Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 19)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“”احد شفا اسپیشل اپپی
یار لالہ میرا بلکل جانے کا موڈ نہیں ہے اپ دونوں چلے جاو۔۔
جنید شفا کو اپنے ساتھ دانیال کی منگنی کے فکشن میں لے کر جانا چاہتا تھا جس نے احد اور جنید دونوں کو انویٹ کیا تھا ۔۔۔
احد شفا سے ناراض ہو کر گیا تھا یہ بات جنید۔ بھی جانتا تھا ۔اس نے احد کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی پر وہ نہیں ملا جنید کو پتہ تھا احد منگنی میں ضرور اے گا تبھی وہ شفا کو بار بار کہہ رہا تھا۔۔۔
تم چل رہی ہو ساتھ جانتی ہو اے کے بھی وہاں ا۔۔۔۔
سچی لالہ وہ اے گے کیا میں ان سے ملنا چاہتی ہو اپنی ہر غلطی کی معافی مانگ لو گی۔۔۔
وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب وہ بےتاب ہوتی بولی تھی۔۔
ہاں بات کر لینا چلو تیار ہو جاو۔۔۔
فون کان کو لگاتے وہ کہتا ہوا روم سے باہر گیا تھا جبکہ وہ خوشی سے ڈریس پہنے گی تھی۔۔
کیا ہوا لالہ وہ کب تک اے گے اب تو سارے گیسٹ بھی ا چکے ہے ۔۔۔
شائستہ جنید یشفہ کے ساتھ وہ بھی تیار ہوتی دانیال کے گھر ا چکی تھی جہاں وہ احد کا ویٹ کر رہی تھی جب جنید کو پاس اتے دیکھ وہ بولی تھی۔۔۔
و۔وہ چھوٹی اس سے بات ہوئی تھی کہتا وہ نہیں ایے گا یہاں۔
جنید شرمندہ ہوتا بولا تھا۔۔
کوئی بات نہیں لالہ اپ بھابھی اور فیری کو دیکھ لے ۔۔۔
اس کی بات سنتے اچانک اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا لیکن زبردستی مسکراہٹ سجاے وہ بولی تھی۔۔۔
یار۔
لالہ جاے میں ٹھیک ہو۔۔
جنید ایک بار پھر سے بولنے والا تھا جب وہ بولتی ہوی سائیڈ پر صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
“””ایک دن پہلے ۔۔۔
یار تمہیں پین ہو رہا ہو گا ڈاکٹر کو بلاو ۔۔۔
شفا کو کمر پر گہری چوٹ ای تھی جس کی وجہ سے وہ درد سے تڑپتی رہی تھی ابھی بھی وہ اپنے بیڈ پر بامشکل لیٹ رہی تھی جب وہ روم میں پریشان سا ہوتا اتا بولا تھا ۔۔۔
ز۔زی۔زیادہ پین نہیں ہے بس نارمل س۔۔۔
چپ رہو جانتا ہو کتنا نارمل پین ہو رہا تم درد کو برداشت کر رہی ہو ہاسپٹل بھی نہیں رہی تم ۔۔
میڈیسن باکس اٹھائے وہ چلتا ہوا اس کے قریب بیٹھتے بولا تھا۔۔۔۔
ہمممم۔۔
شفا اب خود اس کے بنا ایک پل دور نہیں رہ پاتی تھی یہی وجہ سے وہ گھر جلدی ا گی تھی تاکہ احد کے قریب رہ سکے ۔۔۔
میڈیسن لگانے سے جلن ہو گی زیادہ فیل ہو مجھے بتا دینا میں ہاتھ روک لو گا۔۔۔۔
شفا کو کمر سے نرمی سے پکڑتے اس کی زخمی کمر کے پیچھے تکیے کو رکھے وہ نرمی سے بولا تھا۔۔۔
جبکہ شفا کی تو دھڑکن تیز ہو چکی تھی یہی سوچ کر میڈیسن احد لگاے گا ۔۔۔
و۔وہ ا۔اپ رہ۔۔۔
شششش اواز بلکل نہیں اے تمہاری چپ رہو۔۔۔
وہ گبھراتی ہوی جو بہانہ بناے بولنے والی تھی جب وہ ٹیوب باکس سے نکالے روم کی لائٹس کو اف کر رہا تھا ۔۔۔
ب۔ب۔بھابھی کو بل۔لی۔۔۔
تمہاری اواز ای تو ساری لائٹس ان کر دو گا چپ رہو مجھے اپنا کام کرنے دو۔۔۔
شفا کو اندھیرے میں اپنی شرٹ کمر سے اٹھتی اور زخمی کمر پر احد کی بھاری ٹھنڈی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا تھا جب وہ اسی کے شولڈر کو پکڑتے ہکلاتی بول رہی تھی جب وہ دونوں کے درمیان فاصلے کو بھی ختم کرتا کان میں سرگوشی کر چکا تھا۔۔۔۔
سسیی۔۔
کیا ہوا جلن ہو رہی ہے کیا ۔
وہ جو نرمی سے اس کی کمر پر اندھیرے میں ٹیوب لگا رہا تھا جب وہ جلن سے سسکتی ہوی اس کے سینے سے لگی جب وہ فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔
ج۔جی ہو رہی ۔۔۔
احد کی گردن میں اپنا منہ چھپاے وہ گھونٹی ہوی اواز میں بولی تھی۔۔۔
کوی بات نہیں میری لٹل بےبی ڈول کچھ دیر بعد ٹھیک ہو جاے گا ۔۔
احد نرمی سے اسے کمر سے پکڑتے اپنی گود میں بیھٹاتے سکون سے بولا تھا۔۔
م۔میں ٹھیک ہ۔۔۔
سکون سے سو جاو اب سکون اے گا میڈیسن کا ۔
اپنی تیز ہوتی سانسوں کے درمیان وہ بول رہی تھی جب وہ اس کا سر سینے سے لگاتے اس کے بالوں کو سہلاتے بولا تھا ۔۔
جب شفا نے مجبور ہوتے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا اب وہ احد سے دور بھی نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔
“”ای لو یو لٹل بےبی ڈول“
نیند میں جاتی شفا کے گال کو چومتے وہ سکون سے کہتا اپنی آنکھوں کو بھی موند گیا تھا۔۔۔
بولو ماہین کیا ہوا ۔۔
صبح شفا جب جاگی تھی خود کو پرسکون محسوس کر رہی تھی جبکہ روم میں احد موجود نہیں تھا۔۔۔
اسی وقت ماہین کی کال ای تھی جیسے اٹھاتی وہ چہکتی بولی تھی۔۔۔
خیر تو ہے شفا بہت چہک رہی ہو ۔۔۔
ماہین اس کا لہجہ سنتے جلیسی ہوتی بولی تھی۔۔۔
ہاں یار کافی عرصے بعد خود کو پرسکون پایا ہے جانتی ہو کیوں۔۔
شفا مسکراتے ہوے بولی تھی۔۔
وجہ ۔
ماہین کے دل میں کچھ کٹھکا تھا تبھی ایک الفاظ بولی۔۔۔
یار مجھے محبت ہو گی ہے احد سے سچی بتا رہی ہو بہت جلد میں اپنی محبت کا اظہار کرو گی ۔۔
شفا نے سرخ چہرے کو لیتے بولی تھی۔۔
ہممم ۔۔
چلو میں او گی تمہیں ملنے اج میں۔۔
ماہین اپنی جلیسی کو کنٹرول کیے بولی
تھی۔۔۔
لیکن میں احد کے ساتھ چیک اپ کے لیے جا رہی ا۔۔۔۔۔
میں او گی ملنے ۔
شفا اسے اج کا پلان سنا رہی تھی جب وہ اپنی کہتی کال کٹ کر چکی تھی۔۔۔
جبکہ شفا بھی کال کٹ ہوتے ہی احد کا ویٹ کرنے لگ گی تھی۔۔۔
اپ کے ساتھ جانا تھا میں نے چیک اپ کے لیے اچھا اپ ایسا کرے ہم کل چلے جاے گے۔۔۔
ناشتے کے بعد شفا کو احد نے بتایا تھا وہ ضروری میٹنگ کے لیے جانا ہو گا افس تبھی وہ چیک اپ کے لیے شائستہ کے ساتھ چلی جائے جبکہ وہ منہ بناتی بولی تھی۔۔۔
میری لٹل بےبی ڈول بھابھی کے ساتھ چلی جاو میری ضروری میٹنگ نہ ہوتی تو سچی ج۔۔۔۔
کیا ہوا ہے رو کیوں رہی ہو پین ہو رہا کیا ۔۔۔۔
وہ جو اسے نرمی سے کمر سے پکڑتے اسے سمجھا رہا تھا جب اچانک اس کی گلاسز لگی بھیگی آنکھوں کو دیکھ پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ن
نہیں ہ۔ہو رہا پین م۔مجھے اپ۔ک۔کے ساتھ جانا تھا میں اپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ا۔۔۔۔
بھابھی میرے کہنے پر یشفہ کو خان کے پاس چھوڑے تمہیں لے کر جانے والی تھی میں میٹنگ کیسنل کرتا ا ۔۔۔
م۔میں چلی جاو گی اپ فکر مت کرے بھابھی اتی ہو گی ۔۔۔
شائستہ کا خیال اتے وہ جلدی سے اس سے دور ہوتی کہتی وہاں سے گی تھی۔۔۔
جبکہ احد بھی تیار ہونے کے لیے روم میں گیا تھا۔۔۔
شکریہ جے کے تم ہینڈل کر لینا میٹنگ میں نہیں ا پاو گا یار لٹل بےبی ڈول اتنی اداس ہو کر گی ہے بھابھی کے سات۔۔۔
اچھا اچھا بس کر تم بیوی کے غلام بن گے ہو مجھے دیکھو میں بھی تو یار اپنی خانم کے بنا یہاں میٹنگ کر رہا ہو ا۔۔۔۔
جنید خان نے میٹنگ میں نہیں جانا تھا پر احد نے اسے ضروری انے کو کہا تھا یہی وجہ تھی یشفہ کو لیے وہ اس کے افس میٹنگ روم میں اس کا ویٹ کر رہا تھا اب احد کی کال سنتے ہی وہ اگ بگولہ ہوتے بولنا سٹارٹ ہو چکا تھا جبکہ احد نے بیزار ہوتے فون کو کان سے ہٹا کر رکھا تھا جہاں جنید نان سٹاپ سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔۔
تم بھی ا جاو گھر مل کر اچھا سا ڈنر کرتے ہے رات کو ۔۔۔۔
احد کو مزہ ا رہا تھا جنید کو تنگ کرنے میں تبھی بولا تھا ۔۔۔۔
رہنے دو اے کے تم خود تو پیار محبت کی بات نہیں سمجھتے ہماری لو سٹوری میں بھی ٹانگ پھسا کر کباب بن رہے ہو میں بتا رہا ہو اگر رات ڈنر تمہارے گھر ہوا تو سچی تمہاری ٹانگوں کا کباب بنا دو گا تم ایک خان کے غصے کو دعوت دے رہے ہو ا۔۔۔۔۔
ارے بھابھی ا گی اپ یہ لیے جے کے سے بات کرے ا۔۔۔۔
ہہاہاہہاہاہاہاہہاہاہاہاہاہہاہاہاہا۔۔۔
جنید جو شدید تپتے ہوے بول رہا تھا جب احد نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا جب جنید کی کال منٹوں میں کٹ ہوی تھی۔۔۔
پاگل جے کے ہاہاہاہہاہایای۔۔۔۔
ہال میں کھڑے وہ ہلکا سا قہقہ لگاے بولا تھا۔۔۔
کون ہو تم جو منہ اٹھائے اندر ا رہی ہو ۔۔۔
احد جو ہاسپٹل کے لیے ہال سے نکلنے والا تھا جب اندر انٹر ہوتی ماہین کو دیکھ وہ زرا سختی سے بولا تھا۔۔۔۔
میں شفا کی دوست ہو ۔۔۔
ماہین تو احد کا حیسن سراپا دیکھ وہی جم کر کھڑی ہوتی سکون سے بولی تھی۔۔۔۔
وہ گھر نہیں ہے جب اے گی تب مل لینا ۔۔
ماہین کی گہرائیوں بھری نظروں سے الجھن لیتے وہ ایک پھر سے سختی سے بولا تھا۔۔۔۔
اپ کو کس نے کہا میں شفا سے ملنے ای ہو ۔۔۔۔
گرے تھری پیس سوٹ مہنگی ریسٹ واچ پہنے اپنی گرے آنکھوں میں غصہ خوبصورت چہرے کے تاثرات کو سخت بناۓ کسرتی جسم پر پہنے تھری پیس کے ساتھ رعب دار پرسلنٹی لیے احد ماہین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔۔۔
پھر کس سے ملنا اپ نے ۔۔۔۔
شفا کی دوست ہونے کی وجہ سے وہ اسے برداشت کر رہا تھا ورنہ اس کی نظروں کی طلب دیکھتے وہ منٹ میں پلیس سے نکال باہر کرتا۔۔
اپ سے ملنا مجھے اچھی بات ہے شفا گھر نہیں ہے ورنہ میں کبھی اپ کو اپنے دل کی بات نہ بتا سکتی ا۔۔۔۔
دماغی توازن کھو بیٹھی ہو کیا جو اول فول بکواس کر رہی ہو ۔۔۔
وہ جو ہمت کرتی اس کے قریب اتی بول رہی تھی جب احد اس سے دور ہوتا چیخا تھا۔۔۔۔
ہاں کھو دیا دماغی توازن میں نے جب سے اپ کو دیکھا میں نے شفا اپ کے قابل نہیں ہے اس سے ناصر محبت کرتا ہے جبکہ میں ا۔۔۔
نکلو ابھی کہ ابھی گیٹ لاسٹ فرام ہئیر ۔۔۔
وہ جو اس کی گردن کو چھوتے ہوے بول رہی تھی جب وہ اسے دھکا دیتا غرایا تھا۔۔
میرے ہو تم سنا میں تمہیں ہر حال میں حاصل کرو گی چاہے مجھے اپنی ہی عزت خراب کرنی پڑی ا۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو پاگل عورت چھوڑو گارڈز گارڈز ۔۔۔۔
ماہین اپنا ہوش گم کیے بنا سوچے سمجھے پہلے اپنے کپڑوں کو پھاڑتی اب احد کے کپڑوں کو پھاڑ رہی تھی جب وہ دور ہونے کی کوشش کرتا چیخا تھا۔۔۔۔
چٹاخخخخ۔۔۔
ماہین نے جب اپنے لمبے ناخنوں کے نشان احد کے سینے پر لگاے تبھی احد نے طش میں اتے اسے زور کا تھپڑ مارا تھا جب وہ دور جاتی گری تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کرتی جب ہال میں شفا اور شائستہ انٹر ہوے تھے وہی ماہین کا مظلوم بنے کا ڈرامہ شروع ہو،گیا تھا۔۔۔
میم اپ کچھ لے گی ۔۔۔
شفا اس دن کا اکیلے سوچتی آنکھوں سے انسو بہا رہی تھی اسے دکھ تھا احد یہاں ایا بھی نہیں تھا صرف اس کی وجہ سے ابھی وہ اپنے خیالوں میں تھی جب ویٹر نے پاس اتے پوچھا تھا۔۔۔۔
نی۔۔۔
شفا نے جیسے ہی ویٹر کو جواب دینے کے لیے لب وا کیے تھے سامنے کا منظر دیکھ وہ گم صم ہو چکی تھی۔۔۔
بلیک شرٹ بلیک ہی پینٹ پہنے بکھرے بال چہرے کے سختی لیے تاثرات لیے وہ رف سے حیلے میں بھی شفا کی دھڑکن تیز،کر چکا تھا۔۔۔
جو سنجیدہ سا ہوتا دانیال سے مل رہا تھا۔۔۔
شکریہ سر اپ ا گے میں سمجا تھا اپ نہیں اے گے ا۔۔۔
تم میرے دوست بھی ہو میرا فرض تھا یہاں انا۔ ۔
وہ جو خوشی سے بول رہا تھا جب ویسے ہی ٹھنڈے لہجہ میں بولا تھا۔۔۔
جی سر اپ بیٹھے بھابھی بھی ای ہے ۔۔
سامنے صوفے پر بیٹھی شفا کو دیکھ دانیال بولا تھا۔۔
جب وہ خاموشی سے اسی کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
ہاے یہ میری طرف ہی ا رہے کیا کرو۔
آٹھ جاو لیکن کیوں شوہر ہے میرا میرے پاس ہی اے گے۔۔
شفا اپنی طرف اتے احد کو دیکھ مسلسل پہلو بدلتی سوچ رہی تھی۔۔۔
فیری کیسی ہو تم ۔۔۔
وہ جو خوش،ہو رہی تھی احد اس کے پاس،ایا ہے جبکہ وہ اس کے پاس بیٹھے جنید یشفہ شائستہ کے قریب بیٹھتے شفا کو اگنور کیے بولا تھا جہاں یشفہ مسکراتی احد سے مل رہی تھی۔۔
شفا بھول ہی گی تھی صوفے پر اس کے ساتھ جنید شائستہ یشفہ بھی بیٹھے ہوے ہے۔۔۔
میرے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہے میں ہی قدر نہیں کی ان کی محبت کی تو ایسے ہی کرے گے ۔۔۔
وہ جو خوش فہمی تھی اب اتنے قریب بیٹھتے احد کو دیکھ وہ دل میں سوچ رہی تھی۔ ۔
جہاں اس کے نہ انے پر وہ دکھی تھی اب خوش تھی کم ازکم وہ قریب بیٹھا ہے جس کی کلون کی خوشبو وہ فیل کرتی پر سکون ہو رہی تھی۔۔۔
ایکسوزمی میم میں یہاں بیٹھ جاو۔۔۔
شفا جو کافی دیر،سے ویٹ کر رہی تھی احد،اس سے بات کرے گا جو اگنور کیے یشفہ سے باتیں کر رہا تھا جب پاس ایک لڑکے نے اتے اجازت لی تھی۔۔۔
ج۔جی بیٹھ جاے۔۔۔
اپنی ذات کو اگنور ہوتے دیکھ وہ بھی غصہ سے بولی تھی وہ چاہتی تھی احد کو ری ایکشن دے پر وہ پرسکون بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
میم اپ سنگل ہے کیا۔۔۔
شفا نے اسے پاس بیٹھاتے غلطی کر لی تھی وہ،لڑکا باتونی تھا جو مسلسل کچھ نہ کچھ بول ہی رہا تھا اب تو وہ خود تنگ ا چکی تھی اس سے احد پاس بیٹھے بھی کوی ری ایکشن نہیں دے رہا تھا ۔۔
م۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی جب اس کی نازک سی کمر احد کے ہاتھ میں ای تھی جس،کا صاف مطلب تھا وہ شادی شدہ ہے ۔
شفا جو کب سے غصہ کر رہی تھی،اب احد کا یوں کمر پر ہاتھ رکھتے وہ پرسکون ہوی تھی۔۔۔۔
لڑکا احد کی حرکت دیکھ سمجھ گیا تھا شفا،اس کی بیوی ہے جو اب ہلکا سا بلش کر،رہی تھی۔۔۔
ہاے کتنی محبت کرتے ہے مجھے سے میں نے کتنا برا کیا ۔۔۔۔
احد کا بھاری ہاتھ کمر پر چلتے ہوے اب اس کے زخموں پر اس کی انگلیوں کی پوریں گھوم رہی تھی مطلب صاف تھا وہ فکر مند ہوتا اس کا،زخم چیک کر رہا تھا بظاہر تو وہ باتوں میں بزی تھا جبکہ شفا جانتی تھی اس کا سارا دھیان اس کی زخمی کمر پر ہے ۔۔۔
اب مجھے اجازت دو جانے کی دانیال۔۔۔
فکشن ختم ہو چکا تھا احد نے ایک بار بھی نہ شفا کو دیکھا تھا نہ ہی بات کی تھی۔
اب وہ جانے کی اجازت مانگ رہا تھا جبکہ شفا کا دل اداس،ہو گیا تھا،وہ معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔۔
م۔مجھے بھی گھر چھوڑ دے ۔۔۔
سب ملتے وہ دانیال کے گھر سے باہر اتا اپنی کار میں بیٹھ رہا تھا جب شفا جنید کو بتاے وہ احد کے ساتھ گھر چلی جاے گی تبھی بھاگتی ہوی باہر اس کے پیچھے جاتی بولی تھی۔۔۔۔
چلی جاو جے کے ساتھ۔۔۔
وہ سرد لہجے میں بولتا ہوا کار کا ڈور اوپن کیے بیٹھا تھا۔۔۔
جبکہ وہ باہر ہی کھڑی رہی تھی۔۔۔
چاکلیٹی کلر کی نیٹ کی ساڑھی پہنے براؤن لمبے بالوں کو ہلکا سا کرل کیے لائٹ سے میک اپ گلاسز لگی آنکھوں میں انسو لاے وہ سر جھکاے احد کو ایک معصوم سی بچی لگی تھی۔۔۔
ا جاو ۔
یک الفاظ کہتے وہ اسے ہی گھور رہا تھا۔۔
ہاےےے سچی۔۔
بچوں جیسے چہکتے ہوۓ وہ جلدی سے کار میں بیٹھی تھی۔۔
جبکہ وہ سینجدہ ہوتا کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
و۔وہ اند اندر ا جاتے اپ ۔۔
پلیس کے پاس پہنچتے ہوے وہ کار سے باہر اتی ہکلاتی بولی تھی پورے راستے وہ نہیں بولی تھی۔۔۔
نہیں مجھے کام ا۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہ۔۔
احد کا بھی دل کر رہا تھا اندر جانے کو پر وہ اب شفا کی مرضی کے بنا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی دو ٹوک بول رہا تھا جب وہ چیخ رہی تھی۔۔
کیا ہوا ۔۔
جلدی سے وہ فکرمند ہوتا باہر اتا بولا تھا۔۔۔
و۔وہ جلن ہو رہی بہت زیادہ ۔۔۔
شفا تڑپتے ہوے بولتی ہوی اچانک گرنے والی تھی جب اسے احد نے اپنی باہوں میں بھرا تھا۔۔۔
کیسے جلن ہو رہی ہے تم اپنا خیال نہیں رکھ رہی حد ہے لاپرواہی کی ۔۔
اسے باہوں میں بھرتے وہ اندر جاتا بول رہا تھا جیسے وہ اسی کی گردن میں منہ
چھپاے مسکرا رہی تھی۔۔۔
چلو یہ میڈیسن پکڑو اور لگاو جلن کم ہو جاے گی۔۔۔
روم میں لاتے اسے کھڑا کیے وہ ویسے ہی فکرمند ہوتا ٹیوب نکالے اسے دیتے بولا تھا۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ بہت جلن ہو رہی میرے ۔۔۔
احد کو ویسے ہی سینجدہ دیکھتے وہ پھر سے ڈرامہ کیے اس کے سینے سے لگتی بولی تھی۔۔۔
ڈاکٹر کو فون کرنا پڑے گا کیوں جلن ہ۔۔
ب۔باتھ لینے سے جلن کم ہو جاے گی شاہد۔۔۔
وہ اسے ایسے تڑپتے دیکھ بول رہا تھا جب وہ اپنے ہی جال میں پھنستے دیکھ جلدی سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔
اہہہہہ ٹ۔ٹھنڈا پانی ہے ا۔۔۔
میرے خیال سے پانی ٹھنڈا ہی ہوتا ہے ۔۔
اسے گود میں ویسے ہی اٹھائے وہ واش روم لاے شاور کے نیچے کھڑا کر چکا تھا وہ جو اس کی قربت میں مدہوش ہو رہی تھی اچانک خود پر پانی کی برسات فیل کرتے وہ ڈرتی اسی کے سینے سے لگی چیخی تھی جب وہ نرمی سے اس کے گیلے بالوں کو شولڈر سے پیچھے کرتے سکون سے بولا تھا۔۔۔
گ۔گرم ب۔۔
یہ بتاو اب جلن ہو رہی ہے لٹل بےبی ڈول۔۔
اس کی کلون کی خوشبو سے پاگل ہوتی وہ ہکلاتی بول رہی تھی جب وہ اپنی گیلی انگلیوں کو اس کی زخمی کمر پر نرمی سے چلاتے بولا تھا۔۔
شفا محسوس کر سکتی تھی اس وقت احد کی اواز کتنی بھاری اور بہکی ہوی تھی۔۔۔
ن۔نہ۔نہیں ہو رہی ۔۔
شرم سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ وہ سر جھکاے بولی تھی۔۔۔
وہ تو یہ سب احد کو روکنے کے لیے کر رہی تھی۔۔۔
لیکن اب خود کی ہی سانسیں الجھ رہی تھی احد کی سانسوں سے ۔۔۔
م۔مجھے معاف ک۔کر دے احد پلیز ۔۔
وہ جو بہکا ہوا مکمل اسے اپنی گرفت میں لیے شاور کے نیچے بھیگ رہا تھا جب وہ بھیگے چہرے کے ساتھ بامشکل اپنے لفظ ادا کر پای تھی۔۔۔
م۔مجھے اپ کی محبت پ۔پر ی۔۔۔
شفا جو شرمندہ ہوتی بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب احد نے اسے زور سے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاتے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے نرمی سے اس کے بھیگے گلابی ہونٹوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا۔۔۔
احد کی حرکت پر شفا نے اسے شولڈر سے پکڑتے خود کو مضبوط ظاہر کیا تھا۔۔۔
شارو کے نیچے وہ کھڑا اس کی سانسوں پر راج کر رہا تھا۔۔
احد احد کدھر جا رہے اپ ۔۔
وہ جو مدہوش ہوتا اس کے وجود میں گم تھا اچانک ہوش میں اتے اسے چھوڑتے وہ واش روم سے باہر نکلتا روم سے جا رہا تھا ۔۔
شفا جو اس کی سانسوں میں مدہوش ہو رہی تھی اچانک اس کے دور جانے پر ہوش میں اتی اس کے پیچھے بیک ہگ کیے وہ روتی ہوئی بولی تھی۔۔۔
مجھے جانے دو اگر اج میں نہ جا پایا تو خود سے بھی نظریں نہیں ملا پاو گا میں نہیں چاہتا تم پر میں زبردستی مسلط ہو ۔
تمہاری بھی خواہش ہو گی میں اپنی خاموش محبت کے ہاتھوں تم پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا مجھے ہی افسوس ہے میری محبت میں اتنا زور نہ تھا جو تمہیں اپنی خاموش محبت میں گرفتار کرتا می۔۔۔
میں اپ سے بہت محبت کرتی ہو بہت زیادہ اپ کی خاموش محبت میں اتنی طاقت تھی جو مجھ جیسی لڑکی بھی اپ سے محبت کرنے پر مجبور ہو گی ۔۔
وہ جو افسردہ ہوتے بول رہا تھا جب شفا گھوم کر اس کے سامنے اتی بولی تھی۔۔
تم مذاق کر ر۔۔۔
وہ جو شوک ہوتا اس کی طرف دیکھ بول رہا تھا جب وہ اس کے بےحد قریب اتے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں بول رہی تھی۔۔
میں بلکل بھی مذاق نہیں بنا رہی اپنی فیلیگنز اپ کو بتا رہی ہو ۔۔
میں مانتی ہو پہلے نفرت تھی اپ سے لیکن پھر یاد ایا جس باپ کو یہ پتہ تھا ان کی بیٹی کون سے اور کیسے ناولز پڑھتی ہے وہ خود لاتے تھے ناولز میرے لیے تو کیا وہ باپ اپنی بیٹی کے لیے اس کا ہمفسر غلط چن سکتا تھا کیا ۔۔۔
مجھے فخر ہے میرے ابو نے اپ کو میرے لیے چنا میں بہت خوش نصیب ہو جو مجھے اپ ملے ای لو یو احد خانزادا اپ کی لٹل بےبی ڈول اپ کی محبت میں مکمل گرفتار ہے میں چاہتی ہو اپ کی قید میں ہمشیہ رہو پوری زندگی ۔۔۔
شفا کھولے دل سے اظہار کرتے اہستہ سے اپنے پاؤں کی مدد سے اونچا ہوتے وہ نرمی سے اس کے لبوں کو اپنے لب میں لیے چکی تھی۔۔۔
شفا کا لمس اپنے لبوں پر پاتے احد بھی اس کا ساتھ دیتے اس کی سانسوں کی مہک میں مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔
م۔میں اپ ک۔کے بنا ایک پل ب۔بھی نہیں رہ س۔۔۔
کافی دیر بعد وہ اپنی روکتی سانسوں سے اس سے دور ہوتی گہرے گہرے سانس لیتی بول رہی تھی جب احد نے بہکے ہوے اسے اپنی گرفت میں لیتے دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کیا تھا جب وہ دونوں بیڈ پر گرے تھے۔۔۔
ا۔حد ب۔بیڈ گیلا ہو ۔گ۔گیا ۔۔
شفا اس کو خود سے دور کرتی بامشکل بول پای تھی احد کی طرف دیکھ کر اس نے شرم سے نظریں جھکا لی تھی۔۔
مجھے خوشی ہے تم نے میری محبت پر یقین کیا لٹل بےبی ڈول ۔۔
اس کی شہ رگ پر اپنے لبوں کو سہلاے وہ بہکا ہوا بولا تھا۔۔۔
جبکہ وہ گہرے سانس لیتی آنکھوں کو بند کر چکی تھی۔۔۔
لو یو میری جان میں بہت محبت کرتا ہو تم سے ۔۔
شفا کی گیلی ساڑھی کا پلو اس کے شولڈر سے نیچے کیے وہاں اپنے لب رکھتے وہ بولا تھا۔۔۔
م۔میں بھی بہت محبت کرتی ہو اپ س۔۔۔۔
وہ شرم سے پانی پانی ہوتی بول رہی تھی جب احد نے اپنے درمیان بچے فاصلے کو بھی ختم کر لیا تھا۔۔۔
شفا کو اہستہ آہستہ اپنے جسم پر احد کا لمس محسوس ہو رہا تھا جو بہت نرمی سے اس کو اپنی محبت کی بارش میں بھیگا رہا تھا۔۔۔
احد کی بڑھتی شدت کو محسوس کیے شفا اس میں ہی سمٹ رہی تھی شرم سے ۔۔
میری زندگی میں انے کا شکریہ لٹل بےبی ڈول ۔۔
اس کے گالوں کو چومتے ہوے اب وہ اس کے سرخ لبوں کو اپنے لب میں لیتے وہ بہکا ہوا بولا تھا۔۔۔
پوری رات وہ اس کی شدت میں کبھی گبھراتی تو کبھی شرماتی ہوی اسی سے ہی پناہ مانگ رہی تھی ۔۔۔
احد اپنی خاموش محبت پا کر بہت خوش تھا ۔۔۔
جبکہ شفا کو یقین ہو چکا تھا احد اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔
“” کچھ گھنٹے بعد””…
چھوڑو میرا ہاتھ تم جانور ہو جانور ۔۔۔
شفا اپنا ہاتھ ناصر کے ہاتھ سے چھڑواتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جبکہ ماہین پاس کھڑی قہقہ لگا رہی تھی ۔۔۔
تم میری دوست تھی یار ا۔۔۔
جہاں محبت ہو وہاں دوست نہیں رہ جاتا بے بی تم ناصر کے پاس جاو گی تو ہی احد میرا ا۔۔۔
چٹاخخخخخخ۔۔
ماہین پاگلوں کی طرح بول رہی تھی جب ناصر سے ہاتھ چھڑواتے شفا نے اسے تپھڑ مارا تھا ۔۔
کتنی بری لڑکی نکلی تم شرم انی چاہے تھی تمہیں میں نے اپنا دوست مانا تھا اور تم تف ہے تم پر میں تھوکتی ہو تم جیسی دوست پر ۔۔۔
تو۔۔۔
شدید غصے میں اتے وہ ماہین کے چہرے پر تھوک چکی تھی جب وہ بھی بنا کچھ لحاظ کیے پاس پڑے گلدان کو اس کے سر پر مار چکی تھی ۔۔
تم پاگل ہو کیا یہ کیا حرکت کی اگر اسے کچھ ہوا تو یاد رکھنا میں تجھے نہیں چھوڑو گا پھر بھول جانا تجھے احد ملے گا ۔۔
ناصر شفا کے سر سے خون نکلتے دیکھ دانت پیستے ماہین کی گردن دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔
نہیں ہوتا اس کو کچھ لے جاو اس کو ۔۔۔
شفا کے سر سے مسلسل نکلتے خون نے اس کی سفید شرٹ کو بھیگا دیا تھا جو وہ رات احد کی پہن کر سوی تھی ۔۔۔
ناصر نیم بےہوش شفا کو گود میں اٹھاے وہاں سے لے کر چلا گیا تھا جبکہ احد اس بات سے بےخبر اپنی لٹل ںےبی ڈول کے لیے ہارٹ چاکیلٹ لینے گیا تھا ۔۔۔
