Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 2)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar


خ۔خون خون م۔میرے امی ابو مر گے ا۔اپ کی وجہ سے ۔۔۔

ہاسپٹل سے واپس آتے احد ہال میں آیا تھا جہاں وہ اپنے ہی بال نوچتی چیخی تھی ۔۔۔

جبکہ سامنے ایل ای ڈی پر ایک فلم چل رہی تھی جہاں ایک لڑکا زمین پر پڑے مرد و عورت دونوں پر فائر کرتا ان کا قتل کر رہا تھا ۔۔۔

جب وہ سین دیکھتی چیخی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ریلکس شفا ا۔۔۔

د۔دور رہو آپ کی وجہ سے مرے وہ آپ قاتل ہے مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔۔۔

احد پریشان ہوتا جلدی سے اسے باہوں میں بھرتے بولا تھا جب وہ دھکا دیتی اس سے دور ہوتی سڑھیوں کی طرف بھاگتی بولی تھی ۔۔۔

یہ جس نے فلم لگای اپنے انجام کے لیے تیار رہے ۔۔

شفا مائ لٹل بےبی ڈول ۔۔۔

وہ ان سب ملازموں کو گھورتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا تھا جو بھاگتی ہوئ ٹیرس پر جا رہی تھی ۔۔۔

مرڈر سین دیکھ کر شفا کو ایک بار پھر سے دورہ پڑا تھا ۔۔۔۔

دیکھو لٹل بے بی ڈول دروازہ کھولو دیکھو تمہارا احد باہر کھڑا ہے ۔۔۔

وہ ٹیرس کا دروازہ بند کر چکی تھی جب وہ فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔

اس کی جان لبوں پر ا چکی تھی شفا کا ایسا ری ایکشن دیکھ کر ۔۔۔

وہ مسلسل دروازے کو پیٹ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف اس کی سسکیاں سنای دے رہی تھی اسے ۔۔۔

پلیز لٹل بے بی ڈول دروازہ کھولو تم جو کہو گی میں وہی کرو گا ۔۔۔۔

وہ ایک بار پھر سے چیختا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ن۔نہیں کھولنا و وہ فلم میں خ۔خون تھا ا۔اپ نے بھی ایسے ہی کیا تھا م۔۔۔۔۔

وہ روتی ہوئی بولتی اچانک وہی بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔

شفاففففففااااا شفااااا۔۔۔

کسی کا دھڑام کرتے گرنے کی آواز سنتے وہ چیختا ہوا دروازے کو توڑ کر اندر گیا تھا ۔۔۔

جہاں وہ ٹیرس کے ماربل پر بے ہوش گری پڑی تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر دانیال کو کال کر جلدی ۔۔۔

اسے باہوں میں بھرتے وہ جلدی سے باہر آتا اب روم کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔

تمہں سنای نہیں دیتا احد بھابھی کی کنڈیشن بلکل ٹھیک نہیں ایسے سین دیکھ وہ بار بار ایسے ری ایکشن کرے گی جو کہ ان کی صحت کے لیے نقصان دے ہے ۔۔۔

دانیال اس کا چیک اپ کیے ایک بار پھر سے بولا تھا ۔۔۔۔

لیکن م ۔۔۔

دیکھو احد مجھے یقین ہے تم بھابھی کو محبت دو اگر انہیں سب یاد ا بھی گیا تو تب بھی تمہاری رہے گی میری بات مان جاؤ انہیں مڈیسن دو ۔۔۔۔

وہ بولنے والا تھا جب دانیال اسے سمجھاتے بولا تھا ۔۔۔۔

دانیال تم جانتے ہو میرا دنیا میں کوئ نہیں میرے ماں باپ اتنی کھربوں کی دولت چھوڑ کر مجھے دنیا میں اکیلے چھوڑ کر چلے گے تم یہ بھی جانتے ہو میں کبھی کسی کے اتنے قریب نہیں ہوا ۔۔۔۔

لیکن جب سے شفا کو دیکھا محسوس کیا بس اسے ہی اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔

میں اسے نہیں کھونا چاہتا اگر میڈیسن سے وہ ٹھیک ہو سکتی تو ٹھیک ہے میں دیا کرو گا لیکن اگر اسے سب یاد آنے کے بعد بھی مجھ سے دور جانے کی رٹ لگائی تو وہ میرے اندر کے درندے جو جاگاے گی جو اس کے آنے پر خاموش ہو چکا تھا ۔۔۔۔

وہ سرد لہجہ سے کہتا خودی روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

دانیال سمجھ سکتا تھا وہ اپنے چاہنے والوں کے لیے کتنا سیریس رہتا تھا ۔۔۔۔

دانیال اب اسے انجکشن لگا رہا تھا ۔۔۔۔

ک۔کیسی ہو ۔۔۔

جیند نے ہی ہمت جمع کیے پوچھا تھا ۔۔۔

جب وہ گھبراتی اپنی آنکھیں اٹھاے اس کی طرف دیکھا تھا جو مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ٹ۔ٹھیک تم کیسے ہو ۔۔۔۔

وہ بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔

بےبی گرل ہے یا بے بی بواے ۔۔۔۔

ہال میں دوبارہ خاموشی دیکھ وہ شائستہ کی طرف دیکھا بولا تھا جو سانس روکے اس کے کلون کی خوشبو کو محسوس کر رہی تھی آج بھی وہ ایسے ہی اپنی خوشبو لیے اسے پاگل کرتا تھا ۔۔۔۔

پ۔پت۔۔۔۔

ارے میرا پوتا ہو گا دیکھنا ۔۔۔۔

اس کے سوال پر گھبراتے وہ بولنے والی تھی جب اندر آتی اس کی ساس جوس کا گلاس اسے دیتی بولی تھی ۔۔۔۔

شائستہ شرمندہ ہوئ تھی جنید کے اتنے بولڈ سوال پر کہ اس کی ساس نے سن لیا تھا ۔۔۔۔

کیوں آنٹی پہلی اولاد بیٹی ہونی چاہے وہ تو رحمت ہوتی ہے ۔۔۔

وہ مسلسل شائستہ کو دیکھ کر ہی بولا تھا جوس کو اس نے پیا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

لیکن ہمیں بیٹا چاہے آؤر یہ ب۔۔۔۔

بیٹا بیٹی تو ہمارا رب دیتا ہے ہم کون ہوتے پہلے ہی سوچنے والے کیا ہو گا وہ تو ہمارا رب ہے چاہے ہمیں نعمت دے یا رحمت ہمیں دونوں کی عزت کرنی چاہے ۔۔۔

جہاں بیٹے کو پیار ملے وہاں بیٹی کو بھی اتنا ہی پیار ملنا چاہے کیوں شائستہ میں ٹھیک کہہ رہا یا نہیں ۔۔۔۔

وہ جو اس کی خوبصورت آواز میں گم ہوی سنتی دل سے خوش ہو رہی تھی کہ کوئ پہلی دفعہ ایسا بولا تھا جب اس کے اچانک بلانے پر گھبرای تھی ۔۔۔

ج۔جی ۔۔۔

وہ ایک بار پھر سے بولی تھی ۔۔۔۔

جیند دل سے مسکرایا تھا جو لڑکی اس کے سامنے پٹر پٹر بولتی چپ نہیں ہوتی تھی آج کیسے خاموش تھی کتنی بدل گئ تھی وہ کہاں وہ شوخ چنچل گو سی لڑکی تھی کہاں اب وہ خاموش رہنے لگ گی تھی ۔۔۔۔

اچھا بےبی گرل کا نام کیا رکھو گی ۔۔۔

اس کی ساس کو اگنور کیے وہ دوبارہ اس کی طرف دیکھا بولا تھا ۔۔۔۔

و۔وہ ی۔یشفہ ۔۔۔۔

وہ پھر سے بولی تھی ۔۔۔

جانتی تھی جنید جان بوجھ کر اس سے سوال کر رہا تھا تاکہ وہ بول سکے ۔۔۔۔

اچھا آنٹی چلتا ہو میں کام ہے یہ گفٹ آپ سب کے لیے۔ ۔۔

وہ اپنے ڈراہیور کو اندر آتے ساتھ لاتعداد گفٹس لاتے دیکھ اٹھ کر کھڑے ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ڈراہیور کو وہ میسچ کر چکا تھا گفٹس اندر لانے کے لیے ۔۔۔۔

ارے بیٹا اس کی کیا ضرورت ت۔۔۔۔

اس کی ساس تو اتنے قیمتی گفٹس دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوتی کہتی اب باری باری گفٹس دیکھنے میں بزی ہو گی تھی ۔۔۔

جبکہ شائستہ ہال سے نکلتی اب روم کی طرف جا رہی تھی جب جنید اس کے پیچھے روم تک آیا تھا ۔۔۔۔

یہ میری چوہیا اتنی خاموش کب سے ہو گی اور یہ بالوں کو بڑا کب کیا یار ۔۔۔۔۔

وہ اس کے سر سے نیچے جاتی شال کے اندر کمر پر جھولتے بالوں کو دیکھ چہکتے بولا تھا ۔۔۔۔

تمیعز سے رہو تمہاری چوہیا تمہاری وہ بیوی ہو گی میں نہیں سمجھے کیوں اے ہو واپس میری زندگی میں اب کیا چاہتے ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔

وہ اپنے دھیان سے اندر آی تھی جب اس کی بات سنتے وہ طش سے چیختی اس پر چلائ تھی ۔۔۔۔

جیند جانتا تھا وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرے گی ۔۔۔

اچھا خیال رکھنا چوہیا جلد ہی ملے گے اور ہاں تمہاری فیورٹ چاکلیٹ لایا ہو جرمنی سے ۔۔۔

وہ اگنور کرتا اس کے ناک کو دباے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

شائستہ کو پتہ تھا جنید کی عادت تھی وہ بچپن سے ہی شرارتی انداز میں اس کی ناک دباتے بھاگ جاتا تھا جب وہ چڑتی تھی ۔۔۔۔

شکر میرے اللہ کا تمہیں ہوش آیا میں ڈر گیا تھا لٹل بے بی ڈول۔۔۔

کافی دیر بعد اسے ہوش آیا تھا جب احد اس کے قریب بیٹھتا ہوا دیوانہ وار اس کا چہرہ چومتے بولا تھا ۔۔۔۔

ب۔بس کرے آپ بھی ن۔۔۔۔۔

پتہ ایسا لگا جیسے میری زندگی ختم ہو گی شفا تم نہیں جانتی مجھے کتنی محبت ہے تم سے ۔۔۔

بلکہ میرا جنون ہو تم ۔۔۔۔

شفا سرخ چہرہ لیے شرماتے ہوے بول رہی تھی جب احد اب اسکی گردن پر اپنے لب رکھتے شدت بھرا لمس چھوڑتے بولا تھا ۔۔۔۔

شفا اس قربت میں ایسا فیل کر رہی تھی جیسے دل باہر ا جاے گا ۔۔۔۔

ا۔اچھا ا۔اب چھ۔چھوڑے ۔تو سہی م۔میں نے و۔واش روم جانا ۔۔۔۔

وہ اسے خود سے دور کرتی اٹکتی سانسوں سے بہانہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔

وعدہ کرو لٹل بے بی ڈول تم کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی چاہے کچھ بھی ہو جاے ۔۔۔۔

وہ اس کا بہانہ سمجھتے ہوے اس کے گال پر اپنے لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔اچھا وعدہ ابھی تو چھوڑے احد میرا سانس اٹک ر ۔۔۔۔

اپنے جسم پر احد کی مضبوط گرفت پاتے وہ اب دور ہونے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب وہ بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

میں تمہاری سانس بنو گا لیکن کبھی چھوڑنا مت ۔۔۔۔

اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے لب رکھتے وہ بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

اپنے لبوں پر آج پہلی دفعہ اس کا لمس پاتے وہ دل و جان سے کانپی تھی ۔۔۔۔

جیتنا وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی اتنا ہی احد اس پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔

ب۔بے ش۔شرم ہے ۔اپ ۔۔۔۔

کافی دیر اس کی سانسوں کو پینے کے بعد احد نے اسے چھوڑا تھا جب وہ سرخ چہرہ بھیگے ہونٹ لیے کہتی وہاں سے بھاگتی واش روم گی تھی ۔۔۔۔۔

ارے یہ کہاں کی بے شرمی تھی یار ۔۔۔۔

وہ چہکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ وہ لال چہرہ لیے واش روم کے دروازے کے ساتھ لگی شرمای تھی ۔۔۔

اسلام علیکم ۔۔۔

رات کو جب سکندر آفس سے تھکارا ہارا گھر آیا تو شائستہ نے مسکراتے سلام کر کے اسے پانی کا گلاس دیا تھا ۔۔۔۔

وعلیکم اسلام میری جان کیسی ہو میرا بے بی کیسا ہے ۔۔۔

ہمیشہ کی طرح وہ مسکراتا ہوا اس سے ملتا بولا تھا سکندر اس کا کلاس فیلو تھا اسے شروع سے شائستہ پسند تھی اپنی پسندیدگی کا وہ بتا چکا تھا جب اس کی شادی شائستہ سے ہو چکی تھی ۔۔۔

وہ اسے پا کر بے حد خوش تھا وہ اپنی لائف میں خوش تھا اس کا ساتھ پا کر ۔۔۔

اچھا آج جیند آیا تھا کیا امی نے بتایا ۔۔۔

کافی دیر بعد وہ اس سے سوال کر چکا تھا ۔۔۔

جب وہ گھبرای تھی ۔۔۔

اس کی ساس سکندر کے کان بھر چکی تھی اس کے خلاف تبھی وہ پوچھ رہا تھا جنید کو وہ جانتا تھا لیکن پھر بھی جلیس ضرور ہوا تھا ۔۔۔۔

ہاں ملنے آیا تھا لیکن ہماری ایسی کوئ بات نہیں تھی آپ شک مت کرنا م۔۔۔۔

ریلکس یار میں جانتا ہو سب کیوں وضاحت دے رہی ہو اگر تم ایسی لڑکی ہوتی تو کبھی شادی کی پہلی رات اپنی اس محبت کا اعتراف نہ کرتی جو تم نے جنید سے کی ۔۔۔۔

میں سب جان کر بھی تمہیں قبول کیا کیونکہ تم میری محبت تھی چھوڑو یہ بات یہ بتاؤ صبح ڈاکٹر کے پاس ضرور جانا چہرہ دیکھو کیسا زرد ہو چکا ہے ۔۔۔۔

وہ جو گھبراتی بول رہی تھی جب کمر سے آہستہ سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاتے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔

تبھی بات بدلتا وہ بولا تھا ۔۔۔۔

میں اکیلی کیسے جاؤ گی آپ ساتھ جانا اور شاہد ڈاکٹر ایڈمٹ کر لے مجھے ا۔۔۔۔۔

یار مجھے ضروری کام ہے بلکہ میرا ایک دوست ہے وہ ہاسپٹل ہے اسے کل خون دینا ہے میں نے تم امی کے ساتھ چلی جانا میں وہی ا جاو گا ملنے اوکے ۔۔۔۔

وہ اسے کہہ رہی تھی جب وہ مسکراتا ہوا بولا تھا وہ جانتی تھی ان کے لیے ہی وہ محنت کرتا تھا اور یہ بھی جانتی تھی وہ دل کا کتنا اچھا انسان تھا ہاں غصے کا تھوڑا تیز تھا ۔۔۔ ۔

ہمممم ۔۔۔

وہ حامی بھری اب بیڈ کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

جبکہ وہ کپڑے اٹھاے باتھ روم چلا گیا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔

رات کو احد روم میں آیا تھا اپنا کام کر کے جب سامنے شفا کی حرکت دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔۔

یہ نہیں ہو رہا جیسے ویڈیو میں ہوتا یہ دیکھیں آپ ۔۔۔۔

وہ روٹھی بچی کی طرح بولی تھی ۔۔۔

جہاں وہ بیڈ پر لیٹی کبھی تکیے کو ہگ کرتی تو کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتی ۔۔۔۔۔

احد نے ویڈیو دیکھی تھی جہاں لڑکی پہلے سرہانے کو ہگ کرتی پھر اچانک وہاں لڑکا لیٹ جاتا جب لڑکی اسے ہگ کر لیتی۔۔۔۔

تم ایسا کرنا چاہتی ہو ۔۔۔۔

احد مسکراتا ہوا اپنی آئ برو اچکاتے بولا تھا اس کی گرے آنکھیں مسکرا رہی تھی ۔۔۔

ہاں آپ شوہر میرے تو ایسا کرتے ہے پلیز احد ۔۔۔۔

وہ شرماتی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

چلو آؤ یہاں ۔۔۔۔

احد چلتا ہوا بیڈ پر آتا لیٹ چکا تھا جب شفا کو بازوں سے پکڑتے اپنے قریب کرتا بولا تھا ۔۔۔

وہ دل سے بے حد خوش تھا آخر وہ بھی اس کا ساتھ پاتی خوش ہوتی تھی ۔۔۔

شفا شرماتی ہوئی اس کی ٹانگوں پر لیٹتی اپنا سر احد کے پیٹ پر رکھ چکی تھی جبکہ اپنی باہیں اس کے گرد پھیلا وہ مسکراتی اپنی آنکھیں بند کر گی تھی ۔۔۔

احد اس کا شرمانا دیکھ اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے میں بزی ہو گیا تھا ۔۔۔۔

کافی دیر تک وہ دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کو محسوس کرتے رہے ۔۔۔۔

احد جب ہماری شادی ہوئ تو آپ کے پاس کوئ پک تو ہو گی میں دیکھنا چاہتی دلہن بن کر کیسی لگ رہی تھی ۔۔۔۔

شفا کی آواز خاموشی میں گونجی تھی ۔۔۔۔

احد خانزادہ کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا وہ اسے کیا بتاے جب ان کا نکاح ہوا تھا تب شفا صرف نائٹ بروان شرٹ کیپری بکھری حالت روتی ہوئی دلہن تھی ۔۔۔۔

جس کے چہرے پر میک اپ کی بجاے صرف لاتعداد آنسو تھے ۔۔۔۔

بولے نہ آپ کیا میں پیاری نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔

وہ اسے خاموش دیکھ دوبارہ بولی تھی ۔۔۔۔

پوری چڑیل لگ رہی تھی افففف میں تو ڈر ہی گ۔۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ۔۔

وہ اس کا مائنڈ بدلتے ہوے بول رہا تھا جب شفا نے طش میں آتے اس کے پیٹ پر زور سے کاٹا تھا تبھی وہ چیخا تھا ۔۔۔۔

اور زور سے کاٹو گی اگر چڑیل کہا تو آپ جن بھوت ہو گے ۔۔۔۔

احد کامیاب ہوا تھا مائنڈ بدلنے میں تبھی اس کی بات سنتے وہ مسکراتا ہوا کروٹ بدل چکا تھا ۔۔۔

اب شفا کے اوپر وہ جھکا اس کا طش سے سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

اب جن بھوت کی چڑیل ہی ہوتی ہے میرا کیا قصور ا۔۔۔۔

میں نے کہا روکے میں ورنہ کاٹو گی احدددددد۔

وہ اسے تنگ کرتا بول رہا تھا جب وہ دانت پیستے چیخی تھی ۔۔۔۔

اچھا تو میں بھی کاٹو گا ا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔۔۔

احد اسے تنگ کرتا ابھی جھکتا بول ہی رہا تھا جب شفا نے اسے گردن سے پکڑتے اس کی شہ رگ پر کاٹا تھا جب وہ چیخا تھا۔۔۔۔۔

میں اسی وجہ سے کہتا ہو تم چڑیل ہو اب جن کا وار دیکھنا۔۔۔۔۔

شفا تو اپنا غصہ اتار کر سکون میں ا چکی تھی جب احد شیطانی مسکراہٹ لاے اس کے شولڈر سے نیچے شرٹ کو کرتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

ن۔نہیں آپ ۔ک۔کدھر جن ۔بھوت ۔میں ہی چڑیل ہ۔۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا نہیں احد پلیز گدگدی ہو رہی ہے ۔۔۔۔

اپنے شولڈر پر اس کے لب محسوس کیے وہ بول رہی تھی جب اپنی شرٹ کے اندر اس کے ہاتھ جاتے اور پیٹ پر گدگدی کرتے دیکھ وہ کھلاکھلاا کر قہقے لگاتی بولی تھی ۔۔

اسے ایسا ہنسا مسکراتا دیکھ وہ دل سے خوش تھا دل سے یہی دعا تھی اس کی یاداشت کبھی واپس نہ اے ۔۔۔۔

ب۔بس اب میں کرو گی ۔۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھتی اپنی شرٹ کو ٹھیک کرتی اس پر جھکتی ہوئ اسے ڈراے بولی تھی ۔۔۔۔

نہیں پلیز ایسا مت کرنا ۔۔۔

ڈرنے کی ایکٹنگ کیے وہ بولا تھا جب وہ شیطانی مسکراہٹ لاے اسے ڈراتے خودی خوش ہوتی اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے گدگدی کرنے میں بزی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہاہاہا۔۔۔۔

اسے خوش کرنے کے لیے وہ نقلی قہقے لگاے اسے خوش کر رہا تھا جو کہ وہ خوش ہو بھی رہی تھی ۔۔۔۔

کدھر جا رہی ہو ۔۔۔۔

شائستہ شال لیے ہاسپٹل جانے والی تھی اس کی ساس نے تو صاف انکار کر دیا تھا جانے سے ۔۔۔

تبھی وہ جانے والی تھی جب وہ بولی ۔۔۔

امی ڈاکٹر کے پاس چیک کروان۔۔۔

اچھا چلی جانا پہلے یہ زرا ایک بالٹی اٹھا کر سڑھیوں پر رکھ دو تم تو جانتی ہو مجھ سے وزن نہیں اٹھایا جاتا ۔۔۔۔

وہ سفاکیت بھرے لہجے سے بولی تھی ۔۔۔۔

لیکن امی میں کیسے اٹھاو مجھ سے اپنا آپ نہیں ہینڈل ہ ۔۔۔۔

ڈرامے بند کرو اور رکھو بالٹی میں آتی ہو زرا ۔۔۔

وہ جو بول رہی تھی جب اس کی ساس بولتی روم میں گی تھی ۔۔۔۔

شائستہ ہمت جمع کرتی بامشکل بالٹی اٹھا کر ابھی ایک ہی سیٹپ پر رکھ رہی تھی جب اسے شدید درد ہوا تھا ۔۔۔۔۔

وہی دوسری طرف آج پھر جنید اس سے ملنے گھر ا رہا تھا ۔۔۔۔

کیا کرو جاو یا نہیں لیکن اب وہ شادی شدہ ہے ایسا زیب نہیں دیتا اس کی ساس کیا سوچے گی ۔۔۔

تم جنید خان ہو تم نے کب سے سوچا لوگ کیا کہے گے جاؤ ملو وہ تمہاری دوست پلس کزن بھی ہے ۔۔۔

وہ دروازے کے قریب کھڑا اپنے آپ سے جنگ لڑنے میں بزی تھا ۔۔۔۔

جب اسے کسی کے چیخنے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔۔

ش۔شائستہ کیا ہوا تمہیں آنکھیں کھولو اپنی ۔۔۔۔

وہ چیخ سنتا جلدی سے اندر کی طرف آیا تھا دروازہ کھولا ہی تھا جہاں صحن کے درمیان وہ درد سے تڑپتی ہوی کراہ رہی تھی کپڑوں والی بالٹی اس کے پیٹ پر گری ہوئ تھی ۔۔۔۔

جب بھاگ کر وہ اس کا سر اپنی گود میں رکھتا ہوا چیخا تھا ۔۔۔۔

جہاں وہ اپنی آنکھیں بند کر رہی تھی ۔۔۔

ڈرائیور جلدی کار سٹارٹ کرو ۔۔۔۔

اس کی بگڑتی حالت دیکھ جلدی سے باہوں میں بھرتے وہ چیختا ہوا باہر کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔۔

تبھی اس کی ساس نے باہر ا کر سارا منظر دیکھ منہ بناے واپس اندر چلی گئ تھی ۔۔۔۔