Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 21) Last Episode

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

احد چھوڑ دو اس کو یار پولیس دیکھ لے گی ۔۔۔۔

بلڈنگ سے نیچے کھڑی پولیس اور جنید کب سے اوپر والے فلور پر دونوں کی لڑای دیکھ رہے تھے ہیلی کاپٹر کو پولیس اپنے حوالے کر چکی تھی جبکہ وہ ابھی ناصر کو پکڑ نہیں پائ تھی ۔۔

ابھی بھی فلور کی گرل تک آتے احد کو دیکھ جنید نیچے سے سیپکر سے چیخا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا اب بول دیکھ یہاں سے تو نیچے گرا تو سیدھا اوپر جاے گا ۔۔۔

لڑتے وقت واقعی احد کو ہوش نہیں تھا وہ فلور کی گرل تک ا چکے ہے تبھی ناصر اسے گرل سے دھکا دیتے ہاتھ پکڑتے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔

احد کو سہارا صرف ناصر کے ہاتھ کا تھا ۔۔

ن۔نہیں پلیز ایسا کچھ مت کرنا ا۔۔۔

چھوڑ ہاتھ میرا تجھے میں بتاؤ گا موت کیسی ہوتی ہے چھوڑ۔۔۔

شفا جو چیختی بول رہی تھی جب احد نیچے لٹکتے ہوے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے ناصر احد کا ہاتھ چھوڑتا جب اچانک وہاں ماہین نے آتے ہی بھاگ کر احد کا ہاتھ پکڑتے اپنی طرف کھینچ لیا تھا جبکہ خود ناصر کو گرل سے دھکا دیا تھا جب اپنے اوپر ہوتے اچانک حملے پر ناصر چیختے ہوے ماہین کو بھی نیچے کھینچ لیا تھا۔۔۔

احددددددددد۔۔۔

چیخنے کی آواز سنتے نیچے سے جنید چیخا تھا ۔۔۔

وہی شفا بھی احد کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔

احدددد احددددددد۔۔۔

جنید کے ساتھ پوری پولیس فورس بھی بلڈنگ کے اندر بھاگی تھی جبکہ شفا مسلسل روتی ہوئی گرل سے نیچے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

احد جو خود یہ سب اچانک ہوتے دیکھ شوک کھڑا تھا جب گرل پر لگتی روتی شفا پر دھیان گیا تھا ۔۔۔۔

ا۔احد احدددد احدد پک ۔۔۔

ن۔نہیں ش۔شفا م۔مجھے مت بچنا احد نے ٹھیک کہا میں اچھی لڑکی نہیں تھی جو لڑکی پہلے ناصر سے محبت کرتی تھی پھر احد سے کر گی وہ کچھ بھی کر سکتی تھی میں نے کتنا بڑا گناہ کیا یار اگر میں زندہ رہی تو کبھی خود کو معاف ۔۔۔۔

ن۔نہیں احد جنید لالہ پکڑے ہاتھ ماہین کا تم ایسا مت بولو مجھے اکیلا مت چھوڑو تم میری دوست ہو بہن ہو میں سچی معاف کرتی تم کو پلیز اوپر ا ج۔۔۔

ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا یار ورنہ میں تو دوستی کے قابل بھی نہیں ہو سوریی شفاااااااا۔۔۔

گرل سے نیچے لٹکتی ماہین کی ٹانگ پکڑتے ناصر بھی لٹک رہا تھا جب وہ روتی بول رہی تھی تبھی شفا نے چیختے احد اور جنید کو بلانے کی کوشش کی تھی جب ماہین نے اس کو سوری کہتے ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

اہہہہہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔

بلڈنگ کے نیچے چلتی سڑک پر دونوں وجود خون سے لت پت پڑے تھے جیسے دیکھ شفا چیخی تھی ۔۔۔

ڈ۔ڈا۔ڈاکٹر وہ۔۔۔

ایم سوری ہم ان کو بچا نہ سکے ۔۔۔۔

شفا شائستہ جنید ہاسپٹل اے تھے کافی دیر انتظار کے بعد آپریشن تھیٹر سے باہر آتے ڈاکٹر کو دیکھ شفا نے روتے ہوے بامشکل بول رہی تھی جب ڈاکٹر نے افسردہ ہوتے جواب دیا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں ن۔نہیں نہیں لالہ اس نے چھوڑ دیا مجھے لالہ سنا آپ نے چھوڑ دیا اس نے مجھے ۔۔۔۔

یہ خبر شفا پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی تبھی جنید کے گلے لگتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چیخی تھی ۔۔۔۔

جنید اور شائستہ اس کو حوصلہ دے رہے تھے جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔۔

ناصر تو وہی مر چکا تھا جبکہ ماہین کی سانسیں چل رہی تھی تبھی اسے ہاسپٹل لاے تھے جب ڈاکٹر نے کہا تھا وہ بھی مر چکی ہے ۔۔۔

ا۔احد احد وہ مجھے چھوڑ گی چھوڑ دیا اس نے مجھے۔۔۔

احد جو ڈاکٹر سے اپنی بیڈیج کروا کر ا رہا تھا جب شفا اس کے سینے سے لگتی ہوی روی تھی ۔۔۔

دکھ تو اسے بھی کافی تھا لیکن اسے شفا کو ہینڈل کرنا تھا ۔۔۔

اپنے سینے سے لگائے وہ اسے چپ کروا رہا تھا ۔۔۔۔

ایک سال بعد ۔۔۔

میم قبرستان ا گیا آپ چلی جاے ۔۔۔

شفا کی کار قبرستان کے باہر کھڑی ہوئی تھی جب گم صم سی شفا کو دیکھ ڈرائیور بولا تھا ۔۔۔

اچھا ۔۔۔

وہ ایک الفاظ کہتی ہوئی پاس ہی پڑے کوڈ میں ننھے سے وجود کے سر پر بوسہ دیا تھا جو نیلے کمبل میں سکون سے سو رہا تھا۔۔۔

خ۔خیال رکھنا اس کا ۔۔۔

بھاری ہوتی آواز میں ڈرایئور کو حکم دیتی کار سے باہر آی تھی ۔۔۔۔

جی میم ۔۔۔

وہ تابعداری سے سر ہاں میں ہلاتا بےبی کوڈ کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

ا۔اس نے چھوڑ دیا م۔مجھے اکیلی ہ۔کو ۔۔۔۔

وہ جو قبر کے پاس بیٹھی مسلسل روتے ہوے اس کے ساتھ گزرے ہر لحمے کو یاد کر رہی تھی جب اپنے شولڈر پر ہاتھ محسوس کیے وہ اسی کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔۔

وہ ایک سال سے دیکھ رہا تھا وہ کتنا روتی تھی روزانہ قبر پر ا کر اپنا ہر گزارا لمحہ یاد کر کے ۔۔۔۔

قبرستان کی خاموشی میں صرف شفا کی ڈھاریں سنای دے رہی تھی ۔۔۔۔

میری جان میری لٹل بےبی ڈول ہر کسی نے دنیا سے جانا ہے ہر کوئ اپنے وقت پر جاے گا ماہین کا یہی ٹائم لکھا تھا تم اس کے لیے مغفرت کی دعا کیا کرو اللہ اس کو معاف فرما دے اسے سکون حاصل ہو وہاں بھی ۔۔۔

احد اسے سینے سے لگائے حوصلہ دیتا بولا تھا جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔

ی۔یہ کتنا غلط ہوا م۔میں اسے معاف کر د۔۔۔

تم جانتی ہو جب تم روتی ہو ماہین کو تکلیف ہوتی ہے اگر تم چاہتی ہو اسے تکلیف ہوتی رہے تو روتی رہو پوری زندگی تم ۔۔

وہ جو سوں سوں کرتی بول رہی تھی جب وہ زرا سختی سے بولا تھا وہ نہیں چاہتا تھا شفا رو رو کر اپنا برا حال کرے وہ کتنی دفعہ اسے سمجھا چکا تھا ۔۔

کچھ ماہ پہلے اللہ نے دونوں کو ایک خوبصورت سے بیٹے سے نوازا تھا جو بلکل احد خانزادہ جیسا تھا ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا شفا کوئ بھی ٹیشن نہ لے جبکہ وہ تو ہر روز ہی روتی تھی ماہین کے لیے ۔۔۔

آج بھی اسے روتے دیکھ وہ روزانہ کی طرح بولا تھا ۔۔۔

اوکے میں نہیں روتی ۔۔

جب وہ ہر بار کی طرح ہاں میں سر ہلا چکی تھی کہ وہ کبھی نہیں روے گی ۔۔۔

شفا اپنے آنسو صاف کیے احد کے سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔

گڈ مائ لٹل بےبی ڈول۔ ۔۔

اس کے ماتھے کو چوم کر وہ ساتھ لے وہاں سے جاتے بولا تھا ۔۔۔

جبکہ وہ بھی اس کے ساتھ جا رہی تھی ۔۔۔

یار اے کے مجھے یہ بتا تو اتنا سیریس ہے تو یہ تیرا بیٹا کس پر چلا گیا ا۔۔۔۔

اپنی ماں پر یار ۔۔۔

جنید اور احد دونوں ہال میں بیٹھے ہوے تھے جب پاس ہی پڑے کوڈ میں روتے احد کے بیٹے کو دیکھ جنید بولا تھا جب احد نے بیزار سی شکل بناے کہا تھا ۔۔۔

بچے ماں پر ہی جاتے ہے لالہ شکر ہے میرا بیٹا اپنے باپ پر نہیں چلا گیا ورنہ وہ تو بچارہ بولنے سے ہی رہتا اہنہہ۔۔۔

کچن سے باہر آتی شفا شائستہ ان کے پاس آئ تھی جب شفا نے احد کو گھورتے ہوے کہتے ہوے جنید کے پاس بیٹھی تھی۔ ۔۔۔

ہاں تو بندہ دیکھ لے کوئ بیٹھا ہے مت روے کب سے بھاں بھاں لگای ہے جیسے ہم سب جانور ہو ۔۔۔

احد روٹھے بچے کی طرح شفا کی طرف دیکھ ںولا تھا ۔۔

جب بھی احد اپنے بیٹے کو کچھ کہتا تھا شفا ایسے ہی ناراض ہوتی اسے اگنور کر دیتی تھی تبھی وہ خود بھی ایک ناراض بچہ بن جاتا تھا ۔۔۔

جانور ہی ہے آپ ۔۔۔

شفا نے سٹرا ہوا جواب دیا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔

واؤ مسٹر احد خانزادہ جانور ہے ہمیں نہیں پتہ تھا ا۔۔۔۔

بھابھی آپ کو پتہ جے کے کیا بولتا ہے آپ کے بارے میں کہتا ہے آپ بوڑھی ہو رہی اب وہ شادی کرے گا ۔۔۔

احد کا سرخ چہرہ دیکھ جنید نے چھت پھاڑ قہقہ لگاتے بول رہا تھا جب احد بھی شیطانی مسکراہٹ لاے شائستہ سے شکایت لگا چکا تھا ۔۔۔

ی۔یہ بکواس کر رہا ہے خانم مجھ معصوم نے تو شادی کر لی تم بوڑھی ا۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہہ ۔۔۔

خانم میری بات سنو ا۔۔۔۔

شرم تو نہیں آتی یہ بولتے ہوے دو بچیوں کے باپ بن گے تم اور یہ ا۔۔۔۔

بششششششششش ۔۔۔۔

جنید تو اپنی خیر مناتے بولنے کی کوشش کر رہا تھا جب شائستہ مسلسل اسے کشن کے وار کرتی بھڑک رہی تھی وہی ہال میں یشفہ کی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔

لو ا گی تمہاری چمچی۔ ۔۔

ماما یہ کیا کر رہی ہے بابا ہے کچھ دیکھ لے کیا نظر نہیں آتا ۔۔۔

وہ ہال میں چلتی ہو ننھے سے سرخ چہرے لیتی بولتی ہوی ان کے قریب ای تھی۔ ۔۔

اہہہہہ میری شیرنی ۔۔۔

جنید ڈھائی سالہ یشفہ کو گود میں بیٹھاے اس کے گالوں کو دیوانہ وار چومتے بولا تھا ۔۔۔

بابا ڈرنا نہیں شیرنی ا گی ا۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا واٹ یہ شیرنی ہے پھر تو مجھے بھی ایسی شیرنی چاہے لٹل بےبی ڈول۔۔

یشفہ جو اپنے ننھے سے ہاتھوں میں جنید کا چہرہ لیے لاڈ سے بول رہی تھی جب احد اب قہقہ لگاتے شفا کو دیکھ بولا تھا جس کی بات سنتے ہی چہرہ لال ہو چکا تھا جب وہ شرم سے سر جھکا گی تھی ۔۔۔۔

کھڑوس انکل آپ حریم کو رکھ لے وہ بھی میری بہن ہے ۔۔

شائستہ کی گود میں کچھ ماہ کی سوتی حریم کو دیکھ یشفہ احد کو بولی تھی ۔۔۔

جنید اور شائستہ کو اللہ نے اپنی رحمت دی تھی جس کا نام انھوں نے حریم جنید خان رکھا تھا جو بلکل جنید جیسی تھی یشفہ کو اپنی بہن اتنی پسند نہیں تھی جب جنید اس سے کھیلتا تھا ۔۔۔

جبکہ شفا اور احد نے اپنے بیٹے کا نام براق خانزادہ رکھا تھا شفا کو یاد تھا ماہین کو براق نیم بے حد پسند تھا تبھی اس نے اپنے بیٹے کا نام یہی رکھ لیا تھا براق ہوبہو احد جیسا تھا گرے آنکھوں والا لیکن شکل سے وہ اتنا سیریس نہیں تھا ۔۔۔

احد سے زیادہ وہ شفا کے قریب رہتا تھا ۔۔۔۔

احد اور شفا کے ڈمپلز براق کے گالوں اور تھوڑی پر پڑتے تھے ۔۔

ماما زیادہ مت مارا ا ۔۔

بس کرو باپ کی چمچی تم زرا کم بولا کرو ۔۔۔

یشفہ اپنی ننھی سی ناک چڑہاے شائستہ کو دیکھ بول رہی تھی جب شائستہ نے اس کو ڈانٹ دیا تھا ۔۔۔

بابا ہم ماما سے اب بات نہیں کرے گے ۔۔۔

جنید کی گردن میں منہ چھپائے وہ اپنا علان کر چکی تھی ۔۔۔

جبکہ شائستہ اس کی ادا پر مسکرا گی تھی ۔۔۔

احد اتنا سب کرنے کی کیا ضرورت تھی یار ۔۔

شفا روم میں آتی ہوئ بولی تھی جو لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ ۔۔۔

میں نے کیا کر دیا اب ۔۔۔۔

وہ انجان بنتے بولا تھا ۔۔۔

آپ جو فلاحی ادارے میں رہتے اتنے غریب لوگوں کا فری کا علاج کروا رہے ہے بلکہ ان کی ہر ضرورت کی چیزیں پوری کر رہے ہے اور اب آپ لالہ کو کہہ کر ان سب کو کھانا دینے کو کہا رہے ہے ۔۔۔

اتنا سب تو کر لیا آپ نے ا۔۔۔۔

میری لٹل بےبی ڈول یہ سب میں اپنی خوشی سے کر رہا ہو

اللہ نے مجھے اتنی پیاری بیوی اور بیٹے سے نوازا ہے مجھے بس یہی چاہے دولت نہیں میں جو بھی کر رہا ہو اپنے رب کو خوش کرنے کے لیے کر رہا ہو ۔۔۔

ویسے بھی تم نے مجھے بتایا ہے غریبوں کی مدد کرنی چاہے آج میں کرو گا تو کل میرا بیٹا کرے گا جب میں دنیا م۔۔۔۔

وہ اپنا لیپ ٹاپ چھوڑے اس کے قریب آتے مسکراتے بول رہا تھا جب شفا اس کا چہرہ ہاتھوں میں پکڑتی اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکی تھی ۔۔۔۔

خ۔خبردار آج کے بعد ایسا بولے بھی تو اللہ کا بہت احسان مجھ پر جس نے مجھے دوبارہ آپ کو دیا اس دن اگر آپ واقعی گر جاتے تب میرا کیا ہوتا میرا نہیں سوچا تھا آپ نے ا۔۔۔۔۔

احد جو اس میں مدہوش ہو رہا تھا جب اسے خود سے دور کرتی وہ آنسو بہاتے بول رہی تھی جب احد اسے اپنی گرفت میں لیتا ہوا اس کی سانسوں کو الجھا چکا تھا ۔۔۔

ایک سال سے ایسے ہی ہوتا تھا شفا کبھی بھی وہ دن نہیں بھولتی تھی روتی تھی کہ اگر کچھ ہو جاتا تو اس کا کیا ہوتا ہر دفعہ احد اسے اپنی قربت دیتے سب بھولا دیتا تھا۔ ۔۔۔

چ۔چھوڑے مج مجھے باہر سب وی ویٹ۔ ک۔۔۔۔

اب تو بلکل نہیں چھوڑنا تم خود پاس آی تھی ۔۔۔۔

کافی دیر بعد وہ اس سے دور جاتی گہرے سانس لیتی ہوئ بول رہی تھی جب وہ سائیڈ ٹیبل پر پڑے ریموٹ کو اٹھاتے بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔اپ ایسا کچھ نہیں کرے گے احد باہر براق ہ۔۔۔۔

شفا اچانک پورے روم میں ہر طرف بلیک پردے گرتے اور لائٹس کو آف دیکھتے گھبراتے ہوے بول رہی تھی وہ احد کے ارادے جان گی جب وہ شوخ مسکراہٹ لیے اسے کمر سے پکڑتے دوبارہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیے وہ ویسے ہی بیڈ پر گرا تھا ۔۔۔۔

مزاحمت کرتی شفا نے بھی ہار مانتے اپنی بائیں اس کی گردن میں ڈال کر اپنا منہ چھپا لیا تھا ۔۔۔

اس کی حرکت پر احد مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔

ی۔یہ کیا کر رہے خان چلے سارے باہر ہی ہمارا ویٹ کر رہے ۔۔۔

شائستہ جو کوئ چیز لینے اندر آی تھی جب پیچھے آتے جنید کو دیکھ وہ گھبراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

رات کے وقت جنید نے اپنے نیو ریسٹورنٹ کی اوپننگ گی تھی جس میں وہ سب غریب لوگوں کو کھانا کھلا رہا تھا ریسٹورنٹ سمندر کے کنارے بنایا گیا تھا ۔۔۔۔

احد شفا براق یشفہ حریم سب ہی باہر لوگوں کو کھانا دے رہے تھے شائستہ جنید کے ہی پرسنل روم میں آی حریم کا فیڈر نکال رہی تھی تبھی اب گھبراتی بولی تھی ۔۔۔۔

حریم یشفہ شائستہ تینوں نے ڈراک بلیو کلر کی میکسی پہنی تھی جبکہ جنید نے اسی کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا تھا ۔۔۔۔

میں یہ بتانے آیا ہو تم کتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔

شائستہ کے بالوں کو سائیڈ پر کیے اس کی شہ رگ کو چومتے وہ شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میں بہت پیاری ہو جانتی ہ ۔۔۔

تم بوڑھی ہو بھی جاو تمہارا خان صرف تم سے محبت کرتا رہے گا مجھے تمہارے سوا کوئ نہیں چاہے خانم تم میری خاموش محبت کا حیسن تحفہ ہو میرے رب کی طرف سے۔ ۔۔

وہ جو اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب وہ اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاتے نرمی سے اس کے گالوں کو چھوتے بہکے ہوے بولا تھا ۔۔۔

خ۔خان چلے با۔۔۔

میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہو خانم تم میری پوری زندگی ہو ۔۔۔

وہ ہکلاتی گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب جنید اس کے لیپ سیٹک لگے لبوں کو اپنے لبوں میں لیتے بولا تھا جب شائستہ نے آنکھیں بند کیے اسے گردن سے پکڑا تھا۔ ۔۔۔

ب۔بابا ا جاے کب سے اندر ہے آپ ۔۔۔

کافی دیر بعد ان دونوں کو یشفہ کی بیزار سی آواز سنای دی تھی جو باہر کھڑی ہی بول رہی تھی ۔۔۔۔

ارے میری خانم تو شرما گی ۔۔۔۔

شائستہ کو نرمی سے چھوڑتے اس کے گال ہوتے چہرے کو دیکھ جنید نے اسے شرارتی انداز میں دیکھ کہا تھا ۔۔۔۔

نہ کرو خان سچی شرم آتی ہے چلو باہر اب۔۔۔

جنید کی شوخ مسکراہٹ اور نظریں دیکھ شائستہ گھبراتی ہوئ کہتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

جب وہ بھی اپنا سر کجھاتے مسکراتا ہوا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

احد یہ کتنی پیاری جگہ ہے مجھے بہت پسند آئی ۔۔۔۔

وہائٹ فل میکسی پہنے بالوں کو کھولا چھوڑے گلاسز لگاے وہ واقعی چھوٹی سی لٹل بےبی ڈول لگ رہی تھی احد کو احد اور براق نے بھی وہائٹ تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا ۔۔۔۔

سمندر کے کنارے احد نے ایک چھوٹا سا ہاٹ بنوایا تھا جو اس پاس چھوٹی چھوٹی لائٹس و نیٹ کے باریک وہائٹ پردوں کا بنا ہوا تھا وہی وہ براق کو گود میں لیے چہکتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔

میری جان سے کم پیاری ہے جگہ یہ ۔۔۔

شفا کے قریب سوفٹ سے میٹرس پر بیٹھتے وہ اس کی ننھی سی ناک کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہ۔۔۔

اپنے باپ کو اپنی ماں کے قریب دیکھ براق نے رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔

یار یہ روتا کیوں ہے مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔

براق کو ایک ہاتھ سے پکڑتے وہ اپنے سینے پر بیٹھاتے بولا تھا خود اپنا سر وہ شفا کی گود میں رکھ چکا تھا ۔۔۔

بچہ ہے تبھی روتا یار ا۔۔۔۔

اہہہہہ۔اہہہہہہ۔۔۔

یہ کیا کر دیا احد چھوٹا ہے کوئ کھلونا نہیں ۔۔۔

وہ جو احد کے سر پر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو اس کے بالوں میں سہلاتی بول رہی تھی جب اچانک احد نے براق کے گالوں پر زور سے کاٹی کی تھی تبھی اس سے دور کرتی وہ چیختی براق کو واپس لیے بولی تھی ۔۔۔

جبکہ دور بیٹھا احد اب دونوں کو گھور رہا تھا جو اسے اگنور کر رہے تھے ۔۔۔۔

بابا وہ انکل کو کھانا دے ہم بس وہی رہ گیا ۔۔۔۔

جنید اور شائستہ بچیوں کے ساتھ سمندر کے کنارے اے واک کر رہے تھے جب یشفہ دور ریت کے پاس بیٹھے ایک آدمی کو دیکھ بولی تھی۔ ۔۔۔

جی میری جان ہم اس کو بھی کھانا دے گے میں کہتا ہو ملاز ۔۔۔

نہیں بابا مجھے دینا ہے کھانا ان کو پلیز بابا ۔۔۔۔

جنید فون پاکٹ سے نکالے ملازم کو کال کرتا بول رہا تھا جب یشفہ ضد کرتی بولی تھی ۔۔۔

اوکے او ۔۔

یشفہ کا ہاتھ پکڑتے جنید نے اس آدمی کی طرف جاتے کہا تھا ۔۔۔۔

بابا اس کے پاؤں اور ہاتھ کو کیا ہوا ہے اور یہ کیوں ایسا بول رہا ہے وہ اچھا انسان نہیں ۔۔۔

جنید کھانا لیے جب اس انسان تک گے تھے تو اس پر ایک پہاڑ ٹوٹا تھا اس انسان کو دیکھ کر جو اپنے ایک ہاتھ اور پاؤں سے معذور تھا اور ذہنی توازن بھی خراب تھا اس کا ۔۔۔۔

شائستہ سکندر کو ایسی حالت میں دیکھ سکتے میں تھی جو لاورثوں کی طرح کھانے کے لیے محتاج ہوا پڑا تھا ۔۔۔

خ۔خان۔خان یہ سکن۔۔۔۔

م۔میں اچھ۔اچھا انسان نہیں ۔ہاہاہہاہاہاہہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا دیکھو مجج۔مجھے س۔سزا مل ۔ملی میں۔ ءنے اس کی عزت نہیں کی نہ ہی اس پر یقین کیا مجھے سزا ملی ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔

دو۔دور رہو مج۔مجھء سے ورنہ تم لوگوں کی بھی زندگی خراب کر دو گا میں ۔۔۔۔

جنید شائستہ کو دیکھ سکندر پاگلوں جیسا قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔

شائستہ نے روتے ہوے جنید کے سینے میں منہ چھپایا تھا ۔۔

شائستہ سے اس دن ہسپتال ملنے کے بعد سکندر سڑک کراس کرتا جا رہا تھا جب ایک ٹرک سے ٹکر لگتے وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہو چکا تھا سر پر گہری چوٹ آنے کی وجہ سے اس کا توازن بھی خراب ہو چکا تھا ۔۔۔۔

پورا ایک انسان وہ ایک فلاحی ادارے شلٹر ہوم میں رہا تھا لیکن وہاں سے بھی وہ بھاگ کر اب سڑکوں پر بیٹھ جاتا تھا ۔۔

وہ نہیں پہنچان پایا تھا دونوں کو لیکن قہقہ لگاتے وہ ان کو بھی خود سے دور کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

سکندر کو کھانے کا پیکٹ دیتے وہ واپس جا رہے تھے جب جنید کے شولڈر پر ڈری سہمی یشفہ بولی تھی وہ بار بار پیچھے موڑ کر اس آدمی کو دیکھ رہی تھی جب اکیلا بیٹھا قہقہ لگا رہا تھا ۔۔۔۔

خان یہ کتنا برا ہو م۔میں سچی ایسا نہیں چاہتی تھی اس کے ساتھ یہ سب ہ۔۔۔۔

خانم جب کوئ کسی باکردار لڑکی پر الزام لگاتا ہے تصدیق کیے بنا تب وہ اپنی سزا دنیا میں ہی پا لیتا ہے ۔۔۔۔

اگر اسے محبت تھی تو یقین بھی کرتا لیکن اس نے یقین نہیں کیا اور سزا پا لی ۔۔۔

میں کسی اچھے ڈاکٹر سے رابطہ کرتا ہو سکندر کا علاج ہو سکے۔ ۔۔

جنید کے ساتھ جاتی شائستہ نے روتے ہوے کہا تھا جب جنید نے اس کا ہاتھ پکڑتے کہا تھا ۔۔۔

تم کتنے اچھے ہو خان میں تمہارا ساتھ پا کر بے حد خوش ہو ۔۔۔

جنید کی بات سنتے شائستہ اس کا ہاتھ چومتی ہوی بولی تھی اب وہ دونوں اپنی آگے والی زندگی گزارنے کے لیے آگے قدم بڑھا رہے تھے ۔۔۔۔

میری لٹل بےبی ڈول تم میری خاموش محبت کا حیسن تحفہ ہو ایسا تحفہ جو مجھے میرے رب نے عطا کیا ہے تم میری سانسوں میں بستی ہو میری رگ رگ میں ۔۔

مجھے جیسے انسان کو تمہاری جیسی لٹل بےبی ڈول ملی میں بے حد خوش ہو تمہارے ساتھ بلکہ ہمارے بیٹے کے ساتھ بھی ۔

تمہیں پانے کے لیے جو راستہ میں اپنایا تھا وہ چاہے غلط تھا لیکن میری نیت صاف تھی مجھے نہیں پتہ تھا تم میری خاموش محبت کا انعام بن کر ملو گی میں اپنے رب کا بےحد شکرگزار ہو ۔۔۔۔

شفا جو براق کو سلاتے خود بھی سو چکی تھی کمبل لیے جب احد جو اپنے لیپ ٹاپ پر ضروری کام کر رہا تھا فری ہوتا شفا کے قریب ہی لیٹتا ہوا آہستہ آہستہ شفا کے گالوں کو سہلاتے مسکراتا بول رہا تھا تاکہ وہ جاگ نہ جاے ۔۔۔

آپ بھی مجھے میری خاموش محبت کا انعام ملے ہے احد وہ محبت جو صرف میرے دل میں تھی کبھی اظہار نہ کر سکی میں ۔۔۔

میں بہت پیار کرتی ہو آپ سے احد لو یو احد خانزادہ ۔۔

شفا خانزادہ آپ کی سانسوں میں بسنا چاہتی ہے ہمشیہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔

وہ جو آرام سے اس کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہا تھا جب وہ اس کے بے حد قریب آتی اپنی محبت کا اظہار کرتی شرماتی ہوئی اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرتی آنکھوں کو بند کر چکی تھی ۔۔۔

جب احد بھی اس کی قربت محسوس کیے نرمی سے پکڑتے ہوے سارے پردے گراتے لائٹس آف کر چکا تھا ۔۔۔۔

ساحل سمندر پر رات کے اس وقت سمندر کی لہریں شور مچا رہی تھی جبکہ کھولے آسمان پر چمکتا چاند بھی ان دونوں کی خاموش محبت دیکھ شرماتا ہوا بادلوں میں چھپ گیا تھا ۔۔۔۔

ختم شد 😘😘