Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 1)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

عالیشان بنگلہ جو وسیع پیمانے پر اپنی پوری شان سے کھڑا تھا جس کے اردگرد تعداد گارڈز کھڑے اس بنگلے کی حفاظت کر رہے تھے ۔۔۔۔

صبح کے وقت وہ سب اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔۔

بنگلے کے باہر بڑا سا ڈول خانزادہ لکھا ہوا تھا مطلب وہ ایک ڈول کا ہاؤس تھا ۔۔۔

جس کی حفاظت کے لیے وہ سب ہی اپنی ڈیوٹی نبھا رہے تھے ۔۔۔۔

وہی اسے ہاؤس کے ایک عالیشان روم میں وہ ڈول ہر چیز سے بے خبر گہری نیند سو رہی تھی ۔۔۔۔

براؤن کلر کے فل سجے روم کی ہر چیز براؤن کلر کی تھی جبکہ وہ سوفٹ جہازی سائز بیڈ پر براؤن کلر کے کمبل میں لپیٹ کر ایک چھوٹی سی ڈول لگ رہی تھی جیسے وہ برسوں سے ایسے ہی سو رہی ہو ۔۔۔۔

ٹھاہہہہہہہ۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔

وہ نیند میں کروٹ لے رہی تھی جب اسے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنای دی تھی تبھی وہ چیختی ہوئ اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔

ک۔کہا۔کہاں ہے اپ۔۔۔

وہ ہربڑاتی ہوی اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی جہاں وہ براؤن کلر کی کھولی شرٹ پہنے سمی نظروں سے پورے روم کے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

یہاں ج۔جن بھوت ہے مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔۔

وہ ڈرتی ہوئ بنا چیپل پہنے اب بیڈ سے اترتی روم سے باہر جاتی سڑھیاں اترتی بولی تھی ۔۔۔

سڑھیوں کے پاس دس ملازم سر جھکاے اسی کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔

میم یہ شوز پہن لے ا۔۔۔

و۔وہ کدھر ہے ۔۔

وہ اترتی ا رہی تھی جب ایک ملازمہ نے اس کے سامنے شوز رکھتے کہا تھا جب وہ برا سا منہ بناے بولی تھی۔ ۔

سر کچن میں ہے ۔۔۔۔

وہ سر جھکاے ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔

اچھا ٹھیک تم لوگ ایسے کھڑے مت ہوا کرو جاو یہاں سے۔ ۔۔

وہ اپنے کھولے بالوں کا جوڑا بناے اب ان سب کو دیکھ رہی تھی نجانے کب سے وہ یہی کھڑے تھے ۔۔۔

لیکن احد س۔۔۔

میں دیکھو لو گی تم لوگ جاؤ یہاں سے ۔۔۔

وہ سارے گھبراتے بول رہے تھے جب وہ کہتی ہوئ اب کچن کی طرف گی تھی ۔۔۔

احد خانزادہ سے اس کے بنگلے کا ہر ملازم ڈرتا تھا وہ غصے کا بے حد تیز تھا لیکن اگر اس سے کوئ نہیں ڈرتا تھا تو وہ شفا خانزادہ تھی ۔۔۔

احد خانزادہ کی لٹل بے بی ڈول۔۔۔

میں ناراض ہو آپ سے ۔۔۔

وہ کچن میں آئ تھی جہاں کچن کی ہر چیز سلیقے سے رکھی گی تھی وہ تو کچن دیکھ کر حیران ہوتی تھی جس کا کچن ہی اتنا خوبصورت تھا اس کا بنگلہ تو کمال کا ہونا تھا ۔۔۔

وہی چولہے کے قریب کھڑے وہ براؤن سیلو لیس بینان پہنے جس میں اس کا بھرپور کسرتی جسم نمایا ہو رہا تھا ۔۔۔

اس کی بیک شفا کی طرف تھی تبھی وہ آہستہ سے قدم اٹھاے اسے بیک ہگ کیے ویسے ہی آنکھیں بند کرتی روٹھے بچے کی طرح بولی تھی ۔۔۔

احد جو آملیٹ بنانے میں بزی تھا شفا کا ہاتھ سینے پر پڑتے وہ وہی پرسکون ساکن ہو چکا تھا وہ جب بھی اس کے قریب آتی احد کی ایسی ہی فلیلنگز ہوتی تھی ۔۔۔

کوئ بات نہیں میں اپنی لٹل بے بی ڈول کو منانا لو گا چلو فٹافٹ ناشتہ فینش کرنا ہے ۔۔۔

وہ جلدی سے اس کی طرف رخ کرتا اسے ٹیبل کے پاس بیٹھاتے بولا تھا ۔۔۔

یہ فری کے نوکر کیوں رکھے ہے جو تینوں ٹائم کا کھانا آپ نے بنانا ہوتا ہے ۔۔۔

وہ ابھی بھی مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی تھی جو پیسنے سے بھیگے چہرے لیے مسکراتا ہوا ناشتے کی پلیٹ اس کے سامنے رکھتا خود اس کے قریب بیٹھ چکا تھا۔ ۔۔

یہ سب نوکر اس لیے ہے وہ اس بنگلے کی حفاظت کر سکے کام کر سکے ا۔۔۔

تو میرے بھی کام کر دیا کرے کون سا وہ گھس جاے گے آپ نے آفس بھی جانا ہوتا ۔۔۔

وہ اسے چھوٹے چھوٹے نوالے بناتے اسے کھلاتا بول رہا تھا جب وہ ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔

شفا خانزادہ کا ہر کام کرنے کے لیے احد خانزادہ موجود ہے اب بولو مت یہ کھاو سکون سے ۔۔۔

اسے دوبارہ بولتا دیکھ وہ ٹوکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پ۔پھر ا۔اپ کو سیلری بھی ملنی چاہے کام کرتے آپ ۔۔۔

وہ بھرے منہ سے بولتی خود بھی اسے ناشتہ کرواتی بولی تھی ۔۔

ہاں یہ تو کبھی سوچا نہیں چلو شام کو اپنی سیلری بتاو گا اوکے ۔۔۔

وہ اس کا ماتھا چومتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کھل کر مسکرا لے کون سا ٹیکس لگ رہا ہے ۔۔۔

اسے مدھم سا مسکراتا دیکھ وہ بولی تھی ۔۔۔

کیسے مسکراتے کھل کر ۔۔۔

وہ اسی سے سوال کر چکا تھا ۔۔۔

ایسے ۔۔۔

وہ پورا منہ کھولے مسکرای تھی جبکہ احد کو پتہ نہیں چلا وہ مسکرا رہی یا ڈرا رہی اسے ۔۔۔

مسکرانے سے شفا کے ڈمپل شو ہوے تھے ۔۔۔

اچھا ایسے ہی مسکراؤ گا او میڈیسن لو ۔۔۔

وہ ٹائم اپنی واچ پر دیکھتا جلدی سے بولا تھا ۔۔۔

جب ملازمہ میڈیسن بوکس اٹھا کر لائ تھی۔۔۔۔

یہ کون سی میڈیسن ہے بہت کڑاوی ہے میں تو ٹھیک ہو ا ۔۔

یہ طاقت کی ہے ڈاکٹر نے کہا تم یہ کھاو تو بڑی ہو جاؤ گی مطلب تمہارا قد میرے سامنے بچی لگتی ہو ۔۔۔

احد نظریں چڑہاے جھوٹ بولتا اسے میڈیسن دیتا بولا تھا ۔۔۔

شفا کا قد احد سے کافی چھوٹا تھا وہ بامشکل ہی اس کے سینے تک آتی تھی ۔۔۔

قد تو بڑا ہوتا میں منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا یہ میڈیسن کھا کر یککککک۔۔۔

خبردار شفا اگر تم نے یہ منہ سے باہر نکالی ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ۔۔۔

وہ منہ بناتی بول رہی تھی جب اچانک وہ غصہ کرتا چیخا تھا ۔۔۔

اپنی براون آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیے شفا نے اس کی سرخ گرے آنکھوں میں دیکھتے بامشکل گولی اندر کی تھی ۔۔۔

گندے انسان ۔۔۔۔

گولی کھاتے وہ اس کے گال پر کاٹتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔

احد سمجھ گیا تھا وہ ناراض ہو چکی ہے لیکن اسے ڈاکٹر کو فون کرنا تھا ۔۔۔

دھیان رکھنا اس کا ۔۔۔

کچن کے اندر سوفٹ سا بنا احد اب ہال آتے اپنے جلالی روپ میں واپس آتا کچن سے باہر کھڑے ملازموں کو کہتا تن فن کرتا اپنے روم میں گیا تھا ۔۔۔

جبکہ ملازم تو یہی سوچنے میں بزی تھے پہلے والا احد ٹھیک تھا یا یہ جلاد والا ۔۔۔

طیبعت کیسی ہے شائستہ اگر نہیں ٹھیک تو ڈاکٹر ک۔۔۔

نہیں سکندر میں بلکل ٹھیک ہو ویسے ہی فیل ہو رہا آپ بس اپنا کام کرے میری فکر مت کرے ۔۔۔

سکندر اسے فون کرتا فکر مند ہوتا بولا تھا ۔۔۔

جب وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

میں جانتا ہو یار ایسی حالت میں بیوی کو ریسٹ دی جاتی ہے اگر آمی کی طیبعت ٹھیک ہوتی وہ کبھی تمہیں کام کے لیے نہیں کہتی ۔۔۔

وہ شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔

اب شائستہ اسے کیا بتاتی اس کی ماں ڈرامہ کر رہی ہے اس کی ایسی حالت میں بھی کچن میں کھڑا کیا ہوا تھا کھانا بنانے کے لیے ۔۔۔

جہاں وہ بامشکل کھڑی اپنا درد سہتی کھانے کو تیار کر رہی تھی ۔۔۔

اچھا شام کو ملتے خیال رکھنا اپنا اور بچے کا ۔۔

روزانہ کی طرح وہ اپنی کہتا فون بند کر چکا تھا ۔۔۔

سکندر ایک بہت ہی اچھا محبت اور کیئر کرنے والا شوہر تھا شائستہ کو کبھی اس کی محبت میں کمی محسوس نہیں ہوئ تھی لیکن دل کے ایک کونے میں ایک کسک تھی شاہد کسی کو نہ پانے کی ۔۔۔

لیکن وہ اپنی شادی شدہ لائف میں بہت خوش تھی ۔۔

بہت جلد اس کی اولاد دنیا میں آنے والی تھی ۔۔۔

چاے بنا دو ایک سر میں بہت درد ہو رہا ۔۔۔

وہ کھانا بناتی پیسنے سے بھیگے چہرے کو لے کچن سے باہر چلتی روم کی طرف جا رہی تھی جب اس کی ساس نے نیا حکم دیا تھا ۔۔۔

امی آپ خود بنا لے میری طیبعت نہیں ٹھیک لگ ر۔۔۔

توبہ ہے آجکل کی لڑکیوں کا زرا سا کام کہا دو بہانے شروع ارے ہم بھی ایسی حالت سے گزارے ہے سارا سارا دن کام کرتی نہیں تھکی تھی ایک تم جیسی لڑکیاں ہوتی جو بہانے بنانے شروع جاؤ چاے بناو یہ ڈارمے صرف شوہر کے سامنے کیا کرو ۔۔۔

شائستہ کی حالت واقعی خراب ہو رہی تھی تبھی وہ بول رہی تھی جب وہ زہر اگلنا شروع ہوتی بولی تھی ۔۔۔

یہ روز کا معمول تھا شائستہ ایسے طعنے خاموشی سے سنتی تھی اس کا دنیا میں کون تھا جو اس کے پیچھے آتا پوچھنے ۔۔۔

وہ تو اکیلی تھی ۔۔۔

کاش بابا آپ نے تائ جان کی بات نہ سنی ہوتی اپنی تربیت پر یقین کیا ہوتا تو آج میں اس حال میں نہ ہوتی ۔۔۔

وہ سب نہ کرتی تو آج یہ سب نہ ہوتا کاششش کاشششش۔۔۔

سب تمہاری وجہ سے ہوا جیند خان نفرت بھی نہیں کر سکتی تم سے ۔۔۔

اس سے کھڑا ہونا مشکل لگ رہا تھا جب وہ بے آواز آنسو بہاے دل سے سوچ رہی تھی ۔۔۔

بس ڈرامے شروع ہو گے جاؤ بی بی پھر میرا بیٹا مجھ سے ہی لڑے گا ماں نے ہی کچھ کہہ دیا ۔۔۔

وہ شکوے کرنے میں بزی تھی جب وہ اس کے پیچھے آتی بولی تھی ۔۔۔

شائستہ ایک زندہ لاش کی طرح خود کو گھیسٹتی ہوئ کچن سے باہر روم کی طرف جا رہی تھی ۔۔

وہ اپنی زندگی سے ہار رہی تھی ۔۔۔کہاں دیکھا تھا اس نے لوگوں کا ایسا رویہ ایسے لہجے وہ تو لاڈوں سے پلی بڑھی تھی کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی شائستہ خلیل خان کے سامنے کوئ بول جاے ۔۔۔

شفا بھابھی کی کنڈیشن نہیں ٹھیک احد تم کیوں نہیں سمجھ رہے اگر یہ غلط میڈیسن دیتے رہے وہ بہت جلد ذہنی معذور ہو جاے گئ ایسے تم ہی ان کو نقصان پہنچا رہے ہو ۔۔۔

ڈاکٹر دانیال اسے سمجھاتے بولا تھا جو سکون سے بیٹھا سن رہا تھا ۔۔۔

تم جانتے ہو وہ میڈیسن کھانے سے شفا کو سب یاد ا جاے گا جانتے ہو کیا ہو گا وہ دور ہو جاے گی مجھ سے ۔۔۔

اسے یاد ا جاے گا اپنا وہ درد ناک ماضی میں اسے کسی بھی حال میں کھونا نہیں چاہتا ا۔۔۔

میڈیسن سے اسے آہستہ آہستہ سب یاد ا جاے گا اگر کبھی ان کے دماغ کو جھٹکا لگا اور سب یاد ا گیا تو کوما میں جانے کا خدشہ زیادہ ہے یہی وجہ سے میڈیسن دو تاکہ اگر ایسی صورتحال بنے بھی تو ہم ہنیڈل کر سکے ان کو ۔۔

وہ سردلہجہ لیے بول رہا تھا جب دانیال نے سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔

جب تک احد خانزادہ زندہ ہے تب تک میری لٹل بےبی ڈول کو کوئ بھی نہیں بتا سکتا اس کا ماضی نہ ہی اسے کوئ تکلیف دے سکتا ہے ۔۔۔

مجھے کسی کی پرواہ نہیں اگر کبھی ایسا ہوا تب دیکھ لیا جاے گا لیکن میں یہ میڈیسن کبھی نہیں دو گا ۔۔۔

وہ طش سے چیختا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تم ڈر رہے ہو سیدھی سی بات ہے ورنہ تم اگر چاہو تو اسے سب بتا سکتے ہو اس کے نقلی ماں باپ کو اس کے سامنے کیا اس سے جھوٹی کہانی بنای ہے کب تک کرو گے احد ایک دن یہ آنا ہی ہے تم کی۔۔۔

میں کرو گا سب تم روکنے والے نہیں ہو اگر تم نے زیادہ فورس کیا میں پاکستان چھوڑ کر اسے جرمنی لے جاو گا ۔۔۔۔

وہ ایک بار کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ اپنی کہتا وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔

سر یہ وٹامنز کی گولی۔۔۔

نکالو اسے احد خانزادہ کے گھر وہی میڈیسن جاے گی جو اس کی بیوی کو ضرورت ہے ۔۔۔

دانیال پریشان سا کھڑا تھا جب میل نرس اندر آتا نقلی میڈیسن دیتا بول رہا تھا جب وہ بولا تھا ۔۔۔

سوری احد تمہارا سچ چھپانے کے لیے میں بھابھی کو دھوکا نہیں دے سکتا اگر ایسا نہ کیا وہ کوما میں جا سکتی ہے ۔۔

اب وہ جلدی جلدی میڈیسن پک کرتا خود سے بولا تھا ۔۔۔

شاہد دانیال احد کے ہاتھوں سے اپنے انجام کو بھول چکا تھا ۔۔۔

سنو تم سے کوئ ملنے آیا شاہد کزن بتا رہا تمہارا ۔۔۔۔

شائستہ نڈھال سی بیڈ پر لیٹی تھی جب اس کی ساس اندر آتی بولی تھی ۔۔۔

میرا کوئ کزن نہیں ہے امی ا۔۔۔

اب مجھے کیا پتہ کون ہے جیسے میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنس کر شادی کر لی یہ بھی کوئ ہو گا یونی کا ۔۔۔

وہ ناسمجھی سے بول رہی تھی جب وہ نفرت سے بولی تھی ۔۔۔

شائستہ بس افسوس ہی کر سکتی تھی ان کے ذہین پر ۔۔۔

اچھا میں آتی ہو ۔۔

وہ بامشکل اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

کوئ کلاس فیلو ہو گا ورنہ وہ تو کبھی نہیں آسکتا جو سالوں پہلے اپنی زندگی میں خوشی سے مگن ہو گیا تھا ۔۔۔

اسلام و۔۔۔۔

وہ بڑی سی شال اپنے بھرے وجود پر ڈالتی آہستہ آہستہ قدم اٹھاے چھوٹے سے ہال نما روم میں آتی بول رہی تھی جب سامنے والی شخصیت کو دیکھ وہ سلام لیتی وہی اٹکی تھی ۔۔۔۔

صوفے پر بیٹھا وہ وجود کافی سالوں بعد اسے دیکھتا احترام سے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔

۔ت۔تم ا۔۔۔

ارے بیٹا دھیان سے یہ لو پانی پیو ۔۔۔۔

وہ ہکابکا ہکلاتی چکرا کر گرتی بول رہی تھی جب اس کی ساس اچھی ساس بنتی اسے پکڑتی صوفے پر بیٹھاے بولی تھی ۔۔۔۔

لیکن سامنے کھڑا وجود تو بس اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اپنے ذرد چہرے سے اسی کی دیکھتی اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتے سر جھکا گی تھی ۔۔۔

اس کی اس ادا پر وہ مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔

خ۔خون خون م۔میرے امی ابو مر گے ا۔اپ کی وجہ سے ۔۔۔

ہاسپٹل سے واپس آتے احد ہال میں آیا تھا جہاں وہ اپنے ہی بال نوچتی چیخی تھی ۔۔۔

جبکہ سامنے ایل ای ڈی پر ایک فلم چل رہی تھی جہاں ایک لڑکا زمین پر پڑے مرد و عورت دونوں پر فائر کرتا ان کا قتل کر رہا تھا ۔۔۔

جب وہ سین دیکھتی چیخی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ریلکس شفا ا۔۔۔

د۔دور رہو آپ کی وجہ سے مرے وہ آپ قاتل ہے مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔۔۔

احد پریشان ہوتا جلدی سے اسے باہوں میں بھرتے بولا تھا جب وہ دھکا دیتی اس سے دور ہوتی سڑھیوں کی طرف بھاگتی بولی تھی ۔۔۔

یہ جس نے فلم لگای اپنے انجام کے لیے تیار رہے ۔۔

شفا مائ لٹل بےبی ڈول ۔۔۔

وہ ان سب ملازموں کو گھورتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا تھا جو بھاگتی ہوئ ٹیرس پر جا رہی تھی ۔۔۔

مرڈر سین دیکھ کر شفا کو ایک بار پھر سے دورہ پڑا تھا ۔۔۔۔

دیکھو لٹل بے بی ڈول دروازہ کھولو دیکھو تمہارا احد باہر کھڑا ہے ۔۔۔

وہ ٹیرس کا دروازہ بند کر چکی تھی جب وہ فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔

اس کی جان لبوں پر ا چکی تھی شفا کا ایسا ری ایکشن دیکھ کر ۔۔۔

وہ مسلسل دروازے کو پیٹ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف اس کی سسکیاں سنای دے رہی تھی اسے ۔۔۔