Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 12)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
یہ میڈیسن لکھ کر دے رہا ہو جب بھی بھابھی پینک کرے تبھی دینا ان کو دوسری بات اے کے اگر بھابھی کچھ بھی کہے چاہے وہ تم سے دور جانے کی بات کرے تب خاموشی سے مان جانا ۔۔۔
دانیال شفا کا چیک اپ کرتا اب کچھ میڈیسن لکھ کر دیتے بول رہا تھا جب احد نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا شفا نے اگر ایسی بات کی خود کو اور اسے شوٹ کر لو گا لیکن دور نہیں ج۔۔۔۔
دیکھو ابھی وہ شوک میں ہے غصے میں کچھ بھی کہے گی تم بس مان جانا اگر تمہاری یہ خاموش محبت سچی ہوئ تو بھابھی خودی تمہارے پاس آ جاے گی اگر اب ان کے دماغ پر کوئ گہرا صدمہ لگا تو شاہد ہی وہ بچ پاے گی باقی تمہارا فصیلہ ہو گیا کیا کرو گے ۔۔۔۔
دانیال اسے سمجھاتے وہاں سے گیا تھا جبکہ احد بے بس وہی کھڑا سوچ رہا تھا کیا کرے ۔۔۔
یہ تم اچھا نہیں کرتے میری بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاتے ہو اس پورے پیلس میں اکیلی رہتی ہو دو مجھے یہ میری ہے خانننننن۔۔۔۔
صبح شائستہ جب ناشتے سے فری ہو کر روم میں آئ تبھی جنید کے ساتھ یشفہ کو تیار ہوتا دیکھ بے بسی سے چیخی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ جنید واقعی اسے اپنے ساتھ آفس لے جاتا تھا ۔۔۔
تم سکون سے رہو یہاں ہم دونوں ڈسٹرب نہیں کر رہے شام کو ملے گے ۔۔۔۔
ننھی سی یشفہ کو گود میں اٹھاے وہ اب سکون سے چلتا ہوا شائستہ کے پاس آتے اس کی ننھی سی ناک کو دباے بولا تھا ۔۔۔۔۔
تم کیسے ہینڈل کرو گے بچی ہے تمہارے ک۔۔۔۔
اتنے ماہ سے دیکھ ہی رہا ویسے بھی ڈاکٹرز کا کہنا تم کافی ویک ہو تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے ہاں بس شام کو فریش رہا کرنا کیونکہ وہ صرف ہم دونوں کا ٹائم ہو گا اوکے چوہیا ۔۔۔۔
جنید مسکراتے ہوے زبردستی شائستہ کو سینے سے لگاے بولا تھا شائستہ کو بھی خبر نہ تھی وہ اس کے سینے سے لگی ہے ہوش تو تب آیا جب یشفہ نے غصے سے چھوٹا سا پاؤں اس کے سر پر مارا تھا ۔۔۔۔
ہاہہاہاہاہہاہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ بلکل ماں پر گی ہے جلیس گرل تم بھی ایسا کرتی تھی مجھے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر ۔۔۔۔
شائستہ جلدی سے پیچھے ہوتی یشفہ کو گھور رہی تھی جو اپنا کام کر کے جنید کی گردن میں منہ چھپا چکی تھی تبھی وہ قہقہ لگاے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں وہ پہلی والی شائستہ تھی جس نے چار سال اپنی محبت کو اس لڑکی کے حوالے کیا ہے جو اس کی محبت کی محبت تھی ۔۔۔۔
شائستہ کہیں کھوئ ہوئ گہرا طنز کر چکی تھی ۔۔۔
اس کے لفظوں کے مطلب سمجھتے جنید چپ ہوا تھا ۔۔۔۔
دیکھو شائستہ مجھے موقع د۔۔۔
شام کو ملے گے ۔۔۔
جنید نے بولنے کی کوشش کی تھی جب وہ یشفہ کو کس کرتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا اپنے سویٹ سے ہبی کو بھی چھوٹی سی کس دے دو ورنہ جب میں لینے پر آیا تو شرما جاؤ گی ۔۔۔
جنید اس کے پیچھے جاتے شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
اپنی پہلی والی سے لو کس میں ہرگز نہیں دے رہی۔ ۔۔۔
شائستہ منہ بناے ناک چڑہاے بولی تھی ۔۔۔
یار وہ کہتی دوسری والی سے لو کس اب میں کیا کرو ۔۔۔۔
جنید دنیا جہاں کا معصوم چہرہ لیے بولا تھا۔
ہمممم جاؤ اب ۔۔۔
شائستہ اسے گھاس نہ ڈالتی ہوئ بولی تھی جبکہ یشفہ نے ہی اپنے چھوٹے سے لب جنید کی ہلکی شیو والی گال پر رکھے تھے ۔۔۔۔
تم نہ سہی میری بیٹی نے کس کر دیا تم سے اچھی میری بیٹی ہے ۔۔۔۔
یشفہ کے دونوں گال چومتے وہ خوش ہوتا کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔
شکر ہے لٹل بے بی ڈول تمہیں کم از کم ہوش تو آیا تم جانتی ہو میں کتنا پریشان ہو چ۔۔۔
و۔وہی رہے آپ ہاتھ مت لگاے مجھے ۔۔۔۔
رات سے صبح ہو چکی تھی احد وہی شفا کے ہوش میں آنے کا ویٹ کرتا رہا جب شفا نے کروٹ لیے اپنی ہلکی سی آنکھوں پر جھکی پلکوں کی جھالر کو اٹھایا تھا تبھی وہ خوشی سے پاگل ہوتا اس کے قریب اے بول رہا تھا جب وہ ڈرتی ہوئ بیڈ سے نیچے اترتی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا ریلکس میں یہی ہو تم پرسکون رہو ۔۔۔
احد وہی کھڑا ہوتے اسے پرسکون کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب شفا دیوار سے لگتی پرسکون کھڑی ہوتی سامنے کھڑے احد کو دیکھ رہی تھی جو اسے ہی دیکھنے میں بزی تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔
دونوں کافی دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے جب شفا نے اپنی شرٹ کی زپ کھولی تھی تبھی شرٹ شولڈر سے نیچے سرکی تھی جب وہ ہکلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ا۔اپ نے بدلہ لینے کے لیے شادی کی اور ہ۔ہوس کے لیے ےب۔تبھی میں چا رہی آپ ۔اپنا بدلہ پورا کرے اور مجھے شوٹ کر دینا میں اپنے امی ابو کے پاس جانا چاہتی ہو ۔۔۔۔
شفا پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھو لٹل بے بی ڈول میری ب۔۔۔۔
نہیں سنی آپ کی بات آپ کو سمجھ نہیں آتا اپنا بدلہ پورا کرے اور شوٹ ک۔۔۔۔
چٹاخخخخخ۔۔۔۔
شفا اپنے ہوش کھوتی ہوئ روتی ہوی اپنی باقی کی شرٹ اتارے بول رہی تھی جب احد شدید طش میں آتا اسے زور سے تپھڑ مارا تھا ۔۔۔۔۔
مارے مارے مجھے میں زندہ نہیں رہنا چاہتی آپ جیسے جلاد درندے کے ساتھ مارے دے مجھے احدددددددد ۔۔۔۔۔
احد نے اسے کمر سے پکڑا تھا جب وہ اسی کے سینے پر مکہ مارتی ویسے ہی روتی بلکتی ہوئ نیچے قالین پر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔
آنسو تو احد نے بھی نکل رہے تھے اس کی لٹل بے بی ڈول کتنی بےچین تھی اور وہ اسے پرسکون بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔۔
تم جیسا کہو گی میں ویسا ہی کرو گا تم بس رو مت تمہارا ایک ایک آنسو میرے دل پر گر رہا ہے ۔۔۔۔
دور رہنے کی بات کر رہی ہو تو آج کے بعد میں کبھی تمہارے قریب نہیں آؤ گا پر وعدہ کرو تم یہی میری نظروں کے قریب رہو گی ۔۔۔۔
احد اس نے بکھرے بال سنورتے ہوے نرم لہجہ سے بول رہا تھا جب وہ اس کی بات سنتی پرسکون ہوتے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
جو تم کرنا چاہتی ہو کرو آج نے بعد میں کچھ نہیں کہو گا لیکن تم یہی بنگلے میں رہو گی اسی روم میں جب تمہارا دل کیا تب مجھے یاد کر لیا میں اسی وقت تمہارے پاس ا جاو گا ۔۔۔۔
میں جانتا ہو تمہیں تکلیف دی ہے میں نے اسی لیے اب میں تمہاری اجازت سے ہی قریب آؤ گا کوئ زور زبردستی نہیں ۔۔۔
احد اس کی شرٹ کی زپ بند کرتے اب اسے کھڑا کیے بول رہا تھا ۔۔۔۔
اس کے لیے یہی کافی تھا شفا اب پرسکون ہو چکی تھی ۔۔۔۔
م۔مجھے س۔سونا ہے ۔۔۔
اس سے دور ہوتی اب وہ سوں سوں کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں ضرور سو جاؤ ۔۔
اس نے ماتھے کو نرمی سے چھوتے وہ اب باہر گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ شفا کی نظریں باہر جاتے احد پر تھی وہ سمجھی تھی وہ غصہ کرے گا لیکن اس کا ایسا نرم رویہ دیکھ وہ شوک تھی ۔۔۔
“””دو ہفتے بعد۔۔۔۔
د۔دا دا (بابا )….
اوووو مائ گاڈ ایک بار پھر سے کہنا اففففف اففففف میرے کان ترس گے تھے یہ لفظ سنے کے لیے ہاےےےے مائ لٹل فیری ۔۔۔
جنید میٹنگ روم میں بیٹھا ضروری میٹنگ کر رہا تھا روم میں کافی لوگ بیٹھے بزی تھے وہی اس کا مینجر جنید کو ضروری ڈیلز کا بتا رہا تھا جیسے وہ سربراہی کرسی پر بیٹھا سیریس شکل بناے ہاتھ پر تھوڑی اٹکاے سن رہا تھا جبکہ پاس پڑے کوڈ میں جلیس ہوتی یشفہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔
وہ کب سے اپنے باپ کو بزی دیکھ رہی تھی تبھی جلتی ہوئ اپنی توتلی زبان سے یہ لفظ نکال چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جو مکمل مگن ہوے سن رہا تھا اچانک یشفہ کی بات سنتے وہ سب بھولتا وہی گود میں اٹھاے جھوم اٹھا تھا ۔۔۔۔
س۔سر میٹنگ ا۔ ۔۔۔
بھاڑ میں گی میٹنگ آج میری فیری نے بابا کہا ہے اسی خوشی میں پارٹی اریج کرواؤ ۔۔۔۔۔
مینجر اسے آگاہ کرتا بول رہا تھا جب وہ خوشی سے پاگل ہوتا چہکتا بولا تھا ۔۔۔۔
جی سر ۔۔۔
اس کا آڈر مانتے مینجر نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
وہی سب اب آہستہ آہستہ باہر جا رہے تھے ۔۔۔۔
ایک بار پھر سے کہو بابا ۔۔۔۔
یشفہ نے گالوں کو دیوانہ وار چومتے وہ چہکتا بولا تھا ۔۔۔۔
د۔دا(بابا)…
یشفہ بھی کھلاکھلاتی ہوی بولی تھی جب جنید کا دل کھول قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔
وہ آج بہت خوش تھا بابا نام سنے کے لیے وہ ترس گیا تھا لیکن آج اس کی یہ خواہش بھی پوری ہو چکی تھی ۔۔۔۔
بھاؤ وووووو۔۔۔۔
اہہہہہہہہہ ۔۔۔۔
خان تمہاری یہ حرکت آج تک نہیں گی میرا دل بند ہو گیا اففففف۔۔۔۔
جنید سب چھوڑے پیلسں آیا تھا جب کچن میں بزی شائستہ کو دیکھا تھا جو ملازمہ کو وہی کھڑا کیے خود شلیف کے پاس کھڑی سالن بنا رہی تھی ۔۔۔۔
ڈارک ریڈ کلر کی شرٹ کیپری پہنے بالوں کا جوڑا بناے وہ اپنے کام میں بزی تھی جب جنید وہی آتا آہستہ آہستہ قدم اٹھاے اس کے پیچھے کھڑے ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
ملازمہ وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جو اپنے دھیان میں کھڑی تھی جب اس کی آواز سنتے وہ اس کی طرف رخ کیے سرخ چہرہ سے بولی تھی ۔۔۔۔
تم تو ڈرنے والی نہیں تھی ہم تو مل کر دوسروں کو ڈراتے تھے ا۔۔۔۔
زندگی نے ڈرنا سکھا دیا ورنہ مجھے بھی ایسی بچپنے والی حرکتیں مزے کی لگتی تھی خان ۔۔۔۔
جنید اس کے بالوں کی لٹ کو پکڑتے مسکراتے بول رہا تھا جب شائستہ سرد سپاٹ لہجے میں بولتی یشفہ کو پکڑ چکی تھی ۔۔۔۔
زندگی جینے کا نام ہے چوہیا میں وعدہ کرتا ہو تمہارے ان چار سالوں کی ہر کمی کو پورا کر د۔۔۔۔
آفس سے جلدی ا گے کیا یشفہ نے تنگ کیا تمہیں۔
وہ اس کی طرف دیکھ بول رہا تھا جب وہ یشفہ کو لے اپنی کہتی کچن سے باہر گی تھی ۔۔۔۔
ہاں شام کو پارٹی ہے بس اس کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔
جنید اس کے پیچھے آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کیوں پارٹی ۔۔۔
یشفہ کو لیے وہ صوفے پر بیٹھتی بولی تھی جب یشفہ نے اس کے بالوں کا جوڑا کھولا تھا ۔۔۔
ہاں شام کو بتاو گا کیوں رکھی ہے تم تیار ہو جانا فیری اور تمہارے ڈریس ا جاے گے شام تک ۔۔۔۔
جنید اس کے قریب بیٹھتے کھولے بالوں میں منہ چھپاے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
جنید اور شائستہ کو دیکھ یشفہ نے تالی بجای تھی ۔۔۔
ا۔ابھی نہیں بتا سکتے اور یہ اپنا رومینس اپنی پہلی بیوی کے ساتھ کیا کرو میرے ساتھ نہیں۔ ۔۔۔
شائستہ سرخ چہرہ لیے اٹھتی ہوئ اسے دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
دوسری سے بھی کیا جاتا ہے رومنیس کوئ بڑی بات ن۔۔۔۔
بس کرو خان میں پہلے ہی اس نکاح میں اذایت سہہ رہی ہو اگر تم نے ایسا ہی کرنا تھا تو اس وقت کیوں نہیں تھاما میرا ہاتھ ۔۔۔۔
کاشششش اس دن میری بات مان جاتے کم از کم بابا تو زندہ ہوتے ۔۔۔
تم جانتے ہو اتنے سال مجھے یہی شرمندگی جینے نہیں دیتی کاش میں نے وہ حرکت نہ کی ہوتی تو آج بابا زندہ ہوتے ۔۔۔
ان کی نظروں میں ایسی بنی سو بنی لیکن سکندر اس انسان نے بھی الزام لگا کر مجھے چھوڑ دیا ۔۔۔
سب تمہاری وجہ سے ہوا صرف تمہاری وجہ سے نفرت بھی نہیں کر سکتی میں ۔۔۔۔
شائستہ اپنے دل کا غبار نکالے آج پھٹ پڑی تھی ۔۔۔
جبکہ جنید سر جھکاے سب سن رہا تھا ۔۔۔
دیکھو یہ سب قیسمت میں لکھا تھا ہو گیا لیکن ہم دونوں اپنے اس وقت کو خوب۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔۔
جنید اسے پرسکون کرتا بول رہا تھا جب یشفہ کے رونے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔
بابا کی جان چ۔۔۔۔
میری بیٹی ہے یہ جو تم ہم دونوں پر احسان کر رہے ہو مجھے نہیں چاہے اتنے ہی بچے پیارے ہے تو پہلی بیوی کو کہو یا کہیں اور سے لو ۔۔۔
نہیں چاہے مجھے اور میری بیٹی کو تمہاری محبت سمجھے خان ۔۔۔۔
وہ تڑپ کر یشفہ کو گود میں اٹھا رہا تھا جب وہ اس سے کیھچ کر لیتی بولتی ہوئ وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
جنید نے افسوس سے سر پکڑا تھا وہ اسے کیا بتاتا اگر اس نے چار سال جنید کی محبت کے لیے ترس کر گزارے ہے تو جنید نے بھی شائستہ کو پانے کے لیے چار سال کی اذایت سہی تھی ۔۔۔
ل۔لٹل بے بی ڈولللللل ۔۔۔۔
شفا کے کہنے پر احد اس سے دور ہو گیا تھا وہ دونوں اتنے بڑے بنگلے میں رہ کر ایک اجنبی کی طرح رہنے لگ گے تھے ۔۔۔۔
شفا نے اپنی یونی دوبارہ سٹارٹ کر لی تھی ناصر ماہین اسے دوبارہ مل گے تھے احد خاموش ہو کر رہ گیا تھا وہ کچھ نہیں کہتا تھا ۔۔۔۔
روم میں بھی وہ دونوں الگ سوتے تھے ۔۔۔
دونوں ہی ایک ربورٹ کی زندگی گزار رہے تھے احد تڑپتا تھا شفا کی آواز سنے کے لیے لیکن وہ بضد ہوتی بولتی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
آج بھی وہ آفس سے گھر واپس آیا تھا ابھی وہ لان میں کھڑا تھا جب اس کی نظر سامنے ٹیرس کی گرل پر گی تھی جہاں شفا ہر چیز سے بیگانہ سر گھٹنوں پر رکھے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
تبھی وہ چیختا ہوا اوپر کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ریلکس مسٹر احد خانزادہ اتنی جلدی نہیں مرنے والی اگر مرنے والی ہوتی تو کب کی مر چکی ہوتی ۔۔۔۔
احد کی غراہٹ بھری چیخ سنتے شفا ہوش میں آئ تھی ۔۔۔۔
یونی کے بعد وہ بور ہو جاتی تھی اتنے برے بنگلے میں رہ کر تبھی کھولی ہوا لینے وہ ٹیرس پر آی تھی جب اسے احد کی کار اندر آتے اور ساتھ اس کی غراہٹ سنتے وہ ہوش میں آئ تھی ۔۔۔۔۔
وہ تو اپنے ماضی میں مکمل مگن تھی ۔۔۔۔
تبھی پھولے سانس لیے اوپر آتے احد کو دیکھ ویسے ہی سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔
ایسی بات مت کرو جب بھی مرنے کی بات کرتی ہو دل ب۔۔۔۔
جس دن آپ کو تپھڑ مارا ۔۔
کیا شفا رحمان مر گی ۔۔۔
نہیں نہ زندہ رہی ۔۔۔
جب آپ سے وہ پائلز لی کیا تب مر گی شفا ۔۔۔
تب بھی زندہ رہی ۔۔۔
گن پوائنٹ پر میرے امی ابو کو باندھ کر نکاح کیا ۔۔۔
شفا نے مرنا ہوتا تو اسی دن مر جاتی لیکن ہاہہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ زندہ رہی شفا ۔۔۔۔
جب میرے امی ابو کو مارا تب نہیں مری شفا رحمان تو آج کیا مرے گی میں بڑی ڈھیٹ ہو مر ہی نہیں رہی ۔۔۔۔
احد بے تاب ہوتا اس کے قریب اے بول رہا تھا جب وہ قہقہ لگاے ویسے ہی بیٹھی بولی تھی ۔۔۔۔
یہ دیکھو یہاں سے میں گر جاؤ تب مر جاو گی کی۔۔۔۔
لٹل بے بی ڈولللللل پلیز تم نے جو کہا میں نے کیا کتنے دن ہو گے میں نے کچھ کہا تمہیں یا چھوا بھی ہو لیکن ایسی حرکت کر کے مجھے اذایت مت دو ۔۔۔۔
شفا گرل پر کھڑی ہوتی ایک ٹانگ کو نیچے کی طرف کرتی بول رہی تھی جب وہ لڑکھڑاتی ہوئی نیچے کو گری تھی شفا نے گرل کو پکڑا تھا ۔۔۔۔
جب احد نے بھاگ کر اسے باہوں سے پکڑتے اوپر کی طرف کھینچتے ہوتے بےبس ہوتے کہا تھا ۔۔۔۔۔
ہمممممم ۔۔۔۔
شفا ہمیشہ سوچتی تھی وہ احد کو کیا کیا باتیں سناے گی پر ہر دفعہ اس کا شکل دیکھ وہ روک جاتی تھی وہ آج تک سمجھ نہ پائ کون سی ایسی چیز تھی اس کے چہرے پر جو دیکھ کر وہ ہمشیہ چپ ہو جاتی تھی احد کو ہمیشہ دیکھ وہ پرسکون سمندر کی طرح ہو جاتی تھی ۔۔۔
شاہد اس کی وہ سرخی مائل گرے آنکھیں تھی جو صرف شفا کو پانے کے لیے محبت کے رنگ لیے اسے دیکھتی تھی ۔۔۔۔
فکر مت کرے شفا اتنی جلدی نہیں مرے گی ۔۔۔
شفا احد کی آنکھوں کو چھوتی آرام سے بولی تھی جب پرسکون ہوتے احد نے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔۔
مجھے ایک موقع دو لٹل بے بی ڈول ن۔۔۔۔۔
احد اس کی خوشبو میں بہکتے ہوے بول رہا تھا جب اس کا فون رنگ کیا تھا ۔۔۔۔
شفا اسے چھوڑے اب وہاں سے جا رہی تھی جب احد فون پر بزی ہو گیا تھا ۔۔۔
ی۔یہ والا ڈریس پیارا ہے یہی پہن لو گی ۔۔۔۔
شفا روم میں آتی وڈراب کے سامنے کھڑی سوچتی بولی تھی ۔۔۔
احد کو جنید نے فون پر پارٹی کا کہا تھا جب احد نے اس سے بہانہ بنایا تھا وہ نہیں آسکتا جس کی باتیں شفا بھی سن چکی تھی ۔۔۔۔
احد کے انکار کی وجہ وہ جانتی تھی اور یہ بھی جانتی تھی احد اور جنید کی دوستی کتنی گہری تھی ۔۔۔۔
تبھی اپنی مرضی سے وہ سوچ رہی تھی کون سا ڈریس پارٹی میں پہن کر جاے ۔۔۔۔
ل۔لیکن ان کو کیا کہو گی کیوں جا رہی ان کے ساتھ ۔۔۔
وہ ابھی بھی سوچتی ہوی نروس ہو رہی تھی دل تو اس کا نہیں تھا لیکن اب وہ احد خانزادہ کی بیوی تھی اسے یہ سب کرنا تھا تاکہ سب کو شک نہ ہو وہ دونوں لڑے ہوے ہے ۔۔۔۔
یاد جے کے ا تو رہا ہو ورنہ میرا موڈ ہرگز نہیں تھا آنے کو ا۔۔۔۔
شام کو جنید کی دھمکیاں سنتے آخر احد مان ہی گیا تھا پارٹی پر جانے کو تبھی وہ تیار سا ہوا جانے کے لیے ہال میں اے جیند سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
جب سڑھیوں سے اترتی شفا کو دیکھ احد کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ چکے تھے ۔۔۔۔
وہ تو بس آنکھیں پھاڑے اپنی لٹل بے بی ڈول کو دیکھ رہا تھا جو نروس سی چلتی نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔۔
