Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 16)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
وہ جو خاموشی سے اس کی سانسوں کی مہک میں مدہوش تھا اچانک روم میں آنے والی شخصیت کو دیکھ جنید کو اتنا غصہ آیا تھا وہ شائستہ کے لبوں پر ہی ظلم ڈھانے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
چ۔چھو۔چھوڑو جنگلی انسان یہ کیا طریقہ ت۔۔۔۔
جنید خان کا پہلے نرمی بھرا لمس پھر اچانک شدت بھرا لمس محسوس کیے وہ تڑپتی ہوی دور ہو کر بولتی ہوی اچانک چپ ہوئ تھی جب اس کی کمر کسی کے ساتھ ٹکرای تھی ۔۔۔۔
ت۔تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔
شائستہ نے جیسے ہی پیچھے موڑ کر دیکھا تو سامنے کھڑی سدرہ کو دیکھ وہ چیخی تھی ۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے خان کی بیوی ہو تو یہی او گی کیوں خان میں صیح کہہ رہی ہو ۔۔۔
وہ بے شرموں کی طرح ان دونوں کے سامنے کھڑی سکون سے کہتی جنید خان کا غصہ بڑھا چکی تھی جو خاموشی سے اپنی سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔۔
ہاں تمہاری بیوی آی ہے مل لو مسٹر جنید خانننننننن۔۔۔۔
اپنی حیثیت یاد آتے ہی اچانک شائستہ غصہ کنٹرول کیے کہتی وہاں سے ویسے ہی بھاگی تھی۔ ۔۔۔
کتنے ہی آنسو اس کی آنکھوں سے نکلے تھے سدرہ کو جنید کی آج بھی بیوی کے روپ میں دیکھ کر ۔۔۔۔
شائستہ شائستہ۔۔۔۔
وہ سدرہ کو اگنور کیے اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔
تمممممم یہاں کیا کر رہی ہو نکلو باہر ابھی کہ اب ۔۔۔
اہہہہ میرا خان بے بی یہ کیا طریقہ ہے اپنی بیوی کو روم سے باہر نکالنے کا ۔۔۔
شائستہ کو روکتے نہ دیکھ وہ دوبارہ سدرہ کے پاس آتے غرا رہا تھا جب وہ بے باک ہوتی اسی کی گردن میں بائیں حائل کیے سکون سے بات کاٹتی مسکرائ تھی ۔۔۔۔
کون سی بیوی کی بات کر رہی ہو جس کو میں نے چار سال پہلے طلاق دے کر فارغ کر دیا تھا تم جھوٹی عورت جیسے پہلے تھی آج بھی ویسی ہی ہو ۔۔۔۔
آپے سے باہر ہوتے وہ شدید طش میں اسے خود سے دور کیے چیخا تھا ۔۔۔
جب وہ دھڑام کرتی قالین پر گری تھی ۔۔۔۔
خان تم بھی تو پہلے دن جیسے ہی ہو اگر اتنی ہی نفرت ہوتی تمہیں مجھ سے تو ابھی اپنے قریب نہ آنے دیتے خیر اب تو میں ا ہی گی ہو یہاں واپس نہیں جاؤ گی ۔۔۔۔
وہ ویسے ہی سکون سے پڑی ڈھیٹ بنتی جنید خان کو آگ لگاتی بولی تھیں ۔۔۔۔
اچھا ہوتا اس رات تمہیں میں اپنے ہاتھوں سے شوٹ کرتا افسوس ماما کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا میں آج تمہیں ابھی شوٹ کرو گا تمہارا یہ ناپاک وجود مجھے زہر لگتا ہے ۔۔۔۔
وہ پاگل ہو چکا تھا سدرہ کو دیکھ کر تبھی ہوش میں نہ رہتے ہوے اب بیڈ کے ڈارز کھولتے اس کے اندر سے اپنی گن نکالے وہ اس کی طرف کیے غرایا تھا ۔۔۔۔
تم میں ہمت نہیں ہے خان نہ پہلے تھی نہ اب جانتے ہو کیوں ۔۔۔
کیونکہ میں تمہاری پہلی اور آخری محبت ہو یہی وجہ ہے میں تمہارے سامنے کھڑی ہو ۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا۔۔۔۔
جنید جو اکساتے وہ سکون سے اس کے سامنے کھڑی بولتی قہقہ لگا چکی تھی ۔۔۔۔۔
تج ۔۔۔
ب۔بابابابا۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ گن سے شوٹ کرتا جب اسے بیڈ پر بیٹھی ننھی سی یشفہ کی آواز سنای دی تھی جنید اس کی اواز سنتے پرسکون ہو چکا تھا ۔۔۔۔
اوووو واوووووو تم نے بے بی بھی کر لیا شائستہ کے ساتھ تبھی شادی کی تھی اس سے چلو کوئ بات نہیں میں اور تم اسے ہینڈل کر لے گے اب تم اسے طلاق دے دو بےبی تو مل ہی گیا ہے ہمیں ۔۔۔۔
جنید خان کے غصے سے وہ اندر سے بہت ڈر چکی تھی پر دل سے شکر ادا کر رہی تھی یشفہ کا جس کی آواز سن کر وہ پرسکون ہو چکا تھا روم میں انٹر ہوتی شائستہ کو دیکھ وہ جان بوجھ کر یہ الفاظ بولی تھی وہ تو یشفہ کو لینے آئ تھی۔۔۔
بابا کی جان کیسی ہے ۔۔۔
جنید اسے باہوں میں بھرتے ہوے اس کے گالوں کو چھوتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔
ب۔ںھوک لگی ہیں۔۔۔
وہ منہ بناے اپنے جاگنے کی وجہ بتا چکی تھی جبکہ اس کی چھوٹی سی ناک پر بے حد غصہ تھا بلکل شائستہ کی طرح ۔۔۔
آؤ بیٹا ہم ناشتہ کرے مل کر ۔۔۔
شائستہ چپ سی اس کی باہوں میں یشفہ کو لے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
مقصد بتاو کیوں آی ہو یہاں جلدی سے ۔۔۔۔
اسے گردن سے پکڑتے وہ سدرہ پر چیخا تھا ۔۔۔
مجھے محب۔۔۔۔
“”Just shut up””
میں جانتا ہو کوئ محبت نہیں ہے تمہیں مجھ سے تم جس مقصد کے لیے ائ ہو میں پتہ کروا لو گا ۔۔۔۔
وہ جو سکون سے بول رہی تھی جب وہ اس کا چہرہ دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔۔
اس کی غراہٹ سنتے وہ سن ہو چکی تھی ۔۔۔۔
افففف شکر جان بچ گی میری آج ورنہ مر ہی جاتی میں ۔۔۔۔
جنید کے روم سے باہر جاتے وہ گہرے گہرے سانس لیتی اپنے شولڈر کٹ بالوں کو سنوارتے مسکراتی ہوی بولتی بیڈ پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔
کچھ بھی کرو ناصر تمہیں اگر شفا چاہے تو مجھے احد چاہے تم نہیں جانتے جس دن سے احد کو دیکھا ہے مجھے سکون کی نیند نہیں آئ مجھے جب پتہ چلا شفا سب بھول گی بہت خوش تھی میں کہ احد کو اپنی طرف کر لو گی پر اسے سب یاد ا گیا ہے ۔۔
ماہین ناصر کے گھر بیٹھی غصہ سے بول رہی تھی ۔۔۔۔
کیسے کیسے یاد ا گیا اسے تمہیں کہا تھا شفا کو خلاف کر احد کے تم سے ایک کام تک نہ ہو سک۔۔۔۔
مجھ پر الزام مت دو میں نے کتنے مہینوں سے پوری کوشش کی ان دونوں کے درمیان لڑای کروانے کی شفا تو نام بھی نہیں سنتی تھی آحد کا اب وہ ٹھیک ہو گی ہے ۔۔۔۔
ناصر شراب پیتے ہوے گلاس اٹھا کر ماہین کے پاؤں پر مارتے بول رہا تھا جب وہ بھی غرای تھی ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے کچھ کرتے اس احد کا ا۔۔۔۔
دیکھو اگر احد کو تم نے کچھ کیا تو بھول جانا شفا بھی تمہیں ملے گی میں اسے بھی مار دو گی سمجھے تم ۔۔۔۔
وہ جو نشے میں بول رہا تھا جب وہ دانت پیستے غراہٹ لیے بولی تھی ۔۔۔
ہاں ہاں جاؤ اب یہاں سے ۔۔۔۔
وہ ناگواری سے اسے باہر کا اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
ماہین شفا کی بیسٹ فرینڈ تھی ناصر نے جان بوجھ کر ماہین کو احد کا لالچ دیتے اسے اپنے لیے یوز کیا تھا ۔۔۔۔
ہر لڑکی کی طرح ماہین کے دل میں بھی خواہش جاگی تھی اسے احد خانزادہ کی دلہن بنا ہے یہی وجہ تھی وہ اسے احد کے خلاف کرتی رہی تھی لیکن آج وہ بےچین تھی یہیں سوچ کر شفا احد کے ساتھ ٹھیک ہو جاے گی ۔۔۔
ارے شفا ڈرالن۔۔۔۔۔
چٹاخخخخخچ چٹاخخخخخخ۔۔۔۔
ماہین کے جانے کے بعد اس کے گھر شفا انٹر ہوئ تھی جیسے دیکھ وہ بامشکل اپنی لڑکھڑاتے قدموں پر کھڑا ہو رہا تھا جب اس نے شدید طش میں تپھڑ مارے تھے ۔۔۔۔
کیا سمجھا تھا تم نے تم اتنا بڑا گناہ کر لو گے تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا غلط ناصر میرا اللہ ہے انصاف کرنے والا اور تم دیکھنا بہت جلد تم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو گے ۔۔۔۔
شفا اس کا گربیان پکڑتی چیخی تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
ت
تمہیں غلط فہمی ہ۔۔۔۔
غلط فہمی نہیں مسٹر ناصر مجھے پتہ ہی اب چلا ہے تم اپنی خیر مناؤ اب بہت جلد تمہیں پولیس لینے آے گی ۔۔۔
وہ مدہوش ہوتا بول رہا تھا جب وہ اسے دھکا دیتی کہتی جیسے آئ تھی ویسے ہی چلی گی تھی ۔۔۔۔
احدددددددد اب تم بلکل نہیں بچو گے ۔۔۔۔
اپنے سرخ گال پر ہاتھ رکھتے وہ طش سے چیختا ہوا اب کسی کو فون ملا رہا تھا ۔۔۔۔
ارے تم کدھر ا رہے ہو ۔۔۔۔
شفا کو چھوڑے احد اپنے آفس چلا گیا تھا اب وہ دوپہر کو اپنے پیلس آیا تھا اسے ہی پتہ تھا شفا اپنے گھر ہے لیکن اب اپنے پلیس میں انٹر ہوتے جنید خان کو دیکھ وہ سجنیدہ شکل لیے بولا تھا ۔۔۔۔
تجھے نہیں پتہ میں یہاں کیوں ہو ۔۔
جنید اس کے چہرے کو چھوتے سسپنس پیدا کیے بولا تھا۔ ۔۔۔
کیوں تو بھوت ہے جے کے جو ہر کسی کے گھر میں پھٹکتی اتموں کی طرح گھوم رہا ہے ۔۔۔۔
اسے اپنے ساتھ لیے وہ باتیں کرتا اب ہال میں انٹر ہوا تھا۔ ۔۔۔
ہاں میں سو سال والی روح ہو جو تیرے اس کھڑوس سے پیلس میں گھوم رہا ہو حد ہے یار اے کے بندے کو اتنا بھی آی سی یو والا مریض نہیں ہونا چاہے جو ہر وقت سڑا ہی رہے مجھے دیکھ میں کتنا حسین ہو ا ۔۔۔۔
بس بس اپنے حسن کی کہانی مت سنانا یہ بتا خیریت ہے جو یہاں ٹپک پڑا ہے تو ۔۔۔۔۔
جنید جو اپنی ٹرین جیسی زبان چلا رہا تھا جب وہ سکون سے اسے ٹوکتا ہوا ہال میں انٹر ہو چکا تھا ۔۔۔۔
ہاں خیریت ہے شفا نے ہمیں دعوت دی ہے آج رات کھانے کی ۔۔۔
جنید اب سنیجدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کس خوشی میں پہلی بات وہ یہاں نہیں ہے اپنے گھر گی ہے تم جھوٹ کم بولو ا۔۔۔۔
افففف اے کے کبھی میری بات پر یقین کر لیا کرو میں پہلے ہی بہت ٹیشن میں ہو ۔۔۔۔
جنید معصوم سی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔
چل بس کر تجھ جیسی ٹیشن کو بھی ٹیشن ہو سکتی ہے یہ بڑی ناممکن سی بات ہے او آرام سے بات کرتے ہے ۔۔۔۔
اسے سینجدہ دیکھ وہ شولڈر پر ہاتھ رکھتے صوفے پر بیٹھتے بولا تھا جبکہ آنکھیں اس پاس گھوم رہی تھی شفا کو دیکھنے کے لیے وہ ابھی تک شوک میں تھا گھر کیسے ا گی وہ ۔۔۔۔
یار جو بھی ہوا غلط ہوا تجھے بھابھی کو سب بتانا ہو گا یہ نہ ہو وہ تم سے نفرت کرنے لگ جاے اور رہ گی سدرہ کی بات اسے بھی کچھ پیسے دے کر رفع دفع کرو ایسی لڑکیاں بس پیسوں پر مرتی ہے یقین اسے پیسوں کی ضرورت ہو گی جو تیرے پاس آی ہے ۔۔۔
جنید کی ساری بات سنتے وہ بھی پریشان سا بولا تھا۔۔۔
ہمممم کچھ تو کرنا ہو گا ورنہ میں شائستہ کو کھونا نہیں چاہ۔۔۔۔
“”Hyeee Handsome boy “”
اس سے پہلے جنید کی بات پوری ہوتی جب سدرہ ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے احد کے سامنے کھڑی ہوتی چہکتی بولی تھی ۔۔۔۔
“””who is she””
سدرہ کو بولڈ ڈریسنگ اور اپنے پیلس میں اسے دیکھ وہ ناگواری سے جنید کی طرف دیکھتا برہم لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔
یہی وہ منحوس گھڑی کی سزا ہے میری جس نے جینا حرام کیا ہے مجال ہے ایک منٹ بھی یہ دور ہوئ ہو شائستہ نے صبح سے نہ مجھے دیکھا نہ ہی یشفہ مجھے دی ہے یار ۔۔۔۔۔
جنید سدرہ پر ایک ناگوار سی نظر ڈالتے بےبسی سے بولا تھا اس کی فیلینگز احد سمجھ سکتا تھا ۔۔۔۔
تمہیں پیاس لگی ہو گی یہ لو پانی پی لو گرمی بہت ہ۔۔۔۔
واٹٹٹٹ دا ہ۔۔۔۔
سوری سوری وہ اچانک گر گیا پانی مجھ سے۔۔۔۔
وہ جو جنید کے لیے پریشان ہو رہا تھا سدرہ کو یوں اپنی طرف جھکتے پانی کا گلاس دیتے سدرہ کے بے باک انداز کو دیکھ احد نے خودی شرم سے نظریں چڑہای تھی ۔۔۔
جبکہ وہ جان بوجھ کر اس کی شرٹ پر پانی گراے کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے سدرہ تمہیں یہاں شائستہ لائ ہے اس کا مطلب یہ نہیں تم ایسی اونچی حرکتیں کرو ۔۔۔۔
جنید خان سدرہ کا ایسا انداز دیکھ آگ بگولہ ہوتا چیخا تھا جیسے وہ اگنور کیے بس احد کی گیلی شرٹ سے نظر آتے سکس پیک کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے ۔۔۔
اپنی طرف اس کی بے باک نظروں کو دیکھ احد زرا سختی سے بولا تھا جیسے سن کر وہ مسکراتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
سوری ی۔۔۔۔
چھوڑو اس کا بھی کچھ کر لے گے پہلے یہ بتاؤ ہماری بیویاں کدھر گی ہے ۔۔۔۔
جنید جو شرمندہ ہوتا بول رہا تھا جب وہ بات کاٹتا کھڑے ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔
کچن میں ہے ۔۔۔۔
شفا کو کوگنگ نہیں آتی ا ۔۔۔۔
میری بیوی اس کی ہلیپ کر رہی ہے فکر نہ کر ۔۔۔
شفا کو روم میں بھیجنا خود بھابھی کے پاس جاؤ ۔۔۔۔
جنید کی بات سنتے وہ اپنا پلان سمجھاتے وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔
ہاےےے کتنے کیوٹ ہو اے کے تم ۔۔۔
دور جاتے احد کو فلائنگ کس کرتے جنید خوشی سے بولا تھا جب احد اسے ایسے کس دیتے دیکھ برا سا منہ بنا گیا تھا ۔۔۔۔
سڑا بیگن ۔۔
احد کو خوبصورت سے لقب سے نوازتے وہ اب کچن کی طرف گیا تھا جہاں دونوں کام کر رہی تھی ۔۔۔۔
ہاےےےے بھابھی وہ دیکھا آپ نے اس ڈائن نے اب میرے شوہر پر نظر رکھ لی ہے ۔۔۔۔
ناصر سے مل کر آنے کے بعد شفا سیدھی پلیس آئ تھی جب اس نے جنید خان کو دعوت پر بلایا تھا ۔۔۔۔
شفا تو کچن میں بزی تھی تبھی شائستہ بھی وہی ا کر اس کی مدد کر رہی تھی ۔۔۔
شفا خود شلیف پر بیٹھی سیب کھاتی بولی تھی جبکہ شائستہ کھانا بنانے میں بزی تھی ۔۔۔۔
تم فکر مت کرو چھوٹی احد تم سے بے حد پیار کرتا ہے ۔۔۔
وہ نہیں متوجہ ہو گا اس ڈائن کی طرف ۔۔
شائستہ نڈھال سے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
بھابھی لالہ بھی بہت اچھے ہے ضروری تو نہیں جو آپ دیکھ رہی ہے وہی ہو میں کب سے دیکھ رہی ہو لالہ نے ایک دفعہ بھی اس ڈائن کو نہیں دیکھا جانتی ہو بیوی ہے وہ ان کی لیکن کوئ اپنی بیوی کو اگنور بھی نہیں کرتا ایسے بیوی بھی وہ جو ان کی محبت ہو آپ کے باقول ۔۔
شفا سیریس ہوتی سیب کھاتے ویسے ہی بول رہی تھی ۔۔۔
نہیں یار وہ ا۔۔
بھابھی آپ اپنی جگہ خود چھوڑ رہی ہے اگر سوچا جاے آپ کی بھی تو دوسری شادی ہے مانتی ہو یہ تلخ حقیقت ہے لیکن لالہ نے آپ کو قبول تو کیا یشفہ کو نام دیا آپ کو عزت آپ بھی تھوڑی ہمت پیدا کرے تو لالہ کو ویسی محبت دے سکتی ہے جیسی وہ آپ کو دیتے ہے اس ڈائن کو اگنور کرے ۔۔۔
شفا ایک سمجھدار لڑکی بن کر سمجھا رہی تھی ۔۔۔۔
ہاےےے کتنی کیوٹ سمجھدار چھوٹی ہے میری ۔۔۔
شفا کے پاس جاتے شائستہ اس کے سرخ گال کو چھومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
کیا بھابھی آپ نے تو لالہ ہی سمجھ لیا مجھے ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا۔۔۔
شفا بول رہی تھی جب شائستہ نے اسے گدگدی کی تھی تبھی وہ قہقہ لگا چکی تھی ۔۔۔
یمممممم بہت ٹیسٹی چکن کڑاہی ہے سچی ۔۔۔۔
شائستہ نے اسے چکن چیک کروایا تھا جب وہ کھاتی خوشی سے بولی تھی ۔۔۔۔
م ۔
ویسے چھوٹی یہ غلط بات ہے ہم مہمان ہے تم نے میری ہی بیوی کو کچن میں لگایا ہے کام کرنے پر ۔۔۔
جنید وہاں آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
لالہ آپ مہمان کب بن گے بھای کبھی اپنی بہن کے گھر مہمان ہوتے کیا آپ تو میرے پیارے سے لالہ ہے ۔۔۔۔
شفا شلیف سے اٹھتی جنید کے پاس اے لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔
اچھا یہ مھکن والے مسکے کم لگاؤ جاؤ یہاں سے وہ سڑا بیگن اوپسسس اے کے بلا رہا ہے ۔۔۔
جنید پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے لاڈ سے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا لالہ ۔۔
شفا اچھے بچوں کی طرح سر ہلاتے وہاں سے گی تھی ۔۔۔
کیا کرنے اے ہو یہاں ۔۔۔
جیند کو ویسے ہی خاموش کھڑا دیکھ وہ دوبارہ اپنے کام میں متوجہ ہوتی بولی تھیں۔۔۔
اپنی بیوی کو دیکھنے آیا ا۔۔۔
تمہاری بیوی باہر بیٹھی ہے شاہد اسی کے پاس جاؤ ۔۔
فروٹس کو کاٹتے وہ سکون سے اس کی بات کاٹتے ہوے بولی تھیں۔۔۔
یشفہ کدھر ہے ۔
شائستہ کو ویسے ہی کام میں بزی دیکھ وہ دوبارہ بولا تھا ۔۔۔
وہ شفا کے پاس گی ہے ا۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔
شائستہ جو جنید کو جواب دینے والی تھی تبھی کچن میں انٹر ہوتی سدرہ کو دیکھ جنید کے سینے سے لگی تھی جب وہ شوک ہوتا بولا تھا ۔۔۔
اپنے پیارے سے شوہر سے پیار کر رہی ہو تم مجھے روک نہیں سکتے ۔۔۔
وہ سدرہ کو جلانے کے لیے جنید کی گال کو سہلاے پیار سے بولی تھی شفا کی بات دل میں رکھے وہ جنید کو اپنے قریب لاے گی ۔۔۔
شوہر سے پیار کرنا ہے تو ذرا دل کھول کر کرو پیار۔۔۔
جنید تو دل سے خوش ہو گیا تھا تبھی اسے کمر سے پکڑتے اپنے بے حد قریب کیے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
ک۔کر۔ہی رہی ہو میں ۔۔
وہ جو سدرہ کو دیکھ کر یہ سب کر رہی تھی اب جنید کی گرم سانسوں کی تپش سے جلتے چہرے کے ساتھ وہ گھبراتے ہوے بولی تھی ۔۔۔۔
کس می ۔۔۔
شائستہ قریب تو جنید کے پاس تھی پر نظریں باہر کھڑی سدرہ پر تھی جب وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
ک
کس۔کس کیوں ۔۔
وہ ناسمجھی سے پوچھ بیٹھی تھی ۔۔
پیار کر رہی ہو تو کرو کس ورنہ میرے پاس کوئ اور بھی اوپشن ہ۔۔۔۔
جنید اسے ڈرتے ہوے بول رہا تھا جب وہ اپنے سر پر لیے ڈوپٹے کو جنید کے سر پر دیتے جلدی سے اس کے قریب جاتے اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے کانپتے لب رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
جنید شوک ہوتا اسے کمر سے زور سے پکڑتے اپنے سہارے کھڑے کر چکا تھا ورنہ وہ کب کی گر چکی ہوتی ۔۔۔
ویسے شرم آنی چاہے ہیبنڈ وائف کے پرائیویسی میں مداخلت کرتے تمہیں ۔۔۔
کافی دیر تک وہ دونوں ایک دوسرے کی سانسوں میں مدہوش تھے جب جنید کو محسوس ہوا شائستہ کی حالت غیر ہوتی دیکھ اسے چھوڑے اب وہ سدرہ کو ڈھیٹ بنے وہی کھڑے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
پانی پینے آئ تھی میں ۔۔۔
شائستہ کا سرخ گلنار چہرہ دیکھ وہ جلیس فیل کرتی بولتی ہوی فریج کے پاس گی تھی ۔۔۔۔
خان تم نے شرم نام کی چیز ہے کوئ ایسا کرتا ہے ک۔۔۔۔
میری پیاری سی خانم مجھ میں شرم نہیں ہے ۔۔۔
شائستہ جو سمجھی تھی وہ جلدی سے اس سے دور ہو جاے گی پر اس کی کوشش جنید نے ناکام ںنای تھی تبھی وہ تپے چہرے کے ساتھ زرا سختی سے بول رہی تھی جب وہ آنکھ ونک کرتا وہاں سے کہتا گیا تھا ۔۔۔۔
کدھر ہے کھڑوس لالہ نے کہا تھا یہی ہو گا ۔۔۔
شفا یشفہ کو گود میں لیے روم میں آی تھی جب احد کو روم میں نہ دیکھ کر وہ اب بیڈ پر اسے لیٹاے منہ پھولے بولی تھی ۔۔۔
کتنی پیاری ہو تم بلکل ایک فیری جیسی کیوٹ سی ۔۔۔
یشفہ کو دیکھتے وہ پیار سے اس کے گال چومتی ہوئ بولی تھی اسے پسند آئ تھی وہ ننھی سی گڑیا ۔۔۔
م۔۔۔
اہہہہ۔۔
وہ جو یشفہ کے ساتھ کھیلنے میں بزی تھی جب اسے محسوس ہوا کسی نے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگایا ہو تبھی وہ چیختی ہوئ اچانک چپ ہوئ تھی ۔۔۔
جہاں باتھ لیے احد بلیک بینان ٹراؤزر پہننے اسے اپنی باہوں میں لیے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ۔۔۔
افففف ڈرا دیا مجھے سچی آپ نے کوئ ایسا کرتا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی باہوں میں پرسکون کھڑی منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
تم بتاؤ کوئ ایسا کرتا ہے بھلا ۔۔۔
احد اسے مدہوش بھری نظروں سے دیکھتے الٹا اسی سے سوال کر چکا تھا ۔۔۔
م۔میں نے ک۔۔۔
ریڈ بلڈ کلر کی ساڑھی پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے اپنے خوبصورت گول سے چہرے پر ہلکا سا میک اپ ہاتھوں پر چوڑیاں پہنے پاؤں پر نفیس سی پائلز ساتھ ریڈ ہلیز پہنے ان چھوٹے گلابی ہونٹوں پر لیپ گلوس لگاے تم پوری ہتھیاروں کے ساتھ تیار ہوئ میری دھڑکن تیز کر رہی ہو بتاؤ کوئ ایسا کرتا ہے کیا ۔۔۔۔
شفا جو بولنے والی تھی جب احد اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر پر دوسرا ہاتھ اس کے بالوں چہرے ہاتھوں کی کلاہیوں گردن پر سہلاے گھمبیر بھری آواز میں بولتے شفا کی دھڑکن روک چکا تھا ۔۔۔۔
و۔ووہ لالہ کو دعوت دی تبھی سوچا تھوڑا سا تیار ہو جاؤ ب۔۔۔۔
تمہیں بچے پسند ہے کیا۔ ۔۔
شفا اپنی حیا بھری نظروں کو جھکا کر بول رہی تھی جب وہ ایک نیا سوال کر چکا تھا ۔۔۔
جب سے وہ پیلس آیا تھا تب سے سن رہا تھا شفا یشفہ کے پاس ہے ابھی بھی اپنے بیڈ پر اسے لیٹے دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔
ہاں بہت ۔۔۔
شفا خوشی سے چہکتی ہوی بولی تھی اسے واقعی یشفہ پسند آئ تھی۔ ۔۔
وجہ ۔۔۔۔
شفا کی گلاسز کو اتارے وہ ویسے ہی سکون سے بولتا شفا کی سانسوں کو تیز کر چکا تھا ۔۔۔۔
پ۔پیارے ہوتے ہے چ۔چھوٹے چھوٹے ہاتھ چھوٹے سے پاؤں چ۔ب۔۔۔۔
پیاری تو تم بھی ہو بلکہ بے حد حسین تمہارے بھی یہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہے ۔۔۔۔
شفا اب اس کی قید میں پھس چکی تھی تبھی گھبراتی ہوئ جواب دیتی وہ دور جانے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ اس کی یہ کوشش کو ناکام کرتا اس کے سفید دودھیا رنگ کے چھوٹے سے ہاتھوں کو پکڑتے اس کی سیفد شفاف نرمی سی انگلیوں کی پوروں کو اپنے دہکنے لبوں سے چھوتے وہ سرگوشی کر چکا تھا ۔۔۔۔
شفا کی دھڑکن احد کی اس حرکت پر ایکدم روک چکی تھی اپنے ایک ہاتھ سے اس نے احد کی گردن کو زور سے پکڑا تھا ۔۔۔۔
یہ چھوٹے چھوٹے سے کان ۔۔۔
وہ مدہوش ہوتا اب اس کے کانوں کی لو کو لبوں میں دباے چومتے وہ سرگوشی کر چکا تھا ۔۔۔۔
ب۔باہ۔باہر سب ہے چلے ا۔۔۔۔
یہ نرم ملائم سے سرخ گال جیسے روئ ہو ۔۔۔
شفا آنکھیں بند کیے کانپتے لبوں سے منہ بول رہی تھی جب وہ ان سنی کرتا اس کے دونوں گالوں کو چومتے ہوے بولا تھا جو آگ اگل رہے تھے ۔۔۔
تم خود میرے لیے ایک بےبی ہو چھوٹی سی تمہارے تو ہونٹ بھی چھوٹے سے ہے ۔۔۔
اس کے بالوں کو شولڈر سے پیچھے کرتے اب وہ اس کے لبوں پر جھکتے بولا تھا ۔۔۔۔
ا۔احد ی۔یشف۔ ۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی جب وہ بہکتے ہوے شفا کے گلابی ہونٹوں پر جھکتے اپنی پیاس کو بجھانے میں بزی ہو گیا تھا ۔۔۔۔
چ۔چھ۔چھوڑے۔۔۔
احد کی مسلسل بھرتی شدت کو دیکھ وہ ہمت جمع کیے بولی تھی ۔۔۔
جبکہ خود کا چہرہ سرخ انار بن چکا تھا ۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں چھوڑنے والا میں تمہارے پاس دو دن ہے سوچ لو کیا کرنا ہے کیونکہ میں اب ہم دونوں کے درمیان یہ دوری برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
احد کو برا لگا تھا کہ شفا اب بھی اس سے دور ہونا چاہتی ہے تبھی اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کے باوجود وہ سختی لیے بولا تھا ۔۔۔
و وہ م۔۔۔۔
اگر اب اپنے سے دور کیا مجھے تو جان لینا احد خانزادہ اپنے موت کو گلے لگاے گا اب ۔۔۔
وہ جو نظریں اٹھاے اس کی طرف دیکھ بولنے والی تھی جب وہ ایک ہی جٹکھے میں اسے دوبارہ اپنی قید میں کیے دانت پیستے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
شفا نے سانس روکے اس کی سرخ گرے آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں اسے اپنے لیے عشق کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھای دیا تھا ۔۔۔۔
شفا نے خاموشی سے اپنی نظریں جھکا لی تھی ۔۔۔۔
ا جاو باہر اب ۔۔۔
اسے خاموش سر جھکاے اپنی باہوں میں دیکھ وہ درو ہوتا روم سے باہر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میں نہیں رہنا چاہتی آپ سے دور ۔۔۔
شفا آنکھوں میں۔ آنسو لاے اپنے دل کی بات زبان پر لاے خود سے بولی تھی بہت جلد وہ اپنی محبت کا اظہار کرنے والی تھی احد خانزادہ سے ۔۔۔
لالہ فون ملاے ان کو پتہ نہیں کہاں رہ گے اب تو رات ہونے والی ہے۔ ۔۔
رات کھانے پر سب نے احد کا ویٹ کیا تھا جو کہ ابھی تک نہیں آیا تھا تبھی اب وہ زرا پریشان ہوتی جنید کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
چھوٹی شاہد اس کا فون بند ہو گا تم بتاؤ کہاں گیا تھا وہ میں ڈھونڈ لیتا ہو ۔۔۔۔
جنید خود پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
م۔جھء نہیں پت۔۔۔
احددددد احدددددددد۔۔۔
وہ اب آنسو کا باندھ توڑتے ہوے رو کر بول رہی تھی جب ہال میں زخمی بے ہوش احد کو ملازموں کے ساتھ انٹر ہوتے وہ چیخی تھی ۔۔۔۔
احد احد ۔اے کے اے کے ۔۔۔
کیا ہوا ہے اس کو ۔۔۔۔
جنید شائستہ سدرہ شفا سب ہی احد کے پاس پہنچ گے تھے جب جنید نے ہی باہوں میں بھرتے احد کے خون سے لت پت وجود کو صوفے پر لیٹاتے ملازم سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
و۔۔۔
لالہ پلیز ڈاکٹر کو بلاے احد کے منہ سے خون نکل رہا ہے ۔۔۔۔
ملازم بولنے والا تھا جب شفا احد کے قریب بیٹھتی روتی ہوئی چیخی تھی جہاں احد کے لبوں سے خون کا فوارہ پھوٹ رہا تھا ۔۔۔۔
