Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 10)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“””ماضی۔۔۔
چند گھنٹے پہلے۔۔۔۔
یار شفا تم آ جاو ہم سب مل کر پارٹی کرے گے سن کیوں نہیں رہی ہو ۔۔۔
ماہین اسے فون پر بات کرتی بولی تھی وہ لوگ مل کر پارٹی کرنے والی تھی تبھی اسے بلایا تھا ۔۔۔
میں نہیں آ رہی جہاں جاؤ وہ سر وہی ا جاتے ہے آج بھی ایسے نہ ہو ویسے بھی تم لوگ گھر اجاو ۔۔۔۔
شفا پریشان ہوتی بولی تھی آج بھی اسے جب وہ پیسے دینے احد کے پاس آئ وہاں صرف کار کی اڑتی دھول دیکھ شوک ہوئ تھی مطلب وہ بنا پیسے لیے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
یار ا جا میں تجھے روم کا نمبر سینڈ کرتی ہو وہاں پارٹی ہے ۔۔۔
ماہین اسے مناتی ہوئ بولی تھی جب اس کی شفا سنے بنا فون کٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔
روم نمبر 6 20۔۔۔
شفا جو بیڈ پر الٹی لیٹی میسج پڑھ رہی تھی اب ماہین کے بتاے روم نمبر کو گھور سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
الٹا لیٹنے کی وجہ سے اسے نمبر 9 20نمبر 6 20لگا تھا ۔۔۔۔
ابو امی سے بات کرتی ہو ۔۔۔۔
شفا اب موڈ ٹھیک کرتی ہوئ رحمان صاحب کے روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
احددد خانزادہ پیسوں کے لیے آپ اتنا گر سکتے ہے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا ۔۔۔۔
شفا جو ان کے روم کی طرف ارہی تھی جب اس نے رحمان صاحب کی آدھی بات سنتی وہاں سے دانت پیستے ہوے گی تھی ۔۔۔۔
وہ صرف اتنا سن پائ تھی احد نے اس کے باپ کو دھمکی دی ہے تبھی وہ پریشان بیٹھے ہے ۔۔۔۔
ویسے بھی دوکان کے ایک ورکر نے بھی شفا کو بتایا تھا احد خانزادہ نے کسی بات پر رحمان ملک پر گن تھانی تھی ۔۔۔۔
پھر کیا کرنا شفا کی شادی وہاں کرنی کیا۔۔۔۔
اس کی امی پریشان ہوتی رحمان صاحب سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
میری نظر میں وہ اچھا لڑکا ہے کم از کم اس ناصر سے لاکھ درجے بہتر ہے ۔۔۔
جانتی ہو وہ لوفر لڑکا بھی آیا تھا شاپ پر ۔۔۔۔
وہ چاہتا شفا کی شادی ہم اس سے کر دے ۔۔۔
لیکن احد خانزادہ کی نظروں میں اپنی بیٹی کے لیے چاہت عزت محبت دیکھی میں نے جو کہ وہ کرتا بھی ہے لیکن اس لوفر لڑکے کی آنکھوں میں صرف ہوس تھی ۔۔۔۔
احد خانزادہ کی بیوی بن کر ہماری بیٹی محفوظ رہے گی ناصر جیسے لڑکوں سے میں سوچ رہا احد کو ہاں کر دو ۔۔۔۔
کل صبح اسے اپنی شاپ پر بلاو گا ۔۔۔۔
رحمان ملک سب بات اپنی بیوی کو سناتے بولے تھے ۔۔۔
ہمممم اچھی بات ہے ہماری بیٹی کو چاہنے والا مل جاے گا آپ صبح کی بات کرنا اس سے باقی شفا کو ہم سمجھا لے گے ۔۔۔
اس کی بیوی بھی راضی ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
یہی والا روم تھا شاہد۔ ۔۔۔
شفا امی ابو کو بتاے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی کرنے جا رہی تھی جس کی اجازت انھوں نے دے دی تھی تبھی وہ تیار ہوتی موبائل پکڑے ریسٹورنٹ آئ تھی ریشپین سے روم کا پوچھتے وہ سیکنڈ فلیور پر بنے روم کے سامنے آئی تھی جہاں روم نمبر 209 کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
یہی ہو گا اندر جا کر دیکھ لیتی ہو ۔۔۔۔
نروس ہوتی وہ اندر قدم رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
مجھے وہی ڈیل چاہے تو چاہے ۔۔۔۔
شفا جو آہستہ سے قدم لیے اندر آی تھی جب اس کے کان میں یہ بھاری آواز گونجی تھی ۔۔۔۔
جہاں خوبصورت بلیک تھر سیسٹر صوفے پر وہ گرے تھری پیس پہنے شان بے نیازی سے ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اس کے سامنے مینجر کھڑا اور ساتھ ایک ورکر اس کے قدموں کے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔
ل۔لیکن س۔سر اس ڈیل سے ہمیں کوئ فائدہ نہیں ہونا تھا بلکہ نقصان ہی ہ۔۔۔۔
احد خانزادہ اپنا نقصان اٹھا سکتا ہے لیکن کبھی ہار نہیں مان سکتا ہمدانی نے مجھے چیلنج کیا تھا وہ یہ ڈیل لے گا اگر ایسا ہوا میں ہار جاؤ گا ۔۔۔۔
مجھے ہار نہیں پسند تم مجھے وہ ڈیل دو۔ ۔
۔۔
مینجر بول رہا تھا جب وہ بولا تھا ۔۔۔۔
س۔سر ایسے کیسے ہو سک۔۔۔۔
اس کی کمپنی کو دوگنی رقم کی آفر کرو مجھے وہی ڈیل چاہے بات ختم ۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے بول رہا تھا جب وہ غراہٹ لیے بولا تھا ۔۔۔۔
ساتھ ہی جوس کا گلاس اٹھا کر دیوار پر مارا تھا ۔۔۔۔
اہہہ۔۔۔
چھن چھن ۔۔۔۔
شفا جو سانس روکے یہی دیکھ رہی تھی وہ غلط روم ا چکی ہے جب اس کی غراہٹ اور گلاس ٹوٹنے کی آواز سنتی اپنی چیخ کو دباتی وہاں سے الٹے پاؤں بھاگی تھی ۔۔۔۔
سر وہ س۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔
احد اس کی پائل کی چھن چھن سنتا جلدی سے اٹھتا روم کے باہر جا رہا تھا جب مینجر نے دو بار بلایا تھا تبھی وہ کہتا اب باہر شفا کو دیکھنے گیا تھا ۔۔۔۔۔
یار شفا کدھر تھی کب سے ویٹ کر رہے ہم لوگ اور یہ پیسنہ کیوں ا رہا ہے ۔۔۔
شفا جلدی سے روم سے باہر نکلتی سامنے والے روم کا نمبر دیکھ اندر انٹر ہوئ تھی جب ماہین اس کے قریب آتے اس کے ماتھے پر پیسنے کے قطرے دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
ک۔کچھ نہیں و۔وہ پیاس لگی مجھے پانی دو زرا ۔۔۔۔
شفا اپنی زبان لبوں پر پھیرتی ہوئ نارمل ہونے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
پی لینا پانی پہلے میری بات سن لو ۔۔۔۔
ناصر اس کے سامنے آتی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ناصر میرا موڈ نہیں ہے کچھ سننے کا ابھی پھر کبھی سہی ۔۔۔
شفا کو وہ زہر لگتا تھا تبھی وہ ناگواری سے بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھو شفا میں سیدھی سی بات کرو گا سب کے سامنے مجھے تم سے محبت ہے شادی کرنا چاہتا ہو تم سے ۔۔۔۔
ناصر اس کی سنے بنا قدموں میں بیٹھتے اس کے سامنے ایک چھوٹا سا بوکس آگے کرتا رنگ دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اپنے روم باہر اے احد نے اسی روم میں قدم رکھا تھا جہاں شفا لوگ تھے ۔۔۔
سامنے والا منظر دیکھ احد کی رگیں اُبھری تھی شدید غصہ سے ۔۔۔۔
اس سے پہلے شفا کچھ کہتی جب آگ بگولہ ہوتا احد اندر آیا تھا ۔۔۔۔
تیری ہمت بھی کیسے ہوئ یہ بکواس کرنے کی ۔۔۔۔
ناصر کو گربیان سے پکڑتے وہ اسے اوپر کو اٹھاے غرایا تھا ۔۔۔۔
شفا وہاں احد کی آمد دیکھ ہکا بکا ہوئ تھی ۔۔۔۔
ابے ہٹ یہاں سے تو کون ہے جو بلاوجہ یہاں ٹپک گیا ہے ۔۔۔۔
ناصر احد کا سرخ چہرہ دیکھ اپنی لوفر زبان میں بولا تھا ۔۔۔۔۔
میں جو بھی ہو تجھے بتانا ضروری نہیں سمجھتا اج کے بعد تو لٹل بے بی ڈول کے آس پاس بھی نظر آیا وہاں مارو گا جہاں تجھے پانی بھی نہیں ملے گا ۔۔۔۔
شفا کی مدھم سی سسکیاں سنتے وہ زرا مدھم ہوتا اسے بولتا اچانک چھوڑا تھا جب ناصر دھڑام کرتا قالین پر گرا تھا ۔۔۔۔
احد کی غراہٹ سن کر ہی شفا کانپ گئ تھی اگر وہ ناصر کو مارنے لگ جاتا تو اس کی روح ہی فنا ہو جاتی ۔۔۔۔۔
اور تم بھاگو یہاں سے ورنہ خود چھوڑ کر آؤ ا۔۔۔۔
احد اب ویسے ہی شفا کو دیکھ برستا بولا تھا جب وہ آنسو روکے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔
چھوڑو گا نہیں وہ میری ہے سنا تو نے میری ہی رہے گی چار پیسوں کا رعب مجھ پر نہ ڈالو ۔۔۔۔
ناصر جو شفا کے سامنے اچھا بنے احد کو کچھ نہیں کہا تھا اب اس کے جاتے ہی پہلوان بنتے احد کے سامنے اے بولا تھا ۔۔۔۔۔
یہ میرا ہاتھ دیکھ رہے ہو ایک پڑا تو چار دن بے ہوش رہو گے اپنی ہی صحت پر رحم کھا لو ۔۔۔۔
احد اسے اپنا بھاری سفید ہاتھ دیکھاے ٹھنڈے لہجے سے بولا تھا ۔۔۔
جب ناصر واقعی ڈرا تھا وہ سچ ہی کہہ رہا تھا احد جیسے باڈی بلڈر کے آگے وہ ایک کمزور سا لڑکا ہی تھا اس وقت اسے شفا کو راضی کرنا تھا آحد کو وہ بعد میں بھی دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔۔
دیکھ لو گا اچھے سے تمہیں دیکھ لینا ۔۔۔۔
ناصر خودی اسے دھمکی دیتا ڈرتے ہوے وہاں سے بھاگا تھا ۔۔۔۔۔
جب احد مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
شفا بیٹا کھانا لو ۔۔
شفا اپنے روم میں تھی وہ جب سے آی تھی ویسے ہی ڈری سمی روم میں بند ہو گی تھی جب اس کی امی نے تیسری بار اسے آواز دیے بلایا تھا ۔۔۔۔
ا
امی بھوک نہیں ۔و۔وہ پارٹی میں بہت کچھ کھا لیا تھا اب سونا ہے ۔۔۔۔۔
شفا ڈرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
اسے واقعی ڈر لگ رہا تھا احد سے پہلے اپنے ابو کی بات سنی احد نے ان کو دھمکی دی اب اس کا غصہ ناصر پر کرتے دیکھ وہ سچ میں ڈر چکی تھی ۔۔۔۔۔
چلو اچھی بات ہے سو جاو۔۔۔۔
اس کی امی نے دوبارہ آواز دیتے کہا تھا ۔۔۔
جب وہ کانپتی ٹانگوں سے نائٹ ڈریس نکالے واش روم کی طرف گی تھی ۔۔۔۔
نہییییییییی لٹل بے بی ڈول صرف میری ہے ابھی اور اسی وقت وہ میری ہی بنے گی احد خانزادہ اب لٹل بے بی ڈول کے بنا ایک پل نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔
احد جب سے بنگلے آیا تھا تب سے اس کے سامنے شام والا منظر گھوم رہا تھا تبھی وہ کافی دیر سوچنے کے بعد بالآخر فصیلہ کرتا اب طش سے اٹھتا اپنے بندوں کو لے باہر جاتا کار میں بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
ٹھاہہہہہہہ ۔۔۔۔۔
کدھر ہے لٹل بے بی ڈول۔۔۔۔۔
رحمان صاحب اور ان کی بیوی جو کھانے میں بزی تھے اچانک گھر میں احد اور اس کے بندوں کو انٹر ہوتے دیکھ وہ طش سے چلایا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا سب خیریت ا۔۔۔۔
انکل مجھے لٹل بے بی ڈول چاہے بس ۔۔۔۔
رحمان صاحب پریشان ہوتے کھڑے ہوے بول رہے تھے جب وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
میں بھی یہی بات کرنے والا تھا لیکن بیٹا شفا بہت ضدی ہے اسے سمجھانا مشکل ہے ویسے بھی تمہارے نام سے وہ ڈر جاتی ہ۔۔۔۔
انکل آپ دونوں مجھے رضامندی دے باقی میں اسے خودی ہنیڈل کر لو گا کیونکہ اگر آج کی رات نکاح نہ ہوا ناصر کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔
احد کے زبانی شام والا سین سنتے وہ خود بھی پریشان ہوتے بول رہے تھے جب وہ ان کا ہاتھ پکڑتے بولا تھا ۔۔۔۔
انکل میں وعدہ کرتا ہو لٹل بے بی ڈول کے ساتھ آپ دونوں کی بھی حفاظت کرو گا مجھے فحال وہ کرنے دے جو میں کرنے آیا ہو آپ کو کوی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔۔۔۔
احد کچھ سوچتا ہوا اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا بولا تھا جب وہ سارے گارڈز اندر آتے رحمان ملک اور ان کی بیوی کو کرسی پر باندھ چکے تھے ۔۔۔۔۔
اگر شفا پھر بھی نہ مانی ت۔۔۔۔
مان جاے گئ بلکل آپ کے سامنے کی نکاح ہو گا آپ لوگ بعد میں اسے بتا دینا میں نے ایسا کیوں کیا فحال یہ ضروری ہے ۔۔۔۔
احد نے اپنی گن نکالے اب ہوائ فائرنگ کرتے کہا تھا ۔۔۔۔
شفا کی امی ڈر کی وجہ سے چیخ گونجی تھی۔۔
اہہہہہ۔۔۔۔
امییییییی ابووووووو۔۔۔۔
شفا جو باتھ لیتی اب بیڈ پر سونے کی تیاری کر رہی تھی جب نیچے سے گولی چلنے کی آواز سنتی بھاگتی ہوئ سڑھیوں سے اتر رہی تھی جب سامنے کا منظر دیکھ وہ چیختی ہوئ نیچے آئ تھی جہاں احد اور اس کے آدمیوں کو اور اپنے ماں باپ کو بندھے دیکھ وہ تڑپی تھی ۔۔۔۔
د۔دیکھو پلیز میرے امی ابو کو چھوڑ دے سر م۔می۔ میں نے کیا بگڑا ہے آپ کا ۔۔۔۔
براؤن نائٹ ٹی شرٹ ساتھ ٹراؤزر کھلے لمبے کالے بال سرخ گول سا چہرہ جو لاتعداد آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا خشک کانپتے ہونٹ جیسے وہ بار بار اپنی زبان سے تر کر رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی احد کے سامنے کھڑی وہ روتی ہاتھ جوڑ کر بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ سائیڈ پر اس کے امی ابو پر احد کے بندے گن تھانے کھڑے تھے ۔۔۔۔
نکاح کرو مجھ سے میں چھوڑ دو گا ان کو ۔۔۔۔
احد اس کی گال چھونے کی کوشش کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں کرنا ا۔اپ سے نکاح م۔میں نے آپ جلاد ہے آپ ن۔نے بدلہ لیا پیسے جو نہیں دے ۔اپ کو یہ پکڑے اپنی دو س سو روپے والی پائل ۔۔۔۔
شفا روتی ہوئی اپنے چھوٹے سرخ سفید پاؤں سے وہ پائل نکالتی احد کو دیتی نفرت سے بولی تھی ۔۔۔۔
وہ کتنی خوشی تھی صبح یہ پائل پہن کر اور اب کتنا رو رہی تھی وہ ۔۔۔۔
سوچ لو اگر نکاح نہیں کیا تو تمہارے ماں باپ کو مار دو گا پھر کیا کرو گی لٹل بے بی ڈول۔۔۔۔
احد اسے چہرے سے دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں کرنا نکاح آپ سے سن۔سن کیوں نہیں رہے م۔میرے امی ابو کو کچھ مت کہے پلیز سر میں پاؤں پکڑتی ہ۔۔۔۔
ہاں یا نہ میں جواب دو تاکہ میں اپنا کام کر سکو۔۔۔۔
شفا ایکدم پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھتی بول رہی تھی جب احد اسے بالوں سے پکڑتے واپس اپنے قریب لاے بولا تھا۔ ۔۔۔۔۔
نہی۔۔۔
ٹھاہہہہہہہ ۔۔۔۔
ابووووووووو۔۔۔۔۔
اس سے پہلے شفا بولتی جب اسے گولی چلنے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔
تبھی اس نے گردن موڑ کر اپنے باپ کو دیکھتے چخی تھی ۔۔۔۔۔
شفا کی دھڑکن رک چکی تھی وہ سانس روکے بس اپنے ابو کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جہاں اس کے ابو صحیح سلامت بندھے ہوے تھے ۔۔۔
ابھی تو یہ جیسٹ ٹریلر تھا فلم باقی ہے اب سوچ لو نکاح کرو گی یا ان کا جنازہ پڑھو گی ۔۔۔۔
احد اسے روتا دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
م۔ی۔میں نکاح کے لیے تیار ہو ۔۔۔۔
اپنے ماں باپ کو بچانے کے لیے وہ بالآخر ہار مانتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
جب احد مسکرایا تھا ۔۔۔۔
تو بالآخر میری بن ہ۔۔۔۔
امی ابو آپ لوگ ٹھیک ہے کہیں چوٹ نہیں آئ ۔۔۔
نکاح ہو چکا تھا جبکہ شفا کی نظریں بار بار اپنے ماں باپ پر ہی تھی جب نکاح ہوتے احد اس کے کان میں سرگوشی کرتا بول رہا تھا جب وہ بھاگ کر اپنے ماں باپ کے پاس جاتی بولی تھی۔۔۔۔
ہم ٹھیک ہے بیٹا تم پریشان مت ہ ۔۔۔۔
مجھے بات کرنی اس سے انکل ۔۔۔۔
رحمان صاحب اسے پرسکون کرتے بول رہے تھے جب احد طش میں آتا ہوا اسے باہوں میں بھرتے اوپر لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
چ۔چھوڑے ابو امی ا۔اپ کو کچھ نہیں ہو گا چھوڑے پلیز نکاح ہو تو گیا ہے ۔۔۔۔
شفا روتی بلکتی ہوی اسے ہی مکے مارتی بول رہی تھی جبکہ احد کے آدمی اس کے ماں باپ کو کھل رہے تھے ۔۔۔۔
اہہہہہہ ۔۔اہہہہ۔۔۔
آپ ۔ن۔نے برا کیا ا۔۔۔۔۔
آج کی رات ہے تمہارے پاس اپنے ننھے سے دماغ میں بیٹھا لو میں کون ہو تمہارا اس کے بعد تمہیں یہاں سے لے جاو گا سمجھی ۔۔۔۔
شفا کو باہوں میں لیے وہ روم میں آتا اسے بیڈ پر گراتے بولا تھا جب وہ چیختی ہوئ روکی تھی ۔۔۔۔
کتنا روتی ہو یار تمہارے آنسو تکلیف دیتے ہے مجھے جو بھی کیا وہ ایک مقصد تھا ا۔۔۔۔
ن۔نفرت ہے آپ س۔سء مجھے میرے امی ابو کو کچھ ہوا تو دیکھنا جان سے مار دو گی ۔۔۔۔
اس کے بھیگے چہرے کو چھوتے وہ بہکے ہوے بول رہا تھا جب وہ آنسو بہاے اسے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھو تمہارے امی ابو کو کچھ نہیں ہو گا میرا وعدہ ہے وہ بھی تب تک جب تک تم میرے ساتھ اچھے سے رہو گی اوکے اب اچھی بیوی کی طرح کس کرو تاکہ میں جا سکو ۔۔۔
اس کے خشک لبوں کو سہلاتے وہ خوشی سے بولا تھا اس کا دل آج بہت خوش تھا وہ اسے حاصل کر چکا تھا جیسے وہ محبت کرتا تھا ۔۔۔۔
و۔واٹ کس کوئ نہیں ۔۔۔۔
وہ شوک میں آتی اب اپنی ننھی سی ناک کو چڑہاے بولی تھی ۔۔۔
خودی شرافت سے کس کرو ورنہ میں خود زبردستی لے سکتا ہو ۔۔۔۔
احد اسے چہرے سے دبوچتے اپنے قریب کیے بولا تھا اسے اس کے وہ ننھے سے ہونٹ بہکا رہے تھے ۔۔۔۔
جل۔جلاد۔ہو اپ۔پورے م۔میں ۔ہ۔ہر گز نہیں کرو گی ا۔۔۔۔
شفا روتی ہوئی بیڈ سے اٹھتی ہوئ بول رہی تھی جب احد اسے دوبارہ پکڑتے بیڈ پر لیٹاے اس کے لبوں پر جھک چکا تھا ۔۔۔۔۔
شفا کو زرا امید نہیں تھی احد ایسا کچھ کرے گا تبھی اپنے لبوں پر اس کا پہلا پرشدت لمس پاتے تڑپتے ہوے بیڈ شیٹ کو ہاتھوں میں دبوچا تھا ۔۔۔۔
اہہ۔اہہہ۔۔۔
کافی دیر اس کی سانسوں کو پیتے شفا کی نڈھال سانسوں کو محسوس کیے نرمی سے اسے چھوڑا تھا جب شفا بھری براؤن آنکھوں سے اٹھ کر بیٹھتی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔
اس کو جدا مت کرنا میرا پہلا گفٹ ہے یہ تمہارے لیے ۔۔۔۔
وہی شفا کی پائلز اس کے نازک سفید پاؤں میں پہناتے وہ اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہی۔نہیں چاہے مجھے آپ کا ی۔یہ فضول سا گف۔گفٹ۔۔۔
شفا اپنے پاؤں سے نکالتی ہوئ پائلز احد کی کمر پر مارتی چیختی بیڈ پر منہ الٹا کیے لیٹ کر رونے لگ گئ تھی ۔۔۔۔
احد نے نیچے جھکتے پائلز کو اٹھا کر پاکٹ میں رکھا تھا وہ شفا کو چپ کروانا چاہتا تھا لیکن ابھی وہ اسے اکیلا چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
انکل آپ کو چوٹ تو نہیں آئ میں بہت شرمندہ ہو جو یہ سب کیا لیکن اگر شفا کی ضد دیکھتا تو زیادہ نقصان ہو ج۔۔۔
بیٹا تم واقعی بہت اچھے ہو ہم ٹھیک ہے تم فکر مت کرو ہم شفا کو سمجھاے گے پر بیٹا ابھی رحضتی کا مت کہنا کیونکہ ابھی شفا کو تھوڑا سا ٹائم دو تاکہ وہ یہ سمجھ سکے ۔۔۔
احد نیچے آتا ان کو دیکھ بول رہا تھا جب وہ نرمی سے بولا تھا ۔۔۔۔
ہہہہممممم۔ جی جیسا آپ بہتر سمجھے لیکن یہ گاڈزر آج سے گھر کے آس پاس رہ کر حفاظت کرے گے آپ سب کی میں کوئ رسک نہیں لے سکتا ۔۔۔
احد اپنی آنکھوں پر بلیک گلاسز لگاے کہتا وہاں سے اب گیا تھا جبکہ وہی گاڈزر اب وہاں پہرہ دے رہے تھے ۔۔۔۔
“”ایک ہفتے بعد۔۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہے ہے رحمان صاحب۔۔۔
شفا کی امی ان کے روم میں آتی بولی تھی جو کاغذ پر کچھ لکھ رہے تھے ۔۔۔۔
شفا کے لیے خط لکھ رہا ہو تم جانتی ہو اسے عادت ہے ناولز پڑھنے کی یہ میں اس کے ناول میں رکھ رہا ہو جیسے ہی وہ ناول اوپن کرے گی تب خط پڑھ لے گی کیونکہ وہ ہماری کسی بات پر یقین بلکل نہیں کر رہی ۔۔۔۔
رحمان صاحب اس کاغذ کو فولڈ کیے اب شفا کے لیے لاے نیو ناولز کے بنڈل کے درمیان رکھتے بولے تھے ۔۔۔۔
اس ایک ہفتے میں ان دونوں نے کوشش کی تھی شفا کو سمجھا سکے احد اچھا انسان ہے ناصر برا لیکن وہ ضدی بنی بس اسی بات پر اٹک گی تھی احد نے بدلے کے لیے شادی کی وہ اس کے ماں باپ کو مار دے گا ۔۔۔۔
احد نے بھی دوبارہ اس سے رابطہ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ واقعی اسے ٹائم دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اگر شفا نے اس خط پر بھی یقین نہیں کیا ت۔۔۔۔
وہ کرے گی یقین میں نے پہلے دن سے لے کر اب تک کی ساری باتیں لکھی ہے کیسے ناصر کے لوگ مجھے دھمکی دینے شاپ پر آتے ہے کیسے احد کے گارڈز ان کو بھاگاتے ہے ۔۔۔
وہ میری بیٹی ہے ضرور یقین کرے گی بس یونی سے واپس ا جاے تب یہ ناولز کا بنڈل دو گا تاکہ وہ یہ خط پڑھ سکے ۔۔۔۔
شفا کی امی بول رہی تھی جب وہ بنڈل اٹھاے اپنی لماری میں رکھتے بولے تھے اب تو واقعی وہ خود چاہتے تھے شفا احد کے ساتھ چلے جاے کیونکہ انہیں ڈر تھا ناصر کچھ کر نہ دے ۔۔۔
آج شفا کو مناتے موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اسے یونی بھیجا تھا تاکہ وہ اپنا مائنڈ چینج کر سکے ۔۔۔
ان کی مانتی وہ چلی گئ تھی ۔۔۔۔
کیا باتیں ہو رہی ہے ماما بابا۔۔۔
احد مسکراتا ہوا گھر میں انٹر ہوے ہوتے ہال میں آیا تھا جہاں وہ دونوں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔
ارے بیٹا آؤ آؤ کتنے دنوں بعد اے ہو بھول گے ہمیں ۔۔۔
رحمان صاحب ان کی بیوی احد کو سامنے دیکھ مسکراتے بولے تھے احد نے واقعی انہیں اچھا بیٹا بن کر دیکھایا تھا وہ بھی انہیں ماما بابا ہی کہتا تھا وہ بھی خوش تھا ان کی شفقیت پا کر ۔۔۔
بس ماما بزی تھا آپ یہ بتاے لٹل بے بی ڈول کدھر ہے ۔۔۔۔
وہ اس پاس اپنی گرے آنکھوں کو گھوماتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا بیٹا وہ یونی گی ہے آپ اسے وہاں مل لو ۔۔۔۔
رحمان صاحب اس کی بےتابی دیکھ قہقہ لگاتے بولے تھے ۔۔۔۔۔
چلے اس سے مل لو گا پہلے یہ ٹکیٹس پکڑے ہم چاروں شام کو جرمنی جا رہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیونکہ شفا کے ساتھ آپ دونوں کو بھی خطرہ ہے ناصر سے ۔۔۔۔
احد اب کام کی بات پر آتا پاکٹ سے ایک لفافہ نکالے بولا تھا ۔۔۔
ارے بیٹا اس کی کیا ضرورت ہے پہلے ہی اتنا کچھ کر لیا ہماری بیٹی تمہاری ہو گی ہمارے لیے یہ۔۔۔۔۔
بلکل نہیں ماما میں آپ دونوں کو بھی کھونا نہیں چاہتا جانتی ہے اپنی کمر عمری میں ماں باپ جیسی نعمت سے محروم ہو گیا تھا شروع سے نوکروں کے سہارے پلا بڑھا اب آپ دونوں کو پا کر ایسے لگتا جیسے مجھے میرے ماں باپ مل گے ہو شفا کی طرح آپ دونوں مجھے بھی عزیز ہو اب جلدی سے آپ دونوں تیار ہو جاے کیونکہ میرے گاڈزر آپ کو بنگلے لے جاے اور شفا کو میں یونی سے لینے جا رہا ہو ۔۔۔۔۔
شفا کی امی مسکراتی ہوئ بول رہی تھی جب احد ان دونوں کے ہاتھوں کو پکڑتے چومتے ہوے کہتا اب جلدی سے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
ہماری شفا بہت خوش نصیب ہے جیسے تم ملے بیٹا ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔۔
رحمان ملک احد کو گلے لگاے ابدیدہ ہوتے بولے تھے ۔۔۔۔
خوش قسمت تو میں ہو بابا جس کو آپ اور لٹل بے بی ڈول ملی ا ۔۔۔۔
سر چلے گاڑی تیار ہے ۔۔۔۔
احد بول رہا تھا جب گارڈ اندر اے سر جھکاے بولا تھا ۔۔۔۔۔
ہاں چلو اچھا ماما بابا یہ یہی ر۔۔۔۔
ارے بیٹا کچھ نہیں ہوتا ان سب کو لے جاو ہم ٹھیک ہے اور خبردار اگر ہماری بات کہ مانی تو جرمنی نہیں جاے گے ہم ۔۔۔۔
شفا کی امی اس کی بات کاٹتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
جب احد مجبوراً گاڈرز اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔۔۔۔
احد خانزادہ نہ ہوا کوئ فلم سلیبرٹی ہو گیا ۔۔۔۔
شفا یونی آی تھی لیکن یہاں ا کر ہر لڑکی کے زبانی یہ سن سن کر پاگل ہو چکی تھی آج یونی میں احد خانزادہ آنے والا ہے جس کے ویلکم کی پوری تیاریاں کی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
تبھی وہ کیٹین میں بیٹھی منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
تم نے نہیں ملنا تو مت ملو یار لیکن ہم لوگ تو ملے گے اس سے ۔۔۔۔
ماہین برا سا منہ بناے بولی تھی وہ تو بےتاب تھی اس سے ملنے کے لیے ۔۔۔۔
کتنا برا انسان ہے وہ لیکن تم سب ایسے مرتی ہو جیسے پتہ نہیں کون ہے پورا جلاد ہے وہ غلطی کی آج ا کر ۔۔۔۔۔
سب تم لوگوں کی وجہ سے ہوا نہ مجھے ڈئیر دیتی نہ وہ سائیکو پاگل جلاد میرے پیچھے پڑتا اففففف میرا سر ۔۔۔۔۔
شفا تو اس کا سنتی مسلسل جلتی بھنتی ہوئ کرسی سے اٹھتے ہوے بولی تھی ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں تمہیں کیا خار ہے اس انسان سے ہاے وہ ایک سمائل دے بندہ وہی فدا اس پر ہاےےےےے۔۔۔۔۔
ماہین ابھی بھی یہ سوچتی احد سے ملنے کا خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ شفا اب وہاں سے چلی گئ تھی ۔۔۔۔۔
ارے بڑی تیاری ہو رہی کہیں جا رہے تم لوگ ۔۔۔۔
احد کے جانے کے بعد وہ ضروری چیزیں رکھ رہے تھے جب ناصر اپنے آدمیوں کو لیے اندر آتا شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں جرمنی جا رہے تمہیں مسئلہ کوئ ۔۔۔۔
رحمان ملک اکڑ کر بولے تھے ۔۔۔۔
ارے سسسر جی مجھ ناچیز کو کیا مسئلہ ہونا آخر م۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی کیا بول رہے ہو زبان کاٹ دو گا ۔۔۔۔
ناصر ان کے قریب آتے ویسے ہی بول رہا تھا جب انہوں نے اسے تھپڑر مارتے غراے تھے ۔۔۔۔
اوےےے بڈھے تیری ہڈیاں اتنی اجازت نہیں دیتی تو کچھ کر سکے بڑی اکڑ ہے اس احد کی وجہ سے میری شفا کو اس کے حو۔۔۔۔
چٹاخخخخ۔۔۔۔
انہیں گردن سے پکڑتے وہ آپے سے باہر ہوتا بول رہا تھا جب شفا کی امی نے تپھڑ مارا تھا ۔۔۔۔
آج تو تم دونوں مرو گے اور الزام احد خانزادہ پر اے گا ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا ویسے بھی تم لوگوں کا کوئ کام نہیں اگر زندہ رہے شفا کو میری نہیں ہونے دو گے ۔۔۔۔
ٹائم ضائع نہ کرتے ناصر اپنی پاکٹ سے خنجر نکالے ان دونوں کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
مار دو لیکن تم اس خوش فہمی میں ہرگز مت رہنا شفا کبھی احد کو چھوڑ کر تمہارے پاس ا۔۔۔۔۔
رحمان ملک طش میں آتے بول رہے تھے جب ناصر نے منہ بناے خنجر سے ان کی گردن پر وار کیا تھا جب ان کی گردن جسم سے جدا ہوتی دور گری تھی ۔۔۔۔
اہہہہہہہ ایہہہہہہہہ۔۔۔۔
افففف بڈھی کتنا چیختی ہے ۔۔۔۔
شفا کی امی اپنے شوہر کو ایسی حالت میں دیکھ چیخ رہی تھی جب ناصر نے ان کی بھی گردن ویسے ہی کاٹتے کہا تھا ۔۔۔
اب وہ دونوں قالین پر خون سے لت پت بنا گردنوں کے مردہ پڑے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ ناصر آپنا کام کرتا اب وہاں سے گیا تھا وہ جیسے خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا ۔۔۔۔
کسی کو نہیں پتہ تھا وہ دو لوگوں کو مار چکا ہے ۔۔۔۔
جی میم آپ نے بلایا م۔۔۔۔۔
شفا جو کلاس میں فارغ بیٹھی تھی جب اسے پیغام ملا تھا پرنسپل اسے بلا رہی ہے تبھی وہ اب ان کے آفس میں انٹر ہوتی بولی تھی جہاں احد خانزادہ کو وہاں بیٹھا دیکھ خاموش ہوئ تھی ۔۔۔۔۔
بیٹا یہ آپ سے ملن۔۔۔۔
مجھے نہیں ملنا ۔۔۔۔
میڈم کی بات سننے سے پہلے وہ کہتی دوبارہ باہر کو گی تھی ۔۔۔۔۔
بیٹا یہ مجھے بتا چکے ہے شوہر آپ کے آپ بات کرے میں آتی ہو ۔۔۔۔
احد کے کہنے پر وہ اسے کہتی خود آفس سے باہر چلئ گی تھی ۔۔۔
جاتی بھی کیوں نہ آخر احد خانزادہ نے ان کی یونی کو کروڑوں کی چیٹری دی تھی ۔۔۔۔۔
یہاں آو ۔۔۔۔
شفا گم صم وہی کھڑی تھی جب اسے احد کی بھاری آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔۔
کیوں آؤ ۔۔۔۔
وہ سر جھکاے مدھم آواز سے بولی تھی ۔۔۔۔
یہاں وہ کوئ تماشا نہیں بنوانا چاہتی تھی تبھی کنٹرول کیے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
جب شوہر ملنے اے تو بیوی کو ملنا چاہے کیا تمہیں نہیں پتہ ۔۔۔
احد اپنی مسکراہٹ دباے سیریس ہوتا بولا تھا اس کے لیے یہی بہت تھا شفا کم از کم اس کے سامنے کھڑی تھی۔ ۔۔
جانتی ہو ناولز میں پڑھا لیکن میں نہیں ا رہی آپ کے پاس ۔۔۔۔
وہ اپنی گول گول براؤن آنکھوں کو گھوماتے آس پاس دیکھتی منہ بناے بولی تھی مطلب وہ احد خانزادہ کو اگنور کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہممممم صحیح ۔۔۔۔
چلو بیوی نہیں شوہر تو پاس ا کر مل سکتا ہے کیوں یہ بھی ناولز میں پڑھا یا نہیں ۔۔۔۔۔
احد اب اٹھ کر کھڑا ہوتا آہستہ آہستہ قدم اس کی طرف بڑھاتے بولا تھا ۔۔۔۔
جب شفا دروازے سے لگتی جلدی سے اسے ان لاک کر رہی تھی تاکہ بھاگ سکے ۔۔۔۔۔
اور کیا کیا پڑھا ناولز میں ۔۔۔۔
شفا کی اس حرکت کو دیکھ احد اب اس کے قریب آتا اس پر جھکتے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا شفا کی کمر اس کی طرف تھی ۔۔۔۔
پ۔پتہ نہیں ۔۔۔۔
اپنی گردن پر اس کی گرم سانسوں کو محسوس کیے وہ اٹکتی بولی تھی احد کے پاس آتے اس کی ساری ہمت ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
چلو میں بتاتا ہو ناولز میں کیا ہوتا ۔۔۔۔
اپنا ہاتھ اس کے شولڈر پر پھیرتے ہوے اس کے ہاتھ پر رکھتے بولا تھا جو ہینڈل کو ان لاک کرنے کے لیے پکڑے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
م۔مجھے ن۔نہی۔نہیں ج۔جانا آپ ۔اس۔سے ۔۔۔۔
شفا بامشکل بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب کمر سے پکڑتے وہ جھٹکے سے اپنی طرف اس کا رخ کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
شفا بامشکل احد کے سینے تک آئ تھی وہ بھی تب جب اسے کمر سے پکڑتے اونچا کیا تھا ۔۔۔۔
جانتی ہو بچی ہو بلکل ایک لٹل بے بی ڈول جو صرف احد خانزادہ کی ہے کتنی پیاری لگتی ہو جب ایسی بچوں جیسی حرکتیں کرتی ہو ۔۔۔۔
اس کی سرخ ننھی سی ناک پر اپنے دہکنے لب رکھتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
شفا کے گالوں پر حیا کے رنگ اے تھے وہ خود نہیں جانتی تھی شرم کیوں آئ شاہد پہلی دفعہ احد کا نرم لہجہ سن کر ۔۔۔۔
ا۔اپ کیا ہے پ۔پورے جلاد ۔۔۔
اس کے لمس سے بہکتی وہ منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں اسی جلاد کی لٹل بے بی ڈول ۔۔۔۔
اس کی ناک کو دوبارہ چومتے وہ سرشار ہوتا بولا تھا اسے خوشی تھی کم ازکم شفا بولی تو سہی ۔۔۔۔۔
جلاددد۔۔۔
شفا یہ لفظ سنتی ہوش میں آتی اسے دھکا دیتی آفس سے باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔
جبکہ خود کو کوس رہی تھی وہ اس انسان سے کیسے پیار سے بات کر سکتی ہے جس نے زبردستی نکاح کیا اس سے ۔۔۔۔
