Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332

Last updated: 10 November 2025

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

دیکھو تمہارے بابا نے کہہ تو دیا کل میرا نکاح لیکن تمہاری ماما تو بیمار ہے ا۔۔۔۔ جنید واپس گھر اے اب روم میں آتا اسے گود میں اٹھاے بولتے ہوے چپ ہوا تھا ۔۔۔۔ جہاں شیشے کے سامنے شائستہ کھڑی اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے صاف کرنے میں بزی تھی ۔۔۔ لان کا سادہ سا سوٹ پہنے بنا میک اپ بنا ڈوپٹے کے وہ اپنے کام میں مگن تھی ۔۔۔ جنید تو بے حد خوش ہوا تھا اسے ایسے دیکھ کر ۔۔۔ اوووو واوووووو شکر تم ٹھیک ہو گ۔۔۔۔ میری بیٹی مجھے دو اور شکریہ اتنے ماہ اس کا خیال رکھنے کے لیے ۔۔۔ وہ خوشی سے چہکتا اس کے قریب جاتا بول رہا تھا جب اس کی آواز سنتے وہ لڑلڑاتی ہوئ بیڈ کی طرف جاتی اپنا ڈوپٹہ لیے بولی تھی ۔۔۔ اسے کافی ویکنس ہو گی تھی چلنے پھرنے میں کافی مشکل پیش آ رہی تھی لیکن وہ اب اس پر بوجھ نہیں بنا چاہتی تبھی اس نے فصیلہ کیا تھا وہ کہیں دور چلی جاے گی ۔۔۔۔ پہلے ڈاکٹر کو بلا لے چیک اپ ہ۔۔۔ خانننننن میں کہہ رہی ہو بچی مجھے دو تو مجھے دو سمجھے تم ۔۔۔۔ وہ جلدی سے موبائل نکالے بول رہا تھا جب وہ اپے سے باہر ہوتی گہرے سانس لیے بولی تھی ۔۔۔۔ نہیں دے رہا میں کیا کرو گی یہ میری بیٹی ہے سمجھی تم ہر دفعہ اپنی ضد سے بات منوا لیتی ہو آج ن۔۔۔۔ کون سی ضد مسٹر جنید خان ایک ہی تو ضد کی تھی وہ بھی پوری نہیں کر سکے تم ۔۔۔ یہ تمہاری نہیں ہے میری ہے صرف میری ۔۔۔۔ جنید اسے سمجھاے بول رہا تھا جب وہ اس کی باہوں میں چھپی یشفہ کو اپنی طرف کھینچتی ہوئ چیخی تھی ۔۔۔ میں سب ٹھیک کر سکتا ہو شائستہ تمہاری یہ ضد اب پوری ہو سکتی ہے ہم نکاح کر لیتے ہے ا۔۔۔۔ نہیں کرنا مجھے جیسے سکندر نے چھوڑا ویسے تم بھی چھوڑ دو گے بات ختم میری بچی دو اور نکلو یہاں سے ۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر سے کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ طش سے چلای ۔۔ بسسسسس بہت ہو گیا میری بیٹی ہے یہ اور میں تمہیں ہرگز نہیں دو گا اگر تم چاہتی ہو یشفہ ساتھ رہے تو نکاح کرو کل ہی مجھ سے ورنہ یہ نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔ جنید آخر چیخ کر غرایا تھا ایک منٹ کو وہ بھی سہم گئ تھی لیکن جیسے ہی لب وا کیے بولنے کے لیے جب وہ دوبارہ بولا تھا ۔۔۔ اگر تم میرے ساتھ نکاح کے بنا رہنا چاہتی ہو مجھے ایشو نہیں کیونکہ یشفہ کے بنا میں ایک منٹ نہیں رہ سکتا باقی تمہارا فصیلہ جو ہو مجھے منظور ہے ۔۔۔۔ اس کی غراہٹ سنتے یشفہ نے آنسو بہاے شروع کر دے تھے جب وہ اسے اپنے شولڈر سے لگاے کہتا وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا ۔۔۔ نہیں میں بلکل تم سے نکاح نہیں کرو گی کاشششش کاشششش تم سے اتنی محبت نہ کی ہوتی تو آج بددعا دیتے میرا دل کانپ نہ رہا ہوتا ۔۔۔۔ میری زبان اجازت دیتی تمہارے لیے بددعا نکال سکو ۔۔۔۔ تمہاری وجہ سے سب ہوا سنا تم نے سب تمہاری وجہ سے شادی ہوئ سکندر سے تمہاری وجہ سے طلاق ہو گ۔۔۔۔۔ شائستہ شائستہ۔۔۔۔۔ وہ ابھی باہر نکل ہی رہا تھا جب روم میں توڑ پھوڑ کرتی شائستہ رو رو کر چیختی ہوئ اچانک بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔۔ تبھی وہ واپس اس کی طرف بھاگتا پکڑتے ہوے قالین پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ ڈاکٹر کو فون کرو گو فاسٹ ۔۔۔۔ ملازمہ کو اندر آتا دیکھ وہ چیختا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔ ❤️❤️❤️

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!