ اسے اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا جب وہ اسے سمجھانے لگی تب وہ ضدی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
مجبوراً ڈاکٹر کو اس کی مانی ہی پڑی اب شائستہ ہاسپٹل کی بجاے خان پلیس رہنے والی تھی جس کا خیال وہ خود رکھنے والا تھا ۔۔۔۔
“””کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔
ارے بابا کی جان اٹھ گیا دیکھو بابا اپنی بیٹی کے لیے فیڈر بنانے گے تھے ۔۔۔۔
جنید روم میں آتا ہوا بولا تھا جہاں شائستہ کے ساتھ پڑے چھوٹے سے بےبی کوڈ میں وہ ننھی پری لیٹی چھت کو گھور رہی تھی جبکہ شائستہ ہر چیز سے بیگانہ کوما جیسی نیند میں تھی ۔۔۔۔
ان کچھ ماہ میں وہ کوما سے باہر نہیں آئ تھی جنید نے ہی اسے اور یشفہ کو سنبھالا تھا وہ اپنا ہر کام بھلاے بس ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
یشفہ کو تو جنید کی عادت ہو چکی تھی وہ ہر وقت اسی کے پاس رہتی تھی اسے تو اپنی ماں کا لمس بھی محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
ابھی بھی وہ ویڈیو کال پر بزی تھا جب یشفہ کی بھوک کا سوچتا ہوا باہر گیا تھا فیڈر بنانے اس کا ہر چھوٹا کام وہ خود کرتا تھا ابھی بھی وہ روم میں آتا چہکتا بولا تھا ۔۔۔۔
جیند تو یشفہ کو پا کر بے حد خوش تھا جیسے وہ اس کی سگی اولاد تھی ۔۔۔۔
چلو بیٹا فٹافٹ فیڈر فینش کرو پھر ہم نے کپڑے چینج کرنے ہے ۔۔۔۔
وہ اسے گود میں اٹھاے اب صوفے پر جا کر اپنی گود میں لیٹاے اسے فیڈر دیتا ہوا دوبارہ لیپ ٹاپ میں بزی ہو گیا تھا۔ ۔۔۔۔
یہ کون ہے جے کے ۔۔۔
دوسری طرف ویڈیو کال پر احد اس کی گود میں لیٹی یشفہ کو دیکھ بولا تھا جو شکل سے شائستہ جیسی تھی لیکن آنکھیں اس کی جنید خان جیسی نیلی تھی جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے جیند کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
میری بیٹی ہے اب جل مت جانا میرے حسن اور بیٹی سے ۔۔۔
وہ لاڈ سے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
واٹٹٹٹٹٹ یہ کب ہوا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا چار ماہ میں بچی یہ کیسا لوجک ہوا میں جانتا ہو تم پاگل ہو یہ نہیں پتہ تھا مینٹل ہاسپٹل بھی ہو ۔۔۔۔
احد اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ خوش ہوتا جان بوجھ کر برا سا منہ بناے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں ہاں تم اب ایسا ہی کہو گے ہاے لوگ جل گے ہمارے حسن سے ہاےےے ہم معصوم کیا کرے کہاں جاے ۔۔۔۔
جنید بھی اسے تنگ کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
یہ تو جانتا ہو تمہارے فوڈ ریسٹورنٹ اتنے ہے پاکستان اور دوسرے ممالک میں تمہاری فوڈ چین ہے الگ سے تمہارا دوسرا بزنس ہے ۔۔۔
اتنا کما رہے ہو اب یہ کام والی ماسی کب بنے مطلب یہ بے بی سیٹر ۔۔۔۔۔
احد ابھی بھی اسے تنگ کرتا بولا تھا جو یشفہ کا چہرہ اب صاف کر رہا تھا۔ ۔۔۔
یہ دیکھو بیٹا یہ ہے تمہارے جن بھوت انکل ان کو زبان دیکھاو اب ہم اس سے بات نہیں کر رہے ۔۔۔۔
احد کی باتیں سنتے اب وہ برا سا منہ بناے یشفہ کا ننھا چہرہ سکرین کے آگے کرتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
جب اپنے ہی باپ کی نقل اتارے اس نے بھی اپنی نیلی آنکھوں کو الٹا اور ننھی سی زبان باہر نکالے احد کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
جب حیرت سے احد کا منہ کھلا تھا۔ ۔۔۔۔
یار جے کے تو ساتواں عجوبہ ہے تیری بیٹی آٹھواں عجوبہ ہے مطلب حد ہے اتنی سی بچی کی ایسی حرکتیں ۔۔۔۔۔
احد یشفہ کو دیکھ بولا تھا جو اسے ہی گھورتی جیند کے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
اے کے دیکھنا جب تیری اولاد ہو گی وہ تو نمونے ہو گے نمونے اتنے خوبصورت بندے کی انسلٹ کر دی تو نے دفع ہو اب تو میں بڑا بزی بندہ ہو ۔۔۔۔
یشفہ کو دوبارہ نیند میں جاتا دیکھ جنید کہتا ہوا کال اف کر چکا تھا ۔۔۔
جب دوسری طرف آحد نے سڑا سا منہ بنایا تھا ۔۔۔۔۔
اب کیا ہوا جو سڑے بیٹھے ہے ۔۔۔۔
شفا جو روم میں آئ تھی سامنے احد کو آف سکرین لیپ ٹاپ کو گھورتے دیکھ بولی تھی ۔۔۔
احد تو شفا کے لیے دیوانہ تھا ہی لیکن ان کچھ ماہ میں شفا اس کے لیے جنونی ہو گی وہ جہاں ہوتا وہی چلی جاتی تھی اسے احد کی عادت ہو چکی لیکن وہ اس سے بے حد محبت کرنے لگ گی تھی وہ الگ بات تھی اسے یہ بات اس نے نہیں بتای تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا تمہیں میں ایسا ہی لگتا ہو۔ ۔
وہ چہرے پر نارمل تاثرات لاتے اسے دیکھ بولا تھا۔ ۔۔۔۔
جو بلیک فراک پہنے بالوں کی چٹیا بناے بنا میک اپ کیے بڑے سے ڈوپٹے کو سر پر لگے کھڑی وہ اسے بچی لگی تھی بلکہ وہ اپنے قد کی وجہ سے اس کے سامنے بچی ہی لگتی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا میں سوچ رہی شاپنگ کر لو ا۔۔۔۔
ہاں کر لینا پوچھنے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔
وہ اپنی چٹیا کو گھوماتی بول رہی تھی جب وہی چٹیا پکڑتے آسے اپنے اوپر گراتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
یہ کچھ زیادہ نہیں بے شرم ہو گے ورنہ جب آپ کو میں پہلے دن ملی تھی تب بڑے سیریس تھے ۔۔۔۔
اپنی کمر پر چلتے اس کے بھاری ہاتھوں کی انگلیوں کو محسوس کیے وہ سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔
نہیں میں تو اب بھی بڑا سیریس ہو ۔۔۔۔
وہ اپنے لب اس کے گال پر رکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
احد ۔۔۔۔
وہ جو مدہوش ہوتا گال سے لے کر اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑنے میں بزی تھا جب وہ سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
اففف دوبارہ نیم لو میرا آج تک اپنا نام اتنا خوبصورت نہیں لگا جیتنا آج لگا۔۔۔۔
وہ بہکا ہوا اس کے گال کو سہلاے بولا تھا ۔۔۔
میں نے پوچھنا تھا امی ابو کو جرمنی کیوں بھیجا مطلب آپ نے ہی کہا تھا میں ان کی ایک ہی بیٹی ہو تو وہ وہاں کس کے ساتھ رہ رہے ہے ۔۔۔۔
وہ نروس ہوتی بولی تھی۔۔۔
جب احد کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا ۔۔۔۔
وہ لٹل بے بی ڈول بتایا تو تھا ان کی جان کو خطرہ تھا یہاں تو سیف جگہ انہیں رکھا ہوا ہے اچھا تم اداس ہو تو آؤ ان سے ویڈیو کال کر لو اوکے ۔۔۔
وہ روزانہ کی طرح بہانہ بناے اس کا مائنڈ بدلتے بولا تھا جس میں کامیاب بھی ہوا تھا ۔۔۔۔
اچھا آپ بہت اچھے ہے جو امی ابو کا اتنا خیال رکھتے ہے میں بہت خوش قسمت ہو جیسے اپ جیسے شوہر ملا ۔۔۔
اپنے ماں باپ کے لیے اس کی فکر دیکھ وہ شرماتی ہوئی اس کے گال چومتی بولی تھی ۔۔۔
ہمممم ۔۔
جبکہ وہ دل میں سوچ رہا تھا کب تک وہ اس سے سچ چھپا پاے گا ۔۔۔۔
چلو میرا بیٹا اچھے سے تیار ہو گیا اب ہم شاپنگ کرے گے ۔۔۔۔
یشفہ کو تیار کیے وہ اب مسکراتا ہوا بولا تھا اسے اس کے لیے کپڑے لینے تھے اب شائستہ تو ٹھیک نہیں تھی جو اس کے کام کرتی ۔۔۔۔
ننھی سی یشفہ مسکرای تھی جنید کی بات سن کر ۔۔۔۔
تمہیں پتہ تمہاری ماما کو شاپنگ نہیں پسند تھی۔ ۔۔۔
وہ اب شائستہ کے بیڈ کے قریب آتا یشفہ کو بتا رہا تھا جیسے اسے سمجھ آ رہی ہو ۔۔۔
جبکہ جنید اس کا ذرد چہرہ دیکھ اپنے ماضی میں کھو سا گیا تھا دوبارہ ۔۔۔
“””ماضی۔۔۔۔
تم چلو اندر میں کار پارک کر کے آیا ۔۔۔۔
جنید اور شائستہ یونی آے تھے جب وہ اسے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں جا ہی رہی کون سا بھاگ گی ہو یہ اپنے حکم اس سدرہ پر چلایا کرو انہہہ ۔۔
شائستہ خلیل خان کی بیٹی ہو ۔۔۔۔
وہ جو پورے راستے جلتے بھنتے آی تھی اب سارا غصہ نکالتی بولی تھی ۔۔۔۔
بس اس یونی کی اللہ حفاظت کرنا ورنہ شائستہ کو کسی کو نہیں چھوڑنے والی ۔۔۔۔
جنید آگے کا سوچتا ہوا اپنی کار اب پارک کر رہا تھا ۔۔۔۔
ہاے چمک چلو کدھر جا رہی ہو ۔۔۔
وہ جو بنا ڈرے یونی میں انٹر ہوئ اپنی کلاس میں جا رہی تھی جب ایک آوارہ لڑکوں نے اسے پکارا تھا ۔۔۔۔
ج۔جی ۔۔۔
شائستہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتی انہیں دیکھ بولی تھی کیونکہ وہ خود دعوت دے چکے تھے اسے آ بیل مجھے مار والا حساب ہونے والا تھا ان کا شائستہ اور جنید کے ہاتھوں ۔۔۔۔
نیو کمر ہو یونی میں ۔۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
جو سرخ رنگ لیے گول چہرہ بڑی بڑی کالی گہری آنکھیں گلابی ہونٹ بوب کٹ کالے بال ریڈ شرٹ بروان کیپری کے ساتھ چھوٹا سا کھوسہ پہنے وہ گلے میں مفلر ٹائپ سٹالر لیے ایک چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی ۔۔۔۔
ج۔جی پ۔پلیز مجھے کچھ مت کرنا ۔۔۔
شائستہ کی ایکٹنگ عروج پر تھی ۔۔۔۔
چلو ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہے پر ایک شرط پر ا۔۔۔۔
کیا شرط ہے بولو جلدی ۔۔۔
وہ جو اسے اپنے جال میں پھنستی دیکھ بول رہے تھے جب وہ آنکھوں میں شیطانی چمک لاے بولی تھی صاف مطلب تھا پھسی وہ نہیں تھی پھس تو وہ گے تھے اس کے جال پر ۔۔۔۔
ڈانس کرو چمک چلو پر ۔۔۔
وہ سب قہقہ لگاے یک زبان بولے تھے ۔۔۔۔
بس ڈانس دیکھنا ابھی کرتی ہو ۔۔۔
اپنے سٹالر کو گلے سے نکالے وہ کمر پر باندھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
خان زرا ان کو چمک چلو کا ڈانس دیکھاو پلیز ۔۔۔۔
دور سے آتے جنید کو دیکھ وہ چہرے پر معصومیت لیے بولی تھی ۔۔۔۔
یہ بھی تمہارے ساتھ کرے گا ڈانس ۔۔۔۔۔
دور سے آتے جنید کو دیکھ وہ حیران ہوتے بولے تھے جو مسکراتا ہوا انہیں کے پاس ا رہا تھا ۔۔۔۔
ہاں یہ سونگ لگاے گا ۔۔۔۔
جنید بھی پاس آتا اب موبائل سء سونگ لگاے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
وہ سب بے تاب تھے ان کا ڈانس دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔۔
جب شائستہ نے جنید کو آپنا ہاتھ پکڑایا تھا جیسے وہ مضبوطی سے تھام چکا تھا ۔۔۔۔۔
جیند کا ہاتھ پکڑتے وہ سیٹپ لیتی گھومتی ہوئ سامنے کھڑے لڑکے کی ٹانگوں کے درمیان ٹانگ ماری تھی ۔۔۔۔
جب وہ درد سے کراہنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
یہ تم کیا کر رہی ہو ڈانس تم نے کرنا ا۔۔۔۔
چمک چلو کا ڈانس کروا رہے بڑا شوق تم لوگوں کو لڑکیوں سے ایسے کام کروانے کا اب مزہ لو ۔۔۔۔
ان میں سے ایک بول رہا تھا جب جنید نے شائستہ کو گھوماتے کہا تھا جو مزے سے لہراتی ہوی سامنے کھڑے لڑکے کے پیٹ پر لات مارتی گرا چکی تھی ۔۔۔۔
وہاں سب ان کا تماشہ دیکھنے کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔۔
وہ چار لڑکے تھے جن میں سے دو تو ڈر سے بھاگ گے جبکہ باقی دو کو جنید اور شائستہ نے ٹانگوں سے پکڑتے گھسیٹنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔
ہاہہاہاہاہہاہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ۔۔۔۔
ارے سونگ ختم ہوا اب بتاو چمک چلو کیسا لگا ڈانس ۔۔۔۔۔
کافی دیر تک وہ ان دونوں کی چیٹنی بنا چکے تھے سب ہی کھڑے قہقہ لگا رہے تھے جب پھولے سانس لیے وہ ان دونوں کو چھوڑتے بولے تھے جو فرش ہر مٹی سے بھرے پھٹے کپڑے لیے رونی شکل بنا چکے تھے ۔۔۔۔
م۔معاف کر دو ہماری توبہ جو آج کے بعد ہم کسی کو تنگ کرے ۔۔۔۔۔
وہ دونوں روتے ہوے بولے تھے ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے اب آج کے بعد کسی کو تنگ مت ک۔۔۔۔
سوری بہن ہماری ہی غلطی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا۔۔۔۔۔
شائستہ غصے سے بول رہی تھی جب وہ جان بچاتے کہتے وہاں سے بھاگے تھے جب جنید ان کی پیچھے سے پھٹی پینٹ کو دیکھ قہقہ لگا چکا تھا ۔۔۔۔۔
جنید یہ تو پاگل ہے تم بھی اس کے ساتھ بن جایا کرو ۔۔۔۔
سدرہ پاس آتی شائستہ کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
تو بہن تم بھی بن جاؤ چلو میں چلتی ہو کلاس میں تم اس چپکلی کو دیکھ لو ۔۔۔
اس کی بات سنتے وہ برا سا منہ بناے کہتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
“””حال ۔۔۔
۔ میں وعدہ کرتا ہو تمہیں زندگی کی طرف واپس ضرور لاو گا دیکھنا تم میری پہلے والی شائستہ بن جاؤ گی ۔۔۔۔
وہ شائستہ کا ہاتھ پکڑتے اس پر لب رکھتے آبدیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب اس کی نقل اتارے گود میں بیٹھی یشفہ نے ایسے ہی کیا تھا جب جنید مسکرایا تھا ۔۔۔۔
یشفہ کے لمس پر شائستہ کی باڈی پر ہلچل ہوئ تھی ۔۔۔۔
لیکن جنید کا دھیان نہیں گیا تھا اس پر ۔۔۔۔
وہ اب نرس کو ہدایت دیتا ہوا یشفہ کو لے باہر چلا گیا تھا ۔۔
۔۔
خبردار اگر کوئ میرے پیچھے آیا خودی جان سے مار دو گی ۔۔۔۔
احد اسے چھوڑے آفس چلا گیا تھا جب شفا گھر میں بور ہوتی خودی اس کے افس ا چکی تھی ۔۔۔
اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا وہ کب سے اس بنگلے میں رہ رہی تھی وہ تو جیسے باہر کی دنیا ہی بھول گی تھی ۔۔۔۔۔
ابھی بھی اسے بنا بتاے گارڈز لیے افس کے باہر کھڑی تھی جب پیچھے کھڑے گارڈز کو دیکھ چیخی تھی ۔۔۔۔
لیکن و۔۔۔۔
تمہارا سر کوئ جن بھوت نہیں جس سے ڈر رہے ہو چلو بھاگو یہاں سے ۔۔
گارڈز ڈرتے بول رہے تھے جب وہ طش سے کہتی خودی اندر انٹر ہو چکی تھی ۔۔۔۔
ہاےےے کتنے لوگ ہے ۔۔۔
گارڈز مجبوراً وہی ہاتھ باندھے کھڑے ہو چکے تھے جب بلڈنگ کے ڈور سے وہ ایک وقار سے اندر گی تھی پورے آفس میں ہلچل مچ گی تگی احد خانزادہ کی بیوی پہلی بار وہاں آی تھی ۔۔۔
تبھی ہوا کی سیپڈ سے بھاگتے دوڑتے لڑکے لڑکیوں کو دیکھ وہ منہ کھولے بولی تھی ۔۔۔۔
اپنے باس کو بتاو لٹل بے بی ڈول آی ہے ۔۔۔۔۔
وہ ان سب کو اگنور کیے چلتی ہوئ ایک لڑکی کو دیکھ اکڑ سے بولی تھی ۔۔۔۔
جو شاہد آحد کی سکیرٹری تھی ۔۔۔۔
جی میم اپ ویٹ کرے وہ ضروری میٹنگ م۔۔۔۔
وہ جو اس چھوٹی سی اکڑ لڑکی کو دیکھتی بول رہی تھی جب شفا ویسے ہی چلتی ہوئ احد کے آفس انٹر ہو چکی تھی ۔۔۔۔
پتہ نہیں کون ہے احد سر کے غصے سے ڈرتی نہیں ابھی بتا کر آتی ہو ۔۔۔۔
وہ سوچتی ہوئ اب میٹنگ آفس جا رہی سوچ رہی تھی ایک وہی بے خبر تھی اس بات پر شفا احد کی بیوی ہے ۔۔۔۔
س۔سر آپ سے کوئ ملنے ا ۔۔۔
پہلی بات تمہیں اجازت کس نے دی بنا پرمیشن کے اندر آنے کی ۔۔۔۔
دوسری بات اب دفع ہو جاو یہاں سے مجھے آواز نہ سنای دے ۔۔۔۔۔
میٹنگ آفس میں وہ جو ایک ضروری ڈیل کرنے میں بزی تھا جہاں اس کا مینجر ڈیل کے بارے میں سمجھا رہا تھا جب اس کی سیکرٹری اندر آتی بول رہی تھی جب وہ بنا کسی کا لحاظ کیے سردپن۔ سے چیخا تھا ۔۔۔۔
وہاں بیٹھا ہر شخص اس کی غراہٹ سن کر ایسے ہو گیا تھا جیسے وہ سب وہاں موجود ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔
س۔سور۔۔۔۔
امجد لاک کرو ڈور کو ۔۔۔۔
وہ ڈرتی بول رہی تھی جب وہ اپنے مینجر کو آڈر دیتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
وہ آپنا سا منہ لیے واپس باہر چلی گئ تھی ۔۔۔۔
دروازہ کھولو سن رہے ہو میری بات ورنہ ناراض ہو جاؤ گی ۔۔۔۔۔
شفا کو جا کر اس نے بتایا تھا احد بزی ہے اس نے پوری بات نہیں سنی ۔۔۔۔
شفا یہی سوچ کر اس کا ویٹ کرنے لگ گی تھی جب تین گھنٹے بعد بھی آحد اپنے آفس نہ آیا تبھی وہ اس سکیرٹری کے پاس گی تھی ۔۔۔۔
وہ ہمت کرتی ایک بار پھر جا کر پوچھنے والی تھی جب ڈور کو لاک ہوتے دیکھ واپس آئ تھی ۔۔۔۔
وہ جو اتنے گھنٹے ویٹ کر رہی تھی اب یہ سنتے غصے میں آئ تھی کہ احد نے ڈور لاک کیا ہے ۔۔۔۔۔
تبھی وہ اگ بگولہ ہوتی میٹنگ آفس جاتی زور زور سے ڈور کو ناک کرتی چیخی تھی ۔۔۔۔۔
میں کہہ رہی ہو ڈور کھولو ورنہ ناراض ہو جاؤ ۔۔۔۔
شفا کے چیخنے چلانے کی آواز سنتے سارا آفس ہی خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ آفس میں بیٹھے احد کو چیخنے کی آوازیں آ رہی تھی لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھا باہر ہے کون ۔۔۔۔۔
جاؤ ڈور کو اوپن کرو جو بھی ہوا رکھ کر تھپڑ مارنا اس کو جاہل انسان ہے کوئ ۔۔۔۔
بالآخر تنگ آتے وہ اپنے مینجر کو آڈر دیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
جب امجد مینجر حکم مانتا ہوا اٹھ کر ڈور اوپن کرنے گیا تھا۔ ۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہیں دیکھای نہیں دیتا ہم بزی ہے پاگل لڑکی ا۔۔۔۔
احد کدھر ہے ۔۔۔۔
وہ سامنے کھڑی سرخ چہرہ لیے شفا کو دیکھ بولا تھا جب وہ دو ٹوک بولی تھی ۔۔۔۔
تم سے مطلب نکلو یہاں سے ورنہ۔۔۔۔۔
احد جو بزی تھا لیکن شفا کی غراہٹ سنتا فورا سے پہلے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
جب مینجر نے غصے سے کہتے اپنا ہاتھ اٹھاے شفا کو مارنے کے لیے آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔
وہی احد خانزادہ اپنے جلالی روپ میں آتا تن فن کرتا اس تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔۔
