Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 18) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 18) Part - 2
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
شششش ششششش بے بی چپ ہو جاؤ ۔۔۔
احد جو دوائ کے اثر میں سو رہا تھا جب اسے شفا کی روتی آواز سنای دی تھی ۔۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ا۔۔۔۔
ی۔یہ دیکھے رو رہی ہے چپ کیوں نہیں ہوئ میں نے فیڈر بھی دیا اس کو لیکن پھر بھی روے جا رہی ہے ۔۔۔
احد بامشکل اٹھنے کی کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ اسی کے سینے سے لگتی آبدیدہ ہوتے بولی تھی ۔۔۔
تم تو ریلکس کرو یار بچی ہے رونا تو اے گا ہی ۔۔
اس کے بالوں کو سہلاے وہ بیڈ پر روتی ہوی یشفہ کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں رو رہی ہے پیٹ بھر گیا ہے اس کا ا۔۔۔
میری پیاری سی لٹل بےبی ڈول اسے جے کے کی عادت ہے یار اسے مس کر رہی ہے وہ ۔۔۔
وہ خودی بیزار سی شکل بناے بول رہی تھی جب وہ اسے کمر سے پکڑتے اپنے بے حد قریب کرتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن اب میں لالہ کے پاس تو نہیں جاؤ گی آپ ایسا کرے خود پکڑ لیے ۔۔
شفا معصوم سی شکل بناے بولی تھی ۔۔۔
کیااااااا میں کیسے پکڑ لو اتنی چھوٹی ب۔۔۔
ایسے پکڑتے ہے بےبی کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔
احد جو اس کی بات سنتے چیخا تھا جب وہ اسی کی گود میں یشفہ کو رکھے سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔
کیوٹ ہے دیکھو چپ کر گی یہ ۔۔۔۔
اس کے نرم نرم گالوں کو چھوتے وہ خودی مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔
ویسے مذاق والی بات نہیں ہے آپ کی جن جیسی سڑیل کھڑوس شکل دیکھ کر یشفہ کو رونا چاہے تھا پر یہ تو مسکرا رہی ہے حیرت ہے ۔۔۔
شفا بہت سی سینجدہ ہوتی بولی تھی جہاں احد مسلسل یشفہ کے ساتھ کھیلنے میں بزی تھا ۔۔۔
کیا مطلب میں اب تمہیں ایسا لگتا ہو ا۔۔۔۔
نہیں آپ تو بڑے کیوٹ سے ہے میں نے مذاق کیا تھا ہی ہی ہی ۔۔۔
اچانک اس کا سیفد چہرہ سرخ ہوتے دیکھ وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کرتی زبردستی ہنسی کیے بولی تھی ۔۔۔۔
کیوٹ ہو تو پاس کیوں نہیں آتی میرے پ۔۔۔
اہہہہہہ ۔۔۔
کی۔کیا ہوا پین ہو رہا ہے میں بھی کیسے بھول جاتی ہو آپ کو چوٹ لگی ہے ۔۔
وہ شفا کا ہاتھ پکڑے اپنی طرف کھینچ رہا تھا جب اسے شولڈر پر پین ہوتے چلایا تھا تبھی وہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
نہیں تھورا سا پین ہو رہا بس ویسے میں ٹھیک ہو ا۔۔۔
لالہ کو کہتی ہو ڈاکٹر کو فون کرے جلدی سے میں آتی ہو زرا ا۔۔۔
بےبی ڈول بے بی ڈول اففففف پاگل لڑکی ۔۔
اس کی بات سنتے شفا جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر بھاگتی بولی تھی جب وہ پیچھے اکیلا ہی چیختا رہا ۔۔۔
اتنی بھی کیا جلدی تھی خانم جو جاگ گی ہو ۔۔۔۔
جنید جو ابھی کچھ دیر پہلے سویا ہی تھا اچانک اپنے اوپر جھکی شائستہ اپنے گیلے بالوں سے اس کا چہرہ گیلا کر رہی تھی جب وہ اپنی بھاری ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولتا ہوا اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔۔
میرے پیارے سے خان ہم احد کے گھر ہے اپنے گھر نہیں جو سکون سے سوتے رہتے ویسے بھی میں اب اپنے گھر جانا چاہتی ہو ۔۔
شائستہ آرام سے اس کے گالوں کو سہلاتے بولی تھی ۔۔۔
ہاے جب تم قریب ہوتی ہو تب میں ہر چیز بھول ہی گیا مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ ہماری یشفہ کدھر ہے یار ۔۔۔۔
آس پاس پورے بیڈ پر دیکھتے وہ بھی ہوش میں آتا بولا تھا جب شائستہ اس کے اوپر سے نرمی سے اٹھی تھی ۔۔۔
شفا لے گی تھی رات اسے زیادہ پسند ہے بےبی تبھی ا۔۔۔۔
ویسے اب یشفہ کا بھای بھی آنا چاہے اسے کپمنی ملنی چاہے اکیلی ہوتی ہے ۔۔۔۔
شائستہ کو دوبارہ اپنے اوپر گراے وہ بہکاے ہوے لہجے میں اس کی بات کاٹتے بولا تھا ۔۔۔۔
کچھ تو ش۔۔۔
لالہ لالہ لالہ ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی جب باہر سے انہیں شفا کے چلانے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا چھوٹی سب خیریت ہے ا۔ ۔۔
و۔وہ لالہ ان کو پین ہو رہا ا آپ ڈاکٹر کو کال کرے بتاے کیوں پین ہو رہا ہے ۔۔۔
جنید اور شائستہ دونوں اس کی آواز سنتے پریشانی میں روم کا دروازہ کھولتے بول رہے تھے جب وہ اندر آتی مسلسل روتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔
ریلکس چھوٹی ایسا ہو جاتا ہے ابھی تو شاہد ڈاکٹر سو رہا ہو تم چلو میں فون کرکے دیکھتا ہو ۔۔۔
جنید بھی پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
و۔وہ۔وہ وہ سوری لالہ مجھے پتہ نہیں چلا آپ فون کر دے ۔۔۔
شفا کو اب ہوش آیا تھا وہ کتنی صبح ان کے روم میں ا گی تھی تبھی شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کوئ بات نہیں میں فون کرتا ڈاکٹر کو ۔۔۔
وہ اسے پرسکون کرتا بولتا ہوا فون نکال کر کال ملاے بولا تھا ۔۔۔
جب شفا ویسے ہی روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
ی۔یہ کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔
شفا روم کی طرف آئ تھی جب سامنے والا منظر دیکھ کر ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔
احد جو یشفہ کو گود میں اٹھاے آہستہ آہستہ قدم اٹھاے روم سے باہر ا رہا تھا جب وہ گرتے گرتے بچا تھا تبھی پاس سے گزارتی سدرہ نے اسے باہوں سے پکڑا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے احد اس سے دور ہوتا جب شفا بولی تھی ۔۔۔
دیکھو شفا اس نے مجھے پکڑ لیا ہے میں کہہ بھی رہی ہو مجھے چھوڑ دے ل۔۔۔۔
چٹاخخخخخخ۔۔۔
تم جیسی بےشرم عورت ہوتی ہے جو ہر مرد کے گلے کا ہار بنتی ہے اور بدنام بھی اتنے سکون سے کرتی ہو تمہیں تو عورت کہنا بھی غلط ہو گا تم عورت کے نام پر دبا ہو ۔۔۔۔
سدرہ جو سارا الزام ہی آحد پر ڈال رہی تھی جب شفا شدید طش میں پاس آتی اسے زور سے تپھڑ مارتی چیخی تھی ۔۔۔۔
دو یہ مجھے ہماری بےبی ہے تمہارا سایہ بھی اس پر نہیں پڑنا چاہے ۔۔۔
یشفہ کو اس کے ہاتھوں سے پکڑتے وہ مسلسل طش سے چیختی بول رہی تھی ۔۔
زبان سبھنال کر بات کرو ہو کیا تم جس کا اتنا غرور ا۔۔۔۔
احد خانزادہ کی عزت ہے یہ اس کے دل کی دھڑکن ہے اس سے بڑی کیا بات ہو گی میں اگر چپ تھا تو اسی وجہ سے تم ایک عورت ہو ورنہ تمہارا وجود میں کتوں کے آگے پھینکوا۔ دو تمہارا نام و نشان نہ رہے ۔۔۔
سدرہ جو اپنی ہی چال میں پھنستی ہوئ شفا پر ہی چیخ رہی تھی جب احد کی غراہٹ اسے سنای دی تھی جو اپنی سرخ گرے آنکھوں میں طش لیے بولا تھا ۔۔۔۔
آپ اندر جاے میں لالہ کو دے کر آتی ہو ۔۔۔
احد کو کہتی شفا یشفہ کو لیے سیڑھیوں کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
بہت غرور ہے تمہیں اپنی اس ننھی سی پیاری سی بیوی پر جب یہی نہ رہے تو کیا ہو گا ۔۔۔۔
سدرہ اپے سے باہر ہوتی شفا یشفہ کو دیکھ احد کو دھمکی لگاے بولی تھی ۔۔۔۔
کیا کرو گی تم میں ڈرتی تھوڑا ہو تم سے احد خانزادہ کی بیوی ہو ن۔۔۔۔
اہہہہہہہ اہہہہہہہہہہ ۔۔۔
لٹل بےبی ڈول چھوٹیییییییی ۔۔۔
شفا اس کی بات سنتی دوبارہ اس کی طرف آتی بول رہی تھی جب سدرہ نے غصے سے اسے سڑھیوں پر سے دھکا دیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ لڑکھڑاتی ہوی سڑھیوں سے نیچے گری تھی جب احد جنید شائستہ سب کی چیخ سنای دی تھی ۔۔۔۔
ب۔با۔بابا۔۔
یشفہ جو شفا کے ساتھ ہی گری تھی وہ اس کے سینے پر گری رو رہی تھی ۔۔۔۔
بابا کی جان ۔۔۔
جنید پاس جاتے اسے اٹھایا تھا جبکہ شفا بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
جنید اور شائستہ روم سے ہی باہر آتے اوپر کی طرف جا رہے تھے ۔۔۔
جے کے ڈاکٹر کے پاس جانا ہو گا ا۔۔۔
اے کے میں اٹھا لیتا ہو ا ۔۔۔
کار نکالو ۔۔۔
جنید کو ہدایت دیتے احد نے شفا کو گود میں بامشکل اٹھایا تھا جب جنید ایک بار پھر سے بولنے والا تھا جب وہ کہتا باہر کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو شائستہ سب خیریت ہے۔ ۔۔۔
شفا اور یشفہ کو ہسپتال لایا گیا تھا جب روم میں ان دونوں کا چیک کرتے ڈاکٹرز کے ساتھ اندر احد اور جنید دونوں تھے جبکہ شائستہ باہر کھڑی ہی مسلسل روتی دعا کر رہی تھی جب پاس آتے سکندر نے اس سے پوچھا تھا ۔۔۔
تم سے مطلب جاؤ یہاں سے ۔۔۔
اس کی طرف نہ دیکھتے وہ غصے سے بولی تھی ۔۔۔۔
اب میرے ساتھ تم ایسا کرو گی میں تم سے محبت کرتا ا۔۔۔
کون سی محبت تھی مسٹر سکندر آپ کو وہ محبت جو ایک کاغذ کے ٹکڑے پر یقین کرکے ختم ہو گی ۔۔۔
تم ایک انتہائی بغیرت انسان ہو سنا تم نے ایک جھوٹی رپورٹس کی بنا پر تم نے اپنی سو کالڈ محبت بھول گے اگر تھوڑا سا یقین ہوتا تو کبھی ایسی حرکت نہ کرتے جب سب سچ پتہ چلا تب بجاے شرمندہ ہونے کے تم خان کے پاس پہنچ گے اسے بھڑکانے کے لیے ۔۔۔۔
وہ جو اس کی طرف دیکھتا پریشانی میں بول رہا تھا جب وہ اتنے دنوں کا سارا غبار نکالتی اس پر چیخ رہی تھی ۔۔۔۔
میں نے یہ پوچھا ہے تم یہاں کیا کر رہی ہو ہماری بیٹی تو ٹھیک ۔۔۔۔
تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی کیا میں کیا بول رہی ہو تم اپنے دماغ میں بات بیٹھا لو یشفہ جنید خان کی بیٹی ہے اور ہمیشہ رہے گی تمہاری وہ ہرگز بیٹی نہیں ہے تم ایک انتہائی خود غرض انسان ہو سنا تم نے تم کیا ہو ۔۔۔۔
اگر کبھی تم نے دوبارہ شادی کی تو اس کے کردار کو اچھے سے دیکھ لینا اس کے بعد اس سے شادی کرنا یہ نہ ہو اس لڑکی کی بھی زندگی خراب کر دو تم مجھے شدید نفرت ہے تم سے ۔۔
وہ ساری بات کو اگنور کیے بول رہا تھا جب دوبارہ بولا تو وہ پھر سے چیخی تھی ۔۔۔۔
دیکھو میری وہ ساری غلط فہمی تھی ا۔۔۔۔
تمہاری اسی غلط فہمی نے میری زندگی خراب کر دی تھوڑا سا یقین ہوتا تو کبھی وہ گھٹیا حرکت کرتے تم یہاں سے دفع ہو جاؤ سنا تم نے نفرت ہے مجھے تم سے میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہو اگر تھوڑی سی شرم باقی ہے تو کبھی سامنے مت آنا میرے ۔۔۔۔
شائستہ اس پر سارا غصہ نکالے گہرے گہرے سانس لیتی آنسو بہا رہی تھی جب وہ خاموشی سے سنتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔
خ۔خان کیسی ہے یشفہ اور شفا ۔۔۔
دور جاتے سکندر کو دیکھ وہ اب روم سے باہر آتے جنید کو دیکھ فکرمندی سے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے او ملو لو اس سے ۔۔۔۔
اسے شولڈر سے پکڑتے وہ اندر لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔
“””ایک دن بعد۔۔۔
ش۔شف۔شفا دیکھو تمہارے شوہر نے کیا کیا میرے ساتھ می۔میں تو تم سے ملنے آئ تھی یار اور یہ سب۔۔۔۔
شفا جو شائستہ کے ساتھ پیلس آئ ہی تھی اپنا چیک اپ کروا کر جب سامنے ہال کو منظر دیکھتے وہی روک گی تھی جب پھٹے کپڑوں کے ساتھ روتی بکھری حالت میں ماہین نے احد کی طرف اشارہ کیے بولی تھی جو خود بھی شرٹ لیس کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
شفا تو بلکل سن کھڑی ہو چکی تھی اس کے جسم سے جان نکل گئ تھی وہ منظر دیکھ کر ۔۔۔۔۔
شفا میں کہیں کی نہیں رہی تمہارا شوہر درندہ ہے درندہ ۔۔۔
ماہین شفا کے قریب آتی مسلسل روتی ہوئی بول رہی تھی جبکہ اس کی نظریں احد کے برہنہ سینے پر تھے جہاں بہت سارے ناخنوں کے نشان تھے ۔۔۔۔
لٹل بےبی ڈول میری بات سنو یہ جھوٹ بول رہی ہے میرا کوئ قصور نہیں ہے ا۔۔۔۔
بھابھی میں روم میں جا رہی ہو ماہین تم گھر جاؤ اپنے ۔۔۔۔
وہ جو اس کے قریب آنے کی کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ کھوے ہوے لہجے میں کہتی وہاں سے سیڑھیاں چڑھتے اوپر گی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ روتی ہوئی ماہین کو لیے شائستہ باہر لے گی تھی اور احد پریشان سا شفا کے پیچھے اوپر گیا تھا ۔۔۔۔
لٹل بےبی ڈول میرا یقین۔ کرو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا تمہیں کیا اعتبار نہیں اپنے احد پر جو ایسا کرے گا ۔۔۔
شفا گم صم سی روم میں آتی بیڈ پر بیٹھ چکی تھی جب احد روم میں آتا خاموشی سے اس کے قدموں میں بیٹھتا اپنا سر اس کی گود میں رکھے بولا تھا ۔۔۔۔
ماما بابا کا ایک کار ایکسڈنٹ میں موت ہو گی تھی تب میری عمر سات سال تھی ۔۔۔۔
کھربوں کی جائیداد کا مالک تھا میں اکلوتا سارے خاندان والے لالچی تھے لالچ میں ا کر مجھے سات سال کی عمر میں ہر ماہ کوئ نہ کوئ لے جاے جہاں میں رہ لیتا تھا تب اتنی سمجھ بلکل نہیں تھی جب اپنے کزنوں کے والدین کو دیکھتا تھا پیار کرتے دل میں یہ بات ضرور آتی تھی کہ کیوں اتنی کم عمر میں میرے ہی والدین مجھ سے جدا ہونے تھے اگر ایسا ہونا تھا تو میں کیوں زندہ رہا مجھے بھی مرنا چاہے تھا ۔۔۔۔
کوئ بھی مجھ سے پیار نہیں کرتا تھا بس پیسوں کی ہوس تھی جو میرے پاس تھے سب کا پلان تھا وہ میری جائیداد لینا چاہتے تھے ۔۔۔
ہوش سبھنالا تو عقل آئ یہ سب تو پیسوں کے لیے لالچی بن گے تھے جیسے تیسے کرکے میں جرمنی چلا گیا ہمشیہ ہمیشہ کے لیے جو رشتے دار اتنے میٹھے پیارے بن رہے تھے سب کا چہرہ میرے سامنے ا گیا تھا ۔۔۔۔
مجھے نفرت ہونے لگ گی تھی یہ پیار محبت عشق سے میں سوچتا تھا پیسا ہی سب کچھ ہوتا ہے اتنے سال جرمنی رہا وہاں پڑھا سب کچھ کیا لڑکیاں بھی مرتی تھی مجھ پر وجہ میرا پیسہ تھا ۔۔۔۔
پاکستان میں آیا تھا ایک ضروری ڈیل کی وجہ سے ورنہ کبھی نہ آتا میں ۔۔۔
جب ہماری پہلی ملاقات ہوئ مجھے ایسا لگا جس پیار محبت عشق بھوکا رہا میں بچپن میں وہ مجھے مل گیا ہے تمہاری خاطر میں نے سب کچھ کیا میں ایک سڑیل کھڑوس انسان تھا جو مجھ سے کوئ بات کرتے ہزار دفعہ سوچتے تھے وہی احد خانزادہ نے پوری دنیا کو بھلا کر بس اپنی شفا سے خاموش محبت کی ۔۔
میں اتنا جنونی تھا مجھے تمہاری نفرت تک بھی قبول رہی وجہ جانتی ہو تم کیونکہ مجھے ہمشیہ سے تم سے محبت رہی بلکہ اب تو عشق بن چکی ہو کیا تم سوچ سکتی ہو میں تمہارے علاؤہ کسی دوسری لڑکی کے پاس جا سکتا ہو ۔۔۔
احد جو کافی دیر اسے سمجھاتا رہا اس کا کوئ قصور نہیں ہے جب اسے لگا شفا پھر بھی کچھ نہیں بول رہی تبھی وہ اس کی گود میں سے سر اٹھاے اب کھڑے ہوتے بولا تھا ۔۔۔
ایسی بات نہیں ا ۔۔۔۔
ایسی ہی بات ہے تمہیں یقین ہی مجھ پر نہیں ہے لٹل بےبی ڈول بلکہ قصور ہی میرا ہے میری ہی خاموش محبت میں اتنی طاقت نہیں ہے جو تم مجھ سے محبت کرتی یا یقین کرتی میں سمجھ گیا ہو ساری بات کیا کچھ نہیں کیا میں نے تمہاری خاطر اپنے آپ کو بدل لیا جہاں میں اتنا بولتا نہیں تھا اب میں کتنا بولتا ہو ۔۔۔۔میرے لہجے میں نرمی ا گی ورنہ میری آواز سے میرے ورکرز تک کانپ جاتے تھے ۔۔۔۔۔
میری ہی خاموش محبت میں اتنا اثر نہیں تھا جو تم یقین کرتی میری بات پر میری ہی غلطی تھی ۔۔۔
شفا ہوش میں آتی اس کے قریب جاتی تڑپتی ہوی بول رہی تھی جب وہ طش سے اپنی کہتا آنسو بہاے روم سے باہر گیا تھا ۔۔۔۔۔
احد میری بات سن لے ایسی بات نہیں ا۔۔۔۔۔
نہیں شفا میری ہی غلطی ہے جو تمہیں قید کرکے رکھا ہوا ہے تم آزاد ہو چھوڑ کر جانا چاہتی ہو چھوڑ سکتی ہو ۔۔۔۔
میں کچھ نہیں کہو گا تمہارا فیصلہ ہے میں تھک گیا ہو بار بار ایک ہی بات کہہ کر میرا یقین نہیں ہے تو اپنی دوست سے پوچھ لینا کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
شفا جو اس کے پیچھے جاتی بول رہی تھی جب وہ اپنی کہتا سڑھیوں سے نیچے جاتے ہال سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ شفا وہی بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے یقین ہے آپ پر احد میں بھی آپ سے عشق کرتی ہو سچی بول رہی ہو پلیز واپس آ جاے احدددددددد۔۔۔۔۔
روتی تڑپتی ہوی وہ وہی قالین پر گرتی چیخ کر بولی تھی جہاں اب وہ تنہا بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔۔
سچ ہی کہا تھا اس نے اسے شفا سے پیار محبت ہی چاہے تھی جیسے وہ کرتا تھا اس سے محبت
